No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
آج اشمل صبح سے پریشان تھی جس کا ثبوت اُس کا کمرا بخوبی پیش کر رہا تھا.
یارررر اشمل تیرے پاس تو ڈھنگ کے کپڑے ہی نہیں ہیں. تُو آج آفس کیا پہن کر جائے گی ……. ؟؟
پہلا تاثر ہی آخری ہوتا ہے اور تیرا تو انٹرویو میں ہی سارا پول کھل گیا تھا باقی رہتا سہتا آج کھل جائے گا. وہ تو مسٹر فقیر کی دعا تھی ورنہ _ اشمل نے اپنی الماری کا جائزہ لیتے ہوئے خودکلامی کی. آئے ہائے لڑکی تیری ابھی تک اچھل کود ختم نہیں ہوئی. صبح سے اس الماری میں گھسی ہوئی ہے.تجھے گھر میں ہی نو بج گئے ہیں آخر آفس کب جانا ہے ……… ؟؟ دادو نے کمرے میں جھانکتے ہوئے پوچھا یہ آج آپ کو میری اتنی فکر کیوں ستا رہی ہے. پچھلے آدھے گھنٹے میں آپ پورے چار چکر چار چکر لگا چکیں ہیں. کہیں آپ نے اس عمر میں کوئی بابا شابا تو نہیں پھنسا لیا ……. ؟؟؟ اشمل نے آنکھ مارتے ہوئے پوچھا اشمل تیرے اندر دن بدن شرم لحاظ ختم ہوتا جا رہا ہے. میں تیری بڑی ہوں مجھے بےوقوف سمجھ رکھا ہے جو ران چلتے بابے کی باتوں میں آ جاؤں گی . مانا کم عمر ہوں مگر کم عقل نہیں _ دادو نے شرماتے ہوئے جواب دیا تو اشمل نے زندگی سے بھرپور قہقہ لگایا
دادو آپ نے کب تک کم عمر رہنا ہے. بس یہ بتا دیں یا پھر آپ کی ڈکشنری میں کم عمری کی کیا تعریف ہے. تاکہ مجھے اپنی عمر کا تعین کرنے میں آسانی ہو ……… ؟؟ اشمل نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے شرارت سے پوچھا
مجھے ان فضول باتوں میں الجھانے کی ضرورت نہیں ہے. تُو آفس کے لیے جلدی نکل تاکہ میں بھی اپنے آج کا پروگرام ترتیب دوں کہ آج میں نے کہاں کہاں جانا ہے. دادو نے بیزاری سے صوفے کے کنارے بیٹھتے ہوئے جواب دیا.
دادو کیا پہنوں کچھ مدد کر دیں ……… ؟؟ اشمل نے تھکے سے انداز میں پوچھتے ہوئے دوبارہ الماری کا رخ کیا.
جو بھی ملتا ہے پہن لے، ویسے بھی تُو کونسی مقابلہ حسن میں جا رہی ہے. دادو نے جان چھڑانے والے انداز میں بات ختم کی.
دادو آپ کی معلومات میں اضافہ کے لیے عرض ہے کہ مقابلہ حسن میں شرکت کے لیے کپڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی اشمل نے خودکلامی کے انداز میں باآواز بلند کہا اور دوبارہ اپنے کپڑے دیکھنے لگی جبکہ دادو اس کی پشت کو حیرت سے گھور رہیں تھیں. اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں باہر دروازے پر دروازہ توڑ دستک ہوئی.
یہ یقیناً دودھ والا ہو گا. کسی دن اس کی دستک کی نظر ہمارا اکلوتا دروازہ نما گیٹ شہید ہو جائے گا. اشمل نے الماری سے اپنا گرین پرنٹڈ سوٹ نکالتے ہوئے دادو سے کہا تو انھیں خود کو گھورتا دیکھ کر حیران رہ گئی.
اس طرح کیوں گھور رہیں ہیں. میں مقابلہ حسن میں نہیں جا رہی آفس جا رہی ہوں. بے فکر رہیں. اشمل کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی جبکہ دادو ابھی تک کسی سوچ میں ڈوبی ہوئیں تھیں. دروازے پر ہوتی دستک بھی انھیں ہوش میں لانے سے قاصر تھی.
دادو اب دروازہ کھول بھی دیں. اب میں جوان جہاں خوبصورت لڑکی دروازہ کھولتی اچھی لگوں گی مانا کہ آپ کم عمر ہیں مگر پھر بھی اشمل نے کپڑے استری کرتے ہوئے برآمدے سے ہانک لگائی.
کیسے کھولوں ………. ؟؟ وہ کمبخت پیسے مانگے گا جو میرے پاس نہیں ہیں. دادو نے باہر آتے آہستہ آواز میں بتایا.
پھر بھی دروازہ کھول کر کوئی بہانہ بنا دو یوں تو برا لگ رہا ہے. اشمل کے کہنے پر دادو کچھ سوچتی ہوئی دروازے کی طرف گئی اور ایک لمبا سانس خارج کیا پھر منہ میں کچھ پڑھتے ہوئے دروازہ کھولا اور سامنے موجود صابر پر پھونک مار دی.
اماں جی کیا کر رہیں ہیں …… ؟؟ مجھ پر تعویز دھاگے کا اثر نہیں ہوتا. پیسے لینے آیا ہوں اور آج ہر صورت لے کر ہی جاؤں گا. بس بہت ہوا. صابر نے ایک طرف موٹر سائیکل کھڑے کرتے ہوئے کہا
تم تو میرے بیٹے ہو میں کیوں تم پر تعویذ کروں گی …… ؟؟ وہ تو میں نفل پڑھ رہی تھی. اس لیے دروازہ کھولنے میں دیر ہو گئی. دادو نے اس کی باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا
نفل _ وہ بھی اس وقت مگر کیوں ……. ؟؟ صابر نے سر پر چمکتے سورج کی طرف دیکھ کر پوچھا
وہ اصل میں اپنی اشمل کو بہت اچھی نوکری مل گئی ہے تو شکرانہ کے نفل پڑھ رہی تھی. بس اب تُو فکر نہ کر، سب سے پہلے تیرے ہی ہیسے ادا کروں گی. دادو نے مسکین سی شکل بناتے ہوئے معزرت کی.
اماں بس کرو، کب سے یہ رٹ سن رہا ہوں. آپ کی طرف اتنا قرضہ ہو گیا ہے. گھر والے مجھ سے لڑتے ہیں کہ اتنے پیسے میں میری شادی ہو سکتی ہے صابر نے منہ بناتے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی.
کیا تیری شادی ابھی تک نہیں ہوئی …….. ؟؟ دادو کے ذہن میں اچانک خیال آیا
نہیں ابھی کہاں ………. ؟؟ صابر کا منہ پہلے سے بھی زیادہ بگڑ گیا تھا
تو میری پوتی سے شادی کیوں نہیں کر لیتا. مجھے بالکل تیرے جیسا داماد چاہیے. فرمابردار، کمانے والا اور شریف دادو کی بات پر صابر نے حیرت سے دادو اور پھر پیچھے نظر آتی اشمل کو دیکھا
یہ کیسا چونا لگا رہیں ہیں …….. ؟؟ صابر نے قریب ہوتے ہوئے سرگوشی نما آواز نے کہا
میں تجھے چونا نہیں لگا رہی بلکہ سچ کہہ رہی ہوں مگر تجھے اشمل کے ساتھ ساتھ مجھے بھی برداشت کرنا ہوگا. دادو کے اگلے جملے پر صابر جو اشنل کو غور سے دیکھ رہا تھا چونکا
مطلب ……… ؟؟ صابر کے پوچھنے پر دادو نے رازداری سے جواب دیا.
دیکھ میرا اشمل کے سوا کوئی اور نہیں ہے. یا تو میرا گھر داماد بن جا یا پھر جہیز میں مجھے بھی اپنے گھر ساتھ لے جا کیونکہ میں اکیلی نہیں رہ سکتی دادو کی بات پر صابر سوچ میں پڑ گیا.
زیادہ مت سوچ اور مجھے جواب دے. دادو نے صابر کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر کہا
مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے مگر میں اماں سے پوچھ کر بتاؤں گا کیونکہ ماں کی مرضی کے بغیر میں تو شادی نہیں کر سکتا. اب میں چلتا ہوں. صابر کہتا ہوا دوبارہ موٹر سائیکل سٹارٹ کرنے لگا
اچھا اب تو ہم رشتے دار بننے والے ہیں یہ گھر بھی تیرا ہے اور اس گھر کی ساری ذمہ داری بھی تیری ہیں. تو کیا تو اپنی ہونے والی ساس اور بیوی کو دودھ پیسوں کا دے گا …….. ؟؟ دادو نے صابر کو جاتا دیکھ کر فورا اسے روکا
اماں جی اب آپ غیروں والی بات کر رہی ہیں. آپ بے فکر ہو جائیں. میں آپ کو باقاعدگی سے دودھ دیتا رہوں گا اور پیسوں کی تو بالکل بھی بات نہ کریں بلکہ اور بھی آپ کو جو چیزیں چاہیے ہوں مجھے بے دھڑک کہہ دیا کریں. آخر میں آپ کا بیٹا ہوں. صابر نے خوشی خوشی کہتے ہوئے دودھ ناپ کر شاپر میں ڈالا اور دادو کو دے کرچلا گیا.
دیکھا تو نے اپنے دادو کا کمال پیسے بھی نہیں دیے اور دودھ بھی لے لیا. دادو گھر کے اندر داخل ہوتیں دروازہ بند کرنے لگیں.
آپ کون سا چونا اس صابر کو لگایا ہے جو وہ آپ کو دودھ بھی دے گیا ہے……… ؟؟ اشمل نے استری بند کرتے ہوئے پوچھا
میں نے کہا ہے کہ میں اسے اپنا داماد بناؤں گی اور وہ اپنی رضامندی دے کر چلا گیا ہے. دادو کہتے ہوئے ہنسی جا رہیں تھیں جب کہ اشمل نے نفی میں سر ہلایا
دادو ہمارے مذہب میں لڑکوں کو چار شادیوں کی اجازت ہے لڑکیوں کو نہیں اور آپ تو میرا پتہ نہیں کس کس سے رشتہ طے کر چکی ہیں ……… ؟؟ اگر یہ سب ایک ساتھ بارات لے آئے تو میں گھر سے بھاگ جاؤں گی. پہلے بتا رہیں ہوں. اشمل کہتی ہوئی کمرے میں چلی گی جبکہ دادو نے کچن کا رخ کیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
گھڑی کافی دیر سے الارم بجا رہی تھی مگر اسفند اسے بند کرنے کی بجائے صرف گھورکر دیکھ رہا تھا. میرے حساب میں اچھی اور اعلی کمپنی کی کوئی بھی چیز نہیں لینی چاہئے کیونکہ وہ نا تو خراب ہوتی ہے اور نہ ہی غلطی کرتی ہے. اسفند نے کشن اٹھا کر گھڑی پر مارا تو وہ کارپٹ پر گر گئی مگر بج ابھی بھی رہی تھی.
تیری تو اسفند پورے غصے سے اٹھا تبھی اس کی نظر وال کلاک پر پڑی تو جیسے ذہن میں کچھ کلک ہوا.
میں اتنی دیر تک کیسے سوتا رہا ہوں ………؟؟ میں نے تو آج وہ ایک ہاتھ سے کمبل دور پھینکتا ہوا اٹھا اور گھڑی کو بند کر کے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا. تبھی اس کے موبائل پر کال آنے لگی.
جناب آپ ابھی تک ڈیوٹی پر نہیں آئے. سورج دیکھو آدھا دن گزرنے کو تیار ہے. ویسے خیریت ہے آپ اور لیٹ ……….. ؟؟ ارحم کی چہتکی آواز ابھری
میرے گھر میں میرے ساتھ کوئی اور نہیں رہتا اگر تم مجھے وقت پر اٹھا دیتے تو وہ تمہاری اس بکواس سے بہتر ہوتا اسفند یہ کہتے ہوئے کال کاٹ دی اور فریش ہونے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا.
عجیب انسان ہے اگر اٹھا دوں تو کہتا ہے کہ کیوں اٹھایا، کیا تکلیف تھی ……… ؟؟ اور اگر پوچھ لو کہ جناب کو دیر کیوں ہوگئی ہے تو کہتا ہے مجھے اٹھا دیتے. ارحم نے بڑبڑاتے ہوئے فون جیب میں ڈالا اور اردگرد کا جائزہ لینے لگا جہاں آج کل دونوں کی ڈیوٹی تھی.
اسفند جلدی میں اپنا فلیٹ لاک کر رہا تھا جب سامنے والی آنٹی نے اسے آواز دے کر بلایا. ایک تو آگے ہی لیٹ ہو رہا ہوں اوپر سے اب یہ پتا نہیں کون سی رام کہانی سنائیں گئیں. اسفند دل میں سوچتا ہوا ان کی دروازے پاس آ رکا
بیٹا تمہیں تو میرے سارے حالات معلوم ہی ہیں اگر یہ بجلی کا بل جمع کرا دو تو بڑی مہربانی ہوگی. آنٹی کی کہنے پر اسفند نے سر ہلایا اور ان کے ہاتھوں سے بل پکڑ کر جیب میں ڈال لیا اور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا
رحمت بابا جلدی سے ناشتہ لائیں آج میں بہت لیٹ ہو گیا ہوں. اسفند نے فلیٹ کے نیچے موجود کھوکھے کی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اونچی آواز میں کہا تو رحمت بابا نے چھوٹے کو اشارہ کیا.
اتنی دیر میں ناشتہ اس کے میز پر پہنچا اتنی دیر میں اسفند نے آن لائن آنٹی کا بل جمع کرا کر بل چھوٹے کے ہاتھ میں دے دیا یہ اوپر آنٹی کو دینے کا کہا
اسفند بابو کوئی نئی تازی ……….. ؟؟چھوٹے نے بل پکڑتے ہوئے اسفند سے پوچھا
چھوٹے کوئی نئی تازی نہیں ہے جس دن ہوئی خود ہی نظر آئے گی بتانا نہیں پڑے گا. اسفند نے جواب دیتے ہوئے جلدی جلدی ناشتہ شروع کیا اس کی عجلت اس کی دیر کا پتہ دے رہی تھی.
بیٹا ناشتہ آرام سے کھاؤ، کہیں نوالہ گلے میں پھنس نہ جائے. رحمت بابا نے مسکراتے ہوئے اسفند کو ٹوکا جس پر اس نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا.
بابا نوالے کی خیر ہے بس دعا کریں کہ کہیں میں نہ پھنس جاؤں. اسفند کہتا ہوں اٹھ کھڑا ہوا. ابھی وہ پیسے دے ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل پر دوبارہ ارحم کی کال آنے لگی.
ایک تو اس بندے کو آرام نہیں ہے. کام سارا میں کرتا ہوں اور شور یہ مچاتا ہے. اسفند سوچتا ہوا پارکنگ کی طرف بڑھ گیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
دس بجے کے قریب اشمل اسٹاپ پر اتری. تو سب سے پہلے اس نے موبائل پر ٹائم دیکھا. پھر سڑک کراس کرتی پلازے کے مین گیٹ پر آ رکی.
اشمل آفس میں جانے سے پہلے جلدی سے اس مسٹر فقیر کو تلاش کرکے اپنے لیے دعا کروا لے یہ نہ ہو کہ آج پہلے دن ہی وہ تجھے دیر سے آنے پر فارغ کر دیں. اشمل خود کلامی کرتی سٹاپ پر فقیر کو تلاش کرنے لگیں.
صبح کا وقت تھا اس لئے سٹاپ پر کافی چہل پہل اور لوگوں کا رش تھا. اللہ جانے لوگ اتنے سارے بچے کیسے پیدا کرتے ہیں ……… ؟؟
پھر انہیں کمانے کے لئے گھروں سے باہر نکال دیتے ہیں.بھئی تمہارے بچے ہیں. تم نے پیدا کیے ہیں. گھروں میں رکھو اور ان کی خوراک کا خود بندوبست کرو مگر نہیں یہاں تو لوگوں کی سوچ ہی بہت چھوٹی ہے کہتے ہیں ہم نے بچے پیدا کیا ہی اسی لیے ہیں کہ وہ ہمیں کما کر دیں اور ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنیں.اشمل رش کو کراس کرتی خود کلامی کر رہی تھی کہ اس کی نظر دور سڑک کنارے فقیر پر پڑی.
تم نے اپنی جگہ کیوں تبدیل کی ہے وہ جگہ کاروبار کے لئے زیادہ مناسب تھی. یہاں کون بیوقوف تمہیں آ کر بھیک دے گا ………. ؟؟
کاروبار کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں. جہاں پہلے دن بیٹھوں وہیں بار بار بیٹھوں تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ وہ تمہاری جگہ ہے. اشمل نے فقیر کے سر پر کھڑے ہوتے ہوئے شدید غصے سے کہا جس پر فقیر نے ایک ناگوار نظر اس پر ڈالی اور بالوں میں خارش کرنے لگا.
ہفتے میں ایک بار نہا بھی لیا کرو. یہ کہیں نہیں لکھا کہ فقیر گندا ہی اچھا لگتا ہے. سڑک کرانے بیٹھے ہو آخر سر میں بہت زیادہ دھول مٹی جاتی ہوگی. اشمل نے اب دوستانہ رویہ اپنایا اور فقیر سے ہمدردی کا اظہار کیا جس پر فقیر نے ایک بار پھر اسے عجیب نظروں سے دیکھا.
اچھا چھوڑو باقی باتیں بعد میں کریں گے. ابھی مجھے ذرا جلدی ہے. میں آفس سے لیٹ ہو رہی ہوں. دیکھو آج میرے لیے دعا کرنا.میں لیٹ ہوگی ہوں. مجھے یہ نوکری بڑی مشکل سے ملی ہے. مگر کیا کروں میں وقت پر نہیں پہنچ سکی. پلیززززز اشمل کہتی ہوئی واپس مڑ گئی جبکہ فقیر ویسے ہی سڑک کنارے بیٹھا زمین پر کچھ لکھنے لگا.
♣️♣️♣️♣️♣️
آج جس لڑکی نے آنا تھا کیا وہ آ گئی ہے …….. ؟؟ عمران نے اپنے ازلی روکھے لہجے میں مس صائمہ سے پوچھا
نہیں سر وہ ابھی تک نہیں آئی اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ آئے گی بھی، کچھ عجیب سی تھیں مس صائمہ کے تبصرے پر عمران نے بغیر اس کی طرف دیکھے اپنے لیپ ٹاپ کو اوپن کیا.
جب وہ آئیں تو انھیں میرے آفس میں بھیج دیجئے گا. عمران نے اپنی میل چک کرتے ہوئے کہا جس پرمس صائمہ نے مصنوعی مسکراہٹ ساتھ اپنا سر ہاں میں ہلایا.
اور کوئی نئی بات ہے تو بتائیں………. ؟؟ مس صائمہ کے کھڑے رہنے پر عمران نے دوبارہ پوچھا
سر وہ آج کل FBR والے بہت چکر لگا رہیں ہیں. آج ان کے ایک آفسر نے آپ سے ملنے کا وقت بھی لے رکھا ہے. اسے پھر ٹالنا ہے یا آپ سے مس صائمہ نے عمران کے چہرے پر سخت تاثرات دیکھتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی.
مس صائمہ آپ کب سے میرے ساتھ کام کر رہیں ہیں ……. ؟؟ عمران کے اس سوال پر صائمہ نے چونک کر عمران کی طرف دیکھا
سر تقریباً دو سال ہو گئے ہیں. صائمہ نے رک رک کر جواب دیا.
مجھے کسی سے ڈرتے یا بھاگتے دیکھا ہے ……..؟؟ عمران اب مزے سے ریواونگ چئیر پر جھولے لے رہا تھا.
نہیں سر صائمہ نے شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا
آپ کو یاد ہو گا. بات اتنی پرانی نہیں ہے. جب میں نے تھانے میں کھڑے ہو کر حوالدار کو گولی ماری تھی مگر کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ مجھے گرفتار کرتا. عمران کے لہجے میں تکبر جھلک رہا تھا.
عمران نہ تو کسی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی بھاگتا ہے. اب جب بھی وہ آفسر آئے اسے اندر بھیج دیجیے گا. اب آپ جا سکتی ہیں. عمران نے ہنستے ہوئے ایکدم سنجیدہ لہجے میں کہا اور دوبارہ لیپ ٹاپ پر جھک گیا.
صائمہ خاموشی سے باہر آ گئی اور اسے ساتھ ہی وہ دن بھی یاد آ گیا جس دن وہ سب ہوا تھا. ابھی وہ اپنے آپ کو نارمل کر ہی رہی تھی کہ کسی نسوانی آواز پر چونکی.
ہائے اشمل نے مسکراتے چہرے ساتھ نس صائمہ کی طرف دیکھا تو صائمہ کے دل کو کچھ ہوا.
آج سے دو سال پہلے وہ بھی اسی طرح عمران صاحب کی پی اے بن کر آئی تھی اور پھر صائمہ نے دھندلی آنکھوں ساتھ اشمل کی طرف مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا.
وہ میں کچھ لیٹ ہو گی ہوں. چلے گا یا واپس جاؤ …….. ؟؟ اشمل نے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا
واپس چلی جاؤ، فائدے میں رہو گی صائمہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا
کیا مطلب ……. ؟؟ اشمل کے پوچھنے پر صائمہ ہوش کی دنیا میں لوٹی.
سوری مجھے خود سے بات کرنے کی بیماری ہے. میرا مطلب تھا کہ خیر چھوڑو سر آپ کا انتظار کر رہے ہیں. آپ اندر جا سکتی ہیں. صائمہ نے اپنی بات ادھوری چھوڑی.
ارے واہ کمال ہو گیا. مجھے بھی یہی بیماری ہے. آپ والی یعنی ہم دونوں کی خوب دوستی رہے گی. اشمل مسکراتی اندر کی طرف بڑھ گئی جبکہ صائمہ نے اسے حسرت سے دیکھا
سر میں اندر آ گی ہوں. اب آپ نے جو کہنا ہے کہیں اشمل عمران کے سامنے کھڑی اعتماد سے گویا ہوئی.
مس پہلی بات تو یہ کہ آئندہ آپ بغیر اجازت کے اندر نہیں آئیں گی دوسرا کسی کے آفس میں داخل ہونے اور بات کرنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں. ہوتے ہیں ………. ؟؟ عمران نے قدرے سنجیدگی اور غصے کے ملے جلے تاثرات ساتھ کہا
ہوتے ہوں گے مگر مجھے نہیں معلوم لہٰذا آپ خود ہی بتا دیں مگر آسان اردو میں کیونکہ میری انگلش اچھی نہیں ہے. اشمل کہتی ہوئی سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی.
مس آپ کو ہم صرف تین ماہ دیکھیں گے اگر آپ نے ہمارے rule regulations جو فالو نہ کیا تو ……… ؟؟ عمران نے اشمل کے چہرے پر کچھ ڈر دیکھنا چاہا مگر وہ ناکام رہا.
تین ماہ تو بہت زیادہ ہیں. آپ آج ہی دیکھ لیں جودیکھنا ہے اور مجھے بتا دیں میرا وقت ضائع مت کریں. اشمل نے لاپرواہی سے جواب دیا مگر اس کی سادگی عمران کو ہنسنے پر مجبور کر گئی.
عمران نے انٹر کام پر مس صائمہ کو اندر آنے کا کہا اور خود دوبارہ لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا.
مس صائمہ نے اندر آنے سے پہلے اجازت لی پھر خاموشی سے عمران صاحب کے سامنے کھڑی ہو گئی.
مس انھیں ساتھ لے جائیں اور سارا کام سمجھا دیں. عمران صاحب کی بات پر مس صائمہ نے سر ہلایا اور اشمل کو اپنے ساتھ چلنے کا کہا
آپ نے خوامخواہ انھیں زحمت دی. یہ بات مجھے کہہ دیتے میں خود ہی باہر چلی جاتی. اشمل کہتی ہوئی صائمہ ساتھ چلنے لگی.
مس آپ ……. ؟؟ عمران نے اشمل کی طرف انگلی کرتے ہوئے کہا
اب یہ مت کہنا کہ آپ میرا نام بھول گئے ہیں. یہ سٹائل کافی پرانا ہے. اب اچھا نہیں لگتا. اشمل نے عمران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو مس صائمہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا.
آپ باہر چلو میں ابھی آتی ہوں. مس صائمہ کے کہنے پر اشمل دروازے کی طرف چل دی جبکہ عمران کے تاثرات کافی حد تک بگڑ چکے تھے.
اشمل جیسے ہی باہر نکلی سامنے سے آتے وجود ساتھ بری طرح ٹکرائی.
کیا مصیبت ہے. یہاں سب اندھے ہیں. کسی کو کچھ نظر ہی نہیں آتا. کیا میرے چہرے پر لکھا ہے کہ مجھے ٹکر مارو ……… ؟؟ اشمل نے اپنا ماتھا ملتے ہوئے پوچھا
سوری مس وہ میں _ ارحم جو عمران سے ملنے آیا تھا خود بھی اس اچانک ٹکراؤ پر شرمندہ ہوا.
♣️♣️♣️♣️♣️
