80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

اشمل ،دادو ، قاسم، اسفند اور چند محلے کے مرد جنھیں دادو نے بہت منت کر کے بلایا تھا جبکہ اُڑوس پڑوس کی عورتوں خود بخود ہی تماشا دیکھنے آ گئیں تھیں.
دُولہا کا نام اور ولدیت بتائیں ……. ؟؟ مولوی صاحب نے نکاح نامہ پُر کرتے ہوئے پوچھا
(اب مزہ آئے گا اشمل بی بی!! بہت سمارٹ بنتی ہو ناااااا میں تو بول نہیں سکتا تو تمہیں کون میرا نام اور ولدیت بتائے گا …… ؟؟ اب کر کے دکھاؤ نکاح تو مانو. اسفند تُو خامخواہ ہی پریشان ہو رہا تھا. ) اسفند نے دل میں سوچا اب پہلے کی نسبت وہ ہشاش بشاش لگ رہا تھا. بھئی تم لوگوں نے سنا نہیں. دولہے کا نام بتاؤ ……. ؟؟ قاسم نے دادو کی طرف دیکھا اور دادو نے اشمل کو، جو سادہ سے سرخ رنگ کا سوٹ پہنے چارپائی پر بیٹھی پاؤں ہلا رہی تھی. نام لکھیں اشمل اپنی جگہ سے اٹھی اور مولوی صاحب کے سر پر جا پہنچی.
ارے اتنی گندی لکھائی میں نکاح نامہ پُر کر رہیں ہیں. لائیں میں خود ہی لکھ دیتی ہوں. اشمل نے کہتے ساتھ ہی نکاح نامہ مولوی صاحب کے ہاتھ سے لیا.
دولہے کا نام “اسفند یار ولی” جبکہ اُس کی ولدیت “حاکم یار ولی” ہے. اشمل نے اونچی آواز میں کہتے ہوئے نکاح نامہ پُر کرنا شروع کیا جس پر اسفند کو 440w کا جھٹکا لگا.
یہ لڑکی تو بہت بےشرم ہے. کم از کم آج کے دن تو شرم کر لو. تیرا نکاح ہے. ایک ہمسائی نے کہا مگر یہاں پرواہ کسے تھی …..؟؟ جبکہ دادو نےاشمل کو چپ رہنے کا اشارہ کیا.
دادو آپ پریشان مت ہوں. آج کل ایسی دلہنیں ہی آ رہیں ہیں. بے شرم،. منہ پھٹ کیا کریں …..؟ اشمل کہتی ہوئی اسفند ساتھ بیٹھ گئی جبکہ وہ پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا.
زیادہ آنکھیں دکھانے کی ضرورت نہیں ہے. جس دن تم نے مجھے پیزہ کھلایا تھا میرا مطلب ہے پیزے کے پیسے دیئے تھے. تب میری نظر تمہارے آئی ڈی کارڈ پر پڑی تھی. اشمل نے کندھے اچکائے
میری جیب میں ہمیشہ دو نمبر شناختی کارڈ ہوتا ہے. اصلی اس نے کب دیکھا. اسفند سوچ میں ڈوبا خود کو مسلسل کوس رہا تھا کہ مولوی صاحب نے اسفند سے رضا مندی مانگی.
مولوی صاحب پہلے لڑکی سے پوچھا جاتا ہے. دادو نے ٹوکا
لڑکی تو راضی ہی راضی ہے. نظر نہیں آ رہا. مولوی نے اشمل کو دیکھتے ہوئے جواب دیا.
جی اسفند میاں آپ کو یہ لڑکی اپنے نکاح میں قبول ہے _ مولوی صاحب کے پوچھنے پر اسفند نے اپنے قریب بیٹھی اشمل کو ایک نظر دیکھا اور پھر ارد گرد کھڑے لوگوں کو مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا جس پر اسفند نے ہمت سے کام لیتے ہوئے سر نفی میں ہلایا.
یہ لو لڑکا تو مُکر گیا ہے قاسم نے ہنستے ہوئے طنز کیا.
ہاں بولو نااااا
اشمل نے آہستہ مگر غصے سے کہا جس پر اسفند نفی میں سر ہلانے لگا.
تمہاری تو “ایسی کی تیسی” اشمل بڑبڑاتی ہوئی اٹھی اور غسل خانے سے تیزاب کی بوتل اٹھا لائی.
اگر تم نے اب “نہ” کی تو میں تمہارے اوپر “تیزاب” پھینک دوں گی. جس سے تمہارے کاروبار میں تو بہت اضافہ ہو گا مگر پھر ساری زندگی شادی کے لیے تڑپو گے. کم از کم کوئی لڑکی شادی نہیں کرے. اشمل نے کہتے ہوئے تیزاب کی بوتل اسفند کے سامنے کی تو اُس کے ہوش اڑ گئے.
چل میرے پتر اب “ہاں” کر دے. دادو نے بھی لاڈ سے کہا اسفند بری طرح پھنس گیا تھا. اس سے پہلے کہ وہ بھاگنے کا سوچتا اشمل کے اشارے پر محلے کے آوارہ لڑکوں نے اسفند کو پکڑ لیا. آج اسفند کو ارحم بہت یاد آیا. پھر کافی تگ و دو کے بعد نکاح ہو گیا. تو سب نے خوب انجوائے کرتے ہوئے مبارک باد دی.
اللہ تیرا شکر ہے نکاح ہو گیا. اب ملے گئے پیسے اور ہم کریں گے عیاشی _ اشمل نے کہتے ہوئے دادو کو گلے لگایا. دونوں دادی پوتی بے حد خوش تھیں جبکہ قاسم اور اسفند انھیں دیکھ رہے تھے. اشمل سب دیکھ رہے ہیں. دادو نے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اشمل کو خود سے جدا کیا. اوکے
اشمل کہتی پیچھے ہٹی.
آپ سب لوگوں کے آنے کا بہت شکریہ خاص طور پر بچہ پارٹی تم لوگوں کا اب مجھے دعائیں دو اور اپنے اپنے گھر جاؤ.
ولیمے کی دعوت جلد دی جائے گی. دولہے والے بہت امیر لوگ ہیں. خوب دھوم دھام سے ولیمہ کریں گے. اشمل نے کہتے ہوئے پیسے مولوی صاحب کے ہاتھ پر رکھ دئیے. پھر دیکھتے ہی دیکھتے گھر خالی ہو گیا.
تمہارا بہت شکریہ
میں تمہیں بھی منہ دکھائی کے طور پر ایک “لاکھ” دو‍ں گی پھر تم بدلے میں مجھے منہ دکھائی کے طور پر “طلاق” دے دینا. بس چند دن صبر کر لو. صبح پیر سے بینک کھل جائی گے اور سوری میں نے تمہارے ساتھ تھوڑی زیادتی کر دی اشمل نے اسفند کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا تو اسفند نے اُسے تجسس سے دیکھا
(یہ لڑکی کم اور جیمز بانڈ کی مووی زیادہ ہے. عمران نے دل میں سوچا )
اماں کیا بات ہے …..؟ ؟ قاسم نے دورسے ہی کھڑے پوچھا جس پر دادو نظریں چرا گئیں.
کوئی بات نہیں ہے. تم کب تک واپس جا رہے ہو …… ؟؟ دادو نے قدرے سخت لہجے میں پوچھا
اماں قاسم کے منہ سے حیرت کے مارے صرف اتنا ہی نکلا
اشمل میری بیٹی اور بیٹا دونوں ہی ہے. تم اب جا سکتے ہو. مجھے ایسا بیٹا نہیں چاہیے. اللہ جو کرتا ہے اچھا ہی کرتا ہے. حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد نافرمان نکل آئی تو میں کیا چیز ہوں …….. ؟؟ دادو نے کہتے ہوئے کمرے کا رخ کیا تو قاسم بھی تیزی سے ان کے پیچھے گیا.
شادی مبارک ہو. خاصی بھونڈی شادی ہے. بور سی، نہ کھانا، نہ ڈھولک،. نہ کوئی آتش بازی مگر شادی تو شادی ہوتی ہے نااااا
اشمل باہر کا دروازہ لاک کرتی اسفند کے سامنے آ بیٹھی جو اسے ناگواری سے دیکھ رہا تھا.
مجھے یقین ہے تو تمہیں بھی ہونا چاہیے کہ تم نے یا تمہارے بڑوں نے ایسا کوئی گناہ نہیں کیا ہو گا کہ تمہیں مجھ جیسی بیوی ملے. لہٰذا بے فکر رہو میں جلد ہی تمہاری جان چھوڑنے والی ہوں. یہ شادی کرنا میری مجبوری تھی.
بات دراصل کچھ یوں ہے. مگر ایک منٹ اس سے پہلے کے میں بھول جاؤں اشمل اٹھی اور سیڑھیوں کے نیچے سے ایک زنجیری نکال لائی.
دیکھو مجھے جھوٹ پسند نہیں ( اشمل اپنی بات پر خود ہی ہنسی ) اب میں تمہیں ساری بات سچ سچ بتا دیتی ہوں. میں نے یہ شادی صرف پیسے کے لیے کی ہے. دادو نے میری شادی انشارنس کروائی تھی جس کا پیسہ میری شادی پر ملنا تھا.
دادو نے بہت کوشش کی کہ میری شادی ہو جائے مگر وہ نہ ہو سکی. اشمل نے پہلی بار اپنی گردن جھکائی جبکہ اسفند دلچسپی سے سب دیکھ سن رہا تھا. اشمل اس وقت بہت سنجیدہ تھی جس پر اسفند حیران تھا. یہ لڑکی کتنے رنگ بدلتی ہے ……… ؟؟
پھر میں نے دادو سے بات کی کہ کسی ایسے شخص سے شادی کی جائے جو بےضرر ہو. ہمیں نقصان نہ پہنچا سکے. جب میں نے تمہیں دیکھا تو مجھے لگا کہ تم میرے کام آ سکتے ہو.
تمہارا انتخاب کرنے کی بڑی وجہ تمہارا گونگا پن ہے. کیونکہ تم کسی کو کچھ بھی بتا نہیں سکتے چاہنے کے باوجود بھی اشمل کی بات پر اسفند ہلکا سا مسکرایا
جیسے ہی میرا نکاح نامہ جمع ہو گا. انشارنس والے ہمیں پیسہ دے دیں گے. دوسرا مجھے اپنے ارادہ سے بھی شادی کے پیسے ملے گئے تیسرا ہم یہ مکان بیچ دیں گے تو کافی پیسے ہو جائیں گے.
اب تم سوچ رہے ہو گے کہ ہم اتنے پیسوں کا کیا کریں گے تو سنو ……. ؟؟ اشمل نے خودہی سوال کیا اور جواب دینے لگی جبکہ اسفند اب اسے مشکوک نظروں سے گھور رہا تھا.
میں نے تعلیم کی غرض سے برطانیہ کے ویزے کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے. میں دادو کو بھی ساتھ لے جاؤں گی. بوڑھوں کے ویزے کا مسئلہ نہیں ہوتا. مسئلہ صرف جوان لوگوں کا ہوتا ہے لہٰذا تعلیم کا ڈرامہ کرنا پڑے گا.
وہاں میں اور دادو مل کر کام کریں گے. زندگی اچھی ہو جائے گی. یہاں ہم دونوں کا کون ہے ……. ؟؟ میرے اور دادو کے سب اپنے مر گئے جو زندہ ہے وہ انتہائی خود غرض ہے. اشمل نے کمرے کی طرف دیکھا
میرے پاس دادو کے سوا کچھ نہیں اور یہی حال دادو کا بھی ہے. ہم دونوں کو ایک دوسرے کا سہارا ہے. یہاں سب لالچی ہیں سب کے سب اشمل کی آواز نم ہونے لگی تو وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئی.
پاکستان میں زندگی بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے. ہم دونوں نے یہاں سے نکلنا ہے. جلد از جلد اس لیے سوری مگر میں تمہارا احسان یاد رکھوں گی.
تمہارا احسان اتار تو نہیں سکتی جو میں نے زبردستی تم سے لیا ہے ( اشمل کو تیزاب کی بوتل یاد آ گئی تو وہ ہنسی ) مگر جب تم مجھے طلاق دو گے تو بدلے میں تمہیں ایک لاکھ ملے گا. میری طرف سے اُسے اپنی منہ دکھائی سمجھ لینا.
پلیز دھوکا نہ دینا. میں نے تمہیں لالچی نہیں پایا. تم تو اللہ والے ہو میری طرح نہیں چاہو تو جا سکتے ہو میں روکوں گی نہیں. مگر دس پندرہ دن تمہیں یہاں رہنا پڑے گا.
سوری میں تمہیں قید کر رہی ہوں. میری مجبوری ہے. اگر تم ادھر اُدھر ہو گئے تو میں طلاق کیسے لوں گی …… ؟؟ اشمل نے کہتے ہوئے اسفند کے پاؤں میں زنجیر باندھ کر چارپائی ساتھ باندھ دی. اسفند نے کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں کی وہ چپ چاپ بیٹھا تھا.
( اس لڑکی کے اندر کتنے راز چھپے ہیں. بظاہر عام سی ہے مگر عام لڑکیوں جیسی نہیں. بہت باہمت ہے. اپنے لیے لڑنا جانتی ہے. دادو ساتھ وفادار بھی ہے. مطلب کسی اچھے باپ کا خون ہے اشمل بی بی دھوکا تو نہیں دوں گا کیونکہ میرے خون میں شامل نہیں مگر بدلہ ضرور لوں گا بہت تنگ کیا ہے تم نے اسفند نے دل میں سوچا)
چلو اب تم آرام کرو کیونکہ تم نئے نویلے دولہا ہو. میں تمہارے کھانے کو کچھ لاتی ہوں. بھاگنے کی کوشش مت کرنا. ہمارے محلے کے کتے بہت کُتے ہیں. سمجھ تو گئے ہو گے. اشمل مسکراتی ہوئی کچن میں چلی گئی.
♣️♣️♣️♣️♣️
کیا مطلب ہے تمہاری بات کا …… ؟؟ عدیل بھائی کا فون ان کی گاڑی میں ہے اور گاڑی چندہ بائی کے پاس سے ملی ہے جبکہ چندہ بائی نے عدیل بھائی کو دیکھا تک نہیں
عمران نے انتہائی غصے سے ناجو کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو سر جھکائے کھڑا تھا.
سر میرے خیال سے وہ کسی دشمن کے ہاتھ لگ گئے ہیں. ناجو کی بات پر عمران نے زور سے کرسی کو ٹھوکر ماری.
سب کچھ بند کر دو جتنی جلدی ہو سکے اور گودام کے مال کی جگہ تبدیل کرو جلدی عمران کے حکم پر وہ سر ہلاتا باہر چلا گیا.
جو کوئی بھی ہے وہ اپنی موت کو آواز دے رہا ہے. عدیل بھائی تو اتنے ہلکے ایمان کے مالک ہیں کہ اگر وہ ایک لڑکی اور شراب کی بوتل انھیں پیش کریں گے تو وہ سب کچھ فرفر بتانے لگے گے.
وہ تو شکر ہے کہ میں نے کبھی انھیں اپنے راز نہیں دئیے. لیکن
عمران نے بےچینی سے ٹہلتے ہوئے خود کلامی کی.
سر میں اندر آ سکتی ہوں …… ؟؟ اشمل نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا
آپ اندر آ چکی ہیں اور آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ نے اجازت لی ورنہ آپ کو اس کی ضرورت تو نہیں ہے. عمران نرمی سے طنز کرتا اپنی کرسی پر آ بیٹھا.
آپ بھی مذاق کرتے ہیں حالانکہ مس صائمہ تو آپ کا عجیب سا نقشہ کھینچتی تھی. اشمل کہتی ہوئی عمران کے سامنے بیٹھ گئی.
کیسا نقشہ ……. ؟؟ عمران کو تجسس ہوا.
یہی کہ آپ بہت ظالم ہیں. انتہائی سڑیل، خود غرض اور غصے والے اشمل مزے سے بتا رہی تھی جیسے یہ اس کی خوبیاں ہوں مگر عمران کافی بدمزہ ہوا تھا.
کیا میں ایسا ہوں ……. ؟؟ عمران نے اشمل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
سر آپ تو بہت اچھے ہیں بہت زیادہ
پتہ آپ مجھے بہت پسند “تھے”. اتنے کہ میں نے تو آپ کو پرپوز کرنے کا سوچ لیا تھا. سوچا تھا کہ آپ پہلے نخرے کریں گے مگر پھر مان جائیں گے تو اپنی زندگی بھی سکون سے گزرے گی مگر پھر اشمل رکی جبکہ عمران ٹیبل پر اپنی کہنیاں رکھے ہاتھوں کی وی بنائے اسے بڑے انہماک سے دیکھ رہا تھا.
مگر پھر
عمران نے دھرایا.
مگر پھر مس صائمہ کی شکل دیکھ کر مجھے ان پر ترس آ گیا. قسم سے وہ لڑکی اتنے “پٹنے ڈالتی” ہے کہ بس مت پوچھو …… ؟؟
اور رونا تو سب لڑکیوں کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے مگر انھوں نے تو ڈاریکٹ “بادلوں” سے سپلائی لی ہوئی ہے.
اس لیے میں نے سوچا کہ مس صائمہ کی بدعا سے بچا جائے.آپ کی طرف دیکھ بھی لو تو اُن کا منہ بن جاتا تھا. قسم سے بہت پیار کرتی ہیں آپ سے لہٰذا میں نے اور بندہ تلاش کرنا شروع کر دیا. اشمل نے ہاتھ میں پکڑا رائٹنگ بیڈ ٹیبل پر رکھا.
آپ کو اتنا یقین کیسے تھا کہ میں آپ کا پرپوزل قبول کر لوں گا ……. ؟؟ عمران کو پتہ نہیں کیوں مگر اشمل سے بات کرنے میں مزہ آ رہا تھا.
سر آپ مجھے جانتے نہیں ہیں. میں نے پرپوز ہی ایسے کرنا تھا کہ آپ کے پاس “ہاں” کے سوا کوئی چارہ نہیں بچنا تھا.
مگر اب تو میں نے شادی کر لی ہے. اصل میں مجھے شادی کا بہت شوق تھا. کلاس میں جب بھی ٹیچر نے پوچھا آپ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہیں …… ؟؟
تو میرا ایک ہی جواب ہوتا “دلہن” اگر میں لڑکا ہوتی تو چار شادیاں کرتی اور افئیر کا تو پوچھو مت. مجھے ہر رنگ،. نسل، زبان، علاقے اور عمر کی لڑکی پسند ہے. آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ لوگ کہتے ہیں ہر انسان کے اندر ایک “بچہ” ہوتا ہے مگر میرے اندر ایک “مرد” ہے اشمل کی بات پر عمران کھل کر ہنسا
آپ خاصی دلچسپ ہیں. عمران نے کرسی ساتھ ٹیک لگائی.
تعریف کا بہت شکریہ مگر اب سیلری دے دیں. دوسرا انٹرویو کے وقت آپ نے کہا تھا کہ employee کی شادی پر آپ لوگ بونس بھی دیتے ہیں. اشمل کی بات پر عمران نے سیدھا ہوتے ہوئے انٹرکام پر اکاؤنٹ افسر کا نمبر ملانے کا کہا
کب ہے آپ کی شادی …… ؟؟ عمران نے رسیور کان ساتھ لگایا ہوا تھا.
سر شادی تو کل ہو گئی ہے مگر خرچا تو چاہیے نااا
اشمل کے جواب پر عمران کو حیرت ہوئی. وہ کہیں سے بھی نئی نویلی دلہن نہیں لگ رہی تھی. نہ مہندی ، نہ کپڑے، نہ کسی قسم کی شرماہٹ عمران کے یوں دیکھنے پر اشمل نے آبرو اچکائے.
آپ جھوٹ بول رہیں ہیں …..؟ ؟ عمران نے سنجیدگی سے پوچھا تبھی اکاؤنٹس آفیسر کی آواز سپیکر سے ابھری.
سر ہم مسلمانوں کی شادی میں وقت ہی کتنا لگتا ہے. تین دفعہ “قبول ہے” بولو اور اگلے کے گلے پڑ جاؤ. صرف پانچ منٹ لگتے ہیں. اشمل کے جواب پر عمران نے سر ہلاتے ہوئے افیسر کو سیلری کے ساتھ ساتھ بونس دینے کا کہا
شکریہ سر
اشمل اٹھ کھڑی ہوئی.
مجھے افسوس ہے اتنی اچھی لڑکی ہاتھ سے نکل گئی ہے. اگر آپ مجھے پرپوز کرتیں تو مجھے خوشی ہوتی. عمران کو شرارت سوجھی.
سر افسوس کی کونسی بات ہے. آپ اگر سیریس ہیں تو میں طلاق لے لیتی ہوں. اشمل مزے سے کہتی دوبارہ بیٹھ گئی.
کیا ……؟ ؟ عمران ایسا جواب کی امید نہیں کر رہا تھا.
سر میں تو آپ کے لیے کہہ رہی تھی کہ اداس نہ ہوں. اشمل دوبارہ کھڑی ہو گئی جبکہ مسکراہٹ ہنوز قائم تھی.
مس اشمل آپ بھی ناااا عمران نے نفی میں سر ہلایا. آپ کے ہسبنڈ کیا کام کرتے ہیں ….؟؟ عمران نے اشمل کو جاتا دیکھ کر پوچھا وہی جو بڑے بڑے سیاستدان اور اس ملک کا ہر وزیراعظم کرتا ہے. اشمل نے مڑتے ہوئے جواب دیا. مطلب …..؟؟ عمران نے ناسمجھی سے پوچھا مطلب سر کہ وہ بھیگ مانگتے ہیں. فقیر ہیں. اشمل کے جواب پر عمران کو اُس کی ذہنی حالت پر شک ہوا. آپ سیریس ہیں ….؟؟ عمران نے تصدیق چاہی کے جو سنا ہے وہی کہا ہے. میرے خیال سے “آپ پاگل ہیں” کہنا چاہ رہے ہیں. اشمل نے جملہ درست کیا. آپ نے سچ مچ ایک فقیر سے شادی کی ہے. عمران کی حیرت دیدنی تھی. جی بلکل اشمل نے اعتماد سے جواب دیا جس پر عمران نے ایک سرد آہ خارج کی.
مس اشمل آپ بہت مختلف لڑکی ہیں. عمران نے اقرار کیا.
سر آپ کو معلوم ہے کہ مس صائمہ آج کل کہاں ہیں …..؟ ؟ اشمل نے جاتے جاتے پوچھا
پتہ نہیں. عمران نے لاپرواہی سے جواب دیتے ہوئے کرسی سے کھڑا ہو گیا.
سر وہ آپ کی بیوی ہیں. ان کا پتہ کریں. اشمل کو سچ مچ فکر ہوئی.
مجھے وہ پسند نہیں ہیں اس لیے مجھے ان کی پرواہ نہیں. عمران نے مکمل سنجیدگی سے جواب دیا.
سر آپ جھوٹ بھی بول لیتے ہیں. اشمل کے سوال پر عمران کو حیرت ہوئی.
سر آپ ان سے بہت محبت کرتے ہیں مگر مانتے نہیں. میرے خیال سے محبت میں “انا” کی جنگ نہیں ہونی چاہیے. وہ بہت اچھی ہیں. بس رونا دھونا زیادہ کرتیں ہیں. آپ دونوں کی جوڑی بلکل پرفیکٹ ہے. اشمل کے کومنٹس پر عمران خاموشی سے ونڈو کی طرف دیکھنے لگا
آپ دونوں کی پرسنیلٹی ایک دوسرے کے متضاد ہیں اور متضاد چیزیں ہی ایک دوسرے کو attract کرتیں ہیں. انھیں جتنی جلدی ہو سکیں تلاش کریں ورنہ پچھتائیں گے. اشمل کہتی ہوئی مڑی.
سنو عمران کی آواز پر اشمل پلٹی. تم فقیر ساتھ شادی کر کے خوش ہو ..؟؟ عمران کے سوال پر اشمل ہنس دی. سر میں پیدائشی طور پر خوش باش ہوں. ہاں البتہ اگر یہ سوال آپ فقیر سے کریں گے تو آپ کی توقع کے عین مطابق جواب ملے گا. اشمل قہقہ لگاتی آفس سے باہر چلی گئی جبکہ عمران اس کے جواب کو سوچتا مسکرانے لگا صائمہ ……. ؟؟ زیر لب دہرایا کتنی عجیب بات ہے یہ لڑکی کہتی ہے کہ مجھے صائمہ سے محبت ہے اور مجھے ہی پتہ نہیں. کیا بکواس ہے …..؟ ؟ عمران نے ٹیبل پر ہیپر ویٹ زور سے گھمایا. ♣️♣️♣️♣️♣️ سارے دن کی تھکن سے چور عمران آفس میں بیٹھا گہری سوچ میں ڈوبا تھا. فون کی گھنٹی نے اسے سوچوں کے بھنور سے نکالا آپا آپ ابھی تک سوئیں نہیں ….. ؟؟ عمران نے کال اٹینڈ کرتے محبت سے پوچھا. عذرا آپا اس دنیا کی وہ واحد شخصیت تھیں جس سے عمران دل کج گہرائیوں سے احترام اور محبت کرتا تھا. تم نے صبح کہا تھا کہ عدیل سے بات کراؤ گے. مگر ابھی تک ان کی کال نہیں آئی. عذرا آپا نے گلہ کیا. میری پیاری اور بھولی آپا عدیل بھائی دوستوں ساتھ سوات گئے ہیں. میری ان سے بات ہوئی تھی وہ بلکل ٹھیک ہیں. وہاں پر سگنلز ایشو ہے. آپ انھیں جانتی تو ہیں کہ وہ کتنے لاپرواہ ہیں. دوستوں ساتھ ہوں تو انھیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں رہتا. اسی لیے آپ کو کال کرنا بھول گئے ہوں گے.
عمران نے بہانہ بنایا وہ عذرا کو اداس نہیں کرنا چاہتا تھا. کیونکہ آج کل ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی.
وہ لاپرواہ تو شروع سے ہی ہیں مگر اس بار تو انہوں نے حد ہی کر دی ہے. مجھے ایک کال بھی نہیں کی. حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ میں پریشان ہو جاتی ہوں. نہ کچھ کھانے کو دل کر رہا ہے نہ ہی دوا لینے کو _ عذرا آپا نے کہا تو عمران نے فوراً وال کلاک کی طرف دیکھا آپا حد ہے آپ نے ابھی تک دوا کیوں نہیں لی. جبکہ آپ کو پتہ ہے دوا سے ناغہ نہیں کرنا. ڈاکٹرز ناراض ہوتے ہیں. عمران کو فکر ہوئی. دل نہیں کر رہا. عمران میں سچ کہہ رہی ہوں میرا دل اداس ہے. تم سچ تو بول رہے ہو ناااا، اگر کوئی اور بات ہے تو بتا دو. عذرا آپا کے پوچھنے پر عمران نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اپنا کوٹ اٹھایا آپا میں نے آپ سے کبھی پہلے جھوٹ بولا ہے جو اب بولو گا. عمران نے مصنوعی خفگی کا اظہار کیا. اوہو اب تم نہ ناراض ہو جانا میں آگے ہی ڈپریس ہوں. عذرا آپا کے جواب پر وہ ہنس دیا. میں آ رہا ہوں پھر مل کر کھانا کھاتے ہیں. عمران کی بات پر وہ مسکرا دیں. جبکہ عمران آفس سے نکل کر لفٹ کی طرف چل دیا. سنو __
عذرا آپا نے قدرے رازداری میں مخاطب کیا
جی آپا حکم کریں. کیا چاہیے، کیا لیتا آؤں ……؟ ؟ عمران نے لفٹ میں داخل ہوتے ہوئے فسٹ فلور کا بٹن دبایا.
وہ جو لڑکی صبح تمہارے کمرے میں تھی. اس کا کیا کرنا ہے. میرا مطلب ہے وہ تمہارے کمرے میں ہی رہے گی …..؟ ؟ عذرا کے سوال پر عمران جو سارا دن بہت پریشان رہا تھا ہلکا پھلکا ہو گیا.
آپا آپ کیا چاہتی ہیں ….؟؟ عمران نے فسٹ فلور پر اترتے ہوئے ڈرائیور کو گاڑی ریورس کرنے کا اشارہ کیا جو بلکل تیار کھڑا تھا.
کچھ نہیں بس ویسے ہی پوچھا تھا. عذرا کو اب اپنے سوال پر شرمندگی ہوئی.
آپا وہ میری بیوی ہے اور میرے خیال سے بیوی اپنے شوہر پاس ہی رہتی ہے. اس میں حیرانگی والی کونسی بات ہے ……. ؟؟ عمران نے ڈرائیور کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا.
مجھے تمہاری شادی ہضم نہیں ہو رہی. یہ کیسی شادی ہے … ؟؟ اور وہ لڑکی وہ تو مجھے بلکل بھی پسند نہیں آئی. عذرا کی بات پر عمران گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ٹیک لگا گیا.
اچھا کیا کروں. طلاق دے دو …؟ ؟ عمران نے پوچھا
میں نے یہ تو نہیں کہا بس ایسی لڑکیاں اچھی نہیں ہوتیں. جو اپنے والدین کی وفادار نہیں وہ تمہاری کیا ہو گی ….؟؟ عذرا کی بات پر عمران نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا.
آپا وہ بہت اچھی لڑکی ہے. وفادار، قابل اعتماد، بدگمانی نہ رکھیں. وہ آپ کی بہت خدمت کرے گی. عمران نے کہا تو عذرا خاموش ہو گئیں مگر انھیں یوں عمران کا سائیڈ لینا برا لگا
اچھا باقی باتیں گھر آ کر کرتا ہوں. عمران نے کال کاٹتے ہوئے فون ڈیش بورڈ پر رکھا
اسے خود پر بھی حیرت تھی کہ وہ صائمہ کی حمایت میں کیوں بول رہا تھا …..؟؟
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے