80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

اچھا تو یوں ہوئی تمہاری شادی، ویسے ہو خوش قسمت _ صائمہ کی بات پر اشمل نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا جبکہ لبوں پر دلفریب مسکراہٹ تھی. میں سچ کہہ رہی ہوں تم واقعی ہی بہت خوش قسمت ہو. اگر تم مٹی میں ہاتھ ڈالو گی تو وہ بھی سونا بن جائے گی اور ایک میں ہوں صائمہ اپنی بات کے آخر میں اداسی سے مسکرائی اور پلیٹ میں موجود چاولوں کو اِدھر اُدھر کرنے لگی.
بریانی میں مانا چکن کی تعداد کم ہے مگر اتنی بھی نہیں کہ اسے تلاش کرنا پڑے. اشمل نے خود بریانی سے بھرپور انصاف کرتے کہا
نہیں یار ایسی بات نہیں ہے میں ویسے بھی چکن زیادہ شوق سے نہیں کھاتی. صائمہ نے گلاس میں پانی ڈالتے جواب دیا.
ٹھہرو میں نے کوک چھپا کر رکھی ہے ورنہ دادو پی جاتی ہیں. لوگ اپنے بچوں سے چیزیں چھپاتے ہیں اور میں دادو سے انھیں ڈاکٹرز نے منع کر رکھا ہے مگر وہ باز نہیں آتیں. اشمل کہتی ہوئی اٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی. کاش میں بھی اس لڑکی کی طرح خوش قسمت ہوتی. اس نے ایک فقیر سے شادی کی اور وہ پڑھا لکھا آفسر نکل آیا اور میں
گاؤں سے کیسے کیسے خواب لے کر شہر آئی تھی مگر میری تو آنکھیں ہی زخمی ہو گئی ہیں.
دس بارہ دن ہو چکے ہیں گھر بات کیے ہوئے مگر حرام ہے کسی کو میری فکر ہو. وہ بچے بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جن کے والدین اُن سے محبت کرتے ہیں. اُن کی غلطیوں کو درگزر کر دیتے ہیں. کیسے بھی حالات ہوں اپنے بچوں ساتھ کھڑے رہتے ہیں. صائمہ نے سوچتے ہوئے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا.
ارے لڑکی تم میں صبر نہیں ہے. لا رہی تھی نااااا _ اشمل نے کوک کی بوتل صائمہ پاس رکھتے ہوئے خود دستر خوان پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی. تم نے مجھے اپنے ہسبنڈ کی تصویر نہیں دکھائی. میں بھی دیکھو کیسا ہے جسے تم نے پسند کیا ہے. صائمہ نے اپنے اندر کی اداسی دباتے ہوئے بظاہر مسکرا کر پوچھا میرے پاس اُس کی کوئی تصویر نہیں ہے تو دکھاؤں کیا ……. ؟؟ اشمل نے بوٹی توڑتے جواب دیا. ویسے کوئی مانے یا نہ مانے مگر میرے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے. کیا کمال کی بریانی بنائی ہے. یہ بات الگ ہے کہ تم کھا نہیں رہی ہو. اِس کی وجہ کم از کم میری بریانی نہیں ہے. رائٹ …… ؟؟ اشمل نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے کوک پکڑی. وہ میرے ڈاکومنٹس سر پاس رہ گئے ہیں تو _ صائمہ نے امید بھری نظروں سے اشمل کی طرف دیکھا جو اپنے اور اس کے لیے کوک ڈال رہی تھی.
کیا تم مجھے میرے ڈاکومنٹس اور سامان لادو گی …… ؟؟ صائمہ نے اشمل کی طرف دیکھتے پوچھا
نہیں اشمل نے کوک صائمہ کے آگے رکھتے یک لفظی انکار کیا جس پر صائمہ نے اداسی سے سر جھکا لیا.
بندے کو کچھ کام خود بھی کرنے چاہیے. جہاں تک میں سر عمران کو جانتی ہوں وہ “آدم خور” نہیں ہیں. خود کال کرو ابھی سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ وہ فون سے باہر نکل آئیں گے اور جیسا تعلیمی نظام چل رہا ہے دور بلکہ بہت دور تک ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا. اشمل کے مشورے پر صائمہ نے خاموشی سے کوک کا گھونٹ بھرا.
اور ہاں یاد آیا تمہارے لیا میرے پاس ایک سرپرائز بھی ہے. اشمل کہتی تیزی سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی.
مجھے کبھی کوئی سرپرائز راس نہیں آیا. صائمہ نے دل میں سوچتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے اشمل ہاتھ میں فائل پکڑے اندر داخل ہو رہی تھی.
یہ کیا ہے ……. ؟؟ اشمل نے فائل صائمہ کے آگے پھینکی تو اُس نے حیرت سے پوچھا
کھولو گی تو پتہ چلے گا ناااااا
فائل بیچاری بول نہیں سکتی. اشمل ہنسی جس پر صائمہ نے فائل کھول کر صرف پہلا ورق دیکھا اور بند کرتے ہوئے سائیڈ پر رکھ دی.
مجھے سب پتہ ہے جو اس میں لکھا ہے اور یہ بھی کہ یہ فائل کس کی مدد سے بنائی گئی ہے. صائمہ نے بیزاری سے کہتے ہوئے پاس پڑے صوفے ساتھ ٹیک لگائی.
مطلب ……. ؟؟ اشمل پہلی بار حیران ہوئی.
مطلب یہ کہ ایسی فائلیں میں نے بہت بنائی ہیں. یہ فائل جن ثبوتوں کے زور پر بنائی گئی ہے وہ ثبوت صرف ایک شخص مہیا کر سکتا ہے اور وہ سر کا رائٹ ہینڈ “شوکت” ہے. کسی نے خرید لیا ہوگا. اگر سر کو پتہ چلا تو اُس کا وہ حشر کریں گے کہ خدا کی پناہ وہ اپنے ساتھ غداری کرنے والوں کو معاف نہیں کرتے. صائمہ کی وضاحت پر اشمل ایک دم سنجیدہ ہو گئی.
ایک بات پوچھوں اگر سچ بتاؤ تو …… ؟؟ پکا وعدہ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی. اشمل نے صائمہ کے قریب ہوتے کہا
پوچھو
صائمہ نے گھونٹ بھرتے جواب دیا.
باقی سب تو ٹھیک ہے. مگر مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ سر عمران اکاؤنٹ آفسر اسد کا “قتل” کر سکتے ہیں. جیسا کہ اس فائل میں لکھا ہے. سر اتنے بےوقوف نہیں ہو سکتے. اشمل کی بات پر صائمہ زخمی سا مسکرائی.
سر باقی تمام کیسس میں تو آسانی سے چھوٹ جائیں گے مجھے اُن کی قابلیت پر یقین ہے مگر یہ جو قتل کیس ہے نااااا _ اسفند بہت چپکو آفسر ہے وہ تو پیچھے نہیں ہٹے گا. عرف عام میں آپ ڈھیٹ سمجھیں. ا شمل کی سرگوشی پر صائمہ مسکرائی. تم نے شاید مجھ سے کچھ پوچھنا تھا. صائمہ کے یاد دلانے پر اشمل نے اپنے سر پر ہاتھ مارا. کیا کروں مجھے کوئی بادام نہیں دیتا خیر پوچھنا یہ تھا کہ سر نے واقعی ہی قتل کیا ہے یا انھیں پھنسایا جا رہا ہے. اشمل نے اشتیاق سے پوچھا تمہارا اندازہ بلکل درست ہے. سر عمران خود قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیتے. سر “قتل” کر ہی نہیں سکتے. بلکہ سچ پوچھو تو میں نے کبھی سر کے ہاتھ میں گن نہیں دیکھی. کار میں رکھتے ہیں مگر کس لیے مجھے آج تک پتہ نہیں چلا. صائمہ نے سنجیدگی سے جواب دیا. تو پھر ” قتل” کس نے کیا تھا عدیل نے …….. ؟؟ اشمل کے سوال پر صائمہ کا رنگ ایک دم بدل گیا. کیا بتاؤں، مجھے تو نہ کچھ یاد ہے اور نہ میں یاد کرنا چاہتی ہوں. صائمہ نے کرب سے آنکھیں بند کرتے کہا اچھا چھوڑو دفع کرو ہم کچھ اور بات کرتے ہیں. صائمہ کو اداس دیکھ کر اشمل کو دکھ ہوا. مجھے اپنا فون دو. سر کو کال کرنی ہے. صائمہ کے مانگنے پر اشمل نے سرد آہ بھرتے ہوئے اسے دیکھا کیا ہوا ……؟ ؟ صائمہ کو اشمل کے یوں ری ایکٹ کرنے پر حیرانگی ہوئی. میرا موبائل فون میرے پاس ہوتا ہی نہیں ہے. اُس پر ہر وقت دادو گیم کھیلتی رہتی ہیں. پہلے کہتی تھی مجھے اس فون کی سمجھ نہیں آتی. اب اس کی جان نہیں چھوڑتی. دادو کی مثال بھی اُس لڑکے جیسے ہے جس نے سارے خاندان کو تنگ کر رکھا ہوتا ہے کہ میں نے شادی نہیں کرنی اور جب شادی ہو جاتی ہے تب بیگم کے پاس سے ہلتا ہی نہیں ہے. اشمل مثال دیتی فون لینے چلی گئی جبکہ صائمہ ہنستی ہوئی برتن سمیٹنے لگی. یہ لو، دادو سر رہیں ہیں. ورنہ سو کہانیاں سنانی پڑتیں. اشمل نے صائمہ کے ہاتھ سے برتن لیتے فون دیا. تم سر سے بات کرو میں برتن رکھ کر ابھی آتی ہوں. اشمل کے جاتے ہی صائمہ نے عمران کا نمبر ڈائل کیا جو اسے ازبر تھا. سر بہت ناراض ہوں گے انھوں نے منع کیا تھا رابطہ کرنے سے صائمہ کو عمران کی باتیں یاد آنے لگیں.اس سے پہلے وہ کال کاٹتی عمران کی آواز سنائی دی.
جی مس اشمل! خیریت _ عمران کی مصروف مگر نرم آواز پر صائمہ کی آنکھیں نم ہونے لگیں. کبھی وہ اُس کی بھی خیریت پوچھا کرتے تھے مگر اب کوئی نہیں جو اُس کی خیر خبر رکھے. سر وہ میرا سامان آپ کی گاڑی میں صائمہ نے اٹکتے اٹکتے کہنا شروع کیا.
تم کہاں ہو …… ؟؟ عمران جو لنچ کرنے لگا تھا ایک دم اٹھ کھڑا ہوا.
سر وہ میرے ڈاکومنٹس بھی اسی میں صائمہ نے دوبارہ بات شروع کی.
میں نے پوچھا کہاں ہو …… ؟؟ اب کی بار آواز میں غصے تھا.
اشمل کے گھر
صائمہ نے فوراً جواب دیا. عمران کا غصہ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی.
اصولاً تمہیں کہاں ہونا چاہیے تھا ……؟ ؟ سوال پوچھا
اپنے گھر پر صائمہ کی فرمانبرداری کمال تھی.
گڈ، اب اشمل کو فون دو. عمران کے کہنے پر صائمہ، اشمل کو فون دینے کمرے سے باہر جانے لگی مگر اسے اندر آتا دیکھ کر رک گئی.
جی سر
اشمل نے چہکتے ہوئے صائمہ کے کہنے پر فون پکڑا.
مس اشمل اپنی لوکیشن مجھے سینڈ کریں اور میرے آنے تک صائمہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں. عمران کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی سخت ہوا تھا.
سر آپ میرے گھر آئیں گے. سچی اشمل نے خوشی سے اچھلتے ہوئے پوچھا
لوکیشن سینڈ کریں عمران گاڑی کی چابی اٹھاتا پورچ کی طرف بڑھ گیا جبکہ ڈائینگ ٹیبل پر موجود عذرا اور عدیل کے تاثرات بگڑ گئے.
عمران کھانا تو کھا لو عذرا نے آواز لگائی
آپا بھوک نہیں ہے. عمران نے پلٹے بغیر جواب دیا اور بلیک گلاسس لگاتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
ہاں جی کیا ہوا کیسا رہا بلکہ کیسی میٹنگ رہی بیگم ساتھ ……. ؟؟ ارحم نے حسب عادت چہکتے ہوئے چھیڑا.
انتہائی برا
اسفند کا موڈ بگڑا دیکھ کر ارحم گلا صاف کرتا اس کے سامنے بیٹھ گیا.
کیوں کیا ہوا کوئی جھگڑا وغیرہ …… ؟؟ ارحم نے محتاط انداز میں پوچھا
کوئی جھگڑا نہیں ہوا. میں اس سے جھگڑ نہیں سکتا میرے اندر اتنی strength ہی نہیں ہے. وہ نارمل مُوڈ میں قابو نہیں آتی تو سوچو جھگڑتے ہوئے کیا حال ہو گا …..؟ ؟ اسفند نے بات ٹال دی.
انسپکٹر اسفند میں آپ کو بہت اچھے سے جانتا ہوں. آپ اس وقت کسی بات کو لے کر سخت پریشان ہیں. نہیں بتانا چاہتے تو مرضی آپ کی، میں زور نہیں دوں گا. بس اتنا ہی کہنا ہے کہ اپنے گھر رہا کرو ورنہ چڑیلیں چپک جائیں گی. ارحم کہتے ہوئے اپنی کرسی سے اٹھ گیا جبکہ اسفند کرسی پر جھول رہا تھا.
چڑیلیں _ اسفند نے عجیب سے انداز میں دہرایا. جی جناب چڑیلیں
اپنی بیگم پاس رہا کریں تاکہ آپ ان آفتوں سے محفوظ رہ سکیں. ارحم میز پر ہاتھ مارتا پلٹنے لگا
اُس فائل دیکھ کر زرا برابر بھی فرق نہیں پڑا. وہ پہلے ہی سب جانتی تھی یا ایکٹنگ کر رہی تھی مگر _ اسفند ایک دم غصے اور دکھ کے ملی جلی کیفیت میں بولا امیزنگ کریملر لُو ارحم نے بول تو تیزی سے دیا مگر پھر اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی خاموش ہو گیا.
یہی سمجھ لے اسفند کے جواب پر ارحم دوبارہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا.
تم نے فائل سر سلمان کو دکھانی تھی وہ یقیناً بہت خوش ہوں گے. ارحم کو اب اسفند کی اداسی سمجھ آئی تھی.
نہیں وہ وہیں بھول آیا ہوں. اسفند نے نارمل سے انداز میں جواب دیا تو ارحم چونک پڑا.
یار تیرا دماغ تو ٹھیک ہے. اتنی اہم فائل یوں بھول آئے اگر وہ کسی کے ہاتھ لگ گئی تو …..؟ ؟ ارحم کو تشویش ہوئی.
وہاں کوئی بھی آتا جاتا نہیں ہے. دوسرا اشمل لاکھ لاپرواہ سہی مگر وہ میری چیزوں کو بہت احتیاط سے رکھتی ہے. تجھے تو پتہ ہے کہ اُس دو کمروں کے فلیٹ میں سائیڈ والا روم میرا یے اور اشمل بی بی نے اس ایک ماہ کے دوران ایک دفعہ بھی وہاں جھانکنا پسند نہیں کیا. وہ دونوں دادی پوتی لاؤنچ اور اپنے کمرے میں رہتی ہیں لہٰذا بے فکر رہو.
اُن دونوں کو آپس کے رومنس سے فرصت ملی گی تو کچھ دیکھیں گی ناااا
اسفند کہتا ہنس پڑا.
ہاں یار یہ تو ہے دونوں میں محبت کمال کی ہے. لگتا ہی نہیں کہ اشمل لےپالک ہے. ارحم کی بات پر اسفند سر ہلاتا اپنے موبائل پر میسج چیک کرنے لگا
عمران کے خلاف کیس کب فائل کرنا ہے …..؟ ؟ ارحم اب بلکل سنجیدہ تھا.
کل انشاءاللہ اسفند کے جواب پر ارحم سر ہلانے لگا چلو پھر بیسٹ آف لک
ارحم کی wishes پر اسفند نے موبائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا
خالد کا بندوبست کرو. میں چاہتا ہوں عمران کے خلاف کیس پراسیکیوٹر خالد لڑے. بڑے ہی کمال کا وکیل ہے. عمران کو بچنا نہیں چاہیے. اگر کسی طرح تمام کیسس سے بچ بھی گیا تو قتل کیس میں ضرور سولی چڑھے گا.
شوکت کو محفوظ مقام پر شفٹ کر دو. عمران کو پتہ تو چل ہی جائے گا شاید اب تک چل بھی گیا ہو. اسفند کی ہدایت پر ارحم نے سر ہلایا.
ویسے پتہ نہیں کیوں مگر مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے تُو عمران ساتھ پرسنل ہو رہا ہے. تجھے عمران سے جیلسی ہو گئی ہے. اب تو وہ بلکل نہیں بچے گا. ارحم کے چہرے پر ذو معنی مسکراہٹ تھی.
میں اشمل کو بتانا چایتا ہوں کہ آج کل جو لڑکیاں غنڈے، بدمعاش لڑکوں کے عشق میں مبتلا یو رہیں ہیں تو انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ ان کا انجام کیسا ہوتا ہے …… ؟؟ لہٰذا اپنا آئیڈیل ہمیشہ شریف بندے کو رکھیں. اسفند کی بات پر ارحم کا قہقہ بےساختہ تھا جس پر اسفند نے اسے گھورا.
سیدھی طرح کہہ کہ عام لوگوں کا انتخاب کریں. ورنہ ہم کتنے شریف ہیں یہ بات ہم دونوں ہی اچھے سے جانتے ہیں. اُس دن چندہ بائی کے کوٹھے پر کون ٹھاٹ سے بیٹھا تھا …..؟؟ ارحم کے طنز پر اسفند اسے مارنے کے لیے چیز ڈھونڈنے لگا
کمینے اسفند نے پاس پڑا واز اس کی طرف پھینکا جسے ارحم نے کیچ کر لیا.
سوری غلطی سے نکل گیا. آئندہ احتیاط کروں گا. ارحم نے واز دوبارہ اپنی جگہ پر رکھتے ہوئے دروازے کا رخ کیا.
کبھی بھول کر بھی اشمل کے سامنے مت کہنا ورنہ
اسفند کے لہجے میں وارنگ تھی. جس پر ارحم نے مسکراتے ہوئے دروازے کے ہنڈل پر ہاتھ رکھا پھر پلٹا.
اسفند جیسا بندہ بھی ڈر رہا ہے. قیامت کی نشانی ہے. ارحم ہنستا تیری سے باہر نکل گیا مبادہ کوئی اور چیز اسے لگتی.
♣️♣️♣️♣️♣️
مس اشمل آپ کا گھر آپ کی سلیقہ مندی اور نفاست کا منہ بولتا ثبوت ہے. بہت خوبصورتی سے سجایا ہے. عمران نے لاؤنچ میں کھڑے ہوتے ہوئے پورے فلیٹ کا جائزہ لیا.
سر کہںا یہ پانچ مرلے پر بنا چھوٹا سا فلیٹ اور کہںا آپ کا بینگلور ……… ؟؟ اشمل کے جواب پر عمران ہنس دیا.
آپ نےکبھی وہاں آنا پسند نہیں کیا پھر کیسے پتہ کہ میرا بینگلور اس فلیٹ سے زیادہ خوبصورت ہے ……. ؟؟ عمران نے اشمل کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا وہ اس وقت بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا اور مسکراتے ہوئے سیدھا صائمہ کے دل میں اتر رہا تھا.
سر آپ خود اتنے پیارے ہیں تو آپ کی کوئی چیز پیاری نہ ہو میں مان ہی نہیں سکتی دوسرا نام صائمہ نے ذکر کیا تھا. اشمل نے صائمہ کی طرف اشارہ کیا تو صائمہ نے فورا اپنی نظریں عمران سے پھیر لیں.
کتنے لوگ ہیں آپ کے گھر میں میرا مطلب آپ دونوں کے سوا …….؟؟ عمران نے اشمل کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی اپنائیت سے پوچھا
سر میں اور دادو
فلحال ہم دو ہی ہیں. اشمل کے جواب پر عمران نے سر ہلایا
آپ کے ہسبنڈ کب تک آ جاتے ہیں …… ؟؟ عمران کے پوچھنے پر اشمل خوش ہوگی
سر وہ خود کبھی نہیں آتے انہیں بلانا پڑتا ہے. اگر آپ کے پاس وقت ہو تو میں انہیں بلا لیتی ہوں. مجھے بہت اچھا لگے گا اگر آپ ان سے ملیں گے تو _ اشمل نے کہتے شلف پر پڑا اپنا موبائل اٹھایا. نہیں فی الحال میں جلدی میں ہوں. کسی کا علاج بھی کرنا ہے. پھر سہی، آپ کی مہمان نوازی کا بہت بہت شکریہ. عمران نے مسکراتے ہوئے صائمہ کو چلنے کا اشارہ کیا سر آپ نے مہمان نوازی کا موقع ہی کب دیا ہے. صرف ایک چائے میں نے بنائی تھی باقی چیزیں تو آپ ساتھ لائے تھے. اشمل نے گلہ کیا اب خالی ہاتھ تو ہم آپ کے گھر نہیں آ سکتے تھے. عمران کے جواب پر اشمل مسکرا دی. میں یہ امید رکھوں کہ کل آپ سے آفس میں ملاقات ہوگی …… ؟؟ عمران کے کہنے پر اشمل نے ہاں میں سر ہلا دیا. تو عمران خوش ہوتا پلٹنے لگا تبھی اس کی نظر نیم کھلے دروازے سے اندر لگی تصویر پر پڑی. اس کے قدم وہیں جم گئے. یہ تصویر
عمران کے منہ سے بمشکل الفاظ نکلے اور وہ دروازے کو دھکیلتا کمرے کے اندر داخل ہو گیا.
کسی خاتون کی ہے. اشمل نے اندازہ لگایا اور صائمہ ساتھ وہ بھی کمرے میں داخل ہو گئی
یہ تصویر یہاں کیسے آئی. میرا مطلب ہے کون لایا ہے ……. ؟؟ عمران نے پلٹ کر پوچھا
سر یقین مانیں میں نے آج تک اس کمرے میں قدم نہیں رکھا اور یہ تصویر تو دیکھی ہی نہیں ہے. اس لیے مجھے معلوم نہیں کہ یہ تصویر کس کی ہے اور یہاں کیوں لگائی گئی ہے …… ؟؟
میں اپنے ہسبنڈ سے پوچھ کر بتا دوں گی. شاید ان کی والدہ ہوں ……… ؟؟ اشمل نے اندازہ لگایا
نہیں یہ کسی کی ماں نہیں ہیں. میرا مطلب ان کا کوئی اپنا بیٹا نہیں تھا. عمران کہتا ایک دم جذباتی ہوا اور یہ صائمہ کے لیے بلکل نیا تجربہ تھا.
سر آپ انہیں جانتے ہیں …… ؟؟ اشمل نے پوچھا جبکہ صائمہ صرف عمران کا چہرہ دیکھ رہی تھی.
ہاں بہت اچھی طرح _
نہیں بالکل نہیں. عمران نے پہلے کھوئے سے انداز میں جواب دیا پھر فوراً اپنی بات کی نفی کرنے لگا جبکہ اس کے ارد گرد یادوں کی تیز ہوا چل رہی تھی
سر مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی. صائمہ نے عمران کے ماتھے پر چمکتا پسینہ دیکھ کر کہا
نہیں میں ٹھیک ہوں بس یہ کون ہیں اور آپ کے شوہر کی کیا لگتی ہیں پلیز مجھے پوچھ کے بتا دیجئے گا. عمران نے تصویر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
کیوں نہیں سر یہ بھی کوئی کام ہے. میں ابھی پوچھ دیتی ہوں. اشمل نے کہتے ساتھ ہی ایک میسج ٹائپ کرتے ہوئے اسفند کو سینڈ کیا
زندگی میں جسے بھی میں نے اگنور کیا ہے ڈنکے کی چوٹ پر کیا ہے. مگر کبھی یہ چیپ حرکت نہیں کی کہ واٹس ایپ کے بلیو ٹک چھپا دوں. اشمل کے بولنے پر دونوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
سر انہوں نے پرائیویسی لگا رکھی ہے پتا ہی نہیں چل رہا کہ میسج سین کیا ہے یا نہیں …..؟ اشمل نے منھ بنایا
کوئی بات نہیں بس یہ ضرور پتہ کر لیجیے گا کہ اب وہ کہاں ہیں …… ؟؟ عمران اب اپنے جذبات پر کافی حد تک قابو پا چکا تھا ہلکی مسکراہٹ ساتھ باہر نکلنے لگا تو میز پر پڑی فائل نظر آئی جس کا ٹائیٹل endless devil تھا.
یہ کیسی فائل ہے …… ؟؟ بڑا عجیب ٹائیٹل ہے. عمران نے کہتے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اشمل کو اپنی بیوقوفی پر خوب غصہ آیا.
سر وہ دودھ والے کا حساب لکھا ہے. کمینہ بہت پانی ڈالتا ہے. اشمل نے فوراً فائل اچک کر اپنے پیچھے کر لی.
میں گاڑی میں ہوں جلدی نیچے آؤ. عمران انتہائی سنجیدگی سے کہتا باہر کی طرف نکل گیا تو صائمہ کو خطرہ کا احساس ہوا.
تم کیوں یہاں ایسے کھڑی ہو کیا سر تمہیں statue کر گئے ہیں ……. ؟؟ اشمل نے صائمہ کو حیران پریشان کھڑا دیکھ کر پوچھا
اشمل مجھے لگ رہا ہے کہ کہیں کوئی بہت بڑی گڑ بڑ ہے شاید میں اب تمہیں دوبارہ نہ مل سکوں. تم نے پوچھا تھا نا کہ “قتل” کس نے کیا ہے ……….؟؟ صائمہ نے ڈرے سہمے انداز میں اسکی طرف دیکھا تو اشمل نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا
قتل “میں” نے کیا تھا. میرے لیے دعا کرنا مجھے سزا سے ڈر لگتا ہے .صائمہ رو دینے کو تھی جبکہ اشمل بت بنی اپنی جگہ پر کھڑی تھی.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے