Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 14)

Hayat by Ain Noon Alif

نوفل بھائی حیات کس روم میں ہے، دادی اور مما اس کا انتظار کر رہی ہیں کھانے پر اور وہ نماز پڑھ کر ابھی تک نہیں آئی۔ احمد کے پوچھنے پر اسے کچھ دیر پہلے کا اپنا عمل یاد آیا تھا۔ وہ کب سے اس کے پاس جانا چاہتا تھا مگر ان لوگوں کی وجہ سے خاموش بیٹھا تھا۔ وہ جانتا تھا اسے اب سب سے سامنے لانا مشکل کام ہے۔۔

تم بیٹھو میں دیکھتا ہوں ساتھ ہی اٹھ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔ روم میں ابھی بھی ہلکی ہی روشنی تھی۔ وہ بیڈ کی طرف آیا تھا جہاں اب حیات منہ لپیٹے پڑی تھی۔

بیوی! اس کے پکارنے پر اس میں کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی آدھا گھنٹہ پہلے ہی تو چھوڑ کر گیا تھا اسے۔

بیوی اگر تم نہیں اٹھی تو میں تمہیں گود میں اٹھا کر لے جاؤں گا، پھر مت کہنا بےشرم ہوں۔۔ اس کے کہنے کی دیر تھی وہ نا صرف اٹھی تھی بلکہ بیڈ سے سے اتر کر کھڑی ہو گئی تھی۔ اس کی اس جلدبازی پر وہ اپنی مسکراہٹ روکتا اس سے مخاطب ہوا تھا۔

دادی اور مدر ان لا کیا سوچیں گی بیوی کہ تم انکو اکیلا چھوڑ کر یہاں کیوں چھپ گئی۔ اس کا رخ اپنی طرف کرتا وہ اس کے ڈوپٹے کو صحیح کر رہا تھا۔۔

کیا تم چاہتی ہو سب یہاں آ کر سبب پوچھے۔۔ اس کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

کیا تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ میں نے غلط کیا؟

اونہہ۔ بس مجھے پتا نہیں کیسا لگ رہا ہے سب کو پتا چل گیا تو کیا سوچیں گے سب۔۔۔

تم بتاؤگی انہیں؟

ِِِِ نہیں۔ پاپا نے بتایا تھا تنہائی کی بات سب کو بتانے والا زانی ہوتا ہے۔ میں نہیں بتاؤں گی۔ مگر آپ چہرا دیکھیں میرا کیسا ہو رہا ہے اور ابھی آ پ سامنے ہیں تو اور عجیب سا لگ رہا ہے۔ مجھےایسا لگ رہا ہےجیسے میری طبیعت نہیں ٹھیک ہے۔ اب کے دو قطرے آنکھ سے گرے تھے۔ وہ سمجھ سکتا تھا اتنی جلدی وہ اس کے لمس سے مانوس نہیں ہوگی۔ نہ اتنی جلدی قبول کر پائےگی۔اپنے انگوٹھے سے اس کے آنسو صاف کیے تھے اور اس کا چہرہ اوپر کیا تھا جو واقعی اس کی حالت کا پتا دے رہا تھا۔ الگ ہی رنگ تھے۔ جو اس کی بیوی سمجھنے سے قاصر تھی اور اس رنگ کو اپنی خراب طبیعت سے مشروط کر رہی تھی۔

اور اس کی یہی معصومیت تو نوفل احمد خان کا اثاثہ تھی۔ اسکی ساری تکلیفوں کا ثمر۔ اپنی شدتیں لٹانے سے کتنی مشکل سے خود کو روکا تھا اس نے۔

اوکے میری طرف دیکھو۔۔ اسکے کہنے پر نظر اس کی طرف اٹھائی تھی جو سارے جہاں کی نرمیاں سموئے اسے دیکھ رہا تھا۔

کوئی نہیں سمجھےگا بیوی۔۔ نوفل احمد خان کی بیوی کو ڈرپوک نہیں ہونا ہے۔ اسی کی طرح بہادر ہونا ہے۔ اور میاں بیوی کا رشتہ پاک ہوتا ہے اور جو میں نے کیا یہ اسی پاکی کا حصہ ہے۔ تمہیں گلٹی فیل نہیں کرنا ہے سمجھایا تھا نا ابھی کچھ دیر پہلے۔۔ اس کا چہرہ تھپتھپاتا وہ اسے جیسے تسلی دے رہا تھا۔ اس کے لیے اس کا تحمل کمال تھا یا یہی چیز نوفل احمد خان کی محبت تھی۔

تو پھر آپ وہاں نہیں آئیں گے اور مجھے دیکھیں گے بھی نہیں ٹھیک ہے۔۔؟ اس کی ڈمانڈ پر اس کا دل چاہا کوئی دلفریب جواب اسے دے پھر اس کا بوکھلانا شرمانا اور چھپنا انجوائے کرے۔۔۔ مگر مہمانوں کی وجہ سے مجبور تھا۔ اس کی بات مانتے ہی بنی۔۔۔

*****************

کھانے کے بعد سب لوگ قیلولہ کر رہے تھے جب دادی کو نوفل احمد خان سے باتیں کرنے کا موقع ملا تھا اور وہ خود ان کے پاس آیا تھا۔ جب وہ اسے حیات کے بارے میں بتانے لگیں تھیں۔

میں جب مدرسہ میں پڑھتی تھی اس وقت ہمارے ایک استاد نے کہا تھا کہ ایک بچہ کی تربیت کرنے کے لیے اس کے ماں باپ کی تربیت بیس سال پہلے سے کرنی پڑتی ہے۔ اور تربیت ہی انسان کو معصوم فرشتہ یا شیطان بناتی ہے۔ ہماری ایک پڑوسن تھیں، انہوں نے کہا تھا “آ ج کے دور میں آپ چاہے جتنی کوشش کر لیں اپنے بچوں کو ساری برائیوں سے نہیں بچا سکتے”۔ ایک نے کہا تھا دس بارہ سال کے بچوں کو آج زندگی کا ہر راز پتا ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ ہماری اچھی تربیت کے باوجود گناہوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔۔ اس وقت میں نے کہا تھا بیشک ایسا ہوتا ہے مگر جب تربیت اللہ اور اس کے رسول کے لیے کی جائے، انہیں حرام سے نفرت کرنا سکھایا جائے اور حلال کی تمیز کروائی جائے اس سے محبت کروائی جائے تو تمہارا بچہ معصوم بنتا ہے اللہ کہ نظر میں اور بہترین بھی وہی ہے اور یہ کام بیشک مشکل ہے مگر نا ممکن نہیں۔ تب ان لوگوں نے مجھے کہا تھا یہ باتیں کہنے میں اچھی لگتی ہیں دو چار دن کوشش کریں گے اور پھر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے۔ کیونکہ دنیا کے ساتھ دین کو لے کر چلنا مشکل ہے۔ اور ایسے میں کوئی اتنا معصوم نہیں بن سکتا کہ وہ گناہوں کے راستے سے انجان رہے۔اگر ایسا ہے تو تم کر کے بتانا ایسی تربیت۔۔ یہ بات میرے لیے ایک چیلینج بھی تھی اور اللہ کی طرف سے ایک ہوم ورک بھی بس دیکھنا یہ تھا کہ میری محنت کیسی ہے اور اس کا رزلٹ کیسا ہے۔۔۔ میرے بچے نیک اور معصوم تھے مگر وہ میرا رزلٹ نہیں تھے میرا رزلٹ تو ان کی اولاد کو ہونا تھا۔ جب میں نے اپنی بیٹی کے بچوں کو دیکھا تو اس وقت ان لوگوں کی پیشن گوئی مجھے کچھ کچھ صحیح لگی مجھے بہت تکلیف پہنچی کہ میں ہوم ورک صحیح نہیں کر پائی اب اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گی۔۔۔؟ اس کے بعد اللہ نے مجھے ایک اور موقعہ دیا میرے بیٹے کے آنگن میں اپنی رحمت برسائی اور پھر میں نے پہلے سے زیادہ محنت کی پیپر دو تھے ان کی محنت میں ساتھ دیا میرے بیٹے اور بہو نے۔ اور پھر بیس سال کی اس محنت کا رزلٹ اللہ نے آخرکار مجھے دے ہی دیا۔

اور جانتے ہو وہ رزلٹ کیا ہے؟ اپنی باتوں کو دھیان سے سنتے نوفل احمد خان سے گویا پوچھا تھا۔۔ جس کی سوالیہ نظریں ان کے چہرے پر ٹکی تھیں۔

میرا وہ رزلٹ “میری حیات” ہے۔ محنت کڑی تھی رزلٹ بھی اللہ نے ویسا ہی دیا۔ سو میں سے سو تو نہیں مگر اٹھانوے نمبر ضرورملے ہیں۔ اور دوسرا رزلٹ میرا احمد۔ وہ لڑکا ہے باہر کی دنیا میں جاتا ہے اس لیے انجان نہیں ہے مگر کبھی ان راستوں کا سفر نہیں کیا۔ اور پاک ہے وہ ذات جس نے اسے پاک رکھا۔۔ اور جانتے ہو اس کی پاکی ابھی کی ہے اس نے جس دن تم سے بد تمیزی کی تم سے اپنے والدین کے سامنے اونچی آواز میں بات کی اس دن کی رات میں وہ پوری رات مصلہ پر بیٹھا اللہ کے سامنے معافیاں مانگتا رہا پہلے اپنے ماں باپ سے مانگی پھر اپنے مالک سے۔ جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ والدین کے سامنے حق کے لیے بھی اونچی آواز میں بات نہیں کرنی چاہئے۔ اور اس نے وہ کی تھی۔

اور میری حیات، اگر اس کے ساتھ ہوئے اس حادثہ سے اس کی ایسی حالت نہ ہوتی تو میں اپنی تربیت اور محنت میں پھر سے فیل ہو جاتی۔ اسے دین کا علم بھی ہے اور اس پر عمل بھی۔ وہ فون استعمال کرتی ہے مگر اسے فون میں کیا کیا ہے نہیں پتا۔۔ اس نے اسکول پڑھا بارھویں تک اپنے باپ کے زیر سایہ۔ کالج کیا پرائویٹ لیکن اسے گناہوں کے راستے نہیں پتا۔ شادیوں اور دعوتوں میں ہمارے گھر کی عورتیں بہت ہی کم جاتی ہے بس خاص جگہوں پر اور حیات تو ان جگہوں پر بھی جانا پسند نہیں کرتی تھی۔ کچھ معاملوں میں وہ بہت ضڈی بھی ہے۔اسے نکاح کی اہمیت معلوم ہے مگر اس کے تقاضوں سے بالکل انجان ہے۔ یہاں شاید یہ ہماری کوتاہی ہے یا پھر اس میں اللہ نے تمہارے لئے امتحان رکھا ہے۔۔ یہ اب تم پر منحصر ہے کہ تم اسے کس طرح سنبھالتے ہو، اسکی معصومیت کو برقرار رکھتے ہو یا رولتے ہو۔

مگر وہ ہمارا اللہ پر وہ یقین ہے جسے ہم نے مجسم دیکھا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر ماں باپ دنیا کی پرواہ کیے بغیر اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں اور مسلسل اس پے ڈٹے رہیں اور انہیں حرام سے بچانے اور حلال کھلانے پر محنت کریں تو اللہ کی مدد پھر حیات اور احمد جیسی شکل میں اترتی ہے۔ اور مجھے یقین ہے اللہ اپنے ان معصوموں کو آگے بھی رسوا نہیں ہونے دیگا۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے رب سے ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں۔

ان کی باتوں سے اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اس کا سینہ چیر کر اس کے خالی دل کو بھر رہا ہو۔۔کیا سیکھ رہا تھا وہ، اور کیا کرنا تھا اب اسے۔ کیا اس جیسے گناہوں کی دنیا میں رہنے والے سپراسٹار نوفل احمد خان سے اس کا رب اب کچھ اور کام لینے والا تھا۔ کیا واقعی وہ اپنے رب کو اتنی غفلت کے بعد بھی پیارا تھا۔ اس کی بیوی اس کے عظیم رشتے اس کے لیے نعمت تھے۔

اور ہاں، ہو سکتا ہے کیا؟ مجھے یقین ہے اس کی اس لاعلمی سے تمہیں ہمارے سامنے یا تمہارے اور رشتوں کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑے۔۔ جیسے تم اسے کسی کے بھی سامنے گود میں اٹھا کر لے جاتے ہو۔۔ اور اسے ہنی مون جس ملک کا پوچھ پوچھ کر اس نے ہمارا دماغ خالی کرنے کی کوشش کی وہاں لے کر جانا چاہتے ہو۔ اور آگے بھی پتا نہیں اور کیا۔۔ اب کہ وہ حیران ہو کر انہیں دیکھنے لگا تھا۔ اگر وہ نوفل احمد خان نہ ہوتا تو یقیناً شرم سے منہ چھپا رہا ہوتا۔ کیونکہ اب وہ اپنی حیرانی کو چھپا کر ڈھٹائی سے مسکرا رہا تھا۔

نوفل احمد خان کی بیوی ہے وہ۔ اس کی روح۔ اور وہ اپنی روح کے کسی بھی عمل سے شرمندہ نہیں ہوگا۔ اسکی یہ معصومیت گاڈ گفٹ ہے۔ اور جو مرد ایسی معصومیت کو ابیوز کرتے ہیں وہ مرد نہیں ہوتے۔ اور نوفل احمد خان ایک مرد ہے اپنی عزت کی حفاظت کرنے والا۔ اسکی سچائی اور مضبوطی اس کے لہجے سے عیاں تھی اور دروازے کے باہر سے گزرتے فرحان صدیقی کو اس بات پر یقین آ گیا تھا کہ کچھ نیکیوں کا بدلہ اللہ دنیا میں ہی دے دیتا ہے۔ جیسے انہوں نے اپنی معصوم اور نیک بیوی کو اب تک بھرپور محبت اور عزت سے سنبھالا تھا۔ اس کا بدلہ اللہ نے ان کی بیٹی کو نوفل احمد خان دے کر چکا دیا تھا۔

۔( اور بیشک تم جو بوتے ہو وہی کاٹتے ہو اور یقین رکھو انسان کسی بھی فصل کا بیج ایک ہی بوتا ہے مگر اس ایک بیج سے کئی بیج بنتے ہیں جیسے ماضی میں نیکیاں کیں تو تمہاری طرف ان نیکیوں کو کئی گنا بڑھا کر بھیجا جائے گا اور ایسا ہی معاملہ برائی کا ہے۔ تم اگر زانی و ظالم شوہر ہو تو تمہاری بیٹی کا شوہر تم سے بھی بڑا زانی و ظالم ہوگا، اور ایسا ہی معاملہ تمہارے بہترین شوہر ہونے کا ہے اور اس کا بدل تمہاری بیٹی کو تم سے بھی بہترین شوہر دے کر چکا دیا جائےگا۔ آپکی بیٹیوں کی خوشیاں اور غم آپ کے اپنے عمل کی مرہون منت ہے)۔

کتنی ہی دیر تک وہ ان سے حیات کی باتیں کرتا رہا تھا۔ اور اسکے اتنا خالص ہونے پر اسے خود پر شرمندگی ہوئی تھی۔ بیشک وہ زنا و شراب کے قریب بھی نہیں گیا تھا مگر اس نے تین سالوں تک حرام زندگی گزاری تھی اور سب سے بڑا گناہ اسنے پندرہ سالوں میں ایک بار بھی اپنے رب کو یاد نہیں کیا تھا۔ وہ دنیا کے ساتھ ساتھ دنیا بنانے والے سے بھی ناراض ہو گیا تھا۔

اسے یاد آیا تھا کہ آج وہ انڈیا چھوڑ کر جانے والا تھا اگر الحان کو اس کے جانے کا پتا نہیں چلتا اور وہ اس کے سسرالیوں کو نہیں بتاتا تو وہ لوگ جو کل آنے والے تھے آج نہیں آتے۔ اور وہ پھر سے ایک بار اندھیروں میں گم ہو جاتا۔ اور آج اسے اپنی پندرہ سالوں کی غفلت بھری زندگی کا شدت سے احساس ہوا تھا۔۔۔ کیا وہ اپنی بیوی کے قابل تھا۔۔ ایسی پیور بیوی جس کے جسم میں حرام کا ایک قطرہ تک نہیں گیا۔ کیا وہ اللہ کی اس نعمت کا حق ادا کر پائےگا، کیا اس کے قابل بن پائےگا۔ وہ اس سے دور نہیں رہ سکتا مگر اس کے قابل ضرور بن سکتا ہے۔

**************

عصر کے بعد سب لوگ روانہ ہوئے تھے۔ الحان بھی حیدر آباد جا چکا تھا۔ اور اب وہ دونوں اکیلے تھے۔ نوفل احمد خان ان لوگوں کو چھوڑنے نیچے گیا تھا تو ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ مغرب کی نماز پڑھ کر چائے پی رہی تھی۔ دادی اور مما اسے بہت کچھ سمجھا کر گئی تھیں جنہیں سوچتی وہ چائے کے سپ لے رہی تھی۔ اسے نوفل احمد کے آنے کی بھی خبر نہیں ہوئی تھی۔

غلط بات ہے نا بیوی اکیلے اکیلے چائے پینا۔۔۔ نوفل احمد کی آواز پر اسے پھندا لگا تھا اس کی دوپہر کی حرکت یاد آئی تو فوراً چائے کا کپ اٹھا کر بھاگنے کی تیاری کر چکی تھی۔

آااہاں بیوی! اب نو مور چھپنا۔ چلو بیٹھو کچھ بات کرنی ہے تم سے۔۔وہ اس کی بوکھلاہٹ کی پرواہ کیے بنا اسے واپس اپنے ساتھ بٹھا چکا تھا اور اب اس کے ہاتھ سے مگ لے کر اس کی آدھی بچی ہوئی چائے خود پی رہا تھا۔

کک کیا بات کرنی ہے آپ کو، اس کے بوکھلاہٹ سے سوال کرنے پر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی جو آج بات بے بات آ رہی تھی۔

مجھ سے دوستی کروگی۔۔؟ نوفل احمد اس کے چہرے کو مسکرا کر دیکھتا گویا ہوا تھا۔ کک۔کیوں۔۔؟ اس کی بوکھلاہٹ عروج پر تھی مبادہ وہ کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کر دے۔ اور اب تو وہ پورے گھر میں اکیلے تھے۔

کیا تمہیں اچھا نہیں لگےگا مجھ سے دوستی کرنا۔۔؟ سوال کے بدلے سوال حاضر تھا۔

ا۔ایسی بات نہیں ہے پاپا نے صبح بتایا تھا کہ میاں بیوی دوست ہوتے ہیں اور رازداں بھی۔ اور اللہ ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے۔۔ اس کے معصومیت سے بتانے پر وہ پھر بہکنے لگا تھا اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی اسے اندر تک سکون پہنچاتی تھیں چاہے ان کا کوئی مطلب ہو نہ ہو۔

اچھا اور کیا کیا بتایا؟ اس کے لہجہ کی شرارت سمجھے بغیر وہ رٹو طوطے کی طرح اسے سب بتاتی چلی گئی تھی اور وہ یک ٹک اس کے ہلتے لب دیکھ رہا تھا۔ وہ اسی طرح اس کو اپنی باتوں میں لگا کر اس کی بوکھلاہٹ اور جھجھک کم کر دیتا تھا اب بھی یہی ہوا تھا۔ اور وہ اب دوپہر کی اسکی حرکتیں بھول گئی تھی۔

پھر تم نے کیا سوچا۔ تم بھی دیکھوگی مجھے ایسے، مگر تمہیں تو دیکھنا آتا ہی نہیں۔۔ اس کے خاموش ہونے پر اس نے فوراً اپنے مطلب کا سوال کیا تھا۔

مجھے آ گیا نا دیکھنا پاپا نے بھی تو دیکھا تھا مما کو ویسے میں دیکھوں گی۔۔ پھر اللہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرائےگا۔۔۔ دادی نے صحیح کہا تھا وہ اللہ سے محبت ہر چیز سے زیادہ کرتی ہے اور اسے راضی کرنے کو کچھ بھی کر سکتی ہے، چاہے اس کام کا مطلب پتا ہو نہ ہو۔ جیسے اب دیکھنے کی معنی خیزی کو سمجھے بغیر اللہ کےخود کو مسکرا کر دیکھنے کے لالچ میں اسے مسکرا کر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اور وہ تو اس کی ہر ادا پر پہلے سے زیادہ سرشار ہوتا تھا۔

آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔؟ اس کی گہری نگاہوں سے پزل ہوتی وہ اسے ٹوک گئی تھی۔

تاکہ اللہ مجھے بھی پیار سے دیکھ کر مسکرائے۔۔ وہ اب بھی مسلسل اسے دیکھ رہا تھا۔۔

ہاں تو ایسے مت دیکھیں جیسے میں دیکھ رہی تھی ویسے دیکھیں۔ آپ بہت عجیب دیکھ رہے ہیں۔ وہ مردوں کی معنی خیز نظروں سے بلکل بے بہرہ تھی تبھی الجھ رہی تھی۔ کیونکہ اب تک اس کا ایسی نظروں سے سامنا نہیں ہوا تھا اس لیے اس کے ہر بار دیکھنے پر وہ الجھ جاتی تھی۔

اوکے، اب ایسے نہیں دیکھتا۔ اس کی بڑھتی الجھن پر اس نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تھا پھر نارمل ہو کر اس سے مخاطب ہوا تھا۔

تم مجھے تجوید سکھاؤگی؟ دادی ان لا بتا رہی تھیں قاریوں جیسا انداز ہے تمہارا۔۔ اور میں خود بھی سن چکا ہوں۔

جی سکھا دوں گی مگر اس سے تو میرا مقام بڑا ہو جائے گا آپ سے۔۔ تو پھر آپ کو میری عزت کرنی پڑےگی خود سے بھی زیادہ۔۔ اس کا لہجہ پر شرارتی سا تھا۔ جیسا اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ ایسے ہی ان کی سردارنی بنی رہتی تھی۔

اچھا تو اب کس کا بڑا ہے؟

آپ کا۔ دادی بتا رہی تھیں شوہر کا درجہ بڑا ہوتا ہے اور بیوی کا چھوٹا۔

تو اب تمہارا کیسے بڑا ہو جائے گا۔۔ وہ پھر اسے سوالوں میں الجھا رہا تھا۔

میں آپ کو پڑھاؤں گی تو آپ کی ٹیچر بن جاؤں گی نا۔ اور ٹیچر کا درجہ ماں باپ سے بس ایک درجہ کم ہوتا ہے۔ اور پھر آپ کو میری ہر بات ماننی پڑے گی۔ جو میں ہوم ورک دوں گی آپ کو سب کرنا پڑےگا۔ اور پھر مجھے بیوی کی جگہ ٹیچر کہنا پڑےگا۔ اس کے کہنے پر وہ بےساختہ ہنسا تھا۔

ٹیچر تو میں مان لوں گا اور ہوم ورک بھی سب کروں گا مگر میں تمہیں ٹیچر نہیں بولوں گا۔

کیوں؟ بھنویں اچکائی تھیں۔

کیونکہ تم میرے لئے میری بیوی ہو اور بیوی میں ہی سب کچھ اور میرے لئے یہی تمہارا نام ہے۔ اس لیے بیوی کہنے کی رعایت دے دو۔۔

ٹھیک ہے۔۔ اس کے اجازت دینے پر وہ خوش ہوا تھا۔ وہ اس کے ساتھ بچوں کی طرح باتیں کر کے جیتا تھا۔

تم نے پوچھا نہیں بیوی میں اتنا بڑا ہو گیا ہوں اور قرآن پڑھنا نہیں آتا اور نہ نماز آتی ہے۔۔۔ اس کے پوچھنے پر حیات اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔

دادی کہتی ہیں جب کوئی تم سے کسی چیز کا سوال کرے اور وہ جائز ہو تو اس کی وجہ مت پوچھو بس سوال پورا کردو، اگرپورا کرنے کے قابل ہوتو۔ کیونکہ پوچھنے سے سوال کرنے والا شرمندگی کے زیر اثر آ جاتا ہے اور ہو سکتا ہے وہ تمہارے پوچھنے سے اپنا سوال واپس لے لے۔ تو میں نے ویسا ہی کیا۔ پڑھاتے ہوئے مجھے خود سمجھ میں آجائےگا کہ آپ کو کتنا آتا ہے۔ اس پل وہ کہیں سے بھی دوپہر والی حیات نہیں لگ رہی تھی۔ اس کے بڑوں والے معصوم انداز پر اس کا دل چاہا اس کا منہ چوم لے۔ صحیح کہا تھا دادی نے وہ مومنوں میں ہے۔

تو پھر کب سے سٹارٹ کریں گے۔

کل سے کل میں سب لے آؤں گا جو جو پڑھانا ہوگا۔ ٹھیک ہے؟۔

جی ٹھیک ہے۔ اور اب میں کھانا بنا لوں؟

میرے لئے بھی بناؤگی؟

جی۔ دادی کہہ رہی تھی کہ آپ کو گھر کا کھانا کھلانا ہے۔ باہر کے کھانے کا کچھ بھروسہ نہیں ہوتا۔ اور میں اچھا کھانا پکاتی ہوں۔ اس کی جھجھک وہ اس کے مطلب کی باتیں کر کے بلکل ختم کر چکا تھا۔

چلو پھر تو میں بھی تمہاری ہیلپ کرتا ہوں اسے زبردستی کندھوں سے تھام کر کچن کی طرف چل دیا تھا۔

************

کھانا پکاتے اور کھاتے نوفل احمد نے اس کو تنگ نہیں کیا تھا۔ کسی کے فون آنے پر وہ کچھ دیر پہلے باہر گیا تھا۔ وہ عشا کی نماز اور روزانہ کے وظائف سے فارغ ہو کر سونے کی تیاری کرنے لگی تھی جب اسے یاد آیا تھا کہ اس کا فون نوفل احمد کے روم میں ہے۔ وہ اس کے روم میں آئی تھی، نظر سیدھی اس کے بیڈ پر گئی تھی اور پھر پلٹنا ہی بھول گئی تھی۔ اس کا گاؤن اس کے بیڈ کے سرہانے بڑی احتیاط سے رکھا تھا۔ جہاں وہ نوفل احمد کے لیے اس کی قربت کا ثبوت تھا وہیں اس کے لیے وہ بےحجابی کا درد تھا۔ اور اس کو وہاں رکھ کر نوفل احمد خان ایک بار اور اسے بڑے درد سے دو چار کر گیا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *