No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
عمران مسلسل پیپر ویٹ کو میز پر گھماتے ہوئے صائمہ کے بارے میں سوچ رہا تھا. کون اغواء کر سکتا ہے اور کیوں ……. ؟؟
عدیل تو سخت جان تھا برداشت کر گیا مگر اُس کی تو جان ہی زرا سی ہے وہ سہہ نہیں پائے گی. اگر اُس نے سب سچ سچ بتا دیا تو _ نہیں وہ ایسا کبھی نہیں کرے گی. عمران کو فون کی گھنٹی نے سوچوں کے بھنور سے نکالا. سر فلحال تو شوکت کا کچھ پتہ نہیں چل رہا. میں نے کالز بھی کئی ہیں مگر نمبر فلحال بند ہے. راشد کے بتانے پر عمران نے ہنکار بھرا. ٹھیک ہے جیسے ہی اُس کے بارے میں کچھ پتہ چلے مجھے فوراً اطلاع کرو. عمران نے ہدایت دیتے کال بند کر دی. سخت بے چینی اور تکلیف میں وہ کرسی سے اٹھا اور ونڈو گلاس پاس جا کھڑا ہوا. کچھ دیر باہر دیکھتے ہوئے غیر لاشعوری طور پر اشمل کا نمبر ڈائل کیا حالانکہ اپنے employees کو کال کرنا اس کی عادت نہیں تھی. کال دوسری بل پر رسیو ہوئی. کیا مس اشمل سے بات ہو سکتی ہے ……. ؟؟ عمران نے انجانی آواز سنتے کہا جی جی کیوں نہیں میں ابھی بات کرواتی ہوں. آپ زرا ہولڈ کریں. اشمل تیرا فون ہے مجھے تو اسفند لگ رہا ہے. دادو نے کہتے اونچی آواز میں اشمل کو آواز دی جبکہ دوسری طرف نام “اسفند” سنتے ہی سناٹا چھا گیا. اسلام علیکم! اشمل نے خوش دلی سے سلام کیا. وعلیکم السلام! میرے خیال سے کوئی بھی سرکاری یا نجی ارادہ شادی کی اتنی چھٹیاں نہیں دیتا جتنی آپ کر چکی ہوں. لہٰذا اب آفس تشریف لے آئیں. عمران کا لہجہ بلکل نارمل مگر الفاظ طنز بھرے تھے. سر آپ مذاق کر رہے ہیں یا طنز …… ؟؟ اشمل نے اپنی مسکراہٹ دباتے پوچھا آپ نے آفس آنا ہے یا ہم کسی اور کا بندوبست کر لیں. ہمارے بہت سے کام آپ کی وجہ سے pending پر ہیں. عمران نے اب کی بار سنجیدگی سے پوچھا سر میں صبح سے آفس آؤں گی. ویسے بھی گھر میں ہی ہونا ہے کوئی مجھے کہیں لے کر ہی نہیں جاتا. اللہ جانے کون لوگ ہوتے ہیں جنھیں شادی کے ایک مہینے تک گھومنے پھرنے اور دعوتوں سے ہی فرصت نہیں ملتی. میں تو نکاح سے اب تک بلکل فارغ ہوں. اشمل نے اداسی سے کہا کیوں فارغ ہیں …… ؟؟ عمران کے منہ سے بےساختہ نکلا جس پر اسے افسوس بھی ہوا. کیونکہ میرے شوہر نامدار کے پاس وقت ہی نہیں ہے. اشمل کے جواب پر عمران کا دھیان پھر اسفند کی طرف چلا گیا. اب کیا فقیروں کی بھی مصروفیت بڑھ گئی ہے …..؟ ؟ عمران کا جملہ سمجھتے اشمل ہنس پڑی. سر وہ فقیر نہیں بلکہ اچھے خاصے انسان کے بچے ہیں. اشمل کا جواب عمران کے شک کو پختگی دینے لگا مطلب …..؟؟ عمران نے اپنا شک دور کرنے کے لیے پوچھا ورنہ اسے اشمل کے شوہر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی. سر وہ تو سرکاری نوکر ہیں اور جو سرکار کا نوکر ہوتا ہے وہ سوائے سرکار کے کسی کی بات نہیں سنتا. اشمل کا جواب عمران کو بے چین کر گیا. مس اشمل آپ کے ہسبنڈ کیا کام کرتے ہیں. میرا مطلب کس ارادے میں ہوتے ہیں. عمران کے سامنے مسلسل اسفند گھوم رہا تھا. پتہ نہیں مجھے تو کچھ بتاتے ہی نہیں ہیں. بس ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں. ابھی آئے اور دیر تک گے اشمل اپنی بات پر خود ہی مسکرائی.
چلیں کبھی اپنے ہسبنڈ کو ساتھ لائیے گا اسی بہانے ہم بھی مل لیں گے. عمران کہتے ہوئے کال کاٹنے لگا تبھی اشمل کی تیز آواز سنائی دی.
مس صائمہ کیسی ہیں ….. ؟؟ اشمل کے لہجے میں بیتابی تھی.
ہمممم ٹھیک ہیں. عمران نے نیچے گزرتی ٹریفک کی طرف دیکھتے جواب دیا.
سر مجھے اُن سے ملنا ہے. میں اُن ساتھ اپنی خوشی شئیر کرنا چاہتی ہوں. اشمل نے جوش سے کہا
اچھا اگر ایسا ہے تو میرے گھر آ کر مل لیجیے. عمران نے بات ختم کی.
یعنی وہ آپ کے گھر ہیں اشمل کو حیرت ہوئی. مس اشمل بیوی نام کی مخلوق شوہر کے گھر ہی پائی جاتی ہے. عمران کے جواب پر اشمل مسکرا دی. اچھااااااااااااا تو آپ دونوں کے درمیان ناراضگی ختم ہو گئی ہے. گڈ اشمل نے مبارکباد دی.
ہمارے درمیان کبھی ناراضگی تھی ہی نہیں. عمران نے گہرا سانس خارج کیا.
سر یہ تو بہت اچھا ہو گیا ہے. مس صائمہ تو بہت خوش ہوں گی. ہر وقت روتی رہتیں تھیں کہ سر مجھے اہمیت نہیں دیتے. مجھ سے پیار نہیں کرتے. محض ہمدردی میں نکاح کیا ہے وغیرہ وغیرہ. اشمل نے اپنے خیالوں میں صائمہ کا مسکراتا چہرہ دیکھا
جی خوش ہیں. عمران کہتا کال کاٹ گیا جبکہ اشمل کی باتوں نے اسے مزید بےچینی میں گھیر لیا.
اللہ جانے کہاں اور کس حال میں ہو گی. خامخواہ میری وجہ سے ہر بار مصیبت میں پھنس جاتی ہے. اب تو مجھے بھی اُس پر ترس آنے لگا ہے. عمران نے پریشانی سے اپنے ماتھے کو مسلتے ہوئے سوچا
♣️♣️♣️♣️♣️
ارحم آفس میں داخل ہوا تو اسفند کی انگلیوں کو تیزی سے کیبورڈ پر چلتا دیکھا.
میں نے اُسے چھوڑ دیا ہے. ارحم نے اسفند کی تیزی کو دیکھتے ہوئے بتایا.
اچھا کیا _ اسفند کی طرف سے دو لفظی جواب آیا. مگر اُس نے نگاہ اٹھانے کی زحمت نہیں کی. پھر چند لمحوں تک کمرے میں سوائے گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک کے کچھ سنائی نہ دیا. کیا بات ہے بہت زیادہ مصروف ہو ……. ؟؟ ارحم نے مصروف کو خوب لمبا کھینچا وہ تو ہوں. بس یہ سمجھو جب میں بلکل مایوس ہو گیا تھا. تب اللہ نے ایک راستہ دکھایا جو سیدھا منزل پر پہنچا گیا. اسفند نے پراسرار مسکراہٹ ساتھ ارحم کی طرف دیکھتے ہوئے پرنٹ کی کمانڈ دی پھر دھڑا دھڑا پیپر پرنٹر سے باہر آنے لگے. جنھیں اکٹھے کر کے اسفند نے پن اپ کیا اور ایک فائل کے اندر رکھتے ہوئے باہر Endless devil لکھا اور فائل ارحم کی طرف پھینک دی جو اُسے پکڑتا کرسی پر بیٹھا. اس میں کیا ہے ……. ؟؟ ارحم نے سوالیہ نظروں سے اسفند کی طرف دیکھا اس میں شیطان کی موت ہے. اسفند بڑے دن بعد دل سے مسکرایا. ارحم نے فائل کھولتے ورق ورق دیکھا. اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات ابھرے. ناقابل یقین یہ تم نے کیسے کیا ……؟ ؟ ارحم نے ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
بس دیکھ لو اسفند نے فائل پکڑ کر اپنے سامنے رکھی اور سکھ کا سانس لیا. لگتا ہے شادی کے بعد آپ کا دماغ پہلے سے بھی زیادہ کام کرنے لگا ہے. آپ مانے یا نہ مانے مگر شادی راس آ گئی ہے. ارحم کی بات پر اسفند کی مسکراہٹ سمٹی. میں تو مانتا ہوں دعا کر وہ بھی مان جائے. بڑی ہی عجیب سی لڑکی ہے سمجھ سے باہر، اچھی خاصی بات کرتے کرتے پتہ نہیں کہاں نکل جاتی ہے …… ؟؟ اسفند نے سنجیدگی سے بتایا تو ارحم ہنس پڑا. میرے خیال سے وہ بلکل نارمل ہے جبکہ تیرے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں. ارحم کے جواب پر اسفند نے پھر مسکراتے ہوئے فائل کو دیکھا کچھ زیادہ ہی خوش نہیں ہو …….. ؟؟ ارحم کو حیرانگی تھی. اسفند نے آج تک بہت سے پیچیدہ کیس حل کیے تھے مگر جتنا وہ اس وقت خوش تھا کبھی پہلے نہ ہوا تھا. یہ شخص جس کا نام “عمران” ہے. اس نے مجھے زندگی میں پہلی بار شکست دینے کی کوشش کی تھی اور مجھے لگ بھی یہی رہا تھا کہ میں ہار جاؤں گا. مجھے اپنی چھ ماہ کی محنت ضائع ہوتی نظر آ رہی تھی. مگر پھر اچانک میں ہارتے ہارتے جیت گیا. اب میں یہ فائل “اشمل میڈم” کو دکھاؤں گا. تاکہ جسے وہ” ہیرو” سمجھتی ہے وہ اس کی نظر میں “زیرو” ہو جائے اور اسفند نے اپنی انگلی خود پر رکھتے خاموشی اختیار کی.
پرسنل جیلسی _ ارحم نے تھوڑا آگے جھکتے آہستہ آواز میں پوچھا تو اسفند نے قہقہ لگایا. بس یہی سمجھ لے. مرد ہو یا عورت دونوں ہی اپنے من پسند شخص کے منہ سے صرف اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں. اگر میں نے بھی یہی خواہش کی ہے تو کونسا گناہ ہے. اشمل ضرورت سے زیادہ ہی عمران سے متاثر ہے اور یہ بات مجھے بہت چبھتی ہے. اسفند نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے دکھ سے کہا یاررر پتہ نہیں اُس شخص میں ایسا کیا ہے کہ لڑکیوں کو پاگل جر رکھا یے. میرے خیال سے وہ لڑکیوں کی برین واشنگ بہت اچھی طرح کرتا ہے. جیسے یہ دہشت گرد جماعتیں معصوم بچوں کو جنت کا دھوکا دے کر پھنساتے ہیں. ارحم کے بات پر اسفند نے سر ہلایا. لڑکیاں اللہ کی بہت ہی بےوقوف مخلوق ہیں اور یہ سب سے زیادہ باتوں کے جال میں پھنستی ہیں. باتوں کا جال سب سے خطرناک ہوتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ باتیں کمال کرتا ہے. اُس کا اخلاق، بات کرنے کا طریقہ اور جس انداز سے وہ سامنے والے کو مخاطب کرتا ہے. قابل تعریف ہے. جیسی مرضی بات کر لو، گالی نکال دو. مجال ہے جو غصہ کرے. مہمان نواز بھی بہت ہے. اسفند نے کہتے ہوئے ایک بار پھر فائل کھولی. مگر اب وہ اپنی تمام بہترین خوبیوں ساتھ بھی “سولی” چڑھ جائے گا. بزرگوں نے ٹھیک کہا ہے.” برے کام کا برا نتیجہ” اسفند اٹھ کھڑا ہوا.
سلمان صاحب کو دینے جا رہے ہو. وہ تو آگے ہی آپ کے مداح ہیں اب تو پرموشن پکی ارحم بھی کھڑا ہو گیا.
نہیں ابھی نہیں پہلے میں اپنی بیگم صاحبہ کو دکھاؤں گا. میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کسی کی شخصیت کا مجسمہ بہت اونچا بناتے ہیں تو جب وہ گرتا ہے تو کیسا لگتا ہے ……. ؟؟
اشمل نے عمران کے بارے میں میرے سامنے ایک بات ایسی کہی کہ مجھے ساری رات نیند نہیں آئی اور اب میں چاہتا ہوں کہ رات بھر اُسے نیند نہ آئے. اسفند کہتا اپنا موبائل اور چابیاں اٹھانے لگا
وہ لڑکی تو بہت دکھی ہو گی جب اسے عمران کی گرفتاری کا پتہ چلے گا. ارحم کو اچانک صائمہ کا خیال آیا.
ہاں سچ یاد آیا. کہاں چھوڑا ہے اُسے …… ؟؟ اسفند نے فائل اٹھاتے پوچھا
کہہ رہی تھی کسی بھی سٹاپ پر چھوڑ دیں. میں نے صدر چھوڑ دیا ہے. ارحم کے جواب پر اسفند نے سر ہلایا.
کچھ پیسے وغیرہ ہی دے دیتے وہ تو خالی ہاتھ تھی.( اسفند کو اچانک خیال آیا کہ اُس پاس پیسے نہیں تھے وہ کہاں اور کیسے جائے گی.)
بڑی ہمدردی ہو رہی ہے اس “عورت” نامی مخلوق سے _ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو آج سے چند ماہ پہلے آپ کو اسی مخلوق سے شدید “الرجی” تھی. ارحم کی شرارت پر اسفند نے ہاتھ میں پکڑی فائل اسے ماری جبکہ تاثرات بہت نرم تھے. جو پوچھا ہے اس کا جواب دے. مجھے جلدی ہے. اسفند نے گھڑی پر وقت دیکھا جناب آپ کے کہے بغیر ہی پیسے دے دیے تھے. لے نہیں رہی تھی. پھر کہتی میں آپ کو واپس کر دوں گی. بات تو عجیب یے مگر مجھے اُس کے لیے برا لگا. ارحم کے سنجیدہ ہونے پر اسفند چونکا احتیاط وہ عمران کی بیوی ہے. عام لڑکی نہیں. اسفند نے جتلایا جس پر ارحم نے سر جھٹکا.
اسی بات کا افسوس ہے. وہ مجھے اچھی لگی تھی مگر _ ارحم کہتا کندھے اچکا گیا. چل آ میں تجھے تیری پسند کی جگہ سے چائے پلاتا ہوں. میں آج سچ میں بہت خوش ہوں. اسفند نے ارحم کے کندھے ہر ہاتھ رکھتے ہوئے گویا تسلی دی. ♣️♣️♣️♣️♣️ اشمل کا فون مسلسل کسی انجان نمبر سے بج رہا تھا. دادو پلیز فون اٹھا لیں. میں واش روم میں ہوں. اشمل نے زور سے دادو کو آواز دی. ارے لڑکی کہیں تو آرام سے بیٹھا کر. دادو کہتی ہوئی صوفے سے اٹھی. بیٹھی نہیں ہوں کھڑی ہوں. منہ دھو رہی تھی. ایک تو مہینے میں جب بھی منہ دھونے کا سوچتی ہوں. کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ ارادہ ترک کرنا پڑتا ہے. اشمل کہبڑبڑاتی ہوئی باہر نکلی جبکہ چہرے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے. اگر خود ہی فون اٹھانا تھا تو مجھے کیوں آواز دی. دادو نے اسے دیکھ کر غصے سے کہا دادو میں نے نوٹ کیا ہے کہ یہاں آ کر آپ بہت آرام طلب ہو گئیں ہیں زرا ہلا جلا کریں ورنہ جوڑوں کا درد شروع ہو جائے گا. پرانے محلے میں کس طرح گھومتی تھیں. اشمل اور دادو کی تکرار میں فون بج بج کر بند ہو گیا. تُو پہلے مجھ سے لڑ لے، وہ تیرا کچھ لگتا بند ہو گیا ہے فون بند ہوتے ہی دادو نے کہا اور دوبارہ صوفے پر لیٹ گئیں. میرا کچھ لگتا پھر آ جائے گا. آپ اپنے کچھ لگتے کا سنائیں ……؟ ؟ اشمل کی شرارت پر دادو نے اسے گھوری سے نوازا تو وہ ہنس پڑی تبھی فون دوبارہ بجنے لگا جی کون …..؟؟ اشمل نے فون اٹینڈ کرتے پوچھا اشمل صائمہ کی ڈری ڈری سی آواز سپیکر سے ابھری تو اشمل کھل اٹھی.
صائمہ کہاں ہو یاررر …..؟ ؟ میں آج ہی سر سے تمہارا پوچھ رہی تھی. سر نے تمہیں بتایا ہو گا میں نے تم سے اپنی باتیں شئیر کرنی ہیں. قسم سے میری شادی ہو گئی ہے وہ بھی بلکل فلمی انداز میں اور _ اشمل نان سٹاپ بول رہی تھی کہ صائمہ نے روکا مجھے اپنا ایڈریس بتاؤ …….. ؟؟ صائمہ نے پوچھا میں لوکیشن سینڈ کرتی ہوں اشمل نے فوراً کہا
میرا موبائل گم ہو گیا ہے. اب میرے پاس کوئی موبائل نہیں ہے. میں تمہیں pco سے فون کر رہی ہوں اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ سر عمران کے علاوہ مجھے تمہارا نمبر یاد ہے. صائمہ کی آواز میں عجیب دکھ تھا.
تم ٹھیک ہو …. ؟؟ اشمل کو گڑ بڑ کا احساس ہوا.
ہاں باقی باتیں آ کر بتاتی ہوں. پلیززز ایڈریس سمجھا دو. صائمہ کے کہنے پر اشمل ایڈریس سمجھانے لگی.
دادو میری دوست آ رہی ہے. میں کچھ اچھا سا اس کے لیے بنانے کچن میں جا رہی ہوں اور ہاں ایک اور بات آپ نے ہمیں ڈسٹرب نہیں کرنا. ہم نے بہت باتیں کرنی ہیں. اشمل نے انگلی اٹھا کر وارنگ دی.
آئے ہائے لڑکی!!! ساری زندگی میرے ساتھ ایک کمرے میں رہی اور اب مجھے یوں بیگانہ کر رہی ہے کہ ڈسٹرب نہیں کرنا. دادو نے دکھی سی صورت بنائی.
دادو اب میں بڑی ہو گئی ہوں. لہٰذا ہر وقت میرے ساتھ چپکنے سے پرہیز کریں. آپ کو میں نے ایک اور بات بھی بتانی تھی وہ جو آپ کا داماد ہے نااااا وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ وہ گھر بسانا چاہتا ہے. اگر آپ میرے ساتھ چپکی رہیں تو میں گھر کیسے بساؤں گی …..؟ ؟ الگ رہنے کی عادت ڈالیں. اشمل نے کمر پر ہاتھ رکھتے کہا
لڑکی تُو نے تو شرم بیچ کھائی ہے. دادو کے چہرے سے دکھی تاثرات ایک دم غصے میں ڈھل گئے.
یہ شرم کھا بھی سکتے ہیں ….؟؟ اشمل کے پوچھنے پر دادو نے جھک کر اپنی چپل اٹھائی تو وہ ہنستی ہو کچن میں آ گئی.
چل اشمل بریانی بناتے ہیں. ساتھ میٹھے میں کسٹرڈ کر لیں گے. چاول بھگو کر پہلے رائتہ اور سلاد تیار کر لیتی ہوں. پھر چکن تیار کروں گی. اشمل خود کلامی کرتی سامان نکالنے لگی
شکر ہے کہ گھر میں سارا سامان موجود ہے ورنہ پھر اُس منحوس کی شکل دیکھنی پڑتی. سامان تو لا دیتا ہے مگر سر کھا جاتا ہے. پتہ نہیں کس نے اسے آفسر بھرتی کیا ہے. میرے بس میں ہوتا تو اسے خانساماں رکھتی اور سارا سارا دن گرمی میں مشکل کھانے پکواتی. خیر اشمل کام کے ساتھ ساتھ خود سے باتوں میں اتنی مصروف تھی کہ اسے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا اور ڈور بل بجنے لگی.
اللہ جی وہ آ گئی ہے ابھی تو بریانی کا صرف مصالحہ بنا ہے. اشمل نے بھاگ کر دروازہ کھولا تو آگے اسفند تھا.
خیریت اتنی عجلت میں دروازہ کھولا ہے. اسفند نے اشمل کا جائزہ لیتے پوچھا جو بغیر دوپٹے کے کھڑی تھی.
جی ابھی تک تو خیریت ہی تھی اب کچھ کہہ نہیں سکتی. اشمل کہتی کچن میں آ گئی جبکہ اسفند دروازہ بند کرنے لگا
خیریت …..؟؟ کچن کی حالت دیکھ کر اسفند کو دوسرا جھٹکا لگا. اُس نے تو اپنے آنے کا نہیں بتایا تھا. پھر کھانے میں اتنا اہتمام، اسفند نے دل میں سوچا
کیا خیریت، خیریت لگا رکھی ہے …..؟ ؟ خیریت ہی ہے کیونکہ اگر خیریت نہ ہو تو بندہ بریانی نہیں پکاتا سیدھا ہسپتال یا قبرستان کا رخ کرتا ہے اشمل نے بگڑے موڈ ساتھ جواب دیا اور تیز تیز ہاتھ چلانے لگی.
کسی نے آنا ہے …..؟ ؟ اسفند نے محتاط انداز میں پوچھا
جی مختصر جواب دیا.
کس نے …..؟؟ اسفند کو تجسس ہوا.
میری ایک دوست ہے. وہ آ رہی ہے. اسی کے لیے کھانا بنا رہی ہوں. اگر آپ کو برا لگا ہے تو منع کر دیتی ہوں. آخر آپ کا گھر ہے. میں اپنی مرضی تو کر نہیں سکتی اشمل سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسفند کے سامنے کھڑی ہو گئی.
نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا. آپ کی دوست آ سکتی ہے. میں نے بس ویسے ہی پوچھا ہے. سوری اگر برا لگا تو اسفند کو شرمندگی ہوئی. جس پر اشمل نے پلٹ کر دوبارہ اپنا کام شروع کیا. اسفند خاموشی سے اسے کام کرتا دیکھ رہا تھا جو بڑے دل سے کھانا بنا رہی تھی.
کوئی بات کہنی ہے یا کام ہے اشمل نے بغیر مڑے پوچھا تو اسفند مسکرا دیا.
آپ کو کیسے پتہ کہ مجھے کوئی کام ہے …..؟ ؟ اسفند نے شلف پر بیٹھتے ہوئے پوچھا اب وہ کھڑا کھڑا تھک گیا تھا.
ظاہری سی بات ہے جو بندہ فون پر زیادہ دیر بات نہیں کر سکتا اور روز میٹنگ میں مصروف رہتا ہے وہ پچھلے پندرہ منٹ سے کھڑا ہے تو کوئی کام ہو گا. اشمل نے سلاد کی پلیٹ اسفند کے پاس رکھی.
خیر اب آپ تو ایسی باتیں نہ کریں. میں نے ہمیشہ ہی آپ کی بات سنی ہے. میں تو تب بھی سنتا تھا جب بول نہیں سکتا تھا. اسفند ہنس پڑا جس پر اشمل نے اسے حیرت سے مڑ کر دیکھا
بہت خوش ہیں …..؟ ؟ اشمل کے پوچھنے پر اسفند چھلانگ مار کر نیچے اترا.
ایک سوال پوچھوں بشرطِ سچ سچ جواب دو. اسفند کا لہجہ اور انداز ایک دم بدل گیا تھا.
میں تو جھوٹ بولتی ہی نہیں ہوں اشمل نے کندھے اچکائے تو سر جھٹکتے اسفند ہنس پڑا
جی مجھ سے زیادہ یہ بات اور کون جانتا ہوگا. خیر اگر میں پوچھوں کہ میرے اور عمران میں آپ کو کون زیادہ پسند ہے اور کیوں تو بتائیں گی …… ؟؟ اسفند نے سوال پوچھتے اشمل کی آنکھوں میں دیکھا جہاں پہلے حیرت اور پھر مسکراہٹ نے جگہ لے لی.
یہ میرا پرسنل ہے میں جواب دینے کی پابند نہیں. اشمل مڑنے لگی مگر اسفند نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے اپنی طرف موڑا.
یہ پرسنل نہیں ہے مجھے جواب چاہیے. اسفند ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا.
آپ نشہ کرتے ہیں …..؟ ؟ اشمل نے اپنا بازو چھڑا نے کی زحمت کئے بغیر پوچھا جس پر اسفند نے نہ میں سر ہلایا
غصے میں کسی کا قتل وغیرہ …… ؟؟ اشمل نے انگلی کے اشارے سے دوسری آپشن دی اس پر بھی اسفند کا جواب نفی میں تھا.
چیزیں وغیرہ توڑتے پھوڑتے ہوں گے …… ؟؟ اشمل کے تیسرے سوال پر اسفند نے اسے چھوڑتے ہوئے مشکوک نظروں سے دیکھا
میں اصل میں یہ دیکھنا چاہ رہی تھی کہ میرے جواب پر کس حد تک اور کیسا ری ایکشن آئے گا کیونکہ ماحول سازگار ہے تو میں آزادانہ طور پر اپنا ووٹ سر عمران کو دوں گی. آپ مانے یا نہ مانے مگر پرسنلٹی کمال کی ہے اوپر سے سر جو ڈریسنگ کرتے ہیں اشمل ابھی بول ہی رہی تھی کہ اسفند نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے مزید بولنے سے روکا جب کہ اس کے تاثرات خطرناک حد تک بگڑ چکے تھے.
خاموش بہت ہی بے شرم ہو اپنے خاوند کے سامنے دوسرے مرد کی تعریف کرتے ہوئے حیا نہیں آتی. اسفند کا موڈ خراب ہو گیا تھا.
تو خاوند کو شرم آتی ہے اپنی بیوی سے غیر مردوں کے بارے میں پوچھتے ہوئے. جب اسے شرم نہیں آتی تو میں کیوں شرم کروں …… ؟؟ اشمل کہتی دوبارہ اپنا کام کرنے لگی
یہ فائل دیکھو _ اسفند نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو مزید ہائپر ہونے سے روکا اور فائل اشمل کے سامنے رکھی. اس میں ایسا کیا ہے. جو میں دیکھوں …..؟ ؟ اشمل نے فائل پکڑتے ہی کھولی. ایک ایک ورق پلٹا اور اسی سکون کے ساتھ واپس شلف پر رکھ دی. اُس کے اس قدر مطمئن ہونے پر اسفند کو شدید حیرت ہوئی. تمہیں یہ سب پہلے سے معلوم تھا رائٹ ……. ؟؟ اسفند کے سوال پر اشمل نے سر ہلایا. کیسے پتہ ……… ؟؟ کچھ دیر بعد اسفند نے دوبارہ پوچھا صائمہ نے بتایا تھا اشمل جواب دیتی اب چاول ابالنے لگی تھی.
کیا ……. ؟؟ اسفند نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا
اس میں چیخنے والی کیا بات ہے …… ؟؟ اشمل نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا
ہم نے اسے تین دن ٹارچرسیل میں رکھا اور وہ یہی کہتی رہی کہ “مجھے کچھ معلوم نہیں” _ اسفند نے غصے سے مکا شلف پر مارا تو اشمل نے اسے حیرت سے دیکھا. اشمل کی نظروں میں کچھ ایسا تھا کہ اسفند نارمل ہوگیا. یار اسے مارا نہیں تھا نہ ہی کسی قسم کا جسمانی تشدد کیا تھا بس تھوڑی سی ذہنی ٹینشن دی تھی. اسفند شرمندگی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا بڑے ہی افسوس کی بات ہے ایک کمزور لڑکی کو ٹارچر کیا. جو پہلے ہی دکھوں کی ماری ہے. اشمل اب بالکل سنجیدہ تھی. کہا ناااااا جسمانی اذیت نہیں دی ذہنی اذیت بھی کچھ خاص نہیں تھی. اسفند نے نارمل ہوتے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا. پھر دوبارہ وہی خاموشی چھا گئی.
چلتا ہوں اسفند نے اسے مکمل خاموش دیکھ کر کہا
بیٹھ جائیں کھانا کھا کر جائیے گا _ اشمل نے دیکھے بغیر سنجیدگی سے روکا. جس دن میرے لیے کھانا بناؤں گی اس دن رک جاؤں گا. میں کسی کے حصے کی چیز نہیں کھاتا. اسفند کہتے ہوئے جانے لگا پھر کسی کے حصے کی سزا بھی کسی کو نہ دیا کریں. اشمل کا جملہ سنتے اسفند پلٹا. اپنے بارے میں کیا خیال ہے…… ؟؟ اسفند نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا میں بہت اچھی ہوں. بہت پیاری ہوں. اس کا جواب اسفند جو مزید غصہ دلا گیا. اشمل بی بی تم پاگل ہو صرف پاگل __ اسفند کہتا باہر نکل گیا جب کہ جلدی میں فائل شلف پر ہی رہ گئی.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.
