No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا. جب عمران کی آنکھ کھلی. اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا. کمرہ میں الیکٹرک ہیٹر کی وجہ سے کمرے کا درجہ حرارت زیادہ تھا مگر اتنا نہ تھا کہ پسینے آتے.
عمران اٹھ کر بیٹھتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا جبکہ دل کی دھڑکن غیر معمولی دھڑک رہی تھی. لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے وہ خود کو نارمل کر رہا تھا.
میرے خیال سے کوئی بھیانک خواب تھا. ایسا حقیقت میں نہیں ہو سکتا کبھی نہیں _ بڑبڑاتے ہوئے وہ سائیڈ ٹیبل سے پانی اٹھا کر پینے گا. شکر ہے خواب تھا. عمران نے نے بستر سے نیچے اترتے ہوئے سوچا اور کمرے میں چکر کاٹنے لگا جیسا خواب دیکھا ہے اگر ویسا ہو گیا تو میرا کیا ہو گا …….؟؟ کیا میں ساری زندگی جیل میں گزاروں گا. میرا کئرئیر تباہ ہو جائے گا. میری جوانی گزر جائے گی. میرے تو پیچھے آنے والا بھی کوئی نہیں ہے. آپا تو خود بیمار اور اپنے شوہر پر اندھا اعتماد کرنے والی بھولی عورت ہیں. وہ کیسے میرے لیے کچھ کر سکتی ہیں …… ؟؟ عدیل اس کی تو خصلت ہی دھوکہ دینا ہے. وہ نمک حرام ہے. میرے کیا کام آئے گا …… ؟؟ عمران چکر کاٹتے مسلسل سوچے جا رہا تھا.
اللہ نہ کرے ایسا ہو. کبھی نہ ہو عمران تھک کر صوفے پر بیٹھنے لگا تو نظر سوتی ہوئی صائمہ پر پڑی. بے دھیانی میں وہ اسے دیکھنے لگا
کہیں مجھے اس لڑکی کی تو بدعا نہیں لگی نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے. میں نے کونسا اس پر ظلم کیا ہے …… ؟؟
ظلم تو عدیل نے کیا تھا تو سزا بھی اسی کی بنتی ہے. میری تھوڑی عمران نے اپنے ماتھے کو انگلیوں سے مسلتے ہوئے سوچا اس کی آنکھیں لال جبکہ سر درد سے پھٹ رہا تھا.
یہ لڑکی تو مجھ سے محبت کی دعویدار ہے. کیا یہ میرے لیے قربانی دے گی …… ؟؟
اگر یہ میرے لیے اپنی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے. محبت نام ہی قربانی کا ہے.
میں اس کے نام سب کچھ کر کے خود دوبئی چلا جاتا ہوں. ہاں یہ ٹھیک رہے گا. عمران کی آنکھوں میں اچانک چمک ابھری.
اگر حالات ٹھیک ہو گئے تو واپس آ جاؤں گا اور اگر یہ حالات کو سنبھالنے میں ناکام رہی تو خود ہی بھگتی رہی گی. میں دوبئی میں ہی کوئی کام دیکھ لوں گا. کم از کم آزاد تو رہوں گا. مجھے جیل جانے سے بہت ڈر لگتا ہے. عمران نے اپنی سوچ پر مسکراتے ہوئے صائمہ کی طرف ہاتھ بڑھایا
صائمہ بازو ہلکے سے ہلاتے ہوئے عمران نے انتہائی محبت بھرے لہجے میں پکارا. آنکھ کھلتے ہی اپنے اوپر یوں عمران کو جھکا دیکھ کر صائمہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں.
پریشان مت ہو. میں ہوں عمران وہ میرے سر میں بہت درد ہے. چائے پینے کو دل کر رہا ہے مگر کوئی بنانے والا موجود نہیں. کیا تم ایک کپ چائے بنا دو گی …..؟ ؟ عمران آہستہ آواز میں کہتے ہوئے پیچھے ہٹا
جی سر کیوں نہیں صائمہ نے نیند سے بوجھل آنکھوں کو ملتے ہوئے جواب دیا.
تم بہت اچھی ہو. نیند خراب کرنے پر شرمندہ ہوں. مگر کیا کروں مجھے خود چائے بنانا نہیں آتی. عمران کی بات پر صائمہ سر ہلاتی اپنا دوپٹہ دیکھنے لگی.
یہ لو شاید تم اسے ہی تلاش کر رہی ہو. عمران نے کارپٹ پر گرا دوپٹہ اتھاتے ہوئے کہا جسے صائمہ نے فوراً پکڑ لیا. اپنے بال باندھتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ دوپٹہ اب کندھے پر جھول رہا تھا.
تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں. حیرت ہے میں نے کبھی غور کیوں نہیں کیا …..؟؟ اپنے عقب سے آتی عمران کی آواز پر وہ رک گئی.
سر پلیز صائمہ نے روکنا چاہا
اس وقت ہم آفس میں نہیں ہیں تو تمہارے منہ سے یہ “سر” کافی فضول لگ رہا ہے. میرے خیال سے ہمارے درمیان ایک رشتہ اور بھی ہے. جس کی بدولت تم میرے کمرے میں پائی جا رہی ہو. ورنہ میرے کمرے میں تو کیا گھر میں بھی کوئی آفس ورکر داخل نہیں ہو سکتا. عمران نے خاصے جتلانے والے انداز میں ٹوکا
چلو میں تمہارے ساتھ کچن ہی چلتا ہوں. ویسے بھی میں اکیلے کمرے میں کیا کروں گا ……. ؟؟ عمران کا اتنا محبت بھرا رویہ صائمہ کو ہضم نہیں ہو رہا تھا.
لگتا ہے صائمہ تیرا کوئی اور امتحان شروع ہونے والا ہے. سر کا یوں اچانک اتنا اچھا ہو جانا خطرے کی علامت ہے. یہ تو بغیر مقصد کے کسی کو سلام نہیں کرتے کجا یوں مسکرا مسکرا کر باتیں کرنا. صائمہ چائے بناتے اپنی سوچوں میں گم تھی جبکہ عنران شلف ساتھ ٹیک لگائے اسے غور سے دیکھ رہا تھا.
تم اچھی خاصی خوبصورت ہو کافی دیر بعد عمران کے لبوں سے یہ جملہ ادا ہو تو صائمہ کے ہاتھ سے کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا.
میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا تم پر حالانکہ تم “قابل غور” ہو. عمران کی باتیں صائمہ کو پریشان کرنے لگیں تھیں مگر اس نے جلد ہی اپنے جذبات اور تاثرات پر قابو پا لیا.
سر چائے چائے کا کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے صائمہ نے آگے کیا.
اپنے لیے نہیں بنائی ….؟؟ کپ پکڑتے ہوئے عمران نے اچنبھے سے پوچھا
( بڑی جلدی احساس ہو گیا سامنے ہی بنا رہی تھی اتنا نہیں کہا گیا کہ اپنے لیے بھی بنا لو. ) صائمہ نے دل میں سوچتے ہوئے سر نفی میں ہلایا.
چلو باہر لان میں واک کرتے ہوئے چائے پیتے ہیں. آدھی تم پی لینا. کیا تم میرا جوٹھا پی لو گی …….. ؟؟ عمران کے سوال پر صائمہ جو اوپر جانے کا سوچ رہی تھی نفی میں سر ہلانے لگی
سوچ لو شوہر کا جوٹھا کھانے، پینے سے محبت بڑھتی ہے. عمران نے مسکراتے ہوئے چائے کا گھونٹ بھرا.
سر آپ کو جو بھی مجھ سے کام ہے وہ آپ بلاجھجک کہہ سکتے ہیں. ان جملوں کی ضرورت نہیں. صائمہ کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی اور لہجہ میں سرد پن تھا.
صائمہ اب ایسا بھی نہیں ہے. میں بھی انسان ہوں سینے میں دل رکھتا ہوں. فلرٹ نہیں کر رہا بس غور تم پر آج کیا ہے. عمران کو صائمہ کا یوں مخاطب کرنا برا لگا
سر میں آپ کو آپ سے زیادہ جانتی ہوں. آپ کے لہجے میں یہ جو مٹھاس اور اپنا پن ہے ناااااا یہ صرف کام کے وقت آتا ہے.
آپ عام لوگوں سے بہت مختلف ہیں. آپ پریشانی میں غصہ نہیں کرتے، گالیاں نکالتے، نہ ہی کسی نشے کا سہارا لیتے ہیں بلکہ آپ ایک دم نرم اور میٹھے ہو جاتے ہیں. صائمہ تلخی سے مسکرائی اسے عمران کی پچھلی گفتگو یاد آ گئی تھی.
بہت جاننے لگی ہو عمران نے گھونٹ بھرتے کپ صائمہ کے لبوں ساتھ لگایا.
پی لو شاید کچھ مٹھاس تمہاری باتوں میں بھی آ جائے. عمران کے زور دینے پر صائمہ نے گھونٹ بھرا تو حیران رہ گئی اس میں چینی نہیں تھی.
یہ تو بلکل پھیکی ہے بلکہ کڑوی صائمہ نے کپ پیچھے کیا.
تم نے بہت دل سے بنائی ہے وہ بھی خاص میرے لیے _ شاید اس لیے کڑوی ہو گئی. عمران کندھے اچکاتا کپ سینک میں رکھنے لگا. سوری سر جان کر نہیں کیا. صائمہ کچھ شرمندہ ہوئی. سوری کی کوئی بات نہیں. مجھے بھی اگر کوئی نرم گرم بستر سے جگا کر چائے بنانے کا کہے گا تو میں بھی ایسی ہی بناؤں گا. جیسی تم نے بنائی ہے. میرا مطلب ہے نیند میں ایسی ہی بنتی ہے. عمران نے بڑے میٹھے انداز میں بےعزتی کی جسے صائمہ نے بخوبی محسوس کیا. سر کبھی ابھی صائمہ نے کچھ کہنا ہی چاہا تھا کہ عمران نے اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی.
ہر وقت بحث نہیں کرتے نہ ہی ہر وقت بحث اچھی لگتی ہے. آدھی رات، گرتی بارش اور ہم تم چلو کمرے میں چلتے ہیں. عمران کی بات پر صائمہ نے اسے حیرانگی سے دیکھا چائے بنا دی ہے تو اب “سر” بھی دبا دو اگر دل کرے تو “گردن” بھی دبا سکتی ہو تاکہ میں سکون سے سو سکوں. عمران نے کہتے ہوئے صائمہ کا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا. سیڑھیاں چڑھتے ہوئے صائمہ عجیب کشمکش کا شکار تھا. کبھی وہ اپنے ہاتھ کو دیکھتی جو عمران نے تھام رکھا تھا اور کبھی اس کی باتیں سوچتی جبکہ عمران اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے منصوبہ بنا رہا تھا.
حسین زلفیں، دلکش آنکھیں، حسن سراپا جمال تھا اک وفا کی کمی تھی ساقی باقی یاررر کمال تھا.
♣️♣️♣️♣️♣️
اسفند خاموشی سے بیٹھا عدیل کو دیکھ رہا تھا جو اب مار کھانے کے بعد کافی نڈھال ہو چکا تھا.
تو پھر صاحب بہادر کیا سوچا ہے آپ نے ………… ؟؟ ارحم نے عدیل کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پوچھا
مجھے جو کچھ معلوم تھا وہ میں نے سب سچ سچ بتا دیا ہے. اس سے زیادہ مجھے کچھ معلوم نہیں عدیل کی حالت قابل رحم ہو رہی تھی.
سر ہم نے اس کی بتائی تمام جگہوں پر چھاپہ مارا ہے مگر وہاں سے کچھ نہیں ملا. اس کے بتائے تمام نمبرز اور ایڈریس بھی غلط ہیں. ارحم نے اسفند کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو عدیل کو گھور رہا تھا.
ایسا نہیں ہو سکتا. میں خود ان جگہوں پر کئی بار گیا ہوں. میں سچ کہہ رہا ہوں آپ میری بات کا یقین کیوں نہیں کرتے ……؟ ؟
پلیز مجھے چھوڑ دیں. میں نے کچھ نہیں کیا. عدیل نے اسفند کے آگے ہاتھ جوڑتے التجا کی.
اچھااااااااااااا تو وہ ریپ اور قتل تیرے باپ نے کیا تھا. ارحم نے اچانک اس کو بالوں سے پکڑتے جھٹکا دیا.
ریپ کیا تھا مگر قتل نہیں وہ بھی اب مسئلہ حل ہو گیا ہے. اس لڑکی نے مجھے معاف کر دیا ہے. عدیل نے دردناک چیخ ساتھ اقرار کیا.
چل تجھے چھوڑ دیتے ہیں. کیا یاد کرے گا. مگر اتنا بتا دے کہ اس لڑکی صائمہ ساتھ عمران نے نکاح کیوں کیا ہے. جبکہ وہ اس کے ساتھ نہیں رہتی …..؟ ؟
ایک ریپ گرل ساتھ شادی وہ بھی نامی گرامی بزنس مین کی. بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی. کہیں محبت کا چکر تو نہیں ارحم کے سوال پر اسفند مسکرایا
عمران محبت کر ہی نہیں سکتا. وہ صرف اپنے مطلب کا یار ہے اور بس عدیل نے کراہتے ہوئے جواب دیا.
تمہیں صبح تک مزید ہماری مہمان نوازی برداشت کرنا ہو گی. اس کے بعد ہم تمہیں چھوڑ دیں گے. اسفند کیتا کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ ارحم نے بھی ایک ناگوار نظر عدیل پر ڈالتے ہوئے اس کی پیروی کی.
کیا سوچ رہا ہے ……. ؟؟ ارحم نے ریلنگ ساتھ لگے اسفند سے پوچھا
یہی کہ عمران سمارٹ نہیں اوو سمارٹ ہے اور یہ ساری سمارٹنس اس لڑکی کی وجہ سے ہے جو اس کی سیکرٹری پلس بیوی ہے. اب مجھے عمران کی شادی سمجھ آنے لگی ہے. اسفند کے جواب پر ارحم نے ہنستے ہوئے سر نفی میں ہلایا.
کوئی اتنا بے غیرت کیسے ہو سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو اپنے گندے دھندے کے لیے استعمال کرے ……؟ ؟ ارحم نے افسوس سے سر ہلاتے دوسرے کمرے کا دروازہ کھولا
میرے حساب میں وہ لڑکی کمپیوٹر کی ماہر ہے اور عمران کے تمام سیاہ کرتوتوں کو وہی چھپاتی ہے. اس سے شادی کی وجہ بھی یہی ہے کہ نہ پیسے دینے پڑیں اور کام بھی مفت میں ہو جائے. وہ ایک کمینہ بندہ ہے. یقیناً محبت کے جھانسے میں پھنسایا ہو گا. حرامی باتیں اپنی شکل کی طرح بہت خوبصورت کرتا ہے. اسفند کے لہجے میں دکھ تھا.
لڑکی اٹھوا لوں کیا کہتے ہو ….. ؟؟ ارحم نے ہءٹر آن کرتے پوچھا جبکہ اسفند بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گیا.
میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ لڑکی کا بھی انٹرویو ہونا چاہیے کیونکہ عمران صرف اسی کے ہاتھوں پھنس سکتا ہے اور کسی کے نہیں. ماننا پڑے گا کمینہ شاطر ہے اسفند کہتے ہوئے گھڑی دیکھنے لگا
کیا بیگم پاس جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے ….؟؟ ارحم کی شرارت پر اسفند نے بغیر دیکھے تکیہ اس کی طرف اچھالا
کونسی بیگم، کیسی بیگم _ کہہ دو سب جھوٹ ہے. وہ جو افلاطون ہے وہ تمہاری بیگم نہیں …… ؟؟ ارحم کی باتوں پر اسفند خاموش لیٹا رہا جبکہ اس کا خیال تھا کہ غصہ کرے گا. ناچاہتے ہوئے بھی اسے انجانے میں مجھ سے تکلیف پہنچی حالانکہ میں یہ چاہتا نہیں تھا. اسفند پہلی بار اتنا سنجیدہ ہوا تھا. “محبت تو نہیں لیکن انوکھا رابطہ ہے کوئی مجھے اک شخص کی تکلیف سے تکلیف ہوتی ہے” مطلب ارحم نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا
وہ میرے جیسے حالات سے گزری ہے مگر پھر بھی مجھ سے زیادہ مضبوط اور زندہ دل ہے. میں نے کبھی اس کی آنکھ میں بے یقینی یا نفرت نہیں دیکھی جو اس دن اپنے لیے دیکھی ہے. مجھے اس کی بکواس سننے کی عادت ہو گئی ہے بلکل اسی طرح جیسے تیری _ اسفند کروٹ لیتا ارحم کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا مجھے رگڑا دینا ضروری ہے ……. ؟؟ ارحم منہ بناتا پیچھے ہو کر بیٹھ گیا. منا لے کافی دیر بعد ارحم کی آواز کمرے میں گونجی.
کیسے ……؟ ؟ اسفند ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا.
جہاں تک مجھے اس کی سمجھ آئی ہے تو وہ پیسے پر جان دیتی ہے. پیسہ اس کی کمزوری ہے. تُو اسے پیسے دے پھر دیکھ کیا کہتی ہے …..، ؟ ارحم کے مشورہ پر اسفند نے اسے ناسمجھی سے دیکھا
سادہ سی بات ہے وہ تجھے طلاق دینے کے ایک لاکھ دے رہی تھی. اب تو اسے طلاق کے ساتھ ایک لاکھ دے. وہ خوش ہو جائے گی. ارحم نے کندھے اچکائے
طلاق _ تجھے کس نے کہا کہ میں اسے طلاق دوں گا ……. ؟؟ اسفند کا انداز سوالیہ تھا. تُو خود ہی کہہ رہا تھا مجھے کیا پتہ ارحم نے خفگی سے دیکھا
طلاق تو نہیں دینی یہ میں نے سوچ لیا ہے. حادثاتاً ہی سہی مگر اب وہ میری بیوی ہے اور اسفند کہتا اٹھ کھڑا ہوا
اور فلیٹ میں سیٹ کروا دیتا ہوں جناب کی دلہن کے لیے نوکر ہوں سرکار کا، ارحم بھی اسفند کے دیکھا دیکھی اٹھ کھڑا ہوا جبکہ اسفند نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا
فلیٹ بھی سیٹ کروا دے عدیل کو چھوڑ دے عمران کی سیکرٹری کو اٹھا لے. اسفند حکم دیتا باہر نکل گیا.
واہ جی یہ بھی کر دے، وہ بھی کر دے. نواب صاحب کی لاٹری لگی ہوئی ہے. ارحم بڑبڑاتے ہوئے اپنے سیل فون پر نمبر ڈائل کرنے لگا
♣️♣️♣️♣️♣️
ہائے اشمل کبھی سوچا نہ تھا کہ ساٹھ سالہ دادو ساتھ کینڈل لائٹ ڈنر کرنا پڑے گا. بجلی تیرا بیڑہ غرق پتہ نہیں کب آئے گی اشمل نے کھانا رکھتے ہوئے موم بتی کی طرف دیکھا
میں کب ساٹھ کی ہوں. جو منہ میں آئے بولتی رہتی ہے. دادو کو اشمل کا یوں کہنا برا لگا
ارے دادو ناراض کیوں ہوتی ہیں میں نے محاورتا کہا ہے. جیسے بچے اپنے جوان جہاں “پاپا” کو “بابا” کہتے ہیں. ایسا بولنے یہ پاپا تھوڑے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں. اشمل نے دوبارہ موم بتی کی طرف دیکھا
یہ تو بار بار ادھر کیوں دیکھ رہی ہے …..؟ ؟ دادو نے اشمل جو ٹوکا
دادو دیکھ رہی ہوں کہ موم بتی رات گزارے گی بھی کہ نہیں. اچھا کرتی تو دو لے آتی. اشمل نے افسوس کا اظہار کرتے روٹی کھانا شروع کی.
چھوڑ تُو ان باتوں کو اور چپ چاپ روٹی کھا ہم نے کونسا رات کو موتی پرونے ہیں جو اندھیرے میں پروئے نہیں جائیں گے. دادو نے بھی کھانا شروع کیا تبھی دروازے پر دستک ہوئی.
ایک تو ہمارے پاکستان میں مہمان اور بجلی کا کچھ پتہ نہیں. کب آئے اور کب جائے. میں تو اپنے حصے کا کھانا نہیں دوں گی. اشمل نے ناگواری سے دادو کو دیکھا تو دوبارہ دستک ہوئی.
یہاں سے ہی آواز دے کر پوچھ لے کہ کون ہے ….؟؟ دادو نے کہا مگر اشمل نے جلدی جلدی روٹی کھانا شروع کر دی.
دادو چھوڑیں جو بھی ہے خود ہی چلا جائے گا. لائٹ بھی نہیں ہے کیا پتہ کوئی چور ہو ….. ؟؟ اشمل نے کہتے ہوئے دادو کو کھانے کا اشارہ کیا. ابھی دادو نے نوالہ توڑا ہی تھا کہ اشمل کا فون بجنے لگا
یہ ابھی تک زندہ ہے. حیرت ہے. دادو نے فون کی بل پر حیرت سے اشمل کی طرف دیکھا
ظاہری سی بات ہے جب کوئی کال نہ میسج تو بیٹری کو کیا ہو گا. مجھے لگتا ہے کہ میں نے فون نہیں بلکہ ٹارچ رکھی ہوئی ہے. اشمل مسکراتے ہوئے کال اٹینڈ کرنے لگی
دروازہ کھول دیں باہر بہت سردی ہے. اسفند کی انتہائی سنجیدہ آواز سپیکر سے ابھری تو اشمل کا دل ڈوبا.
کون ہے ….؟؟ دادو نے اشمل کو خاموش دیکھ کر اونچی آواز میں پوچھا
دادو آپ کا داماد ہے گونگا اسفند نے جواب دیا تو اشمل نے کال کاٹ دی اور خاموشی سے روٹی چھوڑ کر بیٹھ گئی.
ارے تجھے کیا ہوا ہے. تُو کیوں یوں منہ بنا کر بیٹھ گئی ہے. کون تھا. کیا کہا. کہیں کسی کے مرنے کی تو خبر نہیں تھی ……؟ ؟ دادو نے ایک ساتھ کئی سوال کرتے ہوئے آخر میں دکھی شکل بنائی.
دادو کبھی تو اپنا ڈرامہ ہاؤس بند کر دیا کرو. میں پریشان ہوں. آپ کو پتہ ہے باہر دروازے پر کون ہے ……. ؟؟ اشمل نے چڑتے ہوئے پوچھا
مجھے کیا پتہ کون ہے میں تجھ سے پوچھ رہی ہوں اور تو الٹا مجھ سے سوال کیے جا رہی ہے. دادو نے ناراضگی سے اشمل کی طرف دیکھا
میں پوچھ نہیں رہی بلکہ آپ کو بتا رہی ہوں. اشمل نے پاؤں ہلاتے ہوئے جواب دیا.
اب بول بھی دے. دادو نے اپنی روٹی ختم کرتے بیزاری سے پوچھا
فقیر ہے اشمل کے جواب پر دادو نے پریشانی سے روٹی والے برتن دیکھے. ہائے اشمل ہم نے تو کھانا کھا لیا یے اسے کیا دیں گے ……. ؟؟ دادو کو ایکدم روٹی کی فکر ہوئی مجھے دے دینا اشمل غصے سے پاؤں پٹختی دروازہ کھولنے چلی گئی. وہ جتنی تیزی سے گئی تھی اس سے زیادہ تیزی سے واپس آکر چارپائی پر بیٹھ گئی.
کون تھا _ دادو نے ابھی پوچھا ہی تھا کہ اسفند کو اندر آتا دیکھ کر خاموش ہو گئی. بلیک شلوار قمیض پر براؤن کوٹ پہنے وہ خاصا پیارا لگ رہا تھا. اشمل یہ تو منہ دھو کر اچھا خاصا نکل آیا ہے یا اندھیرے میں لگ رہا ہے. دادو نے سرگوشی کی جس پر اشمل نے انھیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا. کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی. تینوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے. جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی خاموشی نہ ٹوٹی تو اسفند نے گلا صاف کرتے بات کا آغاز کیا. دادو وہ میں اسفند نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ اشمل بول پڑی.
یہ تمہاری دادو نہیں ہیں. تمہاری اور ان کی عمر میں کم ہی فرق ہو گا. اشمل کے جواب پر دادو نے گردن اکڑاتے ایک نظر اسفند پر ڈالی جبکہ اتنے دنوں بعد اشمل کی آواز سن کر وہ مسکرانے لگا.
جی بہتر اسفند نے فوراً ہار مانی. ہاں اب بتاؤ کیا بات ہے …..؟ ؟ اسفند کے جواب پر دادو نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا وہ میں دراصل ایک مشن پر تھا. ہماری نوکری ایسی ہی ہے. بھیس بدلنا پڑتا ہے. اسفند نے اشمل کو دیکھتے ہوئے بات شروع کی. نوکری اشمل نے زیر لب دہرایا لہجہ طنزیہ تھا.
جی نوکری _ میرا اپنا بزنس تو ہے نہیں. اسی نوکری پر گزارہ ہے. اسفند کے جواب پر دادو اور اشمل نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا. غریب لوگ اشمل نے خودکلامی کی.
جی آپ کہہ سکتی ہیں. اسفند کے لب دھیرے سے مسکرائے. اسفند بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا مگر اشمل نے ایک دفعہ بھی نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا.
میری وجہ سے اگر تکلیف پہنچی ہو تو معزرت خواہ ہوں. میں معزرت کرنے ہی آیا تھا. اسفند نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا
بڑی مہربانی کے آپ آئے اور ” اگر ” سے کیا مراد ہے ہمیں تمہاری وجہ سے تکلیف نہیں شدید تکلیف پہنچی ہے. اب اگر آ ہی گئے ہو تو طلاق کے کاغذوں پر سائن کرو اور چلتے بنو تاکہ ہم مزید تکلیف سے بچ سکیں. اشمل کہتی ہوئی اٹھ کر الماری سے کاغذ نکالنے لگی جبکہ اسفند اس کی پشت کو دیکھنے لگا یہ لیں سائن کریں اشمل نے فائل اسفند کے ہاتھ میں دیتے ہوئے پہلی بار اسے دیکھا
آپ نے ایک لاکھ دینے کا بھی وعدہ کیا تھا. اسفند نے فائل پکڑتے ہوئے پوچھا
میرا منہ نہ کھلوانا. ایک نمبر کے فراڈ انسان ہو. میں تو تمہیں اچھا سا شریف سا انسان سمجھتی تھی. مگر تم تو پوری جلیبی ہو. کوئی پیسے نہیں ملیں گے. سائن کرو اور چلتے بنو. دوبارہ اس گلی کی طرف مت دیکھنا ورنہ اشمل نے انگلی اٹھاتے اسفند کی طرف دیکھا
ورنہ کیا اسفند کو پہلی بار اشمل سے بحث مزہ دے رہی تھی. وہ ساری رات بھی کھڑا ہو کر اس کی ڈانٹ سن سکتا تھا.
ورنہ گلی کے کتے _ کتے ہی ہوتے ہیں. اشمل سینے پر بازو لپیٹے اسفند کی طرف دیکھنے لگی جیسے بہت بڑی دھمکی دی ہو. ہممممم یہ تو ہے مگر میں سوچ رہا تھا کہ آپ کو ایک اچھا سا فلیٹ، گاڑی اور کچھ بینک بیلنس دے دوں. آخر دھوکا دیا ہے تو ازالہ بھی کرنا چاہیے. اسفند کی معصومیت دیدنی تھی اگر ارحم دیکھ لیتا تو بےہوش ہو جاتا.
اسفند کی آفر پر اشمل نے دادو کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہیں تھیں.
جھوٹ بول رہے ہو غریب انسان پلس دھوکے باز _ اشمل کے پوچھنے پر اسفند نہ گردن نفی میں ہلائی. منہ سے بولو یہ کیا جانوروں کی طرح گردن ہلا رہے ہو. تم بول سکتے ہو. اشمل نے ڈانٹتے ہوئے دادو کی طرف دیکھا جو اسے اوکے کا سائن دے رہیں تھیں. چلو بیٹھ کر بات کرتے ہیں. اشمل نے اب کی بار قدرے نرمی سے کہا تو اسفند نے حیرت سے اسے دیکھا ارحم کمینہ لڑکیوں کے بارے میں تیرے اندازے بڑے صحیح نکلتے ہیں. کیس کی دفعہ موت پڑ جاتی ہے. اسفند دل میں سوچتا اشمل کے سامنے بیٹھ گیا. ہاں کہو کیا کہنا چاہتے ہو …. ؟؟ اشمل کے پوچھنے پر اسفند نے مسکراتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا آپ اپنا یہ مکان بیچ دیں اور جب تک انشورنس کے پیسے نہیں مل جاتے میرے فلیٹ میں رہیں. پھر آپ دونوں ویزہ لگنے پر چلی جائیں. تب تک مجھے بھی تھوڑی خدمت کا موقع دیں. اسفند کو اپنے منہ سے لفظ خدمت کچھ خاص پسند نہیں آیا. ہاں بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر میری کچھ شرطیں ہیں. کیونکہ تم قابل بھروسہ انسان نہیں ہو اس لیے _ اسفند کی آفر سے اشمل کے چہرے پر ایک رونق سی آ گئی تھی جسے اسفند نے نوٹ کیا تھا.
پھر شرطوں کا ایسا سلسلہ چل نکلا کہ کب سحر ہوئی کسی کو خبر نہ تھی. وہ دونوں اپنے مستقبل کی باتوں میں مصروف اردگرد سے بیگانہ ہو چکے تھے.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے
