80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

صائمہ پریشان سی عذرا کے سرہانے بیٹھی عمران کے بارے میں سوچ رہی تھی. جب کوئی کمرے میں داخل ہوا. جو پرفیوم اس شخص نے لگا رکھا تھا وہ اس کے لیے خاصا جانا پہچانا اور نفرت آمیز تھا. وہ پلٹے بغیر بھی بتا سکتی تھی کہ کون کمرے میں داخل ہوا ہے ……. ؟؟
بہت افسوس ہوا وہ بھی تمہیں آخرکار چھوڑ ہی گیا. میں نے کہا تھا ناااااا کہ میرے سوا تمہارا کوئی بھی نہیں ہے. میرے پاس آ جاؤ میں تمہیں بہت پیار سے رکھوں گا. عدیل نے صائمہ کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا
تم کتنے گھٹیا انسان ہو. تمہاری بیوی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے. کب اس کی سانس رک جائے کچھ معلوم نہیں اور تمہیں اس وقت بھی بے ہودگی سوجھ رہی ہے. حالانکہ تم اچھے طریقے سے جانتے ہو اگر سر کو ذرا بھی تمہاری اس گندی نیت کے بارے میں پتہ چلا تو وہ تمہارا کیا حشر کریں ……… ؟؟ صائمہ نے افسوس بھری نظروں سے عدیل کو دیکھا
بڑی بہادر ہوگئی ہو. کیسے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہی ہو. داد دینی پڑے گی. لگتا ہے وہ رات تم بھول گئی ہو اور تمہیں دوبارہ ایک ویسی ہی رات کی ضرورت ہے تاکہ تمہیں یاد رہے کہ عدیل کون ہے اور کیا کر سکتا ہے …… ؟؟ عدیل نے مکروہ قہقہہ لگایا
میں آپ نہیں ڈرتی کیونکہ میں نے جتنا ڈرنا تھا ڈر لیا ہے. وہ صائمہ مر گئی جو ڈرتی تھی. اب تو میں تم جیسے لوگوں کو دیکھ دیکھ کر افسوس کرتی ہوں. بیچارے ہوس کے مارے گدھ سے بھی برے _ صائمہ کی آنکھوں میں نفرت ہی نفرت تھی. مجھے لگتا ہے تمہیں عمران نے یقینا کوئی سبز باغ دکھایا ہے جو تم اتنا اڑ رہی ہو. جیسے کہ وہ جلدی واپس آ جائے گا اور تمہیں اپنے ساتھ لے جائے گا وغیرہ وغیرہ عدیل نے طنز کرتے ہوئے صائمہ کی طرف قدم بڑھائے تو صائمہ نے ایک الٹے قدم اٹھایا
مجھے نہ تو کوئی خوش فہمی ہے اور نہ ہی غلط فہمی _ سر واپس ضرور آئیں گے بس مجھے اتنا یقین ہے. مگر تمہارا کیا ہوگا کبھی تم نے سوچا ہے اگر عذرا آپا نہ رہی تو …… ؟؟ صائمہ کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا مگر دن اور بھرے ہسپتال کی وجہ سے وہ مطمئن بھی تھی کہ عدیل ایسا ویسا کچھ نہیں کرے گا. ہاہاہا مذاق اچھا ہے مگر میں اس وقت مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں. عدیل نے آگے بڑھتے ہوئے صائمہ کی کلائی پکڑی جس سے اس کی چیخ نکل گئی اس سے پہلے کے وہ اپنا آپ چھڑانے کی کوشش میں عدیل کو کچھ مارتی شور سے عذرا کی آنکھ کھل گئی.
آپا جاگ گئی ہیں. کچھ تو خیال کریں صائمہ نے بتایا مگر عدیل تو جیسے گونگا بہرہ کھڑا تھا. اس کے اب جاگنے کے نہیں سونے کے دن ہیں. عدیل نے عذرا کی جانب دیکھا جو نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی اگر تم نے میرا ہاتھ نہ چھوڑا تو میں شور مچا دوں گی. صائمہ کے منہ سے وہی گھسا پٹا روایتی جملہ سن کر عدیل نے ہنستے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ارے میں تو تمہاری دھمکی سے ڈر گیا ہوں. عدیل نے ڈرنے کی مصنوعی ایکٹنگ کرتے ہوئے صائمہ کی طرف دیکھا جو تھر کانپ رہی تھی عدیل اسے چھوڑ دو تم اتنا نہیں گرسکتے. عذرا نے اپنی نقاہت بھری آواز میں پکارا تو عدیل ہنستا ہوا عذرا کی طرف مڑ گیا موقع کو غنیمت جانتے ہی صائمہ نے فورا کمرے سے باہر دوڑ لگا دی. میں نے تم سے شادی صرف پیسے کی لالچ میں کی تھی ورنہ مجھ جیسا خوبصورت جوان بھلا تم جیسی بیمار بوڑھی عورت کے عشق میں کیسے مبتلا ہو سکتا ہے …….. ؟؟ میں نے سوچا تھا کہ تم جلد مر جاؤں گی اس لیے میں نے تمہیں اپنی محبت کے جھوٹے جال میں پھنسایا کہ تمہارے مرنے کے بعد میں عیاشی کروں گا مگر تم تو میرے گلے میں ہڈی کی طرف پھنس گئی خیر دیر آئے درست آئے.
عمران تو اب پولیس کے ہاتھوں خوب ذلیل ہوگا پولس تو اب اسے نہیں چھوڑے گی کیونکہ اس کا کیس جو انسپکٹر لڑ رہا ہے وہ تو کسی کو بھی نہیں چھوڑتا دوسرا جو کسر رہ گئی تھی وہ میں نے پوری کر دی ہے.
اب سب میرا ہے جو کل تمہارا اور عمران کا تھا. یہاں تک کہ عمران کی بیوہ بھی عدیل نے ہنستے ہوئے عذرا کی طرف دیکھا جو روتے ہوئے مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی.
تم اتنی تکلیف میں ہو. مجھے دیکھ دیکھ کر دکھ لگ رہا ہے کیوں نہ تمہاری تکلیف ختم کر دی جائے. عدیل نے کمرہ خالی دیکھ کر آہستہ آواز میں کہا
تم خود تو مرنے والی نہیں. چلو آج میں تمہاری مدد کر دیتا ہوں. آخر تم میری محبت ہو اتنا تو میرا حق بنتا ہے. عدیل نے عذرا پر جھکتے ہوئے سرگوشی کی.
عدیل پلیز مم مم میں تم تمہاری بیوی عذرا نے عدیل کے خوفناک ارادے بھانپتے ہوئے لڑکھڑاتی آواز میں کچھ کہنا چاہا مگر عدیل نے اس کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی اس کی سانسیں روکنا شروع کر دیں.
وہ بوڑھی بیمار لاچار عورت آخر کب تک اس ہٹے کٹے مرد کا مقابلہ کر سکتی تھی. لاکھ ہاتھ پاؤں مارتے عذرا نے خود کو بچانے کی کوشش کی مگر اب اس کے وجود سے جان ختم ہونے لگی تھی. اس سے پہلے کے عذرا، عدیل کے ہاتھوں میں اپنی جان دے دیتی صائمہ ڈاکٹر ساتھ کمرے میں داخل ہوئی.
آپا عدیل کو عذرا پر جھکا دیکھ کر صائمہ چلائی.
صائمہ ساتھ ڈاکٹر کو دیکھتے عدیل نے تیزی سے باہر کی طرف دوڑ لگائی جبکہ عذرا کے نیم مردہ وجود کو دیکھتے ہی صائمہ کانپ اٹھی.
کیا کوئی اس حد تک بھی گر سکتا ہے …..؟ ؟ وہ باہر بیٹھی مسلسل یہی سوچ رہی تھی جبکہ عذرا کو ایمرجنسی میں ٹریٹ کیا جا رہا تھا.
اللہ جی پلیز عذرا آپا کو بچا لیں. میں سر کو کیا جواب دوں گی ……. ؟؟ جتنی دیر ڈاکٹر لگا رہے تھے اتنا ہی صائمہ کا دم نکلا جا رہا تھا.اپنی دھڑکن کانوں میں سنائی دینے لگی. ہر گزرتا منٹ اسے اندیشوں میں گھیر رہا تھا. اس کی اتنی تو عمر نہ تھی جتنے وہ امتحان دے رہی تھی.
تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایمرجنسی کا دروازہ کھلا تو صائمہ نے بیتابی سے اٹھتے ہوئے ڈاکٹر کی طرف دیکھا جس کا چہرہ اچھی خبر کی نوید نہیں دے رہا تھا.
ہم نے اپنی سی بہت کوشش کی مگر
ڈاکٹر نے صائمہ کے قریب آتے معزرت کی جس پر صائمہ نے بے بسی سے انھیں دیکھا. ڈاکٹر تو اپنا فرض نبھاتا چلا گیا مگر صائمہ وہیں بت بنی کھڑی رہی.
صائمہ تم نے آپا کا بہت خیال رکھنا ہے. میں تمہارے سوا کسی پر اعتبار نہیں کر سکتا. میں جلد لوٹ آؤں گا عمران کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح صائمہ کی سماعت پر برسنے لگے.
🖤🖤🖤🖤🖤
تھپڑ کی آواز سے اشمل کو اپنے کان بند ہوتے محسوس ہوئے جبکہ اسفند بری طرح اسے جھنجھوڑ رہا تھا.
کءوں کیا تم نے ایسا
بولو جواب دو …..؟؟ اسفند کی کوئی بات بھی اشمل کو سنائی نہیں دے رہی تھی. آنکھیں اس قدر بےعزتی کے احساس سے دھندلی ہونے لگیں تھیں.
بولتی کیوں نہیں، بولو ورنہ بہت ماروں گا. اشمل تم مجھے جانتی نہیں ہو. مجھے سب سے زیادہ محبت اپنے کام سے ہے. میں نے دن رات ایک کر کے فٹ پاتھ پر بیٹھ وہ سب اکٹھا کیا تھا. اگر تم نے وہ سب ضائع کیا تو میں بھی تمہیں ضائع کر دوں گا اسفند نے نفرت سے اشمل کو چھوڑا وہ اپنے بیلنس میں نہیں تھی لہٰذا بیڈ پر جا گری.
بیٹا کیا ہو گیا ہے. کیوں اتنا غصہ کر رہے ہو ……. ؟؟ دادو نے شور کی آواز سنتے کمرے میں قدم رکھا
قسم سے دادو میں اسے مار دوں گا. یہ کوئی مذاق نہیں ہے بہت سیریس معاملہ ہے. میں اپنے باس کو کیا جواب دوں گا جو مجھ پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں. میری ریپوٹیشن خراب ہو جائے گی. وہ مجھے سسپنڈ کر دیں گے
اسفند کی حالت بلکل پاگلوں والی ہو رہی تھی وہ بری طرح چیخنے لگا. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اشمل کو جان سے مار دے. اگر اُس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یقیناً اسفند کے عتاب کا نشانہ بن چکا ہوتا.
کیا کیا ہے اس نے …..؟؟ دادو نے اسفند کے قریب سے گزرتے ہوئے پوچھا جبکہ اشمل چپ چاپ یک ٹک اسفند کو دیکھے جا رہی تھی.
اس نے ایک سنگین مجرم کو بچانے کے لیے میری چھ ماہ کی محنت ضائع کر دی ہے. مجھے تو یقین نہیں ہو رہا کہ یہ ایسا بھی کر سکتی ہے ….؟؟ اسفند نے اپنی ٹائی ڈھیلی کی جیسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو. جبکہ دادو خود بھی اسفند کی حالت سے پریشان ہو گئیں تھیں.
اشمل تم نے ایسا کیوں کیا یے …..؟ ؟ دادو نے بےبسی سے اشمل کی طرف دیکھا جو بلکل ساکت تھی.
مجھے اپنی محنت ضائع ہونے سے بھی زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ اس نے میری امانت میں خیانت کی ہے. یہ میرا گھر ہے. میں نے یہ سوچ کر وہ چیزیں یہاں رکھیں تھیں کہ کوئی انھیں چرا نہیں سکتا. مگر آپ کی اس لاڈلی نے اپنی “محبت” میں میری ساری “محنت” خراب کر دی. اپنی بات کے آخر میں اسفند نے نفرت سے اشمل کی طرف دیکھا
اشمل تم کچھ بولتی کیوں نہیں ….. ؟؟ دادو کو اسفند کا یوں اشمل پر الزام لگانا بہت برا لگا
پوچھیں اس سے کہ اِس نے یہ سب کس کی خاطر اور کس کے کہنے پر کیا ہے …..؟ ؟ اسفند نے اچانک پلٹتے ہوئے چیخ کر کہا اس کا بس نہیں چل رہا تھا اشمل کا سر پھاڑ دے وہ خود کو نارمل کرنے کی مسلسل جوشش کر رہا تھا مگر بات اس کی برداشت سے بہت زیادہ تھی.
بہت معزرت مگر آپ نے انتہائی گندی تربیت کی ہے اس کی _ میں سمجھتا تھا کہ یہ ایک سمجھدار اور بارکردار لڑکی ہے. مگر میں غلط تھا جو ایک “نامحرم مجرم” کے لیے اپنے “محرم شوہر” کو دھوکا دے سکتی ہے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے. اسفند کے جملے پر دادو تڑپ اٹھیں جبکہ پہلی بار اشمل کی آنکھوں سے آنسو نکلے. اب تم حد کر رہے ہو میری بچی ایسی نہیں ہے. دادو نے غصے سے کہا تو اشمل اپنے آنسو صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ گال پر واضح انگلیوں کے نشان موجود تھے. مجھے ہر قیمت پر میری یو ایس بی چاہیے ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تمہاری روح تک کانپ اٹھے گی ویسے بھی تمہیں بہت شوق ہے ٹارچر سیل میں جانے کا میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں ہونے دوں گا. کمرے سے باہر جاتی اشمل کا بازو دبوچتے اسفند غرایا
میرا بازو چھوڑیں میں آپ کی یو ایس بی ہی لینے جا رہی ہوں. اسفند کی طرف دیکھے بغیر اشمل نے آہستہ مگر بھاری آواز میں کہا
جاؤ اسفند نے اسے چھوڑتے ہی اس کے پیچھے کمرے سے باہر قدم نکالے اور لاؤنچ میں جا کھڑا ہوا جبکہ اشمل کچن میں چلی گئی. چند لمحوں بعد اشمل نے ایک بلیک کلر کی یو ایس بی اپنی ہتھیلی پر رکھے اسفند کے آگے کی جسے اس نے فوراً جھپٹ کر اٹھایا جیسے اُس کی جان اس میں ہو. اگر اس میں سے کچھ بھی غائب ہوا تو تم بھی غائب ہو جاؤ گی ہمیشہ کے لیے
اسفند کہتا تیزی سے باہر نکل گیا.
اشمل یہ تو نے آج کیا کیا ہے تُو ایسی تو نہیں تھی …..؟؟ دادو نے اشمل کی گال پر محبت سے ہاتھ رکھتے گلہ کیا
تُو بولتی کیوں نہیں یہ سب کیا تھا …..؟؟ دادو نے اس کا کندھا ہلایا
پتہ نہیں کیا تھا مگر جو بھی تھا ٹھیک ہی تھا. دادو اپنا سامان باندھ لیں اب ہم یہاں نہیں رکیں گے. اشمل نم آواز میں کہتی کمرے کی طرف چل پڑی.
تُو نے اس کے ساتھ جھوٹ کیوں بولا اور یہ باس کا کیا چکر ہے میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ….؟؟ دادو کے پوچھنے پر اشمل پھیکا سا مسکرائی
کسی کا گھر بچاتے بچاتے میرے اپنے ہاتھ جل گئے. اشمل نے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
مجھے ایک مان تھا کہ وہ مجھے کچھ نہیں کہے گا مگر اُس نے تو وہ کچھ بھی کہہ دیا جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا. حد ہی ہو گئی دادو اشمل نے ایک سرد آہ بھرتے اوپر آسمان کی طرف دیکھا
یا اللہ یہ کیا ہو گیا ہے. میری ہنستی بستی بچی کو پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے. دادو منہ میں بڑبڑاتی اشمل ساتھ کمرے کی طرف چل دیں.
🖤🖤🖤🖤🖤
پورے منشن میں اگر بتی کی خوشبو ابھی بھی پھیلی ہوئی تھی جبکہ عذرا آپا کے جنازے کو گئے ہوئے کتنے گھنٹے گزر چکے تھے. عمران کو چند دن کی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے عمران مینشن کے اندر اور باہر ڈیرے ڈال رکھے تھے.
سر مجھے معاف کر دیں
عمران کو اپنے بہت قریب سے صائمہ کی آواز سنائی دی. اس کی آنکھیں ضبط سے سرخ تھیں. بال ماتھے پر بکھرے تھے اور کپڑے شکن آلودہ وہ جو ایک شکن بھی اپنے کپڑوں پر پڑنے نہیں دیتا تھا آج انتہائی رف حلیے میں اکیلا بیٹھا تھا
سر آپ کچھ بولتے کیوں نہیں کچھ تو کہیں، جب سے آئے ہیں گم سم بیٹھیں ہیں. بولنا نہیں ہے تو کم از کم رو ہی لیں دل ہلکا ہو جائے گا. صائمہ نے عمران کے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا
آپا کو کیا ہوا تھا
میرا پوچھا تھا انہوں نے ……؟ ؟ عمران نے فرش پر نظریں گاڑ دیتے ہوئے پوچھا جس پر صائمہ نے بمشکل تھوک نگلا
اگر سچ بتا دیا تو سر مجھے نہیں چھوڑیں گے صائمہ نے دل میں سوچا صائمہ
عمران کی پکار میں کچھ ایسا تھا کہ صائمہ نے ڈرتے ہوئے عمران اور اپنے درمیان فاصلہ بڑھایا دیا.
سر وہ _ صائمہ نے اپنے ذہن میں الفاظ کو ترتیب دینا شروع کیا. کیا ہوا تھا ……… ؟؟ دوبارہ اتنی بھاری آواز میں عمران نے دہرایا تو صائمہ کی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں سر وہ اصل میں میں آپا پاس ہی تھی. میں نے انہیں ایک پل کے لئے بھی اکیلا نہیں چھوڑا تھا. صائمہ کے بتانے پر عمران ایک دم دھاڑا میں نے پوچھا کیا ہوا تھا ……. ؟؟ عمران کے دھاڑنے پر صائمہ سچ مچ رونے لگی سر میں نے کچھ نہیں کیا وہ عدیل آ گیا تھا تو صائمہ نے اتنا ہی کہا تھا کہ عمران مسکرانے لگا
اچھا تو تم اپنی جان بچا تی کمرے سے باہر چلی گئی اور اس نے میری بہن کو اکیلا دیکھ کر مار دیا ہے ناااا یہی ہوا تھا …….. ؟؟ عمران کے چہرے پر مسکراہٹ صائمہ کو اپنی موت لگ رہی تھی
سب میں ڈاکٹر کو بلانے گئی تھی. عدیل کی بکواس سے آپا کی حالت بگڑنے لگی تھی. صائمہ نے بولنا شروع کیا
اچھا پھر ……. ؟؟ عمران نے صائمہ کا بازو کھینچتے اسے اپنے قریب کیا
جب میں ڈاکٹر کو لے کر واپس آئی تو عدیل آپا کا گلا دبا رہا تھا. صائمہ کے الفاظ سنتے ہی عمران نے قریب پڑا لیمپ زور سے فرش پر دے مارا
اتنے سال اتنے سال میں نے ایک سانپ کو دودھ پلایا اور اس نے بالآخر مجھے ہی ڈس لیا. مجھ سے میری آپ ہی چھین لی. جتنا عدیل گناہ گار ہے اتنا تم بھی ہو عدیل کا تو جو حشر میں کروں گا وہ بعد کی بات ہے مگر پہلے تمہیں تو سزا دے دوں. عمران نے کہتے صائمہ کے ہاتھ کی طرف دیکھا جو اس کی گرفت میں تھا
سر پلیز، آنسو تیزی سے گالوں پر گرنے لگے. میں ڈر گئی تھی. وہ عدیل نے میرا ہاتھ پکڑ لیا تھا تو مجھے لگا
صائمہ کو اس وقت عمران بالکل عدیل جیسا ہی لگ رہا تھا
دن دہاڑے وہ الو کا پٹھا تمہیں ڈرا رہا تھا اور تم بے وقوفوں کی طرح ڈر گئیں. مجھے تم پر حیرت ہے. عمران نے ایک جھٹکے سے صائمہ کو اپنے قریب کھینچا
اب اگر میں بھی عدیل کی طرح تمہارا گلا دبا دوں تو مجھے کون پکڑے گا چلو جملہ بدل لیتے ہیں تو تمہیں کون بچائے گا …… ؟؟ عمران نے صائمہ کی کلائی چھوڑتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اس کی شفاف گردن پر رکھے
مجھے ویسے بھی زندہ رہنے کا کوئی شوق نہیں. آپ بے شک مار دیں اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نے آپ کی آپا کو مارا ہے تو دبا دیں گلا، ویسے بھی فالتو ہی ہوں زمین پر بوجھ _ صائمہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو گرتے ہوئے عمران کے ہاتھ بھگو رہےتھے. وہ کچھ دیر تک صائمہ کو دیکھتا رہا پھر اپنے ساتھ لگا کر رونے لگا اسے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کتنے عرصے بعد رویا ہے بہت سے دکھ تھے جو آنسو کی صورت میں نکل رہے تھے. ڈاکٹر نہ بننے کا غم، گھر سے بے گھر ہونے کا دکھ، پھپھو کے چلے جانے کا صدمہ اور اب آپا کی اچانک موت عمران مسلسل صائمہ کے کندھے پر سر رکھے کسی بچے کی طرح رو رہا تھا جبکہ صائمہ ہکا بکا عمران کی سسکیاں سن رہی تھی
سب مجھے چھوڑ گئے ہیں. کوئی میرا نہیں میں بالکل اکیلا ہوں آخر کیوں ……. ؟؟ رونے کے ساتھ ساتھ عمران عجیب و غریب قسم کے سوال بھی پوچھ رہا تھا صائمہ کو اس کی ذہنی حالت بالکل ٹھیک نہیں لگ رہی تھی.
“میں کس کس کو سمیٹوں ،حوصلہ دوں
جسے دیکھو وہی بکھرا ہوا ہے”
سر آپ پلیز اپنے آپ کو سنبھالے کیا ہوگیا ہے آپ کو _ آپ ایسے تو نہیں تھے …….. ؟؟ صائمہ نے آہستہ سا عمران کے کندھے کو چھوتے ہوئے تسلی دی. میں اسے نہیں چھوڑوں گا اچانک صائمہ سے دور ہوتے عمران چلایا
ساری زندگی جیل میں چکی پیسے گا. کمینہ، کم ذات _ عمران کمرے کی چیزوں کو اٹھا اٹھا کر پھینک رہا تھا 🖤🖤🖤🖤🖤 اسفند نے ساری یو ایس پی چھان لی تھی. کہیں کچھ بھی ختم نہیں کیا گیا تھا. سب کچھ جوں کا توں محفوظ تھا. آخری فائنل دیکھتے اسفند نے یو ایس بی لیپ ٹاپ سے نکالی اور ارحم کی طرف بڑھا دی یہ اپنے پاس رکھ لے اور کچھ دیر کے لیے مجھے بالکل تنہا چھوڑ دے. میرا فلحال سر درد سے پھٹ رہا ہے. اسفند نے کہتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی خیریت ہے کچھ پریشان لگ رہے ہیں ……. ؟؟ ارحم نے یو ایس پی لیتے ہوئے سرسری انداز میں پوچھا. جانتا تھا وہ کبھی نہیں بتائے گا خیریت ہی تو نہیں ہے. میں اشمل کی وجہ سے شدید پریشان ہوں. خلاف معمول اسفند نے اقرار کیا جس پر ارحم کو حیرت ہوئی مطلب میں سمجھا نہیں ارحم نے نا سمجھی سے اسفند کی طرف دیکھا
جب وہ مجھے ملی تھی تو بیوقوف سی بات بات پر ہنسنے والی ایک شرارتی سی لڑکی لگی. پھر وہ مجھے ایک بہت حساس اور ذمہ دار لگی. مگر اب وہ مجھے _ اسفند نے ایک گہرا سانس خارج کرتے ارحم کی طرف دیکھا مگر اب ……؟ ؟ ارحم نے جملہ دوہرایا جس نے اسفند نے سب سچ سچ بتا دیا ہممممم تو یہ بات ہے ارحم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ کر معدوم ہو گئی
تجھے کس چیز کی خوشی ملی ہے ……. ؟؟ اسفند نے سخت لہجے میں پوچھا
اتنی پریشانی میں بھی تجھے میری مسکراہٹ دکھائی دے گی حیرت ہے ارحم نے داد دیتی نظروں سے اسفند کی طرف دیکھا میں پریشان ہوں مگر اندھا نہیں اسفند نے جتلایا
جی بہتر ارحم نے سر تسلیم خم کیا اس نے جھوٹ کیوں بولا …..؟ ؟ کافی دیر بعد اسفند نے خود کلامی والے انداز میں کہا میں نے مشورہ نہیں دیا تھا. ارحم کی طرف سے فوراً جواب آیا. وہ عمران کو کیوں بچانا چاہتی ہے آخر چکر کیا ہے تیرے خیال سے وہ عمران کو پسند کرتی ہے اس لیے …….. ؟؟ اسفند نے ارحم کی طرف دیکھا جس پر ارحم نے سر نفی میں ہلایا صرف دولت کی خاطر تو وہ ایسا نہیں کر سکتی. اسفند نے سوچتے ہوئے کہا کیوں دولت کی خاطر لوگ جان دے سکتے ہیں تو وہ ایک یو ایس بی نہیں گم کر سکتی …….. ؟؟ ارحم کے جواب پر اسفند خاموشی سے اسے دیکھنے لگا میں نے اسے مارا بھی ہے. اسفند نے اپنی طرف سے معلومات دی جس پر ارحم نے اپنی مسکراہٹ دبائی یہ تم دونوں کا ذاتی معاملہ ہے میں کیا کہہ سکتا ہوں میرا کوئی تجربہ نہیں …… ؟؟ ارحم ہنوز اسفند کو دیکھ رہا تھا اس نے مجھے بہت دکھ دیا ہے. میرے جذبات مجروح ہوئے ہیں. اسفند نے دکھ سے ارحم کی طرف دیکھا تم اس وقت زیادہ سوچ رہے ہو اور تمہاری ری ایکشن بھی ضرورت سے زیادہ ہے. ارحمنے یو ایس بی الٹ پلٹ کرتے کہا کیا مطلب وہ میری ساری محنت اس ذلیل عمران کی وجہ سے خراب کر دیتی اور تم کہہ رہے ہو کہ میں زیادہ اوور ہو رہا ہوں. اسفند چیخ پڑا
ضائع تو نہیں کی نااااااا پھر غصہ کس بات کا ہے ………. ؟؟؟ ارحم نے سچائی بتائی. جھوٹ کیوں بولا ……؟؟ اسفند نے پھر دہرایا مجھے کیا پتا اور تم نے کیا ریٹ لگا رکھی ہے. “جھوٹ کیوں بولا جھوٹ کیوں بولا” یہ تو وہی بات ہو گئی کہ ” مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا” کرتوت اپنے اور گلہ ہم سے ارحم نے چڑتے ہوئے جواب دیا اور اٹھ کھڑا ہوا.
ارحم میں سچ مچ اس لڑکی کی وجہ سے بہت پریشان ہوں. اسفند نے ہار مانتے اقرار کیا اور مدد طلب نظروں سے ارحم کی طرف دیکھا
چھوڑ دو ویسے بھی تمہارے خیال سے وہ ایک با کردار لڑکی نہیں ہے. ارحم کے مشورے پر اسفند نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا پھر نظر پھیر لیں.
چھوڑ دوں گا اسفند نے نظریں چراتے جواب دیا. تم اسے کبھی نہیں چھوڑو گے ہاں البتہ وہ تمہیں ضرور چھوڑ جائے گی. مجھے نہیں لگتا کہ اتنی “خدمت” کے بعد وہ تیرے ساتھ رہنا پسند کرے گی. ارحم کی آنکھوں میں شرارت تھی جبکہ اسفند کا سارا دھیان ارحم کی بات پر تھا کیا واقعی ہی وہ مجھے چھوڑ جائے گی ……. ؟؟ اسفند نے اپنے آپ سے سوال کیا بیٹا یہ نئی صدی ہے اس میں لڑکیاں نیک پروین کی طرح نہیں ہوتی کہ مار بھی کھائیں اور اپنے نشئی خاوند کے پاؤں دھو کر پئیے. اب لڑکیاں بڑی ایڈوانس ہوگئی ہیں. ارحم کے جواب پر اسفند خاموشی سے اسے دیکھنے لگا مجھ سے مزید کوئی بونگا سوال مت پوچھنا. ارحم نے فورا ہاتھ جوڑے مثلاً …..؟ ؟ اسفند نے اپنے منہ پر انگلیاں رکھتے پر سوچ انداز میں کہا یہی کہ میں دیکھنے میں کیسا لگتا ہوں میری تعریف کرو وغیرہ وغیرہ …… ؟؟ ارحم کا جواب بھی اسفند کو ہنسنے پر مجبور نہ کر سکا اچھا میں چلتا ہوں مجھے نیند آرہی ہے تیری تو یقینا اڑگئیں ہوگی. ارحم کہتا جانے لگا کیا واقعی ہی وہ مجھے چھوڑ کر عمران پاس چلی جائے گی…… ؟؟ اسفند کی آنکھوں میں بے یقینی تھی میرے خیال سے جو سلوک آپ نے آج کیا ہے اس سے آپ کی “محبت” تو کم از کم ظاہر نہیں ہوتی کہ وہ آپ کے ساتھ رہے. ہاں البتہ عمران پاس کبھی نہیں جائے گی یہ میں لکھ کر دیتا ہوں. ارحم کہتا باہر نکل گیا کیوں کیا تم نے ایسا __
اشمل تم نے آج مجھے توڑ دیا ہے. میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ تم پر ہاتھ اٹھاؤں گا ……؟ ؟ اسفند نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا
رونے دھونے والی تو نہیں ہیں مگر پھر بھی نہ جانے کیا کر رہی ہو گی …… ؟؟ اسفند نے گھڑی کی طرف دیکھا
🖤🖤🖤🖤🖤
جاری ہے.