Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 03)

Hayat by Ain Noon Alif

اتنا حیران تو وہ اپنی زندگی میں کبھی نہیں ہوا جتنا وہ حیات کو بنا نقاب دیکھ کر ہو رہا تھا۔ ڈھیلا ڈھالا نکاح کا جوڑا۔ جو وہ اپنی پسند کے مطابق لایا تھا ۔ آف وائٹ گاؤن جس پر ملٹی کلر ورک تھا۔ جس کی خوبصورتی اس کے قیمتی ہونے کا پتا دیتی تھی۔ مگر وہ منال کے لیے تھا جس کا سائز اس کے بلکل پرفیکٹ تھا۔ مگر اس لڑکی کے وہ نا صرف لمبا تھا بلکہ اچھا خاصا ڈھیلا تھا۔ اس نے کمر پر کوئی بیلٹ باندھ کر اس میں اڑسا ہوا تھا تاکہ پیرو میں نہ الجھے۔

او مائے گاڈ۔ غصہ میں میں نے ایک سولہ سترہ سال کی بچی سے شادی کر لی۔ ہاؤ کڈ یو ڈو دس نوفل احمد خان۔ اتنی بڑی غلطی۔ وہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے اپنے اندر کی جنگ سے نبردآزما تھا۔

اور وہ حیران پریشان اس کو خود سے لڑتے دیکھ رہی تھی جو اس کی سمجھ سے بالکل بالا تر تھا۔

اب کیا ہوا۔۔؟ آپ تو ایسے رئیکٹ کر رہے ہیں جیسے بھوت دیکھ لیا۔۔ اپنی باتوں سے وہ اسے بالکل بھی بچی نہیں لگ رہی تھی۔ ہاں لہجہ اور آواز ضرور بچکانہ تھے۔

عمر کیا ہے تمھاری۔۔ اب وہ خود کو کمپوز کر چکا تھا۔

ہیںں! ۔۔۔۔ اب حیران ہونے کی باری اس کی تھی۔۔

بتاؤ عمر کیا ہے تمھاری؟ ۔۔ اب کے آواز سرد تھی۔

بیس سال پانچ مہینے۔

واٹ! ۔۔۔ تم بیس سال کی ہو۔ حیرت کچھ اور بڑھی تھی۔

نہیں! چالیس کی ہوں۔ کوئی اعتراض؟ ۔ نروٹھا انداز اسے اور بچی ظاہر کر رہا تھا۔

اور وہ جو خود کو گلٹ میں محسوس کر رہا تھا اس کی حقیقی عمر سن کر ریلیکس ہو رہا تھا۔ مگر الجھن ابھی بھی تھی۔ اور وجہ اسکی بیوی کا حد درجہ عمر چور ہونا تھا۔ کیا لڑکیاں واقعی اتنی عمر چور ہوتی ہیں۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر وال مرر کے سامنے لایا تھا۔

اب دیکھو۔ اس نے مرر کی طرف اشارہ کیا تھا۔

اس میں کیا دیکھوں۔ وہ ابھی اس کا مطلب نہیں سمجھی تھی۔

اس میں دیکھو ایسا لگ رہا ہے جیسے میٹرک کی اسٹوڈنٹ ہو۔ گھر میں کھانے پینے کی قلت ہے۔ جو اتنی پتلی دبلی ہو؟ ۔

دیکھئے آپ اس طرح نہیں بول سکتے۔ اب اس میں میرا کیا قصور کہ آپ اتنا کھا پی کر انکل لگ رہے ہیں میرے۔ جس کی فٹنیس اور مضبوط جسامت کے پیچھے لوگ فدا تھے اس نے اسے انکل کا خطاب دے دیا تھا۔

اس کے سیریس اور منہ ٹیڑھا کرکے کہنے پر ایک پل کو تو اسے واقعی اپنا آپ انکل لگا تھا۔ بےاختیار مرر میں دیکھا تھا۔ اس کے کچھ اور قریب ہوا تھا۔ مگر اسے کیا خبر تھی اس کی نزدیکی کسی وجود پر بھاری پڑ رہی ہے۔

ستائیس سالہ نوفل احمد خان، چھ فٹ کا قد، چوڑے شانے، رنگ جو مردوں کا واقعی ہونا چاہیئے، نہ زیادہ گورا نا سانولا، چہرے پر بھری بھری شیو جو ہونٹو کے قریب سے شروع ہوتی تھی، وہ بلا کا مضبوط جسامت کا مرد تھا، فلم انڈسٹری کے ہینڈسم ہیروز میں شمار ہوتا تھا اس کا جسے اس کی بیوی انکل کہہ رہی تھی۔ اور اس کی بیوی جو اس کے کندھے تک آ رہی تھی، اس ڈھیلے ڈھالے اور بھاری لباس میں اس کی جسامت ظاہر نہیں تھی مگر وہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ کافی دبلی پتلی ہے۔ گلابیاں گھلا گورا رنگ، جسکی وجہ سے ہونٹ کچھ زیادہ ہی گلابی تھے۔ لپسٹک سے پاک، گہری براؤن آنکھی جو بڑی بڑی ہونے کی وجہ سے چہرے پر نمایاں ہو رہی تھیں، پھولے ہوئے گال، ستواں ناک، ہونٹوں کے قریب ننہا سا تل، وہ خوبصورت نین نقوش کی مالک تھی۔ اور جو چیز اس نے محسوس کی وہ کافی ناروس ہو رہی تھی مگر زبان سے اس کمی کو چھپانا چاہ رہی تھی۔ وہ اس کی جھجھک کی وجہ جاننے سے قاصر تھا۔ سر جھٹک کر دوبارہ اپنی جگہ پر آ بیٹھا تھا۔ کسی لڑکی پر اتنا غور و حوض کر نا اس کی عادت نہیں تھی۔ اب چاہے وہ اس کی نئی نویلی بیوی ہی کیوں نہ ہو۔

چینج کر کے آؤ کھانا آ رہا ہے۔ وہ جو ابھی تک اس کے قریب کھڑے ہونے کی وجہ سے نروس تھی چہرہ سرخ ہو رہا تھا، جو کوشش کے باوجود بھی نارمل نہیں ہو رہا تھا۔ فورا سامنے نظر آتے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔

رکو!۔ یہ میرا روم ہے، تم اس کے رائٹ سائڈ والے روم میں جاؤ۔ اور ہاں۔ اندر کیا تم نے میجک سے اپنا سامان پنچایا ہے؟

اور وہ جو بھاگنے کی جلدی میں تھی ماتھا پیٹ کر رہ گئی تھی۔

یا اللہ پلیز میرے خوف کا بھرم رکھنا۔ نہیں تو یہ مجھے خوب ڈرا کے رکھیں گے۔ جاسوسی ناولز میں کتنی بولڈ لڑکیاں ہوتی ہیں جو ان جیسے ہٹے کٹے لڑکوں کی بھی بینڈ بجا دیتی ہیں۔ اور قریب آنے پر میری طرح نروس بھی نہیں ہوتی۔ آج پھر سے پوری ناول پڑھوںگی۔ ہمت ملےگی خود کی سیفٹی کی۔ خود سے بڑبڑاتی اپنے سامان کی ٹرالی گھسیٹتی اسی روم میں داخل ہو گئی جس کی طرف اس نے اشارہ کیا تھا۔

عجیب لڑکی ہے۔ وہ اس کو بڑبڑاتے دیکھ کر خود بھی بڑبڑایا تھا۔

***************

کیا ہوا اماں، اتنی اداس کیوں بیٹھی ہیں؟؟۔۔ رابعہ بیگم جو اپنے گھر کے لیے جا رہی تھیں گیلری میں اپنی ماں کو اداس دیکھ کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھیں۔

کیسی اداسی رابعہ۔۔ یہ تو غم کا پہاڑ ہے جو میرے دل پہ رکھ دیا گیا ہے۔ ہم نے اپنے دونوں بچوں کو حرام سے اس طرح بچایا ہے جیسے اس سے بڑا موذی مرض کوئی نہیں۔ اور آج میری بچی ایسے شخص کے نکاح میں گئی ہے جس کا اوڑھنا بچھونا، کھانا پینا، رہنا سہنا سب حرام ہے۔ بیشک ہم نے اپنے دونوں بچوں کو اپنے لیے جینا سکھایا ہے حالات کو اپنے حق میں کرنے کے طریقے ازبر کروائے ہیں۔ پھر بھی حیات کو جس طرح اب تک رکھا گیا ہے اس میں کسی حد تک بچپنا ہے۔ اسے حرام حلال کی سمجھ ہے۔ غلط پہ خاموش نہیں رہتی ہر حال میں جینا جانتی ہے۔ کسی حد تک حالات کو اپنے حق میں کر لیتی ہے۔ صحیح پہ ڈٹ جاتی ہے۔ کیونکہ اسے ہم سب کے اس کے ساتھ ہونے کا یقین ہوتا ہے۔ مگر اب وہ اکیلی ہے۔ کس طرح اس دلدل میں اپنی حفاظت کرےگی۔ بس اللہ ہی مددگار ہے اس کا۔ حیات کی محبت ان کے لفظ لفظ میں تھی۔ اتنی محبت تو شاید انہیں اپنی اکلوتی بیٹی اور بیٹے سے بھی شاید ہی ہوئی ہو، نہ منال سے، نہ اپنے دونوں نواسوں سے جن میں ایک ان کا پوتا بھی بن بیٹھا تھا۔مگر حیات تو انکی حیات ہی تھی اور اپنی حیات ہر کسی کو عزیز ہوتی ہے۔

جس اللہ کے بھروسہ آپنے اسے چھوڑا ہے کیا اس کا سہارا آپ لوگوں کے سہارے سے بہتر نہیں؟۔۔ کیا جو آج ہوا ہمارے ارادوں اور چاہتوں کے بغیر کیا اس میں اللہ کی کوئی مرضی نہیں ہوگی؟، حالانکہ اس کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا۔ اور حیات جیسی لڑکی کے ساتھ یہ حازدثہ ہونا، کیا پتا اس میں اللہ کی کیا حکمت تھی۔ آپ تو ہر حال میں اللہ سے راضی رہنے والی تھیں رابعہ بیگم کی بات پر انہیں ایسا لگا تھا جیسے کسی نے انہیں غموں کی زنجیر سے آزاد کر دیا ہو۔ کیا واقعی اللہ سے بہتر مددگار بھی کوئی ہے؟۔۔

تونے تو بڑا بوجھ اتار دیارابعہ۔ کیسی نری ناشکری ہو گئی تھی کہ اللہ کی رحمت کو ہی بھول بیٹھی۔یہ اللہ کا فیصلہ تھا اس کی مرضی کے بنا تو کوئی پتہ بھی نہیں ہلتا۔ اب تو بس اللہ سے یہی دعا ہے۔”جس آزمائش کے لیے اللہ نے ہمیں چنا ہے اس میں کامیابی دے عافیت کے ساتھ”۔ انکی دعا پر رابعہ بیگم نے زیر لب آمین کہا تھا۔ آنکھیں اپنی بیٹی کے لیے نم ہوئی تھیں جسکی ابھی تک کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ دو گھنٹوں سے نکلے ہوئے تھے ان کا بھائی اور بیٹا مگر۔

مجھے پتا ہے رابعہ تیری آنکھوں میں آنسوؤں کا سبب۔ جس طرح مجھے تسلی کے الفاظ کہے، میں تجھے وہی الفاظ لوٹاتی ہوں۔ جو حیات کا رب ہے وہی منال کا بھی ہے۔

مگر اماں حیات جیسی نہیں ہے منال۔ مجھ سے اس کی پرورش میں لاپرواہی ہو گئی ہے۔ اور میری اس لاپرواہی نے میری بچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مگر اماں میری بچی کردار کی کمزور نہیں ہے۔ وہ اتنی آزاد خیال ہونے کے باوجود کبھی غلط راستہ پر نہیں گئی۔ ہم سب کے سامنے اس کی زندگی کھلی کتاب ہے۔ اور شاید ہم اسی لیے اس پر کوئی روک ٹوک نہیں کر پائے۔ شاید کرتے تو نوفل احمد خان ہماری زندگی میں تباہی مچانے نہیں آتا۔ پتہ نہیں میری بچی کس حال میں ہوگی؟ کہی کچھ غلط۔۔۔۔۔ اتنا کہہ ہی اپنی ماں کے آغوش میں بلک بلک کر رو دی تھیں۔

صبر کر! اللہ سب سے بڑا محافظ ہے، ماں کی دعائیں رد نہیں کرتا وہ۔ خوب توبہ کر اللہ معاف کرنے والا ہے۔ منال کی حفاظت کرےگا۔ تو فکر نہ کر اللہ واپس ملوائےگا ہمیں ہماری بچی سے۔

مگر اماں! جو لڑکیاں گھر سے ایک رات بھی باہر گزار دیں انہیں پھر معاشرہ جینے نہیں دیتا۔ بڑے سے بڑے انسان کی بھی ہمت ٹوٹ جاتی ہے معاشرے کی جنگ میں۔

عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور ہم اس سے عزت کا سوال کریں گے۔ چل اٹھ اس کے در پہ اس کو راضی کرنے۔ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا تھا اور نماز کا ارادہ کر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھیں۔۔

اور رابعہ بیگم سوچ رہی تھیں کہ ماں کا وجود ہر عمر کے بچوں کے لیے نعمت ہوتا ہے۔ ایسا سایہ دار درخت جو بنا غرض کے سایہ دیتا ہے۔ اے اللہ تو ساری اولادوں کو ماں باپ کا قدر دان بنا۔

***********

کیا کھانے کے لئے بھی انویٹیشن دینے کی ضرورت ہے بیوی؟۔۔ اسے ایسے ہی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے دیکھ کر وہ طنز سے باز نہیں آیا تھا۔

اور تم یہ کھانے کو اس طرح کیوں گھور رہی ہو؟۔۔ کیا زہر تو نظر نہیں آ رہا اس میں؟۔ وہ شاید مقابل کو اپنی طنزیہ گفتگو سے ہی زچ کرتا تھا۔ اور وہ اس کی ایسی گفتگو سے زچ ہو بھی رہی تھی۔

اگر آپ بلا طنز کوئی بات پوچھیں تو شاید میں کچھ بتا بھی سکتی ہوں۔ مگر جس طرح کا آپ کا انداز ہے میرا آپ سے بات کرنے کا ذرا بھی ارادہ ہے نہ دل۔

بیوی! مجھے نہ تمھارے ارادوں کی فکر ہے نہ دل کی۔ یہاں میرے گھر میں بیٹھی ہو بھوکی رہ کر مر گئی اس الزام سے بچنے کی فکر ہے۔ کم آن ہیو اٹ۔ بے پرواہ لہجے میں کہتا وہ اپنے لیے کھانا نکال چکا تھا۔

بیوی! اب کے آواز میں وارننگ تھی۔ مگر مقابل بھی وہ تھی جو خوف کے باوجود بھی جواب دینے سے نہیں چوکتی تھی۔ جب کہ وہ صحیح بھی ہو۔

ایک تو آپ یہ بیوی بیوی کی رٹ بند کریں۔ عجیب ہی لگ رہا ہے۔

اس کے چڑ کر کہنے پر اس نے ایک مسکراتی نظر اس پر ڈالی تھی جیسے اس کے اعتراض کو انجوائے کیا ہو پھر چہرا اس کے کان کے پاس لا کر سرگوشی کی تھی۔ ” پھر گرل فرینڈ ہو”۔ اس کی سرگوشی پر بےساختہ اس کے زبان سے “استغفراللہ” نکلا تھا۔ جو مقابل کی توقع کے عین مطابق تھا شاید جبھی اسکے تنء نقوش میں کمی آئی تھی۔

بات تو تمھاری سوچنے کی ہے۔ ایک فیڈر بےبی کے لیے بیوی کا لفظ کافی معیوب سا لگتا ہے مگر کیا کیا جائے عمر تو بڑوں والی اور زبان کے جوہر بھی اچھے خاصے ہیں۔

اسلیے تمھارا پہلا اعتراض ریجیکٹ کیا جاتا ہے بیوی۔اب تم اس لفظ کی عادت ڈال لو یہ تمھیں باور کرواتا رہےگا کہ تم نوفل احمد خان کی ملکیت ہو۔ اور اس ملکیت سے کبھی بھی رہائی ممکن نہیں۔ اب دوسرا اعتراض بتاؤ۔ شاید اس پہ نظرثانی ہو جائے۔ وہ خود اپنے طرز تخاطب سے حیران تھا، جس نے کبھی بھی کسی کے سوال و اعتراض کو خاطر جمع نہیں رکھا، اپنی تین گھنٹے پہلی بیوی کے اعتراض پر ناصرف رئیکٹ کر رہا تھا بلکہ اسے اکسا بھی رہا تھا۔ حالانکہ وہ اسے نہ تو پسند کرتا تھا نہ اس کے لیے اس کے وجود کی کوئی اہمیت تھی، پھر کیوں؟

اور وہ سوچ رہی تھی کہ اس کے سوکالڈ ہسبینڈ نے طنزیہ گفتگو کر کر کے اس کو بات کرنے کا فری ہینڈ دے دیا ہے۔ لگ ہی نہیں رہا ہے کہ شادی کو محض تین گھنٹے ہوئے ہیں۔ جس طرح گن پوائنٹ پر یہ شادی ہوئی تھی، جس طرح کی سنگدلی و بے ادبی کا مظاہرہ وہ کر چکا تھا، اسے لگا تھا وہ کوئی جابر یا ظالم ہے۔ جس نے منال کا بدلہ اس سے لینے کے لئے شادی کی ہے۔ مگر نکاح کے بعد سے اب تک اسکی زبان پر منال کا نام تک نہیں آیا تھا۔ نہ اس سے کچھ پوچھا تھا۔ اور نہ اس سے اس شادی کو لے کر کوئی دلچسپی ظاہر کی تھی۔ ہاں مگر اس کے بات کرنے کا انداز انتہائی مغرور تھا جیسے ساری دنیا اس کی رعایا اور وہ اکیلا بادشاہ، اور جس طرح وہ تین گھنٹوں میں بار بار بیوی کہہ کر اپنی اہمیت جتا چکا تھا اس سے وہ سمجھنے سے قاصر تھی، آیا اس کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ جو اس نے کیا اس کی وجہ کیا ہے؟۔۔

جس شخص کو نہ کبھی دیکھا ہو، نہ جانا ہو، جس کی رسائی اس کی سوچ تک میں نہ رہی ہو۔ اس کی بیوی بن کر تین گھنٹوں میں اس کے طنز کا بھر پور جواب دے رہی تھی۔ جو بھی تھا مگر اب وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہو رہی تھی۔

بیوی یہ بڑا مشکوک لگےگا کہ ڈاکٹر کے پاس تین گھنٹے کی دلہن کو لے جا کر کہا جائے کہ نکاح کے بعد سے میری بیوی کو وقت اور جگہ کا خیال کیے بغیر خیالوں میں گم ہونے کی بیماری لگ گئی ہے۔ جس کا دورا دن میں نا جانے کتنی بار پڑتا ہے۔

یا اللہ! اس کے طنز سے اب وہ واقعی عاجز آ گئی تھی۔ بات یہ ہے کہ میں یہ کھانا نہیں کھا سکتی۔ آخر اکتا کر کہہ دیا۔

اس میں واقعی زہر نہیں ہے بیوی، دیکھو میں کھا چکا ہوں اور ابھی تک زندہ بھی ہوں۔ تم بھی زندہ رہوگی۔ اور ویسے بھی تمھاری طرف جتنے حساب نکلتے ہیں ان کا حساب لئے بغیر میں تمہیں مرنے بھی نہیں دوںگا۔ سو اب میں تم سے اتنی بحث کر کے فیڈاپ ہو گیا ہوں۔ ٹھنڈا ہو چکا ہے کھانا، اور یہاں گرم کرنے کو کچھ بھی نہیں، اب جیسے کھاؤ آئی ڈونٹ کئیر۔ بےپرواہ سرد لہجہ میں کہتا وہ اٹھنے کو تھا جب اس کی آواز سن کر پھر سے بیٹھ گیا تھا۔

اگر آپ کے لیے ممکن ہو تو میرے پیسوں سے میرے لیے کھانا منگوا دیجیے۔

واٹ! غیر متوقع بات پر حیرت یقینی تھی۔ دیکھو بیوی تم سے کسی نے غلط کہا ہے کہ نوفل احمد خان کسی کے نازنخرے اٹھا سکتا ہے۔ سو بلا چوں چراں کیے کھانا کھاؤ اور سو جاؤ، یہی آج تمھارے حق میں بہتر ہے۔ سرد لہجہ کچھ اور سرد ہو چکا تھا۔

بولو کیوں نہیں کھا سکتی یہ کھانا؟۔۔ اسے ویسے ہی بیٹھے دیکھ کر اس کا دماغ پھر سے خراب ہونے لگا تھا۔ تین گھنٹوں میں وہ اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ یہ چھٹانک بھر کی لڑکی کوئی سیدھی سادی نہیں ہے۔

کیونکہ میری پرورش میں میرے اندر ہر لقمہ حلال کا گیا ہے۔ اور آپ کا جو پروفیشن ہے اس میں حلال کا “ح” بھی نہیں ہے۔ یہ کام بھی حرام ہے، اس کی کمائی بھی حرام، اس کمائی سے خریدی گئی ہر چیز حرام۔ آپ جس دنیا سے بی لونگ کرتے ہیں وہاں جائز ناجائز کا فرق مٹا ہوا ہے۔ میں اگر اپنے دل کو مار کے اس کھانے کو کھا بھی لوں تو پھر میرا سکون چلا جائے گا۔ معافی چاہتی ہوں ایسا کہنا نہیں چاہتی تھی۔ مگر آپکی طنزیہ گفتگو اور مزید کیوں؟ جیسے سوالات سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ کیونکہ میں آج صبح سے بھوکی ہوں۔

وہ بغیر اس کی طرف دیکھے جلدی جلدی بول کر ایسے خاموش ہوئی تھی جیسے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہو۔

اور اس کے الفاظ نے نوفل احمد خان کو کس قیامت سے دوچار کیا تھا اس کا اس کو ادراک بھی نہیں تھا۔ کیا کیا نا یاد آیا تھا اسے۔ حرام، حرام کی بازگشت نے اسکے دل دماغ پر کیسے ہتھوڑے برسانے شروع کیے تھے۔

جب کافی دیر تک اس نے کوئی جواب نہیں دیا تو ڈرتے ڈرتے اس کی طرف نظر کی تھی اور دھک سے رہ گئی تھی۔

چہرے پر انتہا سے زیادہ پتھریلا پن، ٹیبل پر رکھے ہاتھ کی مٹھیاں اتنی زور سے بھنچی ہوئی تھیں کہ اگر کوئی چیز مٹھی میں ہوتی تو چکنا چور ہو جاتی۔ وہ کھانے کو بنا پلک جھپکائے گھور رہا تھا۔ اور وہ جو اس کے پتھریلے چہرے کو دیکھ کر خوفزدہ ہو رہی تھی، اس کے اگلے اقدام سے چیختی ہوئی کرسی سے کھڑی ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ پورا ٹیبل کھانے سمیت الٹ چکا تھا۔ اور بہت ہی جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھا تھا۔ اس کے دونوں بازوؤں کو اپنے آہنی ہاتھوں جکڑا تھا اور اتنا قریب کیا تھا کہ اس کی گرم سانسیں اس کے چہرے کو جھلسا رہی تھیں۔

اگر میرے سامنے دوبارہ میرے لئے یہ لفظ استعمال کیے تو پھر کوئی اور لفظ کبھی نہیں بول پاؤگی۔ سمجھی۔۔۔۔ آخری لفظ چلا کر بولتا ایک جھٹکے سے اس کو چھوڑ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ دروازہ اتنی زور سے بند کیا تھا کہ وہ ایک پھر دہل گئی تھی۔

یا اللہ رحم!۔۔۔ اللہ کیا میں نے کچھ غلط کہا، اگر آج کھا لیتی تو ایمان کی کمزوری پر قابو کیسے پاتی۔ اب ایسا بھی کچھ نہیں کہا تھا جو شیر نےاپنی دہاڑ سے معصوم کو ڈرا دیا۔ کچھ تو گڑ بڑ ہے۔ یہ تو جاسوسی ناولوں جیسا ہو گیا، اف! نوفل احمد خان کا راز۔

بڑی مشکل سے اس نے ٹیبل کو سیدھا کیا تھا۔ جو بھی تھا وہ رزق کی ایسی بےحرمتی پہ افسردہ تھی۔ ٹشوز سے فرش کو صاف کیا تھا۔

یا اللہ ابھی تک دل دھک دھک کر رہا ہے۔کتنے خوفناک ہیں یہ، کب سے طنز پہ طنز کیے جا رہے تھے میں نے کہہ دیا تو مرچی لگ گئی۔ لگتا ہے آج تو کھجور پہ گزارا کرنا پڑےگا۔ چلو حیات اس سے پہلے کہ شیر پنجرے سے باہر آکر تمھارا شکار کرے فوراً چھپ جاؤ۔

خود باخود بولتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

***********

کمرے میں آکر کتنی ہی دیر وہ اپنا سر پکڑے بیٹھا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا وہ غلط انڈسٹری میں ہے۔ مگر پھر بھی وہ یہ الفاظ اپنی زندگی میں اپنے لیے کبھی نہیں سننا چاہتا تھا۔ گھٹن اتنی بڑھی تھی کہ شرٹ اتار کر پھینکی تھی اور واشروم میں جا کر شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا تھا۔ اور اب کتنی ہی دیر وہ ایسے ہی رہنے والا تھا۔ اور اپنے اندر کی اس گھٹن سے وہ کب آزاد ہوتا کوئی نہیں جانتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *