80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

ہسپتال کے کوریڈور میں چکر کاٹتے عمران کا ذہن تیزی سے اپنے ماہ و سال کو چھان رہا تھا. ایک ہی خونی رشتہ بچا تھا کیا آج وہ بھی جدا ہو جائے گا …… ؟؟
میرے ہاتھ تو بلکل خالی رہ جائیں گے پھر میں کیا کروں گا …….. ؟؟ اچانک رکتے عمران نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا جیسے ابھی اُن سے کچھ چھوٹ گیا ہو.
کاش میں ڈاکٹر ہوتا تو آج اپنی آپا کے کام آتا مگر _ عمران نے دکھ سے سوچتے ہوئے کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی اور دوبارہ چکر کاٹنے لگا کتنا شوق تھا مجھے ڈاکٹر بننے کا، مگر ان لوگوں نے نہ صرف میرا خواب چھینا بلکہ مجھے ایک ایسے راستہ کا مسافر بنا دیا جس کی کوئی منزل ہی نہیں اور میں الو کا پٹھا اُس راستہ پہ چلتے چلتے اتنی دور نکل آیا ہوں کہ اگر واپس جانا چاہوں تو اپنے قدموں کے نشان بھی نہ پاؤں. عمران نے اپنی جلتی آنکھوں کو انگلیوں سے دبایا. سر آپ بیٹھ جائیں. کب سے چکر کاٹ رہے ہیں. تھک جائیں گے. صائمہ کی آواز پر عمران پلٹا اور اسے سر سے پاؤں تک یوں دیکھنے لگا جیسے وہ کوئی اجنبی ہو. ایک تم پتہ نہیں کہاں سے ٹپک پڑی ہو میری زندگی میں جیسے ڈرگز لینے والے کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس کا محتاج ہوتا جا رہا ہے ویسے ہی تم مجھے اپنا عادی بنانے لگی ہو. عمران بڑبڑاتا قریب پڑے بینچ پر بیٹھ گیا. عمران کو بیٹھتا دیکھ کر صائمہ نے سکون کا سانس خارج کیا.
چلو اتنی تو اہمیت ہے کہ بات مان لیتے ہیں. دل میں سوچتی وہ خود بھی اسی بینچ پر قدرے فاصلے سے بیٹھ گئی.
آپ کو وہ سب آپا سے شئیر نہیں کرنا چاہیے تھا. صائمہ کے کہنے پر عمران نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا.
سہی اور کچھ انداز خاصا ذلیل کرنے والا تھا.
میرا مطلب تھا کہ
صائمہ نے نظریں جھکاتے ہوئے اپنے قدموں کی طرف دیکھا
سارے فساد کی جڑ تم ہو. نہ تم میرے آفس میں آتی، نہ تمہارا ریپ ہوتا، نہ مجھے تمہاری شکل پر رحم آتا، نہ تم میری زندگی اور فیملی میں داخل ہوتی اور نہ یہ وقت مجھے دیکھنا پڑتا.
کتنا منع کیا تھا میں نے کہ میرے قریب مت آؤ مگر نہیں تمہیں تو “محبت” کا بھوت چڑھا تھا. تم لڑکیاں اپنی بےوقوفی سے خود تو مرتی ہی ہو ساتھ دوسرے کو “مفت” میں مروا دیتی ہو.
میرے خیال سے اس دنیا میں جتنے فساد ہوتے ہیں اُس کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہی ہوتا ہے. ایسے ہی تمہاری ہمدردی میں آپا ساتھ اتنی بکواس کر دی اور _ عمران نے بند دروازے کی طرف دیکھا جہاں آدھا گھنٹہ پہلے عذرا کو لے جایا گیا تھا. کہا تو تھا کہ چھوڑ دیں چلی جاتی ہوں. صائمہ نے شکوہ بھری نظروں سے دیکھا ہاں چھوڑ دوں تم تو جیسے بلی ہو. میں چھوڑ دوں گا تو کوئی اور پال لے گا ……. ؟؟ صائمہ بی بی تم غلطی سے میری بیوی ہو اور میری وجہ سے تمہیں کیا کیا تکلیفیں پہنچ سکتیں ہیں میرے خیال سے تم مجھ سے بہتر جانتی ہو. مگر تمہاری وجہ سے لوگ میرا جینا حرام کر سکتے ہیں. جو میں نہیں چاہتا. لوگ مجھے بلیک میل کرنے کے لیے تمہارا سہارا لیں گے. صائمہ کو عمران کے جواب سے شدید تکلیف ہوئی. تو آپ نے لوگوں کے ڈر سے پاس رکھا ہوا ہے …… ؟؟ صائمہ کے دل میں ایک ٹیس اٹھی. میرا دماغ مت خراب کرو یہ نہ ہو کہ میں تمہارا گلہ دبا دوں. عمران کے دھاڑنے پر صائمہ خاموش ہو گئی. اب کہاں جا رہی ہو. جہاں دل کرتا ہے منہ اٹھا کر چل پڑتی ہو. صائمہ کو اٹھتا دیکھ کر عمران نے اس کا ہاتھ پکڑا. آپ بہت برے ہیں روتے ہوئے بتایا.
پتہ ہے خاصی پرانی بات ہے. سنجیدگی سے جواب دیتے اسے دیکھا تبھی کاؤنٹر پر عمران کے لیے اناؤنسمنٹ ہوئی. اناؤنسمنٹ سنتے ہی دونوں نے کاؤنٹر کی طرف دوڑ لگائی.
سر آپ کی مریضہ اب کافی بہتر ہیں مگر ڈاکٹر صاحب کمرہ نمبر 12 میں آپ کو بلا رہے ہیں. پروفیشنل انداز میں بتاتے ہوئے کمرے کی نشاندہی کی گئی.
وقت بڑی ظالم چیز ہے. جن سے ہم زندگی میں کبھی ملنا نہیں چاہتے وہ اچانک ہمارے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں.
نمبر پلیٹ دیکھے بغیر ہی عمران گلاس ڈور کو دھکیلتا اندر داخل ہوا اور کرسی پر بیٹھے شخص سے مخاطب ہوا.
ڈاکٹر صاحب میری آپا اب کیسی ہیں. کوئی خطرے والی بات تو نہیں ……. ؟؟ جتنی تیزی سے سوال پوچھا گیا تھا اُتنی ہی تیزی سے کرسی پر بیٹھا شخص کھڑا ہوا.
پھر دونوں کے درمیان وقت جیسے تھم گیا. بے شک بارہ تیرہ سال کا عرصہ بیت چکا تھا مگر خدوخال اور زخم وہی تھے.
اس شخص سے تو عمران کو شدید نفرت تھی. اس شخص نے اُس سے ماں جیسی پھپھو چھینی تھی. پریشان اعصاب ایک دم تن گئے. بالوں میں ہاتھ ہھیرتے عمران نے خود کو نارمل کیا کیونکہ دشمن کے سامنے خود کو کمزور ظاہر کرنا اس کی ذات کا خاصا نہ تھا.
ڈاکٹر صاحب میری آپا کیسی ہیں …… ؟؟ اب کی بار قدرے فاصلے پر کھڑے ہوتے ہوئے نرمی سے پوچھا جبکہ آنکھوں میں اجنبیت تھی. جسے سامنے کھڑے گولڈ میڈلسٹ سرجن ڈاکٹر “رانا عمار ” نے واضح محسوس کیا.
مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ رپورٹس عذرا آپا کی ہیں. دراصل انھیں میں نے ٹریٹ نہیں کیا میرے ایک کولیگ نے کیا تھا. عمار نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے رپورٹس کی طرف دیکھا
رپورٹس میں کیا ہے …..؟ ؟ عمران نے یکسر نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا
دراصل آپا کو عمار نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ عمران بیچ میں بول پڑا. آپا صرف میری ہیں تمہاری نہیں ایک رشتہ چھین چکے ہو دوسرا چھیننے نہیں دوں گا. عمران کے لہجہ میں واضح تنبیہہ تھی عمار بحث کے موڈ میں نہیں تھا. عمران کے پیچھے کھڑی صائمہ کو دیکھنے لگا
بیوی ہے میری اور میرے ہی ساتھ ہے. اپنی بات جاری رکھو. عمران نے بغیر مڑے تعارف کروایا جبکہ صائمہ ہکا بکا دونوں کی گفتگو سن رہی تھی.
آپا سوری عذرا بی بی کا ہیپاٹائٹس بہت خطرناک حد تک بگڑ چکا ہے. مگر مطلب ہے کہ عمار نے کہتے ہوئے اپنی عینک اتار کر نیچے رکھی وہ عمران کے غصے سے واقف تھا.
آپا پاس کتنا وقت ہے …… ؟؟ عمران کی یوں پوچھنے پر صائمہ کو حیرت کا جھٹکا لگا
زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں. ہم انسان کچھ نہیں کر سکتے. عمار نے کہتے ہوئے رپورٹس پر ” one more birth ” لکھا جس کا مطلب صائمہ کو تو نہیں البتہ عمران کو بخوبی سمجھ آیا.
میں انھیں کب تک گھر لے جا سکتا ہوں ….؟؟ عمران نے سنجیدگی سے پوچھا
کل شام تک ابھی وہ سٹیبل نہیں ہیں. عمار کے کہتے ہوئے رپورٹس پر اپنے سائن کیے اور عمران کی طرف بڑھا دی.
میرے پاس تمہاری ایک امانت ہے اگر دل کرے تو آ کر “رانا ہاؤس” سے لے جانا. اب یہ مت کہنا کہ تمہیں رانا ہاؤس کا پتہ نہیں وہ آج بھی وہاں ہی ہے جہاں پہلے تھا. ماما نے دی تھی. عمران رپورٹس لیتے جلدی سے پلٹا مگر عمار کی آواز نے اس کے قدم روکے.
پھپھو سے کہنا عمران مر گیا ہے اگر زندہ ہوتا تو ضرور آتا بغیر مڑے نفرت سے کہتا گلاس ڈور دھکیلا. عمار کو ڈاکٹر کی کرسی پر بیٹھا دیکھ کر خون تیزی سے رگوں میں پھرنے لگا تھا انھیں یہ پیغام دینے کے لیے مجھے مرنا پڑے گا جس کا فلحال کوئی امکان نہیں. عمار کے جواب پر عمران کرنٹ کھا کر پلٹا پھپھو
انتہائی تکلیف سے پکارا
اس دنیا میں نہیں رہیں. مگر مرتے دم تک تمہیں بہت یاد کیا. آخری وقت تک انھیں تمہارا انتظار رہا. خیر دل کرے تو چکر لگا لینا _ عمار کہتا دوبارہ اپنے ٹیبل پر جھک گیا جبکہ عمران بت بنا اسے دیکھنے لگا نہ دکھ، نہ آنسو،. نہ خوشی، بس عجیب سی کیفیت تھی. دماغ جیسے سُن ہو گیا تھا. دل کی دھڑکن تیز چل رہی تھی اور آنکھیں خودبخود دھندلانے لگیں تھیں. سر چلیں
صائمہ نے عمران کو یوں گم صم دیکھ کر پکارا تو سحر ٹوٹا.
چلو _ دھیمے سے کہتے ہوئے وہ صائمہ ساتھ باہر نکل گیا. اُن کے جاتے ہی عمار نے پن پھینکنے والے انداز میں فائل پر رکھا اور کرسی پر جھولنے لگا یہ شخص آج بھی اتنا ہی مغرور ہے جنتا پہلے تھا. بہت بےحس انسان ہے ماما پتہ نہیں کیوں اس پر مرتی تھیں …؟؟ ایک دفعہ بھی نہیں پوچھا کہ انھیں کیا ہوا تھا ……. ؟؟ اس کے اندر اپنی ذات کو لے کر بہت آکڑ ہے. جیسے آسمان سے اترا ہو. خیر غرور تو بنتا ہے. آخر ملک کا جانا مانا بزنس مین ہے. کرپٹ کہیں کا عمار نے تنفر سے کہا اور دوبارہ ٹیبل سے پن اٹھا لیا.
کوریڈور میں کچھ دور جاتے ہی اچانک عمران ایک بینچ پر بیٹھ گیا. چند آنسو گالوں سے ہوتے ہوئے ہاتھ کی پشت پر گرے جسے صائمہ نے بڑے غور سے دیکھا
بہت ہی کوئی منحوس دن تھا. عمران نے گال رگڑتے سرگوشی نما آواز میں کہا تبھی اس کا فون رنگ کرنے لگا
ہاں بولو! کیا کام ہو گیا …… ؟؟ عمران نے پوچھتے ہوئے صائمہ کی طرف دیکھا جو حیران پریشان کھڑی تھی.
ٹھیک ہے. کل یہ خبر خوب پھیلنی چاہیے جتنی تم پھیلا سکتے ہو. تمہارا انعام وعدے کے مطابق تمہیں مل جائے گا. عمران نے کہتے کال بند دی اب اس کی آنکھوں میں نمی جبکہ لبوں پر پُر اسرار مسکراہٹ تھی.
کل پولیس مجھے گرفتار کر لے گی. تم نے میری ضمانت کرانے کی کوشش نہیں کرنی. عمران کے الفاظ بم کی طرح صائمہ کے گرد پھٹے جبکہ زبان بولنے سے انکاری تھی.
یہ لوگ مجھ سے جیت نہیں سکتے. کھیل تو اب شروع ہو گا اور انھیں میں بتاؤں گا کہ کھیلتے کیسے ہیں …. ؟؟
جیسا میں کہوں تم بلکل ویسا ہی کرنا. گو کہ میں تمہیں استعمال نہیں کرنا چاہتا مگر وہ کیا ہے نااااا کہ میرے پاس اس کے سوا اب آپشن ہی نہیں ہے.
مجھے سب سے زیادہ اپنے آپ سے محبت ہے اور تمہیں مجھ سے ہو سکے تو معاف کر دینا. عمران نے صائمہ کے گال تھپکے اور جیبوں میں ہاتھ ڈالے چل پڑا جبکہ صائمہ اس کے موڈ کو بدلتے دیکھ کر دنگ رہ گئی.
