80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

صائمہ چپ چاپ بیڈ پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی اور یہ بات اس کی رومیٹ نے بہت شدت سے محسوس کی تھی.
صائمہ کیا ہوا ہے …..؟ ؟ جب سدرہ سے رہا نہ گیا تو وہ پوچھنے لگی
وہی جو نہیں ہونا چاہیے تھا. سدرہ وہ بلآخر مجھے چھوڑ رہا ہے. میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی. مجھے ان اور ان کی دی گئیں تمام سہولیات کی عادت ہو گئی ہے.
میں اب ان تمام سہولیات اور ان کی ذات کے بغیر نہیں رہ پاؤں گی. میں مر جاؤں گی _ صائمہ نے نم آواز ساتھ کہتے ہوئے رونا شروع کر دیا صائمہ پلیززز خود کو سنبھالو. اب تم خود غرض بن رہی ہو. سدرہ کی آواز پر صائمہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی. سدرہ یارررر تم تو مجھے ایسا مت کہو. تم تو میری بات سمجھو میں نہیں رہ پاؤں گی. مجھے اس شخص کی عادت ہوگئی ہے. جب وہ نظر نہ آئے تو دن اداس گزرتا ہے. میری آنکھوں اور کانوں کو اس کی صورت اور آواز سکون دیتی ہے. وہ میرا سکون ہے.
یہ سب کچھ جو آج میرے پاس ہے. ایک ماہ بعد نہیں رہے گا. یہ لگثری ہوسٹل، آفس، گاڑی، نوکر، بینک بیلنس اور سب سے بڑھ کر اس کا نام _ وہ مجھے طلاق دے رہا ہے. وہ اپنی بات کا پکا ہے. وہ ایسا ہی کرے گا. صائمہ کا چیخ چیخ کر گلا بیٹھنے لگا تھا. صائمہ یہ سب کچھ تو طے تھا. پھر یوں شور ڈالنے کا فائدہ …… ؟؟ اس کو تم ملامت نہیں کر سکتی. اس نے تمہارا تب ساتھ دیا جب تمہارے اپنے بھی تم سے منہ موڑ رہے تھے. یاد کرو ؟؟ سدرہ کی باتوں پر روتی صائمہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ہنسنے لگی اور پھر اس کی ہنسی قہقہوں میں بدل گئی.
صائمہ خدا کے لیے ہوش کرو. یہ کیا پاگلوں والی حرکتیں کر رہی ہو. کبھی روتی ہو، کبھی ہنستی ہو. یارررر کسی نے دیکھ لیا تو ایک نیا تماشا شروع ہو جائے گا. سدرہ نے روم کے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے سمجھایا.
ہر کوئی اسے درست سمجھتا ہے اور مجھے غلط اس نے میرا ساتھ مفت میں نہیں دیا. اس کا اپنا مفاد تھا. اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اس کا خبیث بہنوئی آج جیل میں سڑ رہا ہوتا. اسے بچانے کے لیے اس نے میرا ساتھ دیا تھا. تم بھی یہ بات یاد رکھو.
اسے مجھ سے ہمدردی کا بھوت نہیں چڑھا تھا. وہ ایک منجھا ہوا بزنس مین ہے. وہ نقصان کا سودا کبھی نہیں کرتا. کبھی بھی نہیں صائمہ نے سدرہ کی طرف دیکھتے ہوئے طنز سے کہا
اچھااااااااااااا اگر وہ اتنا ہی گھٹیا اور خود غرض ہے تو اس کے لیے یہ واویلا کیوں جبکہ بقول تمہارے وہ ایک مجرم بھی ہے ………؟؟ سدرہ نے صائمہ کے طنز کو نظرانداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا
ہاں تو ہے نااااا مجرم جس دن اس کے کالے کرتوت قانون کی گرفت میں آئےتو سمجھو ساری زندگی سرکار کی جیل میں گزرے گی. صائمہ کے جواب پر سدرہ ہنستی ہوئی اس کے قریب آ بیٹھی.
اچھااااااااااااا مجھے تو اس کے بارے میں یہ سب معلوم ہی نہیں تھا جبکہ تم سے پہلے میں اس کی پی اے تھی. سدرہ کی بات پر صائمہ خاموش ہو گئی. پھر چند لمحوں کے لیے کمرے میں مکمل سناٹا چھا گیا جیسے وہاں کوئی ذی روح موجود نہ ہو.
صائمہ تم حقیقت کو جتنی جلدی تسلیم کرو گی اتنی ہی تمہیں تکلیف کم ہو گی.اور رہی بات اس کی تو یہ بات تم مجھ سے زیادہ بہتر جانتی ہو کہ اس نے اپنے مفاد کی خاطر ہی تمہیں تحفظ دیا تھا.
تمہاری عزت معاشرے میں پامال ہونے سے بچائی. تمہاری مالی مدد کی اور جو کچھ وہ تمہارے لیے کر سکتا تھا وہ سب اس نے کیا. مگر اب اس کے اور تمہارے راستے جدا ہیں.
تم دونوں کا اتنا ہی ساتھ تھا. تم دونوں اکٹھے رہ ہی نہیں سکتے. اور اگر سچ پوچھو تو اس کا تم سے الگ ہو جانا بھی اس کی تم پر ایک مہربانی ہی ہے.
کیونکہ مجرم کبھی نہ کبھی ضرور پکڑا جاتا ہے اور بقول تمہارے آج کل ایجنسی والے اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں. فرض کرو اگر وہ ان کے قابو آ جاتا ہے تو تمہارا مستقبل کیا ہوگا …….. ؟؟
اس لیے شکر کرو کہ وہ تمہیں چھوڑ رہا ہے. تمہارا تعلق اس کی دنیا سے نہیں رہے گا تو تمہارا مستقبل محفوظ ہو گا. سدرہ کی باتیں صائمہ نے چپ چاپ سنیں.
یاررر میری مانو تو ایک ماہ بعد کی الگ ہوتی آج الگ ہو جاؤ. بلکہ یہ شہر ہی چھوڑ کر اپنے گاؤں چلی جاؤ جہاں سے آئی تھی. اپنا گھر بساؤ، سب بھول جاؤ. وقت ہر زخم کا مرہم ہے سدرہ کو صائمہ پر بہت ترس آ رہا تھا.
تمہاری سب باتیں درست ہیں مگر میں کیا کروں مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے …….. ؟؟ صائمہ نے بے بسی سے اپنے بال نوچتے ہوئے کہا
اسے پتہ ہے ……. ؟؟ سدرہ کے سوال پر صائمہ نے بے بسی سے سر نفی میں ہلایا
تو اسے بتا دو. اس طرح تمہارا دل بھی ہلکا ہو جائے گا اور شاید اسے تمہاری قدر آ جائے. سدرہ کے مشورہ پر صائمہ ہلکا سا مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی.
وہ شخص جس کا نام عمران ہے محبت کر ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ ایک materialistic شخص ہے اس کا جزبات سے کوئی لینا دینا نہیں. نہ ہی اسے کسی کے آنسو پگھلا سکتے ہیں.
وہ صرف اپنے مطلب کا یار ہے. بغیر مطلب کے تو وہ کسی کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے اور میں
میں تو اب اس کے لیے بلکل بیکار ہوں. صائمہ کے چہرے پر کرب کے واضح آثار تھے.
♣️♣️♣️♣️♣️
اشمل مزے سے موم پھلی کھاتے ہوئے ٹی وی پر ٹاک شو دیکھ رہی تھی کہ اس کا فون کسی انجانے نمبر کی بل پر چیخنے لگا.
یہ کس کا فون ہے ……… ؟؟ ابھی تو تجھے نوکری کرتے جمعہ، جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور لڑکوں کے فون آنے لگے _ دادو جو سونے کے لیے اپنی چارپائی پر لیٹ چکیں تھیں فون بجنے پر اشمل کی طرف غصے سے دیکھنے لگیں . دادو آپ تو اپنا بھاشن رہنے ہی دیں. آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں. خود تو ہر وقت ٹھرکی عورتوں کی طرح باتیں کرتیں رہتیں ہیں. محلے کا کوئی بزرگ آپ سے محفوظ نہیں اور مجھ پر شک کر رہیں ہیں. میرے پاس اتنا ٹیلنٹ ہوتا تو آج میرے چار بچے ہوتے اشمل بولتی ہوئی فون اٹینڈ کرنے لگی
دیکھیں بی بی میری بات غور سے سنیں اس میں آپ کا ہی فائدہ ہے. آپ جس آفس میں کام کر رہی ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے. کچھ دنوں تک وہاں پولیس کا چھاپہ پڑنے والا ہے. لہٰذا آپ وہ جاب چھوڑ دیں. سپیکر سے ایک بہت ہی خوبصورت مردانہ آواز ابھری تو اشمل نے دادو کی طرف حیرانگی سے دیکھاجو اسے ناراضگی سے دیکھ رہیں تھیں.
آپ پولیس کے چھاپے کو چھوڑیں اور یہ بتائیں کہ اتنی پیاری آواز آپ کی اپنی ہے یا کوئی app استعمال کیا ہے …….. ؟؟
آج کل اصلی چیز کی شناخت کافی مشکل ہو گی ہے. اگر آپ کی اپنی ہے تو کمال ہے اور اگر مصنوعی ہے تو مجھے افسوس ہے اشمل کے جواب پر دوسری طرف خاموشی چھا گی اور چند لمحوں کی خاموشی بعد کال کٹ گئی.
لگتا ہے جناب کو میری آواز پسند نہیں آئی. اب میں کیا کر سکتی ہوں اللہ نے آواز ہی ایسی دی ہے جیسے کوے کا گلا خراب ہو
اشمل اونچی آواز میں خود کلامی کرتی دادو کی طرف آئی جو ناراضگی سے منہ موڑ گئیں.
دادو آپ تو سچ مچ “اللہ والی” ہو گئیں ہیں. پتہ کسی لڑکے کا ہی فون تھا. ہائے اب مجھے بھی فون آیا کریں گے. جیسے ڈراموں میں ہوتا ہے. پھر ایک امیر لڑکا میرے عشق میں پاگل ہو جائے گا اور ہمارے دن پھر جائیں گے اشمل آنکھیں بند کیے بولے جا رہی تھی.
بی بی جاگ جاؤ اور ایسے خواب مت دیکھو جو بعد میں تکلیف دیں. اور ہاں مجھ سے بات مت کرو تم نے مجھے ٹھرکی بولا تھا.دادو نے ناراضگی کی وجہ بتائی
دادو آپ کب سے اتنی حساس ہو گئیں ہیں کہ زرا سی بات پر منہ بنانے لگیں. بھئی ہم دونوں دوست ہیں، ہم عمر بھی
ہم کیسی ناراضگی ……. ؟؟ اشمل نے جان بجھ کر ہم عمر کا لفظ استعمال کیا کیونکہ یہ دادو کی کمزوری تھی.
ہاں کہہ تو تُو ٹھیک ہی رہی ہے. ہم میں کونسا بہت فرق ہے. چل اب یہ بتا کون تھا اور کیا کہہ رہا تھا …..؟ ؟ دادو نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا
دادو آپ کو بہت تجسس ہو رہا ہے. خیر ہے …….. ؟؟ اشمل نے آنکھ ماری تو دادو پھر ناراض ہونے لگی.
اچھا ناااااا مذاق کر رہی ہوں. وہ کہہ رہا تھا کہ میں جس آفس جاب کے لیے جاتی ہوں وہ ٹھیک نہیں ہے. وہاں پولیس کا چھاپہ پڑنے والا ہے. اشمل کے بتانے پر دادو نے نفی میں سر ہلایا.
لوگ بھی لڑکیوں کو پھنسانے کے لیے کیسے کیسے من گھڑت جھوٹ بولتے ہیں. دادو کہتیں ہوئیں دوبارہ لیٹ گئیں جبکہ اشمل مسکرا رہی تھی.
اب تجھے کیا ہوا ہے کیوں بغیر وجہ کے مسکرا رہی ہے ……. ؟؟ دادو نے اسے مسکراتا دیکھ کر پوچھا
دادو بغیر وجہ کے نہیں مسکرا رہی وجہ ہے. پتہ اس کی آواز بہت پیاری تھی تو سوچیں وہ خود کتنا پیارا ہو گا اور اُس کا میری فکر کرنا اشمل نے اپنے گھٹنوں پر سر رکھتے ہوئے خود کلامی کی.
اشمل انسان بن، اور خبردار جو محبت جیسے بھوت کو تُو نے اپنے سر چڑھنے دیا تو
یاد رکھ بہت ذلیل ہو گی. یہ محبت غریبوں کو تو بلکل راس نہیں آتی. برباد کر دیتی ہے. بستے گھر ویران ہو جاتے ہیں. سمجھی دادو نے اپنی بات کے آخر میں رخ موڑ لیا کیونکہ ان کے اپنے زخم بھی ہرے ہونے لگے تھے.
سوری دادو اداس مت ہوں. میں ابا جیسا کوئی کام نہیں کروں گی. پکا وعدہ _
میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی.
میری اور صرف میری کم عمر دادو اشمل نے لاڈ سے کہتے ہوئے ان کے بازو پر سر رکھا اور اپنے بازوؤں ان کے گرد حائل کر دیے.
♣️♣️♣️♣️♣️
اسفند بیسن پر جھکا ہاتھ دھونے لگا تھا کہ اچانک کسی سوچ کے تحت رک کر اپنے ہاتھ دیکھنے لگا اور پھر مسکراتے ہوئے دوبارہ ہاتھ دھونے لگا
خیر ہے آج انسپکٹر اسفند یار ولی بغیر وجہ کے اکیلے اکیلے آئینے کے سامنے کھڑے مسکرا رہے ہیں. سیانے کہتے ہیں جب جوان لڑکا یا لڑکی اکیلے میں آئینہ دیکھ کر مسکرائے تو پھرررررررر ارحم نے باتھ روم کے دروازے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے پھر کو خوب لمبا کھینچا.
کام ہو گیا …….. ؟؟ اسفند کے چہرے پر ارحم کی بات پر بلا کی سختی در آئی.
کام کی کیا مجال جو نہ ہو. ہو گیا ہے جناب اور کوئی حکم ؟؟ ارحم نے فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر کو خم دیا.
ارحم تم ہر وقت یہ مسخرہ پن کرتے ہوئے تھکتے نہیں ہو ……… ؟؟ اسفند کے سوال پر ارحم کھلکھلا کر ہنس دیا.
آپ جو ہر وقت سڑے سڑے سے رہتے ہیں. آپ اپنی اس حالت سے تنگ پڑتے ہیں نہیں ناااااا
تو ہم کیوں پڑیں گے ……. ؟؟ ارحم نے باتھ روم کے دروازے سے ہٹتے ہوئے جواب دیا. تو اسفند تولیہ ساتھ ہاتھ منہ صاف کرتا بیڈ پر بیٹھ گیا.
عمران کے بارے میں تمہاری رپورٹ کیا کہتی ہے …… ؟؟ اسفند نے تولیہ کرسی پر پھینکتے ہوئے ارحم کو مخاطب کیا جو ابھی تک دیوار ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا.
بڑا ہی عجیب انسان ہے. میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے مگر مجھے اس کی کوئی کمزوری نہیں ملی اور اگر سچ پوچھو تو میں اس کی شخصیت سے متاثر ہو گیا ہوں. بڑا ہی با اخلاق اور مہمان نواز بندہ ہے. پرسنیلٹی بھی کمال کی رکھتا ہے ارحم کی رپورٹ پر اسفند نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی فائل اٹھائی اور ارحم کی طرف بڑھا دی.
اسے غور سے پڑھو، امید ہے تمہاری رائے بدل جائے گی اور اگر پھر بھی نہ بدلی تو تم الو کے پٹھے ہو
اسفند نے ارحم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں اسے اپنی تعریف ہی سمجھوں گا ارحم نے کہتے ہوئے اسفند سے فائل پکڑی.
وہ تمہاری مرضی ہے. اب جاؤ مجھے کچھ دیر آرام کرنا ہے پھر بہت کام ہے. اسفند کی بات پر ارحم منہ بناتے ہوئے کمرے سے باہر نکلنے لگا.
لائٹ بھی بند کر دو. مہربانی ہو گی
اسفند نے پیچھے سے آواز لگائی.
جی مالک کیوں نہیں ہم تو آپ کی کنیزیں ہیں ارحم طنز کرتا لائٹ آف کر گیا. ارحم کے جاتے ہی اسفند نیم دراز اپنے موبائل پر کسی کا نمبر ملانے لگا.
مجھے کسی بہت ہی اچھے اور قابل اعتماد میک اپ آرٹسٹ کا نمبر سینڈ کرو. اسفند نے کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی اور سوچنے والے انداز میں اٹھ بیٹھا
آپ جاگ رہے ہیں. میں تو سمجھا کسی حسینہ کے خواب دیکھ رہے ہونگے …….. ؟؟ ارحم نے کمرے کی لائٹ آن کرتے ہوئے پوچھا
تم جان چھوڑو گے تو کوئی حسینہ آئے گی نااااا. اب تمہاری موجودگی میں تو آنے سے رہی _ اسفند نے موبائل سائیڈ پر رکھتے ہوئے بیزاری سے جواب دیا.
یارررر تُو مجھ سے اتنا تنگ ہے …… ؟؟ ارحم نے اداسی سے پوچھا اور اسفند کے قریب پڑی کرسی کو گھیسٹ کر بیٹھ گیا.
ہاں بہت تنگ ہوں اسفند نے بھرپور سنجیدگی سے جواب دیا
تو میں کیا کروں. تنگ تم ہو میں نہیں ارحم دوبارہ اپنی ٹون میں لوٹ چکا تھا.
تم نے مجھے بتایا نہیں کہ میرا حلیہ مکمل نہیں ہے …… ؟؟ اسفند نے شکوہ کیا.
کیوں اچھے بھلے فقیر تو لگتے ہو. اب کیا ٹانگ بھی توڑنی ہے …… ؟؟ ارحم نے طنز کیا.
نہیں اصل میں ساری توجہ چہرے پر دی ہے جبکہ ہاتھوں اور پاؤں پر توجہ ہی نہیں دی. اسفند نے اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے بتایا.
ہاتھ پاؤں کون دیکھتا ہے. کس پاس اتنا فالتو وقت ہے کہ فقیر کے حلیہ پر غور کرے ……… ؟؟ ویسے بھی آپ مردانہ فقیر ہیں زنانہ نہیں ارحم ہنسا
یہ تمہاری غلط فہمی ہے. اگر کوئی بےوقوف غور کر سکتا ہے تو عمران کیوں نہیں …… ؟؟ ( اسفند نے جان بجھ کر لڑکی کا لفظ استعمال نہیں کیا).
یہ سارے بےوقوف تمہیں ہی کیوں ملتے ہیں. مجھے تو کبھی کوئی نہیں ملا …… ؟؟ ارحم نے آبرو اچکا کر پوچھا
کیونکہ آپ خود بےوقوف ہیں. اور بےوقوف بےوقوف سے ملنا پسند نہیں کرتا جیسے ایک شاعر دوسرے شاعر سے ملنا پسند نہیں کرتا. پروفیشنل جیلسی اسفند نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
یار کھل کر ہنسا کر
یہ دبا دبا سا نہ ہنسا کر اس سے عمر گھٹتی ہے. ارحم کی بات پر جو مسکراہٹ اسفند کے چہرے پر آئی تھی وہ بھی غائب ہو گئی.
میں جینا بھی نہیں چاہتا. میرا ہے ہی کون جس کے لیے اپنی زندگی مانگو ……. ؟؟ اسفند کے لہجے میں دکھ تھا.
یاررر جو چلے گئے ہیں انھیں بھول جا اور اپنی فیملی بنا. ارحم نے سمجھانا چاہا جس پر اسفند نے سر نفی میں ہلا دیا.
میں نے نئے میک اپ آرٹسٹ کا بندوبست کیا ہے. کل وہ آئے گا. اسفند کے جواب پر ارحم کھڑا ہو گیا.
اسفند تنہا بندے کی کوئی زندگی نہیں ہوتی. جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے. جانے والے واپس نہیں آتے مگر تم زندگی کی طرف واپس آ سکتے ہو اگر تم چاہو تو
ارحم کہتا ہوا روم سے باہر چلا گیا.
زندگی __
اسفند نے زیر لب دہرایا.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.