No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
آپا پلیز بس کر دیں. طبیعت خراب ہو جائے گی. کچھ نہیں ہوا عدیل بھائی کو _ دن بھر کی شدید تھکاوٹ کے باوجود وہ عذرا کی دلجوئی کر رہا تھا. پھر وہ مجھے کال کیوں نہیں کر رہے ……. ؟؟ عذرا کی ایک ہی رٹ تھی. چلیں میں آپ کی بات عدیل بھائی سے کرواتا ہوں مگر ایک شرط پر عمران نے اپنا فون نکالتے ہوئے کہا
کیسی شرط …….. ؟؟ عذرا ایک دم چپ ہو گئی.
یہی کہ کھانا کھا کر آپ دوا لیں گی پھر میں آپ کی بات کروا دوں گا. عمران کی بات سنتے ہی عذرا مان گئی.
آیا جی کھانا لگا دیں. عمران نے آواز دیتے ہوئے اپنا کوٹ اتارا. ٹائی ڈھیلی کی اور بیڈ پر اوندھا لیٹ گیا.
جب تک کھانا لگتا ہے آپا سر دبا دیں بہت تھک گیا ہوں. عمران نے آنکھیں بند کرتے ہوئے لاڈ سے کہا تو عذرا مسکرا دیں.
سنو “وہ” بھی ہمارے ساتھ ہی کھانا کھائے گی …… ؟؟ سر دباتے اچانک عذرا کو صائمہ کا خیال آیا.
آپا مجھے ایک بات بتائیں. آپ کو کیا ہوتا جا رہا ہے. پہلے تو آپ ایسی نہیں تھیں. ……؟ ؟ عمران نے عذرا کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا
وہ کسی اور مذہب سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ ہی اسے کوئی چھوت کی بیماری ہے. تو پھر اس ساتھ کھانا کھانے سے کیا فرق پڑے گا …..؟ ؟ عمران نے مزید کہا
عمران مجھے وہ تیرے لیے اچھی نہیں لگ رہی میرا مطلب ہے تیرے ساتھ عذرا نے ہچکچاتے ہوئے کہا تو عمران نے بیٹھتے ہوئے اپنے کف فولڈ کیے.
میں نے سوچا تھا تُو کوئی بہت ہی پیاری لڑکی پسند کرے گا مگر عذرا کے لہجہ میں مایوسی تھی.اتنی دیر میں آیا کھانے کی ٹرے اٹھا لائی.
اچھا آپ ایسا کریں اپنی پسند کی لڑکی تلاش کریں. میں اس سے شادی کر لوں گا اور اسے چھوڑ دوں گا. پھر آپ جی بھر کے اپنے ارمان نکالیے گا میں منع نہیں کروں گا عمران نے عذرا کو نوالہ بنا کر دیا.
اب کیوں اداس ہیں …… ؟؟ عذرا کے چہرے پر اداسی دیکھ کر عمران نے پوچھا
بس وہ ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھایا کرے گی. وہ ہم بہن بھائی کے درمیان نہ آئے ورنہ عذرا نے کھانا کھاتے ہوئے رک کر کہا
وہ ہم بہن بھائی کے درمیان آ ہی نہیں سکتی. کیونکہ مجھے آپ جتنا کوئی پیارا ہے ہی نہیں. پھر اس کی کیا مجال عمران ساتھ ساتھ عذرا کو کھانا بھی کھلا رہا تھا.
بس اور نہیں کچھ دیر بعد عذرا نے مزید کھانے سے انکار کر دیا تو عمران انھیں سکون کی دوا دیتا اٹھ کھڑا ہوا.
عدیل سے بات تو کراؤ …… ؟؟ عذرا کے کہنے پر عمران پلٹا.
آپا فون کی بیٹری ختم ہے. میں چارج کر کے انھیں فون کرتا ہوں تب تک آپ آرام کریں. عمران آیا جی کو اشارہ کرتا کمرے سے باہر نکل گیا.
پورا جسم تھکاوٹ سے چور تھا اور آنکھیں نیند سے عمران بمشکل سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں آیا تو خالی کمرہ اس کا منہ چڑھا رہا تھا. سب کچھ صوفے پر پھینکتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو کر خود کو دیکھنے لگا.
عمران بیٹا آپا تیری شادی دھوم دھام سے کرنا چاہتی ہیں جبکہ مجھے تیرا جنازہ دھوم دھام سے اٹھتا نظر آ رہا ہے. پتہ نہیں عدیل بھائی کس کے ہاتھ لگے ہیں. ابھی تک کوئی ڈیمانڈ بھی سامنے نہیں آئی. عمران سوچتا واش روم کی طرف بڑھا تو صائمہ کو نکلتے دیکھ کر رکا.
تم ابھی تک جاگ رہی ہو. عمران نے اسے دیکھ کر پوچھا تو صائمہ نے ہاں میں سر ہلایا
کھانا کھایا …..؟ ؟ عمران وہیں دیوار ساتھ ٹیک لگائے پوچھنے لگا
جی سر کھا لیا تھا. صائمہ نے آہستگی سے جواب دیا.
چلو پھر لیپ ٹاپ کھولو میں فریش ہو کر آتا ہوں. کچھ کام کرنا ہے. عمران نے بیڈ پر پڑے لیپ ٹائپ کی طرف اشارہ کیا اور خود فریش ہونے چلا گیا.
پتہ نہیں بیڈ پر بیٹھنا ہے یا صائمہ ہچکچاتے ہوئے بیڈ کے کنارے بیٹھ کر لیپ ٹاپ آن کرنے لگی. ابھی بمشکل پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ عمران سلیپنگ ڈریس پہنے باہر نکلا
تمام ایڈریس تبدیل کرنے ہیں. فون نمبرز بھی فیک ڈال دو. کیا پتہ عدیل بھائی کس کے ہتھے چڑھے ہیں. عمران نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
سر ہو سکتا ہے کہ یہ FBR والوں کا کام ہو. صائمہ نے کام کرتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تو عمران جو لیٹنے کے لیے تکیہ درست کر رہا تھا چونک پڑا.
یہ تو مجھے خیال ہی نہیں آیا. عمران یک دم سیدھا ہوا.
سر میں نے ویسے ہی کہا ہے. صائمہ نے عمران کے یوں چونکنے پر ڈرتے ہوئے کہا
صائمہ تم ہمیشہ میرے کام آسان کر دیتی ہو. اب گیم کھیلنے کا مزہ آئے گا. عمران نے بالوں میں ہاتھ پھیرا.
صائمہ لیپ ٹاپ پر عمران کی ہدایات کے مطابق فائز تیار کر رہی تھی. مگر اس کی آنکھیں اب نیند سے بند ہونے لگیں تھیں.
بس کر دیں آپ کو شاید نیند آ رہی ہے. عمران نے صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ فورا لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھی جبکہ عمران اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا .
صائمہ میرے سر میں بہت درد ہے کیا آپ دبا دیں گی …..؟ ؟ صائمہ کو صوفے پر لیٹتا دیکھ کر عمران نے بلایا.
جی سر میں صائمہ کے پوچھنے پر عمران کو غصہ آیا.
آپ کا ہم نام کوئی اور بھی اس کمرے میں موجود ہے….؟؟ عمران کا جواب صائمہ کو لاجواب کر گیا وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی بیڈ تک آئی.
جس رفتار سے آپ آ رہی ہیں صبح ہی پہنچیں گی. ایسا کریں رہنے دیں اور لائٹ آف کر دیں. عمران کہتا ہوا دوسری طرف کروٹ لے گیا جبکہ صائمہ نے شکر کا کلمہ پڑھا اور لائٹ بند کرتے ہوئے صوفے پر لیٹ گئی.
♣️♣️♣️♣️♣️
سر دو دن سے اسفند صاحب نہیں آئے. اب اُس بندے کا کیا کرنا ہے …….. ؟؟ اُس کی حالت کافی خراب ہو رہی ہے. پتہ نہیں کس وجہ سے صاحب نے انھیں پکڑا تھا اور کیا معلومات چاہیے تھی. ارحم نے اکرم چوکیدار کی بات سنتے فون کو کان سے ہٹا کر گھورا.
اسفند کا کچھ پتہ نہیں مطلب ……. ؟؟ ارحم نے قدرے غصے سے سوال کیا.
سر میرا مطلب ہے کہ انھوں نے خود بھی چکر نہیں لگایا اور اُن کا فون بھی بند جا رہا ہے. اکرم کے جواب پر ارحم کے ماتھے پر شکنیں پڑیں.
اچھا میں چک کرتا ہوں. تم پریشان نہ ہو میں رات میں چکر بھی لگاؤں گا اور ہاں اس بندے کا خیال رکھو. اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے بلکہ یوں کرو کہ اُسے ڈرائینگ روم سے نکال کر کمرے میں شفٹ کر دو. ارحم نے ہدایات دیتے ہوا کال بند کی اور اسفند کا نمبر ڈائل کرنے لگا
آفس اور ذاتی تمام نمبرز بند جا رہے تھے. کئی بار ٹرائی کرنے کے باوجود بھی جب کال نہ ملی تو ارحم نے غصے سے فون جیب میں ڈال لیا.
اللہ ہی خیر کرے. جناب نے خیر سے سو جگہ “پنگے” لے رکھے ہیں. یہ نہ ہو کہ کوئی سالہ اٹھا لے گیا ہو. ارحم نے خود کلامی کرتے ہوئے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہر نکل گیا.
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بھی وہ بار بار اسفند کا نمبر ڈائل کر رہا تھا. پھر تھک ہار کر فون ڈیش بورڈ پر رکھ دیا. کیا بات ہو سکتی ہے …..؟ ارحم سوچتا ہوا آفس پہنچا
سر اندر ہیں …… ؟؟ ارحم نے سر سلمان کے پی اے سے پوچھا اور اُس کا جواب سنے بغیر ہی اندر داخل ہو گیا کہ وہ بیٹھیں بھی ہیں کہ نہیں ……. ؟؟
آؤ ارحم آؤ ارحم پر نظر پڑتے ہی سلمان صاحب نے سب کام چھوڑ کر اس کی طرف دیکھا.
مجھے ہی کہہ رہے ہیں نااااا ارحم نے مصنوعی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا اور سلمان صاحب کے سامنے پڑی کرسی بیٹھنے کے لیے کھینچی.
ارحم میں بہت پریشان ہوں. جیسے ہی سر سلمان نے یہ الفاظ کہے ارحم مسکرانے لگا
کوئی پریشانی میں اتنا تیار ہو کر آفس میں بیٹھ کر گاجر کا حلوہ کیسے کھا سکتا ہے …..؟ ؟ ارحم کا اشارہ سمجھتے سر سلمان نے پلیٹ ارحم کی طرف کھسکا دی.
ہاں اب لگ رہا ہے کہ آپ پریشان ہیں. بتائیں کیا ہوا ہے …..؟ ؟ ارحم نے گاجر کا حلوہ کھاتے ہوئے پوچھا حالانکہ وجہ جانتا تھا.
یارررر وہ دو دن سے اسفند کی کوئی خیر خبر نہیں ہے. سلمان صاحب کے چہرے پر واضح پریشانی کے آثار تھے.
سر آپ کبھی کبھی بلکل چھوٹے سے بچے بن جاتے ہیں. وہ اپنے سالوں سے اتنے پنگے لیتا ہے تو سسرال والے لے گئے ہوں گے. انھیں خدمت کرنے دیں. ارحم نے پلیٹ خالی کرتے میز پر رکھی.
ارحم سر سلمان کی آواز میں وارنگ تھی.
اس میں بھلا اتنی پریشانی والی کونسی بات ہے. اب اگر FBR کا بڑا آفسر یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونے لگے گا تو محکمہ کا کیا ہو گا …….. ؟؟ ارحم نے سلمان صاحب کا جملہ دہرایا تو وہ اسے گھورنے لگے.
پہلی بات تو یہ کہ وہ آپ کا لاڈلا خود ہی کہیں چلا گیا ہو گا. دوسرا اگر وہ خود کہیں نہیں گیا تو اُس کے اوپر بھی ایک نگران آپ نے مقرر کیا تھا اُس سے پوچھ لیں کہ محترم اسفند یار ولی کہاں ہیں …….. ؟؟ ارحم کے یاد دلانے پر جیسے سلمان صاحب کو ہوش آیا.
میں تو بلکل بھول ہی گیا تھا. جلدی سے فیاض کو کال کرو کہ آفس آئے اور رپورٹ کرے. اب سلمان صاحب بلکل نارمل لگ رہے تھے.
یعنی اپنا بیلنس استعمال کروں ارحم نے کال ملاتے ہوئے کہا
تمہاری کونسی محبوبہ ہے جسے تم نے کالز کرنا ہوتیں ہیں. یہ بیلنس ہمارے ہی کام آنا ہے. سلمان صاحب کے طنز پر ارحم مسکرایا.
سر آپ مجھے بہت ہی ہلکا لے رہے ہیں اتنی دیر میں فیاض نے کال اٹینڈ کر لی.
جلدی آفس میں رپورٹ کرو. سر کا آڈر ہے. ارحم نے حاکمانہ انداز میں کہتے کال بند کر دی.
یارررر اسفند کے بارے میں بھی کچھ سوچو، ہر وقت جلتا کڑھتا رہتا ہے. میں چاہتا ہوں اب اس کا گھر بس جائے. سلمان صاحب کی فکر پر ارحم نے ہلکا سا قہقہ لگایا.
آپ میرے اندازے کے مطابق “سلمان صاحب” ہی ہیں مگر حرکتیں “سلمیٰ میڈم ” جیسی کر رہیں ہیں. یہ کہاں سے آپ کے اندر ممتا جاگ گئی ہے …….. ؟؟
وہ اپنا اچھا بُرا خوب سمجھتا ہے. اسے سمجھانے کی ضرورت نہیں ورنہ وہ ہمیں سمجھانے بیٹھ جائے گا.
اور اُس کا فون بند ہونے پر میرے دن تو بہت ہی اچھے گزرے ہیں. ورنہ ہر وقت کچھ نہ کچھ فرماتے ہی رہتے تھے. اوپر سے میری شان میں جو قصیدے پڑھتے تھے وہ ایک طرف ارحم ابھی اسفند پر روشنی ڈال ہی رہا تھا کہ فیاض نے اندر داخل ہوتے ہوئے سلوٹ مارا.
ہاں فیاض جلدی بولو اسفند کی کیا رپورٹ ہے ……. ؟؟ سلمان صاحب کے پوچھنے پر فیاض نے مودبانہ لہجے میں اسفند کا رکشے میں بیٹھنے سے لے کر اشمل کے گھر جانے تک ساری بات تفصیل سے بتا دی.
یہ لڑکی کون ہے اور اسفند کی کیا لگتی ہے …… ؟؟ سلمان صاحب نے حیرانگی سے ارحم کی طرف دیکھا.
کون سی لڑکی مجھے تو کوئی لڑکی نظر نہیں آ رہی ہے _ آپ فیاض کو لڑکی کہہ رہے ہیں ………؟؟ سر آپ کا اسفند کی جدائی میں بہت ہی برا حال ہے. اچھے خاصے مرد کو لڑکی بنا دیا ہے. آج مجھے اندازہ ہوا ہے کہ آپ اسفند سے کتنی محبت کرتے ہیں. ارحم کی زبان نان سٹاپ چل رہی تھی جب سلمان صاحب نے اسے غصے سے دیکھا. سوری سر لیکن مجھے لڑکی نظر نہیں آ رہی ہے. میں تو ترس گیا ہوں اللہ کی اس مخلوق کو دیکھنے کے لیے آپ سرکار سے اجازت لیں کہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں بھی اس مخلوق کو رکھا جائے تاکہ افسر دل لگا کر ڈیوٹی کریں. کیونکہ ماحول پر اچھا اثر پڑے گا جیسے لوگوں نے مچھلیاں اور طوطے رکھے ہوتے ہیں. ارحم کی باتوں پر فیاض منہ نیچے کیے اپنی ہنسی دبا گیا.
ارحم میں اُس لڑکی کی بات کر رہا ہوں جو اسفند کو لے کر گئی ہے. سلمان صاحب نے خاصا لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا
اچھااااااااااااا وہ خوش نصیب ہے جی ورنہ ہمیں تو کوئی پوچھتا ہی نہیں. ارحم نے سرد آہ بھری.
اگر تمہاری “وہ” اب “یہ” میں تبدیل نہ ہوئی تو جانتے ہو نااااا پھر کیا ہو گا ……. ؟؟ سلمان صاحب نے کرسی پر جھولتے ہوئے کہا
پتہ نہیں آپ اور اسفند ایک دم دھمکی پر کیوں اتر آتے ہیں. بندے کو مذاق بھی نہیں کرنے دیتے. ارحم نے منہ بناتے ہوئے فیاض کی طرف دیکھا.
تم بکواس کیوں نہیں کرتے کہ وہ لڑکی کون تھی ……؟ ؟ آدھی بات بتا کر اشتہار ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہو. ارحم نے غصے سے فیاض کی طرف دیکھا
سر وہ لڑکی دراصل عمران کی پی اے ہے. ابھی ایک ماہ ہی ہوا ہے اسے نوکری کرتے جیسے ہی فیاض نے اشمل کے بارے میں بتایا ارحم اپنی جگہ پر اچھل پڑا.
سر وہ لڑکی اتنی بتمیزززز اور تیززززز ہے کہ میں تو اس کے آگے کچھ بھی نہیں ارحم کے کومنٹس پر سلمان صاحب مسکراتے ہوئے آگے کو جھکے
یعنی تم آج مانتے ہو کہ بتمیزززز ہو ……. ؟؟ سلمان صاحب کے پوچھنے پر ارحم نے گہرا سانس خارج کیا.
آپ ایک دفعہ اُس سے ملیے گا ضرور پھر آپ کو خودبخود میری قدر آ جائے گی ارحم کے جواب پر سلمان صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا.
ملنا تو اُس لڑکی سے پڑے گا. کہیں وہ کسی گینگ کا حصہ نہ ہو. دوسرا اس نے ایک FBR کے آفسر کو یرغمال بنایا ہے. جو کہ جرم ہے. سلمان صاحب اب بہت سنجیدہ تھے.
فلحال میری سمجھ سے یہ بات بلکل باہر ہے کہ اسفند جیسا ذہین، قابل، ہوشیار آفسر اس کے قابو کیسے آیا اور وہ وہاں سے نکلا کیوں نہیں ……. ؟؟ اسے ہم سے رابطہ کرنا چاہیے تھا. سلمان صاحب نے پن انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہا
(کیونکہ وہ نکلنا نہیں چاہتا ہو گا. اب کی بار ارحم نے صرف دل میں سوچا)
سر وہ انھوں نے اُس لڑکی سے شادی کر لی ہے فیاض کے منہ سے جیسے ہی یہ جملہ نکلا سلمان صاحب اور ارحم ایک ساتھ اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے.
کیا ……. ؟؟ دونوں کے منہ سے بےساختہ نکلا اور پھر گہری خاموشی چھا گئی.
♣️♣️♣️♣️♣️
اسفند کب سے قاسم کو دادو ساتھ لڑتا دیکھ رہا تھا مگر اب بات کافی بڑھ گئی تھی. اسفند حیران تھا کہ وہ کیسا بیٹا ہے جو اپنی ماں اے محض پیسوں کے لیے لڑ رہا ہے. کاش میری ماں آج میرے پاس ہوتی تو میں دنیا جہاں کی نعمتیں ان کے پاؤں میں ڈال دیتا.
اماں میں آپ کو سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہوں . آخر آپ سمجھتی کیوں نہیں ہیں. مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے. آپ یہ مکان بیچ کر مجھے پیسے دے دیں. آپ کی زندگی رہ ہی کتنی گئی ہے. یہی کوئی دو چار سال وہ آپ کہیں بھی گزار سکتیں ہیں. قاسم نے اب کی بار تقریباً چیختے ہوئے کہا
تجھ جیسی اولاد سے تو بہتر تھا کہ میں بےاولاد ہی رہتی. خوامخواہ میں تیرے لیے روتی رہی. بندہ بڑا ناشکرا ہے.
اللہ نے تجھے مجھ سے جدا کر کے مجھ پر بڑا رحم کیا تھا. مگر میں نے دن رات اللہ سے تجھے مانگ مانگ کر اپنے اوپر خود ظلم کیا.
کاش قاسم تُو کبھی واپس نہ آتا کم از کم میری ممتا کا بھرم تو رہ جاتا. دادو اب رونے لگیں تھیں.
اماں میں تجھے بڑی اچھی سے جانتا ہوں . اس لیے یہ رونا دھونا کسی کام کا نہیں.
زیادہ ڈرامے نہ کر ابھی تو میں پیار سے کہہ رہا ہوں. ورنہ تجھے یاد ہو گا جب تُو نے پچھلی بار مجھے زیور اور پیسے نہیں دیے تھے تو میں نے تیرے ساتھ کیا کیا تھا. قاسم اب سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر بول رہا تھا جبکہ اس کی باتیں سن کر اسفند کا خون کھولنے لگا تھا.
اب میں تجھ سے ڈرتی نہیں ہوں. ابھی اشمل آتی ہو گی دیکھنا پھر وہ تیرا کیا حال کرے گی …..؟ ؟
وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے. کوئی مجھے کچھ کہے وہ برداشت نہیں کرتی. اب میں اکیلی نہیں ہوں. دادو کو ایک بار ماضی کی یاد نے ڈرا دیا تھا.
ہاہاہا اشمل آج میں اس کی بھی تیزی نکال دوں گا. مجھے تو تُو جانتی ہے نااااا قاسم نے خباثت سے کہا
خبردار جو تو نے اس بچی کی طرف گندی نظر سے دیکھا. شرم کر وہ تیری بیٹی کے برابر ہے اور کچھ نہیں تو اپنی عمر کا ہی لحاظ کر لے. دادو کو قاسم کی بات بہت بری لگی.
بیٹی میری کوئی بیٹی نہیں ہے اور اتنی خوبصورت لڑکی کو کون بیٹی بناتا ہے. مجھے پاگل کتے نے کاٹ رکھا ہے کہ اسے بیٹی بناؤں. قاسم کی باتیں جہاں دادو کو غصہ دلا رہیں تھیں وہیں اسفند کا میٹر بھی گھوم گیا اور وہ اپنی زنجیر دیکھنے لگا.
باہر اُس کا شوہر بیٹھا ہے. وہ تیری بکواس سن رہا ہے. بول نہیں سکتا مگر سنائی اسے سب دیتا ہے. دادو نے اسفند کی طرف اشارہ کیا.
یہ فقیر تو میرے ایک جھٹکے کی مار ہے. قاسم نے چٹکی بجاتے ہوئے باہر دیکھا
قاسم تُو یہاں سے دفع ہو جا. میں نے سوچا تھا کہ کافی وقت گزر گیا ہے اب تُو بدل گیا ہو گا مگر میں غلط تھی . جڑوں کے بگڑے کبھی نہیں سدھرتے. دادو کو قاسم کی باتوں سے شدید دکھ پہنچا. تبھی دروازے پر ہونے والی دستک نے سب کی توجہ اپنی طرف حاصل کی.
آگئی تیری بلبل دیکھ آج میں اس کا کیا حشر کروں گا. قاسم نے کہتے ہوئے کمرے سے باہر قدم رکھا جبکہ اسفند اپنی زنجیر کو آہستہ آہستہ کھول رہا تھا. دروازہ کھولتے ہی قاسم سائیڈ پر ہو گیا.
اشمل واپس لوٹ جا دادو نے آواز لگائی مگر اشمل ایسی کسی صورت حال کے لیے تیار نہ تھی لہٰذا سمجھ نہ سکی.
دادو کیا ہے اشمل بولتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو دروازہ زور سے بند ہوا. قاسم نے اشمل کی بازو مڑوڑتے ہوئے اس کی پشت اپنے ساتھ لگائی.
اشمل اس اچانک حملے کے لیے تیار نہ تھا. اس لیے تھوڑی گھبرا گئی اور پریشانی سے دادو اور پھر اسفند کی طرف دیکھنے لگی.
قاسم اسے چھوڑ دے، اگر تُو نے اسے زرا بھی نقصان پہنچایا تو بہت پچھتائے گا. میں تیرا لحاظ نہیں کروں گی کہ تُو میرا بیٹا ہے. دادو نے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑتے ہوئے کہا
میں اس فسادی لڑکی کو آج برباد کر دوں گا. اس نے میرا بہت نقصان کیا ہے. قاسم نے دادو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
بس بس زیادہ ڈینگے مارنے کی ضرورت نہیں ہے. میں نہ ہوئی پاکستان کی معیشت ہو گئی جسے آسانی سے برباد کر دو گے. اشمل کے طنز پر قاسم نے اس کے بال مٹھی میں لے کر کھینچے تو اشمل کی چیخوں سے گھر گونج اٹھا.
چھوڑو مجھے اشمل نے اپنا آپ چھڑانے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہی.
قاسم اسے چھوڑ دے ورنہ میں یہ ڈنڈا تیرے سر پر مار دوں گی. دادو غصے سے کانپنے لگیں تھیں.
اماں اسے تٗو میں نہیں چھوڑوں گا اور تو جانتی ہے کہ میں ضد کا کتنا پکا ہوں. اگر تُو میرے راستے میں آئی تو میں اس کا گلا دبا دوں گا. قاسم نے اشمل کی شہ رگ پر انگوٹھا رکھا.
قاسم کی دھمکی پر دادو کچھ قدم اس سے دور ہوئیں تو وہ اشمل کو گھیسٹ کر کمرے میں لے جانے لگا جبکہ اشمل کی نظریں مسلسل کچھ ڈھونڈ رہیں تھیں.
خبردار کوئی ہوشیاری نہیں _ قاسم نے دوبارہ اس کے بالوں کو پیچھے کھینچتے ہوئے کہا اشمل نے درد کی شدت سے آنکھیں بند کیں جو اب گیلی ہونے لگیں تھیں اور پوری قوت لگا کر اس کے پاؤں پر اپنا جوتا مارا جس سے قاسم لڑکھڑایا ضرور مگر اشمل پر اس کی گرفت ڈھیلی نہ پڑی. گالیاں بکتے قاسم نے اشمل کا رخ اپنی طرف کیا اور ایک زوردار تھپڑ اشمل کی گال پر مارا جس کی آواز سے دادو کی چیخیں نکل گئیں اور اسفند کی کنپٹیاں پھٹنے لگیں. تُو نے میرا سارا پلان خراب کر دیا ہے. اب میں تجھے برباد کر کے کوٹھے پر بیچ دوں گا. پھر تجھے پتہ چلے گا کہ قاسم سے پنگا لینے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے …….. ؟؟ قاسم نے اسے گھیسٹ کر کمرے کے اندر کیا جبکہ دادو مسلسل قاسم کو اشمل سے دور کرنے میں لگی ہوئیں تھیں. جس پر قاسم نے دادو کو زور سے دھکا دیا اور وہ باہر جا گریں. دادو نے بیٹے کا لحاظ رکھتے ہوئے ڈنڈا نہیں مارا لیکن قاسم نے ماں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا. اشمل آج اپنے آپ کو بہت بےبس محسوس کر رہی تھی. اس سے پہلے کہ قاسم، اشمل ساتھ کچھ غلط کرتا اسفند نے اپنا پاؤں زنجیر سے آزاد کرتے ہوئے کمرے کا رخ کیا اور قاسم کو ایک جھٹکے سے اشمل سے ہٹایا. اچھا تو اب تیری بھی غیرت جاگ گئی ہے. چل مل بانٹ کر کھا لیتے ہیں قاسم نے اسفند کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو اشمل خود میں سمٹ گئی. جبکہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دادو نے زور سے ڈنڈا قاسم کے سر پہ دے مارا.
بس دادو اتنا ہی کافی ہے اشمل نے مزید مارنے سے روکا جبکہ قاسم کے سر سے خون اور دادو کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے قاسم گرنے والے انداز میں زمین پر بیٹھتا چلا گیا اور اشمل بھاگ کر دادو سے لپیٹ گئی. اسفند نے قاسم کو پکڑ کر اٹھایا اور اس کے دونوں ہاتھ کمر پر زنجیر سے باندھ دیے. میں محلے کے “دو نمبر ڈاکٹر” کو بلا کر لاتی ہوں. کہیں قتل کا کیس نہ بن جائے. پاکستانی قوم کا یہی مسئلہ ہے جذباتی ہو جاتی ہے. کیا ضرورت تھی مولا جٹ بننے کی ……. ؟؟ اشمل نے قاسم کا چہرہ خون سے اور دادو کی آنکھیں آنسو سے بھرتے ہوئے دیکھ کر کہا اور باہر جانے لگی مگر اسفند اس کے آگے آ گیا. ہٹو آگے سے میں بلا لاتی ہوں. ہمارے محلے والوں کو بولنے والوں کی جلدی سمجھ نہیں آتی تو تمہارے اشارے کیا خاک سمجھ آئیں گے. بس تم اسے قابو رکھوں میں ابھی آئی.
اشمل نے اسفند کو سائیڈ پر کرتے ہوئے جیسے ہی باہر قدم رکھا دروازے سے ارحم اور چند وردی والے لوگوں کو دیکھ کر وہیں رک گئی.
تاریخ لکھنے والا ضرور یہ واقعہ لکھتے وقت خوشی سے مر جائے گا کہ پولیس بغیر کسی بلاوے کے خودبخود غریب کے گھر آ گئی. عین واردات کے وقت _ اشمل کی خود کلامی پر اسفند نے باہر جھانکا تو اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھ سکا. تم ٹھیک تو ہو نااااا ارحم نے اسفند کے کپڑوں پر خون لگا دیکھ کر فکر مندی سے پوچھا
ہاں میں بلکل ٹھیک ہوں اور اللہ نے دوبئی لڑکیاں سمگلنگ کرنے والے گینگ کا سربراہ کسی پکے پھل کی طرح ہماری جھولی میں ڈال دیا ہے. اسفند کے اشارے پر وردی والے لوگوں نے آگے بڑھ کر قاسم کو پکڑا جو اب نیم بیہوشی میں تھا.
میرے بیٹے کو چھوڑ دیں اس نے کچھ نہیں کیا قاسم کی گرفتاری پر دادو کے دل کو کچھ ہوا. اماں جی حوصلہ رکھیں. ہم پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیں گے اسفند نے نرمی سے دادو کو تسلی دی جبکہ اشمل یوں اسفند کو بولتا دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی . ابھی وہ پہلے جھٹکے سے پوری طرح نہیں نکلی تھی کہ دوسرا جھٹکا اس سے بھی زوردار لگا.
وردی والے مودب سے کھڑے اسفند کے حکم کا انتظار کر رہے تھے. تبھی اُس نے قاسم کو لے جانے کا اشارہ کیا تو وہ آگے پیچھے نکلتے چلے گئے.
تمہیں کس نے بتایا …… ؟؟ اسفند کے پوچھنے پر ارحم نے فیاض کی طرف اشارہ کیا جو اس کے پیچھے کھڑا تھا.
بہت دیر کی آنے میں اسفند نے طنز کیا.
میں سمجھا تعریف کرو گے. بندہ بیل سے دودھ کی امید رکھ لے مگر تجھ سے تعریف کی نہ رکھے ارحم کے جواب پر اسفند نے سر نفی میں ہلایا تو نظر اشمل پر جا رکی.
جس کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ ساتھ شاید نفرت بھی تھی. وہ بہت عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی. اسفند کی نظروں کا ارحم نے تعاقب کیا تو مسکراتے ہوئے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جسے اسفند نے جھٹک دیا.
سر باہر گاڑی میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں. ارحم کہتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ اشمل نے رخ موڑتے ہوئے دادو کی طرف قدم بڑھائے.
اشمل اسے سزا تو نہیں ہو گی نااااا …… ؟؟ دادو نے اشمل کا سہارا لیتے ہوئے پوچھا تو اشمل انھیں اپنے ساتھ لگاتی چارپائی پر بیٹھ گئی.
دادو وہ بس اتنا ہی کہہ سکی اور خاموش ہو گئی.
کچھ دیر اسفند اُن دونوں دادی پوتی کو دیکھتا رہا پھر کچھ کہنے کے لیے آگے بڑھا مگر الفاظ نے ساتھ نہ دیا. تو وہ چپ چاپ باہر نکل گیا.
“بات کرنا بھی ضروری نہیں ھوتا ، ھر وقت
لفظ ھوتے بھی نہیں ھیں کئی باتوں کے لئے”
اشمل وہ بول سکتا ہے اور شاید کوئی افسر بھی ہے. تُو نے دیکھا وہ کیسے انھیں حکم دے رہا تھا. دادو کی بات پر وہ چپ چاپ اپنے پاؤں کو دیکھنے لگی.
ہمارے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے. مجھے میرے بیٹے نے دیا اور تجھے تیرے شوہر نے دادو گیلی آنکھوں سے ہنسنے لگیں جبکہ اشمل بلکل گم صم تھی.
تو کچھ بولتی کیوں نہیں …… ؟؟ دادو کو اشمل کی چپ پر حیرت ہوئی.
دادو بولنے کے لیے کیا رہ گیا ہے. سب کچھ تو ختم ہو گیا ہے. دنیا واقعی ہی دھوکے کا گھر ہے. ہر قدم پر دھوکا ہے. میں نے تو اسے اپنا ہر راز بتا دیا تھا.
افسوس مجھے سے بڑی غلطی ہو گئی مگر یہ غلطی مجھ سے ہوئی کیسے ……؟ ؟ اشمل نے اٹھتے ہوئے پاس پڑی بالٹی کو ٹھوکر ماری. میں نے بلکہ ہم نے اسے ہسپتال میں دیکھا بھی تھا. پھر بھی میں پہنچان نہیں سکی. بلکل اندھی ہو گئی کیوں ……. ؟؟ اشمل زور سے چیخی. اشمل دادو نے پہلی بار یوں اشمل کو روتے اور چیختے دیکھا
دادو وہ مجھے بےوقوف بنا کر چلا گیا. وہ مجھ پر ہنستا ہو گا اور میں اپنی طرف سے بڑی چالاک بن رہی تھی _ اشمل دادو ساتھ لگی رو رہی تھی. دادو اسے کیا تسلی دیتیں وہ تو خود اپنے بیٹے کا دکھ لیے بیٹھیں تھیں. سر میں صرف قاسم کی وجہ سے وہاں تھا کہ کہیں وہ ہاتھ سے نکل نہ جائے. مجھے معلوم تھا کہ آپ مجھے ڈھونڈ لیں گے اسفند گاڑی میں سلمان صاحب کو بریفنگ دے رہا تھا جبکہ ارحم ذومعنی انداز میں مسکرایا.
کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ اسی وجہ سے نہیں نکل پا رہے تھے ……… ؟؟ ارحم کے پوچھنے پر اسفند نے اسے غصے سے دیکھا
بہرحال جو بھی ہے. تمہیں شادی مبارک ہو. تمہاری شادی ایسے ہی ہونے تھی. ویسے تو تم نے کرنی نہیں تھی. سلمان صاحب کہتے ہوئے باہر دیکھنے لگے جبکہ ارحم دبا دبا مسکرا رہا تھا.
اپنے اپنے نصیب ہیں ورنہ کیس تو میں نے بھی بہت حل کیے ہیں مگر کبھی بدلے میں “بیگم” نہیں ملی ___ ارحم نے آہ بھری.
اپنی بکواس بند کر، آگے ہی تیری وجہ سے میرا پلان خراب ہو گیا ہے. میں نے ابھی اُس پر اپنا آپ ظاہر نہیں کرنا تھا کہ میں کون ہوں ……. ؟؟ اسفند کو غصے میں دیکھ کر ارحم نے منہ پر انگلی رکھی جبکہ ہنس ابھی بھی رہا تھا.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے
