Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 10)

Hayat by Ain Noon Alif

بہت شوق ہے تجھے عورتوں کی عزت خراب کرنے کا؟؟۔۔ “اس درد کا احساس نہیں ہوتا ہے نا تجھے کمینے “نوفل احمد خان کی بیوی پر بری نظر ڈالی، “اسے تکلیف دی جس کو تکلیف دینے پر نوفل احمد خود کو بھی معاف نہ کرے”۔ “چل آج تجھے عزت لوٹنے کا مزہ دلواتے ہیں، بہت شوق ہے تجھے جنت کی سیر کا، چل اب لطف اندوز ہو جبت کی اس بہترین سیر سے، جن عورتوں کے ساتھ سیر کرتا ہے نہ ان کے درد کا احساس بھی کرواتے ہیں اور اس کی ذلت کا احساس بھی، یاور قریشی کے پیر پر جہاں اس نے گولی ماری تھی اپنے پیر سے مسلتا وہ پھنکارا تھا۔ جس سے یاور قریشی کی درد ناک چیخیں اس روم میں گونج رہی تھیں۔ ۔ اور اسکی پھنکار میں کیا تھا کہ یاور قریشی تو یاور قریشی خود ایس پی الحان بھی خوفزدہ ہوا تھا۔۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ اس وقت تو وہ صرف تماشائی تھا۔

اندر آؤ۔۔۔ اس کے آواز دینےپر باہر کھڑے چار پانچ دیو قامت مرد اندر آئے تھے جو شکل اور چال دونوں سے ہی عجیب لگ رہے تھے۔ وہ سب نوفل احمد کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔

یہ ہے تم لوگوں کا شکار۔ یاور کی طرف اشارہ کرتا وہ ان لوگوں سے مخاطب ہوا جو بہت ہی غلیظ اور للچائی نظروں سے یاور قریشی کو دیکھ رہے تھے۔ اور اس کی ویڈیو بناؤ اور جس طرح یہ عورتوں کو بلیک میل کرتا ہے ان کی ویڈیوز کو بیچتا ہے تم لوگوں کو بھی وہی کرنا ہے۔۔ اور یاد رہے اس پر ذرا بھی رحم کھایا تو نوفل احمد تم پر رحم نہیں کھائےگا۔ اس کے انتہائی سرد لہجہ پر وہ آدمی اس کے حکم پر اس کے غلاموں کی طرح یاور قریشی کی طرف بڑھے تھے۔ آخر کو اس نے ان کی بھوک مٹانے کا سامان مہیا کیا تھا۔

یاور قریشی پانچ فٹ دس انچ، جس کی جسامت زیادہ مضبوط تو نہیں تھی مگر دیکھنے میں وہ اچھا خاصا تھا۔ ان آدمیوں کی حقیقت جان کر الحان نے جھرجھری لی تھی۔۔۔ اس کی سوچ سے بھی بڑی سزا اس نے یاور قریشی کے لیے سوچی تھی۔

نہیں نوفل! مجھے ان کے حوالے مت کرو، کل کی طرح مار لو۔۔ ان دیو قامت مرد کی شکل میں دوسری مخلوق کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر نوفل احمد کے پیروں میں گرا تھا۔۔

میری بیوی بھی ایسےہی تڑپ رہی تھی تم سے بچنے کے لیے،اس کو اس کے رب نے بچا لیا، مگر اور نہ جانے کتنی عورتوں کو تو نے روندا ہے ان سب کا درد اب محسوس ہوگا تجھے۔۔ جیسے تونے ان پر رحم نہیں کیا تھا اب تجھ پر نہیں کیا جائے گا۔۔

نہیں نوفل ایسا مت کرو بھائی ہوں میں تمہارا۔ ایک باپ کی اولاد ہیں ہم۔۔ یاور قریشی اس کے پیروں میں گرا گڑگڑا رہا تھا۔

شٹ اپ! اپنا بھائی کہہ کر گالی مت دے مجھے، کیسا بھائی، میری بیوی پر گندی نظر ڈالی، اسے بےحجاب کیا، مجھ سے متنفر کیا، اس کے دل میں میرے لئے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی، اسے ذلیل کرنے کا سوچا،اور سالے بھائی ہونے کی گالی دے رہا ہے مجھے، تیرے باپ کا بھی یہی حال کرتا اگر وہ بھی ایسا کرتا تو۔۔۔۔ نہ تیرا باپ میرا باپ ہے نہ تو میرا بھائی۔

اسے ایک زوردار ٹھوکر ماری تھی جس سے وہ ان آدمیوں کے قدموں میں جا گرا تھا۔ جوایک پل کی بھی دیر کیے اس پر ان لوگوں کی موجودگی کی پروا کئے بنا ہی ٹوٹ پڑے تھے۔۔

نوفل احمد نے ایک کونے میں کھڑی تھر تھر کانپتی مانیہ چودھری اور نتاشہ کی طرد دیکھا تھا اور الحان کو انہیں باہر لانے کا اشارہ کرتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔ پورے روم میں ایسی ہی آوازیں گونج رہی تھیں جو یاور قریشی کی درندگی کا شکار عورتوں کی گونجتی تھیں۔

اور باہر نکل کر اس نے مانیہ چودھری کے چہرے پر ویسے ہی تپھڑ برسائے تھے جیسے اس نے اس کی بیوی کو مارے تھے۔ اس کے مضبوط ہاتھوں کے تھپڑ سے مانیہ چودھری درد کے احساس سے دوہری ہو گئی تھی۔

یہ وہ رزیل عورتیں ہیں جو عورت کے نام پر کلنک لگا رہی ہیں۔۔۔صرف ایک ہفتہ انہیں ان کے جرم کا احساس کرواؤ جیسے یہ بےقصور عورتوں کے ساتھ کرتی ہیں۔ کھانا پینا کچھ نہیں۔۔ ہٹلر نما لیڈی کانسٹیبل کے حوالے کرتا وہ ان دونوں کے لیے بھی سزا متعین کر گیا تھا۔ اور یاد رہے تم لوگوں کو اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کرنی ہے۔۔ اب دیکھنا ہے کہ کتنی ایماندار ہو تم لوگ اپنے ملک اور اپنی نسوانیت سے۔ اپنے ملک کی بےقصور عورتوں سے جو ان جیسی گھٹیا عورتوں کی وجہ سے مظالم کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔۔۔۔ ان دونوں لیڈی کانسٹیبل کو للکارتا وہ اپنے چہرے پر رومال باندھ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔۔۔۔ اس کا کام ہو چکا تھا اس کی بیوی کے مجرموں کو ان کے کیے کی سزا مل رہی تھی۔

*****************

نوفل تم اتنے ڈینجر ہو یار۔ کیسی سزا متعین کی ہے ان لوگوں کے لیے، واللہ میرا دل بھی ابھی تک خوفزدہ ہے۔۔ کب سے خاموش تماشائی بنے الحان اب زبان کھولی تھی۔

اگر تم پولیس والے ایسے کتوں کو ان کے انجام تک خود پنچاؤ ان کے جرم کے جیسی سزا ان کو دو تو عام آدمی کبھی بھی ان کے مظالم کی چکی میں نہ پسے اچھے لوگوں کو برا تم لوگ بناتے ہو، یہ دو کوڑی کے لٹیرے نہیں۔ میرا ایسی سزا دینے کا دل تو سالے پولس والے کتوں کو کرتا ہے، جن کی کمینگی کی جہ سے عورتیں محفوظ نہیں ہیں۔ جو ایسے ریپسٹ لوگوں کو شہہ دے رہے ہیں۔ وہ بول نہیں رہا تھا، پھنکار رہا تھا۔ اس کا لہجہ پولیس والوں کی نفرت میں آگ برسا رہا تھا۔

تم مجھے بھی ایسا کہہ رہے ہو کیا؟۔۔۔ ایس پی الحان جانتا تھا کہ نوفل احمد غلط نہیں کہہ رہا ہے۔۔ اصل لٹیرے تو ملک کی رکھوالی کرنے والے پولیس کی وردی میں یہ بھیڑیے ہی ہیں۔

تمھاری ایمانداری اپنی آنکھوں سے نہ دیکھی ہوتی تو یہ جملے تمھارے لیے بھی تھے۔ جس دن تمھاری غداری نظر آ گئی اس دن تمھیں گولی میں خود مار دونگا۔

کیوں ڈرا رہے ہو یار۔ اب تو سکون کی سانس لے لو۔۔ دے چکے تم بھابی کو تکلیف دینے والوں کو سزا۔۔ الحان کے کہنے پر اسے حیات کا صبح کا تڑپنا، فریاد کرنا رونا بلکنا کیا کیا نہیں یاد آیا تھا۔ اس کے پاس جلد سے جلد پہنچنے کی خواہش زور پکڑتی جا رہی تھی۔ وہ اسے خود میں سمو کر بتانا چاہتا تھا کہ اس کے مجرموں کو سزا دے آیا ہے۔

بے اختیاری میں سر زد ہوئی اس کی بےخودی بار بار حیات کے سوجے گالوں کو چومنا جیسے اس کے درد کو کم کرنے کی کوشش میں تھا، اس کے سر پر بوسے دیتے رہنا، اور اس کی رکتی سانسوں کو جوڑنے والا دیر تک کیا گیا عمل، روتی بلکتی حیات کو اپنی باہوں می سمیٹنا، گاڑی میں اس کے بےہوش وجود کو بچے کی طرح اپنی گود میں سنبھالے رکھنا ، سارے منظر ایک فلم کی طرح اس کی آنکھوں میں چلنے لگے تھے، اسکے احساس اس کے لمس سے سرشار ہوتا وہ سیٹ کی بیک ست ٹیک لگاتا آنکھیں موند گیا تھا۔۔

اور الحان اس کے چہرے پر آئے سکون کو دیکھ کر خوس بھی پرسکون ہو رہا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا نوفل احمد نے کل سے اب تک پانی کا ایک قطرہ بھی منہ میں نہیں ڈالا، اپنی تھکن، بھوک پیاس سے بےپرواہ وہ بس اپنی بیوی کے لیے پاگل ہو رہا تھا۔۔ اس کی اس دیوانگی پر اسے رشک آیا تھا۔ جس میں انتہا سے زیادہ وہ پاکیزگی دیکھ رہا تھا۔ رات اپنی بیوی کو اس سے بھی چھپانا اس سے مخفی نہیں رہا تھا۔

رات کی پارٹی سے اچانک اس کے غائب ہونے سے جو نقصان ہوتا اسے اس کی بھی پرواہ نہیں تھی۔۔ نہ اسے اپنی فلم کی پرواہ تھی نہ لوگوں کی، وہ ساری دنیا کو بھولے بس اپنی بیوی میں کی فکر میں ہلکان ہو رہا تھا۔ عشق کی اس حد سے تو وہ خود بھی ابھی تک انجان تھا۔وہ پہلے بھی کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا اور اب تو معاملہ اس کی بیوی کا تھا تو پھر دنیا اس کے لیے کس کھاتے میں آتی۔

******************

وہ سرشار سا اپنی بیوی سے ملنے کی چاہ میں تیزی سے اپنے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ لفٹ کھلتے ہی وہ الحان کی پرواہ کیے بنا گھر میں داخل ہوا تھا۔ دو گھنٹے بعد واپس آیا تھا وہ۔ جہاں ایک اور تکلیف دہ خبر اس کی منتظر تھی۔ ابھی اس کے امتحان پورے نہیں ہوئے تھے۔۔ ابھی تو اسے اور بہت کچھ سہنا تھا۔۔

ڈاکٹر عائشہ کی پریشان شکل اور متزاد ان کا رونا، وہ کسی انہونی کے خیال سے ان سےبنا کچھ بھی پوچھے اپنے روم میں داخل ہو گیا تھا جہاں خالی کمرہ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ اس نے واشروم، بالکنی، ٹیرس یہاں تک کے وہ اس کو اپنے مخصوس انداز میں زور زور سے پکارتا پورے گھر میں ڈھونڈ چکا تھا۔ مگر ابھی تک وہ ڈاکٹر عائشہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں کر پایا تھا۔۔ وہ دونوں اسے دیوانوں کی طرح پورے گھر میں چکراتے دیکھ رہے تھے۔۔

نوفل ڈاکٹر عائشہ کو پتا ہوگا بھابھی کہاں ہے تم ان سے کیوں نہیں پوچھ رہے ہو۔۔۔؟ ایس پی الحان نے اسے پکڑ کر جھنجوڑا تھا۔

وہ یہیں ہے، بس مجھ سے ناراض ہے اس لیے میرے سامنے نہیں آ رہی ہے۔۔ وہ ان سے پوچھ کر اپنے بد ترین خیال کو سچ ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ اسے حیات کی ضرورت تھی بےتحاشہ اور بےحساب۔وہ اسے ہر حال میں چاہیئے تھی۔

بیوی! ایک بار اور پکارتا وہ اسے ڈھونڈنے کے ارادے سے بڑھا تھا جب ڈاکٹر عائشہ اس کے سامنے آکر اس کا راستہ روک گئی تھیں۔

حیات یہاں نہیں ہے نوفل، اس کے پاپا اسے ایک گھنٹہ پہلے لے کر جا چکے ہیں۔ اس کے بدترین خیال کی تصدیق ہو گئی تھی۔

اور وہ چلی گئی؟۔ اسے اپنی آواز بھی اجنبی لگی تھی۔

اسے نہیں پتا، وہ بےہوش تھی اور وہ اسے ایسے ہی لے گئے۔ میں نے بہت روکنے کی کوشش کی، تمھارا انتظار کرنے کا کہا مگر۔

انہوں نے کہا ہے کہ اب حیات سے تمھارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ جلدی طلاق کے کاغذات بھیجیں گے تمھیں۔ اگر تم نہیں مانے تو پھر وہ اپنی بیٹی پر ہوئے ظلم کے لئے تم پر کیس کر دیں گے۔ انہوں نے اس کی طرف دیکھا تھا جس کے چہرے کی کچھ دیر پہلے کی سرشاری اب وحشت ناک سنجیدگی میں بدل گئی تھی۔ ایک ہی نقطہ پر اس کی سرد نگاہیں جمی ہوئی تھیں۔۔ اس کا چہرہ اب غصہ سے سرخ ہوتا جا رہا تھا۔ الحان ایک بار پھر سے خاموش تماشائی بنا سب سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

انہوں نے ایسا کیوں کہا نوفل؟۔۔ تم نے ایسا کیا کیا کہ وہ تم سے اس درجہ متنفر ہیں کہ انہیں لگا حیات کی یہ حالت تمھاری وجہ سے ہے۔۔؟؟؟ ڈاکٹر عائشہ کے سوال پر اس نے بےتاثر نظروں سے انہیں دیکھا تھا۔ پھر کچھ بھی بولے بغیر اپنے روم میں بند ہو گیا تھا۔

الحان کیا نوفل کو کبھی کوئی خوشی نصیب نہیں ہوگی۔۔ کیا یہ ایسے زندگی بھر دنیا سے بیزار ہو گزار دےگا۔۔ اب کے لہجہ میں نوفل کے محبت اور فکر دونوں تھیں۔ کچھ تو غلط ہوا تھا جو یہ حالات تھے۔۔ جو بھی تھا مگر پھر بھی وہ اس کے لیے فکرمند تھیں۔

میں بھی آپ کی طرح اس مسٹری سے انجان ہوں۔ آپ فکر نہ کریں، میں کوشش کرتا ہوں، ڈاکٹر عائشہ کو تسلی دیتا وہ نوفل کی اندرونی کیفیت سے پریشان اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا اب تک اس کے روم کی حالت بگڑ چکی ہوگی، اور وہ اپنے درد میں کتنے گھنٹے بسر کرےگا وہ بھی نہیں جانتا تھا۔ اتنا تو پتا تھا اسےکہ وہ کچھ بھی کر لے نوفل احمد دروازه نہیں کھولےگا۔ اور اس پورے گھر میں اس کا واحد روم تھا جس کی کوئی ڈوپلیکیٹ چابی نہیں تھی۔

**********

مجھے پتا ہے تاریخ کو ڈیٹ کہتے ہیں۔۔۔۔ ہنی مون کہاں ہے؟، دیکھنا اللہ آپ کو ہی سزا دیگا، ٹیبل کی طرح مجھے بھی گرانے والے تھے آپ، وہ تو میں آپ کی گود میں ہی گر گئی، ا۔اس نے ممیرے ککپڑے،سب گندے ہیں، آپ بھی بہت گندے ہیں،اس بے مجھے چھوا، گندہ کیا، مجھے نہیں دیکھنا،میں آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی، بات بھی نہیں کروں گی۔۔۔ کتنی آوازیں اس کےگرد گونج رہی تھی، پندرہ دن پہلے جس لڑکی کا نہ کوئی وجود، نہ کوئی پہچان ، نہ کوئی احساس اس کی زندگی میں تھا، پندرہ دن میں ہی وہ لڑکی اسے اپنی معصومیت، اپنی باتوں، اپنی ناراضگی سے اپنا دیوانہ کر گئی تھی، کیا کوئی اتنے کم وقت میں کسی کو اتنا دیوانہ کر سکتا ہے۔۔؟؟

الحان کی سوچ کے مطابق پورا روم الٹ چکا تھا۔ اور وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح فرش پر بیٹھا ہوا تھا۔ دو تین گھنٹے گزر چکے تھے مگر اسے کوئی احساس نہیں تھا۔

بیوی! تھک کر اسے پکارا تھا اور پھر سر بیڈ کے کنارے پر ٹکا دیا تھا، شدت کرب سے آنکھیں میچی تھیں اور کتنے ہی آنسو اس کے بالوں میں جذب ہو گئے تھے۔

************

جس گھر میں اس کے آنے کی خوشی میں اسکی پسند کے پکوان بن رہے تھے، جس کی آمد کی خوشی ہر ایک کو خوش کر رہی تھی، اب وہاں ایسا ہولناک سناٹا تھا گویا کوئی ذی روح موجود ہی نہ ہو، کسی میں بھی تو زندگی کا احساس نہیں جاگ رہا تھا۔ وہ ابھی بھی بے ہوش تھی۔ سب گھر والے اس کے گرد ایسے بیٹھ تھے جیسے اگر اٹھے تو کوئی انہونی نہ ہو جائے۔ اور اسکی دوست اس کی دادی تسبیح پڑھتی نہ جانے کیا کیا پڑھ کر پھونک رہی تھیں اور آنکھ سے آنسو لڑیوں کی صورت بہہ رہے تگا۔

کسی بہت مانوس احساس سے وہ دھیرے دھیرے آنکھیں کھول رہی تھی، اپنے بہت قریب جھکی اپنی دادی کو بنا پلک چھپکائے رہی تھی گویا حقیقت ہے یا خواب۔ چاروں طرف نظر گھمائی تھی اسکے پاپا، اس کے بائیں طرف بیٹھے کچھ پڑھ رہے تھے، اسکی ماں اس کا ہاتھ سہلا رہی تھی، رابعہ پھوپھو بھی ان کے پاس بیٹھی تھیں، اس کا بھائی اس کے پیر پر کچھ مل رہا تھا۔ اسکی دادی اس پر جھکی کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھی ایک ہاتھ اس کے سر پے تھا، اور پھر اسے ایک پل لگا تھا یہ سمجھنے میں کہ وہ اپنے گھر اپنوں کے درمیان ہے۔ اپنوں کی دعاؤں کے حصار میں ہے۔

اور پھر اپنی دادی کے گلے لگ کر جو روئی تھی تو سب کو رلا گئی تھی، ہر کوئی اسے لپٹا لپٹا کر رو رہا تھا۔ جہاں اس کے ہوش میں آنے کی خوشی تھی وہیں اس کی حالت سب کا دل چیر رہی تھی۔

اور وہ دادی سے لپٹی خود پر بیتنے والے داستان سنا رہی تھی سب پس منظر میں چلے گئے تھے یاد تھا تو اتنا کہ اس کی دادی اس کی بہترین دوست اس کے پاس ہے۔۔

اتنا کچھ ہو گیا، کوئی ہماری گڑیا سے زبردستی گن پوائنٹ لر نکاح کر گیا، اس کا ایسا حال کر دیا جسے ہم نے تیز نگاہ سے دیکھا تک نہیں۔ اور مجھے کسی نے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اور اگر میں سرپرائز دینے کے چکر میں آج بھی نہ آتا تو کسی نے مجھے نہیں بتانا تھا۔ چھوڑوں گا نہیں میں نہ اس نوفل احمد خان کو، نہ اس بدبخت کو۔ احمد جس کی حیات میں جان بستی بتی طرح آگ بگولا ہو رہا تھا۔

جذبات پر قابو رکھو احمد، معاملہ کو سمجھنے دو۔۔۔ پھر سوچیں گے کیا کرنا ہے۔

کچھ معاملہ نہیں سمجھنا اماں۔۔ میں اپنی بچی کو اس دلدل میں نہیں جانے دوں گا۔ تب تو کچھ نہیں کر پایا تھا مگر اب اور نہیں۔ فرحان صدیقی نے بھی احمد کا ساتھ دیا تھا۔

حیات میری بچی! دادی کے چیخنے پر سب اس کہ طرف متوجہ ہوئے تھے جو گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ اور پھر خود کو چھپانے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔ اسے اپنی بےحجابی یاد آئی تھی جو وہ سب کو چاہ کر بھی نہیں بتا پا رہی تھی۔۔ وہ سب بتا چکی تھی مگر یاور قریشی کا اس کا لباس پھاڑنا اور اس حال میں نوفل کا دیکھنا، اسے لگا تھا وہ سب کے سامنے برہنہ ہے۔۔۔ اور یہ چیز اس کا ذہن قبول نہیں کر پا رہا تھا۔

اس کی حالت دیکھتے ہوئے دادی نے سب کو باہر بھیج دیا تھا۔ شاید وہ اکیلے میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتی تھیں۔

سب آنسو پونچھتے باہر چلے گئے تھے۔

حیات میری بچی میری طرف دیکھو۔۔ زبردستی اسکا رخ اپنی طرف موڑنے کی کوشش کی تھی۔۔

نہیں مجھے نہیں دیکھنا۔۔ مجھے کسی کے سامنے نہیں آنا۔۔ سب جائیں۔ وہ خود کو پوری طرح چادر میں چھپاتی وہ ان سے رخ موڑ چکی تھی۔۔ اور دادی تو ششدر سی اس کی حالت دیکھ رہی تھیں۔

********************

اے اللہ میں تیرے کسی فیصلہ سے نامید نہیں ہوئی ابھی بھی نہیں ہوں۔ اے اللہ تیری مصلحت کیا ہے ہم نہیں جانتے۔۔۔ بس یہ تکلیف بڑا درد دے رہی ہے۔ اے اللہ تیرے صابر اور شاکر بندوں میں کر دے۔۔۔ اے اللہ دو دن سے میری بچی ہر ایک کے سامنے آنے سے خوفزدہ ہے مگر تیرے سامنے اس نے جھکنے میں کوئی کمی نہیں کی، تو اس کا حال جانتا ہے۔۔ مولا اس کی مدد کر اسے سکون دے اس کے حق میں اپنی رضا کے فیصلہ اتار دے۔۔ اس کے ماں باپ بھائی بہن سب اس کی حالت سے پریشان ہیں۔ اپنی بچی کی تکلیف نے انہیں جذباتی بنا دیا ہے اے اللہ تو ہمارے کسی غلط فیصلہ کے لینے سے پہلے اپنا فیصلہ اتار دے۔ اے اللہ تیرے بندے کم عقل ہیں، جذباتی ہیں، محبت میں غلط قدم بھی اٹھا لیتے ہیں تو ہمارے قدموں ہمارے فیصلوں کو اپنی رضا کی جانب موڑ دے۔ تو معصوموں سے بہت محبت رکھتا ہے اور تو جانتا ہے میری بچی بہت معصوم ہے۔ بچپن میں میں نے اس سے کہا تھا کہ نامحرم کے چھونے سے گندے ہو جاتے ہیں اور یہ چیز وہ آج تک نہیں بھولی، اسے لگتا ہے وہ گندی ہو گئی ہے اسے ایک غلیظ مرد نے گندے طریقے سے چھوا ہے۔۔ اے اللہ پاک ذات ہے تیری، پاک کر دے اسے۔تو اس پر رحم کر اس کی مدد کر اس کے لیے عافیت کا فیصلہ کر دے۔۔ وہ انسانوں سے خوفزدہ ہو رہی ہے تو اس کا رب ہے جس سے وہ خوفزدہ نہیں ہے اسے تیرے سامنے میں نے سجدے میں روتے دیکھا ہے تو اسے تنہا نہ چھوڑ اس کو اس تکلیف سے نکال دے۔ تہجد میں سجدہ میں گری وہ اللہ سے فریاد کناں تھیں۔۔ اور وہ جانتی تھیں سب اپنے کمروں میں اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے۔۔۔ حیات ان کی زندگی کا وہ محور تھی جو ان سب کو ایک جگہ ملا دیتی تھی یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ سے بھی اور قریب ہو جاتے تھے۔ تو پھر اللہ اپنے ایسے بندوں کی فریاد کو کیسے رد کرےگا۔ اس بندی کو کیسے تنہا چھوڑ دے گا جو اس کی طے کردہ حدود میں زندگی گزارتی آئی ہے اور اس آزمائش میں جس میں اس کی کوئی غلطی نہیں۔ جو اس آزمائش کا مطلب تک نہیں جانتی۔ اسے بس بےحجابی اور نامحرم کا چھونا رلا رہا ہے۔۔

********************

میں آپ سے دور جا رہی ہوں۔ اب میں آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ آپ حرام کے کاموں میں ملوث ہیں۔ کیا فائدہ آپ کے ساتھ رہنے کا حرام کھاتے ہیں، حرام کماتے ہیں، عورتوں کو بےپردہ کرتے ہیں، میری زندگی آپ کے ساتھ سیف نہیں ہے۔۔ اس لیے میں آپ سے دور جا رہی ہوں۔ آپ میرے گناہگار ہیں۔ جا رہی ہوں میں اور اس کے ساتھ ہی وہ وجود ہوا ملحق ہو گیا تھا۔ اور وہ اسے پکارتا رہ گیا تھا۔ اور یہ تو روز ہو رہا تھا اس کی جیسے ہی آنکھ لگتی حیات سے جدا ہونے کے خواب اسے سونے نہیں دیتے تھے۔

ٹریک سوٹ میں ملبوس پسینہ سے شرابور وہ صوفہ پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا ہر طرف سے بے نیاز۔ پانچ دن سے اس کی وہی روٹین تھی۔ کئی کئی گھنٹوں تک بھاگتا رہتا، پنچنگ سے ہاتھ زخنی ہو گئے تھے، کھانا الحان زبردستی کھلاتا جو وہ برائے نام کھاتا۔ ایک لفظ بھی اس کے منہ سے نہیں نکلا تھا۔ خاموشی کا ایسا قفل لگا تھا جو کھلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔ مگر پھر بھی الحان نے اسے تنہا نہیں چھوڑا تھا۔۔ وہ خود ہی باتیں کرتا اسے بولنے پر اکساتا رہتا۔۔پانچ دن میں ہی اسے لگنے لگا تھا وہ کسی بت کے ساتھ رہ رہا ہے۔ پانچ دن سے وہ مکمل طور پر دنیا سے کٹ گیا تھا۔ ڈائریکٹرز کے فون پر فون آ رہے تھے مگر اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔ کیا اسے اپنی بیوی کے جانے کا ایسا صدمہ عشق کی علامت نہیں تھا۔

نوفل چلو ناشتہ کر لو۔۔ اسے ہاتھ پکڑ اٹھایا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل پر آیا تھا۔ گیارہ بج رہے تھے۔ اسے وقت کا کوئی احساس ہی نہیں رہا تھا۔

کب تک ایسے رہوگے۔۔جا کر لے آؤ بھابھی کو۔۔ حق رکھتے ہو انہیں زبردستی لانے کا بھی۔۔ اور زبردستی کے نام پر اسے اپنے نکاح کا دن یاد آیا تھا کیسے وہ زبردستی گن پوائنٹ پر اسے اپنی زندگی میں لایا تھا۔ اور پھر وقت اسے اس کی زندگی ہی بنا گیا تھا۔

یہ اس وقت کون آ گیا۔ بیل کی آواز پر الحان دروازہ کی سمت بڑھا تھا۔ اور اگر اسے پتا ہوتا دروازہ کھولنا نوفل احمد خان کے لیے ایک اور قیامت لائےگا تو وہ کبھی بھی دروازہ نہیں کھولتا۔

تمھارے لیے انویلپ آیا ہے۔ دیکھ لو ہو سکتا ہے ضروری ہو کچھ۔

ِ اس نے بےتاثر انداز میں انویلپ چاک کیا تھا اور اگلے پل وہ ششدر سا کھڑا اس میں موجود کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔ جس خوف سے وہ اپنی بیوی سے ملنے بے تحاشہ طلب کے باوجود بھی نہیں جا رہا تھا، راتوں کو سو نہیں پارہا تھا۔ وہ خوف مجسم اس کے ہاتھوں میں موجود تھا۔ اسے اتنی تکلیف میں دیکھ کر الحان اس سے پیپرز لے کر پڑھ نے لگا تھا اور اگلے پل اسے بھی ویسا ہی جھٹکا لگا تھا۔

طلاق کے کاغذات۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *