Hayat by Ain Noon Alif NovelR50624 Last updated: 10 April 2026
Rate this Novel
Hayat (Episode 01)Hayat (Episode 02)Hayat (Episode 03)Hayat (Episode 04,05)Hayat (Episode 06)Hayat (Episode 07)Hayat (Episode 08)Hayat (Episode 09)Hayat (Episode 10)Hayat (Episode 11,12)Hayat (Episode 13)Hayat (Episode 14)Hayat (Episode 15)Hayat (Episode 16,17)Hayat (Episode 18)Hayat (Episode 19)Hayat by (Episode 20)Hayat (Episode 21,22)Hayat (Episode 23,24)Hayat (Last Episode)
Hayat by Ain Noon Alif
مما! ۔۔آپ پاپا کو بتا دیں وہ آپی کا پتہ کروائیں گے۔۔ دو گھنٹے ہو ان کو جا کر پتہ نہیں کیا ہوا ہوگا۔۔۔ اس کے لہجے کی سچی فکر بھی اسے ڈرامہ لگ رہی تھی۔۔
اس کے کہنے پر فائزہ بیگم دروازہ کی طرف بڑھی تھیں کہ شوہر کو مطلع کر دیں۔۔ جب دروازہ میں استادہ اس ذی روح کو دیکھ کر حق دھک رہ گئی تھیں۔۔۔
بیٹا تتم یہاں۔۔۔ زبان کی لڑکھڑاہٹ پر ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا تھا جس کی پشت اس کی طرف تھی۔۔ اور پھر اپنے اسی مخصوص اور سنجیدہ لب و لہجہ میں مخاطب ہوا تھا جو مقابل کو چاروں شانے چت کر دیتا تھا۔۔
پانچ منٹ میں مولوی صاحب اندر آئںگے نکاح کے لیے۔۔۔ اس لڑکی کو تیار کریں۔۔۔ اور یہ حکم ہے جس کی بجا آوری ضروری ہے ورنہ اس گھر کو مکینوں سمیت مجھے دھوکہ دینے کے جرم میں انکے انجام کو پہنچانے میں مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا۔۔۔
اس کے خوفناک اور سرد لہجہ نے دونوں ماں بیٹیوں کو ششدر کر دیا تھا۔۔۔ وہ ان کہ سوچ سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔۔ تبھی وہ اپنے چہرے کو کور کر کے اس کی طرف پلٹی تھی۔
ممیں آآپ سے شادی نہیں کروں گی۔۔ ڈرتے نہیں ہیں ہم آپ سے ہیرو ہوں گے آپ اپنی انڈسٹری کے۔۔۔ اب آپی نہیں ہیں تو جائیں اور انہیں تلاش کر کے لائیں۔۔آپکی بھی تو ذمہ داری تھیں نہ وہ۔۔ وہ جو جانے کے لیے پلٹا تھا اس کے لفظوں پر ایک پیر پر گھوما تھا اور چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ رقصاں تھی جو اچھا سائن بلکل نہیں تھی۔۔
گڈ! اپنے دفاع میں بولنے والے اچھے ہوتے ہیں مگر یہاں تمھارے پاس کوئی چوائس نہیں ہے پوور گرل۔۔
اس نے ایک نظر اس ڈھکی چھپی لڑکی کو دیکھا تھا جس کی حقیقت واضح نہیں ہو رہی تھی مگر آواز بتا رہی تھی کہ کم عمر ہے۔ مگر اس سے شاید اسے کوئی بھی فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ اسے تو بس وہ وجہ پوری کرنی تھی جس کے لیے وہ آیا تھا باقی معاملات اس نے بعد کے لیے چھوڑ دیے تھے۔
صحیح کہہ رہی تھیں تم منال سے شادی میں فارمیلٹی کے طور پر ہی کر رہا تھا۔۔۔ اب وہ نہیں تو کوئی بھی صحیح۔۔ اور اس وقت تمھارے سوا اس گھر میں منال کے رشتہ سے کوئی اورلڑکی موجود نہیں ہے اور جو ہے وہ محض آپ لوگوں کے پڑوسی اور دور جے رشتہ دار ہیں۔ اور میں شاید ایسا بے رحم نہیں ہوں جو آپ لوگوں کی غلطی کی سزا انہیں دوں جن کا آپ سے خاص تعلق کوئی نہیں۔سو یہ قربانی تمھی دینی ہوگی آخر مجرم ہو تم میری تو سزا بھی تمھیں ہی ملےگی۔۔۔ اپنے اس نکاح کو وقت کا فیصلہ سمجھ کے قبول کرو اچھی لڑکیوں کی طرح۔۔۔ شاید میں منال کے ساتھ مل کر مجھے دھوکہ دینے کی سزا میں تھوڑی بہت ترمیم کردوں۔۔ الفاظ اور لہجہ نے ان دونوں کو خوف زدہ ہی رکھا تھا۔۔ مگر وہ اپنی عادت کے مطابق بولنےسے باز نہیں آئی تھی یا شاید اپنی رائے سے اسے متنفر کر کے خود کو بچانے کی ایک کوشش۔۔
یعنی، آپ مانتے ہیں آپسے شادی ایک قربانی، ایک سزا ہے۔۔ جب آپ خود اپنی حقیقت سے آگاہ ہیں تو پھر کوئی جان بوجھ کر کھائی میں کیوں گرنا چاہےگا۔۔۔ اسکی حاضر جوابی نےاس کی آنکھوں موجود سرد تاثر کو اور گہرہ کر دیا تھا۔۔
حیات تم جاؤ یہاں سے میں بات کر رہی ہوں ان سے۔۔ فائزہ بیگم اس کے تاثرات سے خوفزدہ ہوئی تھی اس لڑکے ڈمانڈ نے انہیں گنگ کر دیا تھا۔۔۔ مگر جاسوسی ناول کی ہیروئنوں کی دلدادہ انکی بیٹی جوابی کاروائی کرنا نہیں بھولی تھی۔۔
پانچ منٹ تم نے باتوں میں خراب کر دیے پہلے اور آخری یہ غلطی معاف کی جاتی ہے۔۔ مولوی صاحب کے سامنے شرافت سے اقرار کر لینا۔
