No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
مجھے بتاؤ تو سہی کہ تمہیں کیا ہوا تھا. آخر عمران نے ایسا کیا کر دیا تھا کہ تم ہسپتال جا پہنچی _ عدیل نے عذرا کے قریب بیٹھتے ہوئے تجسس سے پوچھا جبکہ عذرا بلکل خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی. انسان کے کتنے روپ ہوتے ہیں. کاش ہم اس کی شکل سے اندازہ لگا سکتے تو دھوکا کھانے سے بچ جاتے. عذرا نے دل میں سوچتے ہوئے رخ موڑ لیا. بتاؤ ناااااا عدیل ضدی انداز میں کہتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف کیا
کیا تم جانتے ہو کہ عمران کو ڈاکٹروں نے میرے بارے میں کیا کہا ہے …..؟ ؟ عذرا نے پرسکون انداز میں پوچھا
نہیں، کیا کچھ خاص ہے …..؟ ؟ عدیل نے فوراً سیدھا ہوتے ہوئے بیتابی سے پوچھا
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ انھوں نے مجھے جواب دے دیا ہے. عذرا نے عدیل کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے کہا
اچھا ایسا ہے. عدیل ایک دم کہتا ہوا کھڑا ہو گیا.
( اگر ایسا ہوتا تو عمران کم از کم مجھے ضرور بتاتا. اگر ایسا ہو جائے تو مزہ ہی آ جائے. یہ خود بخود اپنی موت مر جائے گی اور مجھ معصوم پر کوئی الزام بھی نہیں آئے گا. ) عدیل نے کمرے میں چکر لگاتے ہوئے اپنا سر کھجایا.
آپ کو دکھ ہو رہا ہے ……. ؟؟ عذرا کی آواز پر عدیل اپنے خیالوں سے باہر نکلا
نہیں، ہاں _ کچھ نہیں. تم کیا پوچھ رہی ہو …… ؟؟ عدیل نے فوراً اپنے آپ کو کمپوز کیا تبھی دستک دیتا عمران کمرے میں داخل ہوا. آپا اب آپ کی کیسی طبیعت ہے. دوا لی اور یہ آیا کہاں ہے. میں نے سختی سے کہا تھا کہ آپ پاس رہے ……. ؟؟ عمران نے بیڈ پاس کھڑے ہوتے ہوئے پورے کمرے کا جائزہ لیا. یارررر پریشان کیوں ہو. میں ہوں ناااا عذرا پاس میں اپنی بیوی کا خیال آیا سے زیادہ اچھی طرح رکھ سکتا ہوں. مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے …… ؟؟ عدیل نے بھرپور ایکٹنگ کی جس پر عمران نے اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کیا جواب دینا تو دور کی بات تھی.
آپا مجھ پر کسی نے جھوٹا کیس کیا ہے. شاید کچھ دنوں کے لیے سرکاری مہمان بننا پڑے. اس لیے میں آپ کو ہسپتال داخل کرا رہا ہوں. وہاں کے عملے پر مجھے اعتبار ہے . عمران کی بات پر عذرا نے اسے چونک کر دیکھا
آپ ہسپتال ہوں گی تو میرا دل مطمئن ہو گا. دوسرا صائمہ بھی آپ کی دیکھ بھال کے لیے ہر وقت موجود ہو گی. وہ ایک ذمہ دار لڑکی ہے.صائمہ کا نام سنتے ہی عذرا نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں جبکہ عدیل اپنے دماغ میں ایک انوکھا پلان بنانے لگا
تم بے فکر رہو. میں سب دیکھ لوں گا _ عدیل نے فوراً عمران کے کندھے پر ہاتھ رکھتے تسلی دی. ( یہی تو مسئلہ ہے کہ تم کہیں دیکھ ہی نہ لو ……. ؟؟ ) عمران نے بیزاری سے ہاتھ ہٹایا. عمران کتنے دن لگ جائیں گے …..؟ ؟ عذرا نے افسردگی سے پوچھا آپا کیا پتہ، اپنی تو پوری کوشش ہو گی کہ جلد واپس آ جاؤں. باقی دیکھو عمران نے کندھے اچکائے
تم نے میرے جنازے کو کندھا دینا ہے یہ بات یاد رکھنا اور _ عذرا ابھی بول ہی رہی تھی کہ عمران نے آگے بڑھ کر تیزی سے ان کے منہ پر ہاتھ رکھا آپا زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے. کیا پتہ پہلے میری باری آ جائے. عمران کے جواب پر عذرا نے روتے ہوئے سر نفی میں ہلایا بس کریں چپ کر جائیں. مجھے یا آپ کو اتنی جلد کچھ نہیں ہو گا. عمران نے عذرا کے رونے پر انھیں اپنے ساتھ لگا لیا جبکہ عدیل بیزار سا کھڑا دونوں کو دیکھ رہا تھا. عمران پتہ نہیں کیوں مگر مجھے لگتا ہے کہ میرا آخری وقت آن پہنچا ہے. تم نے میری بہت خدمت کی ہے. مجھے بڑی بہن کم اور ماں زیادہ سمجھا ہے. باقی جو تکلیفیں تمہیں میری محبت میں پہنچیں میں ان پر شرمندہ ہوں. وہ سب میں نے جان بجھ کر نہیں کیا تھا. عذرا کا اشارہ عدیل کی طرف تھا جسے عمران سمجھتے ہوئے بھی اگنور کیا. آپا آپ نے مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں دی اور جس نے دی ہے اسے میں چھوڑو گا نہیں. عمران نے محبت سے عذرا کے آنسو صاف کرتے کہا عدیل بھائی آپ آپا کو ہسپتال پہنچا دیں. مجھے کچھ کام ہے. عمران کہتا عدیل کی طرف پلٹا کیوں نہیں، بھلا یہ کوئی بات ہے کہنے والی، مجھے عذرا کی تم سے زیادہ فکر رہتی ہے. عدیل نے چہرے پر مصنوعی پریشانی سجائے عذرا کی طرف دیکھا میں آیا کو بھیجتا ہوں کہ وہ آپا کے کپڑے تبدیل کر کے سامان پیک کر دے. عمران کہتا تیزی سے باہر نکل گیا جبکہ عذرا نے اسے نم آنکھوں سے دیکھا یہ تو گیا اور یہ بھی گئی باقی بچے ہم دونوں، یعنی میں اور صائمہ _ عدیل دل میں سوچتا عمران کے پیچھے چل دیا. ♣️♣️♣️♣️♣️ ناظرین ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ ملک کے مایہ ناز بزنس مین اور خان ٹریولنگ ایجنسی کے مالک “عمران” کو لڑکیاں سمگلنگ کرنے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے. ٹی وی سکرین پر نیوز کاسٹر چیخ چیخ کر بتا رہا تھا. اشمل نے یکے با دیگر کئی چینلز تبدیل کیے مگر ہر طرف ایک خبر ہی چل رہی تھی. جس پر اُس نے اپنا غصہ ریموٹ پر اتارتے اسے پھینکا اور اپنے موبائل تلاش کرنے لگی. اے لڑکی! یہ تیرا باس نہیں ہے …..؟ ؟ دادو نے عینک درست کرتے سکرین کی طرف دیکھا نہیں ہے اشمل نے بیزاری سے جواب دیتے فون صوفے سے اٹھایا.
کءوں جھوٹ بول رہی ہے. مجھے تو یہ وہی لگ رہا ہے دادو نے مزید سکرین کے قریب ہوتے ہوئے کہا جس پر عمران کو گرفتار کر کے پولیس گاڑی میں بیٹھتا دیکھا رہے تھے.
دادو پلیز آپ تو تنگ نہ کریں. ایک تو وہ فون نہیں اٹھا رہا دوسرا مجھے میڈیا والوں پر تپ چڑھ رہی ہے زرا سی بات کو اتنا بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں. ویسے سر لگ پیارے رہے ہیں ….؟؟ اپنی بات کے آخر میں اشمل نے سکرین پر چلتی عمران کی تصویر پر تبصرہ کیا.
یہ تُو کیوں اتنی چڑچڑی ہو رہی ہے ….؟؟ دادو نے اشمل کی طرف دیکھا جو بار بار کسی کو کال کر رہی تھی.
دادو اشمل فون صوفے پر پھینکتی دادو ساتھ آ لگی.
کیا ہوا ہے. تُو کب سے اتنی حساس ہو گئی …….؟؟ دادو کو اشمل کا یوں ایک دم اداس ہونا عجیب لگا
دادو وہ میرا فون نہیں اٹھا رہا. پتہ نہیں اسے کیا تکلیف ہے سر کے پیچھے تو ہاتھ دھو کر پڑ گیا ہے حالانکہ اشمل نے دادو ساتھ لگے لگے اسفندیار ولی کی شکایت لگائی.
حالانکہ اسے تیرے پیچھے پڑنا چاہیے. دادو نے مسکراتے ہوئے اشمل کے سر پر ہاتھ رکھا.
میرے پیچھے اور وہ پھرے گا ناممکن _ اسے صرف مجرموں کے ہیچھے پھرنے کا شوق ہے. اشمل نے منہ بناتے جواب دیا. تُو بھی تو اچھی خاصی مجرموں والی حرکتیں کرتی یے. اُس نے شاید غور نہیں کیا دادو کی ہنستے ہوئے کہا تبھی اشمل کا فون بجنے لگا
چل دیکھ اسی کا فون ہو گا. فون سُن اور اپنا موڈ ٹھیک کر، یوں اداس سی اچھی نہیں لگتی. دادو کے کہنے پر اشمل نے صوفے سے فون اٹھایا.
ہاں جی، آج آپ کو صبح سویرے کیسے میری یاد آئی. کءوں فون کیا جا رہا تھا ……؟ ؟ اسفند کی آواز میں عجلت تھی جیسے وہ بہت مصروف ہو.
کہاں ہو …… ؟؟
گاڑی چلا رہا ہوں. اسفند کو اشمل کے سوال پر تھوڑی حیرت ہوئی وہ یوں بات نہیں کرتی تھی.
یہ حرکت آپ کی ہے ناااا _ ؟؟ اشمل نے سکرین پر دیکھتے ہوئے پوچھا کونسی …… ؟؟ انداز میں حیرت واضح تھی. یہ جو ٹی وی پر چل رہی ہے. اشمل نے دانت پستے ہوئے بتایا اشمل میں اس وقت شہر سے باہر کسی کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں. اس لیے بات سیدھی اور سادہ الفاظ میں کرو. اسفند نے سائیڈ مرر میں دیکھتے ہوئے کہا سر عمران کو تو پھانسی کسی بھی صورت ہو نہیں سکتی کیونکہ قتل انھوں نے نہیں کیا ہے اور جس نے کیا ہے وہ کبھی بھی سر کو پھانسی ہونے نہیں دے گی. رہی بات باقی کیسس کی تو وہ آپ کبھی بھی ثابت نہیں کر سکتے. انھیں گرفتار کروا کر آپ نے بہت ہی چھوٹی حرکت کی ہے. مجھے آپ سے ایسی امید نہیں تھی. اشمل کی آواز میں ناراضگی جھلک رہی تھی. عمران گرفتار ہو گیا ہے. مگر کب،. کیسے ……؟ ؟ اسفند نے گاڑی کی رفتار کم کرتے پوچھا ڈرامہ نہیں، آپ سب معلوم ہے. انسپکٹر اسفندیار ولی اشمل نے طنز کیا
سچ مجھے کچھ معلوم نہیں اسفند کے لیے یہ خبر نئی تھی. (ابھی کل ہی تو ارحم نے درخواست دی تھی. کیا ہمارے ملک کا قانون اتنا تیز ہو گیا ہے کہ راتوں رات سنوائی بھی ہو گئی. اسفند نے دل میں سوچتے داد دی. )
جھوٹ مت بولیں اشمل کی آواز بلند ہوئی.
میں کیوں جھوٹ بولوں گا …… ؟؟ میں کسی سے ڈرتا نہیں جو جھوٹ بولتا پھروں.
دوسرا تمہیں کیوں اتنی تکلیف ہو رہی ہے. تم اس کی کیا لگتی ہو…..؟ ؟ اسفند کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوا. وہ آپ سے تم پر آ گیا تھا جس کا احساس دونوں کو ہی نہیں تھا.
فضول کی بات مت کریں. اشمل کو برا لگا
اشمل بی بی ایک بات بتاؤ تم بیوی کس کی ہو …… ؟؟ اسفند نے گاڑی سائیڈ پر لگاتے پوچھا
یہ کیسا بیہودہ سوال ہے …..؟ ؟ اشمل کو برا لگا
میری بات کا جواب دو. اسفند بضد ہوا.
آپ کچھ بھی ثابت نہیں کر سکیں گے اشمل نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا.
تمہیں تو ایسے تکلیف ہو رہی ہے جیسے قتل تم نے کیا ہو …….. ؟؟ اسفند نے طنزیہ پوچھا
کیا پتہ ایسا ہی ہو …..؟ ؟ اشمل کا جواب اسفند کو تپانے کے لیے کافی تھا.
اشمل اسفند نے اسے پکارتے ہوئے مکا سٹیرنگ پر مارا
میں نے آپ کا تمام ریکارڈ تباہ کر دیا ہے کیونکہ آپ نہ میری بات سنتے ہیں اور نہ ہی اسے سیریس لیتے ہیں. اب کی بار اشمل نے نرم لہجہ میں ایک ایک لفظ واضح انداز میں کہتے ہوئے اسفند کے سر پر بم پھوڑا
کیا ……؟ ؟ اسفند چیخ پڑا
خبردار جو میری کسی بھی چیز کو ہاتھ لگایا تو میں تمہیں اسفند نے کہتے ساتھ ہی اپنی گاڑی ریورس کی.
آپ نے جو کرنا ہے کر لیں. میں نے وہ کیا ہے جو میرا دل کہہ رہا تھا. Have a safe journey اشمل کہتی کال کاٹ گئی.
آج تم میرے ہاتھوں سے ضائع ہو جاؤ گی. مجھے ایسا لگتا ہے. اسفند نے فل سپیڈ سے گاڑی چلاتے ہوئے ارحم کو میسج کرنے کے موبائل ڈیش بورڈ سے پکڑا.
دادو آپ کا داماد ابھی کچھ دیر میں یہاں پہنچنے والا ہے پھر مجھے بہت مار پڑے گی. اشمل نے افسوس سے دادو کے سامنے بیٹھتے ہوئے بتایا.
کیا فضول بولتی رہتی ہے. کیوں مارے گا …… ؟؟ میرے ہوتے ہوئے تجھے ہاتھ تو لگا کر دکھائے. دادو کو غصہ آیا.
اس لیے کہ میں نے اُس کی ایک بہت ہی قیمتی چیز چرا کر خراب کر دی ہے. اشمل نے پاؤں ہلاتے ہوئے مزے سے بتایا
پنگے لینے سے باز آ جا، اب تو بڑی ہو گئی ہے. کتنا شریف بچہ ہے اسے تنگ نہ کیا کر دادو کے سمجھانے پر اشمل ہنسنے لگی
چل اشمل بی بی اپنا سامان پیک کر لے. کیا پتہ غصے میں گھر سے ہی نکال دے …….؟؟ اشمل گنگناتے ہوئے کمرے کی طرف چل دی جبکہ دادو حیران پریشان اسے دیکھنے لگی
اللہ جانے اب کیا کرے گی ……. ؟؟ ویسے اشمل کا اب کچھ نہ کچھ کرنا تو بنتا تھا. اتنے دن خیریت سے گزار لیے یہی بہت ہے. دادو سوچتی خود بھی ہنس پڑیں.
♣️♣️♣️♣️♣️
عمران سلاخوں کے پیچھے بیٹھا تھانے میں ہونے والی ہلچل کو دیکھ رہا تھا.
سر آپ جو کسی بھی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو بلا جھجک بتا دیں. ہم آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہیں. ایک کانسٹیبل نے انتہائی خوش اخلاقی سے سلاخوں کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے کہا
نہیں فلحال مجھے کچھ نہیں چاہیے. جب ضرورت ہو گی تب بتا دوں گا. عمران نے اپنے ازلی نرم اور دھیمے لہجے میں جواب دیا.
سر آپ کو ہم یوں سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھنا چاہتے. اگر آپ برا نہ مانیں تو پلیز کمرے میں تشریف لے چلیں. اس سے پہلے کے کانسٹیبل وہاں سے جاتا تھانے کا ایس ایچ او نے آ کر پوچھا
دیکھو سمع اللہ تم یہ بات مجھے کوئی دسویں دفعہ کہہ رہے ہو. آخر تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی کہ میں یہاں زیادہ خوش ہوں. بس میڈیا کے آتے ہی ویسا کرنا جیسا کہا تھا. عمران نے سلاخیں پکڑتے جواب دیا.
سر آپ بے فکر رہیں. آپ نے ہمارا اتنا خیال کیا ہے تو ہم بھی کریں گے. ایس ایچ او نے سینے پر ہاتھ رکھتے جھک کر جواب دیا جس پر عمران سر ہلاتا دیوار پاس جا بیٹھا
کوئی چائے پانی عادت سے مجبور جاتے جاتے سمع اللہ پلٹا.
کچھ بھی نہیں عمران نے مسکرا کر جواب دیا. ایس ایج او کے جاتے ہی مسکراہٹ غائب ہو گئی. پتہ نہیں آپا کی طبیعت اب کیسی ہو گی …..؟ ؟ کیسی زندگی ملی ہے سب اپنے باری باری اور جلدی جلدی چھوڑ کر جا رہیں ہیں. آپا بھی چند دن کی مہمان رہ گئیں ہیں. عمران نے ایک گہرا سانس خارج کیا. صائمہ بی بی! بلکل ویسے ہی کرنا جیسا کہا تھا اپنی ذاتی عقل سے کام مت لینا ورنہ میرا کام ہو جائے گا. عجیب لڑکی ہے عقل تو رکھتی ہی نہیں . عمران نے دل میں سوچتے ہوئے زمین کی طرف دیکھا جہاں چیونٹیوں کی ایک قطار جا رہی تھی. “بیٹے چیونٹیوں کو نہیں مارتے گناہ ہوتا ہے. یہ تواللہ کی بہت ہی چھوٹی مخلوق ہے. انھیں راستہ دے دیا کرو. کیوں راستہ روکتے ہو. دیکھو وہ تنگ ہوتیں ہیں” کسی کی آواز عمران کو اپنے بہت قریب سے سنائی دی تو لب خود بخود ہلنے لگے پھپھو آپ ہمیشہ ہی ہر کام بہت جلدی کرتی ہیں. جانے میں بھی جلدی کر دی. میں آپ سے ناراض تھا اس آس پر کہ آپ ایک دن اپنی غلطی محسوس کر کے مجھے منا لیں گی مگر _ پتہ نہیں آپ کو کیا ہوا ہو گا …..؟ عمران نے سوچتے اپنی آنکھیں بند کیں اور دیوار ساتھ ٹیک لگا لی. تنہائی ملتے ہی ماضی اپنی آب و تاب سے سامنے آ کھڑا ہوا. میں نے رانا صاحب کا سٹیٹس حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت کی. جو کچھ انہوں نے 70 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا میں نے وہ سب 30 سال میں حاصل کر لیا. مگر میں اپنی دوڑ میں بھول گیا تھا کہ چیزیں خریدی جا سکتی ہیں مگر لوگ نہیں عمران نے ایک لمبا سانس کھینچتے آنکھیں کھولیں.
بہت لوگ ملے مگر آپ کی طرح چاہنے والی، کئیر کرنے والی کوئی نہیں ملی _ عمران نے جیسے ہی یہ سوچا اُس کے دل نے بھرپور مخالفت کی. جس پر عمران دھیرے سے مسکرا دیا. ہاں ایک ہے ڈرپوک سی، سوائے رونے کے کوئی کام نہیں کرتی. ابھی بھی یقیناً آپا کے سرہانے بیٹھی رو رہی ہو گی. میں نے کبھی اسے کوئی امید نہیں دلائی پھر بہت پیار کرتی ہے. پاگل کہیں کی عمران اپنی سوچ پر ہنسا
بس جیسا کہہ کر آیا ہوں. وہ ویسا کر دے تو بڑا مزہ آئے گا. میں اس ملک سے یوں نکل جاؤں گا جیسے مکھن میں سے بال اور وہ انسپکٹر ہاتھ ملتا رہ جائے گا. صائمہ بی بی غلطی نہ کرنا. عمران لاشعوری طور پر صائمہ سے مسلسل باتیں کر رہا تھا تبھی چند سپاہی اور ایس پی لاکر پاس آئے.
سر نیوز رپوٹرز آپ سے ملنا چاہتے ہیں. تھانے کے باہر بہت رش لگی ہوئی ہے. سوچا ایک بار آپ کا دیدار انھیں کروا دیتے ہیں. اس سے آپ کو بھی آسانی ہو گی اور ہمیں بھی ایس ایچ او کے کہنے پر سپاہی نے دروازہ کھولا تو عمران سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا.
تعاون کا شکریہ بے فکر رہیں وعدے کے مطابق پورے تھانے کو اُس کا حصہ جلد ہی مل جائے گا اور پرموشن الگ عمران نے آیستہ سے تھپکی دیتے کہا تو سب کھل اٹھے.
عمران کو پولیس نے نیوز رپورٹرز کے سامنے ایک مجرم کی طرح پیش کیا
سر آپ اپنے اوپر لگے الزامات کے بارے میں کیا کہتے ہیں …..؟ ؟ ایک رپوٹر جو ایسی خبروں کو پھیلانے میں مشہور تھا چہک کر پوچھنے لگا
میرے اوپر جتنے بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ سب کے سب بےبنیاد ہیں. میرے خلاف باقاعدہ سازش کی گئی ہے. عمران نے سنجیدگی سے جواب دیا.
سر مگر پولیس کا کہنا ہے کہ آپ لڑکیوں کی سمگلنگ میں کافی عرصے سے ملوس ہیں. ایک اور سوال پر عمران ہلکا سا مسکرایا
اگر پولیس کو مجھ پر شک تھا تو مجھے پکڑا کیوں نہیں، اتنا عرصہ خاموش کیوں رہی …..؟؟
دوسرا ایک بھی لڑکی انھوں نے ایسی جگہ سے نہیں پکڑی جو میری ملکیت ہو. میں صرف ٹریولنگ کا کام کرتا ہوں. میرے تمام کیسٹ ہاؤس اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک ہیں.
عمران کا لہجہ اتنا مضبوط تھا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا وہ جھوٹ بول رہا ہے.
میری بیوی کو تو خود درندوں نے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا تھا. میں اس درد اور تکلیف کو سمجھتا ہوں. بھلا میں کیسے کسی دوسرے کی بہن، بیٹی کو تکلیف دے سکتا ہوں …..؟ ؟ عمران کے بیان پر ٹی وی دیکھتا عدیل ہنس پڑا.
سالا کیسے جھوٹ بول رہا ہے …… ؟؟ عدیل نے نخوت سے کہتے کالے پانی کا گھونٹ بھرا. آج وہ بہت خوش تھا کیونکہ سارا منشن خالی تھا. وہ جو چاہے کر سکتا تھا.
عمران کا بیان صائمہ کو دکھی کر گیا. کیا وہ اب میرے ریپ کا سہارا بھی لیں گئے …..؟؟ صائمہ دل میں سوچتی ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئی.
سر ہماری اطلاع کے مطابق آپ کی بیوی اور بہن اس وقت ہسپتال ہیں. تو کیا انھیں آپ کی گرفتاری کا پتہ ہے ….؟؟ ایک رپورٹر جسے عمران نے خرید رکھا تھا بڑی چالاکی سے سوالات کا رخ جذبات کی طرف موڑ گیا.
جی انھیں ابھی تک معلوم نہیں تھا مگر اب پتہ چل گیا ہو گا. ان دونوں کو میری سخت ضرورت ہے. میری بہن زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے. مگر ہم میں اب انسانیت ختم ہو چکی ہے.
میں چاہتا ہوں آپ میری آواز بنیں. میں اپنے ملک میں بزنس کر رہا ہوں. یہاں کے لوگوں کو روزگار مہیا کرتا ہوں. ٹیکس بھی وقت پر دیتا ہوں. مجھے اپنے ملک سے عشق ہے. مگر چند طاقتور اداروں کے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دے رہے. وہ اس ملک کو مستحکم نہیں دیکھ سکتے. عمران کے بیان پر ارحم نے نفرت سے منہ پھیر لیا.
کمینہ کیسے پاک صاف بن رہا ہے جیسے ہم تو اسے جانتے ہی نہیں اسفند تُو دیکھنا کچھ نہیں ہو گا. چند دن یہ معاملہ خوب اچھلے گا پھر جاگ کی طرح ایک دم بیٹھ جائے گا. ان لوگوں کی جڑیں مضبوط ہوتیں ہیں. ابھی چند چینل اس کی حمایت میں بول پڑیں گے. پھر یہ بھی ملک سے باعزت باہر چلا جائے گا. ارحم کو اسفند کے لیے دکھ لگ رہا تھا جس نے اتنی محنت کی تھی. وہ اسفند سے مخاطب اسے کال کرنے لگا جو نجانے کہاں غائب تھا ……؟ ؟
♣️♣️♣️♣️♣️
بولو تم نے کیا کیا ہے . میری اجازت کے بغیر میری چیزوں کو کیوں ہاتھ لگایا …….. ؟؟ اسفند کی آنکھوں اور لہجہ سے چنگاڑیاں نکل رہیں تھیں.
میں نے تو آپ کی کسی چیز کو بغیر اجازت ہاتھ نہیں لگایا جبکہ آپ لگا رہے ہیں. اشمل کا اشارہ اپنے بازو کی طرف تھا جسے اسفند نے دبوچ رکھا تھا.
اشمل اس وقت میں بہت سیریس ہوں. پلیز مجھے بتاؤ کہ تم نے کیا کیا ہے. میرے کسی ڈاکومنٹس کو ادھر اُدھر تو نہیں کیا ناااااا …..؟ ؟ اسفند نے اشمل کے بازو پر دباؤ ڈالتے پوچھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اشمل کو دو تھپڑ لگا دے.
نہیں سر نفی میں ہلایا جبکہ اسفند کے اس قدر سخت رویے پر وہ خود بھی حیران تھی. اسفند چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا.
الماری کھولتے ایک ایک فائل اور چیزوں کو دیکھا جو بلکل ایسے ہی پڑیں تھیں جیسے وہ آخری دفعہ رکھ کر گیا تھا. سب ٹھیک تھا کوئی چیز بھی اپنی جگہ سے غائب نہیں تھی.
اپنی چیزوں سے مطمئن ہوتے اس نے الماری بند کی اور کمرے کا جائزہ لیتا پلٹا تو نظریں دیوار ساتھ لگی اشمل سے جا ٹکرائیں. جو اسے عجیب نظروں سے گھور رہی تھی. پارہ کچھ نارمل ہوا.
یہاں سب ٹھیک ہے. کءا ضرورت تھی جھوٹ بولنے کی اگر مجھ سے ملنے کو دل کر رہا تھا تو ویسے ہی بتا دیتی . یوں بلانے کی کیا ضرورت تھی …..؟؟ اسفند بالوں می ہاتھ پھیرتا خود کو فریش کر رہا تھا.
تھوڑی دیر پہلے جس لہجہ میں بات کر رہے تھے اسی لہجے میں بات کریں. مجھے یوں بناوٹی لوگ اور لہجے پسند نہیں. اشمل اپنی جگہ پر کھڑی رہی جبکہ اسفند چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے قریب آ کھڑا ہوا.
سوری شاید زیادہ زور سے پکڑ لی تھا. اشمل کے بازو پر سرخ نشان دیکھ کر اسفند کو افسوس ہوا.
سوری کی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے واقعی ہی آپ کی ایک قیمتی چیز چرائی ہے. مگر حیرت مجھے اس پہ ہے کہ آپ کو ابھی تک پتہ نہیں چل سکا. کیسے انسپکٹر ہیں کیا تحقیق کرتے ہوں گے …..؟ ؟ اشمل بہت سیریس تھی اور اس قدر سنجیدگی میں اسفند نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا.
کیا چرا ہے ….؟ اسفند نے اپنے اور اس کے بیچکا فاصل سمیٹتے پوچھا
یہ معلوم کرنا آپ کا کام ہے. اشمل نے اسفند کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کے سینے پر اپنی انگلی رکھی.
ہاں میرا دل چرایا ہے مگر مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں دماغ سے سوچتا ہوں. اسفند نے اشمل کی انگلی نرمی سے پیچھے کی تو اشمل طنزیہ ہنسی.
میرا اور دادو کا ویزہ لگ گیا ہے. آپ وعدے کے مطابق ٹکٹ لے دیں. اب میں مزید یہاں رکنا نہیں چاہتی. ویسے بھی آپ نے ہماری اچھی خاصی مہمان نوازی کر دی ہے اب چلے جانا ہی بنتا ہے. اشمل سنجیدگی سے کہتی پلٹنے لگی تو اسفند نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
ایسا کیا ہے تمہارے پاس جو میرے لیے بہت قیمتی ہے جبکہ الماری میں سب ویسے کا ویسا ہی پڑا ہے …… ؟؟ اسفند نے الجھی نظروں سے اشمل کی طرف دیکھا
چلیں پھر وہ آپ کے لیے قیمتی نہیں ہو گا مجھے لگا شاید کافی قیمتی ہے. اشمل نے کندھے اچکائے
میرے کہنے پر پولیس نے عمران کو گرفتار نہیں کیا بلکہ اس نے خود گرفتاری دی ہے. ارحم بتا رہا تھا. اسفند نے بات بدلی.
اچھا پھر اشمل مسلسل اسفند کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جبکہ وہ کنفیوز ہونے لگا تھا.
اشمل بات کیا ہے. تم اس طرح سنجیدہ مزاج تو نہیں. اب کی بار اسفند نے فکرمندی سے پوچھا
کاش تم سچ مچ فقیر ہوتے اور گونگے بھی مجھے تم بولتے ہوئے اچھے نہیں لگتے اشمل جانے کے لیے اپنا یاتھ چھڑانے لگی جسے اسفند نے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا.
اچھا ادھر آؤ. یہاں بیٹھو آرام سے بات کرتے ہیں. اشمل کی اداسی اور سنجیدگی اسفند کر چبھ رہی تھی وہ زبردستی اسے بیڈ پر بیٹھا کر پاس بیٹھ گیا.
بتاؤ کیا بات ہے جس نے تمہیں اتنا پریشان کر دیا ہے …..؟ ؟ اسفند نے پیار سے پوچھا
سر عمران نے قتل نہیں کیا وہ اتنے برے نہیں جتنا آپ سمجھتے ہیں. اشمل کے منہ سے عمران کا نام سنتے ہی اسفند کا نوڈ بگڑ گیا. وہ جتنا اس ذکر سے چڑتا تھا اتنا ہی اشمل اس کا ذکر کرتی تھی.
اس کے علاوہ ہم بات نہیں کر سکتے ….. ؟؟ اسفند نے اپنے غصے کو قابو کرتے پوچھا
وہ قتل صائمہ نے کیا ہے وہ بھی اپنے دفاع میں، بس گن سر عمران کی تھی. آپ کیوں صائمہ کی خوشیوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں. اسے جینے دیں نااااا اشمل نے پہلی بار اسفند کی منت کی.
وہ ایک مجرم ہے. وہ بھی بہت بڑا،. تم یہ بات کیوں نہیں سمجھ رہی …..؟؟ اسفند زچ ہوا.
اس سے بڑے بڑے مجرم بھی اس ملک میں آذاد گھوم رہیں ہیں. انھیں کیوں نہیں پکڑتے ….؟؟ اشمل کی آواز نہ چاہتے ہوئے بھی اونچی ہوئی.
میں نے اس کیس پر بہت محنت کی ہے. اسفند نے جتلایا
اچھا پھر ایک وعدہ کریں اشمل نے اپنا ہاتھ اسفند کے آگے پھیلایا
آپ اس کیس سے بہت الگ ہو جائیں گے. باقی سر جانیں اور پولیس _ اشمل کی بات پر اسفند سر نفی میں ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا. ناممکن، میں اس کیس سے تب تک الگ نہیں ہوں گا جب تک عمران اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا. اسفند کا لہجہ مضبوط تھا. آپ کا کام تحقیق کرنا تھا سزا دینا نہیں اشمل نے دلائل دیا.
چلو دیکھتے ہیں. کیا ہوتا ہے. ابھی میں جلدی میں ہوں. تم نے خامخواہ میرا وقت ضائع کیا. اسفند کہتا کمرے سے باہر جانے لگا
میں نے تمام بیک اپ ضائع کر دیے ہیں. آپ کچھ بھی عدالت میں پیش نہیں کر سکیں گے. اشمل کی آواز پر اسفند نے بے یقینی سے مڑتے ہوئے اسے دیکھا
کیا ……؟ ؟ بات کی گہرائی ناپتے اسفند چیخ پڑا.
ہاں اب آپ مجھے بھی پکڑ کر لے جائیں. سزا دلوائیں. میرے اوپر بھی جھوٹا سچا کیس بنائیں. میڈیا کے سامنے پیش کریں اور __ اس سے پہلے کے اشمل مزید بولتی ایک زوردار تھپڑ اس کی بولتی بند کر گیا.
“یونہی بیزار کیا یار محبت نے ہمیں
ہم اگر دوست ہی رہتے تو وہی اچھا تھا”
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.
