Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 11,12)

Hayat by Ain Noon Alif

وہ دادی کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی اور وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں۔

حیات میرے بچے گھر میں کسی کو نہیں پتا اس بات کا تو تو کوئی سب سے چھپ رہی ہے۔

نہیں دادی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے سب مجھے ویسے ہی دیکھ رہے ہیں۔

سب کتنا پیار کرتے ہیں تجھ سے، ان کو تیرے ایسے برتاؤ سے تکلیف ہو رہی ہے۔

میں کیا کروں دادی؟۔۔ بےبسی ہی بےبسی ہی تھی۔

دادی کیا فلمی دنیا اتنی گندی ہوتی ہے؟ میں نے پڑھا تھا، “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! چست اور باریک لباس پہنے والی عورتیں برہنہ ہیں، اور ایسی عورتیں کی تعداد جہنم میں سب سے زیادہ ہوگی” اللہ ایسی عورتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔اور دادی وہاں پارٹی میں کم و بیش دو سو عورتیں تو ہوں گی مگر سب کی سب ایسے لباس میں ہی تھیں۔ اور پھر میں بھی ان جیسی ہی ہو گئی تھی، اللہ میری طرف بھی نہیں دیکھےگا کیا؟ چہرا کھلا ہوا تھا میرا۔۔

نہ میری بچی! “تجھے کیا معلوم اللہ کو تجھ سے کتنی محبت ہے”۔

تو پھر اللہ نے ایک فلمی سے شادی کیوں کروائی؟

کیا تو اللہ سے ناراض ہے؟ یہ سب جو ہوا۔

استغفراللہ دادی۔ اللہ نے نہیں کیا۔ یہ ان کی وجہ سے ہوا ہے۔ نہ یہ مجھے لے کر جاتے نہ ایسا ہوتا، میں نے کہا تھا نہیں جانا، زبردستی لے کر گئے تھے۔ میں ان کے پاس نہیں جاؤں گی دادی، ان سے بات بھی نہیں کروں گی۔ انہوں نے مجھے اس گندے حلیہ میں بھی دیکھا تھا، اوراس گندے آدمی نے بھی، اس کی نظریں بھی بہت گندی تھی دادی مجھے اس سے وومیٹ فیل ہو رہی تھی۔

میری بچی اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ اس کا احسان ہے جو اس نے ہماری عزت کی حفاظت کی۔ بڑے نقصان سے بچا لیا اس نے۔

بڑا نقصان اور کون سا ہوتا دادی۔ اس گندے آدمی نے میرا گاؤن پھاڑا تھا بیلٹ نہیں ہوتی نا تو پورا پھٹ جاتا۔ اور پھر اللہ مجھ سےکتنا ناراض ہوتا۔ اس کا رونا ایک بار پھر شروع ہو چکا تھا۔۔ ایک دادی کی محنت تھی جو وہ اس فیز سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی مگر گھر کے باقی لوگوں کے سامنے وہ ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔ اس کے کمرے میں کوئی آتا تو پورے طریقے سے خود کو ڈھانپ کر سوتی بن جاتی۔ سب گھر والے پریشان تھے اس کے اس برتاؤ سے۔ منال سے بھی اب تک اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ وہ چل پھر نہیں پا رہی تھی اور وہ ملنا نہیں چاہتی تھی۔۔ اور اس کا یہ حال کب رہنا تھا کچھ پتا نہیں تھا۔

*****************

تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی؟ فرحان صدیقی کی دھاڑ پر احمد بھاگتا ہوا باہر آیا تھا اور اسے دیکھ کر ہی آپا کھو چکا تھا۔

یہاں سے دفع ہو جاؤ نوفل احمد اور طلاق کے پیپرز سائن کر کے دو۔۔ تم جیسے جانور کو میں اپنی بہن نہیں دوں گا۔ تیئیس سالہ احمد اس کا گریبان پکڑے اسے گھر سے باہر دھکیل رہا تھا۔

کام ڈاؤن سالے صاحب اور سسر صاحب۔ میں یہاں آپ لوگوں سے نہیں اپنی بیوی سے ملنے آیا ہوں۔۔۔ احمد کے ہاتھوں کو اپنے گریبان سے ہٹاتا وہ مضبوط قدم اٹھاتا اندر داخل ہو گیا تھا۔

دوسرے روم میں حیات اس کی آواز سن کر ہی دادی کے آغوش میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

کیا یہ دیکھنے آئے ہو کہ وہ زندہ ہے یا مر گئی۔؟ فرحان صاحب احمد کو قابو کیے جو اس کی طرف اسے مارنے کو لپک رہا تھا اسے اب بھی بخشنے کو تیار نہیں تھے۔

زبان سنبھال کر سسر صاحب۔۔ حیات کے لیے مرنے کا لفظ سن کر اسے بے طرح غصہ آیا تھا۔

بےغیرت انسان اسے موت کے منہ میں ڈھکیل کر بھی تمھیں ذرا شرمندگی نہیں۔۔ چلے جاؤ یہاں سے۔۔ تمھاری وجہ سے میری بہن نہ پاہا کے سامنے آ رہی ہے نا میرے۔۔ تم نے مجھ سے میری گڑیا کو دور کر دیا۔۔ دادی کے سوا وہ کسی سے بھی نہیں مل رہی۔ کیوں کیا تم نے ایسا؟۔۔ احمد نے اب کے اس پر مکا تانا تھا جسے وہ بیچ میں ہی روک گیا تھا۔

بیوی کہاں ہے؟ وہ اب بھی ڈٹا ہوا تھا مگر لہجہ نرم ہی تھا۔

خبردار جو اپنی گندی زبان سے اسے بیوی کہا۔۔ احمد پھر غرایا تھا۔۔ بہن بیٹی کے لیے وہ جس طرح اس سے پیش آ رہے تھے۔۔ وہ ان کی محبت کا اندازہ لگا تھا۔۔ اور اسے ان کے اس برتاؤ پر غصہ نہیں آ رہا تھا۔ بلکہ وہ فخر کر رہا تھا کہ اس کی بیوی ایسی ہی ہے کہ اس سے محبت نہیں عشق ہوتا ہے۔۔ ورنہ باپ بھائی تو معاشرت کی فکر میں اپنی بیٹیوں کو ظالموں کے حوالے کر دیتے ہیں اور یہ لوگ محض اپنی بیٹی کی ذرا سی تکلیف پر اسے اس کے حوالے کرنے کو تیار نہیں تھے بلکہ طلاق کے لیے زور دے رہے تھے۔

یہاں سے چلے جاؤ نوفل۔ نسوانی آواز پر وہ پلٹا تھا جہاں فائزہ بیگم اس سے کچھ ہی فاصلہ پر کھڑی تھیں۔ شوہر اور بیٹے کو غصہ میں دیکھ کر وہ باہر آئیں تھیں۔ بیس دن پہلے جو غلطی تم نے کی اب پھر سے وہ نہیں کرو۔ ہماری بچی تمھاری دنیا کی نہیں ہے۔۔ بہت معصوم ہے وہ رل جائےگی تمھاری دنیا میں۔ کیا تم نہیں جانتے مرد کی بدکرداری کی سزا ہمیشہ عورت کو ہی ملتی ہے، اور ہماری بیٹی کو تمھاری بدکرداری کی سزا مل گئی۔ جسے کسی نامحرم نے نہیں دیکھا تمھاری وجہ سے ایک غلیظ مرد اسکی عزت اتارنے کے در پہ تھا۔ تمھارا بدلہ وہ ہماری بچی سے لے رہا تھا کیونکہ وہ تمھاری بیوی تھی۔ صرف غیر مرد کے چھونے نے اس کی ایسی حالت کر دی آگے تمھارے گناہوں کی وجہ سے تو وہ مر جائےگی۔ چھوڑ دو ہماری بچی کا پیچھا، اور جس منال کے غصہ میں تم نے یہ کیا تھا وہ بھی تمھاری وجہ سے موت کے منہ سے نکل کر آئی ہے۔ ہماری دونوں بیٹیوں کو تم نے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تم چلے جاؤ ہماری بچی کو آزاد کر کے جینے دو اسے۔ جو اس کے ساتھ ہوتے ہوتے رہ گیا اس کی تو اسے سمجھ بھی نہیں ہے۔۔ ان کے اپنے سامنے جڑے ہاتھوں کو دیکھ کر اس نے اپنی آنکھیں زور بند کر کے کھولی تھیں۔۔ کتنا تکلیف دہ تھا یہ سننا کہ اس کی بدکرداری اس کی بیوی کو داغدار کر رہی ہے۔۔۔ کیا وہ واقعی بد کردار ہے۔۔؟ مگر کیسے۔۔؟

ٹھیک ہے۔ جو آپ لوگ کہیں گے کر دوں گا۔۔ مگر اس سے پہلے میں بیوی سے ملنا چاہتا ہوں ۔ اس کی پھر سے اسی گردان پر احمد اس کی طرف بڑھا تھا جسے فائزہ بیگم نے روک دیا تھا۔

کیا تم پھر سے اسے دھمکاؤگے۔۔؟

نہیں!

ٹھیک ہے وہ سامنے والے کمرے میں ہے۔۔ مگر تم اس سے اکیلے میں نہیں ملوگے اس کی دادی اس کے ساتھ ہیں انہیں کے سامنے بات کرنا جو بھی ہے ہم تم پر یقین نہیں کرتے۔ فائزہ بیگم کی بات پر اس نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔ اور حیات کے روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔

*****************

دستک دے کر وہ اندر آیاتھا۔ حیات اسے دیکھ کر چادر میں پوری طرح خود کو چھپا چکی تھی۔

دادی ان سے کہیں جائیں یہاں سے، مجھے ان سے بات نہیں کرنی، ان سے کہیں مجھے نہ دیکھے۔۔ پانچ دن بعد بھی اس کی آواز میں وہی خوف وہی تکلیف محسوس کر کے اس کے دل میں بھی درد کی چبھن ہوئی تھی۔

سب کی طرح دادی نے اس سے منہ نہیں موڑا تھا۔۔ وہ انہیں سلام کرتا حیات کو دیکھنے لگا تھا۔ جو چادر میں چھپی اس کی نگاہوں سے اوجھل تھی۔

بیوی سے بات کرنی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے دادی کو انفارم کیا تھا اور ساتھ ہی حیات کے قریب بیٹھ کر اس کی چادر ہٹانے کی کوشش کی تھی جسے وہ اور مضبوطی سے پکڑ چکی تھی۔ دادی اپنے سامنے اس کی اس بےباکی پر صرف اسے دیکھ کر رہ گئی تھیں کہا کچھ نہیں تھا، یا شاید وہ خود بھی جاننا چاہ رہی تھیں، انہیں یقین تھا اللہ نے ان کی دعا سن لیں ہیں، یقیناً ان کا رب فیصلہ اتار چکا تھا جبھی ان کا دل اس کی آمد پر مطمئن تھا۔

بیوی! اس کی آواز میں تڑپ محسوس کر کے انہوں نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی تھی۔

نہیں! مجھے نہیں دیکھنا، دادی ان سے کہیں مجھے نہیں دیکھیں، مجھے نہیں،دادی یہ اچھے نہیں ہیں، اس گندے آدمی نے کہا تھا یہ عورتوں کے ساتھ جنت کی سیر کرتے ہیں، جیسے وہ مجھے پکڑ رہا تھا یہ بھی ایسے ہی کرتے ہیں اور بہت گندی تصویریں دکھائی تھیں ان کی، ان کا کردار اچھا نہیں ہے، دادی ان سے بچالیں مجھے، چادر کے اندر سے ہی وہ روتی ہوئی بول رہی تھی۔ اور اس کی یہ بدگمانی نوفل احمد کو کمزور کر رہی تھی۔ اور اپنے لیے اپنی بیوی کے منہ سے بدکرداری کا لفظ تو اسے اندر سے چیر گیا تھا۔

اور دادی ایک اور انکشاف پر ششدر تھیں یہ بات تو حیات نے انہیں نہیں بتائی تھی۔۔ تو کیا وہ واقعی غلط انسان تھا۔

میں بدکردار نہیں ہوں بیوی! ایک جھٹکے سے حیات کے اوپر سے چادر کھینچتا وہ زور سے چلایا تھا۔ اس کی تیز آواز سن کر باقی لوگ بھی کمرے میں داخل ہو گئے تھے۔۔ اور حیات تو اس کا غصہ دیکھ کر سہم گئی تھی اور نامحسوس انداز میں دادی کے قریب ہو گئی تھی۔

نہیں ہوں میں بدکردار، میں جانتا ہوں میری وجہ سے تمھیں بےحجاب ہونا پڑا، مگر وہ میرے کردار کی وجہ سے نہیں تھا، وہ میری دشمنی میں تھا۔ اب کے اس کا لہجہ ہارا ہوا تھا۔

فرحان صدیقی اور احمد جو اس کی طرف بڑھ رہے تھے دادی کے منع کرنے پر رک گئے تھے۔

کیسی دشمنی؟ اب شاید وقت تھا حقیقت جاننے کا، یا پھر فیصلے کی گھڑی آپہنچی تھی۔ دادی کے پوچھنے پر اس نے ایک بار پھر شدت کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔ جس حقیقت کو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا اسے وہ حقیقت بتانی تھی اپنی بیوی کے لیے۔ اسکی بدگمانی دور کرنے کے لیے۔۔

*****************

اس کی پرورش بہت اچھے انداز میں ہوئی تھی، اپنی ماں کے ساتھ نماز پڑھتا، قرآن پڑھتا، اسکول کی پڑھائی میں ان کی مدد لیتا ہر کام کے لیے ماں کا پلو تھامتا، اسے عشق تھا اپنی ماں سے۔ اسے لگتا تھا اس کی ماں ایک فیری ہے، وہ بہت نیک تھیں۔اس کے باپ کی شخصیت اسے سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ جس سے وہ ان کے قریب نہیں ہو سکا تھا۔ اس کا باپ ان کے پاس ہفتہ میں ایک دن کے لیے آتا تھا۔ وہ ان سے ڈیڑھ سو کلومیٹر کی دوری پر کام کرتے تھے۔ اس کی ماں بتاتی تھیں کہ اس کے باپ نے ان سے اپنی پسند سے شادی کی تھی وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھیں، اس کے ابو ان کے یہاں ملازم تھے۔ ایک ایکسیڈینٹ میں ان کے و الدین نے اپنے آخری وقت میں ان کا نکاح کر دیا۔ اس کے دادا دادی نے انہیں قبول نہیں کیا اس لیے وہ الگ گھر میں رہتے ہیں۔

اچانک ایک دن اس کی ماں نے اسے کچھ کاغذات دیے اور اسے اچھے سے سمجھایا کہ یہ نہ کسی کو بتانے ہیں نہ دینے ہیں۔ وہ پیپرز شہر میں موجود کچھ زمین کے تھے۔ جن کی مالیت اس وقت بھی لاکھوں میں تھی۔ انہوں نے اسے بہت کچھ چیزیں سمجھائیں جو وہ سمجھ گیا تھا۔ وہ ایک ذہین بچہ تھا۔ اس کی شخصیت میں ایک خاص تمکنت تھی۔ وہ جس گھر میں رہتا تھا وہ گھر بھی اس کے نام پر تھا، جو اس کی ماں کو جہیز میں ملا تھا۔۔ اور پھر۔۔۔۔۔

وہ تیرہ سال کا تھا جب اس کے گھر میں ایک طوفان آیا تھا، جو اسے بادشاہ سے فقیر بنا گیا تھا۔۔ اس کی ماں تین دن سے غائب تھی، وہ پاگلوں کی طرح انہیں تلاش کر رہا تھا، انہیں نہیں ملنا تھا وہ نہیں ملیں۔وہ دن بھر روتا رہتا رات کو خوف سے اسے نیند نہیں آتی تھی۔ پھر ایک دن اچانک اس کا باپ ایک عورت اور تین بچوں (نو دس سال کا ایک لڑکا اور اس سے چھوٹی دو لڑکیاں) لے کر آیا، ساتھ میں ایک بہن اور ماں بھی تھیں، اور ان کی بیوی کا ایک نام نہاد بھائی۔وہ اتنا نا سمجھ نہیں تھا کہ اس حقیقت کو نا جان پاتا۔ اس کے باپ کی بہن اور اس کے سالے کی شادی ہو گئی تھی جن کی ایک بیٹی مانیہ تھی جس کی عمر سات آٹھ سال اور اس سے چھوٹا ایک بیٹا تھا۔۔ اس نے اپنے باپ سے پہلی بار بے ادبی کی، اس نے کہا تھا اس کی ماں کی جگہ کوئی اور عورت نہیں لے سکتی۔ جب اسے بتایا گیا کہ اس کی ماں ایک بدکردار زانی عورت ہے۔

اس بات پر اس نے اس عورت کو تھپڑ مار دیا تھا جس پر اس کے باپ نےاسے بیلٹ سے تب تک مارا جب تک وہ بےہوش نہیں ہو گیا۔ اوریہ مار اس کی زندگی کی پہلی مار تھی مگر آخری نہیں۔

اور پھر جس گھر کا وہ مالک تھا اس گھر کا اب نوکر بن کر رہ گیا تھا۔ وہاں اس کا کوئی بھی ہمدرد نہیں تھا۔ اس کی ذرا ذرا سی غلطی پر اس کو مارا جاتا مگر مار اتنی ہوتی کہ وہ کام کر سکے۔

اس کو حرامی، گندہ خون جیسے الفاظوں سے بلایا جاتا، اور اس کی ماں کو گالیاں دی جاتی، ایک دن جب اس سے برداشت نہیں ہوا تو اس نے پھر جھگڑا کر لیا۔ تب اسکے باپ کی بیوی اور بہن نے اسے اس کی ماں کی ایک مرد کے ساتھ نیم برہنہ فوٹو دکھائیں، اس فوٹو میں آدمی کی شکل واضح نہیں تھی۔ اور پھر اسے بتایا گیا اس آدمی نے اس کی ماں کا قتل کر دیا کیونکہ اس نے دوسرے آدمی سے شادی کر کے اسے دھوکا دیا۔ حقیقت جان کر وہ بالکل گم صم ہو گیا اور سب نے اسے بالکل ناکارہ کر دیا۔جس وجہ سے اس کی شخصیت دب کر رہ گئی۔

اسے اس کا اصلی نام بھی بھولنے لگا۔ اسے یہاں تک کہہ دیا گیا کہ اس کی ماں ایک طوائف تھی اور وہ نا جانے اپنے باپ کی اولاد ہے بھی یا نہیں۔ حرامی، زانیہ کا بیٹا، گناہ کا ڈھیر، ناجائز، غلیظ یہ نام اس کی شخصیت سے جڑتے چلے گئے۔ اس ظلم کی چکی میں پستے اسے سات سال ہو گئے تھے۔ جیسے تیسے کر کے وہ بی کام کر چکا تھا۔ اور اس کی قیمت میں اسے اپنا گھر اپنے باپ کرنا پڑا تھا۔ اور اس کے باپ کا بیٹا یاور قریشی اسے جوتے کی نوک پر رکھتا۔ جہاں وہ پڑھتا تھا وہاں بھی اسے اس کی ماں سمیت بدنام کر چکا تھا۔

***************

اس پر زندگی اس وقت اور تنگ ہوئی جب مانیہ چودھری کی نظریں کرم اس پر ہوئی۔ اس کے مطابق اسے اس لمبے دبلے پتلے مگر خوبصورت سے بیس سالہ نوفل سےمحبت ہو گئی ہے۔ وہ ہر وقت اس کے آگے پیچھے پھرتی رہتی مگر وہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ اور اس رات جب اسکی طبیعت کچھ ناساز تھی اور مانیہ چودھری عیادت کے بہانے اس کے کمرے میں آئی تھی۔

اسے اپنے سینے پر کسی کا نرم گرم لمس محسوس ہوا تو ڈر کر فوراً آنکھیں کھولی تھیں اور ایکدم کھڑا ہو گیا تھا، مانیہ چودھری جو اس کے سینہ پر سر رکھے لیٹی تھی دھڑام سے پلنگ سے نیچے گری تھی۔

یہاں کیا کر رہی ہو تم۔۔۔ وہ پہلی بار غصہ سے دھاڑا تھا۔ مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ اس کے قریب آ کر اس سے زبردستی کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی اس کا کہنا تھا کہ اس کے بخار کا علاج ہے۔ اس نے اسے دھکا دیا تھا وہ پھر گری تھی اور اب کے گرنے کی آواز پر باہر لوگوں کے قدموں کی آواز آئی تھی۔ اور مانیہ چودھری یہاں گیم کھیل گئی۔

مامو، ڈیڈ یہ مجھ سے زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ خود کو بچانے کے لیے اس نے سارا الزام اس پر لگا دیا تھا۔

یہ ججھوٹ بول رہی ہے۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ خود آئی تھی۔ اس نے اپنی صفائی دینے کی کوشش کی مگر اس کی یہاں کوئی سننے والا نہیں تھا۔

جیسی ماں تھی ویسا ہی زانی بیٹا جنا، حرامی ہو اس لیے حرام ہی منہ کو لگا تمھارے بھی۔ تمھارےلیے کوئی زانیہ ہی ہوگی ہماری شریف بچی نہیں۔ اپنی ماں جیسی لڑکی کے ساتھ کرنا یہ سب۔ لاتیں گھونسیں کتنے لوگوں کے پڑ رہے تھے وہ نہیں جانتا تھا وہ تو بس ان گالیوں سے چھلنی ہو رہا تھا۔ اس کے زخمی بے ہوش وجود کو وہ لوگ کچرے کے ڈھیر پر پھینک گئے تھے۔

***********

اسے جب ہوش آیا تو وہ ہاسپٹل میں تھا۔

کیسے ہو ینگ مین؟ اجنبی آواز پر اس نے بمشکل سر گھماکر پوچھنے والے کی طرف دیکھا تھا۔

چار دن دن بعد ہوش آیا ہے تمھیں۔ اندر تک کے سسٹم ہلے پلے پڑے ہیں تمھارے۔ کس سے جھگڑا کیا تھا۔ مگر وہ کچھ نہیں بولا تھا۔ وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے رہتے مگر وہ ایکدم خاموش ہو گیا تھا۔ پانچ مہینے وہ ہاسپٹل میں زیر علاج رہا تھا۔ اوران پانچ مہینوں میں وہ ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔ اسے پورے طریقے سے صحیح ہونے میں پورا ایک سال لگا تھا۔ اور وہ بےغرض انسان اس کا اپنے بیٹے کی طرح خیال رکھتے۔ اور پھر وہ انہیں اپنے بارے میں سب باتیں بتا گیا تھا۔ وہ ان کا عادی ہوتا جا رہا تھا۔ وہ ایک فلم ڈائریکٹر تھے جن کا نام سہیل احمد خان تھا اور ان کا بھانجا الحان، یہی لوگ اب اس کی دنیا تھے۔اور اس نے اپنا نام بدلوا کر نوفل ابرار قریشی سے نوفل احمد خان کر لیا۔ اسے اپنے نام کے ساتھ بھی اپنے باپ کا نام لگانا گوارا نہیں کیا۔ اسے ہر رشتہ سے نفرت ہو چکی تھی اور سب سے زیادہ نفرت اسے عورتوں سےتھی۔ جنہیں ہاتھ لگانا تو دور دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔

Episode 12

دو سالوں میں کیا زبردست ہو گئے تم میرے بھائی۔ الحان کے کمپلمنٹ پر اس نے صرف مسکرانےپر اکتفا کیا تھا۔ سہیل احمد نے اسے ایک چھوٹے سے ایڈ کے لیے کہا تھا۔ وہ اس کا ذہن صاف کرنا چاہتے تھے اسے اتنا بزی کرنا چاہتے تھے کہ اس کا ماضی اسے یاد نہ آئے۔

ایک بات تو بتاؤ۔ تم پراپرٹی پیپرز اور اپنے رزلٹ کیسے لائے تھے۔۔ مامو نے مجھے نہیں بتایا۔۔ الحان کے پوچھنے پر اسے وہ دن یاد آیا تھا جب وہ سہیل احمد کے کہنے پر ایک سال پہلے اپنے گھر گیا تھا۔

************

تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہاں دوبارہ قدم رکھنے کی؟ یاور قریشی اسے دھکا دیتے ہوئے بولا تھا۔

سامنے سے ہٹو میں اپنے رزلٹ لینے آیا ہوں۔ ایک سال میں اس میں بہت کانفیڈنٹ آ چکا تھا۔ اور یہ سارا کمال سہیل احمد یعنی اس کے پاپا کا تھا۔

اوہ۔۔ تو لفنگے میں ہمت آ گئی ہے۔۔ یاور قریشی اس کے سینے پر تھپڑ مارتے ہوئے بولا۔

راستے سے ہٹو۔۔ اس نے پھر اسے ہٹایا۔ اور دھکا دیتا اندر داخل ہو گیا تھا۔۔ وہ جانتا تھا سب اس کے رزلٹ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اس لیے وہ انہیں چھپا کر رکھتا تھا مبادہ کوئی پھاڑ نہ دے ۔وہ سیدھا گارڈن کی طرف جا رہا تھا۔

اوئے لفنگے رک۔۔ مانیہ چودھری کا بھائی بھی اب اس کے سامنے آیا تھا۔ شور کی آواز پر سب باہر آ گئے تھے۔۔ ابرار قریشی اور جمال چودھری باہر تھے۔

یہ گندہ خون کیا کرنے آیا ہے اب یہاں۔۔۔؟ اس کے باپ کی بیوی تنفر سے بولی تھی مگر وہ کان بند کیے آ گے بڑھ رہا تھا۔ جب یاور قریشی نے اسے مکا مارا تھا۔ اور اس کی دیکھا دیکھی جاوید نے بھی مارا۔۔ اور یہ نوفل احمد کی حد تھی بعد میں اس نے ان دونوں کو اتنا مارا کہ زمین پر پڑے تڑپ رہے تھے۔۔ لڑکیاں کوئی نہیں تھی اور یہ دونوں عورتیں اسے روکنے میں ناکام تھیں۔۔

جب وہ انہیں بری طرح نڈھال کر چکا تب گارڈن میں آم کے درخت کے پاس کھودنا شروع کیا اور وہاں سے اس نے ایک لوہے کی پتلی سی چھوٹی پیٹی نکالی اور نکلتا چلا گیا۔۔

گھر کا دروازہ پار کر رہا تھا جب مانیہ چودھری جو آجکل سرخیوں میں تھی کیونکہ وہ ایک چھوٹے پردے کا ٹی وی شو کر رہی تھی۔۔ گھر میں داخل ہوئی تھی اور نوفل احمد کو دیکھ کر وہ پھر سے اس پہ فدا ہوئی تھی۔۔

اس وقت میں ڈر گئی تھی نوفل اس لیے ایسا کیا۔۔۔ تم مجھے معاف کردو۔۔ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔ تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ وہ اس کے قریب آنے پر اور اس بےباکی پر ایک نفرت بھری نظر اس پر ڈالتا آگے بڑھنے کو تھا جب اس کے الفاظوں پر رکا تھا۔

دیکھو نوفل جیسے تم ہو مطلب تمھارا اصل خون پتا نہیں تمھاری ماں بدکردار تھی تو کوئی بھی شریف لڑکی تم سے شادی نہیں کرنا چاہے گی۔۔۔ اور تمھارے پاس ویسے بھی کچھ نہیں۔۔ اس کے باوجود میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ اس نے اس کے زخم پھر سے ہرے کیے تھے۔

مردوں کو رجھانے والی کو بھی طوائف کہتے ہیں۔۔ اور تم اپنی حقیقت جانو تو کوئی تم سے بھی شادی نہیں کرنا چاہےگا۔۔ اسکو انگاروں پر ڈھکیلتا وہ دروازہ عبور کر گیا تھا۔۔

*******************

ہاہاہاہاہا تم مانیہ چودھری کو آگ لگا آئے تھے۔۔ ویسے دو سال سے وہ دبئی میں ہے وہیں ایک ڈرامہ شوٹ کر رہی ہے اور یاور قریشی اس لیڈ ہے۔۔۔

بٹ یار تم کیوں یہ فیلڈ چوز کر رہے ہو۔۔۔ الحان کو سمجھ نہیں آیا تھا۔

جیسے تم سی ایس ایس کرنے جا رہے ہو۔۔

تم ایم بی اے کر چکے ہو۔۔ بزنس کیوں نہیں کرتے۔۔۔؟ اور جو گھر لیا ہے تم نے ایک کروڑ کا اپنی ماں کی زمین بیچ کر اس کا کیا کرو گے۔۔۔ وہاں رہنا تم نہیں چاہتے۔۔ بس مامو اور ڈاکٹر عائشہ کے کہنےپرلے لیا۔۔؟ چل کیا رہا ہے تمہارے دماغ میں؟ الحان کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی تھی ۔

ابرار قریشی ملے تھے چھ مہینے پہلے۔۔۔ انہوں نے کہا تھا ” کیا ہے تمہارے پاس، نا نام اپنا، نا کام اپنا، گندگی کا ڈھیر ہو اور چلے ہو مقابلہ کرنے میرے بیٹے کا، ایک دنیا جانتی ہے اسے، تمہیں کون جانتا ہے، جیسی ماں ویسا بیٹا، ایک کام کرو عزت سے تم جی نہیں سکتے عزت سے مر جاؤ۔۔”

اوہ تو اس لیے تم فیم چاہتے کو۔۔۔ جس دنیا کو وہ تمہارے لیے وبال قرار دے رہے تھے تم اس دنیا کو قدموں میں لانا چاہتے ہو۔۔۔ الحان کے قیاس پر وہ صرف مسکرایا تھا۔۔۔ وہ جواب کم دیتا تھا۔۔ چاہے کوئی بھی ہو۔۔۔ بس الحان اور پاپا اس کی زندگی کا محور تھے۔۔۔

پھر وہ دو سالوں میں دو ہٹ فلمیں دے کر اس چکاچوند مصنوعی دنیا کا کنگ بن گیا۔۔ شریف کیا بولڈ کیا لڑکیاں اس کے آگے پیچھے پھرنے لگیں۔۔۔ مگر وہ نہ کسی کو دیکھتا نہ سنتا۔۔۔۔ اس لیے اسے ایروگنٹ کنگ کہا جانے لگا۔۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کی فلم میں کوئی بھی رومینٹک سین نہیں ہوتا تھا۔ دونوں فلمیں ایکشن سے بھرپور تھیں۔ ہیروئن صرف نام کے لیے تھی اور اس کے ساتھ بھی سین ایسے ہوتے کہ وہ انہیں ذرا بھی ٹچ نہیں کرتا تھا۔

سہیل خان دل کے مریض تھے آخری وقت میں انہیں ہدایت مل گئی تھی اور وہ توبہ کر چکے تھے اسے بھی اس دنیا کو چھوڑنے کا کہا مگر وہ خاموش رہا۔۔۔ اس کی یہ فلم بہت بڑے بجٹ کی تھی جس کی شوٹنگ دبئی میں ہو رہی تھی۔۔۔۔ اور پھر وہ یہ دنیا چھوڑ گئے۔۔ وہ بہت رویا تھا۔۔ اب الحان اس کا اپنا بچا تھا مگر وہ بھی اپنے گھر حیدر آباد میں رہتا تھا۔ اس سے ملنے آتا رہتا تھا۔۔ اسکے والدین بیمار تھے۔۔۔ وہ بھی اسے بہت چاہتے تھے۔ پھر ڈائیریکٹرز کے فورس پر اسے دبئی واپس جانا پڑا۔۔۔ جہاں ایک بار پھر اس کا سامنا اپنے دشمنوں سے ہوا۔۔ مگر اس بار ایک نیا اضافہ اس کی زندگی میں ہوا وہ تھا منال صدیقی کا۔

***************

یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔۔ فلم کے سیٹ ہر یاور قریشی کو دیکھ کر اسے بے انتہا غصہ آیا تھا۔۔

یہ آپکے ساتھ شوٹ کرےگا ایز اے یور برادر۔۔۔ مسٹر بنسالی کے کہنے پر اس کا غصہ عود کر آیا تھا۔۔ اور یہی نہیں اس کی فلم کی لیڈ ایکٹریس کے روپ میں مانیہ چودھری کو دیکھ کر تو اس کا غصہ آسمان کو چھو گیا تھا۔۔ وہ فلم کو ادھورا چھوڑ کر واپس انڈیا آنے کی تیاری کرنے لگا۔ مگر ڈاریکٹرز اس سپر ہٹ ہیرو کو ان چھوٹے ایکٹرز کے لیے ناراض نہیں کر سکتے تھے اس لیے انہیں نکال دیا گیا۔ ان کی جگہ فیصل اور نتاشہ کو دی گئی۔ اور نتاشہ بلکل مانیہ چودھری کی طرح اس پر فدا ہونے لگی۔ جس سے اسے اور غصہ آنے لگا۔ وہ یہ فلم جلد از جلد مکمل کرنا چاہتا تھا۔۔ اسے عورتوں سے الرجی ہو رہی تھی۔۔

یہ تم نے اچھا نہیں کیا نوفل احمد خان۔۔ یو ول پے فار اٹ۔۔ یاور قریشی اسے دھمکاتا چلا گیا۔۔ مگر مانیہ چودھری اس کےگھر تک پہنچ گئی۔۔

ہاؤ ڈیر یو ٹو کم دیر۔۔۔ اس نے اسے دروازہ کے اندر آنے ہی نہیں دیا۔۔

آنے دو اندر میری جان۔۔ تم جانتے تو ہو کتنا چاہتی ہوں میں تمہیں۔۔ میں نے سب کو راضی کر لیا ہماری شادی کے لیے۔۔ وہ پھر اس کی طرف بڑھی تھی۔۔

دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔ اسےباہر ڈھکیل کر اس نے دروزہ بند کرنا چاہا مگر مانیہ چودھری کے چلانے پر واپس کھولنا پڑا۔۔۔

اگر تم نے مجھے اندر آنے نہیں دیا تو میں شور مچا کر سب کو جمع کر لوں گی۔۔ اس کی دھمکی پر ایک پل کے لیے اس نے سوچا اور پھر اسے ڈنر کی آفر کرتا اپنی کار کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اور وہ تو ایسے ہواؤں میں اڑی جیسے دنیا فتح کر لی ہو۔۔۔

یہ تم کہاں لے کر جا رہے ہو۔۔۔ اسے سنسان جگہ کی طرف جاتا دیکھ کر وہ بوکھلائی تھی۔ مگر وہ کچھ بھی بولے بغیر اسے جنگلی کتوں کے بیچ چھوڑ کر جا چکا تھا اور ساتھ ہی یاور قریشی کو بھی اسی جگہ بلا چکا تھا تاکہ دونوں سزا بھگتنیں۔۔۔ اب وہ دونوں تھے اور ان کی چیخیں دوڑنے بھاگنے کی آوازیں۔۔۔

*****************

اور پھر چھ مہینے بعد اس کا نام نہاد باپ، اس کی بیوی اور بہن بہنوئی اس کے گھر آئے تھے۔۔۔

تم نے ہماری بیٹی کی عزت خراب کی، وہ خود کشی کرنے والی تھی۔اب تم اسی سے شادی کروگے۔۔۔۔ آخر تم نے ثابت کر ہی دیا کہ تم ایک بدکردار زانیہ عورت کا ہی گندہ خون ہو۔۔۔ اور ویسے بھی تم جیسے زانی حرامی سے کوئی شادی کرنا نہیں چاہےگا۔۔۔ ان لوگوں کی پھنکار پر اس نے کوئی رئیکشن نہیں دیا تھا گویا وہ اس سے مخاطب ہی نہیں ہیں۔ مگر ایک بات اس کے ذہن میں اٹک گئی تھی کہ کوئی شریف لڑکی اس سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔ اس نے کبھی عورت کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ مگر بار بار اس طعنے نے اسے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔

یہ دیکھو تمہاری بدکرداری کا ثبوت۔۔۔ اتنی عورتوں کے ساتھ تمہارے تعلقات ہیں پھر بھی ہم تم جیسے کمی کمین سے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔ اگر تم نے انکار کیا تو یہ فوٹوز سوشل میڈیا پر ڈال دی جائیں گی۔۔۔ پھر تمہارا نام عزت سب مٹی میں تمہاری ذات کی طرح۔۔ وہ جانتا تھا کہ یہ فوٹو ایڈٹ کی گئی ہیں بس پتا لگانا تھا کس کا کام ہے۔ اور وہ یہ کام عتیق اور فیصل کو سونپ چکا تھا۔

اور پھر اسے یاد آیا تھا جب وہ دبئی کے ایک کالج میں ایز اے چیف گیسٹ گیا تھا۔۔۔ پورا کالج اس کا فین تھا مگر وہ جو ٹھٹھکا تھا وہ اس لڑکی کااسے ٹکٹکی باندھے دیکھنا تھا جو ایک کنارے پر کھڑی ارد گرد سے بے نیاز اسی کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں ہوس نہیں تھی بے یقینی تھی۔۔ وہ سر جھٹکتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔ پھر اس لڑکی کا دوبارہ ٹکراؤ اس کی پارٹی میں ہوا تھا۔ وہ اس کے ایک ڈائریکٹر کی بیٹی کی کلاس میٹ تھی اور اس کے شوق میں وہاں آئی تھی۔۔۔ اور اس کی امارت دیکھ کر حد درجہ متاثر ہو چکی تھی۔ وہ ایک بولڈ چنچل اور اچھی لڑکی تھی۔۔ اس نے اس میں کوئی چھچھورا پن نہیں دیکھا تھا۔

اور پھر ان لوگوں کی دھمکی پر وہ اسے پروپوز کر چکا تھا۔۔۔ وہ اس کی فین تھی اس کی امارت سے متاثر تھی اس لیے فخریہ اس کا پروپوزل قبول کر لیا۔۔ مگر اس کی فیملی راضی نہیں تھی۔۔ مگر اس نے انہیں راضی کر لیا۔۔ اور یہ بات مانیہ چودھری کو پتا چل گئی۔ اور اس نے اس لڑکی سے دوستی کر لی۔

یہ لڑکی تم سے محبت نہیں کرتی اور نہ تم کرتے ہو۔۔ تو کیوں شادی کر رہے ہو۔۔۔ یہ لڑکی تمہارا یوز کر رہی ہے۔ دیکھنا تمہاری حقیقت پتا چلے گی تو بھاگ جائے گی تم سے شادی نہیں کرےگی۔۔ تم سے صرف مانیہ چودھری شادی کر سکتی ہے تمھاری حقیقت جان کر بھی۔ مانیہ چودھری کی بکواس اسے جلدی شادی پر اکسا گئی۔

پھر شادی والے دن وہ لڑکی غائب ہ گئی۔۔ اور وہ سمجھا کہ بھاگ گئی اور مانیہ چودھری کی پیشن گوئی صحیح ثابت ہو گئی۔ اور یہ بات نوفل احمد کو اس درجہ متنفر کر گئی کہ وہ بنا سوچے سمجھے گن پوائنٹ پر منال صدیقی کی بہن حیات صدیقی سے نکاح کر گیا۔۔

پھر شادی کے بعد اسے پتا چلا کہ نتاشہ، مانیہ اور یاور قریشی نے اس کے فوٹو ایڈٹ کروائے تھے۔۔ اس سے پہلے کہ وہ سوشل میڈیا پر آتے وہ انہیں حاصل کر چکا تھا۔ مگر بعد میں پتا چلا کہ۔۔۔ یاور قریشی اور مانیہ چودھری پھر سے گیم کھیل گئے اور اس بار ان کی لپیٹ میں اس کی وجہ سے منال صدیقی آئی ہے۔

شادی کے دن دس منٹ پہلے ان لوگوں نے ہی منال کو بلایا تھا۔ پھر اسے وہ تصویریں دکھائیں اور بہت کچھ الٹی بکواس کی جس سے منال مجھ سے متنفر ہو گئی۔ مگر پھر بھی وہ گھر واپس آ رہی تھی مگر مانیہ چودھری منال کے مجھ سے شادی کی رضامندی پر اسے سزا دینا چاہتی تھی۔۔ اس لیے اس نے اس کا ایکسیڈنٹ کروا دیا۔۔ اگر اتفاق سے الحان وہاں نہیں ہوتا تو وہ آج زندہ نہیں ہوتی۔۔۔ اور یہ بات اسے پانچ دن پہلے ہی پتا چلی تھی جب اس نے ان لوگوں کو گرفتار کروایا تھا۔۔ تب مانیہ چودھری سے ساری حقیقت اگلوائی تھی۔۔ ایک اور گلٹ اس کا بڑھ گیا تھا دونوں بہنیں ہی اس کی دشمنی کی لپیٹ میں آ گئی تھیں۔

******************

معافی چاہتا ہوں آپ سب لوگوں سے۔۔ میری وجہ سے آپ لوگوں کو اتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔۔ غصہ میں میں نے ڈائیورس پیپرز پھاڑ دیے تھے۔۔ دو دن میں ارینج کروا کر بھجوا دوں گا۔۔۔ وہ وہاں بت بنے لوگوں پر ایک نظر ڈالتا اور حیات پر ایک آخری مگر ترسی ہوئی نگاہ ڈالتا ان کی دہلیز پار کر گیا تھا۔۔

اس لیے کہتے ہیں کسی کے بارے گمان نہ کرو، گمان بڑا گناہ ہے۔ دادی کی آواز کمرے میں گونجی تھی۔

حیات! میری بچی کیا ہوا۔۔؟ ان کے چیخنے پر سب ہوش میں آئے تھے۔

رابعہ بیگم، منال اور آزر کب آئے تھے کچھ پتا نہیں چلا تھا۔۔ مگر سب نوفل احمد خان کی ہولناک سچائی سن کر اتنے شاکڈ تھے جیسے کسی نے بت بنا دیا ہو۔۔ جسے ان لوگوں نے کسی قابل نہیں جانا تھا اس کا پور پور درد میں ڈوبا ہوا تھا۔

حیات! حیات بچے آنکھیں کھولو۔۔ بے ہوش وجود کو جگانے کی کوششیں جاری تھی مگر کوئی رسپانس نہیں کر رہی تھی۔۔

قریب کی ایک لیڈی ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا۔۔

ان کو ہم پریشانی سے دور رکھیں۔۔ ان کا ذہن انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔۔ یہ ٹروما میں جا سکتی ہیں انہیں کوئی بھی ایسی بات یاد نہ دلائیں جو ان کے تکلیف دہ ہو۔۔ ڈاکٹر کی ہدایت وہ سب خاموش رہے تھے۔۔۔ آج کس کس کے لیے روتے اپنی بچی حیات کے لیے جس کو قسمت نے پہلی بار آزمایا تھا یا نوفل احمد خان کے لیے جو ان کی بچی کا شوہر بھی تھا اور پوری زندگی قسمت کی ستم ظریفی کا شکار رہا تھا۔

*****************

حیات! میری جان کیا ہوا ہے۔۔ ہوش کر اتنا روئےگی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔ اسے سجدے میں تڑپ تڑپ کر روتے دیکھ کر دادی اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں جو نا جانے کب سے رو رہی تھی۔۔

دادی دادی وہ بہت تکلیف میں ہیں میں نے خواب دیکھا ہے وہ زخمی ہیں انہوں نے مجھے بہت بار آواز دی، اور میں ان کو زخمی حالت میں ایسے ہی چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔ دادی میں کیا کروں اللہ مجھ سے ناراض ہے میں نے انہیں بہت برا کہا۔۔ان پر غصہ بھی کیا۔۔ مجھے سکون نہیں مل رہا ہے دادی۔۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔ مجھے ان کے ساتھ نہیں رہنا پھر مجھے تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔۔ مجھے کچھ بھی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا ہے۔۔اب وہ ان کی گود میں سر رکھے تڑپ رہی تھی۔۔

اس کےرونے کی آواز سن کر سب اس کے گرد جمع ہو گئے تھے۔۔ وہ معصوم تھی حالات کا اندازہ نہیں لگا پاتی تھی۔۔ اور یہ معاملہ تو تھا ہی الگ۔۔ اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی مگر وہ سنبھالنے میں نہیں آ رہی تھی۔۔

دادی اسے کل اس کے گھر چھوڑ کر آئیں گے۔۔ اس کی تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔۔ ہو سکتا ہے اسے تب ہی سکون ملے۔۔ اور شاید ہمیں بھی۔۔ احمد کے کہنے پر ایک نظر اسے دیکھا جو اب نیند کی گولی کے زیر اثر گہری نیند سو رہی تھی۔

ہاں اماں میں نے بھی اس بچے کو نا جانے کیا کیا کہا۔۔ مجھے بھی معافی مانگنی ہے۔۔ فائزہ بیگم کو بھی اپنے لفظ یاد آئے تھے۔

کیا کہتے ہو فرحان؟۔۔۔ انہوں نے خاموش کھڑے بیٹے سے پوچھا تھا۔

میں کیا کہوں اماں۔۔؟ وہ واقعی اس معاملے میں بہت الجھ چکے تھے۔

تم مان لو تمہاری بیٹی کو اللہ نے اس کے درد کے مداوے کے بھیجا ہے۔ اسے تحفہ دیا ہے اللہ نے اس کے بدلے جو اس بچے نے تنہا جھیلا ہے۔ اور مان لو اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ “پاک عورتوں کے لئے پاک مرد ہیں” اور نوفل احمد خان پاک مردوں میں ہے۔۔ اور اب اللہ نے ہماری بچی کا رخ بھی اس طرف موڑ دیا ہے۔۔ اس کے دل کو اس کے شوہر کے درد میں رلا دیا ہے۔۔ اور اس کہ برکت سے اللہ اسے اس دلدل سے بھی نکال لائےگا۔۔ مجھے یقین ہے اللہ نے ہماری بچی کا رزق بالکل حلال اتارا ہے۔

آپ صحیح کہہ رہی ہیں اماں۔۔ ان شاء اللہ سب ان کی باتوں سب متفق تھے۔ بلا شبہ یہ وہ لوگ تھے جن سے اللہ راضی ہوتا ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *