Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 04,05)

Hayat by Ain Noon Alif

سر! اس آدمی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا کیونکہ وہ برقعہ میں آئی تھی۔ اور اس کام کے اس کو پچاس ہزار روپے دیئے تھے۔ اس کا بچہ بیمار تھا علاج کے لیے پیسے نہیں تھے، اس لیے وہ مجبور ہو گیا تھا یہ کام کرنے کے لیے۔ وہ سچ بول رہا تھا سر، ہم اس کی تواضع کر چکے ہیں۔ مگر آپ کے گھر وہ تصویریں اسی عورت نے پوسٹ کی ہیں۔ وہ اس کام سے نابلد ہے۔

سر کہیں آپکی کزن “مانیہ” تو نہیں؟

اس وقت تو اندازہ نہیں ہے مگر کسی پر یقین کرنا مشکل ہے۔ مانیہ کو اس کی پہلی غلطی پر جو ڈوز مل چکی ہے شاید ہی وہ یہ غلطی پھر سےکر کے خود کو مصیبت میں ڈالے۔پر سوچ نگاہیں سامے دیوار پر جمی تھی مگر ذہن کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔

سنو عتیق!۔

جی سر۔ وہ فوراً مودب ہوا تھا۔

اور اس کی بات سننے لگا تھا۔

اوکے سر میں کر دوں گا۔

راکینگ چیئر پر بیٹھا آگے پیچھے ہوتا وہ حقیقتاً گہری سوچ میں تھا۔ پھر دراز میں سے ایک لفافہ نکالا تھا اور اس میں سے نکل نے والی تصویروں کو دیکھ کر وہ آنکھیں میچ گیا تھا، ضبط کی طنابیں کمزور ہوئی تھیں۔ زخم پھر سے ہرے ہوئے تھے۔ تم میری اولاد نہیں ہو سکتے، حرام کی ناجائز اولاد ہو تم، جیسے تمھاری ماں بدچلن تھی ویسی ہی بدچلن ناجائز اولاد پیدا کر کے میرے سر پر مسلط کر گئی۔ مامو اس نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی، حرامی ہو تم، حرام میں ہی ملوث ہو، تمھارا کام حرام، کھانا حرام ہے، تمھارا سب کچھ حرام ہے، چھوڑو مجھے، میں نے کچھ نہیں کیا، ماںں،کیسی بازگشت تھی یہ جو مضبوط قوت ارادی کے نوفل احمد خان کو بھی بکھیر گئی تھی اور اگلے ہی پل اس کی ذات کی طرح وہ کمرہ بھی بکھر چکا تھا۔ ساری تصویریں وک پھاڑ چکا تھا مگر پھر بھی خود کو اذیت سے نہیں نکال پایا تھا۔

مسلسل ہوتی بازگشت سے وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کے چلایا تھا گویا کچھ بھی سننا نہ چاہتا ہو۔ اور پھر اسی دراز سے ایک شیشی نکالی تھی اس میں سے دو تین گولیاں لی تھیں اور ایسے ہی نگل گیا تھا۔ پانچ دس منٹ بعد وہ جہاں تھا وہیں ڈھیر ہو گیا تھا۔ یہ وہ دورہ تھا جس سے کوئی اسے چھٹکارا دینا نہیں چاہتا تھا۔ اور رات سے دو بار وہ اس اذیت سے گزر چکا تھا۔ اور پتہ نہیں وہ کب تک اس اذیت سے اس کو گزرتے رہنا تھا۔

***********

بھوک سے وہ بالکل نڈھال ہو چکی تھی اب تو کھجور کھانے کا بھی دل نہیں کر رہا تھا۔ رات سے صبح، صبح سے شام اور اب نو بج رہے تھے، مگر اس کے شوہر کا کوئی اتا پتا نہیں تھا، دو بار پورے گھر کا جائزہ لے چکی تھی، گھروالوں سے دو گھنٹے فون پر بات کر کے اپنی طرف سے مطمئن کر چکی تھی، جو اسے خود کو بھی پرسکون کر گئی تھی، کتنی ہی دیر وہ اپنے گھروالوں کی محبت میں سرشار رہی تھی، پھر منال کی فکر نے بےکل کیا تھا۔ کتنی ہی دیر وہ نماز میں اس کے لئے دعا کرتی رہی تھی، مگر اب بمشکل عشا کی نو رکعت ہی پڑھ پائی تھی۔ چھتیس گھنٹوں میں وہ صرف آٹھ دس کھجوریں ہی کھا پائی تھی۔ جو اس کی بھوک مٹانے میں ناکافی تھیں۔ اور پھر بھوک کی شدت نے اسے بالکل ہی نڈھال کر دیا تھا۔

************

دھڑ دھڑ کی آواز پر اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا تھا، کمرے میں نیم روشنی صبح ہونے پتا دے رہی تھی، اس نے فون میں وقت دیکھنے کی کوشش کی اور دیکھتے ہی وہ سپرنگ کی طرح کھڑا ہوا تھا۔ پچیس مسڈکال، جو رات کے نو بجے سے اب کے نو بجے تک کی تھیں۔اف۔ میں بارہ گھنٹے سویا ہوں۔ رات کی بیچینی کا اب شائبہ تک نہیں تھا۔یا پھر وہ یاد کرنا نہیں چاہتا تھا۔دروازہ ایک بار پھر بجا تھا۔

بکھرے کمرے پر ایک طائیرانہ نظر ڈالتا وہ دروازے کی سمت بڑھا تھا۔

سر! بھابھی جی دروازہ نہیں کھول رہی ہیں اپنے روم میں بند ہیں۔ میں نے بہت کوشش کی پھر آپ کو بھی بہت کال کی مگر آپ نے۔۔۔۔

تو تم رات کو ہی کیوں نہیں آئے جب کہ تم جانتے تھے میں یہیں ملونگا؟۔۔۔ کسی انہونی کے خیال سے وہ بھڑکا تھا۔

میں رات سے یہیں ہوں سر۔ عتیق کے کہنے پر اسے خود کی غفلت اور حرکت پر بے انتہا غصہ آیا تھا۔

شرٹ کے بٹن بند کرتا ساتھ ہی اسے کمرہ صاف کرنے کی ہدایت دیتا وہ باہر نکلا تھا۔

سر گاڑی کی چابی۔۔۔

نہیں یہ تم رکھو۔ میں بائیک سے جا رہا ہوں۔

کہیں بھوک کی وجہ سے۔۔۔۔۔ آگے کی سوچ کو پس پشت ڈالتا وہ جتنی رفتار سے بائیک چلا سکتا تھا چلائی تھی۔

آدھے گھنٹے کا راستہ محض پندرہ منٹ میں طے کرتا وہ بھاگتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔ اس کے روم کا دروازہ ابھی بھی بند تھا۔

بیوی! دروازہ کھولو۔ زور-زور سے بجانے پر بھی جب کوئی ریسپانس نہیں ملا تو ڈپلیکیٹ چابی سے دروازہ کھولا تھا۔ اور جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا۔ اس کی بیوی بیڈ پر ہوش و خرد سے بیگانہ پڑی تھی جس کا دورانیہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا۔ بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ کر اس کی سانسوں کی رفتار چیک کی تھی جو کافی مدھم تھیں۔

بیوی آنکھیں کھولو۔ اس کو سیدھا کر کے اس کا گال تھپتھپا کر اسے جگانے کی کوشش کی تھی۔ مگر اس وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی۔ اس کے سر پر نماز کی طرح لپٹے دوپٹے کو اس نے جھجھکتے ہوئے نکالا تھا۔ وہ اسے اس طرح ہاتھ لگا رہا تھا جیسے وہ کوئی موذی مرض میں مبتلا ہو اور چھونے پر اسے اس بیماری کے ہونے کا خطرہ ہو۔

پرسوں رات کے نو بجے سے وہ آج صبح کے نو بجے تک اس وجود سے مکمل طور غافل رہا تھا۔ اور یہ غفلت اسے مہنگی پڑ رہی تھی۔

تمام کوشش کے باوجود بھی جب اس میں کوئی حرکت نہ ہوئی تو پھر مجبوراً اسے ڈاکٹر کو کال کرنی پڑی تھی۔ جو پانچ منٹ بعد ہی اس کمرے میں موجود تھی۔

خالی معدہ کی وجہ سے بےہوش ہوئی ہے، پانی کی مقدار بھی کم ہے اور ہاں یہ فزکلی کافی ویک ہے۔ تم نے غلط کیا نوفل اس سے غفلت برت کر۔ مانا کہ بہت بڑے فلم اسٹار ہو وقت کی کمی ہے تمھارے پاس، مگر یہ لڑکی بیوی ہے تمھاری، اس کے لئے تمھیں اپنے کام کو بھی اگنور کرنا پڑ سکتا ہے۔ دیکھو کیسی معصوم اور پیاری ہے کتنی کم عمر ہے۔ ڈاکر عائشہ نے لتاڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا اور ٹھٹھکی تھیں کیونکہ وہ ان کی موجودگی کی پرواہ کیے بغیر اپنی بیوی کو یکٹک تک رہا تھا بنا پلک جھپکائے۔ مگر ان نگاہوں میں کیا تھا وہ جان نہیں پائی تھیں۔ ہم دو مہینوں کے لیے لندن کیا گئے تم شادی بھی کر چکے۔ کل ہی تو عتیق نے ان کی واپسی کی اطلاع دی تھی اسے جبھی ایمرجنسی میں اس نے انہیں کو کال کی تھی۔وہ چالیس پینتالیس سال کی ایک اچھی عورت تھیں جو اسی بلڈنگ کے ساتویں فلور پر رہتی تھیں۔اور وہ کچھ سال پہلے کافی عرصے تک ان کے شوہر کے زیر علاج رہا تھا اس لیے اس سے ان کی خاص پہچان تھی۔ اتفاق سے آج ہاسپٹل نہیں گئی تھیں اسلیے اس کے کال کرنے پر فوراً آئی تھیں۔

یہ ہوش میں کیوں نہیں آ رہی ہے ڈاکٹر عائشہ؟ اس پر سے نظر ہٹائے بغیر ہی پوچھا تھا۔

اس کے لہجہ میں اپنی بیوی کی فکر محسوس کر کے ڈاکٹر عائشہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔

آجائےگی۔ سات آٹھ گھنٹوں کی بےہوشی ہے۔ نروس سسٹم سست ہو گئے ہیں۔ انجکشن دیا ہے دس پندرہ منٹ میں ہوش آجائےگا۔ تم جب تک کھانےکا انتظام کرو۔ اور اب جب بیوی لے آئے ہو تو کچن کو بھی آباد کرو۔ خود تو باہر سے کھا لیتے ہو، بیوی کو ایسے ہی بھوکا ماروگے؟۔ وجود دیکھو اس کا پندرہ سولہ سال کی بچی جتنا ہے۔ ذمہ داری لی ہے تو کوتاہی مت کرو۔ ویسے بہت اچھا لگا کوئی تو آیا تمھاری زندگی میں جس کی پرواہ تمھارے چہرے سے ظاہر ہو رہی ہے۔

کیا بہت پیار کرتے ہو اس سے؟ وہ شاید کچھ زیادہ یی قریبی تھیں اس کی جو بڑی آسانی سے پرسنل گفتگو کر رہی تھیں وہ بھی نوفل احمد خان سے۔

ان کے سوال پر اس نے اپنی نظروں کا ارتکاز توڑا تھا۔ اور ان کے سوال کو بالکل نظر انداز کرتا ان سے انکے سفر کے متعلق پوچھنے لگا تھا اس کا بات بدلنا وہ بخوبی سمجھی تھیں۔

ٹھیک پندرہ منٹ بعد بےہوش وجود میں جنبش ہوئی تھی اور وہ ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیے بغیر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ جو دھیرے دھیرے آنکھیں کھول رہی تھی۔

اس نے اسے سہارا دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا جسے وہ نظر انداز کرتی خود بیٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ لب بھینچتا ہاتھ پیچھے کر چکا تھا۔

کمرے تیسرے وجود کی موجودگی پر وہ ٹھٹھکی تھی۔ سوالیہ نظریں اپنے شوہر کی اٹھی تھیں جنہیں اس نے نظرانداز کر کے کچھ دیر کا شاید بدلہ چکایا تھا۔ ڈاکٹر عائشہ دونوں کی آنکھ مچولی کو سمجھتی خود ہی اس سے تعارف کروانے لگی تھیں۔ وہ ان دونوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر عتیق کی کال پر باہر چلا گیا تھا۔ پانچ منٹ بعد اس کی واپسی انواع اقسام کے کھانوں کے ساتھ ہوئی تھی۔

ڈاکٹر عائشہ نے چکن گارلک سوپ اس کے سامنے رکھا تھا۔ اس کی نظریں بے اختیار نوفل کی طرف اٹھی تھیں جو بلکل اس کے قریب ڈاکٹر عائشہ کی وجہ سے بیٹھا تھا۔ ان نظروں کا سوال سمجھتے ہوئے اس نے خود کو کنٹرول کیا تھا ایک نظر ڈاکٹر کی طرف ڈالتا وہ اس کے کان کے قریب جھکا تھا۔

فلمی دنیا کی کمائی کا نہیں ہے۔ تمھارے مطابق بلکل حلال کمائی کا کھانا ہے۔ تفصیل بعد میں جان لینا کیونکہ نوفل احمد جھوٹ نہیں بولتا۔ سو بغیر کسی نخرے کے کھانا کھاؤ ورنہ میں ڈاکٹر کا لحاظ کیے بغیر یہ سارا کھانا زبردستی تمھیں اپنے ہاتھوں سے کھلاؤںگا۔ یقیناً اتنا تو جانتی ہی ہو مجھے۔ دھمکی آمیز لہجہ میں کہتا وہ اطمنان سے پیچھے ہوا تھا۔ جیسے یقین ہو کہ دھمکی کارگر ہوگی۔ اور اس کا یقین رائیگاں نہیں گیا تھا۔

تینوں نے ساتھ کھانا کھایا تھا اس نے زبردستی ڈاکٹر عائشہ کو بھی روک لیا تھا اور وہ نوفل کی وجہ سے اسے انکار نہیں کر پائی تھیں۔

ڈاکٹر عائشہ ان کو دونوں کو صحت کے متعلق لاپرواہی کے نقصان اور خیال رکھنے کی اچھی خاصی تاکید کر کے جا چکی تھیں۔ اور وہ جو ان کو دروازے تک چھوڑنے گیا تھا ان کی آخری نصیحت پر لب بھینچ گیا تھا۔ “اللہ نے ایسی معصوم اور کم عمر بیوی دی یے تو اس کی قدر کرو، وہ ڈزرو کرتی ہے کہ تم اس کی نازبرداری کرو، اس رشتہ کو سنبھال کر رکھو نوفل ، یہ واحد رشتہ ہے جو صرف تمھارا اپنا ہے،جس میں کسی کی ذرا سی بھی شراکت نہیں ہے، بہت معصوم ہے وہ اس کی باتوں سے اندازہ لگایا ہے میں نے بہت کچھ علم رکھتی ہے وہ مگر کچھ چیزوں کی واقعی اس کو سمجھ نہیں ہے،تمھیں خیال رکھنا ہوگا اس بات کا” ان کا ذومعنی مطلب وہ بہت اچھے سمجھا تھا اسلیے ان کو چھوڑ کر اس کے روم میں جانے کے بجائے اپنے روم میں آیا تھا۔ شاید اس کا سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ان کے لفظوں کی بازگشت نے کتنی ہی دیر اسے بے کل رکھا تھا۔

**********

یہ سب تمھارے لیے ہی ہے بیوی۔ وہ جو کچن میں کھڑی حیران نظروں سے کچن میں پھیلے سامان کو دیکھ رہی تھی۔ آواز پر بری طرح چونکی تھی اور پلٹ کر اس کی طرف دیکھا تھا جو اب کچن کے دروازے سے ٹیک لگائے ہاتھ سینے پر باندھے اسی پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔

اب نوفل احمد خان کو یہ گوارا بلکل نہیں تھا کہ اس کی بیوی گھر میں تو اسی کے رہے مگر خرچ اپنا کرے۔۔۔۔ اونہہ

جس سامان کو تم ایسی مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہی ہو یہ بالکل ایسی کمائی کا ہے جسے تمھارے علم کے مطابق حلال کہتے ہیں۔

کسی سے قرض لیا ہے کیا آپ نے؟ جیسا اس کا کام تھا اسکے پاس حلال کی ایک پائی کا ہونا بھی مشکل تھا، پھریہ؟۔اس نے اپنے شک کو زبان دی تھی۔

سستے کام کرنے والی پرسنیلٹی نہیں ہے بیوی تمھارے شوہر کی۔ چلو تمھیں بتا دوں کہ یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں؟۔ کیونکہ اس کے بعد میں تمھارا یہ لیکچر نہیں سننا چاہتا۔ فلموں میں آنے سے پہلے میں نے ایک گارمینٹس کی کمپنی میں جاب کی تھی۔ اس وقت وہ کمپنی کرائسس میں تھی۔ ورکرز کو چھ سات مہینے تک سیلیری نہیں دی گئی تھی۔غالباً اب سے چار سال پہلے۔ جب میں اس انڈسٹری میں آیا تو میں وہاں سے بنا سیلیری لیے ہی آ گیا تھا۔ اب وہ کمپنی اپنی اصل حالت میں ہے تو میں نے وہ رقم لے لی۔ جو کہ تین لاکھ پر مشتمل ہے۔ اب چونکہ مجھے حلال کا فوبیہ نہیں ہے تو رقم میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ پچاس ہزار کا تمھارا کچن کم خرچ اس لیے کیا تاکہ اس رقم میں تم زیادہ وقت گزار سکو۔ اور یہ ڈھائی لاکھ رکھو اپنے پاس۔ جتنی تمھاری خوراک ہے جو تمھاری بنیادی ضرورتیں ہیں تین چار مہینے آرام سے گزر جائیں گے۔ اور اسی رقم سے اس گھر کے پانی کی قیمت دے کر اسے بھی حلال کر لینا۔ اپنی جیب سے نوٹوں کی گڈی نکال کر اس کے ہاتھ پہ رکھتا وہ ایک نظر بت بنی اپنی بیوی پر ڈالتا پلٹ کر جا چکا تھا۔

کتنی ہی دیر وہ ساکت کھڑی رہی تھی۔

یا اللہ! کیا تھا یہ۔ ان کا اصل روپ کون سا ہے اللہ۔ واقعی جتنے رول یہ فلموں میں کرتے ہیں اتنے ہی چہرے حقیقت میں ہیں۔ اف اللہ۔

وہ ابھی بھی حیران پریشان سی کبھی اپنے ہاتھ میں موجود رقم کو دیکھتی کبھی کچن میں پھیلے سامان کو۔ کانچ کا ڈنر سیٹ، ٹی سیٹ، گیس سلنڈر کے ساتھ، مکسر، جوسر، اور دیگر کھانے پکانے کا سامان راشن کے ساتھ۔ اس نے ایک بار پھر اپنے ہاتھ میں دیکھا تھا پھر کچن پر نظر ڈالی تھی اور اگلے پر اس انسانوں سے خالی گھر میں اس کا قہقہہ گونجا تھا۔ اسے خود اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتنا ہنس رہی ہے۔ بار، بار دیکھنے کا عمل دہراتی وہ اب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو کر ہال میں پڑے صوفہ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی تھی۔ اور اپنےگھر فون لگا کر اپنی جان یعنی دادی کو آج کی روداد نان اسٹاپ بیان کرنے لگی تھی۔ بار بار ہنسی کے فوارے سے پتا چل رہا تھا کہ ادھر بھی اس خبر سے موسم خوشگوار ہوا تھا۔ وہ یہ بھی بھول چکی تھی کہ اس کی شادی کس طرح ہوئی ہے۔ آج وہ کتنی وقت کے بعد اس طرح کھل کر ہنس رہی تھی۔ اسے اپنے شوہر سے اس عنایت کی ہرگز بھی تو امید نہیں تھی۔ وہ یقین ہی نہیں کر پا رہی تھی آیا جو ہوا وہ حقیقت ہے یا کوئی خواب۔

Episode 05

کیسا سکون ملتا ہے نا اماں حیات سے باتیں کر کے۔ کیسے کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔ اللہ ہمیشہ ایسےہی ہنستا رکھے اسے۔ انہیں تو چار دن سے تہجد میں دونوں بیٹیوں کے لیے روتے دیکھ رہی ہوں۔ آج حیات سے باتیں کر کے کیسے سکون میں آئے ہیں۔ بس اللہ اب منال کا بھی پتہ دیدے۔ وہ افسردہ ہوئی تھیں۔

اس بات پہ غم نہ کر بہو اللہ نے آج حیات سے بات کروا کے جو سکون دیا ہے وہی منال کا بھی دےگا۔

واقعی اماں سوچا نہیں تھا کہ اپنی زندگی میں ہی یہ حقیقت دیکھ لوں گی کہ جو حرام سے بچتا ہے بعد میں اللہ اسے خود بچاتا ہے۔ بس اس کی ذات پہ یقین ضروری ہے۔

ہاں آج چار دن ہو گئے اسے دیکھے ہوئے مگر اس کی باتوں سے لگتا ہے ابھی بھی یہیں کہیں موجود ہے۔ اس کی آواز سن کے بس دل اس سے ملنے کو بے قابو ہو رہا ہے۔

مگر اماں ایک بات پہ بڑا دل کڑھتا ہے۔ نوفل جس دنیا کا ہے وہاں عیاشیاں عام ہیں۔ ایک عیاش کی زندگی میں میری پاک باز بیٹی۔

ایسے نہیں کہتے بہو۔ اللہ کے فیصلوں میں صبر کرنا چاہئے۔ اور اس بات کا یقین رکھو کہ اللہ اپنے بندے بندیوں پر ان کی استطاعت سے زیادہ بار نہیں ڈالتا۔ پاک مردوں کے لیے پاک عورتیں ہیں تو پاک عورتوں کے لیے بھی پاک مرد ہی لکھے ہیں۔ عورتوں کے ساتھ ناانصافی معاشرہ کرتا ہے میرا رب نہیں۔ اور اسے اپنے رب کا فیصلہ سمجھ کے قبول کرو اگر وہ عیاش ہے تو پھر ہم وہ نہیں جانتے جو اللہ جانتا ہے۔

اماں! دونوں ساس بہو بیٹھی باتیں کر رہی تھیں جب رابعہ بیگم گرتی پڑتی آئی تھیں۔

اماں بھابھی۔ بیک وقت دونوں کو پکارا تھا۔ ان کی آواز پر فرحان صاحب جو اسکول سے آ کر آرام کر رہے تھے فورا کسی انہونی کے خیال سے باہر آئے تھے۔ جہاں رابعہ بیگم کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر رونے کی وجہ سے بات پوری نہیں کر پا رہی تھیں۔

رابعہ میری بچی کیا ہوا۔ اس عمر میں وہ اور غم کی متمحل نہیں ہو سکتی تھیں۔

اماں منال! وہ ہاسپٹل سے فون آیا ہے کسی ایس پی کا میری منال اماں۔ ان کی ادھوری بات سن کے وہاں موجود لوگوں کے دل ٹھنڈے ہوئے تھے۔

کون سے ہاسپٹل سے فون آیا تھا رابعہ آپا۔ جلدی بتائیں۔ فرحان صاحب کو لگا تھا کہ ان کی تلاش میں کی گئی کوششیں اللہ نے رائیگاں نہیں جانے دیں۔ وہ سمجھ بوجھ والے انسان تھے جزبات میں بھی وہ کسی منفی پہلو کو آنے نہیں دیتے تھے۔ اور حیات سے بات کرنے بعد وہ بس ایک اسی مسئلہ میں الجھے ہوئے تھے۔

سٹی ہاسپٹل!۔۔ ان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی انہوں نے اپنے بھانجے آزر کو کال کی تھی اور ہاسپٹل کے لئے روانہ ہو گئے تھے۔ ادھر تینوں عورتیں اللہ کے حضور شکر کی ادائیگی میں لگ گئی تھیں۔ ایسا ہی تھا یہ گھرانہ، کسی بھی دکھ تکلیف میں آتےتو فورا اپنے رب سے رجوع کرتے اور بیشک اللہ ایسے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ شفاف دل اور دماغ کے لوگ تھے غلط خیال کو زیادہ دل میں جگہ نہیں دیتے تھے۔ اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔

***********

سنیے! ہال میں صوفے پر بیٹھا وہ کوئی اسکرپٹ پڑھ رہا تھا جب حیات کی آواز پر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

مجھے گھر جانا ہے۔ انداز میں حد درجہ معصومیت تھی۔ جیسے کوئی بچہ اپنے بڑے سے اجازت لیتا ہے۔ جتنی وہ ظاہری طور سے اسے بچی معلوم ہوتی تھی اسکے انداز بھی ویسے ہی لگتے تھے ۔

تم اپنے گھر میں ہی ہو بیوی۔ شوہر کا گھر ہی تو بیوی کا گھر ہوتا ہے۔ لاپرواہی سے کہتا وہ پیپرز کو پڑھنے لگا تھا۔

مجھے پانچ دن ہو گئے ہیں یہاں۔ کبھی اتنے دن الگ نہیں ہوئی میں گھر سے۔ سب کی یاد آ رہی ہے۔ مجھے گھر جانا ہے۔ اب کے اس کی آواز بھرا گئی تھی۔ جب سے منال کی واپسی اور اسکے ایکسیڈنٹ کا سنا تھا، اسے سکون نہیں مل رہا تھا، بیشک وہ فون پر بات کر چکی تھی مگر اسے کوئی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ اسے کسی بھی طرح گھر جانا تھا، وہ راستوں سے انجان تھی ورنہ اسکو بتائے بغیر چلی جاتی۔

اس کی بھرائی آواز پر وہ ٹھٹھکا تھا۔

تم اپنے گھروالوں کو بلا لو یہاں۔ اگلے ہفتے ہمارا ریسیپشن ہے اسکے بعد تم کبھی بھی جا سکتی ہو۔ مگر اس سے پہلے میں کوئی رسک نہیں لے سکتا۔

میں نے ہمیشہ کے لئے جانے کی بات نہیں کی۔ مل کے آجاؤںگی پکا۔ اسکو یقین دلایا تھا۔ مگر شاید وہ یقین کرنے پر راضی نہیں تھا۔

رات بہت ہو گئی ہے بیوی۔ جاؤ سو جاؤ۔ اب کے لہجہ میں کوئی لچک نہیں تھی۔

آپ سمجھنے کی کوشش کریں، مجھے بہت یاد آ رہی ہے سب کی، اور اب کے وہ اپنا رونا روک نہیں پائی تھی۔ اسے روتے دیکھ کر اسنے لبوں کے ساتھ اپنی مٹھیاں بھی بھینچی تھیں۔ صوفہ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا، ہاتھ پکڑ کر رخ اپنی طرف کیا تھا۔ رونے سے چہرا بلکل سرخ ہو گیا تھا، آنکھیں بھی سوجی معلوم ہو رہی تھیں جیسے وہ پہلے سے روتی رہی ہو۔

بیوی! کیا تمھارے گھر پر کوئی پرابلم ہے؟ تفتیشی انداز نے اسے چوکنا کیا تھا۔اگر انہیں آپی کا پتا چل گیا تو۔ اس کے نفی میں سر ہلانے پر وہ پرسکون ہوا تھا۔

تو پھر اتنا شدید ریئیکشن کیوں؟

مجھے سب کی یاد آ رہی ہے۔ آنکھیں مسلتی روئی روئی آواز میں بچوں کی طرح بولتی وہ اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔

اس نے اسے کندھوں سے پکڑ کر صوفہ ہر بٹھاکر پانی پلایا تھا۔ وہ منال کے غم میں نہ ہوتی تو محسوس کر لیتی کہ وہ اس کے کتنے قریب بیٹھا ہے۔ اور اب اس کے ہاتھ اسکے ہاتھوں میں ہیں جنھیں وہ دھیرے دھیرے سہلا رہا ہے جیسے اسے تسلی دے رہا ہو۔ اور کرنے والا اپنے اس فعل کو کوئی نام نہیں دے رہا تھا۔ یا شاید ہر جذبہ سے انجان رہنا اسکی عادت بن گئی تھی۔

بیوی! بات سنو میری، اگر تم آج گئی تو آج جانا تمھارا لاسٹ ہوگا، اس کے بعد میں تمھیں کبھی بھی نہیں جانے دونگا۔ لیکن اگر تم ایک ہفتے بعد جاؤگی تو جب چاہے اپنے گھر جانا وہاں رہنا میں کچھ نہیں کہوںگا۔ چاہے تو ریسیپشن کے بعد تم کچھ دن رہنے چلی جانا۔ اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے۔ بولو کیا فیصلہ ہے؟۔۔۔ ہاتھوں میں بڑھتی گرمی نے احساس دلایا تھا کہ وہ اس بالکل قریب ہے۔ اسنے اسکے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالے تھے اور دور ہو کر بیٹھی تھی۔ وہ اسکا گریز محسوس کر کے سامنے والے صوفہ پر بیٹھ گیا تھا، نظریں ہنوز اسی پر تھیں۔

اگر پھر آپنے نہیں بھیجا نا تو میں آپ کو بتائے بغیر چلی جاؤںگی اور دوبارہ کبھی بھی آپ کے گھر میں نہیں آؤںگی، اور جب تک میرا دل کرےگا رہوںگی۔ اور آپ زبردستی نہیں کریں گے۔ اسکی دوسری شرط میں ہی اسے فائدہ لگا تھا، اس کا کچھ بھروسہ نہیں تھا کہ واقعی ترسا دے اسے۔ بچوں کے سے انداز میں شرط رکھتی وہ اسے ڈسٹرب کر رہی تھی۔

گڈ گرل۔ اب جاؤ سوجاؤ۔ اس کے کہنے پر وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔

اور وہ کافی دیر تک بےخیالی میں اسکے روم کی طرف دیکھتا رہا تھا،جیسے وہ رویا رویا وجود ابھی بھی وہیں موجود ہو، اسکا سرخ چہرہ، سوجی آنکھی کتنی ہی دیر تک اسے ڈسٹرب کرتی رہی تھیں۔ تھک ہار کر وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔

***********

سر مانیہ چودھری ممبئی آ گئی ہے۔ اور میں نے انہیں سیٹ پر دو تین بار آتے دیکھا ہے، نتاشا میڈم سے وہ کافی گھل مل کے بات کر رہی تھیں۔

ان دونوں پر نظر رکھو اور ریسیپشن سے پہلے انہیں میری شادی کی خبر نہیں ہونی چاہئے۔

عتیق اگر مانیہ واپس آ گئی ہے تو یاور بھی اس کے ساتھ آیا ہوگا۔

تم مسٹر زبیری سے کہہ دینا اگر پارٹی میں ان دونوں نمونوں کو انوائٹ کیا تو نوفل احمد خان کو بھول جائیں۔

فون آف کر کے اس نے حیات کے روم کے بند دروازے کی طرف دیکھا تھا۔ پھر اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔

*********

آج وہ خلاف معمول گھر جلدی آ گیا تھا۔ روازانہ جس وقت وہ آتا تھا حیات اپنے روم میں چلی جاتی تھی۔ صبح میں بھی وہ اس کے جانے کے بعد روم سے باہر آتی تھی۔ دونوں ندی کے دو کناروں کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔۔۔ دونوں ہی کو ایک دوسرے کا احساس نہیں تھا۔ ایک دو بار اس نے اپنے گھر جانے کی بات کی تھی جسے اس نے ایک ہفتہ تک ملتوی کر دیا تھا۔ دونوں میں بات نہ ہونے کے برابر تھی۔ ایک اپنے کام میں مشغول دوسرا اپنے آپ میں مگن۔

وہ معمول کی طرح دروازے سے ہی اپنا کوٹ نکال کر ہاتھ میں لیتا اسی ہاتھ سے شرٹ کے بٹن کھولتا آ رہا تھا جب حیات میڈم کے چلانے پر رکا تھا۔ اور اس کی طرف رخ کیا تھا، جہاں وہ صوفے پر آلتی پالتی مارکر بیٹھی تھی۔ ٹیبل کو قریب کر کے اس پر رومال کو دسترخوان کی شکل دے کر بچھایا ہوا تھا اور اسی پر کھانا رکھا تھا جو ڈھکا ہوا تھا۔ مطلب میڈم کا ابھی ڈنر نہیں ہوا تھا۔

اللہ اللہ! کیا زمانہ آ گیا ہے شرم و حیا تو رہی ہی نہیں۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھے اس نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولتے دیکھ کر طنز کیا تھا۔

اس میں کون سی بےشرمی ہے بیوی؟ وہ اس کا مطلب ابھی بھی نہیں سمجھا تھا۔

یہ بےشرمی نہیں تو کیا ہے کہ آپ میرے سامنے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے آ رہے ہیں۔ جس طرح عورتوں کو پردہ کی تاکید کی گئی ہے ویسے ہی مردوں کو بھی کی گئی ہے۔ مگر کوئی سمجھے تب نا۔

اس کے جھنجھلا کر کہنے پر بےاختیار اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔

مجھے تو پتا ہی نہیں تھا بیوی۔ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا ورنہ میں تمھارے سامنے برقعہ پہن کے آتا۔ اس کے مذاق اڑانے والے انداز پر اس نے منہ بنایا تھا۔

میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ مردوں کو احتیاط کرنی چاہیئے کسی کے بھی سامنے اس طرح کا چھچھورا پن کرتے ہوئے۔ مطلب شرٹ ریموو کرتے ہوئے۔ اس کے سر جھکا کر وضاحت کرنے پر اس نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی تھی۔ کیا یہ اندر سے بھی واقعی اتنی ہی معصوم ہے، اپنے ظاہر کی طرح۔اسکی گہری جانچتی نظروں کا مفہوم اسے سمجھ نہیں آیا تھا۔

بیوی کسی کے سامنے نہیں تمھارے سامنے تو یہ چھچھورا پن کیا جا سکتا ہے نا؟ انداز میں کوئی معنی خیزی نہیں تھی پھر بھی وہ بری طرح پزل ہوئی تھی۔

“استغفر الله” کیسی باتیں کرتے ہیں آپ۔

بیٹھو بیوی نہیں ریموو کر رہا شرٹ۔ اپنا ڈنر کمپلیٹ کرو۔ اسے بغیر کھائے اٹھتے دیکھ کر وہ بےاختیار اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس اس کی جگہ بٹھا چکا تھا۔ اور خود اپنے روم کی طرف بڑھا تھا۔

سنیے! اس کے آواز دینے پر پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

و-وہ کیا آپ نے کھانا کھا لیا؟ جھجھکتے ہوئے سوال پوچھا تھا مبادہ وہ کچھ اور نہ سمجھ لے۔

کیوں؟۔۔۔ کہیں تمھارا ارادہ میرے ساتھ ڈیٹ پر جانے کا تو نہیں؟ عادت کے خلاف وہ اس سے الگ ہی ترنگ میں بات کرتا تھا وجہ خود بھی جاننے سے قاصر تھا۔ اول تو بات ہوتی ہی کم تھی مگر جو بھی ہوتی تھی وہ اسے اچھا خاصا زچ کر دیتا تھا۔

کونسی ڈیٹ پر؟ اس نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔

اسی ڈیٹ پر جس پر جایا جاتا ہے۔ اس نے وضاحت کی تھی۔

مگر کس کی ڈیٹ پر۔ اور ڈیٹ پر کون جاتا ہے؟؟ اس کے نا سمجھی سے کہنے پر اس نے اپنی ہنسی ضبط کرتے پوچھا تھا۔

تمھیں ڈیٹ کا مطلب نہیں پتا؟ وہ جو اس کے سوال میں الجھی اسی کو دیکھ رہی تھی چونک کر اس کے دوسرے سوال پہ غور کیا تھا۔

پتا ہے مجھے۔ تاریخ کو کہتے ہیں ڈیٹ۔ بی ایس سی کیا ہے میں نے وہ بھی انگلش میں۔ پتا نہیں خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ بچوں کو بھی ڈیٹ کا مطلب پتا ہے اور یہ مجھے بچوں سے بھی گیا گزرا سمجھتے ہیں. اونہہ۔۔ اس کے جواب اور بلند آواز میں کی گئی بڑبڑاہٹ اسے ایک پھر قہقہہ لگانے پر مجبور کر گئی تھی۔

اے اللہ! ان کا دماغ تو نہیں پھر گیا۔ بنا بات کے جناتوں سے شرط لگا کے ہنس رہے ہیں۔

تمھیں سچ میں ڈیٹ کا مطلب نہیں پتا؟ وہ یقین نہیں کر پا رہا تھا اتنے ایڈوانس دور میں کسی کو ڈیٹ کو مطلب نہیں پتا ہوگا۔

میں نے آپ سے پوچھا تھا آپ نے کھانا کھایا کیا۔۔۔ آپ بات کو تاریخ پر لے گئے۔ کھانے کا کیا لنک ڈیٹ سے۔۔ اوپر میرا مذاق اڑاکر جناتی قہقہہ لگا رہے ہیں۔۔۔۔ نہیں کرنی مجھے آپ سے بات۔ اونہہ۔ منہ ٹیڑھا کرتی وہ اس کی طرف سے منہ پھیر گئی تھی۔ اس کے انداز پر بمشکل اس نے اپنی ہنسی روکی تھی۔

اوکے بولو! نہیں اڑا رہا تمھارا مذاق۔

آپ نے کھانا کھایا کہ نہیں؟

نہیں کھایا۔ فریش ہو کر جاؤںگا؟

تو آپ آج گھر پہ ہی کھا لیں کھانا؟

کیوں؟۔۔۔۔ آج پہلی بار اس اسے کھانے کی آفر کی تھی۔ حیرانی لازمی تھی۔

وہ۔ آج مجھ سے کھانا زیادہ بن گیا۔ مجھ سے باسی کھانا کھایا نہیں جاتا۔ اور رزق کی بےحرمتی اللہ کو پسند نہیں۔ تو اگر کھا لیں تو۔ اس نے امید بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا جو بڑے غور سے اسے ایسے سن رہا تھا جیسےوہ اس سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی بات کر رہی ہو۔

ہممم۔۔۔ مسئلہ تو واقعی ہے۔ چلو حل کر دیتے ہیں بیوی تھمارا یہ مسئلہ۔ ویٹ کرو۔اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا۔

ویسے بیوی! مانو یا نہ مانو ڈیٹ تو کر لی تم نے میرے ساتھ۔ اس نے ڈش کا ڈھکن اٹھاتے ہوئے پھر سے کہا تھا۔

میں نے کون سی ڈیٹ کر لی۔ اور کیا ہے یہ ڈیٹ بتائیں۔ اب کے وہ بری طرح زچ ہوئی تھی۔

یہ تم نے بنایا ہے؟ اس نے روکھا کباب کھاتے ہوئے پوچھا تھا۔

جی! میں نے بنایا ہے۔ مگر آپ یہ روکھا نہیں کھا سکتے۔

کیوں؟ لہجہ میں حیرت تھی۔

کیونکہ یہ پانچ کباب ہیں اور پانچ چپاتی۔ ہر چپاتی سے ایک کباب کھائیں۔ نہیں تو چپاتی بچ جائیں گی۔ اور پھر کون کھائےگا باسی۔

واٹ! وہ سچ مچ اسکی نرالی منطق پر حیران ہوا تھا۔

اچھا چلو ایسے ہی کھا لیتے ہیں۔ کندھے اچکاتا وہ ویسے ہی کھانے لگا تھا۔

برسوں بعد وہ اس طرح کھا رہا تھا۔ اور شاید اس کی بیوی ہی وہ پہلی ہستی تھی جس کے ساتھ وہ جی رہا تھا۔ مگر خود بھی بے خبر تھا۔

ایک بات ہوچھنی ہے۔ کھانے کے بعد ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا وہ اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

ہمم۔ پوچھو۔ انداز سرسری تھا۔

وہ۔ آپ ڈیٹ کے بارے میں کیوں پوچھ رہے تھے۔ کوئی مسئلہ ہے کیا؟ آئی مین کورٹ وغیرہ میں دی جاتی ہیں نا ڈیٹ۔ اور پھر اسے اس کے پہلے دن کی سرگوشی یاد آئی تھی۔ “سیریل کلر ہوں میں”

یا اللہ! آپ نے کوئی مرڈر تو نہیں کر دیا۔ اب جے وہ چیخ کر بولی تھی۔ نہ صرف بولی تھی بلکہ ڈر کے اس سے دس قدم کے فاصلے پر ہوئی تھی۔

اس طرح بولتی وہ صحیح معنوں میں اس کی نظر میں خود کو بچی ثابت کر گئی تھی۔ بات جتنی بچکانہ تھی انداز اس سے کہیں زیادہ بچکانہ تھا۔

اور نوفل احمد خان کو لگا تھا اس کی بیوی اسے اس کے معیار زندگی سے ہٹا رہی ہے۔ آج جتنا وہ اس کی وجہ سے ہنسا تھا اپنی ستائیس سالہ زندگی میں کبھی نہیں ہنسا تھا۔ اسکی فلمیں بھی ایکشن ہیرو کے رول جی ہی تھیں۔ اسکی بیوی کی باتیں اتنی بھی مذاقی نہیں تھیں مگر اس کے کہنے کا انداز، بار بار ناراضگی سے منہ بنانا، سیریس بات کو بھی ناسیریس بناتا تھا۔ اور وہ خواہ مخواہ اس کے بہت سی باتوں کے لاعلم ہونے کا فائدہ اٹھا کر اسے زچ کر رہا تھا۔ اور وہ ایسا کیوں کر ہا تھا، وہ خود نہیں جانتا تھا۔

تمہیں کیسے پتا بیوی کہ میں مرڈر کر کے آیا ہوں؟۔۔۔ اس نے خوف و ہراس میں ڈوبی حیات کے قریب جاکر اس کے کان میں سوگوشی کی تھی۔ اور وہ جو یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اب تک کیسے یہ بات بھولی رہی کہ وہ ایک سیریل کلر ہے۔ اور وہ تو اسے پتا نہیں کیا کیا سنا بھی چکی تھی۔ اگر اس نے اسے مار دیا تو، کوئی بھی بچانے نہیں آئےگا، سب لوگوں کا کیا حال ہوگا، دادی، پاپا، مما، بھائی، آپی پھوپھو۔۔۔۔ اتنی زور سے چیخی تھی کہ اسے اس کے منہ پر ہاتھ رکھنا پڑا تھا۔

اف بیوی! کیا ہو گیا ہے؟ مذاق کر رہا تھا میں۔ نہ میں کوئی سیریل کلر ہوں، نہ کوئی مرڈر کر کے آیا ہوں، اور جس ڈیٹ کی میں بات کر رہا تھا وہ گھر سے باہر جا کر جو کپل اکیلے کھانا کھاتے ہیں اسے ڈیٹ کہتے ہیں۔ سمجھی مائی لٹل بیوی۔ وہ اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتا جانے کے لئے پلٹا تھا۔

تو کیا آپ نے کوئی مرڈر نہیں کیا۔ یعنی آپ واقعی سیریل کلر نہیں۔ ڈرتے ڈرتے خود کو یقین دلانے کی کوشش کی تھی۔

اس کی بات سن کے وہ پھر سے اس کے قریب آیا تھا۔

ایک بات سمجھا دی بیوی تم نے۔ کہ تم شیرنی کی کھال میں بلی۔۔۔ نہیں بلی بھی نہیں چوہیا ہو۔

ہیںں۔۔۔۔۔ ک۔کوئی نہیں۔ میں ڈرتی تھوڑی ہوں آپ سے۔

سچ میں نہیں ڈرتی۔ اس نے اس کے گلے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا تھا۔ اور اس کی توقع کے عین مطابق وہ چیختی اسے دھکا دیتی اپنے روم میں بھاگی تھی۔ اور وہ کتنی ہی دیر وہاں کھڑا ہنستا رہا تھا۔

*******

اپنے روم میں بیٹھا وہ کچھ دیر پہلے حیات کے ساتھ گزرے لمحوں کو سوچ رہا تھا۔

یہ کیا کر رہا تھا۔ بے وجہ بات بڑھائی، پھر اسے زچ کیا، بلا ارادہ، بلا وجہ، کیوں پریشان کر رہا تھا اسے، اور یہ لڑکی، سب دھوکہ فریب ہے، تم کسی کے ساتھ اپنے خاص انداز نہیں بانٹ سکتے نوفل احمد خان۔ یہ تم ڈگر پر چل رہے ہو، کیا تم بھول گئے یہ شودی تم نے کیوں کی۔ منال وجہ جانتی تھی، اسے کچھ نہیں پتا۔ جتنا بےتحاشہ وہ کچھ دیر پہلے ہنسا تھا، تنہا ہوتے ہی اتنی اذیت میں ڈوب رہا تھا۔

نو۔ نو! نوفل احمد خان، تم نے شادی زندگی گزارنے کے لئے نہیں کی۔ کسی کو باور کرانے کے لئے کی ہے۔ کسی کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے کی ہے، کسی الزام سے بچنے کے لئے کی ہے۔

کتنی دیر وہ خود کو باور کرواتا رہا تھا۔ اور شاید اس کا دل سمجھا تھا جو وہ پھر سے پہلے دن جیسا ہو گیا تھا۔ خود حیات بھی اس کے سامنے آنے میں گریز کرتی تھی۔ دونوں پھر سے اپنے خول میں سمٹ گئے تھے۔ اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کی زندگی کیا موڑ لینے والی ہے۔ دو الگ الگ سوچ اور سمتوں کے یہ لوگ کس طرح ایک سمت میں آئیںگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *