No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
سر کافی دنوں سے مس اشمل آفس نہیں آ رہیں ……؟ ؟ عمران نے وقار صاحب کی بات خاصی بیزاری سے سنتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں صبح کے نو بج رہے تھے.
ٹھیک ہے میں آ رہا ہوں اور کوئی نئی تازی ……. ؟؟ عمران نے بیڈ کراؤن ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا جبکہ نظر صوفے پر سوئی ہوئی صائمہ پر تھی.
سر اور کوئی نئی تازی نہیں ہے اگر ہوئی تو میں اسی وقت کال کر دوں گا. دوسری طرف سے وقار صاحب نے مودب لہجے میں جواب دیا تو عمران نے فون بند کرتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھا. ابھی وہ بستر سے نکل کر سلیپر پہننے ہی لگا تھا کہ دوبارہ فون بجنے لگا. عمران نے ایک ناگوار نظر اپنے بجتے فون پر ڈالی اور دوسری صائمہ پر جو شاید موبائل کے بار بار بجنے کی وجہ سے ڈسٹرب ہو رہی تھی.
جی _ عمران نے مختصر ترین لفظ کا استعمال کیا. عمران صاحب ابھی ابھی ایک گاڑی عدیل صاحب کو گیٹ پر چھوڑ کر گئی ہے. ان کی حالت کافی خراب ہے انھیں اندر لے آؤں یا گیٹ کیپر کی بات پر عمران کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
نہیں ، انھیں لیاقت ساتھ میری ڈیفنس والی کوٹھی میں بھجوا دو اور اس بات کا خاص خیال رکھنا کہ گھر کے کسی ملازم اور عذرا بی بی کو اس بات کی بھنک تک نہ پڑے. عمران نے ہدایت دیتے ہوئے فون بیڈ پر اچھالا اور خود تیزی سے واش روم کی طرف بڑھنے لگا کہ اچانک کسی خیال کے تحت پلٹا.
صائمہ اٹھو میں نے آفس جانا ہے اور تم میرے ساتھ جا رہی ہو. اشمل چھٹیوں پر ہے. جلدی تیز آواز میں جھنجھوڑتا وہ دوبارہ واش روم کی پلٹ گیا جبکہ صائمہ نیند بھری آنکھوں سے عمران کی پشت کو دیکھنے لگی.
صائمہ تیرے لیے زبردست چانس ہے. آفس سے تُو آسانی سے نکل سکتی ہے. یہاں رہی تو سر تجھے کسی نہ کسی مصیبت میں پھنسا دیں گے. صائمہ سوچتی ہوئی اٹھ بیٹھی تبھی خوشبوؤں میں بس عمران بلیک تھری پیس سوٹ پہنے ڈریسنگ روم سے نکلا جس کا ایک دروازہ واش روم میں بھی کھلتا تھا.
بلیک کلر عمران پر بہت ججتا تھا اور یہاں پر صائمہ کی بس ہو جاتی تھی. وہ یک ٹک عمران کو دیکھنے لگی جو اپنے بال برش کر رہا تھا. وہ عمران سے بے حد متاثر تھی اور غلطی سے وہ یہ بات جانتا بھی تھا.
جلدی کرو، ہمیں دیر ہو رہی ہے. میں نیچے ناشتے کی ٹیبل پر تمہارا انتظار کر رہا ہوں. عمران کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ صائمہ سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی.
عذرا آپا آپ کے لیے میرے پاس ایک خوشخبری ہے مگر آپ وعدہ کریں کہ آپ آرام سے میری بات سنیں گئیں …..؟ ؟ عمران نے سیڑھیاں اترتے بلند آواز میں عذرا سے کہا جو الاؤنچ میں بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی.
عدیل کے بارے میں عذرا نے بے چینی سے کپ رکھتے ہوئے پوچھا
جی بلکل درست اندازہ ہے مگر ہوا کچھ یوں ہے کہ واپسی پر ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا ہے. عدیل بھائی خیریت سے ہیں مگر معمولی چوٹیں تو یقینی بات تھی. مجھے ابھی کال آئی ہے میں انھیں ہی لینے جا رہا ہوں. عمران نے بہت تحمل سے ساری کہانی جو اس کی اپنی تخلیق کردہ تھی سنائی.
عمران وہ ٹھیک تو ہیں ناااااا عذرا کی شکل رونے والی بن گئی تھی.
آپا ایک تو آپ زرا زرا سی بات پر رونے لگتے ہیں. مجھے آپ کی یہ بات بہت بری لگتی ہے. عمران نے ناراضگی سے ان کی طرف دیکھا
کیا کروں ….. ؟؟ وہ مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں. میں معزور ہوں، بیمار ہوں، ان سے عمر میں بڑی ہوں پھر بھی وہ مجھ پر جان چھڑکتے ہیں. جب اتنی محبت کرنے والا شوہر ہو تو ان کے لیے خودبخود دل اداس ہو جاتا ہے. عذرا کی باتوں پر عمران نے کرسی کھینچتے ہوئے ایک گہرا سانس خارج کیا.
آپا عمران اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکا حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا کہ عدیل جیسے شخص کے لیے رونا یا فکر کرنا میرے حساب سے حرام ہے.
یہ بھی تمہارے ساتھ جائے گی …… ؟؟ صائمہ کو سیڑھیاں اترتے دیکھ کر عذرا نے پوچھا
آپا آپ کو پتہ نہیں کیوں اس سے نفرت ہے مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی. جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو میری آپا بہت محبت کرنے والی ہیں.ابھی جلدی میں ہوں پھر کسی دن آپ کی دوستی کراؤں گا. عمران مسکراتے ہوئے کہا تب تک صائمہ بھی ان کے قریب آ کھڑی ہوئی.
پہلے ناشتہ کر لیتے ہیں باقی باتیں بعد میں عمران نے صائمہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور آیا جی کو آواز دینے لگا
ناشتہ سب ہی بڑی خاموشی سے کر رہے تھے. عذرا آپا کو صائمہ کا بیٹھنا بری طرح چبھ رہا تھا. جبکہ صائمہ صرف آملیٹ ساتھ کھیل رہی تھی اس کا ذہن اسے آفس سے بھاگنے کے طریقہ بتا رہا تھا. جس پر وہ بظاہر کانٹے ساتھ آملیٹ کو الٹ پلٹ کر رہی تھی.
اے لڑکی رزق ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے. میں کب سے دیکھ رہی ہوں تم انڈے ساتھ کھیل رہی ہو. اگر نہیں کھانا تو چھوڑ دو کس نے زور دیا ہے کھانے کو عذرا کی اونچی آواز پر عمران جو اپنے آپ میں مگن ناشتہ کر رہا تھا صائمہ کو دیکھنے لگا
وہ مجھ سے صائمہ کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہے اس لیے دونوں کو دیکھتی خاموش ہو گئی.
چائے عمران نے کپ کی طرف اشارہ کیا تو صائمہ دینی لگی.
مجھے نہیں دو. خود پیئو. صبح خالی پیٹ گھر سے باہر نہیں جاتے بدشگونی ہوتی ہے. یہ بات میں نہیں آپا کہتیں ہیں. عمران نے کہتے عذرا کی طرف دیکھا تو وہ منہ پھیر گئیں.
اچھا آپا چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا مجھے آفس میں چھوٹا سا کام ہے پھر عدیل بھائی کی طرف جاؤں گا. آپ دوا لے کر آرام کریں. عمران کہتا اٹھ کھڑا ہوا اسے اٹھتا دیکھ کر صائمہ بھی کھڑی ہو گئی.
اس لڑکی کا کچھ کرنا پڑے گا. ہر وقت عمران ساتھ چپکی رہتی ہے. عدیل آتے ہیں تو اسے گھر سے نکالتی ہوں. عذرا نے دل میں سوچتے باہر کی طرف دیکھا جہاں عمران گاڑی نکال رہا تھا اور صائمہ اس ساتھ فرنٹ پر بیٹھی تھی.
یہ ہم کدھر جا رہے ہیں. آپ نے تو کہا تھا کہ آفس جانا ہے. گاڑی کو انجان سڑکوں پر دیکھ کر صائمہ نے قدرے خوفزدہ ہوتے ہوئے پوچھا جس پر عمران محظوظ ہوا.
اغواء نہیں کر رہا، بے فکر رہو. عمران کا مسکرانا خطرے کی علامت تھا.
اصل میں آج صبح عدیل خاصی زخمی حالت میں ملا ہے اور ہم اسے ہی دیکھنے بلکہ لینے جا رہے ہیں. عمران کے جواب پر صائمہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا. اسے عدیل سے شدید نفرت تھی. جس کی وجہ عمران جانتا تھا.
دیکھو میں نہیں چاہتا میرے گھر کا ماحول خراب ہو. آپا اسے ایک اچھا اور شریف انسان سمجھتی ہیں اور میں آپا کا دل توڑنا نہیں چاہتا. تم نے میری غیر موجودگی میں عدیل کے سامنے نہیں آنا اور نہ ہی عدیل کے بارے میں آپا سے کچھ کہنا ہے. رہی بات عدیل کی تو اسے میں سنبھال لوں گا. عمران سنجیدگی سے کہتا ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ صائمہ کا موڈ مزید خراب ہو گیا تھا.
سر مجھے اپنے گھر جانا ہے. کافی ہمت جمع کرتے ہوئے کہا
نہیں ابھی نہیں ابھی مجھے تمہاری ضرورت ہے اور تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم میرا ساتھ دو گی کیا اتنی پریشانی میں تم مجھے اکیلا چھوڑ کر جا سکتی ہو …….. ؟؟ عمران نے ہمیشہ کی طرح اب بھی جذبات کا سہارا لیا جس پر صائمہ خاموش ہو گئی. گاڑی ڈیفنس کی ایک عالی شان کوٹھی کے اندر داخل ہوئی.
اترو عمران نے صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اس خاموش جگہ کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی.
میں یہاں ہی ٹھیک ہوں. آپ ہو آئیں. صائمہ کی ڈری سہمی سی آنکھوں میں عمران نے مسکراتے ہوئے دیکھا
ساتھ لایا ہوں تو ساتھ ہی لے کر جاؤں گا. چلو شاباش نیچے اترو. عمران کہتا خود گاڑی سے نیچے اترا تو مجبوراً صائمہ کو بھی اترنا پڑا.
♣️♣️♣️♣️♣️
اشمل اور دادو نے جیسے ہی فلیٹ میں قدم رکھا دونوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں. دادو کتنا بڑا اور خوبصورت فلیٹ ہے ناااا ایسا تو ڈراموں میں ہوتا ہے. اشمل نے خوشی سے دادو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ہاں تو بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے. دیکھا میں نے تیرے لیے بلکل ٹھیک انتخاب کیا تھا تُو ویسے ہی دل چھوڑ رہی تھی کہ فقیر ہے. ارے پگلی آج کل فقیروں کے پاس ہی سب کچھ ہے دادو نے گردن اکڑاتے آگے قدم بڑھائے.
ہائے دادو اس عمر میں کتنی صفائی سے جھوٹ بول رہی ہو. تمہاری یاداشت خراب ہو گئی ہے. تم نے تو مجھے اس ساتھ شادی سے منع کیا تھا بلکہ تم تو میری دودھ والے سے شادی پر تُلی ہوئی تھی. یاد آیا _ اشمل نے حیرت سے تقریباً چیختے ہوئے دادو کی پشت دیکھ کر کہا اشمل میری بچی!! بڑوں کو کبھی غلط نہیں کہتے، نہ ہی ان کی غلطی نکالتے ہیں. میں نے تیرے لیے دل میں یہ سب سوچ رکھا تھا. دادو نے انتہائی سنجیدگی سے اشمل کی طرف پلٹتے ہوئے جواب دیا. دادو تیری اداکاری میں پختگی آتی جا رہی ہے. قسم سے اشمل نے سر نفی میں ہلاتے اقرار کیا جبکہ دادو کچن دیکھنے لگی جو اوپن ائیر میں بنا تھا.
اشمل یہ کیسا کچن ہے. ہر طرف سے کھلا ہے. دادو نے اوپن ائیر کچن کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا
دادو یہ کچن ہے. باتھ روم نہیں. جو ہر جگہ کھلا ہونے پر آپ پریشان ہو رہیں ہیں. اشمل کا جواب دادو کو کچھ خاص پسند نہیں آیا.
اشمل ویسے تیرے دولہے نے تیرے آنے کی خوشی میں کوئی سجاوٹ نہیں کی.آخر تُو پہلی بار سسرال آئی ہے. زیادہ نہ سہی راستے اور کمرے میں پھول ہی بچھا دیتا. پتہ مجھے بڑا شوق ہے پھولوں والے راستے پر چلنے کا میری شادی بڑی ایمرجینسی میں ہوئی تھی تیرے دادا کو کمرہ سجانے کا وقت ہی نہیں ملا آج تک مجھے اس بات کا دکھ ہے. میں نہیں چاہتی تجھے بھی ساری زندگی یہ دکھ رہے. دادو نے سادہ سے فلیٹ کو دیکھتے ہوئے کہا
ہاں دادو میں تو بھول ہی گئی تھی. ابھی کہتی ہوں کہ کچھ تو سجاوٹ کرے آخر میں نے بھی تو اس کی خدمت کی تھی. اشمل فلیٹ میں گھوم کر جائزہ لینے لگی.
دو کمروں پر مشتمل وہ ایک سادہ سا فلیٹ تھا. دونوں ابھی فلیٹ دیکھ ہی رہیں تھیں کہ ڈور بل بجی.
کون ہو سکتا ہے ……. ؟؟ دادو نے اشمل کی طرف دیکھا
کیا پتہ کون ہے یہ تو دروازہ کھولنے سے ہی پتہ چلے گا نااااا اشمل کے جواب پر دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف بڑھی. دروازہ کھلتے ہی جو شخص دیکھنے کو ملا اس سے اشمل کا موڈ سخت خراب ہو گیا.
آپ وہی ہیں نااااا جو سر عمران کے آفس آئے تھے. اشمل نے راستہ روکتے ہوئے پوچھا
جی بلکل وہی ہوں مگر یہ طریقہ خاصا غیر مہذب ہے کہ آپ آنے والوں کو سلام دعا کے بغیر ہی کٹہرے میں کھڑا کر لیں. ارحم نے ہاتھ میں پکڑے شاپر آگے کرتے ہوئے جواب دیا.
یہ کیا ہے …..؟ ؟ اشمل نے پکڑے بغیر ہی پوچھا
یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں وہ اسفند نے دیے تھے شاید _ ارحم نے اتنا ہی کہا تھا کہ دادو بول پڑیں. اچھا اچھا ڈیکوریشن کا سامان ہو گا. بھئی آخر دلہن گھر آئی ہے سجانا تو ہے نااااا دادو نے شوخ نظروں سے اشمل کی طرف دیکھا جبکہ ارحم کامنہ کھل گیا.
دلہن ارحم نے بے خیالی میں بآواز بلند کہا
ہاں دلہن کیوں تمہیں نظر نہیں آ رہی. اشمل کی غصیلی آواز پر ارحم نے جھرجھری لی.
بہت معزرت مگر مجھے واقعی ہی دلہن نظر نہیں آ رہی ہے. ارحم نے پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے سنجیدگی سے کہا جبکہ سامان دادو پکڑ چکی تھیں.
یہ اتنی بڑی دلہن تمہیں نظر نہیں آ رہی اندھے ہو کیا یا بننے کی ایکٹنگ کر رہے ہو …… ؟؟ اشمل نے اپنے طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
ہمارے ہاں دراصل ایسی دلہن نہیں ہوتی اس لیے میں پہنچان نہیں سکا. معزرت ارحم طنزیہ مسکراہٹ ساتھ اشمل کی طرف دیکھا
تو ویسی بنا لو جیسی تمہارے ہاں ہوتی ہے. کس نے منع کیا ہے. اشمل کے جواب پر ارحم پھر حیران رہ گیا.
(میں تو کچھ بھی نہیں پتہ تو انسپکٹر اسفند کو اب چلے گا کہ بکواس کہتے کسے ہیں …….. ؟؟ ارحم نے دل میں سوچا )
اب یہ کام بھی ہم نے کرنا ہے ……. ؟؟ ارحم نے بے یقینی سے پوچھا
ہاں بھئی لڑکے والے ہی بناتے ہیں. کپڑے، جیولری ، میک اپ کا سامان تم لوگ ہی بندوبست کرو گے ناااااا تبھی وہ تیار ہو گی. ہم نے بیٹی دی ہے اب اور کیا کریں …..؟؟ دادو کے احسان جتلانے والے انداز میں کہا تو ارحم اپنا فون نکالنے لگا
اور سنو پھول پتیوں کا بھی بندوبست کرنا. آخر شادی والا گھر لگنا چاہیے. ان شاپرز میں تو کھانے پینے کا سامان ہے. دادو نے مزید اضافہ کیا.
ارحم کہتا پلٹنے لگا جبکہ موبائل کان ساتھ لگا تھا.
چل اشمل جب تک یہ سامان لے کر آتا ہے تب تک ہم کچھ کھا پی لیتے ہیں. دادو نے کہتے ہوئے دروازہ بند کیا جس کی آواز اتنی بلند تھی کہ سیڑھیاں اترتے ارحم نے پلٹ کر دیکھا
عزت مآب جناب اسفند صاحب یہاں تو دادی پوتی کا فرمائشی پروگرام چل رہا ہے. کال اٹینڈ کرتے ہی اسفند کو ارحم کی چہکتی آواز سنائی دی.
کیا مطلب …..؟؟ تم نے کھانے پینے کا سامان تو پہنچا دیا تھا نااااا اسفند نے مصروف سے انداز میں پوچھا
انھیں کھانے پینے سے کیا لگے وہ تو پھول پتیاں اور دلہن بننے کی تیاری میں ہیں. ارحم نے ہنسی دباتے جواب دیا.
کیا بکواس ہے ….؟؟ اسفند نے غصے سے پوچھا
بکواس نہیں جناب وہ واحد مخلوق جو آپ جہیز کے طور پر لائے ہیں جسے آپ کی “وہ” اور ہمارے “بھابی ماں” دادو کہتیں ہیں وہ فلیٹ سجانے اور دلہن بنانے پر زور دے رہیں ہیں. آپ سے بس اتنا پوچھنا ہے کہ دلہن آپ نے بنائیں گے یا اس کا بندوبست بھی میں نے ہی کرنا ہے. ارحم اب اپنی گاڑی تک پہنچ گیا تھا.
ارحم میں اس وقت بہت مصروف ہوں لہٰذا بکواس ادھار رکھ لو. دوسرا خبردار جو اشمل کو دوبارہ بھابی ماں بولا تو چھوٹی سی وہ ہے اتنا بڑا نام اسے سوٹ نہیں کرتا. اسفند کے جواب پر ارحم نے ہوا میں گاڑی کی چابی اچھالی.
جو حکم سر مگر اب میں کیا کروں بقول آپ کے انھیں جو بھی چاہیے ہو لا دینا تو لا دوں …..؟؟ ارحم اپنی گاڑی کو انلاک کرتا بیٹھنے لگا
لا دے یارررر جو بھی کہتی ہیں. میرا پاس تو فلحال وقت نہیں شاید رات میں چکر لگے اسفند کہتے ہوئے کال کاٹنے لگا
چکر سے کیا مراد ہے اب تو تم نے وہاں ہی رہنا ہے. بیگم کے ہوتے ہوئے میں تو تجھے اپنے پاس نہیں رہنے دوں گا. ارحم نے گاڑی اسٹارٹ کی.
افففف وہ بیگم مجھے چین سے رہنے دے گی کیا ……؟ ؟ اسفند کے پوچھنے پر ارحم مسکرایا.
چین سے تو خیر وہ کسی کو بھی نہیں رہنے دے گی. وہ خود چین سے رہے یہ بڑی بات ہے. ویسے تجھے یہ ہی ملی تھی شادی کے لیے ارحم نے جواب دیتے سوال کیا.
وہ مجھے نہیں میں اسے ملا تھا. اسفند نے یاد دلایا.
اچھااااااااااااا تو یہ بات ہے. ارحم نے نقل اتاری. ارحم اسفند چیخا.
بیوٹیشن کو بھیج دیتا ہوں اور ڈیکوریشن والوں کو بھی کہہ دیتا ہوں. تم شام تک آ جانا. ویسے اگر تمہیں برا نہ لگے تو احتیاطً ایمبولینس کو بھی کہہ دوں. ارحم کی آخری بات پر اسفند جو ہاں ہاں کہہ رہا تھا چونکا
ہاں کہہ دینا تجھے اس میں جانا پڑ سکتا ہے. اسفند نے غصے سے کہتے کال کاٹی اور فائل پر جھک گیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
شکر ہے آپ خیریت سے واپس آ گئے ہیں. میرا تو پریشانی سے برا حال ہو رہا تھا. میں کب سے عمران کے پیچھے لگی تھی کہ عدیل کا پتہ کرو وہ کہاں ہیں خیریت سے تو ہیں …… ؟؟ عذرا جو خود بھی ٹھیک نہیں تھی عدیل کی تیمارداری میں لگی تھی جبکہ عدیل سب کو نظر انداز کیے صرف اور صرف صائمہ کو گھورنے میں مصروف تھا.
چلیں اب آرام کریں پھر صبح بات ہوتی ہے. ویسے بھی اب کافی رات ہو گئی ہے. عدیل بھائی آپ کو یاد تو ہے ناں کہ آپ کا ایکسیڈنٹ کیسے ہوا تھا …..؟؟ جاتے جاتے عمران نے عدیل کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو عدیل ایک دم چونک کر اسے دیکھنے لگا ساتھ ہی ایک کراہ نما آواز بھی اس کے منہ سے نکلی.
اوہ سوری، مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ آپ کو چوٹیں لگی ہیں. عمران نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے صائمہ جو باہر جانے کا اشارہ کیا. صائمہ جو آگے ہی عدیل کی نظروں سے پریشان کھڑی تھی فوراً اپنے کمرے کی طرف بھاگی.
تم نے اس لڑکی کو گھر میں رکھ لیا ہے جبکہ طے تو کچھ اور ہی ہوا تھا. عدیل نے اپنا کندھا پکڑتے ہوئے پوچھا
کیا آپ اسے جانتے ہیں …… ؟؟ عذرا نے تعجب سے پوچھتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھا
عدیل بھائی آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. یہ میری بیوی صائمہ ہے. عمران نے ایک ایک لفظ خاصا چبا چبا کر ادا کیا.
ہممممم شاید _ عدیل سر ہلاتا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا. آپا اپنی دوا وقت پر لے لیجیے گا عمران کہتا کمرے سے باہر نکل گیا. اس کے جاتے ہی ایک شاطرانہ مسکراہٹ عدیل کے چہرے پر آ ٹھہری.
اب مزہ آئے گا کھیل کھیلنے کا عمران رو گیا کام سے، تجھے تو میں عذرا کی نظروں میں اتنا گرا دوں گی کہ وہ آئندہ تیرا یقین کرنا ہی چھوڑ دے گی. پھر اس کو راستہ سے ہٹانا بہت آسان ہو جائے گا. عذرا کے جاتے ہی اس کی ساری جائیداد میری ہو گی. جس پر میں عیاشی کروں گا عمران کی بیوی ساتھ بیچاری خود بخود میرے جال میں پھنسنے کے لیے آ گئی ہے. افسوس _ عدیل سوچتے ہوئے مسکرانے لگا جبکہ اس کی آنکھیں بند تھیں. جسے عذرا بہت غور سے دیکھ رہی تھی. کیا سوچ کر مسکرا رہے ہیں. آپ مجھے مسکراتے ہوئے بہت اچھے لگتے ہیں. عذرا کی آواز پر عدیل نے آنکھیں کھولی. عذرا میرے قریب آؤ میں نے تم سے ایک بہت ہی ضروری بات کرنی ہے. عدیل نے آہستہ آواز میں عذرا کو مخاطب کیا تو وہ فوراً سر ہلانے لگی. میری بات غور سے سنو مگر عمران سے مت کرنا یہ جو لڑکی ہے نااااا عدیل کے اشارے پر عذرا نے ناسمجھی سے دیکھا
عمران کی بیوی، یہ اچھی لڑکی نہیں ہے. عدیل نے محتاط انداز میں کہنا شروع کیا.
مجھے تو یہ خود بہت بری لگتی ہے مگر کیا کروں عمران کی وجہ سے خاموش ہوں. پتہ نہیں کون ہے. کہاں سے آئی ہے …….. ؟؟ عذرا کو تو جیسے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا تھا. عدیل کو اپنا کام مزید آسان لگنے لگا
عمران کمرے میں داخل ہوا تو صائمہ کو چپ چاپ صوفے پر بیٹھا ہوا پایا. عمران نے کوٹ اتار کر بیڈ کی پانئتی پر رکھا اور خود بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا. مگر صائمہ کے وجود میں کوئی ہل چل نہ ہوئی. جسے محسوس کرتے عمران اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے قریب جا بیٹھا.
عدیل کی وجہ سے پریشان ہو عمران نے نرمی سے صائمہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا.
آپ کو یاد ہے کہ ایک بار میں نے غلطی سے آپ کا بازو پکڑ لیا تھا تھا تو آپ نے مجھے کیسے جھڑکا تھا اور کہا تھا کہ” مجھے ہاتھ مت لگانا” اتنی حقارت تھی آپ کے لہجے میں، جیسے میں کوئی گھٹیا چیز ہوں. صائمہ نے شکایتی نظروں سے عمران کے ہاتھ کی طرف دیکھا
تو تم بھی جھڑک دو مجھے بلکل برا نہیں لگے گا. تب میں اور اب میں بڑا فرق ہے. عمران کے چہرے اور لہجے دونوں میں نرمی تھی.
آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں. آپ کو یہ سب کر کے کیا ملے گا. جب آپ مجھ سے محبت ہی نہیں کرتے تو ایسا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں کہ مجھے محبت کا گماں ہو. صائمہ عمران کے رویے سے سخت ذہنی اذیت کا شکار تھی.
ہاں محبت تو نہیں ہے لیکن میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا نہیں چاہتا. میرا یقین کرو. عمران کے جواب پر صائمہ اداسی سے مسکرائی.
سر آپ نے ہمیشہ مجھے اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں آپ کا یقین کروں. صائمہ کا ہاتھ ابھی بھی عمران کے ہاتھ میں تھا.
میں نے تمہارا کبھی استعمال نہیں کیا. ہاں جہاں تک کام کی بات ہے تو تم اس کی تنخواہ لیتی تھی مفت تو تم نے مجھے کچھ بھی کر کے نہیں دیا. عمران کا لہجہ جتلانے والا تھا.
سر آپ مجھے اس قید سے آزاد کر دیں. میں اپنے گاؤں جانا چاہتی ہوں. اور اب تو بلکل بھی میں یہاں نہیں رہ سکتی مجھے عدیل سے ڈر لگتا ہے. صائمہ کے لہجے میں خوف اور منت تھی.
میرے ہوتے ہوئے کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ کوئی تمہیں کچھ کہہ سکے. بے فکر رہو. عمران نے تسلی دیتے ہاتھ چھوڑ دیا.
مجھے اسٹیشن چھوڑ آئیں پلیزززز گھر والے بہت یاد آ رہے ہیں. صائمہ نے امید بھری نظروں سے عمران کی طرف دیکھا جو واش روم جانے لگا تھا.
اچھا چلو چند لمحے صائمہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے عمران نے فیصلہ کیا.
ابھی صائمہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی وہ عمران کے یوں ماننے پر حیران تھی.
ہاں جب تم رہنا ہی نہیں چاہتی اور تمہیں میری پریشانی اور تکلیف سے کوئی غرض نہیں تو پھر چلو چھوڑ آتا ہوں. جہاں جانا چاہ رہی ہو مگر یاد رکھنا تم لوٹ کر واپس میرے پاس ہی آؤ گی. عمران نے گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھایا. صائمہ خاموشی سے عمران کو دیکھنے لگی جو سلیپر پہن رہا تھا.
جیسے ہی گاڑی گیراج سے نکلی عدیل نے حیرت سے عذرا کی طرف دیکھا
یہ اس وقت عمران کہاں گیا ہے …..؟ ؟ عدیل نے دل میں سوچتے ہوئے اپنا فون پکڑا جبکہ عذرا پریشان ہو گئی.
سارا راستہ خاموشی سے گزرا. صائمہ نے کئی بار عمران کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے گاڑی چلا رہا تھا.
اسٹیشن پر پہنچ کر عمران نے اسے اترنے کا اشارہ کیا. دونوں ساتھ چلتے کاؤنٹر پر پہنچے. عمران نے ایک وی آئی پی ڈبے کی ٹکٹ بک کروائی.
یہ لو اپنا ٹکٹ اور کچھ پیسے رکھ لو راستے میں کسی سے کچھ مت لے کر کھانا. چند مزید ہدایات دیتے عمران پلٹنے لگا مجھے آپ سے بہت محبت ہے مگر آپ اچھے آدمی نہیں صائمہ نے سر جھکاتے نم آواز میں کہا
کوئی بات نہیں، خوش رہو. اچھا وقت گزرا. عمران کا چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے پاک تھا. صائمہ کو ڈھونڈنے پر بھی اداسی کی رمق تک نہ ملی یعنی وہ بلکل غیر اہم تھی. مڑ مڑ کر تین چار بار اس نے جاتے ہوئے عمران کو دیکھا
تم نے سمجھا ہی نہیں اور نہ سمجھنا چاہا
ہم چاہتے کیا تھے تجھ سے تیرے علاوہ
پھر بڑی مشکل سے آنسوؤں کو روکتی وہ پلٹنے لگی کہ گولی کی آواز سے عمران لڑکھڑا کر گرا اور اسٹیشن پے شور مچ گیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے
