80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

گھپ اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھا وہ زمین پر انگلی سے بار بار ایک نام لکھ رہا تھا مگر نہ تو وہ شخص اس کی یہ حرکت دیکھ کر خوش ہو سکتا تھا اور نہ ہی اس کی کسی مدد کے لئے آ سکتا تھا. بار بار آنکھوں سے بارشوں کے قطرے کی مانند آنسو اس نام پر گر رہے تھے.
جب تم زندہ تھی تو میں ہر وقت یہی سوچتا رہتا تھا کہ کون سا لمحہ ہو میری جان تم سے چھوٹ جائے. یہاں تک کہ تنگ آکر میں نے اپنے ان ہاتھوں سے تمہاری جان لے لی. عدیل نے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیاں کھولتے ہوئے انہیں دیکھا
کاش میں ایک بار جان سکتا تھا کہ تمہاری میری زندگی میں کیا اہمیت ہے …….. ؟؟ تم ایک ایسے درخت کی مانند تھی جس کے سائے نے مجھے ہر طرح کی سخت دھوپ سے بچایا ہوا تھا. تمہیں ایک ایسا بادل تھی جو میرے اوپر خوشیاں برساتا تھا.
آج اگر تم زندہ ہوتی تو کسی کی مجال نہ تھی جو مجھے حال میں پہنچاتا. میں دو دن گھر نہ آتا تھا تو تم کتنی بے چین بے قرار ہو جاتی تھی مگر اس وقت مجھے تم پر سخت غصہ آتا تھا کہ کیا میرے پیچھے پڑی رہتی ہو. مگر اب جب مجھے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ میں کس حال میں ہوں کیوں ہوں تو مجھے شدت سے تمہاری یاد آ رہی ہے عدیل نے اپنی آنکھیں صاف کیں
عمران نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ………؟؟ عدیل نے مدھم آواز نے سرگوشی کی
کیا تم نے میرے ساتھ اچھا کیا ہے ………. ؟؟ اسے اپنے بہت قریب سے عذرا کی آواز سنائی دی تو وہ گھٹنوں پر سر رکھ کر رونے لگا
عذرا مجھے معاف کر دو. کاش تم واپس آ سکتی تو میں ہر قیمت پر تمہیں واپس لے آتا مگر افسوس کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا. عدیل نے سر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھا جہاں سوائے اندھیرے کے کچھ نہیں تھا
اگر تم مجھے سن رہی ہو تو پلیز مجھے معاف کر دو _ عدیل کے رونے کی آواز اب پورے سیل میں گونجنے لگی تھی پتا نہیں تو کیا چیز ہے کتنی بار کہا ہے یوں رویا نہ کر، تیری وجہ سے ہماری نیند خراب ہوتی ہے اور دوسرے سیل میں قید قیدی بھی متاثر ہوتے ہیں. ایسا لگتا ہے جیسے تو گیدڑوں کی نسل سے ہے رو رو کے منحوسیت ڈال دیتا ہے. ایک سپاہی نے غصے سے سلاخوں پاس کھڑے ہوتے ہوئے عدیل کو ڈانٹا کیا کروں مجھے سکون نہیں مل رہا. عدیل نے بے بسی سے سپاہی کی طرف دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا اگر اتنا ہی بے سکون ہو تو نماز پڑھا کرو. اللہ تجھ پر رحم کرے گا. بے شک وہی دلوں کو سکون دیتا ہے. ایک اور سپاہی جو قدرے بڑی عمر کا تھا عدیل کی بات سن کر اس کے قریب ہی رک گیا. مجھے اللہ کے آگے جاتے ہوئے شرم آتی ہے. میں کس منہ سے اس کے پاس جاؤں ……؟ ؟ عدیل نے شرمندگی سے اپنا سر جھکایا اللہ کو اپنے گنہگار بندے بہت پسند ہیں. تم سکون کے لیے رب کو یاد کیا کرو. سپاہی کو اس کی حالت پر ترس آیا جس پر عدیل خاموشی سے سر جھکا کے دوبارہ عذرا کا نام زمین پر لکھنے لگا مجھے اسے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے. جب نیا نیا آیا تھا تو کتنا شور کرتا تھا. کیسی بڑی بڑی باتیں کرتا تھا مگر اب دیکھو موت کا ڈر کیسے انسان کے کس بل نکال دیتا ہے. سارا غرور خاک میں مل جاتا ہے. پہلے سپاہی نے افسوس سے سر نفی میں ہلاتے ہوئے دوبارہ راہداری کا رخ کیا جبکہ دوسرا سپاہی اسے ہی دیکھتا رہا اگر اتنی ہی بیوی سے محبت تھی تو اسے قتل کیوں کیا …….. ؟؟ سپاہی کی آواز پر عدیل نے اس کی طرف دیکھا تب وہ مجھے اچھی نہیں لگتی تھی. عدیل کے جواب پر سپاہی ہنس دیا. مرنے کے بعد زیادہ خوبصورت ہو گئی ہے جو تمہیں اس سے اب محبت ہوئی ہو گئی ہے. سپاہی کا انداز تمسخرانہ تھا. نہیں مرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ میرے لیے کتنی ضروری تھی. کبھی کبھی ہم اپنے ہاتھوں سے اپنا آرام و سکون برباد کر لیتے ہیں اور ہمیں احساس تب ہوتا ہے جب وقت گزر جاتا ہے. عدیل کے لہجے میں حسرت تھی. اپنے سالے سے معافی مانگ لو شاید وہ تمہیں معاف کر دے ورنہ دوسری صورت میں یہاں ہی سڑتے رہو گے. میں نے نیوز میں دیکھا ہے وہ ملک سے باہر جا رہا ہے. سپاہی کی اطلاع پر عدیل نے جھٹکے سے سر اٹھایا اس کی آنکھوں میں موت کا ڈر ہچکولے لے رہا تھا. اگر عمران ایک دفعہ باہر چلا گیا تو کبھی واپس نہیں آئے گا اور میں یہاں کتے کی موت مارا جاؤں گا. وہ میری معافی کبھی قبول نہیں کرے گا. اب تو عذرا بھی نہیں رہی وہ کسی اور کی سنے گا بھی نہیں عدیل نے دل میں سوچتے ہوئے دوبارہ سر جھکایا ہی تھا کہ اچانک جھٹکے سے اوپر دیکھتے مسکرا دیا.
ایک شخص ابھی بھی ایسا ہے جس کی وہ بات مانتا ہے حالانکہ کہ وہ خود بھی یہ بات نہیں جانتا. عدیل نے صائمہ کا سوچتے ہوئے سلاخوں سے باہر دیکھا جہاں امید کی ایک کرن جگمگا رہی تھی.
🖤🖤🖤🖤🖤
کب سے فون کر رہا ہوں بندہ کم ازکم اٹھا کر اتنا ہی بتا دیتا ہے کہ میں مصروف ہوں.اسفند نے فون اٹینڈ ہی کیا تھا کہ ارحم کی غصیلی آواز کان میں پڑی
فون تو میں تب اٹھاتا نااااااا جب میں اس قابل ہوتا. اسفند نے نیند بھری آنکھوں کو ملتے ہوئے اپنی جمائی روکی
اور آپ اس قابل کیوں نہیں تھے …….. ؟؟ ارحم کے سوال پر اسفند نے مسکراتے ہوئے کمرے میں اشمل کو ڈھونڈنا چاہا جس میں وہ ناکام رہا.
یار ادھر آیا ہوا تھا تو نیند آگئی اسفند نے اٹھتے ہوئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی
کہاں آئے ہوئے تھے ……. ؟؟ ارحم نے قدرے دھیمے مگر شکی لہجے میں پوچھا تو اسفند ہنس دیا.
بڑی ہنسی آرہی ہے کہیں چندہ بائی کے پاس تو نہیں پائے جا رہے. کل تک تو موسم خاصا گڑبڑ تھا اور آج
ارحم نے بات ادھوری چھوڑی
یار اپنے فلیٹ پر ہوں. رات دادو نے کال کی تھی کہ آکر _ اسفند نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ارحم بیچ میں بول پڑا آکر اپنی بیگم کو منا لو کہیں بھاگ نہ جائے ارحم کی بات پر اسفند کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا.
یار تو مان نہ مان مگر تیرا اشمل کے ساتھ ضرور خون کا رشتہ ہے نہیں تو تم دونوں دودھ شریک بہن بھائی پکے ہو. تم دونوں ایک جیسا کیسے سوچ لیتے ہو ……. ؟؟ اسفند سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
اس میں بہن بھائی والی کیا بات ہے. جو ایک دفعہ آپ کی بیوی محترمہ سے مل لے وہ آسانی سے بتا سکتا ہے کہ کن حالات میں وہ کیا کریں گی مگر آپ ساتھ رہتے ہوئے بھی میں آپ کے بارے میں بتانے سے قاصر ہوں پوچھو گے نہیں کہ کیوں ……… ؟؟ ارحم کے لہجے میں شرارت تھی
اگر میں نہیں پوچھوں گا تو کون سا تم نہیں بتاؤ گے _ اسفند نے دوبارہ ٹیک لگائی بس کیا کروں سچی بات میرے منہ سے پھسل جاتی ہے. ارحم نے اپنا سر کھجایا کوئی کام ہے یا ویسے ہی صبح صبح میرے کانوں کو سزا دے رہے ہو. اسفند نے کمبل پیچھے کرتے ہوئے بیڈ سے نیچے ٹانگیں لٹکائیں. جناب کو یہ بتانا تھا کہ عمران صاحب کو کروٹ نے باعزت بری کردیا ہے اور عدیل کی گردن بری طرح پھنس گئی ہے. ارحم اب بالکل سنجیدہ تھا. تو بالآخر عمران بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا. اسفند کا لہجہ ایک دم بدلا تھا. وہ بہت شاطر ہو یا نہ ہو اس بات کا مجھے نہیں پتا مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ بڑا مجرم ہمارے ملک کے قانون سے بڑا ہوتا ہے لہٰذا ہمارا قانون اسے پکڑنے سے قاصر ہے دیکھنا اب پہلی فلائٹ سے باہر بھاگ جائے گا. ارحم کے جواب پر اسفند سلیپر پہننے لگا تجھے حیرت نہیں ہوئی اور نہ ہی غصہ آیا ہے مگر کیوں ……. ؟؟ ارحم نے حیرت سے پوچھا یار میں اس عمران نامی بلا سے تنگ آگیا ہوں. اچھا ہو جلد از جلد یہاں سے دفع ہو جائے. میری زندگی میں بھی سکون آئے. خامخواہ وہ اس کی وجہ سے مجھ سے ناراض رہتی ہے. اسفند آئینے کے آگے کھڑا اپنا جائزہ لینے لگا “وہ” مطلب آپ کی “وہ” ارحم نے تصدیق چاہی
“قصہ محبّت آگے ہی نہ بڑھ سکا
ہم ان کا احترم ہی کرتے رہ گئے” ارحم نے لہک کر شعر پڑھا
ارحم مصالے کا ڈبہ اب کتنے کا آتا ہے …… ؟؟ اسفند نے سنجیدگی سے پوچھا
یار مہنگا ہوگیا ہے ویسے بھی رمضان آ رہا ہے تو اب کیا بتاؤں ……. ؟؟ ارحم دکھی ہوا
اور لیموں کا کیا حساب ہے ……. ؟؟ اسفند نے اپنی گردن دائیں بائیں ہلاتے ہوئے پوچھا
وہ میرے خیال سے ابھی اتنے مہنگے نہیں ہوئے. چاند نکلنے کی دیر ہے. پھر دیکھنا سبز مرچ، دھنیا، پیاز اور آلو ان کے ریٹ کہاں جاتے ہیں. ویسے تم کیوں پوچھ رہے ہو …… ؟؟ ارحم کو اچانک اسفند کے سوالوں پر حیرت ہوئی
میں نے عرض کرنی تھی کہ یہ چیزیں اگر تم چاٹ میں ڈال کر کھاؤ تو تیرے لیے زیادہ مفید ثابت ہوں گی. اپنا مصالحہ اپنے پاس رکھا کر، میرے زخموں پر چھڑکنے سے پرہیز کیا کر اسفند نے ایک ایک لفظ قدرے چبا کر ادا کیا اور کال کاٹ دی. ارحم نے حیرت سے پہلے موبائل کی بلیک سکرین کو دیکھا پھر بات سمجھ آنے پر ہنستا ہی چلا گیا
🖤🖤🖤🖤🖤
اسفند فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلا تو سارے فلیٹ میں مزے دار سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی. رات کو بھی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا لہذا اس خوشبو سے اس کی بھوک مزید چمکنے لگی. لاؤنچ میں جھانکا تو دادو بڑے مزے سے بیٹھیں پکوڑوں کے انصاف کر رہی تھی. اسفند اپنا گلا صاف کرتا ان کے قریب آ بیٹھا
دادو کیا کر رہی ہیں …… ؟؟ اسفند نے اپنائیت سے پوچھا
بارش ہو رہی تھی تو میں نے اشمل سے کہہ کر پکوڑے بنوائے ہیں. دادو کے جواب پر اسفند نے چونک کر کھڑکیوں کی طرف دیکھا جن پر سفید جالی دار پردے پڑے تھے
کیا واقعی بارش ہو رہی ہے ……. ؟؟ اسفند نے زیر لب دہرایا
مجھے اس جملے کی انگریزی نہیں آتی. تو ایسا کر اشمل سے جا کر پوچھ لے.ا دادو نے مزے سے پکوڑے کھاتے جواب دیا جبکہ اسفند حیران پریشان سا کچن کی طرف چل دیا جہاں اشمل پکوڑے بنانے میں مصروف تھی کیونکہ اسفند کی طرف اس کی کمر تھی اس لیے وہ اس کی آمد سے بالکل بے خبر تھی
مجھے بھی کچھ کھانے کو ملے گا …….. ؟؟ اسفند فرش فرش سا شلف ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا.
میں نے اپنے اور دادو کے لیے بنائے ہیں اور آپ دوسروں کے لیے بنائے گئے کھانے کو نہیں کھاتے. یہی کہا تھا ناااا پچھلی بار
اشمل نے پکوڑے کڑاہی سے نکالتے ہوئے جواب دیا
ہاں یہی کہا تھا مگر میں تمہارے حصے کی چیز تو کھا سکتا ہوں. انداز خاصا جتانے والا تھا. جس پر اشمل نے اس سے ہے تیوری چڑھا کر دیکھا
مجھے بھوک لگی ہے یا اپنے لیے اور بنا لو یا پھر مجھے کچھ اور بنا دو. ورنہ میں آج تمہیں کھا جاؤں گا. اسفند قدم قدم چلتا اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا. چہرے پر بڑی دلفریب مسکراہٹ تھی جو آج سے پہلے اشمل نے نہیں دیکھی تھی.
خیر ہے یہ “ہلاکو خان” سے ڈارکٹ “شاہ رخ خان” پر چھلانگ لگائی ہے. اشمل نے پکوڑوں والی پلیٹ ٹرے میں رکھی اور فریج سے کیچپ نکالنی لگی.
میں نے سوچا آخر زندگی کب تک ایسے ہی روکھی پھیکی سی گزاروں گا. جب اللہ نے دھنک کے رنگوں جیسی بیوی دے رکھی ہے تو اُس کی اس نعمت سے فائدہ اٹھانا چاہیے. اسفند کی بات پر اشمل کے کیچپ ڈالتے ہاتھ تھمیں اور ماتھے پر ڈھیروں بل نمودار ہوئے.
میں بے وقوف نہیں ہوں کیا بات ہے …… ؟؟ م
اشمل نے کمر پر ہاتھ رکھتے پلٹ کر پوچھا
( کاش تم بیوقوف ہوتی. اسفند نے دل میں سوچتے اسے دیکھنے لگا)
آگے سے ہٹیں. اشمل نے ٹرے اٹھاتے کہا
سوری میرا اب آگے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے. میں نے رات تمہارے اور اپنے بارے میں بہت سوچا ہے. اسفند نے ٹرت پکڑتے واپس شلف پر رکھی.
رات تو آپ دو منٹ کے اندر اندر سو گئے تھے اور آپ کے خراٹوں کی آواز پورے کمرے میں انتہائی ہیبت ناک انداز میں گونج رہی تھی. جس سے ڈر کے میں نے رات دادو کے کمرے میں گزاری ہے. تو سوچا کب تھا ……… ؟؟ اشمل کا انداز طنز بھرا تھا
اشمل اگر میں اپنے خراٹوں کا علاج کر لوں تو تم میرا کمرہ اور ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گی. اسفند نے اپنا ہاتھ اشمل کے آگے پھیلاتے سنجیدہ لہجے میں پوچھا
یہ کتنا بے ہودہ سٹائل ہے پروپوز کرنے کا _ اشمل نے منہ بنایا چلو تم خود ہی بتا دو کہ کیسے کہوں ……… ؟؟ اسفند نے اپنے ہاتھ سینے پر باندھے مجھے نہیں پتہ
اشمل کندھے اچکاتے ٹرے لیے سائیڈ سے جانے لگی تو اسفند نے اس کے راستے میں حائل ہو گیا.
اشمل میرے خیال سے ہمیں اب یہ بلی چوہے والا کھیل ختم کر دینا چاہیے. زندگی اتنی بیکار چیز نہیں کہ اسے یوں برباد کیا جائے. میں اب تمہارے اور اپنے رشتے کو لے کر بہت سنجیدہ ہوں. جو وقت ضائع ہو گیا سو ہو گیا مگر اب اور نہیں. اسفند کی سنجیدگی پر اشمل خاموش ہوگئی
تمہارے لاڈلے چہتے سر عمران اس ملک سے بھاگنے کی تیاری کر رہے ہیں اور میں چاہتا ہوں جیسے ہی وہ شخص اس ملک سے باہر جائے وہ ہماری زندگیوں سے بھی ہمیشہ کے لیے چلا جائے ورنہ میں اسے مار دوں گا. مجھے ایسا لگتا ہے. اسفند کا لہجہ ایک دم سخت ہوا تھا
سر باہر جا رہے ہیں. اشمل نے خود کلامی کی
جی جناب _ کیا اب ہم اپنی زندگی شروع کر سکتے ہیں …….. ؟؟ اسفند ہنوز اپنی بات پر قائم تھا صائمہ کو بھی ساتھ لے کر جائیں گے …… ؟؟ اشمل نے سوالیہ نظروں سے اسفند کو دیکھا تمہیں سب کی فکر ہے سوائے میرے میں اپنے بارے میں پوچھ رہا ہوں اور تمہیں اس کی بیوی کا غم کھائے جا رہا ہے. کیوں دماغ خراب کرتی ہو …… ؟؟ اسفند کو غصہ آیا.
میں نے بھی اس ملک سے باہر جانا ہے. مجھے یورپ دیکھنے کا شوق ہے. اشمل نے کن انکھیوں سے اسفند کو دیکھا
بی بی تمہارے دماغ کی وائرنگ یقیناً شارٹ ہے. جسے اب میں خود ٹھیک کروں گا. یورپ دیکھنے کا شوق چڑھا ہوا ہے اور گھر بسانے کا ہوش نہیں. پہلے وہ کام کرتے ہیں جو ضروری ہو پھر دونوں مل کر باہر جائیں گے. ٹھیک ہے. اسفند کی بات پر اشمل نے خاموشی سے اسے دیکھا
چلے آئیں پہلے پکوڑے کھا لیتے ہیں پھر اس بارے میں بات کریں گے. اشمل سنجیدگی سے کہتی کچن سے باہر چل دی
میں نے تو سنا تھا کہ ایسی سچویشن میں کہتے ہیں کہ پہلے کچھ میٹھا ہو جائے _ اسفند کی بڑبڑاہٹ پر اشمل مسکرا دی. تم دونوں اتنی دیر سے کچن میں کیا کر رہے تھے ……؟ ؟ دادو نے دونوں کو گھورتے ہوئے پوچھا اب یہ بھی بتانا پڑے گا اشمل نے غصے سے ٹرے میز پر رکھی
ہاں نہیں تو اور کیا کیا اب تم مجھ سے اپنی باتیں چھپاؤ گی ……. ؟؟ دادو نے فورا بلیک میلنگ شروع کی
چھوڑیں دادو پہلے پکوڑے کھا لیتے ہیں. اس سے پہلے کے اشمل کوئی فضول جواب دیتی اسفند بول پڑا
مجھے ایسا شوہر نہیں چاہیے جو اپنی بیوی کے حق میں بول نہ سکے. ڈرپوک
اشمل نے غصے سے اسفند کی طرف دیکھا
بیوی _ کہاں ہے بیوی ……. ؟؟ میں کل رات سے اپنی بیوی کو تلاش کر رہا ہوں مگر مجھے وہ نظر نہیں آرہی تو کس کے حق میں بولوں …….. ؟؟ اسفند نے پکوڑے کھاتے جواب دیا میں کیا ہوں …… ؟؟ اشمل نے جارحانہ انداز میں اسفند کی طرف رخ کیا کیا ہو ……. ؟؟ اسفند انجان بنا مجھے نہیں رہنا اس ساتھ،. ابھی کچن میں بڑی بڑی باتیں کر رہا تھا اور اب اشمل دکھی سی شکل بنا کر بیٹھ گئی جس پر اسفند مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے قریب آ بیٹھا
خود زرا سا تنگ کیا ہے تو برداشت نہیں ہوا اور جو سارا دن ہمارے دماغ کی دہی بناتی رہتی ہو اس کا کیا ……. ؟؟ اسفند نے محبت سے اشمل کے آگے پکوڑوں کی پلیٹ رکھتے کہا
مجھے آئندہ تنگ مت کرنا ورنہ اشمل نے کہتے پاس پڑا کشن اٹھا کر اسفند کی طرف پھینکا جسے اس نے باآسانی کیچ کر لیا.
دادو دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہیں تھیں. جبکہ اشمل نے ناراضگی سے اسفند کو دیکھا تو اس نے اپنے کان پکڑ لیے.
دونوں طرف سے “انا” کی برف پگھلنے لگی تھی. جس نے کچھ وقت تو لینا تھا مگر پھر سب دھل جانا تھا جیسے باہر برستی بارش نے سب دھو دیا تھا.
🖤🖤🖤🖤🖤
عمران نے آخری بار اپنے کمرے کو دیکھا اور کچھ دیر دیکھتا ہی رہا. پھر چپ چاپ اپنا بیگ لے کر باہر نکل آیا.
بہت محبت سے میں نے یہ گھر اپنے اور آپا کے لیے بنوایا تھا. جس دن ہم یہاں شفٹ ہوئے تھے آپا بہت خوش تھیں. عمران دل میں سوچتا سیڑھیاں اترنے لگا
مالک ہم سب آپ کے جانے سے اداس ہو جائیں گے. ہم آپ کو بہت یاد کریں گے. مالی بابا نے محبت سے کہا جبکہ باقی نوکر ایک قطار میں کھڑے عمران کا انتظار کو دیکھ رہے تھے.
کوئی کسی کو یاد نہیں کرتا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں. آپ لوگ صائمہ بی بی کا خیال رکھیے گا. میں فون کرتا رہوں گا. عمران نے کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتے ہوئے سب کو جانے کا اشارہ کیا.
گاڑی نکالو
ڈرائیور کو حکم دیتے ہی وہ مڑا تو نظریں صائمہ سے جا ٹکرائیں. جس کا حلیہ اور آنکھوں کی حالت اس کے رتجگے کی گواہی دے رہیں تھیں.
سر پھر آپ نے پکا جانے کا فیصلہ کر لیا ہے. صائمہ نے اداسی سے پوچھا
اور کیسے اور کس زبان میں بتاؤں کہ تمہیں یقین آ جائے. عمران نے ڈرائیور کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا. نہ چاہتے ہوئے بھی عمران کو پہلی بار اس پر ترس آیا جو غلط سفر کی مسافر تھی.
کیوں اپنے اوپر ظلم کرتی ہو. خود سے محبت نہیں ہے. ایسا نہ کیا کرو. کئی بار منع کیا ہے تمہیں مگر تمہیں یوں دیکھ کر اپنا آپ مجرم سا لگنے لگتا ہے. عمران کی آواز پر صائمہ نے اسے نظر اٹھا کر دیکھا
سر میرے بس میں نہیں ہے. مجھے آپ سے بہت محبت ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں آپ کے قابل نہیں. پلیززز مجھے چھوڑ کر مت جائیں نااااا
مِنت ہی مِنت تھی.
میرے یہاں رہنے سے تمہیں کونسا کوئی فائدہ مل رہا تھا جو یوں کہہ رہی ہو. عمران کی بات پر صائمہ مسکرائی.
سر آپ میری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں. آپ کی آواز میرے کانوں میں پڑتی ہے. جب کسی وقت پکاروں تو آ جاتے ہیں. میرے لیے اتنا ہی کافی ہے. اس سے زیادہ کی تمنا نہیں. مگر آپ جب آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں گے تو میں کیا کروں گی ……. ؟؟
میرے کانوں کو آپ کی آواز سنائی نہیں دے گی تو صائمہ کی آواز بولتے بولتے دبنے لگی تھی.
صائمہ نہ خود پریشان ہو اور نہ مجھے کرو. یر کام ایک حد میں اچھا لگتا ہے جبکہ تم حد سے گزر جاتی ہو. اپنا خیال رکھنا میری فلائیٹ کا وقت ہو رہا ہے. عمران نے گھڑی کی طرف دیکھا
سر مت جائیں ناااااا
صائمہ نے عمران کے پاؤں پکڑے جس پر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا
اٹھو نیچے سے، یوں اپنے آپ کو ارزاں نہیں کرتے. عمران نے بازو سے پکڑتے صائمہ کو اٹھایا تو وہ اس کے سینے لگی زور زور سے رونے لگی
کیا کروں میں تمہارا، پاگل لڑکی _ عمران نے خود سے جدا کرتے آنسو صاف کیے. سوری سر صائمہ فوراً معزرت کرتی پیچھے ہوئی جس پر عمران نے ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالی.
اپنا خیال رکھنا. یہ گھر اور میرا بزنس تمہارا ہے. مجھے رانا ہاؤس نہ جانا ہوتا تو کچھ دیر اور تمہارے پاس رکتا مگر _ عمران کی بات پر صائمہ نے سر ہلایا اس کی حالت اِس وقت قابل رحم تھی. عمران کچھ دیر اسے کھڑا دیکھتا ہے جس نے خود کو اس کی محبت میں برباد کر لیا تھا. پھر چپ چاپ نکل گیا. عمران کے جاتے ہی صائمہ کو اپنے جسم سے روح نکلتی ہوئی محسوس ہوئی. بڑی مشکل سے وہ اپنے مردہ وجود کو گھیسٹ کر کمرے تک لائی. عنران کو جاتے ہوئے وہ نہیں دیکھ سکتی تھی. مگر گیٹ کھلنے اور گاڑی کی آواز پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی. جانے والا جا چکا تھا کبھی نہ لوٹ آنے کے لیے پیچھے صرف یادیں اور تنہائی تھی.
🖤🖤🖤🖤🖤
عمران جب رانا ہاؤس پہنچا تو بہت سے ماضی کے دریچے خود بخود ہی کھلنے لگے. وہ لان اب بھی ویسے کا ویسا ہی تھا جہاں وہ اپنی پھوپھو اور آپا ساتھ کھیلتا تھا. لان عبور کرتے ہی سامنے لاؤنچ تھا. جہاں ایک بار اس کی سالگرہ پھوپھو نے بہت دھوم دھام سے منائی تھی.
عمران کو تب یہ رانا ہاؤس بہت بڑا لگتا تھا مگر اب جب اس کا اپنا گھر اس رانا ہاوس سے کئی گناہ زیادہ رقبے پر مشتمل تھا تو یہ مکان اسے بہت جھوٹا اور سادہ لگ رہا تھا. جس پر عمران کو حیرت ہوئی کہ وہ اس سے متاثر تھا.
عمران کو دیکھتے ہی ایک نوکر با ادب انداز میں اس کے قریب آیا اور جس کے چہرے پر عمران کے لئے سناشائی کی رمق تھی جیسے وہ عمران کو پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو.
صدیق بابا ایسا کریں کہ عمر کو بتائیں کہ نیچے میں آیا ہوں. عمران نے جب نام لے کے پکارا تو وہ مسکراتے ہوئے اسے گلے ملنے لگے.
بی بی جی نے آپ کو آخری دم تک بہت یاد کیا. کاش آپ ان کی زندگی میں آتے. صدیق بابا کہتے ہوئے عمر کو بلانے چلے گے جبکہ عمران لاؤنچ کا جائزہ لینے لگا جہاں اب تک کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی.
اوپر میرے کمرے میں آ جاتے آپ کو کون سا راستوں کا نہیں پتہ ……….. ؟؟ عمر نے سیڑھیاں اترتے عمران پر چوٹ کی.
میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے یہ بتاؤ کیا چیز دی تھی ……. ؟؟ عمران کا انداز خاصا اجنبی تھا
بیٹھو تو سہی _ عمر نے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پر عمران نے ہاتھ سے منع کردیا. میری فلائٹ ہے مجھے جانا ہے. عمران کے انکار پر عمر بیٹھتے بیٹھتے رک گیا. میں نے ٹی وی پر دیکھا تھا کافی مصروف اور مشہور ہوگئے ہو. عمر نے اپنی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے کہا مطلب کی بات کرو میں یہاں تمہارے ساتھ گزارنے نہیں آیا. عمران نے تلخ لہجے میں جواب دیا. پوچھو گے نہیں کہ کیا ہوا تھا انہیں ……. ؟؟ عمر نے عمران کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا. نہیں عمران نے رخ موڑتے اپنے جذبات کو لگام دی جو یہاں آتے ہی بےقابو ہو رہے تھے.
انہیں کوئی بیماری نہیں تھی بس تمہارا روگ لگ گیا تھا. تمہاری جدائی نے انہیں مار ڈالا. نہ تم انہیں چھوڑ کے جاتے اور نہ وہ مجھے عمر کی بات پر عمران نے اسے دیکھا
انہیں مجھ سے محبت تھی ہی نہیں جس سے تھی وہ اس کے پاس رک گئی. لہذا اپنا ڈرامہ بند کرو. عمران نے سر جھٹکا
وہ مرتے دم تک تمہیں یاد کرتی رہیں. تمہارے لوٹ آنے کی آس تھی انہیں
عمر نے پھر کہنا شروع کیا
میرا خیال ہے کہ میں نے یہاں آ کر بہت بڑی غلطی کی ہے. چلتا ہوں. عمران نے کالا چشمہ آنکھوں پر لگایا
رکو یہ انہوں نے تمہاری بیوی کے لیے دیا تھا. انہوں نے آج تک مجھے اپنی کوئی چیز نہیں دی. میرے پاس جو بھی تھا یا ہے. وہ میرے باپ کی وراثت تھی. عمر نے جتلایا
یہ چین میں نے ہی انہیں لے کر دی تھی. عمران نے چین پکڑتے ہوئے بے دھیانی میں کہا
بس پھر تم نے ساتھ ہی کوئی تعویذ بھی کردیا ہوگا کہ وہ مرتے دم تک تمہاری رہیں. عمر کے کہنے پر عمران نے سرخ ہوتیں آنکھوں سے اسے دیکھا اور باہر کی طرف بڑھ گیا.
گاڑی تیزی سے ایئرپورٹ کی طرف رواں دواں تھی جبکہ عمران چین ہتھیلی پر رکھے کچھ سوچ رہا تھا. عمر کے الفاظ کی بازگشت اسے سنائی دے رہی تھی کہ ” انسان بیماری سے نہیں جدائی سے مرتا ہے” اگر وہ بھی مر گئی تو …….. ؟؟ عمران نے اپنی سوچ پر بےچینی سے سر جھٹکا
جھوٹ کہتا ہے عمر کے انہیں مجھ سے محبت تھی اگر تھی تو بلا لیتی میں کون سا دور تھا …..؟؟ سب بہانے ہیں میں نہیں مانتا اس کی کسی بھی بات کو _ عمران سب دلائل رد کر رہا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ عمر سچ کہہ رہا تھا. تبھی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی. صاحب ایئرپورٹ آگیا ہے. شوفر کی آواز پر عمران نے سر ہلاتے باہر کی طرف دیکھا صائمہ روتے روتے کب سوئی اسے خود بھی معلوم نہ ہوا مگر جب پیاس کی شدت سے آنکھ کھلی تو اس کے اوپر نرم وملائم کمبل موجود تھا. پورے کمرے میں نائٹ بلب کی دھیمی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی. چند لمحے اسے یہ سمجھنے لگے کہ وہ کہاں ہے پھر عمران کی یاد آتے ہی وہ دوبارہ رونے لگی. سر پلیز واپس آجائیں. دل کو چین نہیں آرہا. صائمہ کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی تو اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا. تب ہی کسی نے اس کے آگے پانی کا گلاس کیا جسے صائمہ نے پکڑتے فوراً منہ ساتھ لگایا مگر پھر تنہائی کا احساس اور کسی اور وجود کا ہونا ڈرا گیا. ایک جھٹکے سے اوپر دیکھا سر آپ ……؟ ؟ اپنے سامنے عمران کو دیکھ کر اسے وہم کا گمان ہوا. ہاں میں عمران کہتا وہیں اس کے پاس بیٹھ گیا.
میں نے بہت سوچا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ میں اپنی پھوپھو اور آپا کو تو نہیں بچا سکا چلو اپنی بچوں کی ماں کو ہی بچا لیتا ہوں.
“جدائی مار دیتی ہے” مجھے ایک جملے نے جانے نہیں دیا. میں نہیں چاہتا اب کوئی بھی میری وجہ سے جان دے. عمران کی آنکھوں میں دکھ تھا.
سر اب آپ کہیں نہیں جائیں گے نااااا صائمہ نے بے چینی سے اس کی آغوش میں پناہ لیتے پوچھا کہیں نہیں جاؤں گا اگر گیا تو تم ساتھ ہو گی. عمران نے اس کے گرد اپنا حصار قائم کیا. عمران کے جواب پر صائمہ خوشی سے رونے لگی عجیب لڑکی ہو. جاتا ہوں تب بھی روتی ہو. نہیں جاتا تب بھی روتی ہو. پاگل ہو گئی ہو کیا …….. ؟؟ عمران نے صائمہ کی کمر سہلاتے ہوئے لاڈ سے کہا سر یہ خوشی کے آنسو ہیں. جب انسان کو اپنی محبت مل جاتی ہے تو وہ یوں ہی پاگل ہو جاتا ہے. سر آپ بہت اچھے ہیں. میں ساری زندگی آپ کی خدمت کروں گی آپ کی وفادار رہوں گی. صائمہ روتے روتے کب سوئی اسے خود بھی معلوم نہ ہوا مگر جب پیاس کی شدت سے آنکھ کھلی تو اس کے اوپر نرم وملائم کمبل موجود تھا. پورے کمرے میں نائٹ بلب کی دھیمی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی. چند لمحے اسے یہ سمجھنے لگے کہ وہ کہاں ہے پھر عمران کی یاد آتے ہی وہ دوبارہ رونے لگی. سر پلیز واپس آجائیں. دل کو چین نہیں آرہا. صائمہ کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی تو اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا. تب ہی کسی نے اس کے آگے پانی کا گلاس کیا جسے صائمہ نے پکڑتے فوراً منہ ساتھ لگایا مگر پھر تنہائی کا احساس اور کسی اور وجود کا ہونا ڈرا گیا. ایک جھٹکے سے اوپر دیکھا سر آپ ……؟ ؟ اپنے سامنے عمران کو دیکھ کر اسے وہم کا گمان ہوا. ہاں میں
عمران کہتا وہیں اس کے پاس بیٹھ گیا.
میں نے بہت سوچا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ میں اپنی پھوپھو اور آپا کو تو نہیں بچا سکا چلو اپنی بچوں کی ماں کو ہی بچا لیتا ہوں.
“جدائی مار دیتی ہے” مجھے ایک جملے نے جانے نہیں دیا. میں نہیں چاہتا اب کوئی بھی میری وجہ سے جان دے. عمران کی آنکھوں میں دکھ تھا.
سر اب آپ کہیں نہیں جائیں گے نااااا صائمہ نے بے چینی سے اس کی آغوش میں پناہ لیتے پوچھا کہیں نہیں جاؤں گا اگر گیا تو تم ساتھ ہو گی. عمران نے اس کے گرد اپنا حصار قائم کیا. عمران کے جواب پر صائمہ خوشی سے رونے لگی عجیب لڑکی ہو. جاتا ہوں تب بھی روتی ہو. نہیں جاتا تب بھی روتی ہو. پاگل ہو گئی ہو کیا …….. ؟؟ عمران نے صائمہ کی کمر سہلاتے ہوئے لاڈ سے کہا سر یہ خوشی کے آنسو ہیں. جب آپ کو اپنی محبت مل جاتی ہے تو آپ یونہی پاگل ہو جاتے ہیں. صائمہ نے عمران کے سینے ساتھ اپنا سر لگایا.جس پر عمران نے حیرت سے اسے دیکھا وہ بار بار نیند میں ایک ہی سوال دہرا رہی تھی کہ سر اب آپ مجھے چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے ناااا
جس پر عمران اسے ہر بار جواب دے رہا تھا.
اس پاگل لڑکی نے محبت میں حد کر دی ہے. مجھ میں ایسا بھی کچھ خاص نہ تھا کہ یہ یوں مجھے چاہتی _
عمران نے مسکراتے ہوئے سوچا پھر کچھ خیال آنے پر جیب سے چین نکال کر صائمہ کے گلے میں پہنائی.
یہ بقول عمر کے تعویذ ہے. جسے میں پہنا دیتا ہوں وہ مرتے دم تک میرا ہی رہتا ہے. عمران نے اس کی سفید شفاف گردن میں چمکتی چین کو دیکھ کر سوچا
محبت اپنا وجود رکھتی ہے. عمران نے صائمہ کو اپنے مضبوط حصار میں لیتے ہوئے آنکھیں موند لیں. وہ بھی اب سکون سے سونا چاہتا تھا.
🖤🖤🖤🖤🖤
ختم شد