Hayat by Ain Noon Alif NovelR50624 Hayat (Episode 23,24)
Rate this Novel
Hayat (Episode 23,24)
Hayat by Ain Noon Alif
حرام زادے، کمینے تونے میرے بیٹے کو نامرد بنا ڈالا جان لے لوں گا میں تیری۔ ابرار قریشی نے اسے گریبان سے پکڑ کر اندر کی طرف دھکا دیا تھا اگر وہ اتنا مضبوط اور توانہ نا ہوتا تو اس دھکے پر زمین بوس ہو چکا ہوتا۔اس کا نام نہاد باپ اپنے ایک بیٹے کے لیے دوسرے بیٹے کی جان لینے آیا تھا۔
ابرار قریشی نے ہاتھ کا مکا بنا کر اس کے چہرے پر مارا تھا۔ اور پھر پے در پے کئی تھپڑ مارے تھے۔ اس نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اسکے باپ کی بیوی، بہن اور بہنوئی تماشائی کھڑے اسے پٹتے دیکھ رہے تھے۔ اس کے ہونٹ کے کنارے سے خون نکلنے لگا تھا اور چہرہ پر انگلیوں کے واضح نشان چھپ گئے تھے۔
جائیں آپ لوگ یہاں سے۔ کیونکہ میں سیریسلی نہ آپ لوگوں سے بات کرنا چاہتا ہوں نا آپ لوگوں کی شکلیں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ لہجہ متوازن تھا اگر وہ پہلے والا نوفل ہوتا تو اب لوگوں کو دھکے مار کر نکال دیتا جو بھی تھا۔ اسے اب اپنے رب کو ناراض نہیں کرنا تھا۔ اسے اخلاق سے ہی باتیں سنبھالنی تھیں۔ اس لیے ابرار قریشی کا ہاتھ نرمی سے پکڑ کر اسے پیچھے ہٹایا تھا۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اسے ذرا بھی درد ہوا ہو۔
سالے کتے ہمارے بچوں کو حبس بیجا میں رکھا، انہیں مارا پیٹا، ان کی عزت سے کھلواڑ کیا، انہیں جینے کے قابل نہیں چھوڑا، اور ہمیں للکار رہا ہے،سالے جان لے لوں لوں گا میں تیری، مانیہ چودھری کے باپ نے بھی حصہ ڈالا اور اسے مارنے کے لیے بڑھا مگر اس کے چہرے کی طرف اٹھتے ہاتھ کو وہ بیچ میں ہی روک گیا تھا۔
تم لوگوں کی اولاد نے جو میرے ساتھ کیا میں نے اسے بار بار اگنور کیا لیکن جو انہوں نے میری بیوی کے ساتھ کیا اگر ان کے ٹکڑے کر کے کتوں کو بھی کھلا دیتا تو بھی کم تھا۔ شکر کرو زندہ چھوڑ دیا اس کے لہجہ کی پھنکار نے ایک پل کو ان سبکو ہراساں کیا تھا۔ مگر وہ بھی اپنے نام کے کمینے تھے۔
جا جا ایسا ہی کوئی پارسا کی اولاد نہیں ہے تو، اور تیری بیوی بھی۔۔۔۔
بسسس!!!!!! خبردار جو اپنی گھٹیا زبانوں سے میری بیوی کا نام لیا، اسکی دہاڑ پر مانیہ چودھری کی ماں ڈر کر اچھلی تھی جس نے اسکی بیوی کو بھی رگیدنے کی کوشش کی۔
گیٹ آؤٹ، اس سے پہلے کہ نوفل احمد خان کے اندر کا جانور جاگ جائے اور اپنی قید کی دیواریں پھلانگ کر باہر آئے۔۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔ مانیہ کے باپ کو دروازے کی طرف دھکا دیا جو ایک بار پھر اسے مارنے کو بڑھا تھا۔ اس سے زیادہ وہ اپنے غصہ پر قابو نہیں پا سکتا تھا اور جب بات اس کی بیوی کی ہو تو۔۔۔۔۔
نہیں جائیں گے، جیسے تونے ہمارے بچوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ویسے ہی تو اور تیری بیوی کا بھی حال ہوگا۔ تجھے کیا لگا یہاں چھپ کر گھر لےگا یہاں چھپ کر رہےگا تو کسی کو تیرا پتہ نہیں ملے گا۔ یاور قریشی کی ماں نے بھی زہر اگلا تھا۔
اور تیری اس بیوی کو تو میں زندہ نہیں چھوڑوں گی جس کے لیے تونے میری بیٹی کو برباد کیا۔۔۔ اسے سائیکو بنا ڈالا۔۔۔ مانیہ کی ماں اس روم کی طرف بڑھی تھی جہاں اس نے حیات کو جاتے دیکھ لیا تھا۔ اس کے بڑھتے قدموں کو نوفل احمد خان کی ایک دہاڑ نے ہی روک دیا تھا۔
آ رہی ہے پولیس تجھے اور تیری بیوی کو گرفتار کرنے، لوگوں کو ہراس کرنے اور ان سے غلط کام کروانے کے الزام میں،بالکل پکے ثبوت جمع کیے ہیں۔ تجھے کیا لگا ہیرو بن جائے گا، نام مل جائے گا تو تیری اوقات بدل جائے گی، رہےگا تو وہی ایک طوائف کا بیٹا جو ناجانے کتنے مردوں کے ساتھ سوئی اور تو ان میں سے نہ جانے کس کا گناہ، تو تو خود گواہ اپنی ماں کے ننگے پن کا، حرام کی اولاد، اس کے باپ کی نام نہاد بیوی اس کی ماں پر اس کے ذلیل باپ کے سامنے مغلاط بک رہی تھی اور وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا۔ چاروں کے چاروں اس کی ماں اور اس کے لیے ایسے ایسے الفاظ کا استعمال کر رہے تھے جو اس کا سینا چیرتے جا رہے تھے۔پھر سے اس کی ذات پہ وہی حملہ کیا گیا تھا جو اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا تھا۔ اور شاید ان لوگوں کو اس کی یہ کمزوری پتا تھی جبھی وہیں وار کرتے تھے جہاں درد ہونے کا گمان ہوتا تھا۔
********************
وہ مصلہ پر بیٹھی باہر کی گولہ بارودی سن رہی تھی۔ ڈر سے کانپتی وہ اپنے رب سے مدد طلب کر رہی تھی، اس پر پڑنے والے تھپڑوں کی آواز اسے اندر تک آ رہی تھی۔ اس نے دروازہ لاک نہیں کیا تھا۔ نوفل احمد خان کا ایکدم اس طرح خاموش ہونا اس کی روح کو تکلیف پہنچا گیا تھا۔
یا اللہ، تجھے پتا ہے نا یہ کتنے اچھے ہیں، یہ گندے لوگ انہیں بہت تکلیف پہنچاتے ہیں ان کی ماں کو لے کر، اللہ ان کی ماں اچھی ہے میں نے خواب میں ان کو بڑی خوبصورت جگہ اور وہ جنت کے سوا کونسی ہوگی، میں نے قرآن پڑھتے دیکھا ہے اور یہ خواب میں انہیں بتانے والی تھی تاکہ انہیں خوشی ہو، مگر یہ گندے لوگ پہلے آ گئے، اللہ پلیز تو ان کی مدد کرنا، ان کی ماں کی حقیقت ان کے سامنے لا دے۔ ورنہ یہ کبھی بھی معتبر نہیں ہو پائیں گے۔ وہ سجدہ میں گری اپنے شوہر کے لیے اپنے رب سے مدد طلب کر رہی تھی۔
جب اسے آواز آئی تھی، کسی نے کہا تھا کہ پولیس آ رہی ہیں پانچ دس منٹ میں۔ شاید ان لوگوں نے پہلے اس کی تواضع خود ہی کرنے کا سوچا تھا، جبھی پولیس کو دیر سے بلایا تھا۔۔۔
یا اللہ مدد کر پلیز، ان گندے لوگوں نے جس طرح انہیں تکلیف دی ہے ان کو پولیس لے جائےگی یہ کچھ نہیں کہیں گے، اگر بات مجھ پر آئی تو یہ پھر ان سب کی حالت خراب کر دیں گے۔۔۔اور پھر تو پولیس سزا بھی دےدےگی۔ اللہ میں کیا کروں۔
یہ بہت تکلیف میں ہیں میں تجھ سے کم ان سے محبت کرتی ہوں تو مجھے انتی تکلیف ہو رہی ہے تو تو مجھ سے زیادہ ان سے محبت کرتا ہے تو پھر تجھے تو مجھ سے بھی زیادہ برا لگ رہا ہوگا نا۔ ان گندے لوگوں سے ان کی حفاظت کردے، ان لوگوں نے مارا بھی انہیں اور انہوں نے مار صرف تیرے لیے کھائی اپنے پاپا سے تو جانتا ہے یہ بات، تو پھر تو مدد کرنا۔۔۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ اپنے شوہر کے لیے دعا کرتی زار و قطار رو رہی تھی۔ اور اس کے ذہن میں اچانک کوئی بات آئی تھی۔ پولیس ابھی تک نہیں آئی تھی۔
اس نے جلدی جلدی نوفل احمد خان کے فون سے الحان کو کال کی تھی مگر افسوس وہ کال رسیو نہیں کر رہا تھا۔ صبح ہی اس نے بتایا تھا کہ وہ ایک ارجنٹ کام کے کیے ممبئی آ رہا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے۔ اس نے جلدی جلدی جو سمجھ آیا لکھا اور اسے میسج کر دیا۔ ڈبل لائن سے نیٹ آن ہونے کا پتا چلا اور تھوڑی دیر بعد بلیو لائن سے پتا چلا وہ ریڈ کر رہا ہے۔۔ باہر وہ لوگ اس کے شوہر کو مینٹلی ٹارچر کر رہے تھے۔ الحان نے اسے کوئی میسج کیا تھا جسے پڑھ کر اسے سمجھ نہیں آیا تھا کیا کرے۔ اس نے ہلکا سا جھانک کر دیکھا تھا وہ گندی عورتیں اور آدمی کتنا برا بھلا کہہ رہے تھے اور اس کا شوہر لب بھینچے خاموش کھڑا تھا، صرف اس وجہ سے کہ اس نے اپنی ماں کی اپنی آنکھوں سے اصلی ننگی تصویریں ایک غیر مرد کے ساتھ دیکھیں تھیں۔ آنکھوں کی بڑھتی وحشت اسے خوف میں مبتلا کر رہی تھی،
اسے وہ رات یاد آئی تھی جب اس نے نوفل احمد خان سے اس کی ماں کے متعلق بات کی تھی تو اس نے کیسا رئیکشن دیا تھا، اس کی شدت میں اس کے اندر کی تڑپ واضح تھی جو اس کے چہرے پر گرنے والے آنسوؤں سے بیان ہو رہی تھی، اسکے آنسوؤں سے حیات کا چہرہ تر ہو چکا تھا۔ تو اب جب یہ لوگ گند بک رہے تھے تو اسکے اندر کیسی جنگ چل رہی ہوگی وہ اندازہ لگا سکتی تھی۔ اسے اس کی ماں کے شفاف ہونے کا یقین تھا اور بارہا اس کا رب اسے اشارے دے چکا تھا، وہ مجرموں میں کچھ لوگوں کی ہلکی سی جھلک بھی دیکھ چکی تھی۔ مگر نوفل احمد خان کے لیے یہ باب کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔
اور پھر اسے اپنی شادی والا دن یاد آیا تھا اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں چمک۔۔۔ محبت شاید نڈر بھی بنا دیتی ہے جیسے اس پل وہ ایک بڑا قدم اٹھانے جا رہی تھی جس کے لیے بہت ہمت درکار تھی اور پھر اس نے اپنے رب کا نام لے کر اپنا چہرا اچھی طرح چھپایا تھا ہاتھوں میں گلوز بھی پہنے تھے، وہ نہیں چاہتی تھی ان لوگوں کی گندی نظر بھی اس کے وجود کے کسی حصے پر پڑے۔ نوفل احمد خان کی ایک ہڈ نکال کر پہنی تھی اور اللہ کا نام لے کر ہاتھ میں کچھ لیا تھا اور اسے ہڈ کی جیب میں چھپا کر باہر آنے کی ہمت کر لی مگر خوف اندر کہیں انگڑائیاں لے رہا تھا جسے وہ اہنے شوہر کے لیے پسِ پشت ڈال کر باہر آ گئی تھی۔
*********************
ابھی تک پولیس نہیں آئی جلدی بلائیں لے کر جائیں اس گناہوں کی پوٹ کو جس نے ہمارے بچوں کو نہ زندوں میں چھوڑا نہ مردوں میں ۔ ایسے ناجائز لوگوں کو جینے کا کوئی حق نہیں جن میں نہ جانے کتنے مرد۔۔۔۔۔۔
بس اب ایک اور لفظ نہیں، اگر ایک بھی لفظ میرے شوہر یا ساس کے لیے نکلا تو اس گن کی ساری کی ساری گولیاں آپ کی کھوپڑی میں اتار دوں گی۔۔۔ بچوں جیسی نرم مگر کڑک بنانے کی کوشش بھری آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی تو اس نے سر اٹھا کر دیکھا تھا اور کرنٹ کھا کر سیدھا ہوا تھا۔ آنکھوں میں وحشت اس درجہ بڑھی تھی کہ بیان سے قاصر تھی۔ وہ جو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا یقین نہیں کر پا رہا تھا۔
اس کی بیوی عجیب حلیہ میں مکمل خود کو چھپائے یاور کی ماں پر گن تانے کھڑی تھی۔ اور وہ لوگ تو بس اس کی دلیر بیوی کی دلیری سے دنگ تھے۔
اے لڑکی۔ پاگل ہو گئی ہے کیا، ہٹا اسے ابرار قریشی غراتا ہوا آگے بڑھا تھا جس کے قدم اس کے گن لوڈ کرنے سے رکے تھے اور یاور قریشی کی ماں تو تھر تھر کانپ رہی تھی۔
وہ لوگ ابھی اتنی اونچی چیز نہیں تھے جو ساتھ میں ہتھیار یا گن وغیرہ رکھتے۔ وہ پولیس کی طاقت کا استعمال کرنے والے لوگ تھے، خود کی کوئی پاور نہیں تھی بس گیدڑ بھبھکیاں یا کمزوروں پر اپنا رعب، جیسے تیرہ سال کے نوفل احمد خان کے ساتھ کیا تھا۔ مگر ان کے بچوں کا ٹی وی کی دنیا میں ہونا انہیں تھوڑا بہت مشہور کر گیا تھا جس سے یہ لوگ خود کو تیس مارخان سمجھنے لگے تھے۔
بیوی، تم باہر کیوں آئی؟، اور یہ اصلی گن ہے کھلونا نہیں ہے، تمہیں پکڑنا اس لیے نہیں سکھایا کہ تم اس سے کھیلو، اندر جاؤ، ان لوگوں کی گندی نظر بھی میں تم پر برداشت نہیں کر سکتا۔۔ حیات کی حرکت اسے صحیح معنوں میں بھونچکا کر گئی تھی، وہ یقین نہیں کر پا رہا تھا یہ اس کی انوسنٹ، ڈرپوک بیوی کر رہی ہے جو ایک ڈر کے خوف سے مسلسل تین دن سے اسے گریز برت رہی ہے وہ اتنی دلیری۔۔۔۔
نہیں۔ میں نہیں جاؤں گی۔ ان گندے لوگوں نے آپ کو بہت تکلیف پہنچائی۔ میں ان لوگوں کو معاف نہیں کروں گی۔ اس کی آواز کی لرزش اور کانپتے ہاتھوں سے وہ اس کے خوف کا اندازہ لگا سکتا تھا۔ مگر دوسرے لوگ تو اس کے گن تاننے سے خوفزدہ تھے، ایک گن نے سب کی ساری طراری ہوا کردی تھی۔
چچ۔چھوڑو۔مجھے، ماروگی کیا مجھے، ہٹاؤ اسے لڑکی گولی چل جائےگی۔پولیس۔آنے والی۔ہے۔قتل۔کے کیس۔میں ۔پھانسی۔ہو جائےگی۔ ڈر سے اس عورت کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے تھے۔
کوئی آگے بڑھا نا تو میں گولی چلا دوں گی۔
تو چھوڑ اسے کچھ نہیں کہیں گے ہم تیرے شوہر کو۔۔ ۔ ابرار قریشی کا بھی سارا طنطنہ غائب تھا۔ مگر وہ ایک گھات آدمی تھا۔
ایک شرط پر۔۔۔ سچ بتاؤ۔ آمنہ آنٹی کے ساتھ کیا ہوا تھا، اور وہ کہاں ہیں اور کس نے یہ سب کیا تھا۔۔۔۔ سچ بتانا ورنہ میں سچ میں مار دونگی۔۔۔۔ اور نوفل احمد خان اس کی خوف میں لپٹی بہادری کو دیکھ کر آنکھیں میچ گیا تھا۔ اس کی بیوی اسے تکلیف سے آزاد کروانے کے لیے اپنا خوف دبائے اس کے لیے کھڑی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے لے کر ان لوگوں کی پہنچ سے کہیں دور چلا جائے جہاں ایسے غلیظ لوگوں کی پرچھائی بھی اسکی بیوی پر نہ پڑے۔
ہہ۔ہم۔ کچھ۔نہیں جانتے۔تو کیا بات کر رہی ہے۔۔۔ مجھے۔چھوڑ۔۔
اوکے تو آپ ایسے نہیں بتائیں گی۔۔۔ ون، ٹو، تھ۔۔۔۔۔
بتاتی ہوں بتاتی ہوں گولی مت چلانا۔ مگر وعدہ کرو تم سچ جاننے کے بعد ہم سب کو جانے دوگی۔ ہم تم پر کوئی کیس نہیں کریں گے۔ اور تم لوگ بھی کوئی نہیں کروگے۔۔ اس عورت کے الفاظ نوفل احمد خان کے بڑھتے قدم روک گئے تھے جو اپنی بیوی کو اس بہادری سےدور کرنے کے لیے بڑھے تھے۔ ان لفظوں نے اسے ٹھٹھکایا تھا۔
جلدی بتائیں، کہاں ہیں آمنہ آنٹی۔۔۔۔ نرم آواز کی کڑکی میں اتنی جان تو نہیں تھی مگر موت کے خوف میں تو بلی بھی شیر دکھائی دیتی ہے جیسے ان لوگوں کو حیات۔
وہ مر گئی۔۔۔۔ اور حیات جو سوچ رہی تھی شاید زندہ ہوں، ایک تکلیف دل میں محسوس کی تھی۔ اور نوفل احمد خان بالکل خاموش تھا۔
کک۔کیسے۔۔۔۔؟؟
ہمیں نہیں پتا۔۔۔۔۔
بتائیں، گن کا دباؤ اور بڑھایا
وہ۔ہم۔نے۔اس۔کے۔کپڑے۔پھاڑے۔تھے۔اور۔اسے۔ایک۔آدمی ۔کے۔ساتھ۔مگر وہ پہلے۔ہی۔مر۔گئی۔
ہم۔اسے۔صرف۔ڈرا۔رہے۔تھے۔اس۔کے ساتھ۔کچھ۔کروانے۔کا۔ارادہ۔نہیں تھا۔
کیوں۔۔۔۔ آواز کا درد صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔
کیونکہ ہم نے اس سے کہا تھا آسانی سے ساری پراپرٹی ہمارے نام کردے مگر اس نے نہیں کیا۔ تو سزا تو بنتی تھی نا۔۔۔ حیات کا تکلیف سے دھیان ہٹنا ابرار قریشی سے مخفی نہیں رہا تھا۔ اور اسی کا فائدہ اٹھا کر اس نے اگلے پل حیات پر قابو پا لیا تھا۔ اور اب جب سچائی کھل ہی رہی تھی تو پھر کیا چھپانا۔
سچائی جاننی ہے نا تجھے بہت درد اٹھ رہا ہے اپنے شوہر اور ساس کے لیے، چل بتاتا ہوں، اسکے بعد تیرا کام تمام کروں گا، میری بیوی پر تونے گن تانی میں اسی گن کی ساری گولیاں تیری کھوپڑی میں اتار دوں گا۔۔ گن کی نال حیات کی کنپٹی پر دبا کر اس نے دونوں کو باری باری دیکھا تھا اور نوفل احمد خان جسے لگ رہا تھا کہ قیامت نزدیک ہے اپنی بیوی کو موت کی گرفت میں دیکھ کر بلبلا اٹھا تھا۔
میری بیوی کو چھوڑو ابرار قریشی۔۔۔۔۔ وہ دہاڑا تھا۔ جسے مانیہ کے باپ نے قابو کرنے کی کوشش کی تھی۔
نہ نہ نوفل بچے، باپ کا نام نہیں لیتے، سچائی تو سن پہلے، تبھی تو تیری اس چھٹانک بھر کی بیوی کو چھوڑوں گا۔ منہ دکھائی بھی تو کرنی ہے اسکی بہو ہے ہماری۔
تو سنو! تیرا نانا امیر آدمی تھا، میرا باپ وہاں کام کرتا تھا، مگر گھر میں زیادہ خرچہ کی وجہ سےوہ کمائی پوری نہیں ہوتی تھی، تیرے نانا سے قرض مانگا، اس نے منع کر دیا کیونکہ پہلے کا بھی باقی تھا، تو میرے باپ نے اس کے آفس میں چوری کر لی، تیرے نانا کو پتا لگ گیا اس نے انہیں جیل بھجوا دیا، پولیس والوں نے انہیں بہت مارا، جب وہ باہر آئے تو لوگوں نے بہت برا بھلا کہا، ہمیں وہ محلہ چھوڑنا پڑا۔۔ مجھے تیرے نانا پر بہت غصہ آیا میرے باپ نے کہا جس مال پر وہ اترا رہا ہے وہ سارا مجھے چاہئیے۔ بس پھر کیا تھا۔ ہو گئی پلاننگ۔ میری پہلی بیوی، میری ماں ، بہن بہنوئی سب نے ساتھ دیا، تیرے نانا کے یہاں نوکری کی، تیری ماں کو ایک جھلک دیکھا، پردہ کرتی تھی سالی، بہت نیک بنتی تھی نا ایسا گھاؤ لگایا مرنے کے بعد بھی تڑپ رہی ہوگی، وہ دونوں تو ایسے سن رہے تھے گویا کوئی بت ہوں۔
پھر کیا، پٹایا تیرے نانا کو، خود ہی ایکسڈنٹ کروایا اور پھر تیرے نانا نانی نے بیاہ دیا تیری ماں کو مجھ سے۔۔ دل تو کرتا تھا تیری ماں کو ہنٹر سے ماروں مگر دولت ساری اس کے نام تھی۔ میں نے اسے بچہ نہ ہونے کی دوا دی مگر کمینی نے لینی بند کر دی اور تجھے دنیا میں لے آئی۔۔ ثمینہ مجھ سے ناراض ہو گئی تب بھی دل کیا تیری ماں کو جان سے مار دوں تجھ سمیت۔ مگر ابھی ذرا وہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی تھی۔ اور اسے تیرہ سال تک اور پالنا تھا۔ پتا نہیں وہ کھونسٹ بڈھا عجیب وسیت کر گیا تھا۔ تیری ماں اپنی اولاد کے بارہ سال کے ہونے پر ہی پراپرٹی ٹرانسفر کر سکتی تھی وہ بھی اگر بیٹا ہوتا تو، ورنہ وہ بھی نہیں۔ اس لیے پھر تجھے بھی پالنا پڑا۔ اس میں بھی ہمارے عیش تھے۔
اور پھرتیرہ سال تک پالا اسے مگر اس نے بھی اپنی پراپرٹی میرے نام نہیں کی۔ بعد میں اسے نہ جانے کیسے بھنک پڑ گئی۔ میں نے اس سے بہت کہا ساری پراپرٹی میرے نام کردے مگر نہیں مانی بولی ساری میرے بیٹے کی ہے، تم جیسے کمینوں کی نہیں۔۔ بس آ گیا غصہ۔ لے گیا میں اس کو اٹھا کر اس کی سسرال۔
سالی ڈھیٹ تھی مار کھا کر بھی نہیں مانی، تو دوسرے طریقے سے سمجھانا پڑا، اور یہ حربہ کام کر گیا، اس نے بتایا گھر تیرے نام ہے، اور سارا بزنس یعنی سو کروڑ کی پراپرٹی میرے نام کردی۔ اس نے کہا کہ اب اسے جانے دیں ہم بھی جانے دیتے مگر میرے بڑے سالے کی اس پر نیت خراب ہو گئی۔ میں نے کہا میں تو جی نہیں بھر پاتا تھا اس سے ثمینہ کی وجہ سے، تو کسی اور کا بھلا ہوجائے دےدی طلاق، تیری ماں نے مجھے تھپڑ مارا ایک نہیں تین۔ اس کی بھی تو سزا دینی تھی تو سالے کو کہہ دیا کہ کبھی بلیو فلم نہیں دیکھی آج لائیو دکھاؤ۔ مگر تیری ماں تو آدھے کپڑے پھٹنے پر ہی بپھر گئی، اور ساتھ ساتھ میں میرے سالے کے دل میں بھی چھرا گھونپ گئی۔ بس پھر کیا تھا آ گیا ثمینہ کو غصہ مار دیا اس نے تیری ماں کو، اور وہیں اسکی قبر کھود کر دبانا پڑا۔
اور تجھ سے بھی تو گھر اپنے نام کروانا تھا۔۔ اسلیے اسکی وہ ادھ ننگی فوٹو کھینچنی پڑیں اور پھر ہمارا کام ہوتا گیا۔ مگر سالی نکلی بڑی کمینی اصلی زمین تو تیرے نام کر گئی اور پتا بھی نہیں لگنے دیا۔
حیات اور نوفل احمد خان کو تو گویا سانپ سونگھ گیا تھا۔ سچائی اتنی تلخ اور اذیت ناک تھی دونوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ نوفل احمد خان کو لگ رہا تھا وہ سانس نہیں لے پائےگا۔ جس ماں سے اس نے پندرہ سال نفرت کی اس کا نام تک لیا اس نے اتنا درد سہا دو دن جتنا اسنے آٹھ سالوں میں بھی نہیں سہا۔ اسکی باپردہ، باحیا ماں کی ایسی تذلیل۔
یہ کیا کیا تم نے ابرار سچائی بتا دی اگر پولیس کو خبر ہو گئی تو۔۔۔ میں کچھ اور بتا نے والی تھی اس کوتم نے قتل والی بات بھی بتا دی۔۔۔ ثمینہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔
تو فکر نہ کر ثمینہ یہ پولیس کو تو جب بتائیں گے جب کسی قابل ہوں گے۔ اس کی شیر کی جان تو اس طوطی میں بند ہے نا، تو آج سے یہ طوطی ہماری۔ چل جلدی کر۔ ہو گیا حساب برابر۔ پولیس کو منع کر غالب اس لڑکی کے لیے اس نے میرے بیٹے کو نامرد بنایا ہے نا اب اس لڑکی کو ہی کوٹھے زینت بنواؤں گا۔
رکو رکو، مجھ ہر گن تانی تھی نا، اس کا حساب تو لے لوں۔۔ اور ساتھ ہی کھینچ کر حیات کے چہرے سے نقاب کھینچے بغیر ہی کئی تھپڑ مارے تھے۔ جو اتنے شدید تھے کہ وہ زمین پر گری تھی۔ اور اسی کے ساتھ نوفل احمد خان کا سکتہ ٹوٹا تھا۔۔۔ اپنی بیوی کو زمین پر گرے دیکھ کر اور اس کے لیے ایسے الفاظ سن کر اس کے خون میں اٹھنے والا ابال ان لوگوں کے لیے بالکل بھی صحیح نہیں تھا۔
نہ نہ پتر، اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا نا تو تیری بیوی کو ابھی کہ ابھی اوپر پہنچا دوں گا۔ تیری ماں کو تو پھر بھی دو دن لگے تھے اوپر پہنچنے میں مگر تیری بیوی کو تو ایک منٹ بھی نہیں لگے گا۔ ابرار قریشی نے اسے آگے بڑھتے دیکھ کر گن حیات کی طرف تانی تھی جو اس کے قدموں کو روک گئی تھی۔
یہ گن خالی ہے۔۔۔۔ حیات کے کہنے کی دیر تھی اور پھر نوفل احمد خان جو زخمی شیر کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا اپنے شکاروں کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر ا نکے انجام تک پہنچانے لگا تھا۔
ابرار قریشی اور اسکی بیوی، بہن اور بہنوئی زمین پر پڑے تھے اور وہ ان چاروں پر بیلٹ برسا رہا تھا، وہ اکیلا ان کو ایسے مار رہا تھا جیسے چار لوگ ہی الگ الگ ان کو مار رہے ہوں عورتوں کو ایک مارتا تو مردوں کو دو مگر آج اس کے اندر کا جانور واقعی بالکل زخمی تھا۔ اور زخمی جانور زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
جیسے جیسے اس کی ماں کی تکلیف یاد آ رہی تھی بیلٹ میں پاور اتنی ہی بڑھ رہی تھی، پورے گھر میں ان لوگوں کی چیخیں گونج رہی تھی مگر اس نے نہ ان عورتوں پر رحم کیا تھا نہ ان مردوں پر، جنہوں نے اسکی ماں کو برہنہ کیا اسے زنا کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی اسکی بیوی کو مارا اور اسکے ساتھ بھی ایسا ناپاک کام کرنے کا ارادہ کیا۔ وہ ان لوگوں کو بخشنے والا نہیں تھا۔ اس نے ان لوگوں کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ اس کی بیلٹ اور اسکی مارنے کی طاقت ان لوگوں کی چمڑی ادھیڑ رہی تھی۔
حیات اس کا یہ روپ دیکھ کر تھرتھر کانپتی بار بار دروازے کی سمت دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ کسی کے آنے کی توقع کر رہی تھی۔ جو ہوا تھا وہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ انہیں جان سے مار دے اسے نوفل احمد خان کو روکنا تھا۔
ی۔یہ۔لوگ۔مر۔جائیں۔گے۔پلیز۔بس۔کریں۔قانون۔ان لوگوں ۔۔کو۔انکی۔سزا۔دےگا۔آپ۔پلیز۔خود۔کے۔ہاتھ۔ان کے۔خون۔سے۔نہ۔رنگیں۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے بپھرے ہوئے نوفل احمد خان کو پکڑنے کی کوشش کی تھی۔
روم میں جاؤ بیوی۔ باہر۔نہیں آنا۔ لہجہ نرم تھا۔ نگر تنبیہ کڑی تھی جو حیات کے خوف میں اضافہ کرنے کو کافی تھی
پپ۔پلیز۔نہیں ۔آپ۔بھی۔چلیں۔۔۔ ایک اور کوشش کی تھی۔
آئی سیڈ گو انسائڈ دا روم۔۔پہلی بار وہ اس پر اتنے خوفناک انداز میں چلایا تھا۔ وہ ڈر کر کئی قدم پیچھے ہٹی تھی، کانپ تو وہ پہلے ہی رہی تھی مگر اب۔۔۔۔
گو۔۔۔۔ بیلٹ برساتے ہوئے اسے وہیں کھڑے دیکھ کر وہ پھر سے چلایا تھا۔ اور اس بار حیات کے قدم خود بخود روم کی طرف مڑے تھے اور تبھی ڈور بیل بجی تھی۔ جسے سن کر روم میں جاتی حیات پلٹ کر دروازے کی سمت بھاگی تھی۔ اور بنا سوچے سمجھے دروازہ کھول دیا تھا جیسے یقین ہو کہ آنی والا کون ہوگا۔ اور اس کا یقین غلط نہیں تھا۔ باہر وہ دو عورتوں اور دو مردوں کے ساتھ آیا تھا۔
بھابی۔۔۔۔ اسکی بری حالت دیکھ کراسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا گوکہ وہ مکمل پردے میں تھی پھر بھی ابتر حالت کچھ غلط ہونے کا سگنل دے رہی تھی۔ اور اس سے بھی برا جھٹکا اندر سے آتی چیخوں اور مار کی آواز پر تھا۔ مردوں اور عورتوں کی ملی جلی آوازیں۔۔ وہ بھاگتا ہوا اندر آیا تھا اور نوفل احمد خان کو جانوروں کی طرح زمین پڑے لوگوں کو مارتے دیکھ کر وہ بت بن گیا تھا۔
نوفل۔ یار کیا کر رہے ہو چھوڑو ان لوگوں کو۔۔ جان سے ماروگے کیا؟ اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ قابو کرنے کی کوشش کی تھی اور ساتھ ہی دوسرے لوگوں کو بھی مدد کے لیے بلایا وہ اس اکیلے سے سنبھلنے والا نہیں تھا۔
چھوڑو الحان۔ مار دوں گا ان کمینوں کو جان سے۔ ان لوگوں نے میری ماں کے ساتھ۔۔۔۔ اور اب میری بیوی۔۔۔۔ اس سے دونوں ہی جملے پورے نہیں ہوئے تھے۔ وہ بپھر کر پھر ان کو مارنے لپکا تھا جسے بڑی مشکل سے ان تین لوگوں نے قابو کر رکھا تھا۔
کچھ ہی جان باقی ہے تم ان لوگوں کی چمڑی ادھیڑ چکے ہو۔ جان لے کر پھانسی کے پھندے پر چڑھنا چاہتے ہو۔ بھول گئے تمیز تم چھوٹے بڑے کی. یہ آدمی باپ ہے تمہارا یہی سوچ لیتے۔۔ اس نے ایک نظر خون میں لت پت پڑے لوگوں کو دیکھا، جو نیم بےہوش ہو رہے تھے۔
نہیں ہے یہ میرا باپ۔ اسلیے اس کا گندہ خون بھی میرے جسم سے سات سال پہلے نکال لیا گیا تھا۔ یہ لوگ قاتل ہیں میری ماں کے۔۔ اسکی خطرناک آواز پورے گھر میں ٹکرا رہی تھی۔ الحان زبردستی ان لوگوں کی مدد سے اسے روم میں لایا تھا اور ساتھ ہی حیات کو اشارہ کیا تھا کہ اس کو اب باہر نہ آنے دے جب تک سب کچھ سنبھال نہیں لیتا۔
اور ان لوگوں کے ساتھ مل کر بہت ہی پراسرار طریقے سے اس نے زخمی لوگوں کو وہاں سے نکالا تھا کہ کسی کو شک نہ ہو اور پھر اس کا گھر صاف کروایا تھا۔ آنے والی پولیس کو وہ حیات کے میسیج ملتے ہی روک چکا تھا۔ وہ کس طرح یہاں پہنچا تھا شاید کسی ضروری مشن میں بھی کبھی نہیں گیا۔۔ اور اب اسے بہت ہی خفیہ طریقے سے اس معاملے کو ہینڈل کرنا تھا۔ مگر اس سے پہلے ان لوگوں کا علاج ضروری تھا۔
Episode 24
ابھی ابھی جو اس نے نوفل احمد خان کا روپ دیکھا تھا وہ اسے اس حد تک خوفزدہ کر گیا تھا کہ کہ اسکے دل کی طرح پورا جسم بھی کانپ رہا تھا، پیروں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آگے بڑھ سکے۔ اتنا بھی یاد نہیں تھا کہ وہ اپنا حلیہ ٹھیک کر لے۔ ڈرتے ڈرتے نظر اٹھائی تھی وہ اپنے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے جکڑے فرش پر بیٹھا ہوا تھا۔ آنسو زمین پر گر رہے تھے۔ وہ اس کا درد اپنے دل میں محسوس کر رہی تھی۔ مگر اس میں ہلنے کی سکت بھی نہیں تھی۔
کسی احساس کے تحت نوفل احمد خان نے سر اٹھایا تھا اور اسے خوف سے تھر تھر کانپتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے قریب آیا مگر یہ کیا حیات تو اس کو قریب آتے دیکھ کر ہی جو رہی سہی ہمت تھی وہ بھی گنوا چکی تھی۔
بیوی، اس سے پہلے وہ فرش پر گرتی وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا۔ اور پھر ویسے ہی فرش پر بیٹھتا چلا گیا۔ جو حقیقت آج اسے پتا چلی تھی اس نے اسکی روح تک کو زخمی کر ڈالا تھا۔ اس وقت اپنی بیوی کے بےہوش وجود کو لیے پتا نہیں کس کرب میں تھا۔
آئی نیڈ یو بیوی، پلیز ویک اپ، آئی ایکسٹریملی نیڈ یو، نیڈ یو، آئم انیبل ٹو ٹیک بریتھ، پلیز گیو میں یور سم بریتھ۔ اسے زور سے خود میں بھینچے وہ سرگوشیاں کر رہا تھا جو اس بےہوش وجود کی سماعت سے کوسوں دور تھا۔ وہ ہمت کرتا اسے لے کر بیڈ پر آیا، اسے لٹا کر اس کا حلیہ ٹھیک کیا سانسیں چیک کی جو نارمل تھیں وہ بس آج کے خوف سے بےہوش ہوئی تھی۔ مگر اس کے چہرے ہر تھپڑوں کے نشان تھے۔ اس نے جھک کر اپنا چہرہ اس کے چہرے پر رکھا تھا جیسے اسکے نشانوں کو اپنے چہرے پر چھاپ رہا ہو۔ پھر اس کے اوپر پانی چھڑکا، تھوڑی دیر بعد اس نے ہلکے سے آنکھیں کھولی تھیں مگر آج نوفل احمد خان اپنے آپ میں نہیں تھا، اسے اپنی بیوی کی فکر تھی، مگر آج وہ وجود بےجان سا تھا، بس ہاتھ پیر چلا رہا تھا ایک روبوٹ کی طرح۔
نماز پڑھ لو بیوی، اور بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہونا، تمہارا شوہر تمہیں کبھی بھی ہرٹ نہیں کر سکتا، میں جانتا ہوں تم مجھ سے خوفزدہ ہو رہی ہو، ڈونٹ وری میں باہر ہوں تم روم میں رہو، اور نماز پڑھ کر سو جانا۔ اس کو آنکھیں کھولتے دیکھ کر اس نے کہا تھا اور خود باہر نکلتا چلا گیا۔ آج اس کے لفظوں میں کیا تھا جو حیات کو اندر تک جھنجوڑ گیا، اس کا خوف پوری طرح تو نہیں پھر بھی کچھ حد تک کم ہوا تھا۔ اسے نوفل احمد خان اس طرح ٹوٹا بکھرا اچھا نہیں لگا تھا۔
نماز پڑھ کر اس نے وظائف پڑھے کچھ سورتیں نوفل احمد خان کے لیے پڑھیں اور اللہ سے تمام باتیں کر کے اٹھی ہی تھی جب دادی کا فون آ گیا۔
السلام عليكم دادی۔۔۔ آواز کا بھیگاپن دادی کو چونکا گیا تھا۔
وعلیکم السلام میری بچی تو ٹھیک ہے؟
جی دادی۔۔۔ دادی سے بات کرتے ہوئے اسکا لہجہ کانپنے لگا تھا، بہت زیادہ رونے کی چاہت ہونے لگی تھی۔
حیات کیا بات ہے بچہ، بتاؤ، دادی کا پوچھنا تھا کہ وہ روتے روتے ساری باتیں بتانے لگی تھی۔۔ جسے سن کر دادی بالکل خاموش ہو گئیں تھی۔ ایک بار پھر ان کا دل اپنی بچی کے شوہر اور اسکی ماں کے لیے درد سے بھر گیا تھا۔
دادی۔ میں ۔کیا ۔کروں، میں۔ برداشت۔نہیں ۔کر۔سکتی ان۔کی۔یہ۔حالت۔ وہ میری۔وجہ۔سے۔باہر۔ہیں کہ۔میں ۔ان۔سے ۔خوفزدہ۔نہ۔ہوؤں۔ میں کیسے۔انکو۔اس فیز۔سے نکالوں دادی۔۔
نہ رو میری بچی۔ اللہ اپنے بندوں کو ان کی استطاعت سے زیادہ نہیں آزماتا، تو دیکھ اس نے رسوا ہونے ہی نہیں دیا اپنی پاک بندی کو۔ مگر آج تجھے ہمت دکھانی ہوگی۔۔ تیرے شوہر کو تیری ضرورت ہے۔ اور ایک بیوی اپنی محبت اور قربت سے اپنے مرد کی ساری تکلیفوں پر مرہم رکھ دیتی ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ اللہ نے بنایا ہی ایسا ہے کہ ایک دوسرے کی تکلیف، دکھ، درد کو ایک دوسرے کی محبت اور قربت سے مٹا دیں۔
جب تو پریشان ہوتی ہے تکلیف میں ہوتی ہے تو تیرا شوہر کرتا ہے نا تیری تکلیفوں اور پریشانیوں کو ختم۔ اس حال میں بھی اسے تیری فکر ہے۔ مگر آج تیری باری ہے اسے اس تکلیف سے نکالنے کی۔ آج تجھے کرنا ہے وہی جو تیرا شوہر کرتا ہے تیرے لیے۔ اور مجھے یقین ہے اپنے اللہ پر اور پھر تجھ پر کہ تو اسکی تمام تکلیف کو اپنی محبت سے چن لےگی۔ تو سمجھ رہی ہے نا میری بات۔
جی دادی۔۔۔
تو پھر جا میری جا اپنے شوہر کے پاس اور اپنے بیوی ہونے کا حق ادا کر۔ دادی کے درپردہ جملے کامطلب اسے بڑے اچھے سمجھ آیا تھا۔ یہی تو وہ بات تھی جس کی وجہ سے وہ نوفل احمد خان سے بدک رہی تھی۔ مگر آج اسے اپنے شوہر کے لیے اپنے خوف کو مارنا تھا۔
*******************
ڈرتے ڈرتے حیات باہر آئی تھی۔ آج آسمان بھی نوفل احمد خان کے غم میں بے تحاشہ رو رہا تھا۔ اس نے پورے گھر میں اسے دیکھ لیا مگر وہ کہیں بھی نہیں تھا۔
یا اللہ اس حال میں یہ باہر تو نہیں چلے گئے۔
کچھ سوچ کر اس نے ٹیرس کا دروازہ کھولا تھا اور دھک سے رہ گئی تھی۔ نوفل احمد خان بنا شرٹ کے فرش پر بیٹھا ہوا بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر کوئی بھی کہہ دیتا آج نوفل احمد خان کا جسم ہی نہیں روح بھی گھایل ہے۔ آج وہ بری طرح ہارا تھا اس کا غم بڑا تھا۔
اندر چلیں پلیز، بیمار پڑ جائیں گے آپ۔۔ وہ اسکے پاس پہنچنے تک مکمل بھیگ چکی تھی اتنی شدید بارش تھی۔ بالکل نوفل احمد خان کے درد کی شدت کی طرح۔ اسکی آواز پر نوفل احمد خان نے سر اٹھایا تھا اور اسکی لال انگارہ آنکھیں اور درد میں ڈوبا چہرہ دیکھ کر وہ تڑپ کر اسکے قریب بیٹھی تھی۔
تم جاؤ اندر بیوی، ابھی بھی بےہوش ہوئی تھیں تم۔۔۔ میں افورڈ نہیں کر سکتا تمہارا بیمار ہونا، گو انسائڈ۔ اتنے غم میں بھی وہ اس کی فکر میں تھا۔
نہیں جاؤں گی۔ آپ جائیں گے تبھی جاؤں گی۔۔۔ وہ ضد کرتی اس کا ہاتھ تھام کر اندر لے جانے لگی تھی۔
آج نہ کرو بیوی، میرے اندر بہت گھٹن ہے، گرمی بڑھتی جا رہی ہے، یہ آسمان برسا ہی شاید میری گھٹن کم کرنے کو ہے۔رہنے دو مجھے اس میں ، تم جاؤ پلیز۔ اس کی آواز اس کے رونے کا پتا دے رہی تھی۔ اور حیات تو اس کی حالت دیکھ کر تڑپ کر رہ گئی تھی۔ اور اسی کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئی تھی بارش کا زور بڑھتا جا رہا تھا۔
میں۔آپ ۔کے۔غم۔ میں۔ شریک۔ ہوں، آپ ۔کو ۔ایسے۔حال۔میں ۔نہیں ۔دیکھ سکتی۔ اور پہلی بار اس نے وہی کیا تھا جو نوفل احمد خان کرتا تھا۔ اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر نوفل احمد خان کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔ اور اس کے بالوں میں ایک ہاتھ پھنسا کر اسے اسی کی طرح تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔اور نوفل احمد خان اس کا لمس پاتے ہی بکھر گیا تھا۔
بہت برا ہوں میں بیوی،بہت ہی زیادہ برا۔۔میں نے اپنی نیک ماں سے پندرہ سال نفرت کی، اسکا نام تک نہیں لیا، میں اکیلا اسکے لیے دعا کرنے والا تھا اور میں نے بھی منہ موڑ لیا، مجھ جیسے بیٹوں کو جینے کا کوئی حق نہیں دینا چاہئے۔ کون ہوگا مجھ جیسا بدنصیب۔ میری ماں معاف نہیں کرےگی مجھے، کس اذیت میں۔۔۔ آئم گونا ڈائنگ بیوی۔۔ نوفل احمد خان مر رہا ہے۔
کیسی تکلیف سہی ہے میری بدنصیب ماں نے اس کا بیٹا بھی اسے نہیں بچا سکا۔ میں جان سے مار دوں گا بیوی ان لوگوں کو، ٹکڑے کر کر کے کتوں کو کھلاؤں نفرت ہے مجھے ان سب سے، نفرت ہے۔
آپ ان لوگوں سے نفرت کر کے اپنے دل کو گندہ نہ کریں پلیز۔
آپ نے ان لوگوں کو سزا دےدی نا، بس ان لوگوں سے معاملہ ختم کر دیں۔ یہ لوگ مسلمان ہیں اللہ کے لیے معاف کر دیں۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتی وہ بمشکل بول رہی تھی، آنکھوں سے آنسو لڑیوں میں بہہ رہے تھے۔
میں ہوں ہی بہت برا بیوی، تمہیں بھی ایسی مشکل میں ڈالا، میری ماں نے میرے لیے لیے تکلیف سہی۔ نفرت کرو مجھ سے، ایک گھٹیا آدمی کے گندے خون سے بنا ہوا ہوں میں۔ وہ اپنے سر کو پکڑے ہسٹیریائی ہو رہا تھا۔ اس لمبے چوڑے مرد کو قابو کرنا اس جیسی کمزور اور نازک لڑکی کے بس میں کہاں تھا مگر پھر بھی وہ اسے سنبھالنے میں ہلکان ہو رہی تھی۔
آپ سب سے اچھے ہیں! سب سے! ۔ آپکی ماں آپ سے کبھی ناراض نہیں ہوئی۔ میں نے خواب میں انہیں جنت میں پایا ہے۔ وہ ہم دونوں سے راضی ہیں۔ اسے یقین دلانا ضروری تھا۔ اتنا لمبا چوڑا مرد روتا ہوا تکلیف میں تڑپتا ہوا اس سے بمشکل سنبھل رہا تھا۔ مگر آج اسے نوفل احمد خان کا طریقۂ کار اپنانا تھا۔ جو اس کے لیے انتہائی مشکل تھا مگر وہ اپنے شوہر کے لیے کرنا چاہتی تھی۔
تم سچ کہہ رہی ہو۔، ماں مجھ سے راضی ہے، وہ ناراض نہیں مجھ سے ، اور سچ میں جنت میں ہیں؟؟۔؟ کیسا پرامید سا سوال تھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ اور نوفل احمد خان اس سے لپٹ کر رونے لگا تھا۔ کتنی تڑپ سے جو اسے بھی تڑپا رہی تھی۔ اور پھر ٹوٹتے بکھرتے نوفل احمد خان کو وہ اسکی وہی شدتیں لوٹانے لگی تھی جو اس نے نہ جانے اس پر کتنی بار لٹائی تھیں۔
آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی میں۔۔ بارش کے قطروں میں ملے اس کے آنسوؤں کو وہ ایک ایک کر کے چن کر اسکی تکلیفوں کو کم کرنے لگی تھی۔ وہ پوری طرح اس پر چھا رہی تھی۔ وقت گزرتا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی بارش کا زور بھی بڑھ رہا تھا۔
ہم دونوں مل کر آمنہ ماں کے لیے اتنا کریں گے جتنا آپ نے کرنے کا سوچا تھا۔ اسکی پیشانی پر ابھری درد کی لکیروں کو مٹاتے ہوئے اس کے درد میں کچھ اور کمی کی تھی۔
میں اللہ و رسول کے بعد آپ سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہوں، مجھے اس وقت آپ کو تکلیف میں دیکھ کر اتنی تکلیف ہو رہی ہے جتنی آمنہ ماں کو ہوتی۔
بیوی، یہاں درد ہے، بہت ہے اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھتا وہ کوئی معصوم بچہ لگا تھا۔ اور پھر اگلے پل وہ اس کے دل کے مقام پر جھک گئی تھی اور نوفل احمد خان اپنی آنکھیں میچ گیا تھا شاید وہ کچھ پرسکون ہوا تھا۔ کتنی ہی دیر بعد حیات کو احساس ہوا تھا کہ بارش اس پر اپنا اثر دکھا رہی ہے مگر وہ اس پر نظر کر ہی نہیں رہی تھی۔
بیوی، یہاں بھی درد ہے، بہت ہے۔ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر کر بولتا وہ بہت ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا۔
کہاں ہے۔۔۔ وہ واقعی نوفل احمد خان بن گئی تھی اس وقت۔ مگر بارش سے سرد پڑتا اس کا کمزور نازک وجود۔۔۔
لفظوں میں!!!! اپنے منہ پر ہاتھ رکھتا وہ اسے گہری خون چھلکاتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔، اس کے چہرے پہ رقم وحشت و اذیت اس کے اندر کی تڑپ کا پتا دے رہی تھی۔
حیات نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھرا تھا اور اسکے زخمی لب پر نگاہ کی تھی ۔بچوں جیسے ہاتھوں کا لمس نوفل احمد خان کو بہکانے لگا تھا۔ مگر آج درد انتہاؤں پر تھا۔
آپ۔مجھے۔اپنے۔سارے۔درد۔۔دے۔دیں۔جتنے۔بھی۔ہیں۔۔لفظوں۔کے بھی۔ دل کے بھی۔ جسم۔۔کے۔بھی۔۔اپنی وحشت و شدت بھی۔ کانپتے لبوں کا رنگ بدل رہا تھا۔ الفاظ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے۔وہ سردی سے پوری کانپ رہی تھی مگر اسے بس اپنے شوہر کے درد چننے تھے۔اور نوفل احمد خان اس کی بات سن کر جھکا تھا اور اسکے ٹوٹتے لفظوں کو جوڑ کر اپنا درد مٹانے کی کوشش کر نے لگا تھا۔ کتنا وقت گزر چکا تھا مگر اس کا درد کم نہیں ہو رہا تھا، اسکی شدت بڑھتی جا رہی تھی جو حیات کو بےجان کر رہی تھی مگر وہ اسے روکنا نہیں چاہتی تھی۔۔ کچھ بھی کر کے وہ اس کے درد کو ختم کرنا چاہتی تھی۔۔ بارش ابھی بھی زور شور سے انہیں بھگو رہی تھی مگر ان دونوں کو ہی اب کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ کتنے گھنٹوں سے بارش میں بھیگ رہے ہیں۔
اس کا سرد پڑتا اور بالکل بےجان ہوتا وجود نوفل احمد خان کو چونکا گیا تھا اس نے اپنا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو بمشکل اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ نوفل احمد خان کو اپنے اس شدید فعل پر شرمندگی کوئی اور خود پر غصہ بھی آیا تھا، اس مضبوط اور طاقتور مرد کی پکڑ اور شدت اس نازک وجود کے لیے تکلیف دہ تھی۔ مگر وہ۔۔۔۔
بیوی، تم ٹھیک نہیں ہو، چلو اندر، وہ اسے لے کر اٹھ رہا تھا جب اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس روک لیا تھا، اسکی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں، ۔۔ اسکے ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے جسم کو دیکھ کر اسے پھر خود پر غصہ آیا۔
مم۔میں۔ٹھیک۔ہوں۔ یہ۔بارش۔میرے۔لیے۔تکلیف۔دہ۔ہے۔تو۔آپ۔کے۔لیے۔بھی۔ہے۔ آپ۔کے۔اندر۔گھٹن۔تو۔میرے۔اندر۔بھی۔ہے۔۔مم۔میں ۔نہیں ۔دیکھ۔سک۔تی۔اس۔۔د۔ر۔د۔میں۔ آپ ۔۔کو ۔میں ۔آپ۔سے۔بہت۔خود۔سے ۔بھ۔ی۔زیا۔دہ۔مح۔بت۔۔۔
بیوی، نو، نو، آنکھیں بند نہیں کرنا اوکے، تمہیں پتا ہے دس ٹائم آئی نیڈ یو، ڈونٹ ڈو دس یار ۔۔۔ اسے باہوں میں بھر کر وہ سیدھا اپنے روم میں آیا تھا۔ اس بارش نے اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں ڈالا تھا اسے عادت تھی اس طرح کئی کئی گھنٹوں تک وہ بارش میں بھیگتا تھا، راتوں کو سویا تھا، سات سال پہلے سزا میں اسے ساری رات بارش میں بھیگنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ مگر اس کی کمزور نازک بیوی آج اسکی وجہ سے بےحال ہو گئی تھی۔ اسکی حالت دیکھ کر وہ اپنا سارا غم بھول گیا تھا۔ بالکل ایسے جیسے اسکی تکلیف میں حیات اپنا سارا خوف بھول گئی تھی۔
بیوی، اوپن آئیز یار، کیوں گئی تم باہر۔۔۔ تھوڑا تو ریسپانس کرو یار، تمہیں میرا درد چاہئے نا تو اپنا درد کیوں دے رہی ہو۔ اس کے ٹھنڈ سے اکڑتے جسم کو حدت پہنچاتا وہ اسکی حالت سے خوفزدہ ہو رہا تھا۔ جو اب سردی سے بچنے کے لیے سر پٹک رہی تھی۔
آئم سوری بیوی میں نے ابھی غلط کیا اتنا نہیں کرنا چاہئے تھا۔۔ میرے شدید عمل نے تمہیں۔۔۔ اپنی تکلیف میں تم میں انڈیل گیا، آئم سوری۔
نن۔نہیں ۔آپ۔نے۔کچھ۔غلط۔نہیں کیا۔۔ اسکی طرف ہاتھ بڑھا کر اسے اسکی پناہ مانگی تھی۔ جو وہ بلا دریغ دے گیا تھا۔
مجھ سے محبت کرتی ہو نا تو کیوں تکلیف دے رہی ہو۔ دیکھو کتنا اکڑ رہا ہے تمہارا جسم، سوچ لو پھر۔ جس خوف سے دور دور تھیں نا مجھ سے وہ سب کچھ کر گزروں گا۔۔ کوئی پرواہ نہیں کروں گا تمہاری جیسے تم اب میری نہیں کر رہی ہو۔۔۔۔ اسکے کپڑے تبدیل کر کے وہ اسے اپنے سینے میں بھینچے اسکی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کر تا اسے بولنے پر اکسا رہا تھا۔
میرا حکم ہے بیوی، سنو مجھے، اور میرا حکم نہیں مانوگی تو اللہ ناراض ہو جائےگا تم سے۔ وہ مسلسل اسے بولنے کے لیےکہہ رہا تھا۔ جب اس نے ایک گہری سانس لی تھی، اور اسکی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی۔
نن مم۔مجھے۔۔ آپ۔کی۔۔بہت۔۔ف۔کر ۔ہے۔۔بہت۔۔۔خو۔د۔۔سے۔۔بھی۔۔زیادہ۔ اور۔۔اس۔لیے۔۔۔
اللہ۔میں ۔۔م۔جھ ے۔تک۔لی۔ف۔ہے۔یہا۔ں۔کم۔کر۔یں۔اسے۔ آ۔ئی۔نی۔ڈ۔یو۔م۔و۔ر۔۔دین۔۔یو۔ آپ۔ٹھ۔ی۔ک۔۔۔ہیں۔نا۔۔آپ۔سب۔سے۔اچ۔چھے۔۔ہیں۔۔آمنہ۔۔ماں۔۔آپ۔سے۔ بہت۔ خوش۔۔ہیں۔۔وہ۔۔سب۔سے۔اچھی۔۔جگہ۔۔ہیں ۔اللہ کے۔ پاس۔۔اللہ۔۔نے۔۔انہیں ۔۔رسوا۔۔نہیں ۔۔ہونے۔دیا۔۔ میں۔۔آپ۔۔۔مجھے ۔۔آپ۔۔کی۔۔ضر۔رو۔رت۔۔ہے۔۔۔بہت۔۔بہت۔زیادہ۔۔۔ وہ نیم بےہوشی میں بھی اسکا حکم مان گئی تھی اسے اپنے رب کو ناراض نہیں کرنا تھا۔
بہت برا ہے تمہارا شوہر ہر بار تمہیں تکلیف دیتا ہے۔ کاش میں ٹیرس پر نہ جاتا، آئی لو یو بیوی ،، اس طرح مت کرو کیوں تڑپا رہی ہو۔ میں ناراض ہو جاؤں گا تم سے اگر ریسپانس نہیں کروگی تو۔۔ وہ مسلسل اس سے بات کر رہا تھا۔ اس کے سینے کی گرمی بھی کوئی اثر نہیں دکھا رہی تھی۔
خو۔د کو۔۔تکل۔لیف۔۔نہ۔دیں۔۔مجھے۔ آپ۔کی۔۔آپ۔۔سے۔۔زیا۔۔دہ۔۔ضر۔۔ر۔و۔رت۔۔ہے۔ اور پھر اسے کچھ ہوش نہیں رہا تھا۔ شاید نوفل احمد خان کا غم اس کی بیوی کی فکر سے ہی دور ہو سکتا تھا جس طرح اب وہ اپنے غم کو بھول گیا تھا۔ فکر تھی تو بس اپنی بے جان ہوتی بیوی کی۔ اور جس رنگ سے وہ دونوں دور تھے قسمت نے انہیں اس رنگ میں رنگنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
ہاں! بیوی تمہیں میری ضرورت ہے۔ بہت زیادہ سے ہے، مجھ سے بھی زیادہ، میں اس تکلیف کو دور کر دوں گا،تم مجسم میری ہو، اور میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا اسکے ڈولتے جسم کو سنبھالتا وہ اس میں اپنی تمام تر حدت اپنی شدتوں کے ساتھ پہنچا رہا تھا اس کا وجود مکمل اس میں چھپا ہوا تھا۔ اور پھر نوفل احمد خان نے جو فیصلہ کیا تھا وہ اسکی بیوی کے لیے انتہائی ضروری تھا۔
******************
پرحدت گرم وجود کے لمس سے اس کی آنکھ کھلی تھیں۔ نظریں جھک کر اپنی متاع کا طواف کرنے لگیں جو اس میں مکمل چھپی ہوئی تھی۔ اس کا چہرا اسکی گردن میں اس طرح چھپا ہوا جیسے کسی غلاف میں لپٹا ہو۔ اور اس چہرے کی گرماہٹ بتا رہی تھی اس کی بیوی بخار میں تپ رہی ہے۔
بیوی، وہ اس کو سیدھا کر کے اس پر جھکا تھا۔
ہمم۔۔۔
بیوی، نماز پڑھنی ہے نا؟۔۔ اسکے کان پہ لب رکھ کے سرگوشی تھی۔ جس پر حیات نے سر ہلایا تھا۔ اذان کے بجتے الارم سےاس کا پہلا دھیان نماز کی طرف ہی گیا تھا ورنہ پھر اس کی بیوی نے نماز چھڑوانے پر ناراض ہو جانا تھا۔
چلو اٹھو پھر، نماز کے بعد ناشتہ کر کے میڈیسن لے کر پھر آرام کرنا۔ اس کے کہنے پر وہ اٹھی تھی مگر کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے پھر سے بستر پر گر گئی تھی۔
بیوی، اٹھا نہیں جا رہا ہے وہ پھر سے اس پر جھکا تھا۔
اونہہ۔۔۔ سر ہلا کر جواب دیا تھا۔
اوکے پھر، تم آرام کرو اٹھ کر پڑھ لینا، میں نماز پڑھ لوں پھر تمہارے لیے کھانے اور میڈیسن کا انتظام کرتا ہوں۔۔ وہ اٹھا تھا جب حیات نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
مجھے۔بھی۔ادا۔پڑھنی۔ہے ۔قضا۔نہیں۔ میں واشروم۔جانا۔ہے۔
بیوی تم اٹھ نہیں پا رہی ہو، کیسے پڑھوگی نماز۔۔۔ اٹھنے کی کوشش کرتی حیات کو اس نے پھر سے لٹایا تھا۔
میں۔ ہوش میں ہوں۔اور ہوش۔مندوں کے۔لیے نماز کی چھوٹ۔نہیں ہے۔ جب طبیعت خراب۔میں ۔میں آپ۔کے۔لیے تکلیف سہہ۔سکتی۔ہوں تو۔آپ سے۔زیادہ۔تو مجھے اپنے۔ اللہ سے محبت ہے۔ مجھے نماز۔ پڑھنی۔ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ نوفل احمد خان اسے بازوؤں میں لے کر واشروم چلا گیا تھا۔
جہاں رشتہ کی تکمیل ہوئی وہاں یہ بھی جائز تھا۔ اور نوفل احمد خان جانتا تھا اسے کیا اور کس طرح کرنا ہے۔اس وقت اسکی بیوی میں اتنی کمزوری تھی کہ وہ خود سے کچھ نہیں کر پاتی۔ کمزوری کل شام سے بھوکا ہونے اور بہت زیادہ خوفزدہ ہونے کی وجہ سے تھی۔ اور اسے بہت سی کمزوری دینے والا تو وہ خود تھا۔غنودگی ایسی تھی کہ اسے محسوس ہی نہیں ہو پا رہا تھا کہ نوفل احمد خان اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ اور نوفل احمد خان پل پل اپنے رشتہ کو معتبر کر رہا تھا۔
جسم پر گرم پانی پڑ نے سے منجمد احساس کچھ پگھلے تھے تو اسے نوفل احمد خان کی سمجھ آئی تھی۔
یہ۔آپ۔کک۔کیا۔کر۔رہے۔ہیں۔۔ جائیں۔پلیز۔۔ میں خود۔لے۔لوں۔گی۔باتھ۔
کیا تمہیں لگتا ہے میں تمہیں اس طرح بےپردہ کر رہا ہوں؟ اسکے احتجاج کرتے ہاتھوں کو روکتا وہ اسکے چہرے پر جھکا تھا۔ جو نیم وا آنکھوں سے سر کو نفی میں ہلا رہی تھی۔ واشروم کی لائٹ بند تھی، بس باہر اسٹریٹ لائیٹ کی ہلکی سی جھلک سے بس مکمل اندھیرا نہیں تھا۔
چلو اب لیٹ کر نماز پڑھ لو بالکل بے جان ہو رہی ہو۔
نہیں۔۔آپکی۔۔امامت۔میں ۔۔پڑھنی۔۔ہے۔
کچھ دیر بعد اس کی ضد پر نوفل احمد خان نے اپنی امامت میں اسے فجر ادا کروائی تھی جو اس نے بیٹھ کر ادا کی تھی۔
مجھے یٰسین۔ سنا۔ دیں۔ مجھ ۔میں ۔ہمت ۔نہیں ۔ہے۔ اس کے کہنے پر وہ اس نے اسے خود کی ٹیک دیکر بٹھایا اور پھر بالکل اس کے کان میں تلاوت کرنے لگا۔۔۔ اور اس نے محسوس کیا تھا اس کی بیوی کتنی پرسکون ہو گئی تھی۔
اسے آرام سے لٹا کر وہ کچن میں آیا تھا۔ جتنا کل وہ تکلیف میں تھا کسی طرح نہیں سنبھل رہا تھا۔ تو اس کے رب نے پھر اس کا غم دور کرنے کے لیے اسکی بیوی کو چنا تھا۔
*******************
بیوی، ناشتہ کرنا ہے اٹھو۔۔۔۔ سائڈ میں ناشتہ کی ٹرے رکھ کر اسے اٹھایا تھا۔
مجھے سونا ہے،
ٹھیک ہے پھر، مجھے بھوک لگی تھی کل سے کچھ نہیں کھایا، اب بھی نہیں کھاؤں گا۔ انداز میں نقاہت پیدا کرنے کی کوشش کی جو کامیاب ٹھہری۔
پیٹ بھر کے ناشتہ کرنے کے بعد واقعی اس میں ہمت آئی تھی۔ اس کی وجہ سے نوفل احمد خان نے بھی نا چاہتے ہوئے بھی ڈٹ کے کھایا تھا۔
آپ۔ سچ۔میں ۔اب۔سیڈ۔نہیں ہیں نا۔؟ ہمت آئی تھی تو کل کی قیامت بھی یاد آئی تھی۔
ہاں، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ لہجہ چغلی کھا رہا تھا مگر اب وہ اپنی وجہ سے اسے اور پریشان نہیں کر سکتا تھا۔ کل کی قیامت تو پوری جزئیات کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی تھی، جس میں حیات کی قربت اور توجہ نے بے بہا کمی کی تھی۔ اور اب اس کی فکر میں وہ خود کو بھولے ہوئے تھا مگر وہ تکلیف اتنی جلدی بھولنے والی نہیں تھی۔ اس کے پوچھنے پر اس کا دل اندر ہی اندر رو دیا تھا۔
آپ پلیز میرے پاس آئیں۔ اسکے بلانے پر وہ اس کے قریب بیٹھا تھا۔ جب اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اور قریب کرنے کی کوشش کی تھی۔ جو نوفل احمد خان نےخود ہی اس سے بالکل فاصلہ ختم کر کے آسان کردی تھی۔ اور پھر حیات اس سے لپٹ کر اپنی تکلیف کم کرنے لگی تھی۔
بیوی، کیا ہوا ہے۔ کیا تم رات جو ہوا اس کی وجہ سے۔۔۔؟
آئم سوری۔ میں۔آپکی ۔تکلیف۔ کم ۔کرنا ۔چاہتی ۔ہوں ۔مگر۔ خود ۔ہی ۔بیمار ۔ہو ۔کر ۔آپکی ۔تکلیف۔ اور ۔بڑھا۔ دیتی ۔ہوں۔۔ میں بہت۔۔ویک۔۔ہوں ۔۔میں آپ۔کو خوش۔نہیں ۔رکھ۔پا۔رہی ہوں۔۔آپکو۔میری۔وجہ۔سے۔بہت۔پریشانی۔ہوتی۔ہے۔ آئم۔ سوری۔ رو رو کر بولتی وہ اسے بوکھلا گئی تھی۔
کیا کہہ رہی ہو بیوی۔۔۔ ویک نہیں ہو تم۔ اور ہو بھی تو نوفل احمد خان اپنی بیوی کو مضبوط کرنا جانتا ہے۔۔ اور بیمار بھی نہیں ہو۔ سمجھی۔۔ تم نہیں جانتی بیوی اگر تم ایسی نہیں ہوتی بیوی تو میں کسی غم سے کسی اندھیرے سے باہر نہیں آتا۔ اور تم مجھے خوش نہیں رکھتی بلکہ تم مجھے میرے جینے کی وجہ دیتی ہو۔ میری روح کو سیراب کرتی ہو۔۔ تم نے ہارے ہوئے نوفل احمد خان کو جتایا ہے۔ تم نے اسے اس کے رب سے ملایا ہے۔ اسکی کمر کو سہلاتا وہ اس میں صور پھونک رہا تھا۔
میں۔۔ رات۔۔آپکی۔ساری۔تکلیف۔۔ختم۔۔کرنا۔۔چاہتی۔۔تھی۔۔مگر۔۔میں ۔ آپ کے ۔لیے۔کچھ۔نہیں ۔کر۔پاتی۔
چپ بالکل،اب اگر روؤگی نا تو پھر میں ناراض ہو جاؤں گا۔ اور رات تم نے میری تکلیف ختم کی ہے بیوی۔۔ ہاں تم نے نوفل احمد خان کو رات ٹوٹنے سے بچایا ہے۔ اور جو رات تم نے کیا ہے میں جانتا ہوں اس کے لیے تمہیں کتنی ہمت لگی ہوگی۔ اسکے کہنے پر اسے اپنی رات کی نوفل احمد خان کے ساتھ کی گئیں کچھ شدتیں یاد آئیں تھی۔
کیا ہوا، اسے ایکدم سے رخ پھیرتے دیکھ کر وہ زیر لب مسکرایا تھا۔
کک۔چھ۔۔نہیں۔۔
اگر میں بار بار اتنی بیمار پڑوں گی تو آپ مجھ سے بیزار ہو جائیں گے نا۔
واٹ۔ بیوی لگتا ہے رات کی بارش تمہارے سر پر اثر کر گئی ہے۔اسے اسکے ایکدم زور سے بولنے پر اس کا کل والا روپ یاد آیا تھا۔ وہ ایکدم خاموش ہوئی تھی۔
بیوی، تم مجھ سے ڈر رہی ہو بیوی۔ اسے اس کا حصار توڑ کر پیچھے ہوتے دیکھ کر اس نے بھنویں اچکائی تھیں۔
آپ غصہ۔ میں ۔بہت۔۔ڈینجر۔۔لگتے۔۔ہیں۔ کل ۔آپ۔ نے ۔مجھے۔ بہت ۔زور۔ سے۔ چلائے تھے۔ اس کا کل ڈر کا عود کر آیا تھا۔
اسی خوف سے بچانے کے لیے چلایا تھا۔ اور ذرا بتاؤ تم نے کل وہ دبنگ حرکت کیسے کردی۔۔۔۔۔ تم مجھ سے ڈر رہی ہو مگر ڈرنا مجھے تم سے چاہئے، کب گن نکال کر۔۔۔۔
ان۔لوگوں ۔سے۔سچائی اگلوانے۔کے۔لیے۔
اچھا!!! تمہیں کیسے لگا تھا کہ وہ لوگ گن دیکھ کر سچائی اگل دیں گے۔۔۔اور تمہیں یہ گن والا آئیڈیا آیا کیسے۔۔۔؟ اسے اب وہ اٹھا کر اپنی گود میں بیٹھا چکا تھا۔ اور پوری طرح اس پر چھا رہا تھا۔ شاید وہ پھر سے اس کا قرب چاہتا تھا۔
آپ نے مجھ سے گن پوائنٹ پر شادی کی تھی، جب گن سے ڈر کر ہم لوگ آپکی بات مان گئے تھے تو وہ لوگ بھی گن سے ڈر کر سچ بتا گئے۔ بس گن کی پاور یاد آ گئی تھی تو میں نے۔۔۔۔
ہاہا ہا ہا ہا ہا تم بھی نا بیوی، اور وہ بھی خالی گن سے کون ڈراتا ہے یار۔۔ اب وہ ریلیکس ہو رہا تھا اسکی بیوی کی باتیں اسے پھر بہکا رہی تھیں۔
اس لیے خالی گن لی کہ گڑبڑی میں گولی نہ چل جاوے یا وہ لوگ چھین کر ہم پر الٹا وار نہ کر دیں، جیسا ان لوگوں نے کیا تھا۔ اور نوفل احمد کو ثمینہ کا حیات کو تھپڑ مارنا یاد آیا تھا۔ آنکھوں میں سرد تاثر پیدا ہوا تھا۔ اس نے اس کا چہرا اپنی طرف موڑا تھا اور پھر اس درد کو محسوس کرتا وہ اسکا درد مٹانے لگا تھا۔
بیوی، کیوں آئی تھیں تم باہر، نہ تم جاتی نہ وہ غلیظ عورت تمہیں ہاتھ لگاتی۔۔ اسکے چہرے پر جھکا جھکا ہی اذیت سے بولا تھا۔
اگر میں نہیں جاتی تو سچ کیسے پتا چلتا اور آپ کو وہ لوگ کتنا گندہ بول رہے تھے۔ آپ پوری لائف پھر ایسے ہی اذیت میں رہتے۔ میں نہیں دیکھ سکتی آپ کو اس طرح خود کو برا سمجھتے۔ میں نے الحان بھائی کو میسیج کر کے سب بتا دیا تھا۔
تو پھر تم ڈر کیوں رہی تھیں، اور ان لوگوں کو پتا لگ جاتا کہ تم کتنی کانپ رہی ہو اور وہ اس کا ابیوز کر لیتے تو۔۔۔
تو آپ ایبیوز ہونے دیتے مجھے۔۔۔؟؟
نہیں بلکل نہیں۔۔۔ اسے زور سے بھینچ کر جیسے محفوظ کیا تھا۔
مجھے یقین تھا۔ تبھی گئی تھی۔ اسے پتا ہوتا یہ سن کر نوفل احمد خان اسے اتنا کنفیوژ کر دےگا تو بولتی ہی نہیں۔
تم مجھ پر یقین کرتی ہو نا۔۔۔ تمہیں رات کا علم ہے؟
ہممم۔۔۔
برا لگا تھا۔۔۔؟
اونہہ۔۔۔
کیوں۔۔۔ اس خوف سے تو تم مجھ سے تین دن تک چھپتی رہی تھیں پھر۔
دادی نے کہا تھا کہ میں اپنے بیوی ہونے کی وجہ سے آپ کا درد کم کر سکتی ہوں۔ جس طرح آپ مجھے سنبھالتے ہیں ویسے میں بھی کروں۔ اسلیے۔ سر جھکا کر معصومیت سے بولتی وہ اس کا ایمان ڈگمگا رہی تھی۔ یعنی اس کی تکلیف پر وہ اتنا پریشان ہو رہی تھی کہ دادی سے مشورے لینے لگی۔
کیا تم اب مجھے اس نظریہ سے قبول کر چکی ہو۔۔۔ طلب واضح تھی۔۔ مگر وہ خاموش سر جھکائے بیٹھی رہی تھی۔
اوکے! چلو اب تم آرام کرو۔ اسے بیڈ پر لٹا کر سائڈ لیمپ آف کیا۔ اور باہر کی طرف بڑھا۔ وہ کچھ دیر اور رکتا تو غلط کر جاتا۔ اسکی وجہ سے اسنے رات اسے برداشت کیا اسکی تکلیف مٹانے کے لیے وہ اس سے عملاً محبت کر رہی تھی۔ اور یہ ہمت اس کی انتہائی کمزوری کی شکل میں آئی تھی۔ اب مزید وہ اسے اپنی طلب کے لیے کمزور نہیں کر سکتا تھا۔ اور اسے ہرٹ کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
سسکیوں کی آواز پر وہ واپس آیا تھا۔ اور اب حیران ہو رہا تھا۔
بیوی، میں اندر نہیں رک رہا باہر جا رہا ہوں۔ پرامس کچھ نہیں کر رہا ۔۔۔۔ وہ اس کے رونے کا مطلب یہی سمجھا تھا۔
حیات آپکی ہے۔۔ مکمل آپکی۔ آپکا حق ہے اس۔پر۔مکمل۔سب سے زیادہ۔
ہاں بیوی تم صرف میری ہو صرف میری۔۔۔ اسکے چہرے کو دوبارہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر اسکے قریب آیا تھا۔
تو کیوں جا رہے ہیں پھر۔۔ رک کیوں نہیں رہے ہیں میرے پاس۔ وہ خوفزدہ تھی کہ کہیں رات کی طرح پھر ڈپریشن میں نہ چلا جائے۔
نہیں جا رہا ہوں بیوی۔۔ یہیں ہوں تمہارے پاس۔ وہ اسی کے پاس لیٹتا ہوا بولا اور ساتھ اسے بھی لٹا لیا۔۔ اور حیات کا خود سے اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹنا اس کے مطلوب دل کو سکون دے گیا تھا۔
بیوی، میرے قریب آنے پر ناراض تو نہیں ہوؤگی۔ اس کے پوچھ نے پر وہ نہ میں سر ہلاتی اس میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔ جسے سمجھتا نوفل احمد خان قہقہ لگانے لگا رہا تھا۔ اور ایک بار اور وہ اس پر مکمل چھاتا چلا گیا اور وہ اسکی چھاؤں میں آسودگی سے آنکھیں موند گئی۔
اور یہ ان کے ہوش حواس میں مکمل ان کے رشتہ کی تکمیل تھی۔
******************
دادی کہتی ہیں کہ انسان کو اپنی کوتاہیوں کی جو اسے پتا ہیں اور جو نہیں پتا سب کی معافی مانگتے رہنا چاہئے۔ کیونکہ بہت سے کام ایسے ہیں، جنہیں ہم صحیح اور حق پر سمجھ کر کر رہے ہوتے ہیں اور بعد میں یہ بات کھلےگی کہ ہم شیطان کے دھوکے میں ہیں۔
یعنی بہت سے غلط کام شیطان نے ہماری نظر میں اتنے اچھے کر دیئے ہیں کہ ہم انہیں فخریہ کرتے ہیں اور پھر سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ غلط نہیں کرتے۔۔ یہاں بہت زیادہ ضرورت ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی۔
فرعون نے حضرت آسیہ کی کنیز کو اس کے اسے خدا نہ ماننے پر اسے زمین پہ لٹا کر اس کے کپڑے پھڑوائے تھے اور اس کے شیر خوار بچہ کو اس کے سینہ پر چھوڑ دیا، اور جب بھوکا بچہ خود کو سیراب کرنے لگا تو اس نے اس ماں کے سینے پر ہی اس بچہ کا سر قلم کروا دیا۔
دوسری ماں کے دو بچوں کو اسنے کھولتے ہوئے تیل میں ڈلوا دیا اور اللہ نے اس ماں کے کلیجہ کو ٹھنڈک کیسے دی پتا ہے۔۔؟
کیسے؟ وہ بہت غور سے اسکی باتیں سن رہا تھا۔ کون کہہ سکتا تھا کچھ دیر پہلے جس میں اٹھنے بولنے کی بھی ہمت نہیں تھی وہ اب اسے کتنے متوازن الفاظ اور لہجہ میں اسے سمجھا رہی تھی۔
جب تکلیف سے اس ماں نے آسمان میں دیکھا تو اللہ نے اس کے بچوں کو ان کے مقام کے ساتھ دکھا دیا یعنی جنت میں۔ وہ ماں اس لیے نہیں تڑپ رہی تھی کہ اس کے بچوں کو ایسی درد ناک موت کیوں مارا۔۔ وہ اللہ کی طرف سے خود کو اس قابل سمجھنے پر رو رہی تھی کہ اللہ نے اسے آزمائش کے قابل سمجھا اور پھر اس تکلیف کو کم کیا، اسے ایک پل کے لیے بھی اللہ سے شکوہ نہیں ہوا تھا۔ اور نہ اس نے فرعون سے بدلہ لیا۔ ان سب مظلوموں کو معلوم تھا اللہ ظالم کی رسی کو بہت دراز کرتا ہے۔ پھر جب کھینچتا ہے تو اگلا پچھلا سب برابر کر دیتا ہے۔
اللہ نے آمنہ ماں کو چنا، پھر خود ہی انہیں بےآبرو ہونے سے بچایا اور پھر انہیں سب سے اچھی جگہ بلوا لیا۔ اور ظالموں کو ان بدلہ دے دیا۔ دیکھیں آج وہ لوگ کتنے برباد ہیں کہ ان کے لیے رحم کی دعا نکلتی ہے۔
دادی کہتی ہیں سب سے بہترین انتقام وہ ہے جو اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ بولتی ہوئی وہ اسکی گود میں رکھے ہوئے نوفل احمد خان کے سر کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھرا رہی تھی۔ اسکی یہ حرکت اور باتیں نوفل احمد خان کو سرور بخش رہی تھی جو اس کے زخموں پر مرہم کا کام کر رہی تھیں۔
دادی نے ہمیں بچپن میں ہی سکھایا تھا کہ کسی دوسرے سے سنی ہوئی بات پر یقین نہیں کرنا جب تک خود نہ سن لو اور سن کر بھی جب یقین کرو جب تک تحقیق نہ کر لو اور ایسا ہی معاملہ دیکھ کر یقین کرنے کا ہے۔ اکثر جو ہم سنتے یا دیکھتے ہیں حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے۔
صحیح کہہ رہی ہو بیوی تم، دادی نے یار کوٹ کوٹ کے بھرا کے علم، تمہارے منہ سے سن کر ایسا لگتا ہے کہ بس سارے درد ختم۔ اسکے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر رکھتا وہ مسرور سا بولا تھا۔ دو مہینے گزر گئے تھے اس واقعہ کو مگر کبھی کبھی نوفل احمد خان اسی فیز میں چلا جاتا تھا۔ اور ہمیشہ کی طرح حیات اسے اپنی دلیل اور الکے بندوں کی باتوں سے اسکا درد مٹا دیتی تھی۔ اور یہ چیز نوفل احمد خان کے لئے دن بدن حیات کے عشق میں اضافہ کر رہی تھی۔
بہت کچھ ہوا تھا اور دو مہینوں میں۔ الحان کے والدین کا انتقال ہو گیا تھا۔ اور اب الحان اور اسکی بہن ایمن اسی فلور پر اپنے گھر میں شفٹ ہو گئے تھے۔ منال اور الحان کا نکاح طے ہو گیا تھا۔ اور ساتھ ہی ایمن اور آزر کا بھی۔ دونوں کی شادی ہفتہ بعد تھی۔
اور اب آپ جائیں آفس۔ دیر ہو جائےگی۔ پھر مجھے گھر جانا ہے اور میں اس بار پورے ہفتہ میں آؤں گی۔ جب تک منال آپی کی شادی نہ ہو جائے۔
نہ بیوی، اپنے شوہر کو اتنا نہیں ستاتے۔۔ اللہ ناراض ہوتا ہے نا۔ ہم دونوں تین دن رک کر آئیں گے۔ ٹھیک ہے نا۔؟ ہمیشہ کی طرح وہ اسی طرح اسے روک لیتا تھا۔ کیونکہ وہ اسکے بغیر صرف اللہ کے راستہ میں رہ سکتا تھا ویسے نہیں اور حیات اب بھی اسکی دلیلوں پر راضی ہو جاتی تھی۔
اپنا خیال بہت زیادہ رکھنا ہے۔ اٹس مائے آرڈر۔ اوکے! کیونکہ اب تمہارے اس پیارے سے چھوٹے سے اسٹمک میں سچ مچ کا بےبی ہے۔ اور یہ جھولا میری بیوی اور اسکے کیوٹ سے ابراہیم اور فاطمہ کے لیے ہے۔ اسے دو تین بار جھلاتا اور اپنی شدتوں کی برسات کرتا وہ آفس کے لیے نکلا تھا۔ اور حیات اسکی سلامتی کی دعا مانگتی وہیں بیٹھی رہی تھی۔
