Hayat by Ain Noon Alif NovelR50624 Hayat (Episode 13)
Rate this Novel
Hayat (Episode 13)
Hayat by Ain Noon Alif
صبح سے ہی سب تیاریوں میں لگےتھے۔ فروٹ، میوے، خشک مٹھائیاں، بہت سا اور کھانے پینے کا سامان بطور ہدیہ پیک کیا جا رہا تھا۔
دادی آپ رکیں گی نا میرے ساتھ؟ ہو کوئی خوش تھا بس حیات میڈم کے چہرے کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔
ہم کیوں رکیں گے بھلا، دادی کے بجائے احمد نے جواب دیا تھا جو صبح سے اسے تنگ کیے جا رہا تھا۔
بھائی۔۔ وہ منمنائی تھی۔
احمد نہ ستا میری بچی، اسے پکڑ کر پاس بٹھایا تھا۔ اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اس کے خدشات جاننے کی کوشش کی تھی۔اتنا ہوا تھا کہ وہ نوفل احمد خان کا درد جاننے کے بعد وہ اپنی تکلیف میں کمی محسوس کر رہی تھی۔ اور پہلے کی طرح سب سے باتیں بھی کر رہی تھی۔ مگر نوفل احمد کے سامنے آنے سے وہ اب بھی گریزاں تھی۔
آپ کو نہیں پتا دادی وہ جیسے دکھتے ہیں نا ویسے بالکل نہیں ہیں۔۔
تو پھر کیسے ہیں۔۔؟ احمد نے پھر نقطہ اٹھایا۔
سب کے سامنے گود میں اٹھا کر لے کر گئے تھے جیسے میں کوئی بچی ہوں۔ اور کہا کہ سارے شوہر اٹھاتے ہیں۔۔ مما کو کب اٹھایا پاپا نے۔۔ اس کی شکایت پر دادی کو یقین تھا کہ ان کی پوتی اس معاکو ے میں کم فہمی اور اپنی اس معصومیت سے اپنے شوہر کو سب کے سامنے بہت شرمندہ کرنے والی ہے۔۔ وہ سوچ چکی تھیں کہ انہیں نوفل سے خود بات کرنی پڑے گی۔۔ اس کی آنکھوں میں اپنی پوتی کے لیے پیار اور احترام تو وہ دیکھ ہی چکی تھیں۔
اللہ اکبر۔۔ انکے تو ہاتھوں میں درد ہو گیا ہوگا۔۔۔
کیوں؟ اس نے بھنویں اچکا کر ہنستے ہوئے احمد کی طرف دیکھا۔۔
اتنے وزن کو اٹھا کر۔۔
نہیں! وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے یہاں کھانا پانی نہیں دیا جاتا اس لیے بیس کی ہوکر بھی پندرہ کی لگتی ہوں۔ اس کے منہ بسور کر کہنے پر اب کے صرف احمد کا ہی نہیں اسکے ماں باپ کا قہقہہ بھی شامل تھا۔ کچھ دیر بعد سب لوگ وہیں جمع ہو گئے تھے۔۔ رابعہ بیگم بھی اپنے دونوں بچوں سمیت آ گئی تھیں۔ اب منال پہلے کے مقابلے صحتیاب ہو رہی تھی۔ کپڑے بھی حیات جیسے پہننے لگی تھی۔
فرحان صدیقی کو لگا تھا کہ ان کے بچوں کو اس نازک رشتہ کی اہمیت و قدر کے بارے میں پتا ہونا چاہئے خاص کر حیات کو۔۔ جس معاملے میں وہ بالکل کوری تھی۔ وہ ایک اسکول میں اسلامک کے ٹیچر تھے اور اپنے یہاں کی مسجد میں بھی درس و تدریس کا کام بھی انجام دے دیتے تھے۔ اور روزانہ ان کےخود کے گھر میں وہ تعلیم کی پابندی کرواتے تھے سب کے نمبر لگے ہوئے تھے۔ مگر کبھی وہ نکاح کے بارے میں تعلیم نہیں کر پائے تھے۔ اور نہ گھر میں کسی عورت کو اس کا احساس ہوا تھا۔
آج بہت قیمتی بات بتا رہا ہوں اپنے بچوں کو یقین ہے سب سمجھیں گے۔۔ فرحان صدیقی کے کہنے پر سب ان کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔
تو میرے بچوں۔۔ “نکاح” دنیا کا سب سے بڑا رشتہ ہے کیونکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو اس نے مرد و عورت میں سب سے پہلے قائم کیا۔۔ اور اللہ کے نبی کی سنت کے مطابق مومن کا نصف ایمان۔ اور جو لوگ نکاح میں ہوتے ہوئے بھی گناہ کی طرف بڑھتے ان کے لیے اللہ نے بڑی سزا رکھی ہے اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
اللہ کے پسندیدہ لوگ وہ ہیں جو میاں بیوی کے تعلق کو بہترین بنانے میں معاون و مددگار ہوتے ہیں،اور اللہ کے دوست بھی۔ اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور شیطان کے دوست وہ لوگ ہیں جو میاں بیوی کے درمیان جھگڑا فساد برپا کریں اور ان کے قطع تعلق کا باعث بنیں، ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے۔
میاں بیوی کے درمیان محبت و احترام اور بھروسہ لازمی جزو ہیں۔ اگر ان میں سے ایک میں بھی کمی ہوتی ہے تو وہ رشتہ سمجھوتے کی بنیاد پر ٹکا ہوتا ہے، جس میں صرف وہ لوگ زندگی گزارتے ہیں جیتے نہیں ہیں اور ان کے رشتہ کا حسن ماند پڑ جاتا ہے، جس میں زیادہ تر عورت مظلوم ہوتی ہے اور کبھی کبھار مرد۔ اور جنکے رشتہ میں یہ چیزیں موجود ہوں وہ اپنی زندگی کا ہر ایک پل جیتے ہیں اور ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کر کے ہرپل اللہ کی نعمتوں کو حاصل کرتے رہتے ہیں اور یہی لوگ اصل میں خوشحال ہیں۔
جب میاں بیوی ایک دوسرے کو محبت کی نظر سے دیکھ کر مسکراتے ہیں تو اللہ بھی انہیں دیکھ کر مسکراتا ہے۔ اسے سب سے زیادہ خوشی میاں بیوی کو خوش دیکھ کر ہوتی ہے۔ اس رشتہ کو خوش اسلوبی سے نبھانا ہی اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔۔ اور اس کی اس نشانی کی قدر کرنا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجمع میں پوچھا گیا “آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ ” فوراً جواب دیا! “عائشہ سے”۔۔ اور ایک مرتبہ راستہ میں تیزی سے چل کر گئے اور اماں عائشہ کو گلے لگا لیا۔۔ آخری وقت میں ان کا سرِ مبارک اماں عائشہ کی گود میں تھا۔
تو میرے بچوں! یہ واحد رشتہ ہے جس میں اللہ نے ہر فعل کو سکون کا باعث اور باعث ثواب بنایا ہے۔ بس اللہ کی طے کردہ حدود کا خیال رکھا جائے۔ اور جس فعل کے کرنے کی سختی سے ممانعت ہے اس کے قریب بھی نہ جایا جائے۔
تو میرے بچوں اپنے ایمان کی حفاظت کرو اور نکاح ایمان کو بچانے کا بہترین تحفہ ہے۔ جو تمہیں حرام سے بچاتا ہے۔ ایک بزرگ نے فرمایا! “جب تم میں حرام داخل ہوتا ہے تو تمہارے اندر سے ایمان نکل جاتا ہے” حرام اور ایمان ایک جسم میں ایک ساتھ داخل نہیں ہو سکتے۔ ایک داخل ہوگا دوسرا نکل جائےگا۔پھر کیا مومن کیا کافر۔
اور میاں بیوی کا رشتہ نصف ایمان ہے۔ ایک دوسرے کی بات مانو، ایک دوسرے کا احترام کرو، ایک دوسرے سے محبت کرو، ایک دوسرے پر بھروسہ کرو، فیصلہ لو تو باہمی مشورے سے، ایک دوسرے میں کمی دیکھو تو نرمی سے دور کرنے کی کوشش کرو، ایک دوسرے کی سترپوشی کرو، تنہائی کی باتوں کو دوسروں کے سامنے کرنے والا زانی ہے۔ تو اس بڑے گناہ سے خود کی حفاظت کرو۔ ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے رہا کرو کیونکہ اس سے تمہارے رشتہ کی تازگی برقرار رہتی ہے۔
ان کے چاروں بچے دم سادھے انہیں سن رہے تھے اور دادی اپنے بیٹے کی عقل مندی کو داد دیے بغیر نہیں رہی تھیں۔ جس نے بہت صحیح طریقے سے صحیح وقت صحیح بات اپنے بچوں کو بتلائی تھی۔
اور اماں آپ نے میرے لئے بہترین ہم سفر کا انتخاب کیا ہے۔۔ جو میرے لئے واقعی میرا نصف ایمان ہے۔ اور اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت۔۔ اور مجھے اس نعمت سے بہت محبت ہے۔۔ اورپہلی بار انہوں نے سب کے سامنے اپنی بیوی سے اظہار محبت کر کے ناصرف ایک سنت ادا کی تھی بلکہ انہیں اس رشتہ کی خوبصورتی کا بھی ادراک کروایا تھا۔۔۔
سبھی بچے کچھ نہ کچھ جانتے تھے ایک بس حیات ہی اس معاملے میں نابلد تھی۔۔ سترہ سال کی عمر تک احمد بھی ویسا ہی تھا۔ باہر نکلنے کی وجہ سے اس کے علم میں اضافہ ہوا تھا ۔ مگر حیات نے نہ باہر کی دنیا دیکھی تھی نہ ان معاملات میں اسے دلچسپی تھی۔ مگر اپنے باپ کی زبانی اور اللہ کی ایسی بڑی نشانی کا سبب جان کر اس کی سوچوں کے نئے در کھلے تھے۔۔ اب دیکھنا تھا اس کا یہ علم کیا رنگ لاتا۔۔ مگر اس کے اندر کی گھٹن کم ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ اللہ کو راضی کرنے والی بندی تھی جو اللہ کی رضا جان کر کچھ بھی کرنے کو تیار رہتی۔۔
اور بیشک یہ گھرانہ اللہ کے پسندیدہ بندوں کا تھا۔۔ جہاں مسائل کو بتانے میں کوئی شرم و حیا کو بیچ میں نہیں لایا جاتا تھا۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا۔ مسائل جاننے میں شرم و حیا کو بیچ میں نہ لاؤ۔ اگر اس کی وجہ سے تم سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو تم گنہگاروں میں ہو۔۔ وہ خود اپنے صحابہ اور صحابیات اور اپنی بیٹیوں کو تمام مسائل سمجھایا کرتے تھے۔
************
سر کیا جواب دوں بنسالی صاحب کو وہ اگلی فلم سائن کرنا چاہتے ہیں آپ کے ساتھ؟ اس گھر کا ایڈریس مانگ رہے تھے۔ دے دوں؟ عتیق کے بتانے پر اس کا سر نفی میں ہلا تھا۔
اس گھر کا ایڈریس کسی کو بھی نہیں پتا چلنا چاہئے عتیق۔۔ اور منع کردو اب کوئی فلم سائن نہیں کرنی۔۔ اس کے دو ٹوک انکار پر وہ حیران ہوا تھا۔
مگر سر۔۔۔۔
اٹس اوور عتیق۔۔ آج شام کی فلائٹ سے میں انگلینڈ جا رہا ہوں کسی کو خبر نہیں ہونی چاہئے۔ ٹکٹ کنفرم کرواتا وہ اسے ہدایت دے رہا تھا۔۔ فون کی رنگ ٹون پر الحان کی کال ریسیو کرتا وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔
مہمان تمہارے ہیں تم خود ہینڈل کرو۔ تم جانتے ہو فارمیلٹی نہیں کر سکتا میں۔۔۔ میرا گھر تمہارا بھی گھر ہے۔۔۔ سو میں نہیں آ رہا۔۔ آج ہر کام میں وہ نہیں نہیں کر رہا تھا۔ اپنے اندر کی وحشت سے وہ خود ڈرا ہوا تھا۔۔
الحان کے بہت زور دینے پر اسے ماننا ہی پڑا تھا۔ تین دن سے وہ اپنے گھر نہیں گیا تھا۔ ہر جگہ اسے حیات دکھائی دے رہی تھی جس سے اس کی وحشت بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے امنڈ پڑنے والے غصہ سے بچنےکے لیے اپنے پہلے والے فلیٹ میں رہ رہا تھا۔۔ اگر وہاں رہتا تو ممکن تھا وہ پھر اپنی برداشت کی لمٹ کراس کر کے اسے گن پوائنٹ پر لے آتا۔۔ اور اب وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا جس سے اس کی بیوی اور بدگمان ہو۔۔ اس دن اسکی طرف حیات کا وحشت سے دیکھنا، وہ بھول نہیں پا رہا تھا۔ وہ اسے شاید یاور قریشی جیسا ہی تصور کر رہی تھی۔
اس دن وہ اپنا ماضی ان کے سامنے کھول کر رکھ آیا تھا۔۔ جس سے اسے یقین تھا کہ وہ لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔ وہ اسے طلاق دینے کا سوچتا تو اس کے دماغ کی نسیں پھٹنے کے قریب ہو جاتیں۔۔ اس لیے اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ انڈیا چھوڑ دےگا، جس کی تیاری وہ اسی دن سے کر رہا تھا مگر اپنی بیوی کا نام اپنے نام سے الگ نہیں کرےگا۔ وہ اسے کسی اور کے ساتھ دیکھنے کی ہمت خود میں نہیں پاتا تھا۔ طلاق کا مطلب تھا اسے کسی اور کو دینا، جو وہ بلکل بھی گوارا کرنے والا نہیں تھا۔۔ اس بات کی خبر اس نے الحان کو بھی نہیں دی تھی۔۔ ورنہ وہ اس کا جینا حرام کر دیتا۔۔
وہ کچھ سوچتا عتیق کو اپنے گھر چلنے کا کہہ کر سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔ شاید دل کی بھی یہ خواہش تھی کہ ایک بار اور اس کی خوشبو اس کے روم میں محسوس کرے جہاں اس کا دوپٹہ اس کا گاؤن ویسے کے ویسے ہی اس کے بیڈ پر پڑے تھے۔۔ وہ وہی لباس تھا جس میں وہ اس کے بہت زیادہ قریب رہی تھی۔
***********
دو گھنٹے پہلے ہی وہ آ کر سویا تھا۔ الحان کے مہمان آنے میں وقت تھا اس لیے وہ اپنے روم میں آکر سو گیا تھا۔۔ اسے محسوس ہوا تھا جیسے کوئی آیا ہے۔۔ مندی مندی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی تھی جب ایک دھندلا سا عکس اسے دکھائی دیا تھا۔۔ جو اس کے قریب آ رہا تھا۔
بیوی! اب وہ عکس نمایا ہو رہا تھا اس کی پہچان بڑھ رہی تھی۔ وہ اس کی طرف جھکی تھی۔ وہ ابھی بھی نیند کے خمار میں تھا اور شاید اپنی بیوی کو ہی خواب میں دیکھ رہا تھا۔
بیوی! ایک بار پھر یقین دہانی کی تھی پھر اس کا چہرہ نظر آنے پر اسے چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا اور اگلے پل وہ اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا۔
مت ستاؤ یار۔۔ اچھی بات نہیں ہے یہ۔۔ نوفل احمد خان کو اپنا مریض کر رہی ہو بیوی، اس کی سزا ملنی چاہئے تمہیں۔ تم نے کہیں کا نہیں چھوڑا نوفل احمد خان کو۔۔ اور اب نوفل احمد خان تمہیں نہیں چھوڑےگا کبھی بھی نہیں۔ وہ اس کو باہوں میں دبوچے مکمل نیند کے نشے میں گم اس پر غصہ کر رہا تھا۔
کیوں خوابوں میں آتی ہو؟ منع کیا ہے نا؟ پھر کیوں آ کر میری بے بسی کا مزا لیتی ہو۔ تم نے بہت ہلکا لیا ہوا ہے نوفل احمد خان کو۔ اس کے اندر کے بیسٹ کو بار بار آ کر مت جگاؤ ورنہ تمہیں کہیں چھپنے کو جگہ نہیں ملے گی سوا نوفل احمد خان کی پناہ کے۔ وہ اسے شدت سے بھینچتا جا رہا تھا اور اچانک بنا سوچے سمجھے وہ اس میں اپنی وحشت اور شدت انڈیلنے لگا تھا۔
کچھ دیر بعد اسے اپنی گردن پر دباؤ محسوس ہوا تھا پھر اس کے سینے پر جیسے کسی نے اس کا کالر اور شرٹ کو جکڑا ہو،کسی کے پرزور احتجاج سے اسے اپنے جسم میں تکلیف کا احساس ہوا تھا۔پھر اس کے چہرے پر پانی کے قطرے گرنے لگے تھےجس سے اس کی نیند کا نشہ کم ہوتا جا رہا تھا اور پھر وہ شاکڈ رہ گیا تھا، نیند کا نشہ بھک سے اڑ گیا تھا۔
وہ جسے اپنا تخیل سمجھا تھا وہ وجود مجسم اس کی باہوں میں جکڑا تڑپ رہا تھا۔ اس نے اپنا چہرہ دور کر کےکر اسے دیکھا تھا جو بری طرح کانپ رہی تھی اور بالکل ٹھنڈی پڑتی جا رہی تھی۔
بیوی! وہ اسے ایسے ہی باہوں میں لیے اٹھ بیٹھا تھا۔ اس کی شدتوں سے وہ بالکل نڈھال ہو گئی تھی۔وہ سسکتی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔
او مائے گوڈ! خود کو زیر لب گالی دیتا وہ اپنی بالکل ٹھنڈی پڑتی بیوی کی طرف متوجہ ہوا۔
آئم سوری بیوی! مجھے لگا۔۔۔ او شٹ۔ وہ اسے بیڈ پر بٹھا کر خود اس کے سامنے بیٹھا تھا جو اب چہرہ چھپائے اپنی آواز دبائے رو رہی تھی۔ پورا وجود ہچکیوں سے ہل رہا تھا۔ کچھ دیر وہ بے بس سا اس کو دیکھتا رہا خود پر بے تحاشا غصہ آیا تھا۔
بیوی بات سنو! اس کے زبردستی اس کے ہاتھوں کو ہٹایا تھا جس نے اب آنکھیں بند کر لیں تھی۔ اس نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے لے کر اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
بات نہیں سنوگی بیوی؟ اس کے پوچھنے پر اس نے نفی میں گردن ہلائی تھی۔
دیکھوگی بھی نہیں میری طرف؟ پھر سے نہیں میں گردن ہلائی تھی۔
ناراض ہو؟ اب کے پوچھنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
ابھی جو کیا اس کے لیے ناراض ہو؟ تمہیں لگتا ہے جو کیا وہ غلط تھا۔۔؟ اس کے ان سوالوں پر بھی اس نے پھر سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
اللہ پر یقین کرتی ہو؟ حلال حرام کا علم ہے نا؟ اس پر بھی جواب ہاں میں آیا تھا۔ وہ اب اپنی بیوی کواسی کے انداز میں ڈیل کر رہا تھا۔
اور وہ پرائمری کے بچوں کی طرح اس کے ہر سوال پر ہاں یا نا میں جواب دے رہی تھی۔ شاید صبح کی اس کے پاپا کی باتوں کا اثر تھا۔
تو پھر یقین کرو اللہ نے یہ چیز میاں بیوی میں حلال کی ہے نہ یہ تمہارے ساتھ غلط تھا نہ میں نے غلط کیا یہ اللہ نے ہمارے بیچ حق رکھا ہے۔۔ یہ ہر میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے اور اللہ اس سے خوش ہوتا ہے۔ لیکن اگر تم اس طرح کروگی تو اللہ تم سے بھی ناراض ہوگا اور مجھ سے بھی۔ تم چاہتی ہو ایسا ہو؟
نہیں! مگر اللہ آپ سے پہلےسے ہی ناراض ہے کیونکہ آپ فلموں میں کام کرتے ہیں۔ اب کے لہجہ میں نمی کے ساتھ معصومیت تھی۔ اس کے کہنے پر اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
میں فلمیں چھوڑ دوں گا بیوی پھر اللہ ناراض نہیں ہوگا۔ کیا اب بھی ناراض ہو؟ اب کے اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
مگر آپ کو کیسے پتا کہ یہ اللہ نے حلال کیا، کیا آپ نے پہلے بھی شادی کی ہے؟ وہ اب دور کی کوڑی لائی تھی اپنی عقل کے مطابق مگر وہ اب بھی اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی۔
کیوں پوچھا ایسا؟ وہ اس کے سوال پر شاکڈ ہوا تھا۔
مجھے یہ بات نہیں پتا تھی اور مجھے نہیں پتا آپ نے کیسے کیا اور کیوں کیا؟ اور نہ یہ مجھے آتا ہےکیونکہ میری پہلی بارشادی ہوئی۔ مگر آپکو کرنا بھی آتا ہے اور پتا بھی ہے اس کا مطلب آپ نے مجھ سے دوسری شادی کی۔۔ اس کی عجیب منطق اس کا دماغ گھما گئی تھی۔ مگر اس کے اس معصوم اعتراض پر اس کا دل کیا تھا ایک بار اور اسے اپنی شدتوں سے آشنا کردے۔
بےوقوف تو اس کی بیوی نہیں تھی یہ اسے اندازہ تھا مگر اس کا دماغ اتنے گھوڑے دوڑاتا تھا اسے اب اندازہ ہو رہا تھا۔
نہیں بیوی! میری پہلی اور آخری شادی تم سے ہی ہوئی ہے۔ اور تم جانتی ہو نا نوفل احمد خان جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کے رونے کا موڈ دیکھ کر اسے یقین دلانا پڑا تھا۔
پکا؟
پکا ٹو بیوی، اس کی ناک دبا کر کہا تھا جس پر اس نے منہ بسورا تھا۔
اور اب بتاؤ کس کے ساتھ آئی ہو؟پندرہ منٹ بعد اسے اس کی آمد کا خیال آیا تھا۔
سب لوگ آئے ہیں مجھے آپ کے پاس چھوڑنے۔ اس کے بتانے پر اسے جھٹکا لگا تھا۔ اس کی یہاں موجودگی تو پہلے ہی اسے سرشار کر گئی تھی مگر یہ تو مزدہ تھا اسے نئی زندگی دینے کا۔ وہ بے اختیار اس کے قریب ہوا تھا۔ مگر اس کی بکھری حالت دیکھ کر بمشکل خود پر قابو پایا تھا۔
اب تو دیکھ لو میری طرف اس کا چہرہ اب بھی اس کے ہاتھوں میں تھا۔ اور اسے یقین ہو گیا تھا وہ اس طرح کئی گھنٹے اپنی بیوی کو تھامے رکھ سکتا ہے۔۔ اپنی یہ حالت اسے حد درجہ حیران کر رہی تھی۔
نہیں مجھے نہیں دیکھنا آپ باہر جائیں۔ الحان بھائی باہر تھے تو دادی نے کہا کہ میں آپ کو جگا دوں۔اور میرے روم میں مما اور دادی نماز پڑھ رہی ہیں۔ انداز کسی قدر بچکانہ اور معصوم تھا۔ اس کا دل تو نہیں تھا کہ اسے چھوڑ کر جائے مگر سسرالیوں کے سامنے حد میں رہنا ضروری سمجھا تھا۔ وہ اسے کوئی بھی موقعہ دیے بغیر زور سے خود میں بھینچ کر اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا روم سے باہر چلا گیا تھا۔ قدموں کی سرشاری اس کے بے تحاشہ خوش ہونے کا پتا دے رہی تھی۔
لیکن باہر آکر وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا تھا شاید ان سب کی موجودگی میں وہ اپنی بیوی کو محسوس کر کے آیا تھا جو تین دن پہلے تک اس سے طلاق کی ڈمانڈ کر رہے تھے۔ اتنے بڑے سپر اسٹار کی ایسی حالت دیکھ کر ان لوگوں نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔ اس وقت کون کہتا اسے کہ وہ گن پوائنٹ پر بات کرنے والا بندہ ہے جو اگلے کی بولتی بلکل بند کر دیتا ہے۔ اب خود کی بولتی بند ہو رہی تھی۔ مگر وہ بھی نوفل احمد خان تھا جلد ہی خود پر قابو پا گیا تھا۔
کیسا لگا سرپرائز نوفل احمد خان؟ الحان مسکراہٹ دباتا اس کے قریب آیا تھا۔ اور اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
پہلے نہیں بتا سکتے تھے یہ لوگ آ رہے ہیں؟ دانت بھینچ کر اس نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
کیوں اچھا نہیں لگا؟
ایڈیٹ تمہارے اس سرپرائز نے کسی کی جان مشکل میں ڈال دی تھی،کس قدر مشکل سے وہ اسے راضی کر پایا تھا۔وہ پہلے کم بدگمان تھی مجھ سے جو اور رہی سہی کسر بھی پوری کروا رہے تھے۔۔۔؟ اس کے پھنکارنے پر وہ بمشکل اپنا قہقہہ روک رہا تھا۔
کیوں ایسا کیا کر دیا تم نے جو تمہاری جان کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی اس کے پوچھنے پر وہ اسے گھورتا ہوا ان لوگوں سے ملنے لگا تھا۔ فلحال واپس اپنے کمرے میں ان لوگوں کے سامنے جا کر وہ ایک اور حماقت کا ثبوت نہیں دے سکتا تھا۔ مگر اس کے دوبارہ اپنی شدت دکھانے پر اندر حال سے بےحال ہوئی اپنی بیوی کی فکر ہو رہی تھی۔ اسے یقین تھا وہ اس کے کیا کسی کے بھی سامنے نہیں آئےگی۔جو اسی کی مرہون منت تھی۔ اپنے اوپر اسے بے تحاشہ غصہ آیا تھا، جو اپنی خوشی وہ اس پر لٹا آیا تھا۔مگر اس کے وجود کی نرمیاں اسے اب بھی محسوس ہو رہی تھیں جو اسے مخمور کر رہی تھیں۔ اس کا کھویا کھویا انداز سب نے محسوس کیا تھا۔ اور ایک ذومعنی مسکراہٹ سب کے چہروں پر دوڑ گئی تھی۔۔ ایک باپ اور بھائی کے لیے سب سے بڑی نعمت ان کے گھر کی بیٹی کےلیے اچھے شوہر کا ملنا ہوتا ہے۔۔ اور فرحان صدیقی کی زیرک نگاہیں اس پل نوفل احمد خان کو اندر تک جان گئی تھیں۔ انہوں نے بے اختیار اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا کہ اللہ نے ان کے زبدستی کے فیصلہ کو رد کرواکر انہیں ایک عظیم گناہ سے بچا لیا تھا۔
