No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
عجیب لڑکی ہے کتنی بار بتا چکا ہوں کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے اور نہ ہی میں تمہاری خاطر اپنا بزنس چھوڑ سکتا ہوں پھر ضد کرنے بیٹھ جاتی ہے. مجھے تو ان مردوں پر بھی حیرت ہوتی ہے جو صرف ایک “لڑکی” کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں. بے وقوف کہیں کے _ عمران نے سوچتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلایا. عورت جیسی کم عقل مخلوق کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانا سراسر احمقانہ فعل ہے. مگر یہ محبت اچھے خاصے بندوں کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے. مجھے حیرت صرف اس بات پر ہوتی ہے جو عورت اپنا اچھا برا نہیں سمجھ سکتی وہ کسی کو کیا خاک فائدہ پہنچائے گی …..؟ ؟ اب میری آپا کو ہی دیکھ لو. اگر وہ زرا سی بھی عقل رکھتیں تو جان جاتیں کہ عدیل انھیں استعمال کر رہا ہے. کہاں آپا، ایک بیمار، معمولی شکل کی عورت اور کہاں عدیل خوبصورت، جوان، پڑھا لکھا اور کم عمر کسی اندھے کو بتاؤ تو وہ بھی کہہ دے گا کہ لڑکا لالچی ہے مگر آپا ماننے کو تیار نہیں.
یہاں تو لوگ ٹھیک ٹھاک لڑکی کو گھاس نہیں ڈالتے تو آپا جیسی عورت کس کھیت کی مولی ہے. مگر عورت میں عقل ہو تب ناااا خوابوں میں رہنے والی پاگل مخلوق _ عمران ابھی اپنی سوچوں میں عورت کو کوس ہی رہا تھا کہ نرس اس کے کمرے میں داخل ہوئی. سر آپ کی گاڑی کا یہی نمبر ہے …..؟ ؟ نرس نے ایک پرچی آگے کرتے ہوئے پوچھا جی یہ میری گاڑی ہی ہے. عمران نے انتہائی بیزاری سے جواب دیا. سر آپ کے لیے ایک بری خبر ہے. نرس نے قدرے آہستہ آواز میں کہا کیا میری گاڑی چوری ہو گئی ہے …..؟ ؟ عمران نے کہنی کے بل اٹھتے ہوئے پوچھا نہیں سر وہ جو لڑکی آپ کو ہسپتال لے کر آئی تھی وہ اغواء ہو گئی ہے. جب تک ہمارے گارڈ وہاں پہنچے تب تک بہت دیر ہو گئی تھی. نرس کے بتانے پر عمران نے سکھ کا سانس لیا اور دوبارہ لیٹ گیا. عمران کو یوں اطمینان سے لیٹتا دیکھ کر نرس کو حیرت ہوئی. سر وہ لڑکی آپ کی بیوی ہی تھی نااااا جو آپ کو یہاں لائی تھی. نرس کے پوچھنے پر عمران نے ہنکار بھری.
پھر آپ اتنے مطمئن کیسے ہیں …… ؟؟ نرس کو تعجب ہوا.
میں مطمئن اس لیے ہوں کہ میرے ساتھ ایسا ہوتا رہتا ہے. کبھی بہنوئی اغواء ہو جاتا ہے اور کبھی بیگم _ لگتا ہے اگلا نمبر میرا ہے. عمران کے جواب پر نرس نے حیرانگی سے اسے دیکھا سر مگر …..؟؟ نرس نے کچھ کہنے کے لیے اپنا منہ کھولا ہی تھا کہ آگے پیچھے دو تین پولیس کانسٹیبل اندر داخل ہوتے دیکھ کر رک گئی. سر ہمیں آپ کا بیان ریکارڈ کرنا ہے. آپ کو کس پر شک ہے …..؟ ؟ ایک کانسٹیبل نے عمران کو پہچانتے ہوئے ادب سے پوچھا مجھے کسی پر بھی شک نہیں ہے آپ نامعلوم افراد کے خلاف پرچہ درج کر دیں اور پہلی فرصت میں مجھے گھر پر ملیں. عمران کا آخری جملہ پولیس کانسٹیبل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا. جی سر جیسا آپ کو ٹھیک لگے. ہمارا تو کام ہے رپورٹ لکھنا اس لیے پوچھا تھا. کانسٹیبل کے جواب پر عمران پھیکا سا مسکرا دیا. میں سمجھتا ہوں. آپ پریشان نہ ہوں. میں کسی سے شکایت کا ارادہ نہیں رکھتا. عمران نے انتہائی عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کیا. سر میں آپ کے اخلاق سے ہمیشہ ہی متاثر ہوتا ہوں. آپ اتنے بڑے بزنس مین ہونے کے باوجود بھی بہت عاجزی اور مہمان نوازی سے پیش آتے ہیں. کانسٹیبل نے عمران سے ہاتھ ملایا اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کرتا باہر لےگیا. اچھا اخلاق یا اچھے پیسے عمران نے خود کلامی کی.
انسپکٹر اسفند یار ولی تم نے اس دفعہ غلط بندے کا انتخاب کیا ہے. صائمہ مر کر بھی میرے خلاف بیان نہیں دے سکتی اسے مجھ سے محبت یے وہ بھی بے حد تمہیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اگر عدیل جیسا کمینہ تمہارے کام نہیں آیا تو صائمہ کیسے آ سکتی ہے ………. ؟؟ عمران نے خود کلامی کرتے شوکت کا نمبر ڈائل کیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
تم نے مجھے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی کہ اس لڑکی کا ریپ ہو چکا ہے. میں تو اسے اب ایک منٹ بھی اس گھر میں برداشت نہیں کر سکتی. کیا پتہ ریپ ہوا تھا یا خود ہی ایسی لڑکیاں دوسروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ کرتیں ہیں. عذرا غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی.
صرف اتنا ہی نہیں میں نے تو سنا ہے کہ وہ کوٹھے پر بھی گئی تھی. آگے اللہ کی اللہ جانے عدیل نے لوہا گرم دیکھ کر چوٹ کی.
ہائے اللہ وہ چھٹانک بھر لڑکی عمران کو الّو بنا گئی اور اسے خبر تک نہ ہوئی. کیسے معصوم بن رہی تھی. آنے دو ابھی تمہارے سامنے کھڑے کھڑے طلاق نہ دلوائی تو میرا نام بدل دینا عذرا کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی.
ایک تو آپ اپنی طبیعت مفت میں خراب کرنے لگیں ہیں.آپ کے کہنے سے طلاق نہیں ہو گی. عمران طلاق دے گا تب نااااا میرے خیال سے تو وہ اُس کے چنگل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے. عدیل نے سوپ کا گھونٹ بھرتے ہوتے کہا
ایسے کیسے طلاق نہیں دے گا. میں تو صاف کہہ دوں گی کہ اس گھر میں یا تو “وہ” رہے گی یا پھر “میں” عذرا نے اک ادا سے کہتے ہوئے عدیل کو دیکھا جو اسے تعریفی نظروں سے دیکھ رہا تھا. تبھی گیٹ پر عمران کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا.
لو بھئی آپ کے بھائی کی بہت لمبی عمر ہے ابھی ہم یاد کر ہی رہے تھے کہ وہ آن پہنچے. عدیل نے مسکراتے ہوئے عذرا کی طرف دیکھا جس کا موڈ سخت خراب تھا.
تم آرام کرو میں زرا اُس لڑکی کا بندوبست کر کے آتی ہوں. آج اُس کا اس گھر اور عمران کی زندگی میں آخری دن ہے. عذرا کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی.
اپنا خیال رکھنا. زیادہ غصہ آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے. عدیل نے عذرا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ مسکرا دیں.
آپ فکر نہ کریں. میں طس ابھی آئی. ویسے جب آپ یوں میری فکر کرتے ہیں تو مجھے اپنی قسمت پر ناز ہوتا ہے. عذرا کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئ.
لو جی سالا صاحب کیا یاد کریں گے …..؟ ؟ آپ کا سکون اور گھر میں نے برباد کر دئیے ہیں. جیسے آپ نے صائمہ کو اس گھر میں لا کر میرا سکون برباد کیا تھا. جب کہ آپ اچھے سے جانتے تھے کہ پہلے دن سے ہی میری اُس پر نظر ہے. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ “ریپ” کے بعد آپ اُس کا نکاح مجھ سے کرتے مگر نہیں. آپ خود ہیرو بن گئے اور مجھے ولن بنا دیا. مگر خیر لوٹ کر اُسے میرے پاس ہی آنا ہے. عدیل نے کہتے ہوئے قہقہ لگایا.
عذرا نے جیسے ہی لاؤنچ میں قدم رکھا سامنے سے شوکت ساتھ عمران کو اندر آتا دیکھ کر پریشان ہو گئی.
عمران تجھے کیا ہوا ہے …..؟ ؟ شرٹ کا ایک بازو پھٹا اور خون سے رنگا تھا. بازو پر سفید پٹی بندھی تھی.
کچھ نہیں بس معمولی سی چوٹ لگ گئی ہے. عمران سرسری سا جواب دیتا صوفے پر بیٹھ گیا.
سر آرام سے شوکت نے عمران کو یوں صوفے پر بیٹھتا دیکھ کر کہا بس اب میں ٹھیک ہوں. تم جا سکتے ہو اور جیسا میں نے کہا ہے ویسا کرنا. صبح آفس میں ملتے ہیں (عمران کی گفتگو عذرا کو تو سمجھ نہیں آ رہی تھی مگر شوکت بخوبی سمجھ رہا تھا کہ اُسے اب کیا کرنا ہے.) عمران کے کہنے پر شوکت سر اجازت لیتا تیزی سے باہر نکل گیا.
اب آپ کو کیا ہوا ہے. کیوں ایسے کھڑی ہیں …… ؟؟ ادھر آئیں میرے پاس عمران نے عذرا کو حیران و پریشان کھڑا دیکھ کر اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا.
عمران عذرا آپا اُس ساتھ لگ کر رونے لگیں.
چلو جی یہ کیا بات ہوئی. کیوں رو رہیں ہیں. میں تو بلکل ٹھیک ہوں. عمران نے عذرا کے گرد اپنا بازو پھیلاتے ہوئے محبت سے پوچھا
عمران تم اپنی بلکل پرواہ نہیں کرتے ہو. عذرا نے آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا.
آپا آپ نے تو آج ایک “لطیفہ” ہی سنا دیا ہے. سارا جہاں کہتا ہے کہ “عمران کو اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں” اور آپ کہتی ہیں کہ میں اپنی فکر نہیں کرتا ہوں. عمران تکلیف میں بھی مسکرا دیا.
عمران مجھے تیری بہت فکر رہتی ہے. اگر تجھے کچھ ہو جاتا تو میں جیتے جی مر جاتی. عذرا نے اپنے آنسو صاف کرتے انتہائی دکھ سے کہا
آپا یہ تو ایک کڑوا سچ ہے جیسے میں کام کرتا ہوں ویسے ایک نہ ایک دن ایک سنسناتی ہوئی گولی آئے گی اور سیدھا عمران نے اپنی دو انگلیاں دل کے مقام پر رکھیں.
اللہ نہ کرے تجھے جچھ ہو. عذرا نے فوراً عمران کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
جس کی آپ جیسی بہن ہو اسے کچھ نہیں ہو سکتا. میں مذاق کر رہا تھا. چلیں اب مسکرا دیں. عمران کے کہنے پر وہ پھیکا سا مسکرائیں.
میں تمہارے لیے ہلدی والا دودھ لے کر آتی ہوں. مجھے نوکروں پر اعتبار نہیں. عذرا اٹھنے لگی تو عمران نے روک دیا.
آپا مجھے دوائیوں کی وجہ سے سخت نیند آ رہی ہے. بلکل بھی کچھ کھانے پینے کو دل نہیں کر رہا. میں بس آرام کرنا چاہتا ہوں. پھر بات کرتے ہیں. عمران کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا. تکلیف اس کے چہرے سے عیاں تھی.
میں تمہیں کمرے تک چھوڑ آتی ہوں. عذرا نے سہارا دیتے کہا
آپا رہنے دیں. آپ تو خود بیمار ہیں. سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتیں. میں چلا جاؤں گا. عمران کہتا آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا جبکہ عذرا اسے آخری سیڑھی تک دیکھتی رہی.
اوشیٹ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا. میں نے اُس منحوس کے بارے میں پوچھنا تھا. مگر وہ ہے کہاں …؟؟
عمران ساتھ تو نہیں تھی. مطلب کمرے میں تھی. مجھ سے غلطی ہو گئی پہلے اُس کی خبر لینی چاہیے تھی. پتہ ہوتا کہ کمرے میں ہے تو عمران کے آنے سے پہلے ذلیل کر کے گھر سے نکال دیتی. عذرا نے افسوس کا اظہار کیا.
عمران نے جیسے ہی اپنے کمرے میں قدم رکھا اُسے صائمہ کی کمی کا شدید احساس ہوا. سارا کمرہ خالی خالی سا لگ رہا تھا. شوز اتارتے ہوئے غیر ارادی طور پر نظر صوفے پر گئی مگر اُسے وہاں نہ پا کر مایوس پلٹ آئی.
بستر پر لیٹتے ہوئے اس نے اپنا بازو احتیاط سے رکھا اور چھت پر لٹکے فانوس کو گھورنے لگا. وہ شروع سے ہی اس کمرہ میں اکیلا رہتا تھا. وہ تنہائی پسند تھا مگر چند دن صائمہ ساتھ گزارنے کے بعد اسے آج اپنا کمرہ کاٹ کھانے کو پڑ رہا تھا. ایک سرد آہ بھرتے اس نے دوبارہ صوفے پر دیکھا اور پھر آنکھیں موند لیں.
سر مجھے آپ سے بہت محبت ہے اپنا خیال رکھیے گا _ یہ وہ جملے تھے جو عمران کو لاکھ سر جھٹکنے کے باوجود سنائی دے رہے تھے. شٹ اپ جسٹ شٹ اپ عمران نے چلاتے ہوئے کہا اور قریب پڑا تکیہ اٹھا کر زمین پر پھینک دیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
اشمل مجھے لگتا ہے کہ “وہ” ہم دونوں سے ناراض ہو گیا ہے. اُس دن کے بعد سے آیا ہی نہیں. دادو نے اشمل کی طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا
دادو اگر آپ نے مجھے زرا سی بھی ٹنشن دینے کی کوشش کی تو میں آپ کو بدلے میں اتنی شدید قسم کی ٹنشن دوں گی کہ یہ جو آپ “بہار بیگم” بنی پھرتی ہیں نااااا ایک دم “حاجن بی” بن جائیگی. اشمل نے منہ بناتے دوبارہ سامنے لگی دیو ہیکل سکرین کی طرف دیکھا
اشمل دادو نے اسے غصے سے پکارا
دادو ہمارا ٹی وی اتنا چھوٹا تھا کہ اچھا خاصا بڑا اداکار بھی اُس میں بونا بن جاتا تھا اور ایک یہ ایل ای ڈی ہے جہاں “اقراء عزیز” بھی چھ فٹ کی لگتی ہے. اشمل نے ہنستے ہوئے دادو کی طرف دیکھا جو ناراض ناراض سی لگ رہیں تھیں.
اوہو دادو، کیا ہے. آپ کیوں اُس کی ناراضگی سے اتنا پریشان ہیں . ناراض ہوتا ہے تو ہو. ہماری جوتی کو بھی پرواہ نہیں. ہم نے کونسا یہاں رہنا ہے. جیسے ہی ہمارے پیسے آئیں گے ہم یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے. اشمل نے کہتے ہوئے مزے سے کشن گود میں رکھا.
اشمل مجھے تو تیرے فقیر ہی نسبت اُس کا دوست زیادہ بھلا لگا ہے ہنس مکھ سا _ دادو کے چہرے پر اچانک خوشی چھلکنے لگی. میں آپ کے دل کی آواز اُس تک پہنچا دوں گی مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ قبول کرے گا. اُس دن وہ ضرورت سے زیادہ ہی شوخا ہو رہا تھا اور آپ سیریس ہو گئیں ہیں. اشمل نے انتہائی سنجیدہ شکل بنائی جس پر دادو نے پاس پڑا کشن اس کی طرف اچھالا اشمل تُو دن بدن بہت ہی بد لحاظ ہوتی جا رہی ہے. وہ میرے پوتوں کی جگہ ہے. میں نے جوانی میں شادی نہیں کی تو اب کروں گی. دادو کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا. دادو ہم جس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں. اُس میں عورت ایک وقت میں دا شادیاں نہیں کر سکتی ورنہ میں آپ کی خوشی کے لیے یہ بھی کر لیتی. اچھا ایک حل نکل سکتا ہے. جب اسفند مجھے طلاق دے گا تو میں آپ کی خاطر ارحم سے شادی کر لوں گی. پتہ نہیں اشمل تُو اپنی پسند سے کبھی شادی کر بھی پائے گی کہ نہیں ……. ؟؟ اشمل نے دکھی سی شکل بنائی تو دادو نے اسے حیرت سے دیکھا
آئے ہائے لڑکی کیا اول فول بک رہی ہے. تُو نے فقیر سے شادی اپنی پسند سے ہی کی تھی کسی نے گن پوائنٹ پر نہیں کروائی تھی. دادو نے اپنی عینک اتارتے یاد دلایا.
تو کیا ہو گیا ……؟ ؟ اب اللہ جی نے اتنے پیارے پیارے لڑکے پیدا کیے ہیں کہ دوبارہ بھی شادی کرنے کو دل کرتا ہے. ابھی تو میں نے اپنے سر عمران سے بھی کرنی ہے. اگر موقع ملا تو _ اشمل نے پرجوش انداز میں کہا اشمل بن “نور جہاں” بننے کی کوشش نہ کر بہت پچھتائے گی. دادو نے ڈانٹتے ہوئے سکرین کی طرف دیکھا جہاں ڈرامہ ختم ہو چکا تھا. ڈرامہ تو ختم ہو گیا ہے. دادو کو حیرت ہوئی. ظاہری سی بات ہے آپ کے آگے ٹی وی ڈرامے کی کیا اوقات …..؟ ؟ اشمل مسکراتے ہوئے کچن میں چلی گئی. اشمل میری مان تو اسے فون کر اور کہہ کے میں اسے بلا رہی ہوں. مجھے اُس سے پوچھنا ہے کہ اگر وہ تیرے بارے میں سنجیدہ ہے تو ہم باہر کے ملک نہیں جائیں گے. میں اس عمر میں یورپ جا کر کیا کروں گی آخرت ہی خراب کرنے والی بات ہے. دادو نے صوفے ساتھ ٹیک لگاتے کہا دادو پہلی بات تو یہ ہے کہ آخرت پاکستان میں بھی خراب ہو سکتی ہے اس کے لیے آپ کو یورپ جانا نہیں پڑتا.دوسرا “وہ” سنجیدہ نہیں ہے صرف اپنی غلطی کا ازالہ کر رہا ہے. تیسرا میں تو یورپ جاؤں. مجھے بہت شوق ہے یورپ دیکھنے کا اشمل اوون میں چاول گرم کرتی اونچی آواز میں کہنے لگی تبھی ڈور بل بجی.
لگتا ہے وہ خود ہی آ گیا ہے. بھلا کوئی اتنی پیاری بیوی سے کیسے ناراض رہ سکتا ہے …… ؟؟ دادو کے چہرے پر ایک دم خوشی چھا گئی.
شوہر میرا ہے اور خوش آپ ہو رہیں ہیں. خیریت …..؟؟ اشمل نے سوالیہ نظروں سے دادو کی طرف دیکھا تو وہ اُسے مارنے کے لیے اپنا جوتا اٹھانے لگیں جس پر اشمل قہقہے لگاتی دروازے کھولنے چل دی.
آپ کو یہاں آنے کے پیسے ملتے ہیں یا کوئی اور سین ہے جو اتنے چکر لگائے جا رہے ہیں. ارحم کو کھڑا دیکھ کر اشمل نے تفتیشی انداز میں پوچھا
مس اشمل عرف بھابی صاحبہ آپ کے شوہر کسی کی خدمت میں کافی مصروف ہیں. لہٰذا مجھے حکم ملا ہے کہ آپ کی خیریت دریافت کر لوں. ارحم نے طنز کیا.
اچھااااااااااااا تو وہ اپنی ماں کی خدمت میں مصروف ہیں. اشمل نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا تو ارحم کھانسنے لگا
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ ایک سرکاری میٹنگ میں مصروف تھے تو ارحم نے بات بنائی.
کیسی میٹنگ جیسی سر عمران کرتے تھے ……؟ ؟ اشمل کا اگلا سوال خاصا بولڈ تھا.
مس اشمل آپ کو قانونی اور شرعی حق حاصل ہے آپ ان کو فون کر کے کیوں نہیں پوچھ لیتیں …….. ؟؟ ارحم اب تپ گیا تھا.
میرے فون میں بیلنس نہیں ہے آپ لوڈ کروا دیں میں کال کر لیتی ہوں. اشمل اب تک ارحم کا راستہ روکے کھڑی تھی جبکہ دادو جھانک جھانک کر آنے والے کو دیکھ رہی تھی.
اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے تو میں چلتا ہوں. ارحم کہتے ساتھ ہی پلٹا.
دادو کو مسٹر ارحم بہت پسند آئے ہیں. ان کے خیال سے وہ کافی معقول انسان ہیں. کیا آپ میری دادو کی ویران زندگی میں بہار بن کر آ سکتے ہیں ….؟؟ اشمل کی آواز پر ارحم کو شدید جھٹکا لگا
جی کیا کہا …..؟؟ ارحم نے پلٹتے ہوئے غصے سے پوچھا
وہ آپ سے مل کر بہت خوش ہوتیں ہیں. تو میں نے سوچا کنفرم کر لوں کہیں کوئی گڑ بڑ تو نہیں. اُنھوں نے بھی پوچھنے پر نہ کی اور آپ نے بھی _ اب میرا دل مطمئن ہے آپ اندر آ سکتے ہیں. میری باتوں کا برا مت منائیے گا دراصل نظر رکھنی پڑتی ہے. آج کل سوشل میڈیا نے بزرگوں کو بہت خراب کر دیا ہے. ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ اچھی خاصی بدنامی کا باعث بنتے ہیں. اشمل نے کہتے ہوئے ارحم کا راستہ چھوڑا. ارحم بچے اگر تجھے اپنی زندگی پیاری ہے تو آج کے بعد کبھی بھول کر بھی اس طرف نہ آنا ارحم کے کان اشمل کی باتوں پر لال ہو رہے تھے.
♣️♣️♣️♣️♣️
دیکھیں مس ہمیں آپ سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے. بس چند باتیں پوچھنی ہیں. آپ ان کا جواب دے دیں تو ہم آپ کو چھوڑ دیں گے. نقاب پوش شخص کے پوچھنے پر صائمہ نے نظر اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا
میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتی. جب مجھے کچھ معلوم ہی نہیں تو میں کیا بتاؤں ……؟ ؟ ہزار بار کا دہرایا جملہ صائمہ نے دوبارہ دہرایا.
سر یہ لڑکی ایسے نہیں مانے گی. آپ اسے میرے حوالے کر دیں. پھر دیکھیں نقاب پوش ساتھ کھڑی موٹی تازی عورت ( جس کی شکل پر بھی کافی سختی تھی.) نے کہا
آپ جتنا مرضی تشدد کر لیں مگر جب میں کچھ جانتی ہی نہیں تو کیا بتاؤں گی …… ؟؟ صائمہ نے عورت کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا.
بی بی کیوں اپنی دشمن بن رہی ہو. وہ بھی ایک ایسے شخص کے لیے جو کسی کا نہیں ہے. وہ ایک مجرم ہے اور آپ جیسی پتہ نہیں کتنی معصوم لڑکیوں کے مستقبل ساتھ کھیل چکا ہے. مجرم کو بچانے والا اور اسے پناہ دینے والا بھی مجرم ہی ہوتا ہے. نقاب پوش نے سمجھانا چاہا. اسے خود بھی اس لڑکی پر ترس آ رہا تھا جو ناجانے کیوں اسے بچا رہی تھی.
اگر آپ قانون کی مدد کریں گی تو قانون آپ کو تحفظ دے گا. آپ کو عمران جیسے شخص سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے. نقاب پوش نے اب کی بار نرمی سے کہا
( میں آپ کو کیسے بتاؤں کہ بات ڈرنے کی نہیں بلکہ محبت کی ہے. میں جان سے تو جا سکتی ہوں مگر اُن سے بے وفائی نہیں کر سکتی ) صائمہ نے دل میں سوچتے ہوئے سر نفی میں ہلایا.
آپ کو آخری موقع دے رہا ہوں پھر مت کہیے گا کہ ہم نے آپ کو انفارم نہیں کیا تھا. نقاب پوش نے جاتے جاتے سخت الفاظ میں کہا تو وہ موٹی عورت بھی ساتھ ہی کمرے سے نکل گئی. ان دونوں کے جاتے ہی صائمہ نے دیوار ساتھ ٹیک لگا لی.
پتہ نہیں سر کی طبیعت اب کیسی ہو گی. کیا کر رہے ہوں گے …… ؟؟ صائمہ نے اُس خالی کمرے کی در و دیوار کو گھورتے ہوئے سوچا.
سر آپ مجھے اجازت دیں میں اس لڑکی کو بلکل سیدھا کر دوں گی. یہ طوطے کی طرح بولے گی. جمیلہ نے آفس میں داخل ہوتے ہوئے کہا
جمیلہ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے جیسی تم سمجھ رہی ہو. مجھے تو اُس پر ترس آ رہا ہے. پتہ نہیں کیوں وہ جھوٹ بول رہی ہے ……. ؟؟ اسفند نے اپنا نقاب اتارتے ہوئے میز پر پھینکا.
سر آپ کو اُس پر ترس آ رہا ہے. حالانکہ وہ اس کے قابل نہیں انداز سوالیہ تھا
ہاں ترس _ کیونکہ تم اُس کے بارے میں وہ نہیں جانتی جو میں جانتا ہوں. اسفند کو صائمہ کے بارے میں کہے گے اشمل کے الفاظ یاد آئے.
اگر یہ لڑکی مزید دو دن تک کچھ نہ بتائے تواسے چھوڑ دینا اور ہاں ایک بات یاد رکھنا اس پر کوئی ہاتھ نہیں اٹھائے گا. کسی بھی قسم کے جسمانی تشدد سے پرہیز تم لوگوں کے حق میں بہتر ہو گا. اسفند کہتا تیزی سے باہر نکل گیا.
پتہ نہیں سر کو اس لڑکی سے اتنی ہمدردی کیوں ہو رہی ہے …….. ؟؟ جمیلہ بڑبڑاتی ہوئی دوبارہ صائمہ کی طرف چل دی.
اسفند ٹیرس پر کھڑا صائمہ سے سچ اگلوانے کی ترکیب سوچ رہا تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا.
اب کیا ہے …..؟ ؟ اسفند نے ارحم کا نمبر دیکھتے ہوئے بیزاری سے پوچھا
یہ آپ کی بیگم صاحبہ الٹی پیدا ہوئیں تھیں ….؟؟ ارحم کی آواز سپیکر سے ابھری.
مجھے نہیں معلوم، میں اُس وقت وارڈ میں نرس نہیں تھا. اسفند کے جواب پر ارحم نے فون کو گھورا.
تم دونوں ہی الٹے پیدا ہوئے ہو. کبھی سیدھی بات نہیں کرتے نہ جواب دیتے ہو. ارحم کہتا فون بند کر گیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے
