Hayat by Ain Noon Alif NovelR50624 Hayat by (Episode 20)
Rate this Novel
Hayat by (Episode 20)
Hayat by Ain Noon Alif
مجھے میری بیوی چاہئے دادی ان لا۔ کہاں وہ۔ کتنے گھنٹے ہو چکے ہیں مجھے آئے ہوئے مگر ابھی تک دیکھنے بھی نہیں آئی۔؟ اب وہ جھنجھلا رہا تھا۔
آجائےگی تمہاری بیوی۔ صبر کر لو ذرا۔ اور لو یہ دوائی کھاؤ۔
بیوی ٹھیک ہے نا؟ میرے پیچھے آپ لوگوں نے اس کا خیال رکھا ہے نا، رونے تو نہیں دیا اس کو۔۔۔ ان کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظرانداز کرتا وہ پریشان ہوا تھا۔ جتنی اس کی طلب بڑھ رہی تھی اتنی ہی وہ اس سے چھپ رہی تھی۔
بہت خیال رکھا ہے بھائی آپکی بیوی کا۔ اور تو اور اب وہ ہمیں آپ کے نام کی دھمکیاں بھی دینے لگی ہے۔ مجال ہے جو کچھ سن لے آپ کے خلاف۔ احمد کی بات پر اب اس کا دل پھڑپھڑا کر رہ گیا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کس طرح اسے سامنے لے آئے مگر کوئی بھی اسے ہلنے نہیں دے رہا تھا۔ اور یہ چیز اس کے اندر غصہ بھرتی جا رہی تھی۔
دادی اس کی کیفیت سمجھ رہی تھیں مگر اپنی سرپھری پوتی کا کیا کرتی جو واقعی چھپی بیٹھی تھی۔ اور پھر وہ جو رکنے کے ارادے سے آئی تھیں واپس جانے کا فیصلہ کر گئی تھیں۔
یہ کیا بات ہوئی دادی آپ نے کہا تھا آپ رکیں گی۔۔ پھر کیوں جا رہی ہیں۔ بار بار اس کا دل رو نے کا کر رہا تھا۔ اسے پتا تھا اگر وہ اکیلی رہ گئی تو بکھر جائے گی جو تکلیف درد اس کے دل میں دبا ہوا ہے وہ پھر سے باہر آ جائے گا۔ وہ نوفل احمد خان کو خود میں دیکھنے کی ہمت کر ہی نہیں پا رہی تھی۔ دادی اسے بہت سمجھا کر احمد کے ساتھ جا چکی تھیں۔ اور اب وہ اکیلی رہ گئی تھی۔
********************
کتنی دیر تک وہ ہال میں ہی رہی تھی، اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اندر جا نے کی، آنسو بار بار امنڈ نے کو بےتاب تھے۔ اسے یقین تھا اگر وہ نوفل احمد خان کے سامنے جائےگی تو ضبط ہار جائے گی۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ سو گیا ہوگا تب وہ ہمت کر کے اٹھی تھی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی روم میں داخل ہو گئی تھی۔ ڈم لائٹ کی وجہ سے کمرا نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ چینج کر کے اس کے برابر میں فاصلہ رکھ کر لیٹ گئی تھی۔
اور پورے پندرہ دن بعد وہ اس کو دیکھ رہی تھی۔ کس قدر بدلاؤ آیا تھا اس میں۔ کندھے سے سینے تک پٹی بندھی ہوئی تھی جہاں زخم کی گہرائی کی وجہ سے ہلکی ہلکی سرخی پٹی کے باہر سے بھی نظر آ رہی تھی۔ دوسرے پٹی اس کے دائیں بازو پر بندھی تھی اس کا حال بھی ایسا ہی تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر وہ شدتِ گریہ سے زور سے آنکھیں میچ گئی تھی جن سے اب گرم گرم سیال بہنے لگا تھا۔ سسکیوں کی آواز روکنے کے لیے وہ ایک ہاتھ سے زور سے اپنا منہ دبا رہی تھی۔
اور نوفل احمد خان جو اس کے انتظار میں اب تک نہیں سویا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر ششدر رہ گیا تھا۔ دادی نے بتایا تھا اسے کہ وہ اپنا اس کے حکم پر بہت خیال رکھ رہی تھی مگر پانچ دن سے وہ مسلسل روزے رکھ رہی تھی اور زبردستی تھوڑا بہت ہی کچھ کھاتی تھی جس سے پھر سے اس کا وزن پہلے جتنا ہی ہو گیا تھا۔ مگر کمزوری حد درجہ بڑھ چکی تھی جس کی وجہ سے وہ دو تین بار بے ہوش بھی ہوئی تھی۔ اور یہ سب سن کر اس کا دل چاہا تھا وہ ایک دو تو اس کو لگا ہی دے۔ مگر اب اسے دیکھ کر جو آنکھیں میچے اپنا منہ دبائے سسکیاں روک رہی تھی اور آنسو لڑیوں میں بہہ رہے تھے۔
بیوی! اس کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولی تھیں اور فوراً کروٹ بدل گئی تھی اور منہ پر تکیہ رکھ کے جیسے چھپنے کی کوشش کی تھی۔
بیوی، میری طرف آؤ۔۔ دیکھو مجھے اٹھنے میں دکت ہوگی اس لیے پلیز میرے پاس آؤ۔ اب کے وہ بے بسی سے بولا تھا۔ مگر اس کی بات سن کر اس نے تکیہ کی گرفت اور مضبوط کی تھی اور نوفل احمد خان خود میں ہمت جٹاتا اس کے بالکل قریب سرکا اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
بیوی! اس کے چہرے سے تکیہ ہٹاتا وہ اسے اپنی طرف کر چکا تھا۔ اور یہاں حیات کی برداشت کی حد تھی۔ وہ اس کے پیروں سے لپٹ کر جو روئی تو نوفل احمد خان کو بھی ڈرا گئی۔
مم۔میں نے آپ کو۔ بہت مس۔ کیا۔ مجھے۔ آپ ۔کا۔ سن ۔ کر۔بہت۔ تکلیف۔ ہوئی۔ تھی۔اور ۔ میں۔ نے۔ آپ ۔کے۔۔۔۔
بیوی، اسٹاپ کرائینگ۔ تم چاہتی ہو مجھے اور تکلیف ہو۔ اس کے بالوں میں انگلیاں گھماتا وہ اسے چپ کروا رہا تھا۔ اس کے پوچھنے پر اس نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔ مگر سر اب بھی اس کی رانوں پر تھا۔
میرے پاس اٹھ کر نہیں بیٹھوگی۔۔۔ اس کے کہنے پر وہ اٹھ کر اس کے قریب بیٹھ گئی تھی، سر جھکا ہوا تھا۔ اور لبوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے مٹھیاں بھینچے وہ ضبط کی انتہاؤں پر تھی۔
اس نے بایاں ہاتھ اٹھا کر اسے اور قریب کرنے کی کوشش کی جس میں اسے درد محسوس ہوا تھا۔ حیات سمجھ گئی تھی وہ کیا چاہ رہا ہے خود ہی اس سے بالکل لگ کر بیٹھ گئی۔
بہت مس کیا مجھے۔۔ اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ اس کا انداز ایسا تھا اس کے ساتھ جیسے کسی باپ کا اس کی لاڈلی بیٹی سے ہوتا ہے اس کے ناز نخرے اٹھانے میں اس کو بہلانے اور یہی تو بہترین شوہر ہوتا ہے جو بیوی کے لاڈ ایک بیٹی کی طرح اٹھائے۔ بالکل بچوں کی طرح۔
بہت سارا۔۔ آپ سے بات کرنے کا بھی دل کر رہا تھا۔ اور مجھے نیند بھی نہیں آتی تھی۔ رونے سے لہجہ دھیما ہو رہا تھا۔ جیسے زبردستی بول رہی ہو۔
تو پھر کیسے سوتی تھیں۔۔؟
آپ کی شرٹ پہن کر۔ اس طرح کہا جیسے کوئی جرم کیا ہو۔ اور نوفل احمد خان کو افسوس ہوا تھا خود کے زخمی ہونے پر پھر بھی وہ درد کی پرواہ کیے بغیر اپنی شدت کا ایک مظاہرہ کر گیا تھا۔ اس کی کراہ کی آواز سن کر وہ دور ہوئی تھی۔
آپ کو درد ہو رہا ہے نا۔۔ اپنی کنفیوژن بھول کر وہ اسکی فکر میں مبتلا ہوئی تھی۔
پاس آؤ بیوی، دور مت ہوا کرو۔ پندرہ دن کم تھے کیا دوری کے۔۔
مگر آپ کو درد ہو رہا ہے نا۔۔۔
تمہارے دور جانے سے درد ہو رہا ہے۔ نزدیک آؤ۔ وہ پھر پہلے کی طرح بیٹھ گئی تھی۔
خیال کیوں نہیں رکھا اپنا۔۔؟ دیکھو پھر سے کتنی کمزور ہو گئی ہو۔۔ ایکسرسائز بھی نہیں کی نا۔۔ اور روئی بھی؟ سب سے منع کر کے گیا تھا نا پھر؟ اس کے بات کرنے سے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اتنی تکلیف میں ہے۔ اس کے پوچھنے پر اس نے سر جھکا دیا تھا اور نوفل احمد خان نے اپنا ہاتھ اس کے بازو سے ہٹا لیا تھا گویا ناراضگی کا اظہار تھا۔ جسے حیات نے شدت سے محسوس کیا تھا۔
میں نے رکھا تھا۔ بعد میں بھی کوشش کی تھی مگر نہیں کھایا جاتا تھا۔۔ آئم سوری، آپ ناراض نہیں ہوں میں رکھوں گی خیال، ایکسرسائز بھی کروں گی۔ مگر آپ۔۔۔۔ رونے نے جملہ پورا نہیں کرنے دیا تھا۔
بیوی، میں ناراض نہیں ہوں۔۔ تم جانتی ہو نا ڈاکٹر عائشہ نے کیا کہا تھا۔ یاد ہے نا۔۔۔؟ اس کے پوچھنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
مجھ سے ملنے کیوں نہیں آ رہی تھی۔؟ اس کے سوال پر اس نے اس کی طرف نظر کی تھی اور ایک بار پھر شدتوں سے رودی تھی۔ اور وہ اس کے نہ آنے کی وجہ سمجھتا اپنے درد کی ایک بار پھر پرواہ کیے بنا سینے سے لگا چکا تھا۔
میں ٹھیک ہوں بیوی، کیا تم پچھتا رہی تھیں مجھے جماعت میں بھیج کر اور جہاد کی تمنا کر کے اور اس میں ہوئی میری یہ حالت دیکھ کر جو اتنا رو رہی ہو۔۔؟ اس کے پوچھنے پر اس نے سر اٹھایا تھا۔
اللہ جانتا ہے ایک پل کے لیے بھی مجھے نہیں لگا۔ میں نے اپنے لیے نہیں بھیجا تھا۔ میں نے اس کا شکر ادا کیا تھا کہ اس نے ہماری کوشش قبول کی۔ اور میں خود نہیں رو رہی ہوں، خود ہی رونا آ رہا ہے۔ اور میں اللہ ہی کے سامنے بس روئی تھی، گھر میں نہیں پتا کسی کو بھی میرے رونے کا اور اب آپ کے سامنے۔ مجھے نہیں پتا مجھے کیوں اتنی گھٹن ہو رہی ہے۔۔ اللہ کی قسم میں آپ سے زیادہ اللہ سے محبت کرتی ہوں اور اللہ بھی آپ سے زیادہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ سسکیوں کو روک کر بولتی ہوئی اپنی بیوی کو دیکھ کر وہ سوچ رہا تھا کیا کوئی اس جیسا معصوم ہوگا جو یہ ظاہر کر گئی تھی کہ اسے اپنے شوہر سے محبت ہو گئی ہے اور اسے اس کا احساس بھی نہیں۔ اس کے اندر جذبات نے تلاطم برپا کیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا وہ اس سے باتیں کرتا رہا تو خود کو بالکل بھی نہیں روک پائےگا۔ مگر یہاں بھی اسے اپنی بیوی کی ہی فکر تھی۔
مجھ سے محبت ہے نا بیوی۔۔؟ اس کے سوال پر وہ بنا سوچے سمجھے بچوں کی طرح سر ہلا کر ہاں کہہ گئی۔
آپ نے میڈیسن لی؟
تم آئی ہی نہیں تھی دینے۔ اس کا جواب سنتے ہی وہ فوراً اس کی دوائیاں چیک کرنے لگی تھی۔
ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں بیوی۔ تم ٹھیک ہو۔۔؟ وہ جو اس پر نظریں جمائے بیٹھا تھا اس کے ہاتھوں کی واضح کپکپاہٹ دیکھ کر پریشان ہوا تھا۔
میں نے ابھی کھانا نہیں کھایا تو۔۔۔ اس کی طرف دوائی بڑھاتے ہوئے ایک اور جرم کا اعتراف کیا جسے سن نوفل احمد دوائی لینے سے انکار کر گیا تھا۔ اور چہرہ دوسری طرف کر لیا۔ یہ حیات کی برداشت سے باہر تھا وہ باہر کی طرف بھاگی تھی، نوفل احمد کو حیرانی ہوئی تھی وہ اس کے پیچھے اٹھ کر جانا ہی چاہتا تھا جبھی اس کی واپسی کھانے کی ٹرے کے ساتھ ہوئی تھی جس میں دودھ کے دو گلاس بھی تھے۔ اور جلدی جلدی کھانے لگی تھی۔ دودھ کا بھرا ہوا گلاس اس کی طرف بڑھایا اور آدھا والا خود لیا۔ جسے نوفل احمد چینج کر گیا اپنا اسے دے کر اور اس کا خود لے کر۔ مگر اس کے کھانے تک وہ صرف اسے دیکھتا رہا تھا بولا کچھ نہیں تھا۔
اب لیں گے نہ دوائی۔؟ اسےپھر سے رونے کی تیاری پکڑتے دیکھ کر اس نےدوائی لے لی تھی۔
میں نے سوچا تھا بیوی میری تکلیف کو کم کرےگی مگر وہ تو بڑھا رہی ہے۔ اس کے افسوس پر وہ پریشان ہو گئی تھی۔
میری وجہ سے آپ کو تکلیف ہو رہی ہے۔ میں پھر دوسرے روم میں چلی جاتی ہوں۔ بات کی گہرائی کو سمجھے بنا وہ دوسرے روم میں جانے لگی تھی اور وہ اس کی عقل پہ ماتم کرتا رہ گیا۔
بیوی۔ مجھے تکلیف تمہاری اپنے بارے میں لاپرواہی سے ہوتی ہے۔ اور دوسرے کمرے کا سوچنا بھی نہیں، تمہیں پتا ہے تمہاری جگہ کہاں ہے۔
اور اب مجھے یٰسین سناؤگی نا؟ بہت مس کی تمہاری آواز۔۔۔
جی سناؤں گی۔ اسے صحیح سے لٹا کر وہ خود پہلے کی طرح اس کے پاس آکر لیٹ گئی. پہلے وہ یہ کام خود کرتا آج وہ خود اس کی باہوں میں آئی تھی۔ یسین سنتے سناتے وہ دونوں پانچ دن بعد ایک دوسرے کے آغوش میں آج سکون سے سو رہے تھے۔
********************
بیوی، میری وضو کروا دو۔ اس کی آواز سن کر وہ کچن سے بھاگ کر آئی تھی۔ اور پھر اس کو وضو کروا کر اسے مصلہ پر بٹھایا اور اس کے جسم پر اپنا ڈوپٹہ لپیٹا۔ اب وہ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ رہا تھا۔ وہ خود جلد از جلد ٹھیک ہونا چاہتا تھا اس لیے خود بھی کوشش کر رہا تھا۔
اب وہ اسے ناشتہ کروا رہی تھی اور اس کے حکم پر دو لقمہ خود لیتی اور ایک اسے دیتی۔ اور دودھ بھی رات کی طرح ہی پیا۔
بیوی! سب سے زیادہ خوشی کس سے ہوئی تھی تمہیں میرے ہوش میں آنے کر سن کر یا واپسی کا سن کر؟
یہ سن کر کہ آپ نے ہوش میں آنے کے بعد کہا تھا۔ “نماز کا وقت ہو رہا ہے مجھے نماز پڑھنی ہے، اور الحان بھائی نے کہا تھا ٹھیک ہو جاؤ پھر پڑھ لینا، اس پر آپ کا جواب “ہوش میں آ چکا ہوں اب کوتاہی معاف نہیں ہوگی اور پھر پاپا نے آپ کی وضو کروائی تھی اور آپ کی دیکھا دیکھی وہاں سارے مریض نماز پڑھنے کی کوشش کرنے لگے تھے۔”
کس نے بتایا یہ؟
پاپا نے سب بتا دیا۔
اور اب الحان بھائی آنے والے ہیں انہوں نے دس منٹ بعد آنے کا عندیہ دیا تھا۔ میں نے ان کا ناشتہ بنا دیا ہے آپ ان سے کہہ دینا کچن میں ٹرے تیار رکھی ہے۔ تبھی دروازہ ناک ہوا تھا۔
ایک منٹ بیوی! یہاں آؤ ذرا اس کے بلانے پر وہ قریب آئی تھی۔
اور قریب۔ کہنے کے ساتھ ہاتھ پکڑ کر اسے قریب کیا تھا اور اسے حد درجہ کنفیوژ کر کے روم میں جانے کا اشارہ کیا۔ اور وہ اشارہ ملتے ہی سرپٹ بھاگ کر اسے ہنسا گئی تھی۔
کیا بات ہے ماشاءاللہ چہکار ہو رہی ہے۔ الحان کے آنے پر بھی اس نے ہنسی روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
شادی کر لو پھر تمہیں ایسے سوال کرنے کی ضرورت نہیں پڑےگی سمجھ خود بخود آجائےگی۔ اس مے جواب پر الحان کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ آنکھوں کے پردہ پر کوئی چہرہ جھلملایا تھا۔
تو کیسا لگا پھر؟ اس کے سوال پر الحان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
منال۔۔۔ وہ اسے حیران ہی تو کر گیا تھا۔
تم کیا سمجھے نہیں بتاؤگے تو پتا نہیں چلےگا؟ نوفل احمد خان اپنوں سے بےخبر نہیں رہتا۔ بتاؤ رشتہ کب بھیجنا ہے۔۔۔؟
یار مما اور ڈیڈی کی طبیعت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ پہلے ایمن کی کرنا چاہتا ہوں پھر سوچوں گا۔
یہاں کیوں نہیں ٹرانسفر کروا لیتے۔۔۔
مانتے ہی نہیں دونوں۔۔ کیا کروں۔
چلو کوئی بات نہیں۔۔ تم اپنا یہ مشن پورا کرو پھر شادی کی تیاری۔ اس سے پہلے واقعی اسے کوئی اور لے اڑے۔ تین بعد تمہیں وہ مشن پورا کرنا ہے۔ خیال رکھنا اپنا۔
اور تم یہاں رکے ہوئے کیوں ہو۔۔؟ انکل آنٹی اور ایمن کو تمہاری ضرورت ہے جاؤ۔۔
کیسے بے مروت ہو یار، بھول گئے کیسے ہاسپٹل میں تمہاری تیمارداری کی اور وہاں مجال ہے جو مجھ سے ذرا بھی محبت کا مظاہرہ کیا ہو، یہی رٹ تھی بس جلدی کرو یار میری بیوی پریشان ہو رہی ہوگی، اتنا سا دل ہے اس کا۔۔ اور ہم جو اتنا پریشان ہوئے اس کا کچھ نہیں۔ ناشتہ سے انصاف کرتا وہ اسے سنا رہا تھا۔ جو اس کی باتوں پر قہقہہ لگا رہا تھا اور الحان اس کو اتنا خوش دیکھ کر اسکی خوشی کے صدقہ کی نیت کر گیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔
*********************
یہیں رہنے دو بیوی، روم میں بور ہو رہا ہوں تمہارے اندر باہر جانے سے۔ اور مجھ سے دور دور کیوں رہی دو دن تک، اس کے زخم اب کافی حد تک ٹھیک ہو رہے تھے اب وہ خود چل پھر سکتا تھا۔مگر حیات نے خیال رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ دادی بھی دو دن رہ کر گئی تھیں۔ اور سب لوگ بھی ایک دو دو دن کے وقفہ سے آتے رہتے تھے مگر نوفل احمد خان اپنی سے محبت کے مظاہرے میں اپنی بےتابی کسی کے سامنے بھی نہیں چھپاتا تھا۔
آپ سب کے سامنے تھوڑا کنٹرول۔۔۔۔۔ اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی وہ اسے پھر سے اپنی گود میں بٹھا چکا تھا۔
سوری مائی ڈیئر بیوی یہ میں نہیں کر سکتا۔ کچھ ہے تمہیں بتانے کو سنوگی۔۔؟ اس کے پوچھنے پر سر ہلایا تھا۔
سارے پیسے حلال ہو گئے ہیں بقول تمہارے۔ مگر پہلے بتاؤ وہ ایک ہندو سے قرض لے کر میں سمجھا نہیں تھا۔ سمجھاؤ،
ہندوؤں کا کوئی دین نہیں ہوتا اس لیے ان پر حرام حلال کی بھی کوئی حد جاری نہیں ہوتی وہ جو کریں کچھ پکڑ نہیں ان کی جس طرح مسلمانوں کی ہے۔ اگر ہم ان سے قرض لیں تو وہ پیسے ہمارے لئے جائز ہوتے ہیں وہ چاہے جس بھی طرح سے کمائیں۔ اور اگر انہیں قرض کی ادائیگی میں حرام کمائی دی جائےگی تو ان کا کچھ نہیں بگڑےگا کیونکہ یہ حد ان پر نہیں ہے۔ مگر یہ معاملہ مسلمان کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ اور حرام کمائی بھی وہی حلال ہو سکتی ہے جسے خود کمایا گیا ہو یعنی آپ اس کے مالک ہوں جیسے آپ دس کروڑ کے مالک ہیں۔ اگر آپ اس طرح سود کی رقم کے ساتھ معاملہ کریں گے تو یہ حرام ہوگا کیونکہ سود کی رقم اپنی نہیں ہوتی۔ اس کے خاموش ہوتے ہی نوفل احمد خان کی شدت بول اٹھی تھی وہ ایسے ہی بےتاب ہو جاتا تھا جب وہ اسے اس طرح سمجھاتی تھی بالکل ایک استانی کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر نظریں گھما گھما کر۔
اس کے کسمسانے پر وہ اسے چھوڑتا اصل خبر سنانے لگا تھا۔
اوراب ان پیسوں میں سے ایک کروڑ اس بستی میں بھجوانے ہیں جہاں کی بنیاد میں نے خواب میں رکھی تھی۔ اور ایک رننگ گاڑیوں کا بزنس ٹیک اوور کر رہا ہوں۔۔ اور جو تم نے اس بلڈنگ میں مسجد بنانے کی بات کی ہے وہ بھی ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر عائشہ کہہ رہی ہیں کہ بلڈنگ کی عورتوں کو تم قرآن پڑھاؤ اور ان کے علم میں اضافہ کرو۔ بتاؤ کیا کہتی ہو اس کے بالوں کو اپنے ہاتھ میں الجھاتا اور اس پر اپنی محبت کا مظاہرہ کرتا وہ اسے واقعی بہترین خبریں سنا رہا تھا۔ اللہ کے کرم پر اس کا دل سجدہ ریز ہو کر شکر گزار ہوا تھا۔ اور اب اس کی دو دعائیں اور باقی تھیں۔ اور اسے یقین تھا بہت جلد وہ بھی قبول ہوں گی۔
جو آپ کہیں گے میں کروں گی۔
آاااں ہاں۔۔۔ بیوی، صرف دو گھنٹے پڑھانا ہے۔ بےقراریاں عروج پر تھیں۔
آپی کا فون ہے پلیز چھوڑیں۔۔ بات کر لوں۔۔
اونہہ بیوی بہت مشکل سے ہاتھ آتی ہو ایسے ہی بات کر لو۔۔۔
آپ کے پیر دکھنے لگیں گے۔۔۔ اس کے بےچارگی سے کہنے پر وہ ہنسا تھا۔
کاش تم میں اتنی وزن ہوتا کہ مجھے محسوس ہوتا تو کیا بات تھی۔۔۔ پھر مجھے اگلے اسٹیج پر لے جانے کے لیے اتنا نہیں سوچنا پڑتا اب وہ اسے کنفیوژ کر رہا تھا۔ فون بج بج کر بند ہو چکا تھا۔ جب وہ بےتحاشہ سرخ ہونے لگی تھی وہ خود کو کنٹرول کرتا اسے آزاد کر گیا۔
آپ کے اس طرح کرنے سے منال آپی کہہ رہی تھیں کہ۔۔۔۔
کیا کہہ رہی تھی اس کی ادھوری بات وہ جاننے کا خواہاں تھا۔
کک۔کچھ نہیں اب میں جاؤں پلیز کھانا بنانا ہے۔ پھر عشا ہو جائے گی۔
اوکے بیوی کالم ڈاؤن اتنا گھبراؤگی تو آگے کیا ہوگا۔ مجھے روزانہ یہ فیلنگ چاہیے کہ میں شادی شدہ ہوں۔ اب وہ اس کا ذہن تیار کر رہا تھا۔
وہی جو حیات کے رب کو منظور ہوگا۔۔۔ وہ معصومیت کہتی کچن میں بھاگ گئی تھی اور وہ ایک بار مظاہرہ کرنا چاہتا تھا ہاتھ ملتا رہ گیا تھا۔
جاری ہے