لوگ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہو سکے تو معاف کر دینا. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ معافی کس چیز کی…… ؟؟
اپنے وعدوں سے مکر جانے کی
کسی کے دل سے سالوں کھیلنے کی
زمانے بھر کے سامنے رسوا کرنے کی
جھوٹی محبت کی، اپنی عادت ڈالنے کی
کبھی ختم نہ ہونے والی تکلیف کی،
یا پھر بے وجہ چھوڑ جانے کی
آخر کس چیز کی معافی ……؟ ؟
دل میں سوچتے ہوئے صائمہ نے اپنے سے دور جاتے عمران کی پشت کو دیکھا
♣️♣️♣️♣️♣️
جناب اسفند یار ولی صاحب آپ کے کہنے پر میں نے نہ صرف عمران کے خلاف رپورٹ درج کرا دی ہے بلکہ اس کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کرنے کی درخواست دے آیا ہوں. ارحم نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے بتایا.
کیا نئی نئی اردو بولنا شروع کی ہے. اسفند نے طنز کیا.
تم نے نئی زندگی شروع نہیں کی تو میں نے سوچا نئی اردو بولنا ہی شروع کر دوں. کچھ تو نیا ہو. ارحم کے جواب پر اسفند اسے گھورتا ہوا بیڈ سے کھڑا ہوا.
ویسے تمہیں اپنے فلیٹ پر کس نے آنے سے منع کیا ہے. تم وہاں ٹکتے کیوں نہیں. مجھے تمہاری فکر کھائے جا رہی ہے …. ؟؟ ارحم نے مصنوعی پریشانی سے اسفند کو دیکھا
زیادہ میری اماں بننے کی کوشش مت کرو. حالانکہ میں جانتا ہوں تمہارے اندر اچھی خاصی پنگے لینے والی ایک عورت بستی ہے. اسفند جواب دیتا الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگا
بس کیا کروں. شدید ترسا ہوا انسان ہوں. جب مجھ پر کوئی عورت عاشق نہیں ہوتی تو میں خود ہی عورتوں جیسی حرکتیں کر لیتا ہوں. ارحم ہنسا
ویسے تیرے جیسے بندر کو لڑکیاں بےوقوف بنا کر بہت خوش ہوتیں ہیں. حیرت ہے ابھی تک کسی حسینہ کی نظر تجھ پر کیوں نہیں پڑی. اسفند نے سنجیدگی سے مڑتے ارحم کا جائزہ لیا.
کیونکہ میرے اوپر ایک دیو کا سایہ ہے. جس نے مجھے خوب بےوقوف بنا رکھا ہے. ارحم کی آنکھیں اسفند کا طواف کر رہیں تھیں.
چل اوئے بکواس نہ کر
اسفند نے ارحم کو سائیڈ پر کیا.
آپ کی بیگم صاحبہ تازہ ترین اطلاع کے مطابق آج نادرہ کے دفتر اپنی سویٹ ہارٹ دادو ساتھ گئیں تھیں. انھیں پاسپورٹ بنوانا تھا. ارحم نے لہک لہک کر بتایا تو اسفند کو سچ مچ جھٹکا لگا
حرام ہے کہ یہ لڑکی آرام سے کچھ دن گزار لے. چین تو اس کی ہڈیوں میں بلکل نہیں ہے. جو بات ایک بار دل میں سما جائے جب تک پوری نہ کر لے اسے چین نہیں پڑتا. اب اُن پر باہر جانے کا بھوت سوار ہے. اسفند نے دکھ سے سر نفی میں ہلایا
حالانکہ کے اسفند کے ہوتے کسی بھوت کی بھلا کہاں گنجائش بچتی ہے. چلو خیر یہ آپ دونوں کا ذاتی معاملہ ہے. ارحم نے مسکراتے ہوئے اسفند کی طرف دیکھا
میں نے نہانے جانا ہے برائے مہربانی اپنی تشریف لے جائیں. اسفند نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہنگر کی طرف اشارہ کیا
تو میں نے کونسا جھانکنا ہے. بے فکر ہو کر جاؤ اور تسلی سے نہانا میں یہاں ہی بیٹھا ہوں. ارحم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پاس پڑا میگزین اٹھایا.
مرو اسفند غصے کہتا ہوا واش روم کا دروازہ کھولنے لگا
دوسری خبر بھی سنتے جائیں کہ شوبز کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے ….؟؟ ارحم نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے چسکا لیا
ایک دفعہ ہی سب بتا دے جو بتانے آیا ہے ورنہ تیرے پیٹ میں درد پڑ جائے گا. اسفند نے دیوار ساتھ ٹیک لگاتے کہا
آپ کی لاڈلی بیگم صاحبہ آج آپ کے دشمنِ خاص سے ملنے اُن کے آفس گئیں تھیں مگر وہ وہاں موجود نہیں تھے تو انھوں نے اُن کے گھر جانے کے لیے کیپ کرائی. اس وقت وہ عمران کے غریب خانے پر ہیں. ارحم نے میگزین ایک طرف پھینکتے اسفند کو دیکھا
میں جتنا منع کرتا ہوں وہ اُتنا ہی مجھے تنگ کرتی ہے. کیا کروں میں اس کا اور تیرا
اسفند نے کپڑے بیڈ پر پھینکے اور خود کھڑکی پاس جا کھڑا ہوا.
میرے لیے تو کوئی رشتہ دیکھ دے تاکہ میں اُسے تنگ کیا کروں اور تیرا پیچھا چھوڑ دوں جبکہ بھابی کو کسی ارادے میں بھرتی کرا دے. بس پھر ارادہ نہیں یا ارادہ ہی نہیں ارحم اپنے مشورے پر خود ہی ہنسا
ایک کام کر جس کمپیوٹر میں عمران کے خلاف فائل بنائی تھی اس کا سوفٹ ویر اڑا دے. اسفند نے پر سوچ انداز میں کہا تو ارحم کی ہنسی کو بریک لگی.
مگر کیوں …..؟؟ ارحم کے لبوں سے بےساختہ پھسلا
بس جیسا کہا ہے ویسا کر، سوال مت پوچھ مجھے پتہ ہے کہ کیا کب کیسے کرنا ہے …… ؟؟ اسفند کے کہنے پر ارحم اٹھ کھڑا ہوا.
ویسے ہوم منسٹر سے تعلقات ٹھیک کر لو. تم بھی خوش رہو گے اور ہم بھی
ارحم شرارتی نظروں سے اسفند کو دیکھتا باہر نکل گیا.
اشمل بی بی تم یقیناً وہ فائل اپنے سر کو دینے گئی ہو گی. مگر تم بول رہی ہو کہ میرا نام اسفند ہے میں ہارتا نہیں. عمران کو پھانسی ہو کر رہے گی. اسفند کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عمران کی گردن مڑوڑ دے.
اچانک کسی خیال کے تحت اسفند آہستہ آہستہ چلتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آن کھڑا ہوا اور اپنا جائزہ لینے لگا. پھر پرسوچ انداز میں ارحم کو کال ملائی.
اگر قریب ہی پایا جا رہا ہے جو کہ تیری فطرت ہے تو اتنی جلدی یہاں سے جا نہیں سکتا تو میرے کمرے میں آ ارحم جو ابھی ابھی پارکنگ میں پہنچا تھا اسفند کے حکم پر مڑتا دس منزلہ عمارت کو گھورنے لگا
خیریت، ابھی تو دھکے دے رہے تھے اور اب یوں ایمرجنسی میں بلایا ہے. ارحم نے اندر داخل ہوتے ہی پوچھا
ارحم مجھے زرا غور سے دیکھ اور بتا میری پرسنلٹی کیسی ہے ….. ؟؟ اسفند کے سوال پر ارحم کا منہ کھل گیا.
کیا…..؟؟ ارحم کو اسفند کی ذہنی حالت پر شک ہوا.
کیا پوچھا ہے زرا دوبارہ پوچھنا. نیچے دھوپ میں کھڑا تھا شاید کانوں پر برا اثر پڑ گیا ہے ویسے تو آنکھوں پر پڑتے سنا تھا. ارحم نے اپنے کان کو انگلی سے ہلایا.
میں نے پوچھا ہے کہ میں دیکھنے میں کیسا لگتا ہوں ….؟؟ اسفند نے ارحم کی طرف چند قدم لیتے دوبارہ اپنا سوال دہرایا
پہلی بات تو یہ کہ میں ذاتی طور پر ” ٹرانس جنڈر ایکٹ” کے خلاف ہوں لہٰذا میری طرف سے تمہیں “نہ” یے.
دوسرا میری کوئی بہن نہیں جس کے لیے میں آج کل رشتہ تلاش کر رہا ہوں.
تیسری اور آخری بات یہ کہ آپ نے صرف یہ پوچھنے کے لیے مجھے واپس بلوایا تھا اور اس بات آپ کو یقین بھی ہے …..؟؟ ارحم نے سنجیدگی سے اسفند کو دیکھتے ہوئے پوچھا
اپنی فضول کی بکواس بند رکھ اور یہ بتا کہ میں دیکھنے میں کیسا لگتا ہوں ….؟؟ اسفند کا سوال ہنوز قائم تھا جس پر پہلی بار ارحم نے پریشانی سے اپنا ماتھا مسلا
آپ بہت خوبصورت ہیں اور
یہ جملہ بولتے ہی ارحم کھلکھلا کر ہنس پڑا.
یارررر میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یوں تیری تعریف بھی کرنی پڑے گی. میرا مردانہ تعریف کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے یہ فسٹ ٹائم ہے اسی پر گزارہ کر لے. مجھ سے لڑکیوں کی نہیں ہوتی تو تیری کیسے کروں ….؟؟ ارحم نے صوفے پر گرتے ہوئے جواب دیا.
اچھا تو پھر عمران کی پرسنیلٹی میرے سے زیادہ اچھی ہے …؟؟ اسفند کے سوال پر ارحم کی ہنسی کو بریک لگی
آپ واقعی ہی جیلس ہونے لگے ہیں. مجھے حیرت ہے. کہاں آپ کہاں وہ ….؟؟ ارحم بلکل سنجیدہ تھا جبکہ اسفند کسی گہری سوچ میں ڈوبا تھا.
♣️♣️♣️♣️♣️
تو پھر قتل کیسے یوا تھا …..؟؟ اشمل نے تیسری بار اپنی بات دہرائی.
تمہیں اس میں اتنی دلچسپی کیوں ہے …..؟ ؟ صائمہ نے اداسی سے پوچھا
بس تم بتاؤ تو سہی، ہو سکتا ہے کہ میں تمہارے اتنے کام آ جاؤں کہ تم خود بھی حیران رہ جاؤ. اشمل کا انداز اور لہجہ ایسا تھا کہ صائمہ چونکی
یاررر میں اس حادثے کے بعد اتنی خوف زدہ ہو گئی تھی کہ ہر بات اور آہٹ پر ڈر جاتی تھی. عدیل کو دیکھتے ہی دل کرتا یا اسے مار دوں یا خود کو _ حالانکہ سر نے سختی سے عدیل کو آفس میں آنے سے منع کر رکھا تھا. سر خود بھی زیادہ تر اُن دنوں آفس میں ہی رہتے تھے. سر کے آفس ساتھ ایک کمرہ تھا جسے وہ اپنے بیڈ روم کے طور پر استعمال کرتے تھے. جس کا مجھے اُس وقت تک علم نہیں تھا.اُس دن بھی سر وہیں سو رہے تھے اور میں اٗن کے آفس میں کمپیوٹر پر کام کر رہی تھی. میں اپنے کاموں میں اتنی مصروف تھی کہ مجھے عدیل کے آنے کا پتہ ہی نہیں چلا. جبکہ اس نے مجھے اکیلا دیکھ کر ہراساں کرنا شروع کر دیا. اس سے پہلے کہ وہ ایک بار پھر مجھے اپنا شکار بناتا میں نے جلدی سے سر کی پسٹل پکڑی جو اکثر اُن کے ٹیبل دراز میں ہوتی تھی. اس سے پہلے کہ میں عدیل کو گولی مارتی سر پتہ نہیں کہاں سے اور کیسے وہاں پہنچے میں نہیں جانتی …… ؟؟ بس اتنا معلوم ہے کہ کسی نے میرا ہاتھ زور سے جھٹکا اور گولی عدیل کی بجائے اندر داخل ہوتے اکاؤنٹ آفسر کو جا لگی. مڑ کے دیکھنے پر پتہ چلا کہ وہ سر عمران تھے.انھوں نے فوراً میرے ہاتھ سے پسٹل لے لی. پسٹل کا لائسنس بھی سر کے نام تھا اور سارے سٹاف کو لگا کہ گولی سر نے ماری ہے. لہٰذا سب خاموش ہو گئے. سر نے پولیس اور اکاؤنٹ آفسر کے لواحقین کو دے دلا کر سب ختم کر دیا اور مجھے بھی منع کیا کہ کسی سے اس بات کا ذکر نہ کرنا. سر نے میرا نام نہیں لیا اور کیوں نہیں لیا یہ میں نہیں جانتی مگر سر سے محبت دن بدن بڑھتی ہی گئی. وہ کچھ بھی کرتے، کہتے مجھے برا نہ لگتا. بےشک کاغذی ہی سہی مگر میں اُن کے نکاح میں تھی تو کوئی مجھے کچھ نہیں کہتا تھا. مجھے اُن ساتھ ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے. جب وہ میرے آس پاس ہوتے ہیں. صائمہ کی گالوں پر مسلسل آنسو بہہ رہے تھے. وہ بہت عجیب طبیعت کے مالک ہیں مجھے اُن کی سمجھ نہیں آتی. کبھی بہت ہی کئیر کرنے والے اور کبھی کبھی تو مجھے اُن سے ڈر لگنے لگتا ہے. جیسے کل ہسپتال میں انھوں نے مجھ سے جو کچھ کہا. صائمہ نے جان بجھ کر بات بتانے سے پرہیز کیا. کل ہسپتال کیوں گئے تھے …..؟؟ اشمل کو خیال آیا. سر کی بہن داخل تھیں. صائمہ نے اپنے آنسو صاف کیے. اچھا تو ان کی کوئی بہن بھی ہے. اشمل نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا ہاں ایک بہن اور ایک لالچی خبیث بہنوئی عدیل
بس یہی سر کی فیملی ہے. صائمہ نے نفرت سے رخ پھیرا.
ویسے یار تیری زندگی پر تو اچھی خاصی ٹاپ مووی بن سکتی ہے. ایک دم سپر ہٹ _ جس میں سب کچھ ہی عجیب ہے ……. ؟؟ اشمل نے ہنستے ہوئے کہا مجھے adventure بہت پسند ہے مگر میرے ساتھ کبھی کچھ ایسا نہیں ہوا. اشمل نے حسرت سے کہا اللہ نہ کرے کسی کے ساتھ ایسا کچھ ہو. کیا فضول سوچے سمجھے بغیر بولتی رہتی ہو. اللہ برے وقت سے بچائے. صائمہ کے گھورنے پر اشمل نے توبہ کی. اچھا تو اب سر جیل جائیں گے. ویسے ہیں بہت زبردست کچھ نہ کچھ انوکھا کرتے ہیں ….؟؟ اشمل کے سراہنے پر صائمہ نے افسوس سے اسے دیکھا جب سر اپنے ہنی مون پیریڈ پر جائیں تو تم میرے پاس آ جانا یہاں رہ کر کیا کرو گی ….؟؟ اشمل نے اٹھتے ہوئے آفر ماری. دیکھتی ہوں کیا کروں شاید کسی یتیم خانے چلی جاؤں مگر یہ پکا ہے کہ اپنے گھر نہیں جاؤں گی …… ؟؟ پتہ نہیں میرے والدین کیسے ہیں. لوگوں کے والدین انھیں پالتے ہیں اور میں نے اپنے والدین کو پالا ہے پھر بھی میں ہی بری ٹھہری. صائمہ افسردہ ہوئی. صائمہ بی بی کوئی بات نہیں کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے. مجھے تو لگتا ہے تمہیں اپنے بچے پالنے سے پہلے میاں کو بھی پالنا پڑے گا. اشمل ہنس دی جبکہ صائمہ مزید افسردہ ہوئی. جانے لگی ہو …..؟ ؟ صائمہ نے اشمل کو بیگ کندھے پر ڈالتا دیکھ کر پوچھا ارادہ تو یہی ہے ….؟؟ اشمل نے کندھے اچکائے کچھ دیر اور بیٹھ جاتی تمہارے ہوتے ہوئے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا. صائمہ نے روکنا چاہا نہیں اب میں چلتی ہوں. تم بھی سر ساتھ وقت گزارو کل انھوں نے سسرال سوری میکے چلے جانا ہے. اشمل نے ذومعنی انداز میں کہا پتہ نہیں سر نے کیا سوچا ہے جو اتنا بڑا قدم اٹھا رہے ہیں. صائمہ نے اشمل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تمہاری بلا سے جو بھی سوچا ہو. وہ بےوقوف نہیں ہیں کچھ بہتر ہی ہو گا. خیر اگر تمہیں لگے کہ تم یا سر کہیں پھنسنے لگے اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو میرے پاس آ جانا. میں ہوں ناااا تمہاری اپنی اور ہمیشہ رہوں گی. اشمل کے یوں تسلی بھرے جملوں پر صائمہ اس کے گلے لگ گئی. ہماری خاطر کہیں اپنے میاں سے جوتے نہ کھا لینا.وہ بہت سخت مزاج افسر ہے. صائمہ کو اپنے ٹارچر سیل میں گزارے دن یاد آئے. سبھی اُس کے بارے میں یہی کہتے ہیں مگر آج تک اُس نے مجھے کچھ نہیں کہا حالانکہ میری دلی خواہش ہے کہ وہ مجھے مارے. ٹارچر سیل میں لے جا کر تفتیش کرے. اشمل کی خواہش جان کر صائمہ حیران رہ گئی. پاگل ہو. ٹارچر سیل کوئی پکنک پوائنٹ نہیں. صائمہ نے جھرجھری لی. خیر مار تو پڑے گی کیونکہ میں نے اُس کی ایک قیمتی چیز چُرا لی ہے. جب اسے پتہ چلے گا وہ بہت شور کرے گا اس کے بعد میری شامت
اشمل مسکراتے ہوئے صائمہ کے گلے لگی.
تمہارا آئی ڈی کارڈ آج گھر ہے. صائمہ کے پوچھنے پر اشمل کو دادو کا خیال آیا.
دادو تمہاری کوٹھی کے ساتھ ہی جو پارک ہے وہاں بچوں کو دیکھتی رک گئیں ہیں. انھیں بچے بہت پسند ہیں. تم اُن کی عنر دیکھو اور شوق …..؟ ؟ اشمل نے آنکھ مارتے بتایا
مجھے تو خود بھی بچے بہت اچھے لگتے ہیں مگر لگتا ہے نصیب میں نہیں ہیں. صائمہ پھر اداس ہو گئی.
یہ تم بات بات پر منہ کیوں بنا لیتی ہو. خوش رہا کرو اور جا کر سر کو بتاؤ کہ تمہیں بچے پسند ہیں. اشمل ہنستے ہوئے چل دی جبکہ صائمہ اسے گیٹ عبور کرتے دیکھتی رہی.
سر پتہ نہیں کیا کر رہے ہوں گے …..؟ ؟ اشمل کے جاتے ہی صائمہ نے عمران کے کمرے کا رخ کیا.
عمران کارپٹ پر بیٹھا کاغذوں کے ڈھیر کی چھانٹی کر رہا تھا جب صائمہ نے کمرے میں قدم رکھا
یہ دو لیٹر تم سنبھال کر رکھ لو تمہارے کام آئیں گے. باقی ان سب کو میں آگ لگا دیتا ہوں. عمران نے دو خاکی رنگ کے لفافے صائمہ کی طرف بڑھائے تو اس نے تھام لیے مگر نظروں میں سوال تھا جبکہ باقی کاغد عمران جلانے کے لیے ٹیرس پر لے گیا.
ان میں کیا ہو سکتا ہے ….؟؟ صائمہ ان لفافوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگی.
سارا کام میں نے اپنے ایک وفادار بندے کو سمجھا دیا ہے. ویسے تو اس دور میں کوئی بھی وفادار نہیں مگر تم ایسے کرنا کہ میری گرفتاری کے بعد یہ لفافہ ایمبیسی جمع کرا دینا اور دوسرا اپنے پاس رکھ لینا. عمران کہتا صائمہ کے پاس ہی بیٹھ گیا.
سر آپ کیا کرنا چاہ رہے ہیں …..؟ ؟ صائمہ نے اداسی سے عمران کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
تمہاری خواہش پوری کرنے لگا ہوں. تم نے کہا تھا نااا سر برے کام چھوڑ دیں تو چھوڑنے لگا ہوں. عمران نے صائمہ کے بال پیچھے کرتے سکون سے جواب دیا.
تو صرف برے کام چھوڑیں مگر جیل مت جائیں. صائمہ کی بات پر عمران ہنسا
جب میں برے کام چھوڑوں گا تو مجھے برے کام کی سزا بھی ملے گی. اس لیے جیل جانا ضروری ہے. ہمارے ملک کا اصول ہے برا کام کرنے والے کو کچھ نہیں کہتے چھوڑنے والے کو سزا دیتے ہیں. اس سے پہلے پولیس رٹ کرے اچھا نہیں کہ میں خود گرفتاری دے دوں. عمران نے مزے سے کہتے ہوئے صوفے ساتھ ٹیک لگائی
آپ کو ڈر نہیں لگ رہا ……؟ ؟ صائمہ نے عمران کو دیکھتے پوچھا جو خاصا پر سکون لگ رہا تھا.
ڈر کیسا …..؟ ؟ جیل اتنی بھی بری جگہ نہیں ہے جتنی تم سمجھ رہی ہو. بھئی بڑے بڑے وزیر، مشیر اور وزیراعظم جیل جاتے ہیں تو سوچو کیسی جگہ ہو گی ….؟؟ عمران ہنس دیا.
آپ جیل ہی جا رہے ہیں نااااا پکا _ صائمہ نے تصدیق چاہی جس پر عمران کا قہقہ بلند ہوا. دیکھو
اپنے بال سیٹ کرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا.
میرا کیا ہو گا میں آپ کے بغیر کس پاس رہوں گی ……. ؟؟ صائمہ نے نم آنکھوں سے عمران کو دیکھا جسے اس کی زرا پرواہ نہیں تھی.
مجھے کیا پتہ، اس بات کا تو تمہیں پتہ ہونا چاہیے. عمران نے مڑتے ہوئے کیا جس پر صائمہ نے سر جھکا لیا
آپ مجھے صبح کسی اچھے یتیم خانے چھوڑ آئیں. پلیز صائمہ کی آواز میں واضح لرزش تھی.
ہمممممم _
چلو دیکھتا ہوں. ویسے میرا مشورہ ہے کہ یتیم خانے کی بجائے اپنے گاؤں لوٹ جاؤ. آخر وہ تمہارے اپنے ہیں. عمران کی بات پر صائمہ نے کنفیوز نظروں سے اسے دیکھا
اگر میں اپنے گھر چلی گئی تو پھر آپ مجھے استعمال کیسے کریں گے ….؟ صائمہ کی معصومیت پر عمران کچھ دیر کے لیے سکتہ میں آ گیا پھر سر جھٹکتا خاموشی سے باہر نکل گیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.