80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

رونے دھونے والی تو نہیں ہیں مگر پھر بھی نہ جانے کیا کر رہی ہو گی ……….. ؟؟ اسفند نے گھڑی دیکھتے ہوئے سوچا
اس سے پہلے کے وہ اشمل کا نمبر ڈائل کرتا اس کا فون خود بخود بجنے لگا جیسے اسے بھی اس کا حال دل معلوم ہو گیا ہو.
ہیلو _ اسفند نے کال اٹینڈ کرتے ہی جلدی سے پوچھا بیٹا تمہیں ذرا بھی خیال ہے کہ تمہارے بعد اس پر کیا گزری ہے ………. ؟؟ میں نے کبھی اپنی بچی کو اتنا روتے نہیں دیکھا جتنا آج دیکھا ہے. دوسری طرف سے خلاف توقع اشمل کی جگہ دادو کی آواز سپیکر سے ابھری اشمل رو رہی ہے مگر اس وقت تو وہ بالکل چپ تھی ……. ؟؟ اسفند کو حیرت ہوئی اگر تم اسے ہمیشہ کے لئے کھونا نہیں چاہتے اور واقعی اس کے ساتھ ساری زندگی گزارنا چاہتے ہو تو اسے آ کر روک لو کیوں کہ آج میرے کہنے سے وہ نہیں رکے گی ………. ؟؟ دادو کی بات سنتے ہیں اسفند جو ٹیک لگائے بیٹھا تھا ایک دم سیدھا ہوا کیا مطلب ……. ؟؟ بیٹا وہ اپنی ضد کی بہت پکی ہے اور اس کو اچانک یہاں سے جانے کا بھوت سوار ہو گیا ہے پتہ نہیں وہ اب کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھائے گی اسے زمانے کی ٹھوکروں سے بچا لو. وہ بہت مظلوم ہے. دادو کی آواز میں ایک آس تھی. خیر دادو اب تو آپ زیادتی کر رہی ہیں آپ کی پوتی مظلوم نہیں ظالم ہے. اسفند نے دل میں سوچتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی. ویسے تو تم نے جتنی بدتمیزی آج کی ہے میں کبھی بھی تم سے بات نہ کرتی مگر میں نے تمہاری آنکھوں میں اشمل کے لیے محبت دیکھی ہے.آگے تمہاری مرضی دادو نے کہتے کال کاٹ دی.
پتہ نہیں آج کا دن کیسا تھا سارا دن ہی عجیب بےچین گزرا ہے ابھی تو میرے سر کا درد بھی ختم نہیں ہوا.میں بس سونا چاہتا ہوں.اسفبد نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا جہاں رات کے ایک بجنے کو بےتاب تھے.
دادو سب کچھ پیک کرلیا ہے ……. ؟؟ اشمل نے کمرے میں آخری نظر مارتے ہوئے اونچی آواز میں پوچھا
ہاں میں نے تو تسلی کر لی ہے. تُو بھی ایک دفعہ دیکھ لے. پھر بعد میں مجھے کچھ نہ کہنا. دادو نے فوراً اپنا موبائل چھپاتے ہوئے جواب دیا
میرے خیال سے ہم اپنے ساتھ یہی کچھ لائے تھے. اشمل نے قریب پڑے دو چھوٹے چھوٹے سوٹ کیس دیکھتے ہوئے خود کلامی کی
اس وقت ٹیکسی والا مل تو جائے گا نا ااااااا _ دادو نے گھڑی کی طرف دیکھا دادو مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ یہاں سے جانا نہیں چاہتی یا آپ کو کسی کا انتظار ہے …….. ؟؟ اشمل نے ایک ہاتھ کمر پر رکھتے آبرو اچکا کر پوچھا کیا کروں اس عمر میں جا کر بمشکل اتنا آرام و سکون ملا تھا. چند دنوں میں ہی میں ان سہولتوں کی عادی ہو گئی ہوں
نہ یہاں پر بجلی جاتی ہے نہ کوئی مکھی ہے نہ مچھر، نہ گلی کا شور، بس آرام ہی آرام ہے.
سارا دن مزے سے ٹی وی دیکھو کیبل بھی بند نہیں ہوتی. مزے مزے کے کھانے کھاؤ. رات کو آرام دہ بستر میں جا کے سو جاؤ. نہ کوئی پریشانی بجلی کے بل کی، نہ کوئی غم راشن پانی کا _ دادو نے مسکین سی شکل بناتے اقرار کیا دادو پچھلے پانچ منٹ سے آپ نے جتنی بار آرام آرام کا لفظ استعمال کیا ہے. میرے حساب سے آپ کو آخری آرام گاہ کی سخت ضرورت محسوس ہو رہی ہے. اشمل ہلکا سا مسکرا ئی دفع ہو اللہ نہ کرے ابھی میں نے دیکھا ہی کیا ہے …….. ؟؟ دادو کو غصہ آیا آپ نے کیا دیکھنا ہے بتا دیں تاکہ میں آپ کو وہ سب جلدی جلدی دکھا دوں. اشمل مسکراتی ہوئی دادو کے ساتھ ہی بیٹھ گئی ابھی میں نے تیرے بچے دیکھنے ہیں. انہیں کھلانا ہے. ابھی تو میرے بڑے ارمان باقی ہیں. دادو کے جواب پر اشمل نے سنجیدگی سے فرش کی طرف دیکھا جیسے اسے بات پسند نہ آئی ہو. اشمل ایک بار پھر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لے. تو جو بھی فیصلہ کرے گی میں تیرے ساتھ ہوں مگر ایسے معاملوں میں جذباتی نہیں ہوتے. اس کا غصہ بالکل جائز تھا ہاں البتہ اس نے الفاظ غلط استعمال کیے ہیں. دادو کی بات پر اشمل اپنی آنکھوں کو دباتی اٹھ کھڑی ہوئی اچھا اگر تو نے جانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو میں بھی چلتی ہوں. میں یہاں رک کر کیا کروں گی …… ؟؟ دادو نے اشمل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا وہ آپ کو یہاں رہنے بھی نہیں دے گا. جو انسان اپنی بیوی کو نہیں رکھ سکتا وہ کسی اور کو کیا رکھے گا. اچھا خاصا بدتمیز ہے بالکل ولن جیسی پرسنیلٹی ہے. سر عمران تو غصے میں بھی مردوں سے اتنے پیار سے بات کرتے ہیں کہ دور سے دیکھنے والے کو لگتا ہی نہیں کہ غصہ کر رہے ہیں اور لڑکیوں سے ان کی گفتگو کا انداز تو آپ مجھ سے مت پوچھیں اشمل نے ہاتھ نچاتے بتایا تو دادو کے ماتھے پر بل پڑے
مار کھا کر بھی تجھے عقل نہیں آئی. اب بھی سر عمران کی رٹ لگا رکھی ہے. یاد رکھ کبھی اپنے شوہر کو دوسرے مرد سے کمپئر نہیں کرتے. وہ جو بھی ہو جیسا بھی ہو عورت کے لیے وہی سب سے اچھا ہوتا ہے. دادو کی غصیلی آواز پر اشمل نے حیرانی سے انہیں دیکھا
دادو کیا ہے …… ؟؟ اب جس میں جو خوبی ہوگی سب اسی کی تعریف کریں گے نااااا اشمل کی ہڑدھرمی پر دادو نے اپنا سر پیٹا تجھے مار پڑنی نہیں تھی مگر تیری اس بکواس کی وجہ سے پڑی ہے. پتہ ا نہیں تیری کیا منطق ہے میں تو اتنا جانتی ہوں کہ اپنے مرد کے سامنے غیر مرد کی تعریف عورت کو زیب نہیں دیتی. دادو کو افسوس ہوا میں سچ بولتی ہوں اب اگر کسی کو برا لگتا ہے تو میں کیا کروں ……. ؟؟ اشمل اپنی بات پر قائم تھی. خاوند ہے وہ تیرا ا دادو نے بھی اسی انداز میں جواب دیا.
اچھا ااااااا
مجھے نہیں معلوم تھا.اشمل نے دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے جواب دیا اشمل ہر وقت لڑنے مرنے پر نہ تلی رہا کر، زندگی بہت مشکل ہے. دادو نے اب کی بار قدر نرمی سے سمجھانا چاہا اچھا ٹھیک ہے آپ مانتی ہیں ناااااا کہ زندگی مشکل ہے تو پھر مچھر، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور شور شرابے سے کیوں گھبرا رہی ہیں ……… ؟؟ اشمل نے چہک کر پوچھا اشمل تیرا کچھ نہیں ہوسکتا دادو سر نفی میں ہلا تی باہر کی طرف چل دی جبکہ ان کے پیچھے پیچھے اشمل سوٹ کیس گھسیٹتی آ رہی تھی.اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھولتی ڈور بل بجی.
اس وقت کون آگیا ہے ……. ؟؟ دادو نے مرتے ہوئے حیرت سے پوچھا دادو
آپ نے اسےکال کی تھی ………. ؟؟ اشمل کا لہجہ اور چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا جس پر دادو نظر چرانے لگیں.
مجھے کیا پڑی تھی کہ میں اسے کال کرتی ……؟ ؟ دادو کا چہرہ اور لہجہ آپس میں میچ نہیں ہو رہا تھا
دادو وہ کئی کئی دن یہاں جھانکتا بھی نہیں ہے اور اب ایک دن میں دوسری بات وہ کیسے آ سکتا ہے جب تک کہ وہ اتنی بدتمیزی کر کے گیا تھا. اشمل کو غصہ آنے لگا اس نے دبی آواز میں احتجاج کیا تبھی بل دوبارہ بجی.
آپ نے بلایا ہے خود ہی ملیں مجھے اس کی شکل نہیں دیکھنی اشمل تیزی سے کمرے کی طرف مڑ گئی جب کہ دادو نے ٹھنڈا سانس خارج کرتے دروازہ کھلا وہ بہت غصے میں ہے. ویسے ناراض ہونا تو میرا بھی بنتا تھا مگر چلو خیر دادو نے اسفند کو دیکھتے راستہ چھوڑا جو شرمندہ شرمندہ سا اندر داخل ہوا آنکھیں سرخ اور حلیہ بکھرا بکھرا سا تھا
میں آپ سے شرمندہ ہوں مگر آپ کی لاڈلی نے میرا دماغ خراب کر دیا تھا حالانکہ میں ذاتی طور پر عورت کو مارنے کے حق میں نہیں ہوں. اسفند نے دادو کے سامنے کھڑا ہوتے ہوئے کہا
وہ تو شروع سے ہی دماغ خراب کرنے کی ماہر ہے. تمہیں اب احساس ہوا ہے. دادو نے جتلایا اور دروازہ بند کرنے لگیں.
کہاں ہے …….. ؟؟ اسفند نے لاؤنچ میں ایک نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا
اپنے کمرے میں ہے اور مجھ سے بھی ناراض ہے کہ تمھیں کیوں بتایا …….. ؟؟ دادو نے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا
آپ ظاہر نہ کرتیں کہ مجھے فون کیا تھا. ویسے بتانے کا شکریہ اسفند نے کمرے کی طرف قدم بڑھاتے آہستہ آواز میں کہا وہ بہت عقلمند ہے اسے “بتانا” نہیں پڑتا “چھپانا” پڑتا ہے مگر فائدہ پھر بھی نہیں ہوتا پر اللہ کرے آج ہو جائے. دادو کہتیں دوبارہ لاؤنچ میں آ بیٹھیں. چل زیب النساء ڈرامہ دیکھ خوامخواہ دھکے کھانے کے لئے لے کر جا رہی تھی اللہ کرے دونوں کی آپس میں بات بن جائے گا تو میرے دن آرام سے کٹیں گے. دادو نے صوفے پر بیٹھے ٹی وی آن کیا. 🖤🖤🖤🖤🖤 وکیل صاحب کسی بھی قیمت پر عدیل کو سزا سے بچنا نہیں چاہئے مگر میں یہ نہیں چاہتا کہ اسے پھانسی ہو. اسے ہر قیمت پر عمر قید ہونی چاہیے تاکہ وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے. میری آپا کی جان اتنی سستی نہیں تھی جن وہ سمجھ بیٹھا تھا. عمران نے اپنے خاندانی وکیل کو کچھ دستاویزات دیتے ہدایت کی. عمران صاحب آپ بالکل بے فکر ہو جائیں. میں آج ہی کوشش کروں گا کہ آپ کو اس کیس سے رہائی مل جائے اور آپ کی جگہ یہ سارے مقدمات عدیل کے نام ٹرانسفر ہو جائیں. وکیل کی یقین دہانی پر عمران نے سرخ ہوتی آنکھوں ساتھ سر ہاں میں ہلایا وکیل صاحب مجھے آپ کی قابلیت پر پورا یقین ہے اسی لیے یہ کام میں نے آپ کے سپرد کیا ہے. کسی بھی قسم کی مزید دستاویز چاہیے ہو تو وہ بھی بتائیے گا اس کے علاوہ کوٹھے کی مالکن چندہ بائی کا بیان بھی میں نے ساتھ اٹیچ کر دیا ہے. میرے خیال سے اب اس کیس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ یہ سارا کاروبار عدیل چلاتا تھا. عمران کے لہجے میں لچک نہیں تھی اور ہاں یاد آیا ریپ کا کیس چھوڑ کر اکاؤنٹنٹ کا قتل بھی اسی کے حصے میں ڈال دیجئے گا. عمران کو اچانک صائمہ کا خیال آیا تبھی ہدایت دینا ضروری سمجھا آپ بے فکر ہو جائیں کیس شیشے کی طرح اتنا صاف بناؤں گا کہ خود عدیل دیکھ کر بھی حیران رہ جائے گا. وکیل کی بات پر پہلی بار عمران کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آئی آپ کا کام ہو جائے گا بے فکر رہیں. ہمارا ساتھ بہت پرانا ہے. آپ مجھے جانتے ہیں میں وعدہ خلافی نہیں کرتا. عمران نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے کورٹ کا بٹن بند کیا جو کہ اس کا ایک سٹائل تھا وکیل صاحب کو رخصت کرنے کے بعد وہ چلتا ہوں گلاس وال پاس آ کھڑا ہوا جہاں سے لان کا منظر بالکل صاف دکھائی دے رہا تھا عدیل تو نے آپا کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو مارا ہے. اب تو میرے سارے گناہوں کی سزا بھگتے گا. یہی تیرا انجام ہے. لان میں بیٹھگ پولیس سپاہیوں کو دیکھتے ہوئے عمران نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور کال ملائی مجھے جلد از جلد دوبئی کا ٹکٹ چاہیے. جو فلیٹ بھی مل جائے چلے گی. مجھے اس ملک سے نکلنا ہے جلد بہت جلد
صائمہ جو کمرے میں داخل ہو رہی تھی عمران کے آخری الفاظ سنتے اداس ہوں گی.
سر وہ آپ کو باہر بلا رہے ہیں. انہیں اندر بھیج دوں یا آپ باہر آئیں گے …….. ؟؟ اپنے تاثرات کو حتی الامکان نارمل رکھتے ہوئے صائمہ نے پوچھا
شوکت سے کہو انہیں ڈرائینگ روم میں بیٹھائے. میں ایک پریس کانفرنس کرنے لگا ہوں. جس میں مجھے سارے الزامات عدیل کے سر پر لگانے ہیں. میرے ساتھ ڈی ایس پی صاحب بھی ہوں گے. عمران کے جواب دے صائمہ سر ہلاتے پلٹنے لگی
سنو صائمہ کو جاتا دیکھ کر عمران نے پکارا.
میں نے تمہارے اکاؤنٹ میں ایک اچھی خاصی رقم منتقل کر دی ہے. میں نہیں چاہتا کہ تم میرے ساتھ در در کی خاک چھانو. تم بہت اچھی لڑکی ہو. اپنوں میں لوٹ جاؤ. تم نے میرا بہت ساتھ دیا ہے. میں تمہیں ہمیشہ اچھے لفظوں میں یاد رکھوں گا.
تمہاری وجہ سے میرے سامنے عورت کا امیج بہت اچھا ہو گیا ہے. مگر تم میرے مزاج کی نہیں ہو. ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے. میں جس ماحول اور فیملی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتا ہوں وہ تمہارے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا. بہت سی چیزیں میرے اور تمہارے درمیان ایسا فرق رکھتی ہیں جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا. میں نے بہت کوشش کی کہ تمہیں اپنے ساتھ ایڈجسٹ کر لوں مگر میں ناکام رہا ہوں. عمران کے الفاظ پر صائمہ گردن جھکائے کھڑی رہی جیسے وہ اسے سزا سنا رہا ہو. جب صائمہ کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی جواب نہ آیا تو عمران کو حیرت ہوئی.
کچھ کہو گی نہیں
عمران چلتا ہوا اس کے برابر آ کھڑا ہوا.
“بہت ساری شکایتیں ہوتی ہیں کرنے کو، لیکن تمہیں دیکھتے ہی دل ارادہ بدل دیتا ہے. صائمہ نے دل میں کہا”
میرے پاس آپ کو کہنے کے لیے کبھی بھی کچھ نہیں تھا. آپ جو بھی کہہ رہے ہیں بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں. مگر میں واپس اپنوں میں نہیں جاؤں گی. آپ کسی اچھی شہرت والے یتیم خانے میں مجھے چھوڑ آئیں. آپ کا احسان ہوگا دوسرا صائمہ کو اپنے گلے میں کانٹے چبھنے لگے
دوسرا ……. ؟؟ عمران نے تعجب سے اسے دیکھا
دوسرا مجھے طلاق نہیں چاہئے. آپ جہاں مرضی رہیں جو مرضی کریں. مجھے طلاق مت دیں پلیزززز جب چاہیے ہو گی میں خود مانگ لوں گی
صائمہ کے لہجے میں التجا تھی.
پاگل لڑکی اگر تم میرے نکاح میں رہو گی تو زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاؤں گی. نہ ہی کوئی رشتہ جوڑ سکوں گی. اس طرح جذباتی ہوکر زندگی نہیں گزاری جاتی. پھر میرا کیا پتا ہے کہاں کہاں رہوں تم سے رابطہ کیسے رکھوں گا …… ؟؟ عمران کے سوال پر صائمہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جہاں شکایتوں کا ایک جہاں آباد تھا
میں دوبئی جا رہا ہوں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عدیل نے جو کچھ کیا ہے اس کی سزا یہ ہے کہ وہ میرے گناہوں کی سزا بھگتے. ساری زندگی مرتے دم تک جیل میں رہے اس کا کوئی اپنا نہیں جیسے میرا آپا کے سوا کوئی اپنا نہیں تھا عمران کی بات پر صائمہ کو شدید دکھ ہوا ( تو آپ نے کبھی مجھے اپنا سمجھا ہی نہیں. صائمہ کے دل میں درد اٹھا) اسی لیے کوئی اُس کی مدد کو نہیں آئے گا. میرے اوپر سے اس پریس کانفرنس کے بعد سارے الزامات ہٹ جائیں گے اور میں آزاد ہو جاؤں گا. اس سے پہلے کہ وہ انسپکٹر مزید میرے لیے مشکلات کھڑی کرے. میں یہاں سے کہیں بہت دور چلا جانا چاہتا ہوں. عمران نے ایک سرد آہ بھرتے اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے. کب جائیں گے …… ؟؟ صائمہ نے بے تابی سے پوچھا بس یہاں سے فارغ ہوتے ہیں میں نے “رانا ہاؤس* جانا ہے دیکھوں تو سہی جاتے جاتے پھوپھو ایسا کیا میرے لئے چھوڑ گئی ہیں جب کہ زندگی میں انہوں نے عمر کو ہمیشہ مجھ پر فوقیت دی ہے. عمران کے لہجے میں طنز تھا مرنے والوں کے بارے میں اس طرح بات نہیں کرتے. صائمہ کو برا لگا مرنے والوں نے مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی. عمران نے سر جھٹکا تبھی رفاقت دروازے پر دستک دیتا اندر داخل ہوا سر میں نے پریس کانفرنس arrange کردی ہے.رفاقت نے ہاتھ باندھے مؤدبانہ انداز میں بتایا ہمممم ٹھیک ہے.رفاقت میرے بعد میری travail agency میڈم چلائیں گئی. تم نے ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا ہے. عمران نے صائمہ کی طرف اشارہ کرتے کہا تو رفاقت نے ادب سے سر ہلاتے باہر کا رخ کیا. نہیں سر بہت معذرت میں ایسا کچھ نہیں کروں گی. آپ مجھے جانے سے پہلے کسی یتیم خانے چھوڑ آئیں. صائمہ نے سر نفی میں ہلایا میں نے تمہاری رائے نہیں مانگی حکم دیا ہے جسے ماننا تمہاری مجبوری ہے. آخر تمہیں مجھ سے محبت ہے. عمران نے مسکراتے ہوئے طنز کیا تو صائمہ نے نظریں جھکا لیں سر مگر صائمہ نے کچھ بولنا چاہا
اگر مگر کچھ نہیں یہ گھر بھی تمہارے پاس ہی رہے گا. آرام سے یہاں رہو. تم نے میرے ساتھ بہت وفا کی ہے. یہ اس کا انعام ہے. میں کسی کا قرض نہیں رکھتا. عمران کے جواب پر صائمہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی
کچھ کہنا ہے ……. ؟؟ عمران نے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی گویا وقت کا احساس دلا رہا ہو.
نہیں سر میرے پاس آپ کو کہنے کے لیے کبھی بھی کچھ نہیں رہا. میں آپ کا وقت برباد نہیں کرنا چاہتی. صائمہ نے کہتے ہوئے راستہ چھوڑ دیا
مجھے جیسے ہی فلائٹ ملے گی میں چلا جاؤں گا. شاید تم سے دوبارہ اتنی فرصت سے ملاقات نہ ہو پائے. عمران نے صائمہ کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا جب کہ صائمہ کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے گرنے لگے تھے کہ وہ کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہی تھی. عمران کچھ دیر اس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر دروازے کی طرف بڑھ گیا
اپنا خیال رکھنا اور خوش رہنا. بات بات پر رونا چھوڑ دوں. جب کوئی خیال رکھنے والا نہ رہے تو اپنا خیال خود رکھتے ہیں. امید ہے تم میری باتوں پر عمل کروں گی. اس گھر اور میرے آفس کو اچھے سے سنبھالو گی. میں تمہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں. عمران نے ہنڈل پر تیزی سے ہاتھ رکھا اور باہر نکل گیا جبکہ پیچھے صائمہ زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی.
اللہ جی یہ سب میرے ساتھ کیوں …..؟؟ میں نے کبھی اپنی محبت میں خیانت نہیں کی پھر وہ مجھے کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں. کیا یہ سب ایسے ہی ہونا تھا اگر ایسے ہی ہونا تھا تو مجھے سر سے محبت کیوں ہوئی آخر کیوں آپ نے مجھے سر سے ملایا …… ؟؟ صائمہ گلہ شکوہ کرتی نڈھال ہونے لگی.
“ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺗﻮ ﺩﯼ ﮨﻮﺗﯽ
ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ
ﻣﻠﻨﺎ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﺭﺳﺘﮧ ﮬﯽ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺘﮯ
ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺍﺗﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ , ﺩﻝ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺗﮯ”
🖤🖤🖤🖤🖤
اسفند نے ہینڈل گھمایا تو خلاف توقع دروازہ کھلتا چلا گیا سامنے ہی وہ اپنا سر گھٹنوں پر رکھے بیڈ پر بیٹھی تھی. آہستہ سا دروازہ بند کرتے وہ بیڈ کے قریب آ کھڑا ہوا. دونوں کو ہی ایک دوسرے کی موجودگی کا بخوبی احساس تھا مگر پھر بھی کمرے میں خاموشی کا راج تھا.
ناراض ہو …….. ؟؟ کافی دیر بعد لفظوں کی جوڑ توڑ کرتے اسفند نے پوچھا
نہیں بہت خوش ہوں. ایک اور دفع ماریں، ذلیل کریں. اشمل نے سراٹھاتے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا
تمہاری غلطی تھی _ اسفند کو اشمل کے جواب سے تھوڑی ہمت ملی تو اس کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھ گیا. ہاں ساری غلطی ہی میری تھی نکاح سے لے کر اب تک آج مجھے شدت سے احساس ہوا ہے. اشمل منہ پھیرتی آئینے میں اپنا عکس دیکھنے لگی
نہ تم مجھے سے جھوٹ بولتی، نہ مجھے غصہ آتا ہے. اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یقیناً ایسا ہی کرتا. میرا ری ایکشن تمہارے جھوٹ پر بلکل نارمل تھا. اسفند نے ٹھہر ٹھہر کر مناسب لفظوں سے اپنا دفاع کیا
مگر میں حلفاً کہتی ہوں کہ اگر آپ کی جگہ سر عمران ہوتے تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے. وہ غصے میں بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑتے. اشمل کا جواب ایک بار پھر اسفند کا دماغ گھوما گیا مگر وہ یہ سوچ کر آیا تھا کہ بات نرمی سے کرے گا کیونکہ غصے سے وہ نہیں سنتی لہذا خاموش ہوگیا اور پھر خاموشی نے طوالت اختیار کر لی.
اگر مزید گوہر افشانی نہیں کرنی تو جائیں تاکہ میں بھی جا سکوں _ اشمل نے سر جھکائے اسفند کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اشمل کیا ہم نارمل طریقے سے بات نہیں کر سکتے …….. ؟؟ اسفند نے دوستانہ رویہ اپنایا ہم نارمل ہیں ……… ؟؟ انداز سوالیہ تھا. جس پر اسفند سر کھجانے لگا اشمل تم میری زندگی میں بالکل زبردستی داخل ہوئی تھی میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ تمہاری جیسی لڑکی میری شریک حیات بنے. اپنی بات کے آخر میں اسفند نے اشمل کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی مگر جب شادی ہو گئی ہے تو اب میں چاہتا ہوں کہ یہ رشتہ بنا رہے. تم ایک ذمہ دار لڑکی ہونے کا ثبوت دو. تم بتاؤ کہ تمھیں مجھ سے کیا شکایت ہے اور تم کیا چاہتی ہو …….. ؟؟اسفند کا لہجہ اب بہت نرم تھا جبکہ اس کا چہرہ تھکاوٹ سے چور تھا. میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی. میں نے باہر کے ملک جانا ہے. مجھے اکیلا رہنا پسند ہے. میں نے شادی ایک گونگے فقیر سے کی تھی نہ کہ انتہائی بد زبان افسر سے
اشمل نے سر جھٹکا.
خیر اب یہ تو زیادتی ہے میں ایسا تو نہیں ہوں. میرے محکمے والے مجھے بہت تمیز دار مانتے ہیں. اسفند نے اپنے بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیرا
میں آپ کے ساتھ زیادتی کر سکتی ہوں. سوچیں اگر کرسکتی تو آج خاموش رہتی ……… ؟؟ اپنے بارے میں آپ کو بہت غلط فہمی ہے. اشمل نے جتلاتے ہوئے دوبارہ گھٹنوں پر سر رکھ لیا اور پھر کمرہ خاموشی میں ڈوب گیا
کیوں آئے ہیں…… ؟؟ اش کے پوچھنے پر اسفند نے کمر کے بل لیٹتے ہوئے آنکھیں موند لیں.
دادو نے بلایا ہے ناااا آپ خود نہیں آئے. اگر آپ خود آتے تو مجھے اچھا لگتا مگر آپ کو میرے رونے کی پرواہ ہی نہیں تھی. _ اشمل کو دکھ تھا مجھے پورا یقین تھا کہ تم رونے دھونے والی لڑکی نہیں ہو. ورنہ یہاں سے جاتا ہی نہ
رہی بات دادو کے بلانے کی تو ہاں انہوں نے کال کی تھی. اسفند نے اقرار کیا.
جائیں یہاں سے اور مجھے اپنے وعدے کے مطابق طلاق اور ٹیکٹس لے کر دیں تاکہ میں آپ کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی جاؤں. اشمل کے لہجے میں دکھ کے ساتھ ساتھ غصہ بھی تھا. جسے نوٹ کرتے اسفند بے چینی سے اٹھ بیٹھا.
ٹھیک ہے میں تمہارے دونوں مطالبے پورے کر دیتا ہوں مگر ایک شرط پر _ اسفند کے جواب پر اشمل نے چونک کر اسے دیکھا جیسے اُسے اس بات کی امید نہ تھی. پہلا سوال اسفند نے اپنی انگشت شہادت کھڑی کرتے کہا
کیا تم مجھ سے طلاق لینے کے بعد عمران سے شادی کرو گی ……. ؟؟ اسفند کے سوال پر اشمل بہت غور سے اسے دیکھنے لگی پھر ہنستی ہی چلی گئی.
مجھے بچپن سے قائداعظم کی وکالت والی پکچر سے محبت ہے. وہ کتنے خوبصورت لگتے تھے بلیک کوٹ میں، بلکل کسی ریاست کے شہزادے جیسے، وہ میری پہلی محبت تھے. پھر اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا
مجھے دوسری بار مارشل آرٹ کے ماہر ” بروسلی ” سے عشق ہوا. دن رات ان کی موویز دیکھتی تھی. کاش میں انھیں ایک بار مل سکتی . اشمل نے آہ بھری.
کالج میں پہنچتے پینچتے میں “مائیکل جیکسن” کی دیوانی ہو گئی. میں اپنے من ہسند ہیرو “برینڈ پٹ” ساتھ پکچر بنوانی چاہتی تھی. مجھے “امجد اسلام امجد اور فرحت عباس شاہ” بہت اچھے لگتے ہیں.
میں “شاہد آفریدی” سے ملنا چاہتی ہوں. وہ بہت پیارے ہیں. آج کل میرا تازہ ترین اور پتہ نہیں کتنے نمبر والا عشق” وہاج علی اور احد رضا میر” ہے.
کیا میرا مذہب اور یہ معاشرے صرف پسندیدگی کی بنا کر مجھے ان سے شادی کی اجازت دے گا یا میں اتنی پاگل نظر آتی ہوں کہ ان سے شادی کے لیے اپنا گھر برباد کروں گی……. ؟؟
مجھے سر عمران بھی انہی لوگوں کی طرح پسند ہیں اور بس، نہ ان سے زیادہ کچھ ہے اور نہ کم اشمل کی باتیں اسفند کو بلکل اچھی نہیں لگیں. سر عمران مجھے پرسنلٹی وائز بہت پسند ہیں. میرے خیال سے مردوں کو ویسا ہی ہونا چاہیے. رہی بات شادی کی تو میں آج ایک بات بتا دوں کہ سر نے مجھے شادی کی آفر کی تھی مگر وہ میں نے اپنے گونگے فقیر کے لیے ٹھکرا دی. کیا سمجھے …….. ؟؟ اشمل کے پوچھنے پر اسفند کی آنکھوں میں حیرت کے تاثرات ابھرے دوسرا سوال اسفند کی خاموشی پر اشمل نے اس کے آگے چٹکی بجائی جبکہ وہ بلکل گم صم اسے دیکھ رہا تھا .
تم نے جھوٹ کیوں بولا ……… ؟؟ اسفند نے اپنی الٹے ہاتھ سے اشمل کی انگلیوں کو اپنی گرفت میں لیا جن سے اشمل چٹکی بجا رہی تھی.
میں بتا چکی ہوں مجھے سر پسند ہیں. میں نہیں چاہتی انھیں سزا ہو. دوسرا وہ صائمہ کے شوہر ہیں تو اشمل کا جواب اسفند کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا تھا. جس پر وہ خاموش ہو گیا.
بیک گراؤنڈ میں کوئی میوزک یا اشتہار نہیں چل رہے لہٰذا اگلا سوال خود ہی پوچھ لیا کریں. اشمل کے بلانے پر اسفند نے اس کی طرف دیکھا
تم یورپ جا کر کیا کرو گی …… ؟؟ اسفند کے تیسرے سوال پر اشمل نے کندھے اچکائے
جھاڑو ماروں گی، کسی انگریز کا کتا نہلا دیا کروں گی، بیچارے بوڑھے انگریز کی کئیر ٹیکر بن جاؤں گی یا پھر کسی بڑے سٹور می سیل گرل لگ جاؤں گی. اشمل کے جواب پر اسفند نے قدرے قریب ہوتے اس کا ہاتھ نرمی اور محبت سے اپنے ہاتھوں میں لیا.
دیکھو تم یہ سب مت کرو. تمہیں جو کچھ بھی چاہیے مجھے بتاؤ میں لا کر دوں گا. تم اس فلیٹ میں رہو اور اسے ایک گھر بنا دو. مکمل گھر جس میں ہم دونوں ہوں اپنے بچوں ساتھ
کیا کرو گی طلاق لے کر یوں پردیس میں دھکے کھا کر، اسفند کی بات پر اشمل نے طنزیہ مسکراتے اسے دیکھا
اس آفر کی مدت کب تک ہے کیونکہ آپ بات کر کے مکر جاتے ہیں. سوری میرا مطلب ہے بھول جاتے ہیں. آپ کی ہسٹری چیک کی ہے میں نے اشمل کے سوال پر اسفند نے اس کا ہاتھ چھوڑتے اپنا سر دبایا.
اشمل میں سیدھا سادہ بندہ ہوں. مجھے لفظوں کا جال بننا نہیں آتا. بس آسان لفظوں میں میرا تمہیں طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے.تم جیسی بھی ہو بس ٹھیک ہو. تمہارے ساتھ میری زندگی گزر جائے گی. گو کہ اس میں ایڈونچر زیادہ ہوں گے مگر مجھے قبول ہے. اسفند نے سنجیدگی سے کہا
مگر مجھے قبول نہیں ہے. مجھے ایسا بندہ نہیں چاہیے جو محبت کی باتیں بھی ایسے کرے جیسے خبریں پڑھ کر سنا رہا ہو. نہ کوئی شعر نہ محبوبہ کی تعریف
اشمل کے جواب پر اسفند کی نیند سے بند ہوتی آنکھیں پوری کھل گئیں.
اشمل بی بی کہیں تو رُکا کرو، آگے سے آگے اسٹیشن بدلتی رہتی ہو، تم لڑکی ہو یا ٹرین …… ؟؟
میں صرف ایک شرط پر آپ جیسے بتمیززز اور انتہائی غیر رومنٹک شخص ساتھ رہوں گی. ایک تو آپ پورے کے پورے اس فلیٹ میں شفٹ ہو جائیں یا مجھے بھی وہاں رکھیں جہاں آپ رہتے ہیں. تاکہ مجھے احساس ہو کہ میں شادی شدہ ہوں. دوسرا آپ سر عمران کے کیس سے دستبردار ہو جائیں. سر مجھے پسند ہیں میں نہیں چاہتی انھیں سزا ہو. بس بات ختم اسفند کا اچھا خاصا موڈ اشمل کی بات سے پھر بگڑنے لگا تھا.
وہ مجرم ہے سزا تو اس کی بنتی ہے یاررررر
اسفند نے بے بسی سے اشمل کی طرف دیکھا
وہ آپ کا بھی تو کچھ لگتا ہے. کبھی سوچا ہے کہ آپ اپنے ہی بھائی کو تکلیف دینے پر لگے ہوئے ہیں. اشمل کی بات پر اسفند ایک جھٹکے سے دور ہوا.
عمران اور میرا بھائی ….. ؟؟ اسفند نے اپنے سینے پر انگی رکھی.
وہ جس عورت کو آپ اپنی ماں جیسی بتاتے ہیں ناااااا وہ اُن کی پھپھو ہیں. جو ان پر جان دیتیں تھیں. آپ کم از کم ان کے احسانوں کا بدلہ ہی دے دیں. اشمل کی بات پر اسفند کے چہرے پر اضطراب بڑھا اگر میری بات پر یقین نہیں تو ڈاکٹر عمر رانا سے پوچھ لیں کہ عمران کون ہے …… ؟؟ وہ کوئی معمولی بیک گراؤنڈ رکھنے والا انسان نہیں ہے. کبھی سوچا ان میں یہ رکھ رکھاؤ کہاں سے آیا ہے …..؟ ؟ وہ ایک شریف اور خاندانی انسان ہیں پیشہ ورانہ مجرم نہیں. جن کے ہاتھوں میں آپ کی تربیت ہوئی ہے. جنھوں نے آپ کو اس مقام پر پہنچایا ہے. وہ سر عمران پر جان چھڑکتی تھیں آخر سر میں کچھ تو خاص تھا نااااا
جو وہ عورت ایک انسپکٹر اور ایک ڈاکٹر بیٹا ہونے کے باوجود سر عمران کے لیے ترستی تھیں. اشمل کی باتوں سے اسفند کا سر چکرانے لگا
مجھے تو آپ پر حیرت ہے. آپ نے یقیناً سر عمران پر ریسرچ کی ہو گی تو کبھی اُن کی فیملی کے بارے میں جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی ……..؟؟
(اگر کی ہوتی تو لگ پتہ جاتا.بڑے انسپکٹر بنے پھرتے ہیں. پتہ نہیں کس بےوقوف نے نوکری دے رکھی ہے. اشمل نے آخری جملہ دل میں کہا تھا. ) اسفند کو اپنے ارد گرد سب گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا.
سر ان کے لیے بہت اہمیت رکھتے تھے جنہوں نے آپ کی تربیت کی ہے. ان کے صدقے ہی سر کو چھوڑ دیں.
اشمل کی بات پر اسفند نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
اشمل میرا سر درد سے پھٹ جائے گا. آج کا دن ہی منحوس تھا. میں بہت تھک گیا ہوں. آرام کرنا چاہتا ہوں. میں بھی انسان ہوں. تم نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے. مجھے درد نہیں ہوتا. اسفند کے لہجے میں پہلی بار اشمل نے بے بسی محسوس کی.
وہ ایک مجرم ہے اور مجرم کو سزا ضرور ملنی چاہیے بس میں اور کچھ نہیں جانتا. اسفند نے بات ختم کی
مجرم تو میں بھی ہوں. چھوٹے موٹے بے شمار جرم کیے ہیں اور آپ یہ سب باتیں جانتے ہیں پھر ……… ؟؟ مجھے اس لیے نہیں پکڑ رہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں اگر سر عمران بھی آپ کے شوہر یا بیوی ہوتے تو آپ انہیں بھی بخش دیتے اشمل کی بات پر اسفند نے اسے عجیب نظروں سے گھورا.
ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں …… ؟؟ اشمل کنفیوز ہوئی.
میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ٹھیک ٹھاک گفتگو کر رہی ہوتی ہو کہ اچانک تمہاری گفتگو موٹروے پر جاتے جاتے جی ٹی روڈ پر اتر جاتی ہے. اسفند کے جواب پر اشمل ہنس پڑی.
ہنستی رہا کرو اچھی لگتی ہو. یوں منہ نہ بنایا کرو. اسفند کے کومنٹس پر اشمل دوبارہ سنجیدہ ہو گئی.
سوری مجھے تم پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا مگر میں اس وقت اپنے قابو میں نہیں تھا. اسفند نے اپنے پاؤں کارپٹ پر بےچینی سے رگڑے
میں نے تو سنا تھا کہ آپ دوسروں کو قابو میں رکھتے ہیں تو اپنے اوپر اختیار نہیں. اشمل کے سوال پہ اسفند ہلکا سا مسکرا تے ہو ئے تکیہ کھینچ کر پاؤں لٹکاتے بیڈ پر لیٹ گیا.
اگر ایک کپ چائے مل جائے تو مہربانی ہوگی ورنہ لائٹ بند کر دو مجھے شدید نیند آرہی ہے. اسفند نے آنکھیں موندتے نیند بھری آواز میں کہا
اپنے کمرے میں جا کر سوئیں یہ میرا کمرہ ہے. اشمل نے اسے سوتا دیکھ کر ہلایا
یہ میرا کمرہ ہی ہے. نیند سے بوجھل آواز میں جواب آیا اشمل کچھ دیر اسے گھورتی رہی پھر بستر سے اترنے لگی تبھی اسفنف نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
چپ چاپ یہاں میرے پاس بیٹھی رہو. خبردار جو کمرے یا فلیٹ سے باہر جانے کا سوچا بھی _
آواز میں وارننگ تھی.
اتنی رات کو میرا بھاگنے کا ارادہ فی الحال کینسل ہے. اشمل بتاتے ہوئے ہاتھ چھڑانے لگی
میں بھاگنے بھی نہیں دوں گا. یہاں میرے پاس ہی بیٹھی رہو. نیند آئے تو سو جانا نہیں تو میرا سر دبانا. اسفند نے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کی.
گلا نہ دبا دوں …..؟؟ اشمل نے خود کلامی کی
جو مرضی ہے کرو مگر مجھے سونے دو سخت نیند آ رہی ہے. اسفند کو اشمل کی بڑ بڑاہٹ سہی سنائی تو نہ دی مگر اسے اشمل کے جذبات سمجھ آ رہے تھے جس پر وہ مسکراتا نیند کی وادیوں میں ڈوب گیا.
🖤🖤🖤🖤🖤
جاری ہے.