Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 21,22)

Hayat by Ain Noon Alif

اللہ!!!!!! انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔ آج نوفل احمد خان کی پٹی ہٹا کر ایک بینڈیج لگائی گئی تھی، وہ روم میں فریش ہونے گیا تھا جب حیات اس کے لیے کچن میں سوپ لینے آئی تھی۔ اور پھر تیزی سے آتے ہوئے زور سے پوچھے کی وجہ سےہلکے گیلے فرش پر پھسل کر گری تھی۔ جس سے گھٹنا بڑی زور سے زمین پر ٹھکا تھا۔

بیوی! نوفل احمد خان اس کی چیخ سن کر کمرے سے باہر آیا تھا۔ اور اسے زمین پر پڑے دیکھ کر اس کے ہوش ہی اڑ گئے تھے۔

کیسے گر گئی، درد ہو رہا ہے نا؟!!! اسے گود میں اٹھا کر احتیاط سے صوفے پر بٹھا کر وہ اس کو ہر جگہ سے ٹٹول کر دیکھنے لگا تھا۔ جب گھٹنے پر ہاتھ لگنے سے اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ درد کی شدت سے آنکھیں زور سے میچی تھیں۔

اللہ کا شکر ہے اس نے بڑی مصیبت سے بچا کر چھوٹی پر اکتفا کر دیا، ورنہ اس سے زیادہ ہوتا تو کیا کرتا میں۔ اس کے کہنے پر حیات نے بھی شکر ادا کیا تھا۔ مگر لب بھینچے وہ تکلیف برداشت کر رہی تھی۔

کیسے گری؟

وہ آج خالدہ نہیں آئی تھی تو میں نے پوچھا لگایا وہ گیلا تھا اور میں کچن میں گئی تو۔۔۔۔

کیا ضروری تھا پوچھا لگانا۔ ذرا سی جھاڑو سے بھی صاف ہو سکتا تھا گھر۔ اگلی بار یہ لاپرواہی نہیں ہو۔ سمجھیں۔ اس کے لہجہ میں ہلکا غصہ محسوس کر کے اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے تھے۔

سب ٹھیک ہے بیوی، کچھ نہیں ہوا، بس ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔ رونا نہیں، تمہیں پتا ہے نا تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔ تم اپنے پاس میری امانت ہو خیال رکھا کرو اپنا جیسے میں خود کا تمہاری امانت سمجھ کے رکھتا ہوں۔اس کے آنسو صاف کرکے اس کی پیشانی پر مہر ثبت کی اور احتیاط سے اس کا پیر پکڑ کر اس کا پائچہ اوپر کیا۔

ی۔یہ کیا کر رہے آپ۔۔پلیز چھوڑیں، ٹھیک ہو جائےگا خود ہی ان شاءاللہ۔۔ اس نے نوفل احمد خان کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی کوشش کی تھی۔

بیوی!!!! آواز میں تنبیہ تھی، یہ بھی جائز ہے ہمارے بیچ بتایا تھانا۔ اس کے ہاتھ پر اپنا لمس چھوڑ کر واپس اس کی گود میں رکھا۔

اور ہاں خود سے علاج ہوتے میں نے اب تک نہیں دیکھا، اور شاید ہی دیکھنے کو بھی ملے۔۔ اب چپ چاپ بیٹھی رہو اور مجھے اپنا کام کرنے دو۔ اسے بول کر وہ اس کے پیر کی گھٹنے سے ٹخنے تک مساج کرنے لگا اور وہ تو دم سادھے اس کی حرکات وسکنات دیکھ رہی تھی، شرم سے براحال تھا مگر نوفل احمد خان کو کون سمجھاتا۔ درد کا احساس اس کے مضبوط ہاتھوں کے لمس سے کم ہوتا جا رہا تھا۔

آپ نہیں کرے پلیز پتا نہیں کیسی فیلنگ آ رہی ہے۔۔۔ آخر بول ہی پڑی۔

کیسی فیلنگ آ رہی ہے؟ بتاؤ۔ وہ اس کی کوئی بھی بات نظر انداز نہیں کرتا تھا مگر وہ اس کی ایسی باتوں کو تو بلکل ہی پکڑ کر بیٹھ جاتا تھا۔

مجھے نہیں پتا۔

اچھا اور تم نے جو میری بیک، ہاتھوں انفیکٹ اوورآل مجھے مساج کی ہے۔۔ اس کا کیا؟

وہ تو ڈاکٹر کا آرڈر تھا اور اس سے پہلے فرض ہے نا شوہر کی خدمت کرنا اپنے علم کے مطابق جواب دیا تھا۔

بیشک! اور جس نبی نے ہم تک یہ بات پہنچائی ہے انہوں نے ہی اللہ کے اس حکم “بیویوں کے خیال رکھنے کی سخت تاکید ” کو ہم تک پہنچایا ہے۔ سنت نبوی نہیں ہے یہ؟ اب وہ بھی اس سے علم کے ہی مطابق بات کرتا تھا۔

آپ کو ڈاکٹر نے ابھی زیادہ موومنٹ کرنے سے بھی منع کیا ہے اب ٹھیک ہے، پلیز بس کریں۔ اپنا پیر اس کے ہاتھوں سے آزاد کروا کر اٹھنے کی کوشش میں تکلیف کا احساس چہرے پر ابھرا تھا۔

بس میری ٹارزن بیوی، اب تمہیں سب پتا چل جانا چاہئے، بہت تم نے مجھے ستا لیا اور بہت قابو کروا لیے جذبات۔ مگر اب وقت کی اینڈنگ۔۔ ورنہ تم تو مجھے کچھ بھی کرنے نہیں دوگی۔

کیا پتا چل جانا چاہئے۔۔۔ اور میں نے آپ کو کب کسی کام سے روکا، اور میں کب ستاتی ہوں آپ کو۔اب اس کا منہ پھول چکا تھا جسے نوفل احمد خان اور پھولا گیا تھا۔ یہی تو اس کا سب سے پسندیدہ کام تھا ایکدم سے اسے ناراض کرنا اور پھر اگلے پل باتوں میں لگا کر سب بھلا دینا اور پھر اس کے چہرے پر رنگ سجا کر انہیں دیر تک دیکھنا اور پھر سے اس کو حد درجہ الجھا کر پھر اسے خود میں چھپا لینا۔ اور پھر تشکر سے آسمان کو دیکھ آنکھیں بند کرنا، پھر اس کی بیوی کا فکرمند ہونا اور پھر اسے پریشان کرنا۔ یہی تو زندگی کا احساس تھا اس کے لیے، اس کی معصوم بیوی چالاکیوں سے بالکل بے بہرہ نیک با پردہ باحیا۔ اسکی رگوں میں سرایت کرتا اس کا عشق، رب سے اسکی عقیدت۔

آاااا بیوی!!! اس کو منہ پھلا کر جاتے دیکھ کر وہ مصنوعی درد کے احساس سے کراہا، اس کی توقع کے مطابق وہ فوراً اس کے قریب آئی تھی اپنا درد بھول کر جس میں اب واضح کمی تھی۔

دیکھا ہو گیا نا درد، ڈاکٹر نے منع کیا تھا۔ آپ نہیں سنتے بات، وہ اسے صوفے پر بٹھاتی نم لہجہ میں بولی تھی۔

مذاق تھا بیوی، الحمدلله! کچھ نہیں ہوا مجھے، بس تمہیں روکنا تھا۔ تم ناراض ہو کر دور نہ جایا کرو۔لیکن اگر تم روئی تو میں سچ میں زخم کو ہرا کر دوں گا۔۔ اس حادثہ کے بعد سے تم بہت زیادہ سینٹی ہو گئی ہو، مجھے میری شروع والی بیوی چاہیئے جو مجھے فٹافٹ جواب دیتی تھی بنا روئے اور جھجکے۔

آپ نہیں کیا کریں ایسا مذاق۔ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اگر دوبارہ ایسا کریں گے تو میں آپ سے بات نہیں کروں گی اور آپکا ڈائٹ چارٹ۔۔۔

نو نو!!! اس میں کوئی کمپرومائز نہیں بیوی، اس میں غفلت کی تو اب معافی نہیں ملےگی۔ سمجھی! اسے اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے وارننگ دی جسے سمجھ کر اس نے منہ بنایا تھا۔ اور پھر نوفل احمد خان پھر سے اس پر اپنا کمال کر رہا تھا۔ بچوں کی طرح اس کو ہنسا رہا تھا۔ اور اب دونوں کی ہنسی اس گھر میں جلترنگ بجا رہی تھی۔

********************

کیسے ہو برخوردار، فرحان صدیقی نے اس کے پاس بیٹھ کر اس کے زخموں کا معائنہ کیا۔ ابھی ان سب کو آئے دس منٹ ہی ہوئے تھے۔

الحمدلله سسر جی آپ کی خیریت مطلوب ہے۔

حیات کی طرح پاپا یا ابو کب کہنا شروع کروگے بچے۔ دادی کے سوال پر وہ مسکرایا تھا اور ایک گہری نظر کچن میں کھانا بناتی منال، احمد اور آزر سے گپ لگاتی ہنستی ہوئی اپنی متاعِ کل پر ڈالی۔

یہ سارے رشتہ میری بیوی سے مجھے ملے ہیں اس لیے اسی کے حوالے سے مخاطب کرنا ہی تو نوفل احمد خان کو زیادہ مسرور کرتا ہے۔ اس کی لوجک ہی الگ تھی مگر اس کی زندگی میں اپنی بیٹی کی قدر و منزلت انہیں رب کا شاکر بناتی تھی۔

تم سے کوئی نہیں جیت سکتا تھا ۔ عجب ہی لاجک ہے اس کی۔

بزنس کا کیا ہوا۔ کب تمہیں اونرشپ مل رہی ہے؟

ان شاء الله پندرہ دنوں میں پورا پیپر ورک کملیٹ ہو جائےگا۔ پورا اسٹاف وہی رہے گا۔ بٹ احمد اور آذر اگر اس میں اپنا کنٹریبیوٹ کریں تو زیادہ اچھا ہوگا۔ ایک سال بعد دونوں کا انجینئرنگ کمپلیٹ ہو جائے گا تو آپ کیا کہتے ہیں۔۔۔؟ سوالیہ نظریں اپنے سسر پہ ٹکی تھیں۔

کیا بات ہے بھائی مطلب نوکری ڈھونڈنے کی نو ٹینشن۔ احمد اور آذر خوش ہوتے ہوئے وہیں آ کر بیٹھ گئے تھے۔ سب کو ہی اس کے اس فیصلہ سے دلی مسرت ہوئی تھی وہ واقعی انہیں اپنا سمجھنے لگا تھا۔

بہت خوش نصیب ہیں بیٹا ہم جو ہمیں تم جیسا داماد ملا ہے، اللہ ہر بچی کا نصیب ہماری حیات جیسا روشن کرے۔ دادی کے دعا دینے پر نظریں پھر حیات پر جا رکی تھیں مگر اس کے چہرے کے رنگوں کو دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔ عجیب ہونق سا انداز سرخ چہرے کے ساتھ. اور منال پتا نہیں ایسا کیا کہہ رہی تھی جو وہ بار بار اپنی طرف دیکھ رہی تھی، کبھی پریشانی چہرے سے جھلک رہی تھی تو کبھی منال کہ طرف خفگی سے اٹھتی نظر۔ اسے اس کے انداز اسے بہکا رہے تھے، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب چھوڑ چھاڑ کر اپنی بیوی کے پاس چلا جائے اور اسے اچھا خاصا تنگ کرے، اس کے رنگوں میں اور رنف بھرے۔ سب آپس میں باتیں کر رہے تھے مگر وہ تو جیسے وہاں موجود تھا ہی نہیں۔ اس کی نظروں کی تپش سے حیات نے اس کی طرف دیکھا تھا جس کی نظروں میں پتا نہیں ایسا کیا تھا کہ وہ پزل ہو کر اس کی طرف سے رخ پھیر گئی تھی اور اسی کے ساتھ اس کا تسلسل ٹوٹا تھا۔

الحان بہت اچھا بچہ ہے اسے دیکھا نہیں ہے مگر جتنا سنا ہے ماشاءاللہ دعا نکلتی ہے اللہ کامیاب کرے۔ رابعہ بیگم کی آواز پر اب وہ ان سب کی طرف متوجہ ہوا تھا جو پتا نہیں کس بات میں الحان کا ذکر نکال لائے تھے۔

اللہ نصیب بھی اچھے کرے دادی کے کہنے پر سب نے ذیر لب آمین کہا تھا۔

بیٹا تم سے ایک کام تھا۔

سسر جی فارمیلٹی نہیں دکھایا کریں بیٹوں کی طرح آرڈر کیا کریں۔ آپ کے کام آنا آنر ہے میرے لیے۔ بلا جھجھک کہا کریں پلیز۔ ایک بار پھر اپنے انداز سے وہ انہیں فخر محسوس کروا گیا تھا۔ اور رابعہ بیگم کے دل نے بھی اس جیسے داماد پانے کی دعا کی تھی۔ وہ بیشک ایک بہترین انسان تھا۔

منال کے لیے ایک دو رشتے آئے ہیں ان میں کچھ مشاورت کرنی ہے ذرا تم بھی دیکھ بھال لو۔۔۔ انہوں نے مدعا بیان کیا تھا جسے سن کر اسے ایس پی الحان یاد آیا تھا۔ اگر اسے اس کی بیوی سے الگ کیا جائے تو وہ سب کو آگ لگا دے، تو پھر الحان بھی اپنی محبت کھو کر کیسے خوش رہے گا۔ اس نے دل ہی دل میں استخارے کی دعا پڑھی جو بزنس ٹیک اوور کرنے سے پہلے حیات نے یاد کروائی تھی اور خود ہی ان سب سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اگر میں ایک رشتہ بتاؤں تو کیا اسے اہمیت دی جائے گی۔۔۔؟ اس کے الفاظ اور بولنے کا انداز ایسا ہوتا تھا کہ مقابل سننے اور ماننے پر مجبور ہو جائے جس طرح یہ لوگ ہو گئے تھے۔

کیسی باتیں کر رہے ہو بیٹا! بیٹے ہو ہمارے گھر کے اور اپنے گھر کے لیے کوئی بھی بیٹا غلط فیصلہ نہیں لیتا ۔۔ تم بتاؤ۔

الحان کو فرزندی میں لے لیجیے ان شاء الله منال خوش رہےگی اس کی معیت میں۔ وہ ایک بہترین انسان ہے۔ اور اس کی تصدیق سسر صاحب بہت اچھے سے کر سکتے ہیں۔ مسلسل پانچ دن رہے ہیں اس کے ساتھ اس کا سارا کردار سمجھ میں آ گیا ہوگا۔

یہ بھی ہمارے لئے اللہ کا انعام ہے وہ واقعی بہترین انسان ہے اس پیشے میں بھی وہ اتنا مخلص اور ایماندار ہے کہ خود بخود اس کی عزت کرنے کو جی چاہے۔ اور اس کا تو ہم پر احسان بھی اتنا بڑا ہے کہ چکا نہیں سکتے۔

چکا سکتے ہیں سسر صاحب! اپنی فرزندی میں لے کر۔۔ اور وہ الحان سے پوچھے بغیر اس کا رشتہ طے کر چکا تھا۔ اب اسے الحان کو یہ خوشخبری اس کے گھر جا کر دینی تھی۔ تین بعد وہ حیدرآباد جانے والا تھا اپنی بیوی کے ساتھ۔

********************

یہ فلیٹ اس طرح کیوں بنایا ہے نوفل بھائی نے۔۔۔ پورشن الگ ہے مگر اس کا دروازہ اندر سے ہی ہے۔ کمال ہے۔۔

نوفل احمد خان بھائی اینٹک پیس ہیں، تو کام بھی ہٹ کر ہی ہوں گے اب اس میں بھی ہوگا کوئی لاجک، ویسے حیات کہیں نوفل بھائی کسی خفیہ ایجنسی میں تو نہیں جس کے لیے یہ خفیہ سا گھر بنوایا کریمنلز کو ہارڈ پنشمنٹ دینے کے لیے، کیونکہ باہر سے تو بالکل نہیں لگتا کہ اس فلور پر ایک نہیں دو گھر ہیں۔ آذر اور احمد کی بات پر اس نے انہیں گھور کر دیکھا تھا۔ کیونکہ یہی سوال اس گھر کو دیکھتے ہوئے وہ خود بھی کر چکی تھی اور اسے سن نوفل احمد خان نے اسے کتنا ڈرا دیا تھا۔ اور پھر کتنی ہی دیر ہنستا رہا تھا۔

اگر آج آپ لوگوں نے ان کے بارے میں ایسا بولا نہ تو میں انہیں بتا دوں گی۔ اور یہ الحان بھائی کا فلیٹ ہے اور انہوں نے ہی اس کا مین ڈور ہمارے ہال میں سے رکھوایا تھا۔ مگر اب باہر سے ہی کریں گے۔ شادی کے بعد وہ اپنی وائف کو یہیں لایا کریں گے شاید رکھے بھی یہیں کیونکہ ان کا یہیں ٹرانسفر ہو رہا ہے۔ اس کی بات پر منال کا دل دھڑکا تھا مگر پھر صبح کی سب کے بیچ ہونے والی گفتگو یاد کر کے افسردہ ہوئی تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا جو بھی ہو وہ اب اپنی فیملی کو تکلیف نہیں دےگی۔ اس نے اللہ پر بہترین کا توکل کر کے چھوڑ دیا تھا۔

کتنی دیر چاروں بہن بھائی بیٹھ باتیں کرتے رہے تھے اور نوفل احمد خان اندر بزرگوں میں اکیلا بیٹھا اپنی بیوی کی اس لاپرواہی پر کڑھ رہا تھا جو ایک گھنٹے سے اس کی نظروں سے دور تھی۔مگر اس کے باوجود اسے اپنی بیوی سے ناراض ہونے کا حق نہیں تھا۔

********************

یہ کیا کر رہی ہو بیوی!؟ ساتھ میں بچھاؤ۔۔ روزانہ کی طرح۔ اس کو آگے پیچھے کر کے مصلہ بچھانے پر اس نے ٹوکا۔

نہیں اب سے ایسے ہی جو بھی نماز آپ کی گھر میں ہوگی اس میں آپ امامت کریں گے اور میں مقتدی بنوں گی۔ مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر مصلہ پر کھڑا کیا۔

کیوں بیوی اب اس میں کی کیا ہے؟

دادی کہہ رہی تھیں کہ شوہر کی امامت میں نماز پڑھنے والی عورت خوش نصیب ہوتی ہے۔ فرض نمازیں تو آپ مسجد میں پڑھ کر آتے ہیں تو نفل نمازیں میں آپ کی امامت میں پڑھوں گی۔ اور پھر اس نے دو نفل اسے اپنی امامت میں پڑھائیں تھی پھر دعا مانگنے کے وقت اس نے اسے اسکی جگہ سے اٹھا کر اپنے سامنے بٹھایا اور اسکے اطراف اپنے ہاتھ باندھے اس طرح وہ پوری اس کے حصار میں آ گئی پھر اپنے ہاتھوں میں دعا کے انداز میں اسکے ہاتھوں کو رکھا اور پھر دعا مانگی اپنی ماں،اپنی بیوی اور اپنی مغفرت، رب کی رضا، اس رشتہ میں برکت اور محبت، جنت میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اینٹری، اپنی بیوی کے حق میں بہترین، جو وہ روزانہ مانگتا تھا۔ اور حیات آمین کہتی تھی۔

دعا مانگ کر ہاتھوں کو ایسے ہی پہلے اس کے چہرے پر پھیرا پھر اس کے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر۔ اور پھر اس کو گود میں اٹھا کر بیڈ پر بٹھایا اسکی تکلیف کی وجہ سے وہ منع کرتی رہی مگر وہ ان سنی کرتا رہا ویسے بھی اس کا وزن کون سا زیادہ تھا۔

اب مجھے یہ بتاؤ منال کیا باتیں کر رہی تھی جو میری معصوم بیوی کے چہرے کے اتنے رنگ بدل رہے تھے۔ اپنے بازو پر لٹا کر دوسرے ہاتھ سے اس کا ڈوپٹہ کھولتے ہوئے اس نے اسے دن کی بات یاد دلائی تھی۔ جو اسے کتنا ستا رہی تھی کوئی اس سے پوچھتا۔ اور اسکے پوچھنے پر وہ اسپرنگ کی طرح اچھل کر بیٹھی تھی خوشی ایسی کہ وہ بھی حیران ہو گیا ایسی کیا بات تھی۔

آپ کو پتا ہے میرا وزن بڑھ رہا ہے تین کلو بڑھ چکا ہے۔۔ اس کے خوشی سے بتانے پر وہ اب بھی حیران ہوا تھا اس میں ایسی کیا خوشی کی بات تھی۔ اس کے لیے تو تھی یہ خوشی بہت دھیان رکھ رہا تھا وہ اس کا مگر اتنی خوشی وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔

ہاں بیوی الحمدلله تمہاری بہترین ڈائٹ کے ساتھ اللہ کا کمال ہے مگر اس میں چہرے کے رنگ بدلنے والی کیا بات ہے۔ اسے پھر اپنے اوپر جھکایا، اس کے بال پیچھے کرتے ہوئے پوچھا تھا۔

ڈائٹ سے نہیں بڑھ رہا ہے یہ، ہمارے گھر بےبی آنے والا ہے، جو میرے اسٹمک میں ہے۔ اب کچھ منتھس میں ہمارے پاس ہوگا۔۔ اور اب اسپرنگ کی طرح اچھلنے کی باری نوفل احمد خان کی تھی۔ وہ اتنی تیز اٹھ کر بیٹھا تھا کہ اس کے زخموں میں ٹیس سی اٹھی تھی مگر پرواہ کسے تھی وہ تو اپنی بیوی کی بات سن کر ہی حد درجہ شاکڈ تھا۔

واٹ!!!!!؟؟؟ کس نے کہا تم سے یہ۔۔۔؟

آپی نے کہا کہ میرا ویٹ پٹ آن ہو رہا ہے تو خوشخبری ہے۔ مگر میرا اسٹمک تو اتنا سا ہے اس میں بےبی کا پتا بھی نہیں چل رہا ہے اگر منال آپی نہیں بتاتی تو مجھے پتا ہی نہیں چلتا۔ اور نوفل احمد خان اپنی بیوی کی اس معاملہ میں اس درجہ معصومیت کو دیکھ کر ایک بار پھر شاکڈ ہو رہا تھا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ معصوم ہے پھر بھی وہ اسے حیران کر رہی تھی۔

تو تمہارے اسٹمک میں بےبی ہے؟۔۔۔ بڑی مشکل سے اس نے خود پر قابو پایا تھا۔ ورنہ اسکی معصومیت پر اس کا دل کتنی زور سے پھڑپھڑا رہا تھا وہی جانتا تھا۔ سوئے ہوئے جذبات جاگ اٹھے تھے۔ ایک تو اسکی باتیں دوسرا اس کا معصوم بے ریا انداز۔

جی! اور میں نے تو نام بھی سوچ لیا۔۔۔۔۔ بیٹا ہوگا تو محمد ابراہیم، بیٹی ہوئی تو فاطمہ زہرا اسکی چہکتی آواز گونجی تھی اور وہ تو اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی عجوبہ ہو اور عجوبہ تو وہ واقعی تھی۔

بےبی تمہارے اسٹمک میں کیسے آیا؟ اس کی حیرانی کم ہی نہیں ہو رہی تھی۔

اللہ نے ڈالا۔ آپ کو نہیں پتا۔ شادی کے بعد بچے ہی تو ہوتے ہیں۔ کسی کو ایک سال میں کسی زیادہ وقت بھی لگ جاتا ہے مگر ہمیں تو اللہ جلدی دے رہا ہے۔ اب کے اس نے حیران ہو کر اسکی طرف دیکھا تھا جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا ہو۔

ہاں بیوی! شادی کے بعد ہی بچے ہوتے ہیں مگر اس کے لیے اس رشتہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا پڑتا ہے تب جا کے بےبی آتا ہے۔ تمہیں یہ نہیں بتایا منال نے؟

نہیں انہوں نے تو بس یہی کہا تھا “لگتا ہے میں خالہ بننے والی ہوں”۔ بھولپن سے جواب دیا جو نوفل احمد خان کے لیے کڑے امتحان کا سبب تھا اس کی یہ باتیں انداز اس کو خوش دیکھ کر اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے خود میں چھپا لے اور اپنی بےپایہ محبت اس پر لٹا دے جسکی وہ اکیلی مالک ہے۔ اور پھر اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب اس سے بات کرے گا۔ اس رشتہ کو اسکی منزل تک لے کر جانے لیے۔

آپ کو کون سا نام پسند ہے؟

وہی جو تمہیں پسند ہیں مگر بیوی بےبی ایسے نہیں آتے ان کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ اب اس کا ذہن پڑھ رہا تھا۔

کیا کرنا پڑتا ہے بتائیں پھر ہم بھی کریں گے۔ پتا ہے ابرار انکل کی بیٹی کا بےبی اتنا کیوٹ ہے کہ میرا دل کر رہا تھا میں لے لوں۔ مگر دادی نے کہا کہ اللہ مجھے جلدی دےدےگا، دوسروں کے بچوں پر نظر نہیں رکھتے۔ تو میں نے اللہ سے کہا ہمیں بےبی دے دے اتنے بڑے گھر میں بس ہم دونوں ہی ہیں۔ اور اب فائنلی اللہ ہمیں بھی دے رہا ہے۔ آپ خوش ہیں؟ اب وہ اس کے زخم دیکھ رہی تھی جو سونے سے پہلے اس کا معمول تھا کہ کہیں اسے تکلیف تو نہیں دے رہے۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا وہ جس ٹاپک پر اتنے جوش و خروش سے باتیں کر رہی ہے ان کی گہرائی کیا ہے۔ اگر پتا ہوتا تو۔۔۔۔۔

اور نوفل احمد خان کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کیا کہے۔ وہ بات کرنا چاہتا تھا مگر۔۔۔۔ اسکی یہ معصومیت۔ یہی تو نوفل احمد خان کا جنون تھا جسے وہ نہ کبھی ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ اس کو ختم کرنا۔

بیوی تم مجھ پر کتنا یقین کرتی ہو؟ جب قسمت نے موقع دیا تھا تو اس سے اس بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اور چار مہینے اس رشتہ کو وقت دینے کے لیے کافی تھے۔ وہ اٹھ کر دراز سے ایک کتاب لے کر آیا تھا جو اس کو ایک مفتی صاحب نے کچھ دن پہلے ہدیہ کی تھی۔

پاپا جتنا۔۔۔ اس کے برجستہ کہنے پر اسے اس پیار آیا تھا جس کا وہ مظاہرہ بھی کر چکا تھا۔

تو پھر میں کچھ کہوں تو تم مانوگی۔۔۔؟ وہ اسکی ذہنی مطابقت کے حساب سے ہی بات کر رہا تھا۔

ہاں! مانوں گی اور میں آپکی ساری بات تو مانتی ہوں۔۔۔ معصومیت اب بھی برقرار تھی جو اسکے جذبات میں تلاطم برپا کر رہی تھی۔

بےبی ایسے نہیں آتے بیوی۔ اس کے لیے اس رشتہ کی تکمیل ضروری ہے اور اس کے تقاضے تم اس کتاب میں پڑھنا۔۔ اس کی طرف ایک کتاب بڑھائی۔

میں ابھی پڑھوں گی۔ وہ بےصبری سے اس سے کتاب لیتی ہوئی بولی۔

اونہہ ابھی نہیں کل پڑھنا اب سونا ہے۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ سے کتاب لے کر سائڈ میں رکھتا ہوا بولا۔ اور اسے پھر سے اپنے ساتھ لٹا کر بلینکٹ اوڑھ لیا۔ اس کی معصومیت اس میں سرور پیدا کر رہی تھی۔

اور کیا کہہ رہی تھی منال اس کے بالوں میں انگلیاں گھماتا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔ جو اس کے بازو پر سر اور سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے لیٹی انتہائی معصوم لگ رہی تھی۔ اس کے لیے بھی اس نے بہت محبت سے اسے راضی کیا تھا اللہ کی رضا اور نبی طریقہ بتا کر۔ جسے وہ مانتی تو تھی مگر کنفیوژ زیادہ ہوتی تھی۔

وہ کہہ رہی تھیں آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔ اور میں بہت لکی ہوں۔ اور اللہ مجھ سے راضی ہے تبھی میری شادی آپ سے ہوئی اور آپ بھی بہت لکی ہیں جو میں آپ کو ملی۔

اور تم نے کیا کہا؟ اس کی باتیں اسے مخمور کر رہی تھیں اگر اسے جذبات پر کمال نہ ہوتا وہ نوفل احمد خان نہ ہوتا۔۔

میں نے کہا سچ ہے۔۔ میں نے ان کو بتایا آپ دنیا میں پاپا کے بعد سب سے اچھے ہیں بھائی لوگوں سے بھی اچھے۔۔ اور آپ مجھ سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔۔ کرتے ہیں نا؟ اب کے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا جو اسے بولتے ہوئے سن رہا تھا۔

ہاں! بہت کرتا ہوں خود سے بھی زیادہ۔ کروٹ لے کر اسے خود میں مکمل گم کر لیا۔ اس کے یہ انداز اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اسے تکلیف نہ پہنچا دے۔

اور کیا بتایا تم نے؟ اسکی آواز کا بھاری پن اسکے جذبات کی ترجمانی کر رہا تھا۔

آپ تھوڑا سا پیچھے تو سرکیں۔۔۔ اسکی مضبوط ہوتی گرفت اسے بےچین کر رہی تھی۔ مگر اسنے کوئی دھیان نہیں دیا تھا

بتاؤنا بیوی۔۔ اسکی بار ان سنی کر کے پھر سے پوچھا۔

وہ۔میں ۔نے ۔ان۔کو۔بتایا۔کہ۔ آپ۔میری۔بہت۔کیئر کرتے۔ہیں۔اور۔کل۔آپ۔نے۔میرے ۔پیر۔کی۔بھی۔مساج۔کی۔اور۔آپ۔مجھے۔دادی۔پاپا۔اور۔مما۔کی۔طرح ۔پیار۔بھی۔کرتے۔ہیں۔اور۔بس۔ جو آپ نے بولا نہیں بتانے وہ نہیں بتائی۔ اسکی بڑھتی ہوئی شدت اور گرفت اسے اتنا بوکھلا گئی تھی کہ اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔

آئی لو یو بیوی۔ یہاں حد تھی اس کی۔ اتنا کہہ کر اسنے اس کی سانسیں محسوس کرنا شروع کردی تھیں مگر وہ جانتا تھا کہ اسے کہاں تک جانا ہے اور کہاں رکنا ہے۔ اس کی بیوی مینٹلی پریپئر نہیں تھی، اپنے جذبات سے وہ اسے ڈرانا نہیں چاہتا تھا تبھی اپنی گرفت نرم کر کے اسے پھر سے باتوں میں لگا کر اس کا ذہن بٹا چکا تھا جو آج وہ بہت الجھا چکا تھا۔ مگر اب خود سے جنگ لڑتے لڑتے اس نے ایک بےبس نظر اس پر ڈالی تھی اور اس کا سر تکیہ پر رکھتا نماز کی نیت سے اٹھ گیا تھا۔ ایک نماز ہی اسکو پرسکون کر سکتی تھی۔ اور اسے یہ بھی پتا تھا اس کی بےصبری بیوی اشراق کے بعد سونے کے بجائے کتاب پڑھنے بیٹھ جائےگی۔ اسے ایک خوف بھی لاحق تھا اسکی طرف سے۔ مگر وہ اسے قابو کرنا جانتا تھا۔ فی الحال تو اسے اس وقت خود کو قابو کرنا تھا اور اسکے لیے نماز سے اللہ کی مدد لینی تھی جیسا اس کی بیوی لیتی تھی۔

جاری ہے۔

Episode 22

وہ جلدی جلدی نوفل احمد خان کے لیے ناشتہ تیار کر رہی تھی جسے میٹنگ کے سلسلے ميں جانا تھا۔

کیا بات ہے بیوی! آج بنا کہے ہی ماشاءاللہ۔ اسے پلیٹ بھر کے فروٹ دودھ میں مکس کر کے کھاتے دیکھ کر وہ حیران ہو رہا تھا۔ آج اسے کہنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ورنہ وہ اسے گود میں بٹھا کر خود کھلاتا تھا، اس حادثہ کہ بعد حیات اسےکھلاتی تھی مگر تین دن سے وہ پھر پہلی روٹین اپنا چکا تھا۔ حیات کی خوراک کم تھی اسکی جسمانی لیاقت کے حساب سے اس لیے وہ زبردستی اسے کھلاتا تھا مگر آج بنا کہے ہی اس طرح کھاتے دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔

جی۔ اگر میں کم کھاؤں گی تو بےبی بھوکا رہےگا نا۔ منال آپی نے کہا تھا مجھے ڈبل کھانا ہے تبھی بےبی اچھا سٹرونگ ہوگا۔ اس کی بات سن کر دودھ پیتے نوفل احمد خان کو زور کا پھندہ لگا تھا۔ اسے تو یاد ہی نہیں رہی تھی رات کی بات۔ وہ بری طرح کھانس رہا تھا۔ ساتھ میں اسے ہنسی بھی آ رہی تھی دونوں کو کنٹرول کرنے کے چکر میں اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ رات اس نے کہا بھی تھا کہ بےبی ایسے نہیں آتے مگر اس کی معصوم بیوی منال کی بات کو ہی یقینی سمجھ چکی تھی۔ اور بک کا تو معاملہ پتا نہیں وہ کیا لےگی۔ اسکی یہ خوشی دیکھ کر اس کے دل نے بےاختیار کتنی ہی دعائیں اس کے لیے مانگ ڈالی تھیں۔ اس بری حالت میں بھی وہ اس کے پھر سے صدقے کی نیت کر رہا تھا۔ جو وہ جاکر نکالنے والا تھا۔

اللہ اللہ، سلو سلو پیئں، کتنی زور سے پھندا لگا ہے۔ وہ اپنا کھانا چھوڑ کر اس کی کمر سہلا رہی تھی کبھی اس کا گلا، کبھی سینہ اور اب چہرہ پر ہاتھ پھیر کر اسے سہلا رہی تھی۔ اور وہ صبح صبح اس کا نرم گرم لمس محسوس کر کے پھر سے رات والی کیفیت میں جا رہا تھا۔

بیوی میں ٹھیک ہوں، اسے زیادہ فکرمند ہوتے دیکھ کر اس نے اس کا ہاتھ پکڑ واپس اسے اپنے سامنے کیا تھا، جو اس کی حالت دیکھ کر روہانسی ہو رہی تھی۔ پھندہ کافی خطرناک تھا اس کے چہرے سے ہی تکلیف کے آثار واضح تھے تبھی وہ بھی پریشان ہو رہی تھی۔

کھانسنے سے آپ کو پین تو نہیں ہو رہا ہے۔ آپ نے صبح حادثے والی دعا نہیں پڑھی کیا، مگر ُ میں نے تو ساری دعائیں پڑھی تھیں صدقہ بھی کر دیا تھا پھر ایکدم سے اچانک۔ ضرور اللہ نے بڑے حادثے سے بچایا ہے۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر مریض کی عیادت کی دعا پڑھی تھی سات مرتبہ جسے سن کر نوفل احمد خان ہر بار آمین کہہ رہا تھا۔ پھر سات پرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر اس کے چہرے گلے اور سینے پر پھونکا۔اب بھی پین ہو رہا ہے۔ اسے اتنا پریشان دیکھ کر اسے اچھا نہیں لگا تھا۔ درد تو اس کے لمس اور فکر سے ہی اپنا احساس مٹا چکا تھا۔

نہیں بیوی، میں ٹھیک ہوں اب اسے اپنی گود میں بٹھایا اور اسکی آنکھ میں رکی نمی کو چن کر اسے بہلانے لگا۔

جتنی دعائیں پڑھ کر تم مجھ پر پھونکتی ہو نا وہ ساری کی ساری اللہ کے پاس میری حفاظت کے لیے محفوظ ہو جاتی ہیں۔ اس کی ناک دبا کر بچوں کے انداز میں سمجھایا تھا۔

آپ بھی تو پڑھ کر پھونکتے ہیں مجھ پر اور صبح آپ نے یٰسین کا دم بھی کیا تھا مجھے۔ ایسا بےبی کے لیے بھی کیا تھا نا۔ پتا ہے میں نے اللہ سے کیا بولا۔ معصومیت سے اس کی طرف چہرہ کر کے بولتی وہ اسے بہکا رہی تھی۔

کیا بولا۔۔۔ سر کو اس کے شانے پر رکھا۔

میں نے کہا! “اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا بےبی دینا جو وقت کا ولی ہو”۔ یہ دعا مجھے دادی نے کہا تھا مانگنے کو۔ اور وہ اس کو مسمرائز سا دیکھ رہا تھا۔ وقت کا ولی۔۔۔ یہ دعائیں وہ بھی مانگ رہا تھا جب سے جماعت سے آیا تھا۔ اپنی بیوی، اپنے اور اپنی اولاد کے لیے۔

دادی کو بھی بتا دیا تم نے۔۔۔ اس کے پوچھنے پر اس نے نفی میں گردن ہلائی تھی۔

میں ابھی فون کر کے بتا دوں۔ اس نے اٹھتے ہوئے پوچھا جسے نوفل احمد خان پھر سے بٹھا گیا اور ناشتہ کروانا شروع کر دیا ورنہ اس نے پھر بھول ہی جانا تھا۔

نہیں بیوی ابھی نہیں۔ بعد میں بتائیں گے یہ سرپرائز ہے نا اور منال کو بھی منع کر دینا کہ کسی کو نا بتائے۔ وہ اس کی باتوں پر آرگیو نہیں کرتی تھی۔ مان لیتی تھی۔ اس کا یقین. پختہ تھا اس پر۔

اچھا اب اسٹمک دکھاؤ میں بھی دیکھوں بےبی کو۔۔

نہیں دکھ رہا ہے۔ دیکھیں کتنا چھوٹا سا اسٹمک ہے جبکہ فریحہ آپی کا بڑا تھا۔ اس کا ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا تھا۔ اور نوفل احمد خان پچھتایا تھا اس سے پوچھ کر۔

دکھےگا ان شاء الله۔ جب تم اچھے سے خیال رکھوگی۔ وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہا تھا یا وہ اس کے اس انداز کو جی رہا تھا۔ جو بھی تھا وہ اس کے ساتھ اس جیسا ہی ہو رہا تھا۔ معصوم۔

اب بس۔ اب نہیں کھانا۔

یہ فنش کرنا ہے بیوی اس نے آدھے بچے باؤل کی طرف اشارہ کیا۔

نہیں سچی اسٹمک فل ہو گیا ہے۔ اب نہیں اسن نے اٹھنے کی کوشش کی جسے اس نے ناکام بنا دیا۔ اسے پتا تھا اس کے جانے کے بعد وہ بک پڑھےگی اور شاید کھانا بنک کر دے اس لیے ابھی ہی زبردستی کھلا کر جا رہا تھا۔

اگر تم نہیں کھاؤگی تو بےبی روئےگا بھوک سے۔ اس کھ کہنے کی دیر تھی اوروہ فٹافٹ سارا کھا گئی اس کی اس حرکت پر نوفل احمد خان قہقہہ لگا گیا تھا۔ ایک پل کو تو اس کا دل کیا اسے بک پڑھنے سے منع کردے مگر پھر کچھ سوچ کر خاموش رہا۔

آپ کو پتا ہے میں نے ڈریم دیکھا اسکی پرجوش آواز پر سوالیہ نظریں اسکی طرف اٹھی جنہیں سمجھ کر وہ شروع ہو چکی تھی۔

ہمارا جو یہ ٹیرس ہے نا اس کو آپ نے گارڈن بنا دیا ہے۔ اللہ کتنا خوبصورت، اس میں گملے والے فروٹ کے پلانٹ اور گھاس کا فرش، بہت سارے فلاور پلانٹ اور ہم تینوں جو بیچ میں آپنے جھولا ڈالا ہے اس پر بیٹھے جھول رہے ہیں۔ اور آپ ہم دونوں کو سورہ بقرہ سنا رہے ہیں۔ اس کے بتانے کا انداز ایسا تھا کہ نوفل احمد خان کو لگا جیسے یہ منظر اس کے سامنے ہے۔ اور بس وہ فیصلہ کر گیا۔

منال یہ تم میری بیوی کو کس مسئلہ میں الجھا گئیں۔

اب میں جا رہا ہوں۔ ان شاء الله دوپہر تک آجاؤں گا۔ اپنا خیال رکھنا ہے ڈرنا نہیں ہے اور رونا تو بلکل نہیں۔

ٹھیک ہے میں جب تک وہ بک پڑھو لوں گی اور پھر جو بک میں وہ کب کریں گے ہم؟۔۔ اف اس کا انداز نوفل احمد خان کو لگا تھا وہ جا نہیں پائےگا۔

ان شاء الله شام میں۔اپنے پھڑپھڑاتے دل کی بےچینی کا کچھ حصہ حیات میں انڈیل کر وہ جلدی سے اپنے کام کے لیے روانہ ہو گیا۔ اگر کچھ دیر بھی رکتا تو جا نہیں پاتا۔ نیک لوگوں کی معصومیت میں اللہ نے شاید جنت سے بھی زیادہ اٹریکشن رکھی ہے جیسی اسے اسکی بیوی میں محسوس ہوتی تھی۔ جو دن بدن اسے مسمرائز کر رہی تھی۔

**********

فری ہو کر وہ بک لے بیٹھ گئی چھوٹی سی اسلامک رولز بک میاں بیوی سے متعلق تھی جسے وہ ایک گھنٹے میں پورا پڑھ لیتی۔ اس کی عادت تھی جو کچھ بھی پڑھتی تھی وہ بسم الله اور علم نافع کی دعا پڑھ کر شروع کرتی تاکہ شیطان کے حملہ سے محفوظ رہے اور اس تک کوئی غلط علم نہ پہنچے۔ اس کی مشق بھی دادی نے ان لوگوں سے عملاً کروائی تھی اور اب منال اور آذر کی کروا رہی تھیں۔

دعا پڑھ کر اس نے کتاب کھول کر پڑھنا شروع کی، جیسے جیسے وہ پڑھ رہی تھی اسکی کیفیت اور چہرے کی رنگت بدلتی جا رہی تھی۔ غالباً تین بار وہ یہ کتا. پڑھ چکی تھی کہ شاید جو پڑھا اس نے اس میں کچھ تبدیلی ہو جائے اسے لفظ بلفظ وہ کتاب ازبر ہو چکی تھی مگر اس کی حالت خراب کر گئی۔ اور سب سے زیادہ اسے تکلیف دینے والی بات تھی کہ اسے یہ سمجھ میں آ گیا تھا کہ یاور قریشی اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔ اور یہ چیز اس کے لیے زیادہ خطرناک تھی۔ جسے دیکھ کر نوفل احمد خان ایک بار پھر پچھتانے والا تھا۔

اس کے کانوں میں بیوی بیوی کی پکار کی آواز پڑی تھی جسے سن کر وہ اتنا گھبرائی کہ چھپنے کی جگہ تلاش کرنے لگی،

یار بیوی کہاں چھپ گئی ہو، ہائڈ اینڈ سک بعد میں کھیلنا پہلے بات سنو! اب کمرے میں اس کی آواز گونج رہی تھی۔ اور نظریں اسے تلاش کر رہی تھیں اور ایک جگہ نظر ٹھہر گئی جہاں اس کے دوپٹے کا کونا نظر آ رہا تھا۔ وہ چلتا ہوا وہیں آ رکا اور اب اسےحیران نظروں سے دیکھ رہا تھا جو بیڈ کے پیچھے ذرا سی کھلی ہوئی جگہ میں ہاتھوں سے چہرے کو چھپائے سکڑی سمٹی بیٹھی تھی جو اب اس کی آواز سن کر اس میں گھسنے کی کوشش میں تھی۔

بیوی، کیا ہوا ہے؟ سائڈ میں رکھی کتاب کو دیکھ کر وہ معاملہ تو سمجھ چکا تھا۔

سنو بیوی، اس کا ہاتھ چہرے سے ہٹانے کی کوشش کی مگر بےسود۔ وہ اور خوفزدہ ہو رہی تھی۔

بیوی دیکھوگی نہیں میری طرف؟ اس کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔

اس نے بنا کچھ کہے اسے گود میں اٹھا لیا جس پر وہ اتنی ہراساں ہوئی کی چیخنے لگی۔ اور اسکی گرفت سے خود کو چھڑانے کی کوشش میں اس کی شرٹ کے اوپری بٹن بھی توڑ گئی۔

ریلیکس بیوی، روتی مچلتی حیات کو قابو کرتا وہ اسے لیے بیڈ پر بیٹھ گیا۔

میری بات سنو دھیان سے،

نہیں، نہیں مم۔میں۔مجھے۔وہ بک۔اس۔میں۔میں۔نے۔پپ۔پڑھا۔

چپ بیوی، ایکدم خاموش، اس کے ڈر سے بے ربط بولنے اور بے تحاشہ رونے نے اسے اچھا خاصا پریشان کر دیا تھا۔ اس کے ہلکے تیز لہجہ پر وہ اور ڈر گئی تھی اسکے آغوش سے نکلنے کی کوشش کی تھی۔

مم۔میں۔نہیں۔ وہ۔گندہ۔لڑکا۔میرے ساتھ۔یہ۔کک۔کرنے۔روتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی۔

میں نے کہا نا بیوی ریلیکس، اس بات کو بالکل نہیں یاد کرنا۔ بھول جاؤ جو بک میں پڑھا وہ بھی۔ٹھیک ہے۔ ایک ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کیے دوسرے سے چہرہ اپنی طرف کیا۔ اسے افسوس ہوا تھا اس کی حالت دیکھ کر۔ وہ جانتا تھا ایسی سچویشن سے تو اچھی اچھی بولڈ لڑکیا جنہیں ہر چیز کی پہلے سے خبر ہوتی ہے وہ بھی خوفزدہ ہو جاتیں ہیں یہ تو پھر اس کی معصوم بیوی ان تقاضوں سے بالکل نابلد تھی اسکی حالت کا اندازہ تو وہ پہلے ہی لگا چکا تھا۔ پھر بھی اس نے یہ کوشش کی تھی اور اسے یقین تھا وہ اسے پھر سنبھال لے گا۔ ابھی اور اس کے لیے وقت درکار تھا۔

تمہیں ڈر لگ رہا ہے بیوی؟ اس کے پوچھنے پر سر ہلا تھا اور آنکھ سے آنسو۔

کیوں اور کس سے؟ اس کے پوچھنے پر اس نے اسی کی طرف ایک انگلی اٹھائی تھی۔ مطلب وہ اسی سے خوفزدہ تھی۔ ایک نرم مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی تھی۔

اس کے ذہن میں دادی کے الفاظ گونجے تھے۔” اس کو اس معاملے میں لاعلم رکھنا اور اس کا اس معاملے میں اتنا معصوم ہونا یا تو ہماری کوتاہی ہے یا پھر اللہ کی طرف سے تمہارا امتحان” انہوں نے بتایا تھا کہ وہ لوگ اس کا رشتہ فائنل کرنے والے تھے اور پھر اسے اس رشتہ کی نزاکت سمجھاتے تاکہ اسے آگے اپنی لاعلمی سے پریشانی نہ ہو مگر وہ اس سے پہلے ہی اسے گن پوائنٹ پر لے آیا تھا۔ اور اس بات پہ اس نے شکر ادا کیا تھا۔ اگر وہ اسکی زندگی میں نہیں ہوتی اور اتنی معصوم نہ ہوتی تو شاید نوفل احمد خان ہمیشہ اندھیروں کا باسی رہتا اور جتنی نفرت وہ عورتوں سے کرتا تھا شاید زندگی بھر کرتا رہتا۔ مگر اللہ نے اسے حیات کے لیے چنا تھا یعنی اسے حیات کے قابل سمجھا تھا تبھی وہ ہیرا اسے دے کر اسکی حفاظت کا ذمہ دار بنایا تھا۔ اور اسے اپنے اللہ کی آزمائش دل وجان سے قبول تھی۔

کیوں، کیا میں ظالم ہوں؟ اب کے زور زور سے نفی میں سر ہلایا تھا۔ کتاب اسے کافی خوفزدہ کر گئی تھی۔

تو پھر؟

آپ۔وہ۔کک۔کتاب۔۔ اور اسکی گہرائی تک جاتا وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔

نو بیوی، تمہارا شوہر ایسا نفس پرست نہیں ہے۔ تم معصوم ہو جب تک تم پریپئر نہیں ہو جاتی اس ٹاپک پہ نو بات۔ اوکے۔ اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس۔میں ۔ہے۔کہ۔اگر۔میں۔نے۔آپکی۔بات۔نہیں۔مانی۔تو۔اللہ۔مجھ۔سے۔ناراض۔ہو۔جائےگا۔اور۔مجھ۔پر لعنت۔ہوگی۔ اتنا کہہ وہ اب زور زور سے رونے لگی تھی اسکی تکلیف دیکھ کر وہ اسے خود میں گم کر گیا تھا۔ اور اس کی کمر سہلا کر جیسے اسے تسلی دی تھی۔

نو مائی انوسنٹ بیوی، نہ تم پر لعنت ہوگی، نہ اللہ تم سے ناراض ہوگا، یہ نوفل احمد خان کا وعدہ ہے اپنے عشق اپنی بیوی سے۔ اب وہ اسے کندھے سے لگائے بچوں کی طرح بہلا رہا تھا۔ اور یہ چیز اسے ایک پل کے لیے بھی بیزار نہیں کرتی تھی شاید وہ جانتا تھا اس کے حصہ میں اللہ نے کتنا قیمتی ہیرا لکھا ہے جسے اس کے سوا نہ کسی نے دیکھا نہ کوئی دیکھنے والا تھا۔

میں۔آپ۔کے۔ساتھ۔نہیں ۔سوؤں گی۔ اور۔نہ آپکی۔گود۔میں۔بیٹھوں۔گی۔ سسکیوں کے درمیان اٹک اٹک کر بولتی وہ اس کی ہی گود میں اس کے ہی کندھے سے لگی اسے ہی انکار کر رہی تھی۔ اور وہ سوچ رہا تھا “ہوگا کوئی اسکی بیوی جیسا معصوم”۔۔

اچھا پھر کس کے ساتھ سوؤگی۔۔؟

اکیلی۔ دوسرے ۔روم۔ میں۔۔۔۔ جواب دینا ضروری سمجھا۔

اچھا!!!! میری ڈرپوک سی بیوی اپنے اتنے اچھے شوہر سے ڈر رہی ہے۔ مگر میری بیوی کو پتا ہے کہ میں اس کا بہت خیال رکھتا ہوں اسکی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کروں گا۔ کیونکہ میری بیوی میری جان ہے۔

اچھا یہ بتاؤ بےبی کیسا ہے اس کے لیے کھانا کھایا کہ نہیں۔۔ اسے تھپکتے تھپکتے وہ اسے نارمل کر رہا تھا اور وہ شاید ہو بھی رہی تھی کیونکہ وہ کتاب کے متعلق کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا۔

نہیں کھایا میں ڈر گئی تھی نا۔۔ شاید افسوس ہوا تھا۔ اور پھر سوال پر غور کرتی وہ جھٹکے سے اس سے الگ ہونے کی کوشش کر رہی تھی جسے وہ ناکام بنا رہا تھا۔

جب آپ نے بک والا نہیں کیا تو بےبی کیسے آیا۔۔؟ اب کے حیرت سے سوال کیا تھا۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا بیوی کہ بےبی نہیں ہے تمہارے اس چھوٹے سے پیارے سے اسٹمک میں۔ لیکن اگر تم چاہتی ہو کہ اس میں بےبی آئے تو۔۔۔۔۔۔

آا۔پ نے۔کہا۔تھا۔کہ۔نہیں۔کریں۔گے۔چچ چھوڑیں۔ مجھے۔نماز۔پڑھنی۔ہے۔خود کو چھڑانے کی جد و جہد میں آنسو بھی نکل آئے تھے۔

بیوی، اس طرح کرنے سے اللہ ناراض ہو جائے گا، میں تو کتاب والا کچھ بھی نہیں کر رہا ہوں بس یہ جو ہے اس سے مت روکو۔۔ میری اچھی بیوی ہو نا۔۔۔؟ اور میں مذاق کر رہا ہوں، تم میری واحد دنیا ہو جس میں میں جیتا ہوں، اگر تم ایسا کروگی تو میں جینا چھوڑ دوں گا نا۔ اس کی بات پر مزاحمت میں کمی آئی تھی اسکی بات پر اسے تکلیف ہوئی تھی۔ وہ اپنے رب کو ناراض نہیں کر سکتی تھی اور نہ اسے ہرٹ کرنے کا سوچ سکتی تھی۔ مگر رشتہ کے تقاضے اسے بےانتہا خوفزدہ کر گئے تھے۔ جنہیں سمجھتا نوفل احمد خان اسے بلکل بچوں کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا۔

بیوی، میرے پاس ایک بےبی ہے بہت کیوٹ سا۔ بہت معصوم سا، مجھے اس سے بہت پیار ہے کیونکہ وہ صرف میرا بےبی ہے۔۔۔ اسکے کہنے پر وہ کرنٹ کھا کر دور ہوئی تھی اور حیرانی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔

کک۔کیا۔آپ۔کے۔اسٹمک۔میں بھی۔بےبی۔ہے۔۔۔ بنا سوچے سمجھے بول گئی تھی۔اور نوفل احمد خان جو اسکی جیلسی کی توقع کر رہا تھا یہ بات سن کر بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔ اور جب سمجھ آیا تو اسے گود میں لیے ہی کھڑا ہوا تھا اور اتنا ہنسا تھا کہ وہ بےاختیار دعا پڑھ گئی تھی۔ بہلا تو چکا تھا وہ اسے۔

میں نے جوک نہیں مارا۔۔۔ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔۔اور بتائیں کہاں ہے آپکا بےبی۔۔۔ رویا رویا معصوم چہرہ اب پھولا ہوا اور بھی کیوٹ لگ رہا تھا نوفل احمد خان کو اپنی ساری تھکن زائل ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔

وہ۔میرا بےبی ہے نا تو تمہیں کیوں دکھاؤں۔۔۔۔ اسی کا انداز اپنایا جو اس کی بیوی کو بلکل نہیں بھایا۔

پھر میں بھی آپکو نہیں دکھاؤں گی اپنا بےبی۔۔۔ ناراضگی عیاں تھی۔

ابھی میرا کیوٹ سا معصوم سا بےبی میری گود میں ہے اور میں اپنے اس بےبی سے بہت پیار کرتا ہوں اور دیکھو اب میرا بےبی میرے کندھے پر سر رکھے ہوئے ہے۔۔۔ اس نے واقعی اسے ایک بچے کی طرح لے رکھا تھا۔ جتنا وہ بھاگ دوڑ میں آج تھک چکا تھا اس کی بیوی کی معصومیت اس کی ساری تھکن اپنی معصومیت سے اتار چکی تھی جسکی اسے خود بھی خبر نہیں تھی۔

میں۔میں بےبی ہوں آپ کا۔۔۔ مگر میں تو بیوی ہوں نا۔ بےبی کیسے ہوئی۔۔۔۔ سمجھداری دکھائی تھی۔

اونہہ، بیوی کے ساتھ ساتھ میری پیاری سی بےبی بھی ہو۔ بچوں کی طرح اسے کمر سے پکڑ کر اسے اتنا اوپر اٹھایا تھا کہ دونوں کا چہرہ آمنے سامنے تھا گرنے کے خوف سے وہ اسکی گردن میں اپنے ہاتھ لپیٹ چکی تھی جس سے نزدیکی کچھ اور بڑھ گئی تھی۔

اس کا مطلب آپ میرے شوہر بھی ہیں اور پاپا بھی۔۔۔۔ حیرانی بجا تھی۔ اسے کب پتا تھا کہ پیار سے آجکل کے شوہر بیویوں کو کیا کیا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اور نوفل احمد خان نے بھی پہلے کبھی اس کو ایسے نہیں پکارا تھا۔

اسکی لوجک پر نوفل احمد خان کا ایک بار پھر پورے کمرے میں قہقہہ گونج رہا تھا۔ اسی معصومیت سے تو اسے عشق تھا اپنی بیوی کی۔۔۔۔

حیدرآباد چلوگی الحان کے گھر۔۔۔؟

آپ پلیز مجھے نیچے اتارے آپ کے ہاتھ میں درد ہو جائے گا۔

اوکے اب بتاؤ۔۔۔

جی چلوں گی۔۔ اس کے ہاتھ کا معائنہ کرتے ہوئے جواب دیا تھا۔

اوکے بیوی کل شام میں چلیں گے تیاری کر لینا۔ اور اب چلو میرا بےبی بھوکا ہے صبح سے۔۔۔۔

آپ بےبی نہیں بولیں نا۔۔ مجھے پتا ہے آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔ انداز میں کسی قدر خفگی در آئی تھی۔

بیوی، جاتی ہوئی حیات کا ہاتھ پکڑ کر قریب کیا تھا اور دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ لے کر جھکا تھا۔

بیوی، نوفل احمد خان اپنی بیوی کا کبھی بھی مذاق نہیں اڑا سکتا۔تمہاری معصومیت اور معصوم باتیں ہی تو اسے زندگی کا احساس دلاتیں ہیں۔ “تم میرے عشق کی امامت ہو بیوی”، اور جس وجہ سے ابھی تم مجھ سے بچ کر بھاگ رہی ہو نا، تمہارا شوہر اس طلب کا بھوکا نہیں ہے، ہاں تمہاری قربت اسے بہکاتی ہے اور وہ بہکنا اور اس میں تمہارے چہرے پر رنگ بھرنا اور پھر ان رنگوں کو دیر تک دیکھنا تمہارے شوہر کے دل کی طلب ہے ایسے جیسے پورے جسم کو بلڈ کی، اور تمہارا شوہر تم سے اتنے ہی میں راضی ہے و خوش ہے۔ اس نے تم سے عشق کیا ہے وہ تمہاری روح کا مطلوب ہے جسم کا نہیں جبکہ اسے یہ علم ہے کہ تمہاری روح و جسم سب اسی کا ہے اور وہ بے صبرا نہیں ہے۔ وہ تمہارے ساتھ جیتا ہے یار اس سے اس طرح چھپ کر بچ کر اسکے جینے کی وجہ مت چھینو۔ وہ اس کا اس بک پر نظر پڑنے سے دوبارہ اس سے گریز محسوس کر چکا تھا۔

سوری، اسکا سر جھکا کر معافی مانگنا اسے پسند نہیں آیا تھا۔ اور اب وہ اسے اپنے آپ میں گم کیے آنکھیں بند کر کے کھڑا تھا۔ اسے پتا تھا وہ پھر اس سے گریز برتےگی، کیونکہ اس کا ڈر بلا وجہ نہیں تھا۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا وہ پھر سے اس پر کمال کر لےگا۔

**************

ڈور بیل کی آواز پر دونوں چائے پیتے ہوئے چونکےتھے کیونکہ اس وقت کسی کی آمد ان کے گھر نہیں ہوتی تھی۔

بیوی روم میں جاؤ، میں دیکھتا ہوں، اوکے اس کا گال تھپتھپاتا وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ مگر حیات نہ جانے کیوں وہیں کھڑی رہی، وہ چاہ کر بھی اندر نہیں جا پائی تھی ۔۔

اور دروازہ کھول جو نفوس سامنے کھڑے نظر آئے تھے نوفل احمد خان اپنی اس زندگی میں تو کیا اُس زندگی میں بھی کبھی بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *