No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
سر یہ والی فائل ؟؟؟ صائمہ نے ایک اور فائل عمران کے آگے رکھتے ہوئے پوچھا نہیں یہ نہیں ہے عمران نے تقریباً چیختے ہوئے انکار کیا جس پر صائمہ ڈرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹی.
کیا ہو گیا ہے …… ؟؟
وہ ریٹ لسٹ والی فائل کہاں ہے. جس میں ہم پیکجز اور سروسس وغیرہ کے ڈاکومنٹس رکھتے ہیں اور وہ انکم ٹیکس والی بھی نظر نہیں آ رہی عمران اس وقت بلکل آپے سے باہر ہو رہا تھا. اس کی سرخ آنکھیں اور سخت لہجہ صائمہ کو دکھ دے رہا تھا.
سر وہ تو میں نے آپ کو پہلے ہی دے دی ہے مگر آپ صائمہ کے منہ سے ابھی یہ الفاط نکلے ہی تھے کہ عمران نے انتہائی غصے سے صائمہ کا بازو دبوچتے ہوئے اسے اپنے سامنے کیا.
کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ میرے سامنے زبان کم چلایا کرو. اگر میں کہہ رہا ہوں کہ فائل دو تو مطلب یہ ہے کہ ان فائلوں میں وہ فائل نہیں ہے.
میں اندھا ہوں یا بکواس کر رہا ہوں. جب یہاں وہ فائل ہے ہی نہیں تو عمران نے میز پر بڑی فائلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا جبکہ صائمہ کی آنکھیں چھلکنے کو تیار تھیں کیونکہ عمران کا لہجہ اور پکڑ کافی سخت تھی.
سر وہ یہ فائل صائمہ نے ہمت کرتے ہوئے فائلوں کے بیچ میں سے ایک فائل کھینچتے ہوئے باہر نکالی
جسے دیکھتے ہی عمران نے فوراً صائمہ کا بازو چھوڑتے ہوئے اسے پکڑا.
اس کے ساتھ ایک نیلے کور والی فائل بھی آپ کو دی تھی وہ کہاں ہے ……. ؟؟ اب کی بار عمران کا لہجہ نرم تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو.
سر وہ آپ نے لاکر میں رکھی تھی. صائمہ نے نم آواز میں جواب دیا طبیعت تو اس کی رات سے ہی خراب تھی اس پر عمران کا رویہ مزید دکھ دے گیا تھا.
آپ ایسا کریں دو فائلز بنائیں ان فائلوں کی جگہ پر، اس ڈیٹا کے مطابق جو میں آپ کو دینے لگا ہوں. یہاں بیٹھیں عمران نے اپنی چئیر سے اٹھتے ہوئے صائمہ کے لیے جگہ خالی کی.
جی سر صائمہ ہچکچاتے ہوئے چئیر پر بیٹھ گئی جب کہ عمران چئیر ساتھ ہی ٹیک لگائے اسے بتانے لگا
صائمہ کے لیے عمران کی قربت ایک امتحان تھی. اس کے وجود سے اٹھتی خوشبو صائمہ کے سر میں درد کی وجہ بن رہی تھی. اسے خوشبو سے الرجی تھی. پر وہ یہ بات عمران سے کہہ نہیں سکتی تھی. لہٰذا چپ چاپ کمپیوٹر پر فائل بنانے لگی.
فائل یوں بنائیے گا کہ کوئی پکڑ نہ سکے. مجھے آپ پر اعتماد ہے. بس غلطی کی گنجائش نہیں چھوڑیے گا. ڈاکومنٹس بلکل اصلی لگنے چاہیے عمران ڈیٹا بتانے کے ساتھ ساتھ ہدایات بھی دے رہا تھا. جبکہ صائمہ کی انگلیاں تیز تیز keypad پر حرکت کر رہیں تھیں.
تقریباً ایک گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد عمران نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے سکھ کا سانس لیا اور انٹر کام پر کافی لانے کا کہا
اب ان تمام ڈاکومنٹس کے پرنٹ آؤٹ لے کر فائلز رینک میں رکھ دیں. اصلی فائلز نظر نہیں آنی چاہیے. عمران کے کہنے پر صائمہ پرنٹ لینے کے لیے ٹرے لوڈ کرنے لگی.
ڈرائیور کو کیوں بھیجا تھا …..؟؟ عمران کے سوال پر صائمہ کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکا پھر وہ دوبارہ پرنٹ لیتی فائلیں سمیٹنے لگی.
میں نے کچھ پوچھا ہے ….؟؟ اپنے سوال کا جواب نہ پاتے ہوئے عمران نے اپنا سوال دہرایا جبکہ نظریں صائمہ کے چہرے پر جمیں تھیں.
سر مجھے اب اس کی ضرورت نہیں رہی صائمہ کے سرگوشی نما جواب کو عمران نے باخوبی سنا.
سوری مجھے سمجھ نہیں آئی دوبارہ دہرا دیں. عمران نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا تبھی نوکر کافی کی ٹرے لیے اندر داخل ہوا.
صائمہ نے فائلیں سمیٹتے ہوئے چئیر سے اٹھنا چاہا مگر عمران نے چئیر کے آگے کھڑے ہوتے ہوئے میز ساتھ ٹیک لگائی اور صائمہ کے جانے کا راستہ روکا.
سر مجھے اب ڈرائیور کی ضرورت نہیں رہی. صائمہ نے اپنے جزبات پر قابو پاتے ہوئے مضبوط لہجہ میں کہا
آپ کو پہلے بھی ڈرائیو کی ضرورت نہیں تھی. یہ گاڑی اور ڈرائیور میں نے آپ کو اپنی ضرورت کے لیے دیا ہے. آپ کی ضرورت کے لیے نہیں. لہٰذا اسے آئندہ کچھ بھی مت کہنا وہ آپ کے حکم کا پابند نہیں. عمران کی باتیں صائمہ نے سر جھکا کر سنی اس کے علاوہ چارا بھی نہیں تھا.
طبیعت کو کیا ہوا ہے …… ؟؟ عمران نے میز پر پڑے دو کافی کپ میں سے ایک کو اٹھاتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں جبکہ دشمن جان کی اتنی سی بات پر وہ اپنا حال دل سنانے کو بےتاب تھی.
اچھااااااااااااا جی تو فون پر کیوں کہا تھا کہ طبیعت خراب ہے …… ؟؟ عمران نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا
سر پلیزززز صائمہ نے عمران کے پاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو چئیر کو روکے ہوئے تھا.
مجھے آپ کے رویے کی سمجھ نہیں آ رہی مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ آپ ایک اچھی لڑکی ہیں اپنا خیال رکھا کریں.
آپ کی سوجھی ہوئیں آنکھیں، افسردہ سی شکل اور بھاری نم آواز مجھے اچھی نہیں لگ رہی. آپ خیال رکھا کریں صرف اور صرف اپنے لیے عمران نے خالی کپ میز پر رکھتے ہوئے اپنا پاؤں چئیر کے عیل سے ہٹا کر صائمہ کو راستہ دیا.
اچھی لڑکی اور میں _ سر مذاق کر رہے ہیں یا طنز …… ؟؟ صائمہ نے عمران کے مد مقابل کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا دونوں کے درمیان فاصلہ بھی بہت کم تھا. میرے خیال سے اچھی لڑکی آپ جیسی ہی ہوتی ہے. عمران نے کہتے ہوئے کندھے اچکائے تو صائمہ مسکرا دی. میں جاؤں صائمہ کے سوال پر عمران اسے راستہ دیتا سائیڈ پر ہو گیا.
اگر میں اچھی لڑکی ہوتی تو یہاں نہ ہوتی یا پھر کم از کم اس حال میں نہ ہوتی عمران جو صائمہ کے جاتے ہی کرسی پر بیٹھنے لگا تھا اس کی آواز پر چونکا کیا کہنا چاہتی ہیں ….. ؟؟ اگر آپ سوچ رہی ہیں کہ میں اپنے سخت رویے کی آپ سے معافی مانگو گا تو سوری مجھے اس چیز کی عادت نہیں ہے. یہاں آپ غلط ہیں یا غلط بندے سے ٹکرا گئیں ہیں. عمران نے اپنی دونوں کہنیاں میز پر رکھتے ہوئے صائمہ کی طرف دیکھا کاش آپ واقعی ہی سمجھتے کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں مگر صائمہ سر نفی میں ہلاتے باہر نکل گئی جبکہ عنران پر سوچ انداز میں بند دروازے کو دیکھنے لگا
♣️♣️♣️♣️♣️
صائمہ کھوئی کھوئی سی آفس کے کام میں مصروف تھی. کبھی فائلیں درست کرتی تو کبھی کمپیوٹر پر کوئی ڈیٹا چک یا ایڈیٹ کرتی. اشمل پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہی تھی. جب مزید آدھا گھنٹہ گزرنے کے باوجود بھی صائمہ کی خاموشی نہیں ٹوٹی تو اشمل کا صبر جواب دے گیا.
یارررر کچھ تو بولو یہ کیا کہ تم نے چپ کا روزہ ہی رکھ لیا ہے …………. ؟؟ پتہ تو ہے کہ میں تمہارے بغیر رہ نہیں سکتی تمہیں نہ دیکھوں تو میری آنکھوں کو سکون نہیں ملتا دل بےقرار رہتا ہے. سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے بےخوابی عادت بننے لگتی ہے.
میرے نصیب میں وہ نہیں وہ میرے لیے بنا نہیں _ وہ مجھ سے بہتر deserve کرتا ہے وہ میرا کبھی تھا ہی نہیں وہ اچھا نہیں بہت بُرا انسان اس کا مستقبل تاریک ہے _ وہ میرے لیے مسائل کھڑے کر دے گا _ یا کوئی بھی اندیشہ مجھے نہ بتاؤ مجھے اُس سے محبت ہے تو ہے۔ ”یہ طے ہُوا تھا کہ جیسے سب لوگ کر رہے ہیں محبت ایسے نہیں کریں گے، اگر کریں گے” اشمل کی باتوں پر صائمہ نے اسے انتہائی پریشانی اور حیرانگی سے دیکھا ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں. اب آپ بات نہیں کریں گی تو میں خود کلامی ہی کروں گی ناااااا اس عمر میں لڑکیاں ایسی ہی جزباتی باتیں کرتیں اچھی لگتی ہیں. اشمل نے آنکھ ماری.
تم ایسی باتیں خود سے کرتی ہو …… ؟؟ (صائمہ کو لگا کہ اِس سے اچھے الفاظ اُس کے دل کی ترجمانی کے لیے ہو ہی نہیں سکتے.) اگر یہ جملے سر عمران سن لیں تو _ صائمہ نے بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا سر کو دیوار اور دروازے سے پار نہ دیکھائی دیتا ہے اور نہ ہی سنائی. لہٰذا پریشان مت ہوں. اشمل نے صائمہ کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے وضاحت دی. تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے ……. ؟؟ صائمہ نے بے خیالی میں اشمل سے پوچھا ہائے کیا بات پوچھ لی ہے اشمل نے سر آہ بھرتے دل پر ہاتھ رکھا
اب آپ سے کیا پردہ، محبت کرنے کے لیے میرے حساب سے ایک خوبصورت، سمارٹ اور امیر بلکہ بہت امیر لڑکے کی ضرورت ہوتی ہے جو مجھ ناچیز کو میسر نہیں.
ویسے اب میں سوچ رہی ہوں کیوں نااااا سر عمران پر ٹرائی کروں. کیا پتہ بات بن جائے. اشمل نے کہتے ہوئے صائمہ کو آنکھ ماری.
شرم نہیں آتی تمہیں، یوں بات کرتے ہیں باس کے بارے میں صائمہ کو اشمل پر شدید غصہ آیا.
اچھااااااااااااا جی ہمارے سوچنے پر بھی شرم کا بھاشن اور خود جو اس دن فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر ان کے ساتھ گئیں تھیں وہ کیا ……. ؟؟ اشمل کے یوں بےدھڑک کہنے پر صائمہ نے پریشانی سے اسے دیکھا
میں جا سکتی ہوں. صائمہ نے کمزور سی آواز میں کہا
کیوں جی آپ ان کی بیگم صاحبہ ہیں …… ؟؟ اشمل کے چہرے پر شرارت ناچ رہی تھی.
ہاں وہ تو ہوں مگر صائمہ کے اقرار پر اشمل اسے مشکوک نظروں سے گھورنے لگی.
اشمل میں جھوٹ نہیں بول رہی میں واقعی ہی سر عمران کی بیوی ہوں. صائمہ نے دوبارہ کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے سرسری انداز میں کہا
سگی والی اشمل بےیقین تھی.
پتہ نہیں، بس بیوی ہوں. سگی یا سوتیلی پہلی یا آخری یہ معلوم نہیں. صائمہ کے جواب پر اشمل نے سرد آہ بھری.
میں تو جب بھی کسی کے بارے میں سیریس ہونے لگتی ہوں وہ یا تو شادی شدہ نکلتا ہے یا بچوں والا پتہ نہیں نصیب میں محبت نامی لکیر ہے بھی کہ نہیں ….؟؟ اشمل نے خود کلامی کرتے اوپر کی طرف دیکھا.
ویسے جتنی آپ سر سے ڈری سہمی رہتی ہیں. مجھے لگتا یے کہ وہ آپ کو مارتے ہوں گے. ویسے کیسے اتنی پیاری بیوی کو مار لیتے ہیں ….. ؟ اشمل نے سوچتے ہوئے صائمہ کی پشت کو دیکھا جو کمپیوٹر پر کام کر رہی تھی.
توبہ کرو، مجھے کیوں ماریں گے….؟؟ تم کبھی کبھی بہت عجیب باتیں کرنے لگتی ہو. صائمہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے جواب دیا.
پھر آپ دونوں ایک دوسرے سے اتنے دور دور کیوں رہتے ہیں ….. ؟؟ اشمل کے سوال پر صائمہ خاموش ہو گئی.
اچھااااااااااااا اداس نہ ہوں اور مجھے ایک بات کی اجازت دے دیں صرف ایک _ اشمل نے مسکین سی شکل بنا کر کہا تو پھیکی مسکراہٹ ساتھ صائمہ نے سر ہلایا.
کیا میں آپ کے شوہر نامدار یعنی سر عمران ساتھ چکر چلا سکتی ہوں …….. ؟؟
مجھ غریب کا بھلا ہو جائے گا. اتنے امیر ہیں. ایک دو بیویاں تو آرام سے افورڈ کر لیں گے. انھیں کیا فرق پڑے گا اور ہاں آپ میری وجہ سے پریشان مت ہونا میں بلکل بے ضرر سوتن ثابت ہوںگی. اشمل کی باتوں پر صائمہ نے ایک سرد آہ بھری
وہ مجھے طلاق دے رہے ہیں صائمہ بہت اداس تھی.
سچی مچی پھر تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا. چلو ایک بندہ تو ملا چکر چلانے کے لیے، کیا پتہ بات بن جائے. اشمل نے جوش سے کہا تو صائمہ نے ایک افسوس بھری نگاہ اس پر ڈالی.
سوری میں زرا اونچی خودکلامی کرتی ہوں آپ نے سنی تو نہیں. اشمل کی بات پر صائمہ سر جھٹکتی دوبارہ کام میں مصروف ہو گی.
ویسے آپ نے سر کو کیسے پٹایا تھا …..؟؟ اشمل کے پوچھنے پر صائمہ نے اس کی طرف عجیب نظروں سے دیکھا
کیا ہے بتا دیں نااااا …….. ؟؟ اشمل نے مسکین سی شکل بنائی.
ہم دونوں کی شادی محبت کی نہیں ہے. مجبوری کی یے اور اب سر عمران مجھے اپنی مرضی سے طلاق دے رہے ہیں میری خواہش نہیں ہے. صائمہ نے غصے سے ایک ایک لفظ دانت پیستے ہوئے ادا کیا.
ہاں تو ظاہری سی بات ہے کون لڑکی سر عمران جیسے شخص سے طلاق لینا پسند کرے گی. ہائے کتنے پیارے ہیں نااااا اشمل کے کہنے پر صائمہ مسکرا دی.
کافی غصے والے ہیں. صائمہ بتاتی ہوئی دوبارہ اپنا کام کرنے لگی.
آج کل ہیرو غصے والے ہی آ رہے ہیں. اشمل کی معلومات پر صائمہ نے سر ہلایا.
ویسے کیا مجبوری تھی. زرا بتانا پسند کریں گی …… ؟؟ اشمل کو تجسس ہوا.
سارے آفس کو ہی پتہ ہے ان سے پوچھ لو. صائمہ مسلسل کچھ فائلوں میں گم تھی.
مجھے آپ سے سننا ہے. اشمل باضد ہوئی تو صائمہ نے فائل بند کرتے ہوئے اسکی طرف دیکھا.
میرا ریپ سر کے آوارہ بہنوئی نے کیا تھا. سر نے انھیں بچانے کے لیے مجھ سے شادی کی.ورنہ اسے سزا ہو جاتی.
اس وقت میرے خاندان والے بھی بہت پریشان تھے بدنامی کے ڈر سے مگر سر نے مجھ سے نکاح کر کے ان کی بھی مشکل آسان کر دی تھی.
ہمارے درمیان صرف کاغذی رشتہ ہے. میں نے کبھی بھی محسوس نہیں کیا اور نہ ہی سر نے محسوس ہونے دیا کہ میں ان کی بیوی ہوں.
سر کے بہنوئی پر آگے بھی ریپ کیسس بنتے رہتے ہیں مگر میری خوش قسمتی تھی یا بد نصیبی کہ کسی طرح پریس رپورٹر کے ہاتھ یہ کیس آ گیا.
جب عدالت نے میرا میڈیکل کرانے کا کہا تو سر نے مجھے اپنی بیوی بتا کر رپورٹ اپنے حق میں کر لی. صائمہ کی آنکھیں نم ہو گئیں جبکہ اشمل ہکا بکا دیکھ رہی تھی.
سر اپنے گیسٹ ہاؤسس میں رہائش اور دوسری سہولیات کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی سپلائی کرتے ہیں نااااا اشمل کے سوال پر صائمہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
تمہیں کس نے بتایا، کیسے پتہ چلا …… ؟؟ صائمہ نے بے ساختہ پوچھا
آپ نے بتایا اور پتہ ابھی چلا ہے. میں نے تو ہوا میں تیر چلایا تھا مگر یہ تو زندگی میں پہلی بار ٹھیک نشانے پر لگا. اشمل نے اپنے آپ کو داد دی.
تم یہ جاب چھوڑ دو. میں نہیں چاہتی کہ تمہارے ساتھ بھی کچھ غلط ہو. صائمہ نے سنجیدگی سے سمجھانا چاہا.
آپ میری فکر نہ کریں. میں نے آپ سے بھی زیادہ عجیب حالات دیکھیں ہیں. اگر میں بتاؤں تو آپ اپنا غم بھول جائیں گی.
آپ نے ریپ کا لفظ جوان ہو کر سنا ہو گا جبکہ میں بچپن سے سنتی آ رہی ہوں. اشمل کے چہرے پر اس وقت مذاق کی رمک تک نہیں تھی.
مطلب ……؟ ؟ صائمہ نے حیرت سے پوچھا
میں بذات خود ریپ کا نتیجہ ہوں. اشمل کے الفاظ بم کی طرح صائمہ پر گرے.
♣️♣️♣️♣️♣️
اشمل کی بات پر صائمہ کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہے یا کیا پوچھے ……. ؟؟ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہیں تھیں کہ پورے پلازہ میں ایمرجنسی الارم بجنے لگا اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتیں یک با دیگرے کچھ پولیس والے اندر داخل ہوئے اور سب سے آخر میں ایک نقاب پوش سویلین بھی تھا.
آپ لوگ کون ہیں اور کیا کام ہے …..؟ ؟ صائمہ نے پریشانی سے اٹھتے ہوئے پوچھا تو اس نقاب پوش آفسر نے اپنا کارڈ نکال کر میز پر رکھا.
میڈم ہمارے پاس آپ کی تلاشی کے وارنٹ ہیں. آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں. ہم کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے. آپ کے سر یقیناً اندر ہیں …… ؟؟ نقاب پوش آفسر نے بند دروازے کی طرف اشارہ کیا تو صائمہ نے سر ہلا دیا.
ہمیں کیا پتہ بیٹھیں ہیں یا کھڑے ہمیں دیوار پار نظر نہیں آتا. ہمارے سوفٹ وئیر میں یہ پروگرام انسٹال نہیں ہے. اشمل کے جواب پر صائمہ سمیت آفسر بھی اس کی طرف گھوم گیا.
میرا مطلب ہے کہ آپ خود جا کر دیکھ لیں. جب اندر گھس ہی آئیں ہیں تو اجلاق دکھانے کا فائدہ _ ؟ ؟ اشمل کرسی پر مسلسل جھول رہی تھی جس پر نقاب پوش آفسر نے اسے اک نگاہ دیکھنے کے بعد اپنے ساتھیوں کو چیکنگ کرنے کا آڈر دیا.
ارے اتنی تمیز سے کیوں چیکنگ کر رہے ہیں. تھوڑا تو گند پھیلائیں ناااااا فائلیں وغیرہ اور دوسرا سامان زمین پر پھینکیں. میز کا شیشہ توڑ دیں. تاکہ ہم کہہ سکیں چھاپہ پڑا ہے.
مگر آپ تو اتنی احتیاط سے چیزیں الٹ پلٹ کر رہے ہیں جیسے گند پھیلانے پر ہم آپ سے ہی صفائی کرائیں گے. لگتا آپ کا آفسر صفائی پسند ہے. کیوں مس صائمہ …….. ؟؟ اشمل نے صائمہ کی طرف مڑتے ہوئے تائید چاہی تو اس کا اڑا رنگ دیکھ کر مسکرانے لگی.
ابھی سے ڈر گئیں ہیں. ابھی تو ہمیں مفت میں حوالات کی سیر کرنا پڑے گی. چلیں اور کچھ نہیں تو کم از کم کھانا وقت پر ملے گا. پکانا نہیں پڑے گا اور شہرت تو پوچھیں مت _ کیا پتہ ٹی وی پر بھی آئیں. اشمل کے اس قدر روشن خیالات پر صائمہ حیران جبکہ پولءس والے مسکرا رہے تھے.
آپ لوگ اپنے کام پر فوکس کریں میں زرا ان کے باس سے مل آؤں. نقاب پوش آفسر کہتا ہوا اندر آفس میں جانے لگا مگر اشمل کے قریب سے گزرتے ہوئے رک کر تھوڑا سا اس کی طرف جھکا
کہا تھا ناااا یہ نوکری چھوڑ دو. اب حوالات کی ہوا کھانا. مس اشمل امتیاز آفسر کہتا ہوا اندر بڑھ گیا جبکہ اشمل کا پورا منہ حیرت سے کھل گیا.
آئیے مسٹر آفیسر آپ کو اپنے آفس میں دیکھ کر خوشی ہوئی انتہائی خوشدلی سے مصافحہ کرتے ہوئے عمران نے کہا تو آفسر نے داد دیتی نظروں سے دیکھا
ہمارے پاس چیکنگ کے آڈر ہیں. آفسر کی بات پر عمران نے خوشی سے جگہ دیتے ہوئے اپنی کرسی چھوڑ دی اور خود کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا.
آفسر کے بلانے پر کچھ پولیس والے آفس کی چھان بین کرنے لگے جن می آفسر خود بھی شامل تھا. عمران مسلسل دیوار پر لگی ایل ای ڈی میں اپنے آفس کے مختلف رومز دیکھ رہا تھا. جہاں اس وقت تلاشی کا کام تیزی سے جاری تھا.
دو گھنٹے کی چھان بین کے بعد آفسر نے سب کو پلازہ خالی کرنے کا آڈر دیا.
سوری ہماری اطلاع غلط تھی آپ کو ہماری وجہ سے زحمت ہوئی. مگر آپ کا تعاون قابل تعریف ہے. نقاب پوش آفسر نے عمران سے الوداعی ہاتھ ملاتے ہوئے معزرت کی
کوئی بات نہیں یہ آپ کی ڈیوٹی تھی. میرے لائق کوئی خدمت ہو تو میں حاضر ہوں. ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں. عمران اب آفسر ساتھ چلتا ہوا میز کے قریب آیا.
خدمت تو ہم آپ کی کریں گے مگر یہاں نہیں اپنے غریب خانے پر بہرحال آپ کی شخصیت متاثر کن ہے. نقاب پوش آفسر کہتا ہوا آفس سے باہر نکل گیا. جبکہ اس کے الفاظ کا مفہوم سمجھتے عمران نے پوری طاقت سے مکا میز پر مارا.
♣️♣️♣️♣️♣️
آج چھٹی دیر سے ہوئی تھی کیونکہ عمران صاحب نے اوپر تلے میٹنگز کی تھیں جن میں سب کی خوب کلاس لی گئی تھی ان میں اشمل اور صائمہ بھی شامل تھی. اس لیے اب شام ہونے کو تھی. صائمہ کے انکشافات اور آج کا چھاپہ اشمل کو بہت پریشان کر گیا تھا.
یار اشمل یہاں دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ دال اور اس کا بنانے والا اور کھانے والے سب کالے بلکل “کالے سیاہ” ہیں. اشمل خود کلامی کرتی اپنے مطلوبہ بینچ پر بیٹھ گئی.
اشمل بھوک بھی لگی ہے اور پیسے بھی کم ہے لہٰذا بچت کو مد نظر رکھتے ہوئے بھٹہ لیا جائے. چل اشمل اٹھ ہمت کر. اشمل خود کلامی کرتے ہوئے اٹھی تبھی اس کی نظر قریب بیٹھے فقیر پر پڑی.
آج پھر وہ حسب عادت بس آنے سے پہلے بھٹہ کھا کر وقت گزار رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے آپ سے محو گفتگو بھی یہ عادت اسے اپنی پھپھو سے وراثت میں ملی تھی.
پتہ نہیں اشمل یہ دنیا اتنی فضول کیوں ہے ….. ؟؟ اشمل نے بآواز بلند ارد گرد نظریں دوڑاتے ہوئے کہا
کسی کو بھی دیکھو لو ایک ہی رونا رو رہا ہوتا ہے. کہ پوری نہیں پڑتی مہنگی بہت ہے _ کیا کریں گزارا بڑا مشکل ہے. اشمل نے بھٹہ کھاتے ہوئے منہ کے زاویے بدلے اگر ایسا ہے تو یہ بڑی بڑی عالی شان کوٹھیاں، لگثری گاڑیاں، رنگ برنگے برینڈ کے کپڑے، اور طرح طرح کے لوازمات کون استعمال کر رہا ہے. بھوت یا جن …..؟ ؟ اشمل نے اونچی آواز میں خود سے پوچھا تو تھوڑے فیصلے پر بیٹھے فقیر نے اسے سر اٹھا کر دیکھا سوری مسٹر فقیر شاید آپ میری آواز سے ڈسٹرب ہوئے ہیں. اشمل نے معزرت کی جس پر فقیر نے دوبارہ اپنی گردن جھکا لی. بھٹہ کھاؤ گے …… ؟؟ یہ وہ سوال تھا جو اشمل پچھلے دو ہفتے سے مسلسل اس فقیر سے پوچھ رہی تھی. فقیر نے “نہ” میں گردن ہلائی اور دوبارہ زمین پر کچھ لکھنے لگا. مجھے تم پر شدید حیرت ہے میں نے آج تک ایسا انسان نہیں دیکھا جو “سُن” تو سکتا ہو مگر “بول” نہ سکے. اشمل نے بھٹہ پھینکتے ہوئے اپنے ہاتھ جھاڑے. فقیر نے ایک نظر دور سڑک پر پڑے بھٹے کی طرف دیکھا اور پھر اشمل کو دیکھتے ہوئے سر افسوس سے نفی میں ہلایا. بس کرو ہم نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا اس ملک کی صفائی کا ویسے بھی آج میرا دماغ بہت خراب ہے. تمہیں میں نے بتایا تھا ناااااا کہ میرا باس پاگل ہے مگر پڑھا لکھا پاگل اور پڑھا لکھا پاگل عام پاگل سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے. پوچھو کیسے ……؟ ؟ اشمل نے اپنا ہاتھ ہوا میں نچاتے ہوئے فقیر سے کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
وہ ایسے کہ عام پاگل یا تو ہنستا ہے یا روتا ہے مگر پڑھا لکھا پاگل نہ تو ہنستا ہے اور نہ ہی روتا ہے بلکہ وہ صرف بھونکتا ہے وہ بھی انگلش میں اشمل نے غصے سے کہتے ہوئے سڑک کی طرف دیکھا جس پر فقیر کے چہرے پر زرا سی مسکراہٹ آ کر معدوم ہو گئی.
چلتی ہوں بس صاحبہ تشریف لے آئی ہیں. ہائے اشمل تیری آدھی زندگی تو اس بس میں خوار ہوتے گزر گئی ہے. اشمل خود کلامی کرتی بس میں سوار ہو گئی جبکہ فقیر نے اسے دور تک جاتے ہوئے دیکھا
ابھی وہ اشمل کو ہی دیکھ رہا تھا کہ ایک وین اس کے قریب آ کر رکی. جنھیں دیکھتے ہی اسفند نے اپنا منہ پھیر لیا.
فقیر بابا ہمارے لیے دعا کریں آج رات ہم پر بہت سخت ہے. خاص طور پر پچھلا پہر ان میں سے ایک بندے نے گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھتے ہوئے کہا جس پر اسفند ان کی بات کا مفہوم سمجھتا ہوا سر ہلانے گا.
♣️♣️♣️♣️♣️
سفید چادروں پر جگہ جگہ گلاب کی پتیاں بکھریں پڑیں تھیں. پیلی روشنی سے سارا کمرہ روشن تھا. گاؤ تکیے ساتھ ٹیک لگائے عمران چپ چاپ پتیوں کو مسل رہا تھا. کہ اس خاموشی میں گھنگھروں کی آواز نے ارتعاش پیدا کیا.
بابو آج تو بہت چپ چاپ ہو. نہ کوئی فرمائش نہ کوئی گلہ کوئی غلطی ہو گئی ہم سے جو یوں چپ سادھ لی ہے. چندا بائی نے عمران کے سامنے بیٹھتے ہوئے شیریں لہجے میں پوچھا.
چندا بائی میں تماش بین نہیں ہوں دوسرا تمہارے کوٹھے پر جتنا بھی مال ہے وہ سب میرا ہی دیا ہوا ہے. آخری بات مجھ سے یہ بازاری زبان مت بولو کرو. ہم بزنس پارٹنر ہیں برابری پر بات کیے کرو اور بات بھی بزنس کی عمران نے سگریٹ کا دھواں چندا بائی کی طرف نکالا
میرا بزنس تو آپ کی مہربانی سے خوب چل رہا ہے. چندا بائی نے مسکراتے ہوئے عمران کا کالر ٹھیک کرنا چاہا جس پر عمران نے ان اس کا ہاتھ جھڑک دیا.
میں نے کتنی بار منع کیا ہے کہ مجھے ہاتھ مت لگایا کرو منہ سے بات کیا کرو اور میرا حصہ مجھے چاہیے آج کل میرا بزنس بند ہے. عمران نے ناگواری سے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا.
بابو کام تو خیر آپ کا بارہ مہینے ہی چلتا ہے. اب یوں نہ کہیں کہ ڈھپ ہے. اور حصہ آپ کا عدیل آ کر لے گیا تھا. چندا بائی کی بات پر عمران نے ہنکار بھری.
کچھ سنو گے …… ؟؟ چندا بائی نے عمران کے پاؤں کو چھوتے ہوئے پوچھا
نہیں بس ویسے ہی آ گیا تھا. اب کافی وقت ہو گیا ہے چلتا ہوں. عمران نے وقت دیکھنے کے لیے پاکٹ سے موبائل نکالا تو اس پر صائمہ کا میسج جگمگا رہا تھا.
مجھے آپ سے کام ہے اگر ہو سکے تو میرا ہاسٹل آ جائیں یا مجھے بلا لیں. عمران نے میسج پڑھتے ہی گاڑی کی چابیاں اٹھائیں.
بابو خدمت تو کرنے دیں. آج تو ناراض ہی جا رہے ہیں. چندا بائی منتیں ہی کرتی رہی جبکہ عمران سنی ان سنی کرتا باہر نکل آیا.
بڑی آئی بات کرنے والے عمران نے بڑ بڑاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی. تبھی سکرین ایک اور میسج ٹون سے روشن ہوئی.
آپ جاگ رہے ہیں …..؟ یہ میسج بھی صائمہ کی طرف سے تھا.
کتنی بار منع کیا ہے مجھے بار بار میسج یا کالز مت کیا کرو. نوکر نہیں ہوں. سمجھی عمران نے وائس نوٹ سینڈ کرتے فون ڈیش بورڈ پر رکھا
سوری ایک اداس ایموجی ساتھ معزرت بھرا میسج آیا.
دماغ خراب کیا ہوا ہے ___ عمران بڑ بڑاتے ہوئے غیر لاشعوری طور پر گاڑی ہاسٹل کی طرف موڑنے لگا تبھی اس کی نظر کنارے کھڑے وجود پر جم سی گئی.
♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.
