Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat (Episode 08)

Hayat by Ain Noon Alif

باہر آؤ بیوی! کوئی چوتھی بار وہ اس کے دروازے پر دستک دے چکا تھا۔۔ مگر حیات میڈم خاموشی کا قفل ڈالے اندر بیٹھیں ہوئی تھیں۔۔

بیوی! اب اگر تم نے دروازہ نہیں کھولا تو میں ڈوپلیکیٹ کی سے کھول کر آجاؤں گا۔۔۔ اس کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی تھی دو منٹ بعد حیات دروازہ کھولے کھڑی تھی۔ اور وہ جو اس کے تیار ہونے کو سوچ کر اسے دیکھنے کی چاہ لیے کھڑا تھا۔۔۔ اب حیران پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جس نے خود کو حجاب میں کور کیا ہوا تھا۔۔ مگر چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھی۔۔۔ چہرہ میک اپ سے بالکل پاک۔۔

تم ریڈی نہیں ہوئی۔۔؟۔ وہ گھڑی دیکھتا ہوا اسے وقت کا احساس دلا رہا تھا۔

کریم پاؤڈر نہیں ہے اور کاجل بھی۔۔ اور یہ کپڑا آپ اپنے سائز کا کیوں لائے ہیں۔۔۔ اگر میں چلوںگی تو گر جاؤں گی۔ یہ بیلٹ سے بھی زیادہ نہیں رک رہا ہے۔ لو جی ایک اور غلطی نوفل صاحب کی۔۔۔

تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تمھارے پاس میک اپ نہیں ہے۔۔۔ بیشک وہ خوبصورت تھی مگر اس طرح وہ بالکل بھی اتنے گرینڈ فنکشن کے قابل نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ اور ریسیپشن کی دلہن۔۔۔۔ اف۔۔

اس لیے نہیں بتایا کیونکہ دادی کہتی ہیں کہ جو عورتیں سج سنور کر گھر سے باہر نکلتی ہوئی اللہ اور اس کے فرشتہ اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں۔۔۔ اس کی باتیں سن کر نوفل احمد خان کا دل چاہا کہ دادی سے جاکر یہ کہے کہ بیس سال کی بچی کو جہاں اتنا دین سکھایا وہیں کچھ دنیا داری اور شادی کے بارے میں بھی سکھا دیتی۔

اور آپ تو چاہتے ہیں کہ مجھ پر لعنت برسے۔۔ ایک اور الزام۔۔۔

اور میں ایسا کیوں چاہوں گا۔۔۔ اب کے دانت کچکچائے تھے۔

آپ خود تو ایسے ہی جا رہے ہیں اور مجھے سجا سنوار کر اللہ کو ناراض کروا کے لے جانا چاہتے ہیں۔۔۔ اس نے اس کے دن والے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔

چلو بیوی!۔۔۔ آج کا دن ہی امتحان کے لیے بنا ہے۔۔۔۔

وہ ایک قدم چلی تھی جب گاؤن کے فال سے الجھ کر پوری طرح اپنے سامنے قدم بڑھاتے نوفل سے ٹکرائی تھی۔۔۔ اور گرنے سے بچنے کے لئے اس کا سہارا لینے کی کوشش کی تھی۔۔۔ جب وہ پلٹا تھا اور گرتی ہوئی حیات کا ہاتھ پکڑ کھینچا تھا۔

میں نہیں جا رہی۔۔۔ آپ اچھے نہیں ہیں بالکل بھی، مجھے اس طرح گرانے کے لیے ایسا کپڑا لے کر آئے ہیں تاکہ میں قدم قدم پر گروں۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔۔۔ بالکل بچوں کے انداز میں زور سے روتی وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

گرنے نہیں دیا بیوی تمھیں! اب چلو بہت دیر کرا چکی ہو۔

اس نے جھک کر اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا تھا۔۔۔ جس پر حیات کا واویلا شروع ہو چکا تھا۔۔ جس پر کان دھرے بغیر وہ باہر آ چکا تھا۔۔ اسکے بازوؤں میں ہی اس نے اپنا چہرہ کور کیا تھا۔۔

لفٹ ساتویں فلور پر رکی تھی۔۔۔ اس نے شکر کیا تھا کہ کوئی ذی روح اس وقت باہر نہیں تھا۔۔۔

کیا ڈاکٹر عائشہ کے گھر پارٹی ہے۔۔؟

بیل بجاؤ جلدی۔۔۔۔ اسکا سوال نظرانداز کرتا وہ اسے حکم دے رہا تھا۔

نوفل واٹ از دس!؟ از ایوری تھنگ اوکے؟؟ ڈاکٹر عائشہ حیات کو اس کے بازوؤں میں دیکھ کر پریشان ہوئی تھیں اور ہٹ کر انہیں اندر آنے کا راستہ دیا تھا۔۔۔۔ ان کے گھر میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا۔۔

پلیز ڈاکٹر عائشہ میری بیوی کو آج کے فنکشن کے لئے ریڈی کر دیں۔۔ آج کے بزی شیڈول کی وجہ سے میں پارلر میں ان کے لئے اپائنٹمنٹ نہیں لے پایا۔۔۔

ڈاکٹر عائشہ نے ایک نظر روئی روئی سی اور نوفل کی بات پر پریشان ہوتی چھوٹی سی حیات کی طرف دیکھا تھا اور زیر لب مسکراتی اثبات میں سر ہلا گئی تھیں۔

اس کا گناہ بھی آپ کو ملےگا۔۔ میں اب ضرور دادی، پاپا اور بھائی کو بتاؤں گی کہ آپ نے مجھے بہت ستایا ہے۔۔۔ نم آواز میں بولتی وہ اسے دھمکی دیتی ڈاکٹر عائشہ کہ پیچھے ان کے روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔

اور اس کی دھمکی پر نوفل احمد کا دل چاہا تھا کہ قہقہہ لگائے۔۔ مائی لٹل بٹ کیوٹ انوسنٹ بیوی۔۔۔ کاش دادی آپ کچھ شادی کے مینرز بھی سکھا دیتی۔۔

*********

یہ نوفل ابھی تک کیوں نہیں آیا؟۔۔۔ مانیہ چودھری، جو کے بالکل خود کو اس طرح بدل کر آئی تھی کہ کوئی بھی اسے پہچان نہیں پایا تھا اور یہی حال یاور کا تھا۔

اس کی اینٹری ایسے نہیں ہونے والی۔۔۔ جیسے فلم ہٹ ہوئی ویسے ہی انداز میں اس کی اینٹری ہوگی۔۔ ہماری طرح صبر کرو تم بھی۔۔ یاور قریشی نے رکھائی سے جواب دیا تھا۔۔۔ اسے ایک طرف خود کے پہچان لئے جانے کا بھی ڈر تھا۔۔ مگر نوفل احمد خان کے لیے جو پلاننگ وہ کر کے آیا تھا اس کے لیے وہ ضروری سمجھتا تھا کہ اسے یہ رسک لینا ہی تھا۔۔۔

سیٹنگ ہو گئی؟۔۔۔ کسی ویٹر جو کہ اسی کا آدمی تھا پوچھا تھا اس کے سر ہلانے پر مطمئن ہوتا ہوا وہ انتظار کرنے والوں میں ہوا تھا۔۔ اس نے اپنی پلاننگ مانیہ کو نہیں بتائی تھی، وہ جانتا تھا اگر اسے بھنک بھی پڑ گئی تو وہ اس کو نہیں بخشے گی۔۔۔ اور آج وہ نوفل احمد کو صبح کی دھلائی کے باوجود بھی بخشنے کو تیار نہیں تھا۔۔

************

دس منٹ میں ہی ڈاکٹر عائشہ حیات کو تیار کر کے لے آئیں تھی۔۔ ہلکی براؤن آنکھیں سیاہ مسکارے، لائینر اور کاجل کی وجہ سے زیادہ واضح ہو رہی تھیں۔ لپ اسٹک اس نے لگانے نہیں دی تھی۔۔ حجاب بھی ڈاکٹر عائشہ خوبصورت انداز میں پن اپ کر کے لائی تھیں۔

یہ لو بھئی تمھاری امانت۔۔ حیات کا ہاتھ پکڑ اس کے سامنے کیا تھا جو مسمرائز سا اس کو دیکھ رہا تھا۔۔ واقعی ذرا سے میک اپ نے اسے کتنا بدل دیا تھا۔۔ خوبصورت تو پہلے سے ہی تھی اب اور بھی لگ رہی تھی۔۔۔

اوہو اوہو۔۔۔ ڈاکٹر عائشہ کی معنی خیر کھانسی اسے حواسوں میں لائی تھی۔۔

بیت لکی ہو تم نوفل۔۔۔ تمھاری تکلیفوں کا مرہم رکھا ہے اللہ نے حیات کی صورت میں تمھارے لیے۔۔۔ اتنی معصوم پختہ ایمان والی بچی پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔۔۔ اور وہ ڈزرو کرتی ہے کہ نوفل احمد خان جیسا مضبوط توانا مرد اس کی پہرہ داری کرے۔۔۔ وہ اس کے قریب کھڑی اتنی آہستہ بول رہی تھیں کہ وہی سن پایا تھا۔۔ حیات اگر ہوش میں ہوتی تو سن لیتی مگر وہ تو اتنے میک اپ میں حد درجہ نروس ہو رہی تھی نوفل کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا ہی نہیں تھا۔۔

جاؤ انجوائے کرو اپنا فنکشن دونوں کو وشز دیتی وہ الوداع کہہ رہی تھیں۔

آپ بھی چلتی تو اچھا ہوتا۔۔

تم جانتے تو ہو آج کا دن کتنا ٹف ہوتا ہے ہمارے لئے ابھی بھی بس کچھ دیر میں نکل رہی ہوں۔۔۔ بٹ یو ڈونٹ وری تم پر دعوت ڈیو ہے۔۔۔ اور اب پھر سے اٹھاؤ اس کو کیونکہ لباس واقعی تم اپنے سائز کا لائے ہو۔۔ ان کی بات پر ایک مسکراتی نظر پزل ہوتی حیات ہر ڈالی تھی اور اگلے پل اسے گود میں اٹھا چکا تھا اور اب بھی حیات صاحبہ کا واویلا۔۔۔۔ اف۔

اللہ اللہ! آپ کیسے بے شرم انسان ہیں۔۔ کیا سوچ رہی ہوں گے ڈاکٹر عائشہ اتنی بڑی لڑکی کو آپ گود میں اٹھا کے لیے جا رہے ہیں۔۔۔ اس کی اپنی منطق تھی۔۔

کچھ نہیں سوچ رہی ہوں گی ان کے شوہر بھی اٹھا چکے ہوں گے انہیں اس طرح، اسے احتیاط سے گاڑی میں بٹھاتا وہ ڈرائونگ سیٹ پر آیا تھا۔

اب نہیں اٹھانا میں خود چلوںگی اوکے۔۔

اس کے وارن کرنے پر ایک نظر اسکے ڈھکے چھپے وجود کو دیکھا تھا۔۔ اور بنا کچھ بولے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔۔ چرہ اس کا بھی چھپا ہوا ہی تھا۔۔ جسے حیات صاحبہ اپنی سمجھ کے مطابق القاب دے رہیں تھی۔

*********

آٹھ بجے اس کی اینٹری تھی اور اب بس پندرہ منٹ باقی تھے۔۔۔ بڑے سے اسٹیڈیم کے سامنے گاڑی رکی تھی۔ اور عجلت میں باہر نکلتا وہ اسے پانچ منٹ ویٹ کا بول کر وہیں سامنے ایک روم تھا یا کیا داخل ہوا تھا۔۔

یا اللہ! اس کی بےچینی پھر سے بڑھ گئی تھی دل کیا تھا کہ یہاں سے دور بھاگ جائے اپنے گھر اپنوں میں۔۔۔ اس نے اچھے سے ایک بار اور حجاب ٹھیک کیا تھا جب ٹھیک پانچ منٹ بعد ہی نوفل آیا تھا۔۔۔

آپ تیار ہونے گئے تھے۔۔۔ اسے براؤن بلیک شیڈ کے تھری پیس میں نک سک سے تیار دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی اتنی جلدی بھی کوئی تیار ہوتا ہے۔۔

ہمم۔ اس کی طرف کا دروازہ کھولے وہ اس کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔

بیوی یہ اپنی چادر اتار دو اب۔۔ جاتے ہوئے لے لینا۔۔ جلدی کرو۔۔

کیا!۔۔۔ میں چادر نہیں اتاروں گی۔۔۔ آپ بالکل جہنمی بنا رہے ہیں مجھے۔۔ سختی سے چادر کو پکڑتے ہوئے اسے رد کیا تھا۔

پلیز یار گھر جا کر نخرے کر لینا ابھی دیر ہو رہی ہے اس طرح نہیں جا سکتی تم۔۔۔ نوفل احمد خان کی دلہن ہو اس وقت ریسیپشن ہے ہمارا۔

تو میں کیا کروں۔۔۔۔؟؟ مجھے ایسے ہی لے کر جائیں نہیں تو گھر واپس چھوڑ کر آجائیں اور اکیلے ریسیپشن کر لیں۔۔۔ میں بالکل بھی چادر نہیں نکالوں گی۔۔ اس کی ضد پر اسے غصہ آیا تھا، ایک تو پہلے ہی دیر کروا چکی تھی اور اب ضد کر کے اور دیر کر رہی تھی۔ اس نے بنا سوچے سمجھے اس کی چادر نکال دی تھی اور خود ہی اس کے ڈریس کو صحیح کیا، اسکارف رہنے دیا تھا مگر چہرہ کھول دیا تھا۔۔۔ اس کے احتجاج کی پرواہ کئے بغیر اس کو بازوؤں میں اٹھاتا وہ اسٹیڈیم کے انٹری ڈور میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔

آپ اچھا نہیں کر رہے ہیں یہ غلط ہے اس کے بازوؤں سے نکلنے کی کوشش کرتی وہ اسے اس کی غلطی کا احساس دلا رہی تھی۔۔۔ چہرہ آنسوؤں سے تر ہو رہا تھا۔۔۔ واٹر پروف میک اپ ہونے کی وجہ سے بچت ہو گئی تھی۔۔

نیچے اتارے مجھے۔ مجھے نہیں اس پر چڑھنا۔۔۔۔ اسٹیج پر لے جانے والا جھولا نما اڑن کھٹولہ دیکھ کر وہ باہر کی طرف بڑھی تھی جب نوفل احمد اس کو واپس گود میں اٹھائے اس جھولے میں چڑھ گیا تھا۔۔

بیوی نو رونا اوکے۔۔۔ یہ میری اینٹری کے لئے ہے۔۔۔ ود مائی برائڈ۔۔ اور اس طرح کر کے تم یہ ثابت کر رہی ہو جیسے میں تمھارا کڈنیپ کر کے زبردستی لی کر آ رہا ہوں۔۔۔۔ کچھ تو میری ریپیوٹیشن کا خیال کرو۔۔۔ اسے ریلیکس کرتا وہ اسکے احتجاج سے پریشان ہو رہا تھا۔۔۔ وہ اس کا ایسا رئیکشن سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔

اور وہ بھول رہا تھا جو کسی دوسرے کے سمجھانے سے نہیں سمجھتا اسے قسمت پھر اپنے طریقے سے سمجھاتی ہے۔۔۔

آپ زبرسستی بے حجاب کر کے لے کر جا رہے ہیں مجھے، بہت گناہ ہوگا آپ کو دیکھنا۔۔۔۔ پاپا مما، دادی سب کیا سوچیں گے، کاش اب آجاتے تو۔۔۔۔

اسٹاپ بیوی اب اگر کوئی آواز آئی نا تو تمھارا کل گھر جانا کینسل اور اس کے بعد بھی کبھی نہیں، امریکا لے جاؤں گا میں تمھیں۔۔۔ اس کے اتنے خطرناک احتجاج پر اسے دھمکی دے کر خاموش کروایا تھا۔

تم نے تو اسکارف بھی کیا ہوا ہے یار، صرف چہرہ اور ہاتھ پیر ہی نظر آ رہے ہیں باقی پوری کورڈ ہو، اندر جاکر دیکھوگی تو کوئی بھی ایسی عورت نہیں نظر آئےگی۔۔۔ اس کا مطلب یہ تھوڑی نا ہے کہ وہ سب غلط ہیں۔۔۔ اس کے خاموش ہونے پر ایک اور نقطہ اس کو سمجھایا تھا۔

ماٰئک میں بار نوفل احمد خان کا نام گونج رہا تھا۔۔۔سیٹیوں اور تالیوں کی آواز پورے اسٹیڈیم میں اس طرح گونج رہی تھی کہ آپس کی آواز ہی سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔

جب جھولا اسٹیڈیم کی بلندی تک اٹھا تو وہ ڈر کے چیخ مارتی ہوئی دونوں ہاتھ نوفل کے گلے ڈالتی اس کے اندر چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ اس کو اتنی بری طرح جکڑا تھا کہ نوفل احمد اس کی سانسوں کا زیر و بم اور دل کی ہوتی تیز دھڑکن صاف سن رہا تھا۔۔۔

ریلیکس بیوی۔۔۔ بےاختیار اس کے سر پر اپنے لب رکھتا وہ اسے پرسکون کر رہا تھا۔۔۔

مجھے یہاں نہیں جانا، مجھے گھر جانا ہے، ڈر اور بےحجابی نے اسے کافی ڈرا دیا تھا۔۔۔ وہ اس سے بری طرح لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔

اور اب تھام کر رکھے اپنے دلوں کی دھڑکنوں کو، کیونکہ تشریف لا رہے ہیں ” دا موسٹ وانٹیڈ، ہینڈسم، ہارٹ بیٹ آف ایوری ہارٹ، دا سپر اسٹار نوفل احمد خان” اینکر کی پرجوش آواز پورے اسٹیڈیم میں گونج رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی تالیوں کے شور نے تہلکا مچا رکھا تھا، ہر کوئی اس کی آمد کا بیچینی سے انتظار کر رہا تھا۔۔۔ دور کھڑا چہرے پر رومال باندھے ایس پی الحان ہر کسی کو جانچتی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

اچانک اڑن کھٹولہ بیچ و بیچ دو حصوں میں بٹا تھا اور ساتھ ہی لوگوں کی چیخیں۔۔۔ جن میں حیات کی شاید سب سے زیادہ تھی۔

جھولا ٹوٹ گیا ہم گر رہے ہیں، ہم مر جائیں گے، میں کسی سے بھی نہیں مل پاؤں گی۔۔ آپ بہت بہت برے ہیں، میں کبھی بھی آپ سے بات نہیں کروں گی۔۔ اس کے رونے میں شدت آتی جا رہی تھی جو نوفل احمد خان کو تکلیف دے رہی تھی۔۔۔ اس نے سوچا نہیں تھا کہ اس کی یہ حالت ہوگی۔۔

بیوی! اس نے حیات کو آواز دی تھی جو اسے اور شدت سے پکڑ چکی تھی مبادہ وہ اسے گرا نہ دے۔۔۔۔

ہم گر نہیں رہے ہیں بیوی۔۔۔ تم آنکھیں کھول کر دیکھو، اس پل کو انجوائے کرو۔۔۔ لوگ ہماری طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔۔۔ دھیرے سے اسے اپنے سامنے کرتا وہ اسے اپنے ساتھ کھڑا کر رہا تھا۔

آنکھیں کھول کر دیکھو نیچے۔۔۔ اس کے کہنے پر اس نے آنکھیں کھولی تھیں اور نیچے کی طرف دیکھا تھا، جہاں وہ ایک پھولوں سے لدی شاخ پرتھے، وہ بالکل نوفل احمد خان سے لگ کرکھڑی تھی، شاخ بہت سلو موشن میں نیچے کی طرف جا رہی تھی، ساتھ ان پر چاروں طرف سے ڈم اسپاٹ لائٹ پڑ رہی تھی، ہلکا ہلکا میوزک بج رہا تھا۔

بیوی! اس کے پکارنے پر اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ اور نوفل احمد خان گریہ وزاری سے سرخ ہوتی آنکھیں، خوف سے کپکپاتے لب، اور کانپتا وجود دیکھ کر بے اختیار اسے اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا۔۔۔ اور واقعی آج کا دن نوفل احمد کا ہر طرح سے امتحان لے رہا تھا۔۔۔

سیٹیوں اور تالیوں کی آواز بڑھتی جا رہی تھی اور ساتھ ہی اس کی آمد پر اسٹیج کے چاروں طرف ڈانسروں نے ڈانس شروع کر دیا تھا۔۔۔ اور پھر وہ اسٹیج پر اترا تھا۔ جس شاخ پر وہ دونوں تھے اب وہ پھیل ایک ٹو سیٹر صوفے میں تبدیل ہو گئی۔۔اس کی باہوں میں موجود کسی ذی روح کو دیکھ کر سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔۔۔ سب کو معلوم تھا کہ نوفل احمد خان کوئی سرپرائز دینے والا ہے۔۔۔ تو کیا یہ وہی سرپرائز ہے۔۔۔ اینکر کی آواز مائک میں اس ذی روح کو لے کر طرح طرح کی قیاس آرائیوں سے گونج رہی تھی۔۔۔

بیوی! اس نے اپنی باہوں میں موجود اپنی نازک بیوی کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کی تھی جب وہ اس کو اور شدت سے پکڑ کر، نہیں میں سر ہلاتی اس کے اندر گھسنے کو تھی۔۔۔ اسے اس قربت کی نہ تو سمجھ تھی نہ کوئی اندازہ تھا کہ نوفل احمد اس کے اس طرح کرنے سے کس درجہ امتحان میں ہے۔۔

سب دیکھ رہے ہیں بیوی! سب کیا سوچیں گے کہ کیسی بےشرم لڑکی ہے جو جوان جہان لڑکے کو چپکی کھڑی ہے اور دادی پاپا مما سب کو کیسا لگے گا جب وہ تمھیں ایسے دیکھیں گے۔۔۔۔ اس کے قیاس کے مطابق اگلے پل وہ اس سے الگ ہو چکی تھی۔۔۔

لوگوں کی پرواہ کیے بغیر وہ اس کے آنسو صاف کر رہا تھا، ٹشو سے اس کے چہرےکو تھپتھپاتا وہ کہیں سے ایک سپراسٹار نہیں لگ رہا تھا لوگ شوکڈ ہو کر اسے ایک لڑکی کو بچوں کی طرح بہلاتے دیکھ رہے تھے۔۔ جس نے مروت میں بھی کبھی کسی کو تسلی نہیں دی، وہ کیسے کسی حسینہ کی نازبرداریوں میں لگا ہوا تھا، کبھی اس کا اسکارف ٹھیک کر رہا تھا، کبھی اس کی کمر کے گرد بندھی بیلٹ میں گاؤن کو صحیح کر رہا تھا۔ کچھ کی نگاہوں میں رشک تھا تو کچھ حسد بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے تو کچھ اس سے بھی زیادہ بھسم کر دینے والے انداز میں گھور رہے تھے۔۔۔ جو بھی تھا متجسس ہر کوئی تھا۔۔۔۔

اور دور کھڑا ایس پی الحان اسے غصہ سے گھورتا زیر لب گالیاں دیتا افسوس کر رہا تھا کہ اس نے اسے بھی نہیں بتایا۔۔ حالانکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے اپنے تھے۔۔ وہ اس کے لئے خوش بھی تھا، جب اسکے ذہن کے پردے پر کسی کی شبیہ لہرائی تھی۔۔ جس سے ملے ہوئے بھی اسے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے، مگر شاید حادثہ شدید تھا جبھی وہ اسے بھول نہیں پایا تھا۔۔ اینکر کی تیز آواز پر وہ اپنے خیالوں سے نکلتا ان دونوں کی طرف متوجہ ہوا تھا، جہاں اب نوفل احمد اپنے ساتھ کھڑی لڑکی کو کاندھوں سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کر رہا تھا اور لڑکی نہیں نہیں میں سر ہلا رہی تھی شاید چہرہ چھپانے کی کشش کر رہی تھی، اور نوفل احمد بچوں کی طرح پچکارتے ہوئے اسے بہلا رہا تھا۔ اس کا حال دیکھتے ہوئے وہ بےاختیار ہنسا تھا۔۔ جہاں اسے نوفل کے چہرے پر بےزاری نہیں بلکہ فکر ہی فکر نظر آ رہی تھی۔۔

تو بیٹا تو بھی ہو گیا عشقِ سفر کا مسافر۔

باالآخر وہ پری چہرہ اب لوگوں کے سامنے تھا۔ بےانتہا معصوم۔ سب کی نظریں خود پر محسوس کر کے وہ پھر سے خوفزدہ ہو کر اس می طرف گھومی تھی اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ جس پر نوفل احمد اسے تسلی دیتا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھتا لوگوں کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ اور لوگوں کی اپنی بیوی پر ٹکی گہری نظریں محسوس کر اس کے چہرے پر ناگواری آئی تھی۔ کیا کرتا اسی کا دھرا تھا۔

**********

کیا کہا تھا تم نے ” نوفل احمد خان صرف مانیہ چودھری کا ہے، جو بھی اسے مجھ سے چھیننے کی کوشش کرےگا تباہ ہوگا” ہا ہا ہا اب بولو نوفل احمد خان کس کا ہے؟۔۔ یاور قریشی نے مانیہ چودھری کے کان میں سرگوشی کی جو پہلے ہی سے ان دونوں کو آگ برساتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

تو تم بھی دیکھ لو یاور قریشی جو لڑکی اس کے ساتھ ہے یہاں اس جیسی کوئی نہیں، تم ایسی لڑکی کو چھونا تو دور دیکھ کر بھی تسکین نہیں پا سکتے کیونکہ تم جیسے گھٹیا لوگوں کے پاس ایسی حوریں بھٹکتی بھی نہیں۔۔۔ لایا تو نوفل اپنے اسٹینڈرڈ کی ہے۔۔۔ تم تو بس انہیں کو چھکھو جنہیں دنیا جانے کتنی بار چکھتی ہے۔۔۔۔ اس طرح کی بات کر کے وہ اسے کس لئے اکسا رہی تھی۔۔۔؟

تمھارے نوفل کی طرح کچی کلیوں کو نہیں توڑتا میں، دیکھو اپنے نوفل کو کہاں وہ اور کہاں وہ لڑکی، بچی کو لایا ہے سالا۔۔۔

انگور کھٹے ہیں، جو تمھاری پہنچ میں نہیں آتے وہ نوفل کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔۔۔ اور وہ بچی ہو یا کچھ بھی دیکھ لو کیسے لوبرڈز بنے ہوئے ہیں اب تمھاری ایسی قسمت کہاں کہ ایسے کلیوں کو سونگھ سکو۔۔۔ اونہہ

مانیہ چودھری تم یاور قریشی کو نہیں جانتی اب تمھارے اس نوفل کی اس نازک کلی کو چکھ کر نہ دکھایا تو تو اپنے باپ کی اولاد نہیں۔۔۔ اور جو مانیہ چودھری کا کام تھا وہ ہو چکا تھا۔

کیا پتا ہو ہی نہ تم اپنے باپ کی اولاد۔۔۔ اسے پھر سے آگ میں دھکیلتی وہ پراسرار مسکراہٹ لئے اسٹیج کے بالکل قریب کھڑی ہو گئی۔

سالی کمینی، مجھے چیلیچج کرتی ہے۔۔۔ آج بتاتا ہوں اس کو یاور قریشی کیا چیز ہے۔۔۔ اب پہلے کی پلاننگ ختم، رئیل سرپرائز ہم دیں گے نوفل احمد خان کو۔۔۔ “سو گیٹ ریڈی نوفل احمد خان جو تصویریں تمھاری جھوٹی بنائی گئی تھیں ان تصویروں کو اب رئیلٹی شو میں بناؤں گا وہ بھی تمھاری اس نازک کلی کے ساتھ، اور یہ سرپرائز تم اپنی آخری سانس تک نہیں بھولوگے۔۔۔ اپنے خیالوں میں نوفل احمد کو مخاطب کرتا وہ اپنا نیا پلان ترتیب دے چکا تھا اور اس میں اسے اس کے مطابق کمینی مانیہ کی ضرورت پڑنے والی تھی۔

*********

لیڈیز اینڈ جینٹل مین کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے پرنس دا سپراسٹار نوفل احمد خان کے ساتھ یہ موسٹ بیوٹیفل اینڈ گارجئیس انوسینٹ لیڈی کون ہیں؟ کیا یہ وہی سرپرائز ہے جس کا ذکر نوفل احمد خان نے کیا تھا؟؟؟ اینکر کے سوال پر سیٹیوں اور تالیوں کی گونج کے ساتھ ساتھ “یس! یس!” کی آوازیں بھی گونج رہی تھیں۔

*********

سو گائز آپ کا انتظار ہوا ختم۔۔۔ سب کو فکر تھی نوفل احمد خان شادی کس سے کرےگا، کب کرےگا، کیسی ہوگی، کون ہوگی۔۔۔ تو جناب آپ لوگوں کو آج نوفل احمد خان اس فکر سے آزاد کرتے ہیں۔۔۔ کیونکہ یہ پارٹی صرف فلم کے لئے نہیں ہے، اسپیشل یہ پارٹی ہے ریسیپشن کی، جی ہاں نوفل احمد خان کے ریسیپشن کی۔۔۔ اینکر کے انکشاف پر ہر کوئی ششدر تھا خود اینکر بھی جسے کچھ ہی دیر پہلے پارٹی کا اصل مقصد پتا چلتا تھا اووو، وووو کی آوازیں ہر طرد سے آ رہی تھی۔۔ اور دو نفوس ایسے تھے جنہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، اور وہ تھے مانیہ اور یاور۔

بیوی گردن جھکے جھکے ٹوٹ بھی سکتی ہے، اس کو اٹھانے کی زحمت بھی کر لو۔۔ نوفل کی بات پر حیات نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔ آنکھوں میں ابھی بھی آنسو ٹکے ہوئے تھے۔

میں ہوں نا بیوی۔۔۔ وہ ابھی بھی اس کے حصار میں تھی۔

اب گھر چلیں پلیز۔۔۔ سب مجھے دیکھ رہے ہیں۔ مجھے نہیں اچھا لگ رہا ہے۔۔ میں چہرہ دھانپ لوں۔۔ آواز ابھی روئی روئی تھی۔

۔ بس تھوڑی دیر سب سے مل کے پھر چلتے ہیں۔ اس کے بعد تم چہرہ ہی نہیں چادر بھی لے لینا۔

اور اب نوفل احمد خان کروائیں گے اپنے انداز میں اپنی وائف کا انٹروڈکشن اپنی ہی فلم کے گیت سے۔۔ انکر کے کہنے پر ایک بار پھر سیٹیوں اور تالیوں کی آواز گونجی تھی۔ اور کچھ دیر بعد نوفل احمد خان نے اپنی فلم کا انتہائی جذبات سے بھرپور انگلش گانا گانا شروع کیا تھا۔

اور حیات اسٹیج پر کھڑی سہمی نگاہوں سے ہر طرف دیکھ رہی تھی، جہاں مرد عورتیں ایک دوسرے میں گم حلال حرام کی تمیز بھلائے ہوئے تھے۔۔۔ سانگ ہی ایسا تھا کہ ہر کوئی مست ہو رہا متزاد نوفل احمد خان کا انداز۔

حیات کو اتنا سہما ہوا دیکھ کر اس نے گانا آدھے میں ہی ختم کیا اور واپس حیات کے پاس آیا۔

بیوی! اس کے آواز دینے پر وہ بےساختہ اس کی طرف گھومی تھی اور اس کا ہاتھ پکڑتی پھر سے اسے گھر جانے کے لئے فورس کر رہی تھی اس کا اتنا خوف وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اسے بازو کے حلقہ میں لیتا وہ اس کا لوگوں سے مختصر تعارف کرواتا اسٹیج سے اتر آیا تھا۔ اور بھانت بھانت کے لوگوں سے ملوا رہا تھا اور وہ ان سے ملنے کے بجائے نوفل کے بازوؤں میں بار بار خود کو چھپا رہی تھی۔

**************

اس نے چاروں طرف نظر گھما کر الحان کو تلاش کیا تھا نظر آنے پر اسے آنے کا اشارہ کرتا وہ حیات کو اس کی ضد پر کونے میں انکے لیے اسپیشل لگی ٹیبل پر بٹھا چکا تھا۔

ناراض نہ ہو یار۔۔ الحان کے گھورنے پر اسے بھی کندھوں سے پکڑ کر اسے بھی وہی بٹھایا۔۔ جس پر حیات نے پہلو بدلا تھا۔ جسے نوفل احمد خان تو نہیں مگر وہ سمجھ چکا تھا اور نوفل کو اشارے سے بلاتا وہ اٹھ کر جا چکا تھا۔

بھابھی جب پردہ کرتی ہیں تو تم ایسے کیوں لائے ہو انھیں یہاں؟

ایسے کیسے مطلب؟۔۔ چہرہ ہی تو کھلا ہے۔۔ وہ شاید پردے کی گہرائی سے ناواقف تھا۔۔ یہ بات ایس پی الحان بخوبی جانتا تھا۔ اس لیے یہ بات کسی اور وقت کے لئے اٹھا کر رکھتا اس سے باتیں کرنے لگا تھا۔

مجھے یہاں ایک کپل ڈاؤٹ فل لگ رہا ہے۔۔ تم لوگوں کو دیکھنے کا ان کا انداز دوسروں کے مقابلے کافی عجیب تھا۔۔ کتنے دشمن پال رکھے ہیں تم نے یار۔

ان کے علاوہ اور کوئی نہیں۔۔۔ کیا تمھیں ان میں کچھ اور عجیب لگا؟ یاور اور مانیہ تو نہیں ہے؟

ان کو پہچانتا ہوں یار۔۔ الحان نے چڑ کر جواب دیا تھا۔۔

تم انہیں نہیں پہچانتے، نوفل احمد خان کے علاوہ ان کی فطرت کوئی نہیں جانتا۔ ایک عجیب سا سرد پن تھا اس کے لہجے میں۔۔

ویسے یار بھابھی کچھ زیادہ چھوٹی نہیں ہیں۔۔ ایک سرسری نظر حیات کی طرف ڈالتا وہ اس سے مخاطب ہوا تھا۔۔

بیس سال کی ہیں محترمہ حد درجہ عمر چور، اور بچوں جیسی معصوم۔ بالکل کورے کاغذ جیسی شفاف۔۔ جو دل میں وہی زبان پر۔۔ ایک فخر سا تھا۔ جسے الحان نے صاف محسوس کیا تھا۔

اور اسی لیے اتنے رومانٹک انداز میں اینٹری کی، کیونکہ جناب اپنی معصوم بیوی سے دور نہیں رہ سکے۔۔۔ الحان کے بات پر وہ بے ساختہ ہنسا تھا۔

رومانٹک نہیں تھا میرے بھائی، بیوی کو قابو کر کے لایا گیا تھا۔ میڈم جتنی نازک نظر آتی ہیں کسی میزائل سے کم نہیں گھر سے یہاں تک دھمکاتی اور ڈراتی ہوئی آئی ہیں۔۔

اب واپس جاؤ ان کے پاس۔۔ عورتیں دیکھو کس طرح ان پر لٹو ہو رہی ہیں اور مردوں کا حال بھی کچھ کم نہیں الحان کی بات پر وہ اس کی طرف مڑا تھا جہاں حیات عورتوں اور مردوں میں گھری حد درجہ بوکھلائی ہوئی تھی۔۔۔ خوف اس کے جلدی رونے کا پتا دے رہا تھا۔

اوہ نو! تم یار اس کپل کا پتا کرو، مجھے ان دونوں کمینوں پر ہی ڈاؤٹ ہے۔۔ خفیہ سیکیورٹی لگائی ہے مگر پھر بھی مصیبت بول کر نہیں آتی۔۔ میں ذرا بیوی کو دیکھ لوں۔ نہیں تو پھر مجھے یہاں ایک پل بھی رکنے نہیں دےگی۔

ہایاہایاہا صحیح ہے۔۔ عشق تمھیں نکما کر رہا ہے میرے بھائی۔۔

اور تمھیں کر چکا ہے۔۔۔۔ الحان کے مذاق کو اسی کو لوٹاتا وہ حیات کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔

پتا نہیں تم کیا ہو نوفل احمد خان ہر چیز کی خبر پتا نہیں کیسے ہو جاتی ہے۔۔ مجال ہے جو میں کوئی راز رکھ لوں۔۔ خود سے بڑبڑاتا وہ یاور اور مانیہ کی تلاش میں نکل چکا تھا۔۔۔ نوفل کی طرح اب وہ بھی مشکوک ہو رہا تھا۔۔

****************

اب چلیں۔۔ بہت بے پردگی ہو رہی ہےیہاں پلیز۔۔۔ مجھے نہیں اچھا لگ رہا ہے۔۔ سب بہت گندے طریقے سے دیکھ رہے ہیں اور سوال بھی بہت عجیب کر رہے ہیں۔۔۔ پلیز گھر چلیں۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ لوگوں میں گھری حیات کو نکال کر لایا تھا۔۔۔ جس کا رونا پھر سے شروع ہو چکا تھا۔۔

بیوی! کھانا کھا کر نکلتے ہیں اوکے۔۔۔ اس کا گال تھپتھپاتا وہ اسے ریلیکس کر رہا تھا۔

نہیں! میں نہیں کھاؤں گی یہاں کھانا۔ آپ جلدی سے کھا لیں پھر چلیں یہاں سے۔۔

کیا واقعی بیوی تم یہاں اتنی ان کمفرٹیبل ہو؟ جس طرح لوگ ہمارے لئے ایکسائٹیڈ تھے اب وہ اتنے ہی مایوس ہوئے ہیں ہم سے۔۔۔وہ اس کے اتنے گریز پر پریشان ہو رہا تھا۔

یہ جگہ بھی گندی ہے۔۔ یہاں گناہ کو گناہ سمجھ ہی نہیں رہے ہیں یہ لوگ۔۔۔ کپڑے بھی گندے پہنے ہیں۔۔ اللہ ایسے لوگوں کی طرف نہیں دیکھتا۔۔۔ جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔۔ آپ ایسی دنیا میں کیوں رہتے ہیں؟ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا۔۔؟؟ اب وہ اس کے سامنے کھل اعتراض بیان کر رہی تھی۔۔۔

میں یہ فیلڈ نہیں چھوڑوں گا بیوی۔۔ تمھیں اب ایسے ہی رہنا ہوگا۔۔۔ پتا نہیں کیا سوچتا ہوا وہ اسے باور کروا رہا تھا۔۔

نہیں میں آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی، اور نہ کہیں جاؤں گی۔ کل پاپا آئیں گے تو ہمیشہ کے لئے ان کے ساتھ جاؤں گی۔۔۔ آپ بہت بڑے گناہ کی دنیا میں ہیں۔۔ پتا نہیں وہ کس دھن میں تھی جو نوفل احمد کے بدلتے تاثرات کومحسوس ہی نہیں کر پائی۔

رہنا تو تمھیں میرے ساتھ ہی ہے بیوی! تم چاہو یہ نہ چاہو۔۔ تم نوفل احمد خان کی ملکیت ہو۔ تمھیں اس کے سوا کسی اور کا ہونا ہی نہیں ہے۔۔ یہ بات کبھی نہیں بھولنا۔۔ تھوڑی دیر پہلے کی نرمی اب غائب تھی۔۔ بازوؤں سے پکڑے اپنے بالکل قریب کیے اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اسے گھور رہا تھا۔۔ اور اس کی یہ شدت کسی اور کو انگاروں پر لٹا گئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں پلتی حیات کے لئے دیوانگی کسی کے اندر کی آگ کو بھڑکا گئی تھی۔۔۔ جو پتہ نہیں کسے جلا کر خاکستر کرتی۔

اس سے پہلے اس کی شدت سے وہ رو پڑتی کسی نے نوفل احمد کو بلایا تھا جہاں پروڈیوسر کے ساتھ دوسری بڑی ہستیاں شدت سے اس کی منتظر تھی۔۔ وہ اس کو آزاد کرتا ان کی طرف بڑھا تھا جب حیات اسکے پاتھ سختی سے پکڑ کر اسے حیران کر گئی تھی۔۔

مجھے نہیں اکیلا یہاں چھوڑ کر جائیں پلیز۔ مجھے یہاں ڈر لگ رہا ہے۔۔ کچھ دیر پہلے والی حیات پھر سے بچوں جیسی ضد کرتی اسے مخمصے میں ڈال رہی تھی۔

ڈونٹ وری بیوی۔۔ تم وہاں اچھا فیل نہیں کروگی۔ اس لیے یہیں ویٹ کرو۔ میں بس پانچ منٹ میں واپس آتا ہوں۔ گھر جا کر ہی کھانا کھائیں گے۔ ان لوگوں سے ملنا بہت ضروری ہے۔۔ اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نرمی سے آزاد کرتا وہ اس کے گال کو تھپتھپاتا پروڈیوسر کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔ اور پہلی بار اسے اس طرح چھوڑ کر جانا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ایک انجان جذبہ کے تحت اس نے سہمی گھبرائی حیات کی طرد پلٹ کر دیکھا تھا جو ابھی بھی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔

اسے بات کرتے دو منٹ ہی ہوئی تھیں جب الحان تیزی سے اس کی طرف آیا تھا اور ان لوگوں سے ایکسکیوز کرتا اپنی طرف کر گیا تھا۔۔

نوفل یار! یاور اور مانیہ ہی وہ کپل ہیں اور ان کے ساتھ یہاں کے دو ویٹر بھی ملے ہوئے ہیں۔۔ ایک کو تو میں نے پکڑ کر پتا کر لیا۔۔ اس نے بتایا کہ تھماری وہ ایڈٹ فوٹوز آج یہاں اسکرین پر پلے کرنے والا تھا سب سیٹینگ ہو گئی تھی مگر تمھاری اینٹری پر اس کا پلان چینج ہو گیا جو اسے بھی نہیں پتا۔ الحان کی بات سن کر اس نے تیزی سے پلٹ کر حیات کو دیکھا تھا۔۔۔ اور اسے وہاں موجود نہ پاکر اس کا دل اس تیزی سے دھڑکا تھا کہ اسے لگا تھا کہ اب وہ اگلی سانس نہیں لے پائےگا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *