Hayat by Ain Noon Alif NovelR50624 Hayat (Episode 06)
Rate this Novel
Hayat (Episode 06)
Hayat by Ain Noon Alif
فجر کے بعد وہ کروٹیں بدل بدل کر تھک گئی تھی، بیچینی کیوں تھی وجہ جاننے سے قاصر تھی۔ گھر پہ بھی سب سے بات کر چکی تھی صبح صبح، پھر بھی سکون میسر نہیں آیا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ شام میں اس کا ریسیپشن تھا۔ اس کے گھر سے کوئی آنے والا نہیں تھا کیونکہ منال کی طبیعت کافی خراب تھی۔ اور اس کے پاپا کل اس کو لینے آنے والے تھے۔ احمد سے بھی بات کر لی، مگر بیچینی تھی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ تھک ہار کر وہ کچن میں آ گئی تھی۔ اور سوجی کے چھیلے بنانے کی تیاری کرنے لگی۔ صبح صبح اس سے کچھ کھایا نہیں جاتا تھا مگر بےچینی سے بچنےکے لیے خود کو مصروف کرنا ضروری سمجھا تھا۔ اس کی عادت تھی وہ کام کرتے کرتے ہلکی آواز میں یٰسین پڑھتی یا درود و استغفار۔ ابھی بھی یٰسین پڑھ رہی تھی جب نوفل احمد خان کچن میں داخل ہوا تھا۔ وہ روزانہ اسی وقت اسٹیڈیو جاتا تھا۔ حیات اس وقت اپنے روم میں ہوتی تھی۔ مگر اس کو دیکھ کر وہ خود کو روک نہیں پایا تھا۔ آج تین دن بعد وہ اس کو دیکھ رہا تھا۔وہ خاموشی سے اسے سن رہا تھا کیونکہ وہ خود اکیلا سمجھ کر بلند آواز سے پڑھ رہی تھی جو نوفل احمد کے کانوں کو شاید زیادہ ہی بھلی لگ رہی تھی جو اسے اپنی موجودگی کا احساس کروائے بنا سن رہا تھا۔
آواز اچھی ہے بیوی! “سنگنگ میں ٹرائی کیوں نہیں کرتی”، آخری چھیلا اتارتے ہوئے وہ اسکی آواز پر چونکی تھی۔
“لاحولا ولا قوة الا بالله” بلند آواز سے کہتی وہ اس کو اگنور کرتی اپنے کام کی طرف متوجہ ہو چکی تھی۔ اور شاید یہ اگنورینس نوفل خان کو پسند نہیں آئی تھی۔ جبھی اس کے قریب آ کر کھڑا ہوا تھا۔
کیا مذاق ہے بیوی۔ پھر سے استغفار کیا تھا۔
ناشتہ کریں گے۔ پھر سے اسکے سوال کو نظر انداز کیا تھا۔
کیوں؟ آج بھی زیادہ بنا لیا؟ یا پھر صبح صبح ڈیٹ کرنی ہے میرے ساتھ۔ اس کے معاملے میں وہ نہایت بےاصول ثابت ہو رہا تھا۔ جس طرح اس کی بیوی اسے اگنور کرتی تھی اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا اس کی لسٹ سے نکل چکا ہوتا۔ مگر حیات کے معاملہ میں وہ عجیب ہو رہا تھا۔
آپ ڈیٹ کو ایسے بولتے ہیں جیسے جانے کتنی بری چیز ہے۔ حالانکہ جو مطلب آپنے بتایا وہ کہیں سے بھی برا نہیں ہے۔ ایسے تو میرے مما پاپا روزانہ ڈیٹ کرتے ہیں۔ کیوں کہ ڈنر وہ دونوں اپنے روم میں کرتے کیونکہ پاپا کو اکیڈمی سے آنے میں دیر ہو جاتی تھی اور ہم سب کھا لیتے تھے۔
اوہ! گریٹ۔ چلو پھر ہم بھی ڈیٹ کرتے ہیں کیونکہ تم نے ابھی بھی زیادہ ناشتہ بنا لیا ہے۔ اسکے ہاتھ سے چھیلے اور چٹنی کی پلیٹ لیتا وہ ہال میں آ چکا تھا وہ بھی اس کے پیچھے چائے، پانی اور گلاس لے آئی تھی۔
سنگنگ کروگی؟ وہ پھر سے اسی ٹاپک پر آیا تھا۔
نہیں!
کیوں؟
آپ خود گناہ کا کام کر رہے ہیں کافی ہے، دوسرے کو گناہ کی آفر کرنا گناہ کرنے سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ اتنے بڑے ہو گئے ہیں مگر صحیح غلط نہیں پتا آپکو۔
آپ ایک کام کریں یہ انڈسٹری چھوڑ دیں اور کوئی دوسرا کام کریں جو گناہ سے پاک ہو۔ جس طرح آپنے مجھے گناہ کی آفر کی اسی طرح میں آپ کو نیکی کی آفر کرتی ہوں۔ اس وقت اسے سمجھاتی وہ کہیں سے بھی بچی نہیں لگ رہی تھی۔ انداز کیسا صاف ستھرا تھا۔ جس میں ذرا بھی ذلت کی آمیزش نہیں تھی شاید اسی لیے نوفل احمد خان کو برا نہیں لگا تھا۔
کوکنگ کے ساتھ اسپیچ بھی اچھی کرتی ہو بیوی۔ اسنے چھیلے کا بڑا سا ٹکڑا چٹنی میں ڈبو کر کھاتے ہوئے اسے چڑھایا تھا جو واقعی چڑ گئی تھی۔ اور منہ بنا کر کھانا شروع کر دیا تھا۔
بیوی! امپریس کر رہی ہو تم نوفل احمد خان کو۔ دل میں آنے کا ارادہ تو نہیں ہے تمھارا ؟۔ اگر ایسا ہے تو، کیا ارادہ ہے پھر آج ریسیپشن ہے، کل ہنی مون کے لیے چلیں؟ چہرہ اسکے چہرے قریب کر کے وہ اسے پھر سے پزل کر گیا تھا۔
ہنی مون! یہ کہاں ہے؟ اس کے بے تکے سوال پر وہ پھر سے اپنا قہقہہ نہیں روک پایا تھا۔ اور اسے ہنستے دیکھ وہ ناراض سی منہ موڑ گئی تھی۔ کون کہتا کہ ابھی کچھ دیر پہلے یہی لڑکی نوفل احمد خان کو اتنی بڑی بات سمجھا رہی تھی۔ اور اب بالکل بچکانہ انداز میں اس کے ہنسنے پر برا مان گئی تھی۔
بیوی تم کالج گرل رہ چکی ہو نا؟ کس کالج میں پڑھائی کی ہے جہاں ہنی مون کا بھی نہیں سنا کسی سے؟۔۔۔۔ وہ اسے ہر پل حیران ہی تو کرتی تھی۔ وہ ظاہری طور پر بچی لگتی تھی، مگر وہ امیچور نہیں تھی پھر کیا وجہ تھی جو وہ نابلد تھی اس معاملے میں؟
نہیں رہی میں کوئی گرل بس مذاق نہیں اڑایا کریں آپ میرا۔ آپ کو پتا ہے تو آپ بتا دیں کہاں یہ ہنی مون؟۔۔ اس کے منہ پھاڑ کر کہنے پر بمشکل اپنی ہنسی روکی تھی۔
اچھا سیریسلی بتاؤ، اسٹڈی کیسے ہوئی تمھاری، اب کے واقعی سیریس ہوا تھا۔
دسویں اردو اسکول میں کی، بارھویں گرلز کالج سے اور بی ایسی سی پرائویٹ۔ اور انگلش اسپیکینگ کورس کیا ہے۔ مگر اس میں ہنی مون کہاں ہے کہیں نہیں بتایا۔
فلمیں نہیں دیکھتی ہو؟ ایک اور سوال مقصد اسے چڑھانا تھا۔
توبہ استغفر الله۔ کیسی بات کرتے ہیں آپ؟۔ فلموں میں غیر آدمی ہوتے ہیں اور دادی کہتی ہیں کہ نامحرم کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے، سننا کانوں کا، اور سوچنا دل اور دماغ کا، اور ٹیوی انسان کے پورے جسم کو زانی بنا دیتا ہے۔ اسلیے دادی نے نہ مجھے دیکھنے دیا کبھی نا احمد بھائی کو۔ بچپن سے ہی اسکے خلاف ایسا زہر بھرا تھا ہمارے دلوں میں جسکا زہر ابھی تک موجود ہے۔اور وہ جو اس کے کسی بچکانے جواب کی امید کر رہا تھا بےطرح نہ صرف حیران ہوا تھا بلکہ نظریں جو اس پر ٹکی تھی واپس نہیں پلٹی تھیں۔
دل نہیں کیا کبھی دیکھنے کا؟ کرتا تھا نا۔۔ ایک بار ابرار انکل کے گھر احمد بھائی اور میں گئے تھے دیکھنے شکتی مان ۔ بھول پن سے بتایا جیسے ابھی تک افسوس ہو دیکھنے کا۔
پھر؟ وہ ابھی بھی ٹرانس میں تھا۔
پھر کیا؟۔ اللہ بھی ناراض ہوا اور دادی بھی۔ مما پاپا کو بتایا نہیں تھا ورنہ وہ بھی ناراض ہوتے۔
تمھیں کیسے پتا اللہ ناراض ہوا؟ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا وہ کیا جان رہا تھا اس میں۔
کیونکہ شکتی مان دیکھ کر ہم دونوں نے نماز اور قرآن نہیں پڑھا تھا۔ اور دادی نے بتایا تھا کہ جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو نیکی کی توفیق چھین لیتا ہے۔ اور بس تب سے نہیں دیکھا۔ وہ ایسے بتا رہی تھی جیسے کلاس میں کوئی بچہ ٹیچر کے پوچھنے پر اپنی کارگزاری بتاتا ہے۔ اور نوفل احمد اس کو اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے اگر نظر ہٹ گائی تو دوبارہ یہ منظر نہیں دیکھ پائےگا۔ اتنی معصومیت۔
مگر تمھارا شوہر تو فلمی دنیا کا ہے۔ اب کیا سننا چاہ رہا تھا وہ۔ یا پھر وہ اسے اپنے آپ میں دیکھنا چاہ رہا تھا۔
جی! زبردستی کے۔ اور ویسے بھی شادی آپ نے کی میں نے نہیں اس لیے اللہ آپ کو ہی گناہ دےگا مجھے نہیں۔ کیونکہ اسے پتا ہے نا مجھے یہ انڈسٹری پسند نہ اس کے لوگ. اللہ معافی۔ لوگوں سے نفرت نہیں کرنی چاہئے مگر مجھے سچی نہیں اچھے لگتے۔
تو میں تمھیں اچھا نہیں لگتا؟
نہیں!۔۔۔۔ ہاں۔ وہ میں نے سوچا ہی نہیں ۔
آپ کو دیر نہیں ہو رہی ہے؟ اونہہ! آج صرف ارینجمینٹ ہے شام کی گرینڈ پارٹی کی۔ پروڈیوسر کی فلم کی، اور ہمارے ریسیپشن کی۔
اچھا تمھاری کوئی دوست نہیں ہے؟
نہیں! بس احمد بھائی ہیں میرے دوست اور وہ کل آ رہے ہیں۔ اور میں انہیں بتاؤنگی کہ آپ نے گن پوائنٹ پر کیسے نکاح کیا پھر وہ آپ کو اچھا سبق سکھائیں گے۔
رئیلی!
جی رئیلی! اسی کے انداز میں نقل اتارتی وہ بھول رہی تھی کہ وہ اسے ڈرانے میں لمحہ نہیں لگائےگا۔ مگر وہ خوش قسمت تھی جو نوفل احمد اس پر مہربان ہو رہا تھا۔
اس کے بچپنے کو انجوائے کر رہا تھا۔ یا شاید جی رہا تھا۔
چلو! دیکھتے ہیں سالے صاحب کو بھی۔
آج شام کو پانچ بجے پارلر والی آئےگی گھر پر تمھیں ریڈی کرنے۔ پریشان نہیں کرنا اس کو۔ گھڑی دیکھتا وہ اٹھا تھا۔
میں خود تیار ہو جاؤںگی کسی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تمھیں میک اپ آتا ہے؟
ہاں آتا ہے۔
اوکے! ڈریس لیتا آؤںگا میں۔ تم ریسٹ کرو۔ پارٹی لیٹ نائٹ چلےگی۔
مگر میں آپ کی پارٹی میں زیادہ دیر نہیں رہوںگی۔
اوکے! اس سے پہلے گئی ہو کسی پارٹی میں؟
نہیں! میں شادیوں میں بھی نہیں جاتی پارٹیوں میں بھی نہیں۔ پاپا کہتے ہیں بے پردگی ہوتی ہے، اس لیے عادت بلکل بھی نہیں ہے جانے کی، خاص جگہ پر دادی اور مما پاپا چلے جاتے تھے ۔ میں اور احمد بھائی گھر پر رہتے تھے۔
اور نوفل احمد کو سمجھنے میں ایک لمحہ لگا تھا کہ اس کی بیوی دینی علوم کا علم رکھتی ہے اور مقابل کو قائل کرنے کے فن سے بھی آگاہ ہے۔ جس طرح وہ اس سے بحث کرتی تھی، غصہ سے جواب دیتی تھی لگتا نہیں تھا کہ وہ اندر سے دنیاوی معاملہ میں اتنی انجان ہوگی۔جسکو ڈیٹ اور ہنی مون کا مطلب نہیں پتا ہو اسے آج کی پارٹی کا بھی کوئی اندازہ نہیں ہوگا کہ وہاں کیا نوعیت ہوگی؟۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا آج کے دور میں کون ایسا ہوتا ہے، مگر وہ بھول رہا تھا جن کی پرورش کرنے والے اللہ و اس کے رسول سے ڈرنےوالے ہوں انکی اولادیں ایسی ہی معصوم ہوتی ہیں۔ جنہیں ضرورتِ وقت ہی کچھ خاص علم دیا جاتا ہے وقت سے پہلے نہیں۔
اب آپ اس طرح دیکھنا بند کریں۔ مجھے سچ میں کریم پاؤڈر اور کاجل لگانا آتا ہے۔ دادی اور مما منع کرتی تھیں لگانے، مگر میں کبھی کبھی لگا لیتی تھی مما کو دیکھ کر۔ تو آتا ہے مجھے میک اپ۔
اسکی مسلسل ہوتی گہری نظر اسے پھر سے پزل کر رہی تھی۔
اور وہ پتا نہیں کیا سوچتا ہوا اسے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔ اور کیا تلاش کر رہا تھا وہ اس میں؟ کبھی بہت بڑی سی کبھی بالکل بچی وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا وہ کیوں اس کے ساتھ اپنے وقت کی پرواہ کیے بغیر اپنی عادت ترک کر رہا تھا۔ جو نوفل احمد خان مروت میں بھی نہیں مسکراتا وہ بلا وجہ بے مطلب اپنی بیوی سے باتیں کر کے قہقہہ لگاتا ہے۔
اچھا وہاں آپکی فیملی بھی آئےگی؟ اس نے اس کا دھیان بٹانا چاہا تھا مگر!
جواب نہ پاکر وہ اس کے سامنے سے برتن اٹھا کر کھڑی ہوئی تھی منہ ہنوز بن گیا تھا۔
دو قدم چلی تھی جب نوفل احمد خان بے اختیاری میں اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ چکا تھا۔ اور جو اس کی امید بھی نہیں کر سکتی تھی اس کے گود میں گری تھی، چہرہ اس کے چہرے سے رگڑتا سینے پر ٹکا تھا۔ بے اختیار گلے سے چیخ برآمد ہوئی تھی۔
یا اللہ! کتنے بدتمیز ہیں آپ۔ ایسے کون گراتا ہے۔ اب تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا کہ آپ ٹیبل کی طرح مجھ کو پٹک دیں۔ احمد بھائی کو یہ بھی بتاؤںگی۔ اس کی دھمکی پر اس نے اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔ اور وہ جو اٹھنے کی کوشش میں تھی مکمّل اس کے حصار میں ہوئی تھی۔ اور اب اسکی قربت اسے انتہائی نروس کر گئی تھی۔ اسے اس سچویشن کا اندازہ نہیں تھا پھر بھی وہ کنفیوز ہو رہی تھی۔ اور نوفل احمد اس کی پرواہ کیے بغیر اس کی مزاحمت کو بےتاثر انداز میں دیکھ رہا تھا۔ اس نے ایسا کیوں کیا تھا وہ خود بھی جاننے سے قاصر تھا، وہ اس کے ہلتے لبوں کو دیکھ رہا تھا، اسکی آنکھوں میں آنے والی نمی کو دیکھ رہا تھا مگر وہ کس جہاں میں تھا اسے کچھ پتا نہیں تھا۔ ہوش تب آیا جب اس کے سر ہر ٹھنڈے پانی کا جگ الٹا گیا۔ گرفت ڈھیلی ہوئی تھی اور اسی فائدہ اٹھا کر وہ صوفے سے ہی دوسری طرف جمپ کر کے اپنے روم کی طرف بھاگی تھی۔
آپ بہت ہی بدتمیز اور گنڈے انسان ہیں بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔۔ میں کل جاکر واپس نہیں آؤںگی۔ اور پاپا سے آپ کی شکایت بھی کروں گی۔ دروازے میں رک کر اسے سنائی تھی اور دھاڑ سے دروازہ بند کر لیا تھا۔
اور وہ نک سک سے تیار پانی میں مکمل بھیگا ہوا ابھی تک ایسے بیٹھا تھا جیسے اسے کسی نے پتھر کا کر دیا ہو۔ کیا ہو رہا تھا اسے۔ یہ شادی کے بعد تیسری بحث تھی اس کی حیات سے اور ہر بار وہ خود اسے اکساتا تھا بےمطلب باتیں کر کے۔ اور پھر اس سے بات نہ کرنے کا ارادہ کرتا مگر تیسرے دن پھر سے ویسا ہی کرتا۔ اور آج کی باتوں سے وہ اپنے آپ میں نہیں رہا تھا، اس سے برداشت نہیں ہوا تھا حیات کا خود سے دور جانا اس لیے وہ اسے قریب کر گیا تھا۔ ایسا بےاختیار تو کبھی بھی نہیں ہوا تھا وہ۔ تو کیا حیات۔۔۔۔
فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی مگر وہ ابھی بھی ویسے ہی بت بنا بیٹھا تھا۔
**********
کیسے ہو نوفل احمد خان؟۔ آج کل بڑے سرخیوں میں ہو۔ لڑکیوں کا کرش بن گئے ہو۔
وہ ابھی بھی صبح میں حیات کے ساتھ گزرے لمحوں کے سحر سے آزاد نہیں ہو پایا تھا۔ بار بار اس کا آفر، اسکی معصوم باتیں، دھمکیاں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں اور پہلی بار نوفل احمد نے خود کو ان لحموں کے حوالے کر دیا تھا۔ جب کوئی اس کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھا تھا۔
سلیم! اسنے آنے والے کی باتوں کو اگنور کر کے اسپاٹ بوائے کو ًآواز دی تھی جو اس کی ایک ہی پکار پر فورا حاضر ہوا تھا۔
ج-ججی سر!
کیا یہاں رات کوئی دعوت تھی۔ جس کی وجہ سے یہاں ہڈیاں موجود ہوں؟ اسکی عجیب باتوں پر نا صرف سلیم حیران ہوا تھا بلکہ آنے والا بھی حیران تھا۔
ن-ننہیں سر! یہاں کوئی دعوت نہیں تھی۔ تو پھر ہڈیاں کہاں سے آئیں گی سر۔
تو پھر صبح صبح کتے یہاں کس کی بو سونگھتے ہوئے آئے ہیں؟ دبی دبی ہنسی سے آنے والا سمجھ گیا تھا کہ نوفل احمد خان ابھی بھی ویسا ہی ہے ایک ہی وار میں مقابل کو چت کرنے والا۔
آنے والے نے زبردستی کی ہنسی سے اپنی کھسیاہٹ چھپائی تھی اس کا مطلب وہ کچھ سوچ کر آیا تھا اسلیے ابھی تک وہیں بیٹھا تھا۔
یاور قریشی یہاں یقیناً تھماری خوراک موجود نہیں ہے۔ باہر تلاش کرو شاید تمھارے قبیلے کے لوگوں کے پاس مل جائے۔ یہاں موجود اسپاٹ بوائے بھی ہیلتھ کونشیس ہیں۔ جانوروں سے دور رہتے ہیں۔
ماننا پڑےگا نوفل احمد خان رسی جل گئی پر تمھارے بل نہیں گئے۔
تم مان لو نوفل احمدخان چاہے جتنی بلندی تک پہنچ جاؤ رہوگے ایک ویشیہ کے بیٹے ہی، اور تمھاری قسمت میں بھی تمھاری ماں جیسی لڑکیاں ہی لکھی ہیں۔ بھاگ گئی نا جس سے شادی کر رہے تھے۔ اور یہ وہ پوائنٹ تھا جہاں نوفل احمد خان خود پر اختیار کھو دیتا تھا۔
کیا کہا تھا تم نے؟۔۔ “مانیہ جیسی لڑکی سے شادی کرنے سے بہتر ہے بغیر شادی کے رہ لو”۔ اور کیا کہا تھا “میں ایک شریف لڑکی سے شادی کر کے دکھاؤں گا” ہاہاہاہاہاہا نوفل احمد خان جس کے پیچھے لڑکیاں پاگل ہیں وہ جس سے شادی کر رہا تھا نکاح کے وقت ہی بھاگ گئی۔ اب کے اس کی آواز بلند تھی۔ سب دم سادھے سن رہے تھے کسی کو بھی تو نوفل احمد کی زندگی کی خبر نہیں تھی اسلیے سب بڑی دلچسپی سے سن رہے تھے۔
اور یہ نوفل احمد خان کے ضبط کی آخری حد تھی۔اگلے پل یاور قریشی کا گریبان نوفل احمد کے ہاتھوں میں تھا۔
تجھ سے کہا تھا نا اپنی حد میں رہنا ورنہ زمین میں گاڑ دوںگا۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتا وہ غرایا تھا۔ اسکی غراہٹ سے یاور قریشی خوفزدہ ہوا تھا، مگر آج وہ اسکو برباد کیے بغیر نہ جانے کا ارادہ کر کے آیا تھا۔
سچ تو تم بھی جانتے ہو نوفل احمد، جیسے تم حرام کی اولاد ہو ویسے ہی تمھاری زندگی میں لوگ آئیںگے۔ تمھاری گرل فرینڈ منال تمھارے پیسے کے پیچھے تھی، تم سے کوئی مطلب نہیں تھا اسے اس لیے تو بھاگ گئی اپنے دوسرے یار کے ساتھ جب اسے پتا چلا کہ تم حرامی ہو، ایک بدچلن آوارہ عورت کے بیٹے، اور اگلے پل وہ زمین کی دھول چاٹ رہا تھا۔ نوفل احمد خان بری طرح اس پر برسا تھا، جب عتیق بھاگتے ہوئے آیا تھا اور اپنے باس کو بڑی مشکل سے لوگوں کے ساتھ مل کر قابو کر پایا تھا، ورنہ اس بپھرے شیر کو قابو کرنا اسکے اکیلے کے بس کی بات نہیں تھی۔
یہ مار تمھیں بہت مہنگی پڑےگی نوفل احمد خان، چھوڑوںگا نہیں میں تمھیں یاور قریشی دھمکی دیتا جان بچا کر بھاگا تھا۔ اور کوئی نہیں جانتا تھا اس جنگ کی لپیٹ میں کون آئےگا۔
سیٹ پہ موجود تمام لوگ آپس میں منال کے بھاگنے اور اسکی ماں کے بارے گفتگو کر رہے تھے۔ عتیق جانتا تھا یاور قریشی گڑبڑ کرےگا، مگر اتنی جلدی کا اسے اندازہ نہیں تھا ورنہ وہ اس کا سدباب کر چکا ہوتا۔ لیکن جب قسمت ہی کوئی تھپڑ مارنا چاہے تو پھر ساری عقلیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ اور وہ حیران تھا منال سے شادی اور اس کے بھاگنے کی خبر اسے کیسے ہوئی۔ کیونکہ اسی خبر کی وجہ سے یاور قریشی صرف دس منٹ میں ہی اس کے اندر آگ لگا گیا تھا۔ اور اب اس آگ میں کس کو جلنا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا۔
نوفل احمد خان وہاں کی اسپاٹ لائٹ اور کیمرے کے اسٹینڈ جو کہ اس کے قریب تھے ٹکڑے کرتا نکلتا چلا گیا تھا۔
*********
مسلسل آدھے گھنٹے سے وہ پنچنگ کر رہا تھا مگر غصہ تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا اگر یاور قریشی بھاگتا نہیں تو یقینا اس کا قتل آج طے تھا۔ اس کے کردارکشی والے الفاظ نوفل احمد کے ارد گرد دھماکے کر رہے تھے۔اور آج پندرہ دن بعد اسے منال کو ڈھونڈ کر اسکا قتل کر دینے کی چاہت ہوئی تھی۔ اور پھر اسے جو یاد آیا تھا اس نے اس کے چہرے کو مزید پتھریلا کر دیا تھا۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد اسکی گاڑی سڑک پر ایسے دوڑ رہی تھی جیسے وہ اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
