No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
تم کہاں تھے اتنے دنوں سے نظر نہیں آئے ……..؟؟ پتہ میں روز تمہیں دیکھتی تھی مگر تم تو آفس کے باہر بیٹھتے تھے. آج یہاں کیا کر رہے ہو …… ؟؟ روز روز اڈہ نہیں بدلتے نقصان ہوتا ہے. شاپنگ مال کے باہر اسفند کو دیکھ کر اشمل نے پوچھا جبکہ وہ حیران پریشان سا اپنے اردگرد دیکھنے لگا
دادو یہ ہے آپ کا ہونے والا داماد _ اسفند جو اشمل کے یوں سرعام بےتکلفانہ رویے سے پہلے ہی کنفیوز ہو رہا تھا. اُس کے منہ سے لفظ “داماد” سُن کر سکتہ میں آ گیا. ہائے اشمل تجھے کیا ہو گیا ہے. شکل تو دیکھ اس کی اگر بچے باپ پر چلے گئے تو _ دادو نے اسفند کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی بھرپور آواز میں تبصرہ کیا.
تو کیا ……؟ ؟ اپنی ماں پر چلے جائیں گے. ویسے ماں کون سی حور پری ہے. آپ پریشان نہ ہوں اور رشتہ پسند کر لیں. پلیز دادو اتنی مہنگائی میں اب ایسے رشتے ہی ملتے ہیں. اسفند حیرانگی سے کبھی دادو اور کبھی اشمل کو دیکھ رہا تھا جو اُس کے بارے میں ایسے گفتگو کر رہیں تھیں جیسے وہ شاپ پر رکھی کوئی چیز ہو.
شام ہو رہی ہے گھر چلیں …… ؟؟ اشمل نے اسفند کے قریب ہوتے ہوئے کہا انداز اتنا اپنائیت بھرا تھا کہ اسفند چند لمحوں کے لیے دم بخود رہ گیا.
بارش ہونے والی ہے اس لیے کہا مجھے پتہ ہے کہ تم اپنے کاروبار پر کمپرومائز نہیں کرتے مگر بیمار پڑ جاؤ گے. اشمل نے کہتے ہوئے اوپر کی طرف دیکھا
ایسے کیوں دیکھ رہے ہو. کچھ غلط کہا میں نے ویسے صحیح کم ہی کہتی ہوں. اشمل ہنسی کو اسفند اُس سے نظریں چُرا گیا.
یہ لڑکی زبردستی میرا ایمان خراب کر رہی ہے. فتنا کہیں کی اسفند نے سوچتے ہوئے آتے جاتے لوگوں کو دیکھا
آؤ آج تمہیں میں اپنا گھر دکھاتی ہوں. آخر شادی کے بعد تم نے وہاں ہی رہنا ہے. اشمل ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ بارش کا قطرہ اُس کے ماتھے پر گِرا.
لو جی ہماری شادی تو اب ضرور ہو گی. دیکھو بارش کے قطرے گرنے لگے ہیں. جب میں کوئی بات کروں اور بارش ہونے لگے تو میں سمجھ جاتی ہوں کہ اللہ جی نے منظوری دے دی ہے. اسفند نے اشمل کی بات پر نفی میں سر ہلایا اور مخالف سمت قدم اٹھانے لگا
اگر آج تم میرے ساتھ گھر نہیں گئے تو تم مجھے جانتے نہیں ہو میں کس قدر شور مچا کر تمہاری دھلائی کرا سکتی ہوں. کم از کم ایک مہینہ تک ہسپتال میں پڑے مجھے یاد کرو گے. اس لیے چپ چاپ ساتھ چلو اشمل نے اشمل اتنی نرمی سے مسکرا کر دھمکی دے رہی تھی کہ گزرنے والوں کو یوں لگ رہا تھا جیسے اپنے لیے دعا کا بول رہی ہو.
چل اشمل جلدی کر، قاسم گھر پر اکیلا ہے. دادو کے یاد دلانے پر اشمل کے تیور بگڑے.
قاسم کو کسی بھی قسم کا گھر سے کوئی خطرہ نہیں. اگر خطرہ ہے تو گھر کو ہے.اشمل کے جواب پر دادو نے اسے ناراضگی سے دیکھا اتنے میں ایک رکشہ قریب آ کر رکا.
چلو بیٹھو نااااا اشمل نے اسفند سے کہا
ہمیں بھی ساتھ لے چلو فقیر سے زیادہ مزہ کرائیں گے. اسفند کی جگہ قریب سے گزرتے دو لفنگے لڑکوں نے جواب دیا.
دادو جلدی بیٹھو دیر ہو رہی ہے. اشمل نے اُن لڑکوں سے نظر بچاتے ہوئے دادو کی طرف اشارہ کیا. اس سے پہلے کہ دادو ساتھ اشمل رکشہ میں بیٹھتی ایک لڑکے نے اُس کا دوپٹہ کھینچا جس کی وجہ سے وہ گرتے گرتے بچی.
اسفند کو جتنی دیر سمجھنے میں لگی کہ کیا ہوا ہے. اُتنی دیر میں اشمل نے اسفند کے ہاتھ سے کاسہ لے کر پوری قوت سے ایک لڑکے کے سر پر دے مارا اور ساتھ ہی ساتھ زورو شور سے رونا اور چیخنا شروع کر دیا.
دیکھتے ہی دیکھتے مال کے باہر رش لگ گئی. وہ لڑکے بھی اس صورتحال کے لیے تیار نہ تھے گھبرا گئے. پھر اُن کے ساتھ جو ہوا وہ اسفند سوچ بھی نہیں سکتا تھا.
اب بیٹھ بھی جاؤ. اشمل کی آواز پر اسفند پلٹا جبکہ چند لوگ اشمل کو رکشہ میں بیٹھا کر جانے کا کہہ رہے تھے. رکشہ جلد ہی اس رش سے نکل کر سڑک پر آ گیا.
اگر تم میرے ساتھ نہ چلتے تو آج میں نے تمہارا اِس سے بھی زیادہ برا حال کرنا تھا. یاد رکھو اس دنیا میں جتنے بھی “مکروفریب” ہیں. اُن میں عورت کا مکر سب سے زیادہ خطر ناک ہے.
مجھے عام لڑکی مت سمجھنا. میں اچھی خاصی غنڈہ طبیعت، جھوٹی، لالچی اور خود غرض ہوں. اس لیے کسی قسم کی دو نمبری سے پرہیز ہی تمہارے لیے بہتر ہے.
الٹے ہاتھ پر مڑ جاؤ اشمل نے رکشہ والے کو راستہ بتایا. پھر وہ ایک انتہائی تنگ گلی کے کنارے آ رکے. اشمل نے کرایہ دیتے ہوئے اترنے کا کہا
آج تو میں کرایہ دے رہی ہوں کیونکہ تم پہلی بار اپنے سسرال آئے ہو مگر آئندہ تم دو گے. میری ساری ذمہ داریاں تمہارے ذمے ہیں. اچھاااااا اب وہ لوگ ایک تنگ گمی سے گزر کے ایک دروازے کے آگے رکے.
کبھی بھی گھنٹی نہیں بجانا اس میں کرنٹ ہے ورنہ خود بجنے لگوں گے. اشمل نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اسفند سے کہا
اماں اتنی دیر لگا دی. مجھے بھوک لگی ہے. قاسم نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا جبکہ اشمل نے پہلے اسفند کو داخل ہونے کا اشارہ کیا.
اماں یہ کیا چیز ہے …… ؟؟؟ قاسم نے اسفند کا جائزہ لیتے حقارت سے پوچھا جبکہ قاسم کو دیکھ جر اسفند کو کسی کی یاد آنے لگی مگر کس کی ……. ؟؟ وہ مسلسل قاسم کو گھور رہا تھا.
یہ چیز نہیں ہے بلکہ اس کے قبضے میں بہت سی چیزیں ہیں. اشمل نے دادو کی جگہ جواب دیا.
بیٹھ جاؤ زیادہ شرمانے کی ضرورت نہیں ہے. اشمل نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اپنی چارپائی کی طرف اشارہ کیا جبکہ اسفند قاسم کو دیکھنے میں مصروف تھا.
آج کل فقیروں کے بھیس میں غنڈے اور دہشت گرد ہوتے ہیں. اماں آپ کو اسے گھر نہیں لانا چاہیے تھا. قاسم کا موڈ خراب ہو گیا تھا.
یہ اس گھر کا داماد ہے. دادو کے بتانے پر قاسم کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا.
کیا ……؟ ؟ بے ساختہ منہ سے پھسلا
یہ بلکل ٹھیک کہہ رہیں ہیں. اشمل نے تائید کی.
(اس سے تو بہتر ہے کہ آپ اس کی شادی مجھ سے کر دیں. قاسم نے اشمل کو دیکھتے ہوئے سوچا.)
اشمل نے غور کیا کہ دادو کل سے کچھ بجھی بجھی سی ہیں. حالانکہ انھیں بہت خوش ہونا چاہیے تھا.
کیسا لگا گھر …….. ؟؟ قاسم کو غصے سے باہر جاتا دیکھ کر اشمل نے اسفند سے پوچھا
پرانی طرز پر بنا یہ چھوٹا سا گھر رہنے والوں کے سلیقے کا منہ بولتا ثبوت تھا. اسفند نے کھوئے کھوئے سے انداز میں سر ہلایا
اچھا نہیں لگا نااااا مگر یہ تب بہت اچھا لگتا ہے جب بارش ہوتی ہے اور ہم بھیگتے نہیں. سخت گرمی میں سایہ دیتا ہے. رات کے اندھیرے میں اس کی چار دیواری تحفظ فراہم کرتی ہے. اشمل کی باتوں پر اسفند اپنے خیالوں سے باہر آیا.
( یہ لڑکی کیا ہے …… ؟؟ کبھی کبھی تو اس کی باتوں پر حیرت ہوتی ہے. اسفند بس سوچ ہی سکتا تھا. )
یہ لو صابن اچھی طرح منہ ہاتھ دھو لو پھر کھانا کھاتے ہیں. اشمل نے صابن اسفند کے آگے رکھا تو اس نے بڑی مشکل سے اپنی حیرت کو کنٹرول کیا.
تم کہیں کسی اور مذہب کے پیروکار تو نہیں جو یوں طہارت سے ڈرتے ہو. اشمل نے اسفند کی حیرت کو نوٹ کیا.
اگر تمہارا مذہب مختلف ہے تو ابھی بتا دو. یہ نہ ہو کہ بعد میں پتہ چلے کسی “سِکھ” سے شادی کر لی ہے.
تم مسلمان ہی ہو نااااا اشمل نے محتاط انداز میں پوچھا مگر اسفند صرف اور صرف صابن کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں جھماکا ہوا کہ اُس نے قاسم کو کہاں اور کیوں دیکھا تھا ……. ؟؟
♣️♣️♣️♣️♣️
دروازے پر ہوتی مسلسل دستک نے عمران کی نیند میں خلل ڈالا. صبح صبح کون مر گیا ہے ……. ؟؟ عمران نے انتہائی غصے سے پوچھا
صاحب جی وہ عذرا بی بی آپ کو بلا رہیں ہیں. ساری رات عدیل صاحب گھر نہیں آئے. بہت پریشان ہیں. رو رہیں ہیں. آیا جی نے باہر سے ہی بتایا.
وہ کتے کا بچہ نشہ کر کے چندہ بائی کے کوٹھے پر پڑا ہو گا اور کہاں جانا ہے اُس نے، کون اسے منہ لگاتا ہے. آپا کو دیکھو، بےوقوف اس کے لیے رو رہی ہے. عمران نے بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں. ابھی وہ دوبارہ سونے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ دوبارہ زوردار دستک ہوئی.
صاحب جی آپ آ رہے ہیں. عذرا بی بی کو کیا کہوں ……؟ ؟ آیا جی نے پوچھا
آ رہا ہوں. آپا کو بولو پریشان مت ہوں. میں پتہ کرواتا ہوں. عمران نے تسلی دیتے کروٹ لی تو نظر کے سامنے جو منظر آیا اُس نے آنکھیں بند کرنے سے روک دیا.
صائمہ نیچے کارپٹ پر اپنے آپ سے بیگانہ سو رہی تھی. اس کے کالے لمبے بال بکھرے تھے. جو اُس کے چہرے پر بے ترتیب یونے کے باوجود خوبصورت لگ رہے تھے. عمران نے اسے دیکھتے ہوئے بیک کراؤں سے ٹیک لگائی اور اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل سے پکڑا.
ساری نیند خراب کر دی. عمران نے نمبر ڈائل کرتے موبائل کان ساتھ لگا جبکہ نظریں ابھی بھی صائمہ پر تھیں.
ہاں ناجو بات سنو!!! عدیل بھائی کی گاڑی ٹریس کرو. پتہ کرو کہ وہ کہاں ہیں رات بھر گھر نہیں آئے. عمران نے اپنے خاص بندے کو حکم دیتے کال بند کی اور دوبارہ صائمہ کو دیکھنے لگا
سوچا تو تمہارے بارے میں کچھ اور تھا مگر اب میری نیت بدل گئی ہے. صائمہ بی بی سزا تو تمہیں ملے گی مگر اب انداز مختلف ہو گا. عمران دل میں سوچتا ہوا بستر سے نکلا اور فرش ہونے واش روم چلا گیا.
ابھی عمران کو گئے چند لمحے ہی ہوئے ہوں گے کہ دروازہ دوبارہ بجنے لگا اس بار دستک کم تھی اور دروازے جو پیٹا زیادہ جا رہا تھا.
صائمہ جو مزے سے ہیٹر کے آگے سو رہی تھی. اس بے ہنگم آواز پر جاگی. کمرے میں اس وقت کوئی نہیں تھی. صائمہ نے پنے بال سمیٹیں اور شال لیتے ہوئے دروازہ کھول دیا.
جتنا حیران وہ صائمہ کو دیکھ کر ہو رہی تھی اُس سے کئی گنا زیادہ عذرا حیران تھی.
آپا اندر آ جائیں. یوں کیا دیکھ رہیں ہیں. کبھی لڑکی نہیں دیکھی عمران کی آواز پر صائمہ نے پلٹتے ہوئے راستہ دیا.
عمران یہ عذرا نے آیا جی کی مدد سے اندر آتے پوچھا وہ اس وقت اپنا دکھ بھول گئیں تھیں.
اِسی سے پوچھ لیں. اس کو سچ بولنے اور ثواب کمانے کا بہت شوق ہے. عمران نے مسکراتے ہوئے بالوں میں برش کیا. وہ اس سچویشن کو انجوائے کر رہا تھا.
لڑکی تم کون ہو اور میرے بھائی کے کمرے میں کیا کر رہی ہو …….. ؟؟
تم جیسی لڑکیوں نے معاشرے کو خراب کر رکھا ہے. جہاں امیر اور خوش شکل لڑکا دیکھا وہاں اپنی عزت کی پرواہ کیے بغیر چل دیں. عذرا کا غصہ صائمہ پر اترنے لگا جبکہ عمران مسلسل مسکرا رہا تھا جو کہ اس کی شخصیت کا خاصا نہ تھا.
وہ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں. صائمہ کے منہ سے بمشکل نکلا
ایسی نہیں ہو تو یہاں کیا کر رہی ہو اور مجھے تم سے ایسی حرکت کی امید نہیں تھی. تم ایسی حرکتیں باہر بھی کرتے ہو گے تبھی عدیل کہتے تھے کہ عمران غلط کاموں میں پڑ گیا ہے.
شادی کا کہو تو تم ناراض ہو جاتے ہو اور یہ سب عذرا نے ایک بار پھر صائمہ کی طرف دیکھا جو دیوار سے لگی مدد طلب نظروں سے عمران کو دیکھ رہی تھی.
آپا میری پیاری اور بھولی آپا!!! تھوڑی سپیڈ کم کریں. آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی. اور یہاں بیٹھ کر میری بات سنیں. عمران نے محبت سے عزرا کو تھامتے ہوئے بستر پر بیٹھایا اور خود ان کے برابر بیٹھ گیا.
آپ کو میں ایسا لگتا ہوں ……. ؟؟ عمران کے پوچھنے پر عذرا نے نفی میں سر ہلایا مگر نظریں صائمہ پر گئیں.
تم ادھر آؤ اچانک عمران کا لہجہ بدلا اور اُس نے صائمہ کو ہاتھ کے اشارے سے قریب آنے کو کہا جس پر وہ ڈری سہمی اُن دونوں کے سامنے آ رکی.
کیسی ہے ……. ؟؟ عمران نے نرمی اور محبت سے پوچھا
بہت گندی عذرا نے شدید غصے سے صائمہ کو دیکھ کر کہا جس پر صائمہ کی آنکھیں نم ہونے لگی جبکہ عمران نے ایک جاندار قہقہ لگایا.
آپا اب یہ گندی ہے یا اچھی مگر آپ کو اسے برداشت کرنا ہو گا. عمران نے شرارت سے عذرا کی طرف دیکھا
کیوں ….. ؟؟ عذرا آپا کو کسی گڑ بڑ کا احساس ہوا.
مطلب یہ کہ آپ روز میرا سر کھاتی تھی کہ شادی کر لو، شادی کر لو تو مجھے آدھی رات کو خیال آیا کیوں نہ کر ہی لوں. بس پھر اتنی رات کو ایسی ہی لڑکی ملتی ہے. صبح کا انتظار اس لیے نہیں کیا کہ کہیں پھر میرا ارادہ نہ بدل جائے. عمران نے بتاتے ہوئے محبت سے عذرا کو اپنے ساتھ لگایا.
یہ کیا کہہ رہے ہو تم نے شادی کر لی وہ بھی یوں میرے ارمانوں کا کیا ہو گا ……. ؟؟
تم میرے اکلوتے بھائی ہو بلکہ بیٹے ہو. مجھے یہ لڑکی پسند نہیں. رات کے اندھیرے میں یوں بھاگ کر آنے والی لڑکیاں گھر نہیں بسایا کرتیں. اسے واپس چھوڑ کر آؤ جہاں سے لائے ہو.
عذرا آپا کی باتیں صائمہ کو شدید دکھ دے رہیں تھیں جوکہ اس کے چہرے سے ظاہر تھا. عمران نے ایک نظر صائمہ کو دیکھا اور پھر کھڑا ہو گیا.
ابھی مجھے آفس سے دیر ہو رہی ہے. پھر عدیل بھائی کا بھی پتہ کرنا ہے. ہم اس بارے میں پھر بات کرتے ہیں. آج سے یہ آپ کے سارے کام کرے گی اور یقین مانے یہ اتنی گندی نہیں ہے جتنی آپ کو لگی ہے. عمران کہتا جانے لگا
عدیل کا نمبر بھی ریسپانس نہیں کر رہا. میرا دل بہت پریشان ہے. تم جانتے ہو وہ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں ……. ؟؟ مجھے عدیل چاہیے ہر قیمت پر عذرا نے آس بھری نظروں سے عمران کی طرف دیکھا.
کاش آپ کو کبھی اُس شخص کا اصل روپ پتہ نہ چلے. میں آپ کو ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتا. عمران نے دل میں سوچتے ہوئے سر ہلایا اور صائمہ کی طرف متوجہ ہوا.
ثواب کماؤ تمہیں بہت شوق ہے نااااا لیکن اگر آپ ساتھ میرے بارے میں زرا سی بھی بکواس کی تو مجھے تم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا. عمران نے بظاہر مسکراتے صائمہ کے گال کو چھوا.
کافی ہے آپ مجھ کو محبت سے دیکھ لیں
مجھ پر نثار اپنے دل و جاں نہ کیجئے!
♣️♣️♣️♣️♣️
دادو میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ کچھ چپ چپ سی ہیں. کیا ہوا ہے …….. ؟؟ اشمل نے دادو کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا جبکہ اُن دونوں کو دیکھتے ہوئے اسفند رفو چکر ہونے کے بارے میں سوچ رہا تھا.
اشمل شاید تو ٹھیک کہتی تھی. میں جس بیٹے کے لیے اتنا عرصے تڑپتی رہی. وہ اب میرا بیٹا نہیں رہا. وہ اب ایک خاوند اور باپ بن گیا ہے. دادو نے دکھی سی شکل بناتے ہوئے جواب دیا جس پر اشمل ہنسنے لگی.
دادو یہ تو قدرت کا قانون ہے. جیسے مرغی کے نیچے انڈے رکھو تو بچے نکلتے ہیں بلکل ایسے ہی جب کسی لڑکے لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو وہ پہلے میاں بیوی پھر والدین بن جاتے ہیں. اشمل کی تشریح پر اسفند نے دل میں اسے داد دی.
(بکواس کرنے میں تو یہ ارحم کا بھی سرا ہے. پتہ نہیں کمینہ کہاں ہو گا. کتنے دنوں سے اس کی بکواس سننے کو نہیں ملی. اسفند نے ارحم کو مِس کیا. )
میرا مطلب ہے کہ وہ اپنی بیوی کے کہنے پر واپس آیا ہے. یہ گھر بیچنے، مجھ سے ملنے نہیں _ دادو نے بات ختم کرتے اپنی نم آنکھوں کو صاف کیا.
دادو پہلی بات یہ یے کہ آپ کو ایکٹنگ بلکل بھی نہیں آتی. دوسرا اتنی گندی ایکٹنگ پر میں آپ کے ساتھ رو نہیں سکتی. لہٰذا میری معزرت قبول کریں.
رہی بات مکان بیچنے کی تو میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ایک لالچی اولاد ہے. جسے ماں سے کوئی غرض نہیں بے.
کیسے آپ نے اسے پال پوس کر بڑا کیا. راتوں کو اُس کے لیے جاگیں. آج وہ بیوی کے پیچھے لگا ہوا ہے.
اولاد تو آج کل کی ساری ہی نافرمانبردار ہے مگر خاص طور پر یہ لڑکے تو بیوی ملنے کے بعد بوڑھی ماں کو بھول ہی جاتے ہیں. جہنم میں جائیں گے یہ بیوی کی بانہوں میں جھولنے والے کمینے بیٹے اشمل نے اندر آتے قاسم جو دیکھ کر کہا
تم اپنا منہ بند رکھا کرو خاص طور پر میرے معاملات میں _ میں اپنی ماں کو ساتھ لے کر جاؤں گا. قاسم کہتے ہوئے اسفند سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا.
نہ ویزہ، نہ پاسپورٹ بےوقوف کسی اور کو بناؤ دادو یہ مکان بیچ کر خود غائب ہو جائے گا ہاں مگر جاتے جاتے آپ کی محبت میں آپ کو اولڈ ہاؤس چھوڑ دے گا . میں آپ کو خبردار کر رہی ہوں آگے آپ کی مرضی اشمل نے خوب مصالحہ لگایا.
تمہیں کیوں اتنی تکلیف ہو رہی ہے ……… ؟؟ میری ماں ہے اور مجھے تم سے زیادہ عزیر ہیں. قاسم کہتا ہوا دادو پاس آ بیٹھا
آپ کو صرف اپنی بیگم سے محبت ہے جن کے کہنے پر آپ یہاں پائے جاتے ہیں. ماں کا کوئی احترام ہی نہیں. کل آپ کی اولاد بھی آپ ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گی.
دادو میں آپ کو ایک بار پھر بتا رہی ہوں اپنے ہاتھوں سے اپنی چھت مت برباد کریں. بہت پچھتائیں گئیں. اشمل نے چڑاتے ہوئے قاسم کی طرف دیکھا.
بار بار میری بیوی کا ذکر مت کرو. اُس نے مجھے اماں کے بارے میں کچھ نہیں کہا. قاسم نے فوراً جواب دیا.
اچھااااااااااااا پھر رات کو چھت پر کون کہہ رہا تھا کہ ” ابھی اماں زندہ ہیں مکان بیچنا اتنا آسان نہیں” اشمل کے انکشاف پر دادو نے غم و غصے سے پاس بیٹھے قاسم کو دیکھا جس کے تاثرات یکدم بدل گئے تھے.
تم نے چھپ کر میرا فون سنا. تمہیں شرم نہیں آئی. قاسم دھاڑا جبکہ اسفند ہر لمحے بدلتی اس صورتحال کو خوب انجوائے کر رہا تھا.
دادو ان کے خیال میں تو آپ کو اب تک مر جانا چاہیے تھا. آپ کو زندہ دیکھ کر انھیں کافی “خشکی” ہوئی. “خوشی” تو ہو نہیں سکتی تھی. کیوں میں نے ٹھیک کہا ہے ……. ؟؟ اشمل نے مزے سے قاسم کے چہرے پر آتے غصے کو دیکھا
جو اولاد آپ کو اپنی جوانی میں ایک معمولی لڑکی کے لیے چھوڑ جائے اور جاتے جاتے نقدی اور زیور بھی ساتھ لے اڑے یہ سوچے بغیر کہ ماں کا پیچھے کیا بنے گا اُس سے امید رکھنا میرے خیال سے احمقوں کی جنت میں رہنا ہے.
میرے حساب میں تو بیٹے کی پیدائش پر کم از کم ماں کو خوش نہیں ہونا چاہیے آج کل کے بیٹے تو بمشکل بیس سال ماں کے ساتھ رہتے ہیں اس کے بعد وہ اپنی بیگم کو پیارے ہو جاتے ہیں. جتنا مرضی ماں کے نافرمان ہوں مگر بیگم کے فرمانبردار ہی نکلتے ہیں جیسے چائنا کے خربوزے مٹھے ہی نکلتے ہیں. اشمل نے پوری کوشش کی کہ دادو کا دل قاسم کی طرف سے کھٹا ہو جائے اور وہ کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئی.
اماں آپ مجھ پر یقین کریں _ قاسم چلایا. ہاں یقین کریں تاکہ میں آپ کو در بدر کر کے چھوڑ جاؤں. اشمل کے جواب پر قاسم اسے غصے سے مارنے کے لئے اٹھا مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی مت کرنا. میں سر پھاڑنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتی. عام لڑکیوں کی طرح مجھے رونا دھونا بالکل پسند نہیں بلکہ میں ماردھاڑ کو زیادہ پسند کرتی ہوں. اشمل نے قریب پڑی بانس کی لاٹھی کو پکڑا. اماں آپ اسے کچھ کہتی کیوں نہیں ……… ؟؟ قاسم، دادو کی طرف پلٹا کیونکہ وہ آپ کی اصلیت جان کر صدمے میں ہیں. اس لیے فی الحال بولنے سے قاصر ہیں. اشمل کی طرف سے جواب آنے پر قاسم غصے سے اسکی طرف بڑھا تم جانتی ہو کہ میں تمہارا کیا حشر کر سکتا ہوں ……. ؟؟ میں تمہیں بیچ دوں گا. تم مجھے ابھی جانتی نہیں. قاسم نے دبی آواز میں اشمل کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے دھمکی دی. بیچ دو. مگر یاد رکھنا قیمت تمہیں ادا کرنی پڑے گی وہ بھی بہت مہنگی میرا باس انتہائی حرامی آدمی ہے. میں اس ساتھ ڈیل کر لوں گی. جس کے نتیجے میں تمہاری ٹانگیں توڑوا کر اپنے ہونے والے شوہر کے کاروبار کو مزید پھیلاؤں گی.
میں دادو نہیں جو گھر بیٹھ کر افسوس کروں گی. مجھے تماشا لگانا تماشا دیکھنے سے زیادہ پسند ہے. اشمل کہتی ہوئی دوبارہ اسفند کے قریب چارپائی پر بیٹھ گئی. جب کہ قاسم کمرے سے باہر چلا گیا. اس نے دادو کی طرف دیکھا جو اپنے آنسو صاف کر رہی تھیں پھر اسفند کو جو اسے داد طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا
یہ سارا بھاشن تمہارے لئے نہیں ہے. تم صرف بیوی کے حقوق پڑھا اور سنا کرو. بیوی پر پیسے خرچ کرنے کا سب سے زیادہ ثواب ہے اور خاوند سے بیوی کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا اور اگر بیوی خاوند
کے پیسے چوری چھپے نکال لے تو اسے کوئی گناہ نہیں ہوتا سمجھے اشمل نے فوراً ماں کے حقوق سے بیوی کے حقوق میں سوئچ کیا تو اسفند مسکرانے لگا
چلو اب جلدی سے پیسے نکال. آخر مولوی کو نکاح پڑھانے کے لیے دینے ہیں. جب تک تم نکاح نہیں کرو گے میں تمہیں اس گھر سے باہر جانے نہیں دوں گی. اشمل کے دو ٹوک لہجے پر اسفند پریشان ہوگیا. وہ عدیل کے بارے میں ارحم کو ہدایت دینا چاہتا تھا جو فی الحال مشکل نظر آ رہا تھا. اسفند نے اشارے سے واش روم کا پوچھا
اُس طرف ہے. مگر یاد رکھنا واش روم کی نہ تو چھت ہے اور نہ دروازہ لہذا زیادہ ہوشیاری مت کرنا میں کسی چیز کا لحاظ نہیں رکھوں گی. اندازہ تو ہوگیا ہوگا. اشمل کی دھمکی پر اسفند نے سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گیا.
چل اشمل بی بی تجھے شادی مبارک ہو. بہت محنت کی ہے تو نے اپنی شادی کے لیے، گونگا میاں بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے. اللہ تجھے سدا خوش رکھے آمین __ اشمل کہتی ہوئی کمر کے بل بستر پر لیٹ گئی.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.
