Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 09)

Hayat by Ain Noon Alif

او مائے گاڈ، ان لوگوں نے بھابھی کو تو نشانہ نہیں بنا لیا تم سے بدلہ لینے کے لیے۔ ان کا پلان بھی تم دونوں کی آمد کے بعد بدلا تھا۔

اور نوفل احمد خان نے شدت کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔ اسے یقین تھا۔ اس کی بیوی کو ہی نشانہ بنا لیا گیا صرف اس کہ دو منٹ کی غفلت میں۔۔ وہ بغیر کچھ بولے باہر کی طرف بڑھا تھا۔ الحان اور اس کی ٹیم نے ہر جگہ دیکھا تھا مگر کوئی بھی سراغ نہیں ملا تھا۔۔۔ دس منٹ میں ہی نوفل احمد جانے کتنی بار مرا تھا۔۔۔ وہ لوگ اس طرح تلاش کر رہے تھے کہ کسی کو شک نہ ہو کہ نوفل احمد کی بیوی غائب ہو گئی ہے۔۔

نوفل وہ لوگ باہر نہیں گئے یہیں ہیں۔۔۔۔ میں نے کچھ آؤٹ ڈور پر خفیہ کیمرے لگوائے تھے۔۔۔ ابھی تک کوئی بھی زی روح ابھی تک باہر نہیں گیا۔۔۔ وہ لوگ بھی نہیں۔۔۔ کیونکہ کیمرے کی خبر کسی کو بھی نہیں جو وہ لوگ تمھیں مس گائڈ کریں ۔

تم جانتے ہو کہ اسٹیڈیم میں کچھ پرائویٹ رومز ہیں وی آئی پیز کے لیے۔۔۔ وہیں چیک کرتے ہیں۔۔۔ الحان کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی وہ رومز کی طرف بڑھا تھا، جہاں اسے نتاشہ عجلت میں اندر آتی نظر آئی تھی۔۔۔ وہ بلا سوچے سمجھے اس کی طرف بڑھا تھا اور اس کو لئے ایک کونے میں آیا تھا جہاں سے انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔

بیوی کہاں ہے میری؟؟ اس کی آواز میں یقین محسوس کر کے ایک پل کے لیے وہ گڑبڑائی تھی مگر جلد ہی خود پر قابو پا چکی تھی۔۔۔ مگر وہ گڑبڑانا نوفل احمد کے یقین کو پختہ کر گیا تھا۔

مم مجھے کیا پتا تمھاری بیوی کہاں ہے۔۔۔۔

تو تم نہیں بتاؤگی۔۔۔ اس نے مزید وقت ضائع کئے اپنی گن اسکی کنپٹی پر رکھ دی تھی۔۔۔

یہ کیا کر رہے ہو نوفل۔۔۔ تمھاری بیوی ہے تمھیں ہی پتا ہوگا۔ اس کی ہٹ دھرمی ابھی بھی قائم تھی۔۔۔

ٹھیک ہے تو جو تم نے پہلے کیا اس کی سزا بھی موت ہی ہے۔۔۔ کہتے ہی اس نے گن لوڈ کی تھی۔۔۔ جو نتاشہ کو حواس باختہ کر گئی تھی۔۔۔۔

اگر تم میری بیوی کا پتا بتا دیتی تو میں تمھاری جان نہیں لیتا۔۔۔

نن نہیں۔۔ میں بتاتی ہوں۔۔ تم جان سے نہیں مارنا مجھے۔۔۔ اس کے واقعی جان لینے کا ارادہ دیکھ کر وہ جلدی سے بولی تھی مبادہ وہ واقعی گولی نہ چلا دے۔۔۔۔ اس کی جارجیت سے خوب واقف تھی وہ۔۔۔۔

جلدی بولو!

و وہ۔۔ تمھارے پرائویٹ روم میں گیا ہےلے کر، مانیہ بھی ساتھ ہے، اور اسی نے چابی تمھارے کوٹ سے تب نکالی جب تم اپنی بیوی میں کھوئے ہوئے تھے۔۔۔ کیونکہ غائب ہونے پر تم باہر ڈھونڈنے جاتے اندر نہیں اسی لیے۔۔۔۔ باقی کے لفظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جب نوفل احمد خان کا بھاری ہاتھ اس کے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا تھا۔۔۔

نوفل جلدی کرو کیا کر رہے ہو۔۔۔ الحان جو اسکے پیچھے ہی آیا تھا نتاشہ کے منہ سے سچ سن کر حیران ہوا تھا عورتوں کی گراوٹ دیکھ کر۔۔۔

اس کو اپنی حراست میں رکھو ایس پی۔۔۔ اپنی بیوی کو لے کر آتا ہوں میں پھر ان کتوں کا اب حساب لینا ضروری ہو گیا ہے۔۔۔

اس کے کہنے پر اس نے واقعی نتاشہ کو اپنی حراست میں لیا تھا۔۔۔۔ اسے اپنی خفیہ اور قابل بھروسہ ٹیم کے حوالے کر کے وہ بھی نوفل احمد کے پیچھے گیا تھا۔

****************

چھ چھوڑو مجھے! کیوں اللہ کے قہر کو آواز دے رہے ہو۔۔ یاور قریشی کی گرفت سے روتی تڑپتی خود آزاد کرانے کی کوشش کرتی حیات انہیں اللہ سے ڈرا رہی تھی۔۔۔ بھول گئی تھی جن کے دلوں پر اللہ مہر لگا دے پھر وہ ہدایت نہیں پاتے۔۔۔ بس پھر ان پر اللہ کی پکڑ سخت ہو جاتی ہے۔۔۔

آپ لوگوں نے مجھے دھوکے سے بلایا۔۔ دھوکہ دینے والا مسلمان نہیں ہوتا۔۔۔ آپ لوگ دیکھنا اللہ آپ کو معاف نہیں کرےگا۔۔۔ کسی عورت کا پردہ چاک کرنے والوں کو اللہ سخت سزا دیتا ہے۔۔۔ اور آپ لوگ بہت گندے ہیں۔۔۔ اللہ کی مار پڑے آپ لوگوں پر۔۔۔

چپ بالکل ایڈیٹ تونے میرا نوفل ہتھیایا اور کہہ رہی چھوڑیں تجھے۔۔۔ تیری تو وہ حالت کریں گے کہ تو سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ اس کے چہرے پر پے در پے تھپڑ برساتی مانیہ چودھری پاگل پن کی حدیں پار کر رہی تھی۔۔۔

رک جا کمینی پہلے اس کے مزے تو لینے دے مار مار کے ہی نڈھال کرےگی۔۔۔ یاور قریشی نے مانیہ کا اٹھتا ہاتھ روکا تھا۔۔۔

یا اللہ پلیز مجھے بچا۔۔۔۔ کوئی تو زمین پر تونے میرا محافظ بنایا ہوگا۔۔۔۔ یہ لوگ گندے ہیں، پلیز اللہ میرے سارے گناہوں کو معاف کر دے، مجھے ان ظاموں سے بچا لے، دادی کہتی ہیں نامحرم کے چھونے سے جہنم کی آگ واجب ہو جاتی ہے، آپ چھوڑے مجھے جہنم میں نہیں جانا،۔۔۔ بلند آواز میں بولتی وہ اس کی گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی۔۔۔۔

کوئی بچانے نہیں آئےگا تجھے میری بلبل، اور جہنم میں تو تیرا نوفل جائےگا، تجھے تو ہم جنت کی سیر کرائیں گے۔۔۔ تیرا شوہر بھی تو ایسے ہی دوسروں کی بیویوں کے ساتھ جنت کی سیر کرتا ہے۔۔یہ اب اس کی بیوی کے ساتھ ہم کریں گے۔۔۔ بے فکر رہ میری کچی کلی بڑے آرام سے سیر کراواؤنگا تجھے۔۔یہ دیکھ اپنے شوہر کے عیش بڑے مزے ہیں۔ گھر میں کلی کا مزا، باہر پھولوں کا۔ انتہائی گھٹیا الفاظ کا استعمال کرتا وہ حیات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔وہ پھٹی آنکھوں سے انتہائی بےہودہ تصویریں دیکھ رہی تھی، اسے لگا تھا کہ اب اس میں جان باقی نہیں ہے۔۔ جس نے نہ کبھی ایسی فحش چیزیں دیکھیں نہ سنی، نہ ایسے الفاظ سنے نہ ایسا ہوتے دیکھا۔۔۔ اسے تو اندازی بھی نہیں تھا یہ غلیظ لوگ اس کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔۔۔ مگر اس کی چھٹی حس اسے بہت غلط ہونے کا سگنل دے رہی تھی۔۔۔ اور وہ تو بس اپنے اللہ کو پکار رہی تھی۔۔۔

جس نے صرف چادر کے اترنے پر نوفل احمد کو کیا کیا نہیں سنایا، پھر چہرہ کھولنے پر اسے رب سے ڈرایا اور سارا وقت بے حجابی اور اللہ کی ناراضی کے خوف سے روتی رہی، اب بنا اسکارف کے جو یاور قریشی اور مانیہ چودھری کے زبردستی کھینچ کر لانے سے راستہ میں ہی کہیں اتر گیا تھا، کیا حالت تھی وہی جانتی تھی اور اس کا رب۔

مانیہ کیمرا سیٹ کر جلدی. نوفل احمد کے سرپرائز سے بڑا سرپرائز یہ ویڈیو اس کو دے کر دوں گا۔۔۔ اور تو باہر جا چل۔۔۔ تیرے سامنے مزا نہیں آئےگا۔۔۔۔ ایک گندی نظر بکھرے بالوں والی بےحجاب حیات پر ڈالتا وہ مانیہ کو آرڈر کر رہا تھا۔۔۔ جو اس کی بات سن کر فورا کیمرا سیٹ کر چکی تھی اور ایک غلیظ طنز بھری نظر ڈال کر باہر نکل چکی تھی۔۔۔

اس کے جاتے ہی حیات نے پورا زور لگا کر یاور قریشی کو دھکا دیا تھا۔۔ جو سامنے پڑے گلاس ٹیبل سے ٹکرایا تھا۔ اور اسی موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ بھاگنے کو تھی جب یاور قریشی نے اپنا پیر اس کے پیر میں اٹکا کر گرایا تھا۔۔۔ اور وہ منہ کے بل زمین پر گری تھی۔۔۔ یاور قریشی غصہ سے پھنکارتا اس کی طرف بڑھا تھا۔ اور بالو سے پکڑ کر کھڑا کر کے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالتا اس کا گاؤن کھینچ گیا تھا جو آگے سے پھٹتا چلا گیا تھا اور اس کے ناخنوں کی خراش سے جلد چھلتی چلی گئی تھی۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی حیات کی دلخراش چیخ نکلی تھی۔۔۔ اتنی بےحجابی اسے مارنے کو کافی تھی۔۔

یاور قریشی نے اسے بیڈ پر دھکا دیا تھا۔۔ اور اس کی طرف جھکنا ہی چاہتا تھا، تبھی دروازہ ایک جھٹکے سے کھلتا ہوا دیوار سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔

اور یاور قریشی نوفل احمد خان کو دیکھتا شاکڈ ہو گیا تھا۔۔۔ اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا وہ اتنی جلدی صرف بیس منٹ میں اس تک پہنچ جائے گا۔۔۔ اسے نوفل کو دیکھ کر خوف آیا تھا جس نے ابھی تک اپنی بیوی کو نہیں دیکھا تھا مگر یاور قریشی کے لیے وہ موت کا فرشتہ بنا کھڑا تھا۔۔ اسے حیات کو برباد نہ کرنے کا بھی افسوس تھا کہ وقت ضائع کیے بغیر ہی اپنا کام کر لیتا پہلے۔۔۔ مگر موت اسے ڈرا رہی تھی۔۔۔۔

نوفل احمد خان نے اس کے ایک پیر پر فائر کیا تھا، اور اسے گھسیٹتا دروازہ کے باہر پھینک کر الحان کے حوالے کیا تھا۔۔۔ جو پہلے سے ہی مانیہ کو اپنے قبضہ میں لے چکا تھا۔۔

ایس پی یہ تینوں نوفل احمد خان کے مجرم ہیں اس کی بیوی کے مجرم تو سزا بھی ان کے لیے نوفل احمد خان طے کرےگا۔۔ یہ صرف تمھارے پاس امانت ہیں۔۔۔ صرف تین چار گھنٹے انہیں اپنے پاس رکھو۔۔۔۔ اس کے بعد میرے حوالے۔۔۔۔ اس کے خوفناک انداز پر ایس پی بھی خوفزدہ ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ یہ تینوں اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔۔

*******************

نوفل احمد کسی بڑے نقصان سے بچنے پر اندر تک پرسکون ہو گیا تھا۔ پلٹ کر حیات کی طرف دیکھا تھا۔ جو ساکت بیٹھی اسے اجنبی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے پہچانتی ہی نہ ہو۔۔۔ اس نے اس کا جائزہ لیا تھا اور یہ اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔۔ آ ج اس نے اس کے بازوؤں کو دیکھنے کی خواہش کی تھی اور اس کا دل چاہا تھا خود کو شوٹ کر لے ایسی خوایش پر، جو اس انداز میں پوری ہوئی تھی۔ بکھرے بال، تھپڑوں سے سوجا چہرہ، ہونٹ سے کنارے سے نکلتی خون کی بوندیں، دائیں طرف گردن سے کندھے تک ناخن کے کھرچنے کے نشان، سامنے سے سینہ تک پھٹا ہوا گاؤن جو بیلٹ بندھے ہونے کی وجہ سے بچت ہو گئی تھی، ورنہ، جو اس کی رعنائی کو بےحجاب کر رہا تھا، متزاد اس کا ایسا ساکت انداز جو کسی قیامت کے آنے کا پتا دے۔ اور نوفل احمد کا دل چاہا تھا اپنا مرد ہونا بھول کر اپنی بیوی کی اس کی وجہ سے ہوئی اس بےحجابی کے لیے دھاڑے مار مار کر روئے۔۔۔

بیوی! اپنی ہی آواز کا بھیگاپن محسوس کر کے اس نے چہرا دوسری طرف گھمایا تھا۔

بیوی! سب ٹھیک ہے،کچھ نہیں ہوا، وہ اسے اپنے کوٹ سے ڈھکتا ہوا مخاطب ہوا تھا جس کے ساکت وجود میں اب تک کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی۔ وہ بےاختیار اسے اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا۔ کاش میں تمھاری بےچینی کا مطلب سمجھ جاتا، تمھارے احتجاج کو سمجھ جاتا۔۔ چند آنسو نکل کر حیات کے بالوں میں جذب ہو گئے تھے۔۔۔ کتنا ٹھیک کہا تھا تم نے جس کام میں تمھارے لیے شر ہوتا ہے تمھارا دل اس کے لیے راضی نہیں ہوتا۔۔۔ اور یہ اللہ کا اشارہ ہوتا ہے، تمھارا رونا بےحجابی کا رونا تھا، تمھارا خوف بےحجابی کا خوف تھا، اور میں اپنے زعم میں سمجھ ہی نہیں پایا۔۔ بولتا ہوا وہ اسے اور شدت سے بھیچ گیا تھا۔۔۔۔ اور درد کسے کہتے ہیں یہ آج نوفل احمد جان چکا تھا

صحیح کہہ رہی تھیں تم بیوی! میں بالکل بھی اچھا نہیں ہوں۔۔چلو اب یہاں نہیں رکیں گے۔ کبھی تمھیں لوگوں کے بیچ نہیں لاؤں گا۔ کبھی بھی اک پل کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ اپنے کیے کی بہت ساری معافی مانگنی ہےتم سے، تمھیں سمجھ ہی نہیں پایا میں بیوی۔ کہنے کے ساتھ ہی حیات کو الگ کیا تھا مگر اس کاسر ایک طرف ڈھلک گیا تھا۔

بیوی! اب کے وہ چلایا تھا اور اس کے بے جان وجود کو بازوؤں میں بھر کے پچھلی طرف سے نکلتا چلا گیا تھا جہاں الحان گاڑی تیار کیے اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اور وہاں کسی کو بھی خبر نہیں تھی یہاں کس پر کون سی قیامت گزر گئی تھی، یہاں تو لوگ گناہوں میں مست تھے۔ جن کی نحوست ایک معصوم وجود پر پڑ گئی تھی۔

اور نوفل احمد خان کو قسمت اور وقت نے مل کر وہ سمجھایا تھا جو وہ لوگوں سے نہیں سمجھا تھا۔ اور قسمت کا وار زیادہ کاری ہوتا ہے بنسبت لوگوں کے۔ کیونکہ لوگ زبان سے سمجھاتے ہیں اور قسمت عمل سے۔ حیاوالی باپردہ عورتوں کا عزت لٹنا ہی انہیں برباد نہیں کرتا بلکہ غیر محرم کے سامنے بےحجاب ہونا بھی انہیں مار دیتا ہے۔

اور ایسی ہی ہوتی ہیں باپردہ حیا والی عورتیں جو صرف غلیظ نظروں سے بھی خود کو بےآبرو سمجھنے لگتی ہیں۔ اور ایسی عورتوں کی حفاظت خود اللہ رب العزت کی ذات کرتی ہے۔ حیات بھی انہیں میں سے ایک تھی۔ اور اس کا یہ امتحان کس بدلاؤ کی کڑی تھا، اللہ کو اس سے کیا منظور تھا یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا۔

*********************

اماں کھانا کھا لیں ایک کب سے مصلہ پر بیٹھی ہیں۔۔ ایسا کیا ہوا ہے جو اتنی پریشان ہیں۔ فائزہ بیگم اپنی ساس سے مخاطب ہوئی تھیں جو نا جانے کب سے کیا دعا مانگ رہی تھیں۔ رات کے دس بج رہے تھے ابھی تک انہوں نے کھانا نہیں کھایا تھا حالانکہ ان کی اور حیات کی عادت تھی رات کا کھانا آٹھ بجے ہی کھا لیتی تھیں۔ اور رات دس بجے تک سو بھی جاتی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ رات کو جلدی سونے والے دنیا کی نحوستوں اور آفتوں سے محفوظ ہو کر اللہ کے آغوش میں رہتے ہیں۔

آج صبح سے میری حیات پریشان تھی بہو۔ بس اپنے بچوں کے لیے اللہ کو راضی کر رہی تھی۔ہمیشہ اپنی رحمت کت سایہ میں عافیت سے رکھے۔ اور کچھ حیات کے لیے بس کل تک کا صبر نہیں ہو رہا ہے۔

کل آ جائے گی آپ کی لاڈلی۔۔۔ پھر خوب ملنا دونوں سہیلیاں۔ اب تک تو اس کے پاس بتانے کو کہانیاں جمع ہو گئی ہوں گی۔۔۔ فائزہ بیگم کی بات پر ان کے چہرے پر محبت بھری مسکان آئی تھی۔۔

اچھا منال سو گئی۔۔

ہاں اماں۔ بڑا بدلاؤ آ گیا ہماری بچی میں نمازوں کی ایسی حالت میں بھی پابندی کرنے لگی ہے۔ اور رابعہ آپا کیسی ہدایت پا رہی ہیں۔ ہر وقت استغفار کرتی رہتی ہیں۔ اور منال پر کیسی محنت کر رہی ہیں۔ ماشاء اللہ آزر بھی مسجد کے امام صاحب سے تجوید سیکھ رہا ہے اور نماز کی ماشاءاللہ پابندی کر رہا ہے۔

ہاں بچے اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ بس اللہ پر یقین ہونا چاہئے۔

اماں دعا کیا کریں ہمارا اللہ پر یقین آپ جیسا ہو جائے۔۔ واقعی اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے۔۔ بیشک منال کی آزمائش میں اللہ نے کامیابی رکھی تھی جو وہ اللہ کے قریب ہو رہی ہے۔ بھلا کرے اللہ اس بچے کا جس کو اللہ نے ہماری بچی کی مدد کے لیے بھیجا۔

اماں احمد کو ابھی تک کچھ نہیں پتا کیا بتائیں گے اسے۔۔۔

فکر نہ کرو بہو۔یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

اوہو اماں یہ تو بتانا ہی بھول گئی آپ کا دوسرا دوست بھی آ رہا ہے۔۔

ہا ہا بہو تم تو بس ہمارے دوستوں سے جلتی رہو۔۔۔ اب کی بات پر دونوں ساس بہو بےساختہ ہنسی تھیں۔

کیا بات ہے بڑی چہکار ہو رہی ہے۔۔ فرحان صدیقی جو ابھی ابھی باہر سے سیدھا ماں اور بیوی کے پاس آئے تھے۔ بولنے کے ساتھ ہی سلام کرتے ماں کا پیار لینے کے لیے جھکے تھے ساتھ بیوی کو بھی محبت بھری نظروں سے دیکھا تھا جو انہیں کی طرف متوجہ تھیں۔

بس اپنے بچوں کو یاد کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی لے چلنا حیات کو لینے کے لیے

دو گھنٹے کالمبا سفر ہے اماں!آپ تھک جائیں گی۔صبح صبح ہی نکل جاؤں گا کل اسکول کی تو چھٹی ہے۔۔ مگر دوپہر سے کہیں جانا ہے۔

اور پھر کھانا کھاتے ہوئے کتنی ہی دیر یہ لوگ اپنے بچوں کو یاد کر کے خوش ہوتے رہے تھے۔ حیات کے آنے نے اس گھر میں کیسی خوشی کی لہر دوڑا دی تھی۔۔۔ مگر کون جانے کس کے لیے کتنا امتحان باقی تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *