80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

دادو دادو دادو آپ کہاں ہیں ….؟؟ اشمل نے گھر میں داخل ہوتے ہی اونچی آواز میں پکارنا شروع کیا مگر سارا گھر چھان لینے کے باوجود بھی اسے دادو کہیں نہیں ملی.
ایک تو دادو گھر میں ٹکتی ہی نہیں ہیں. اشمل نے خودکلامی کرتے ہوئے اپنی چادر اتار کر باہر بچھی چارپائی پر رکھی اور کچن کا رخ کیا. جس کی حالت سے صاف ظاہر تھا کہ دادو نے ناشتہ بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا.
میں یعنی اشمل سیییی _ اشمل نے کہتے کہتے خود کو روکا یارررر اشمل کتنی بار منع کیا ہے کہ اس شخص کا نام نہ لیا کر جس نے سوائے تجھے پیدا کرنے کے اور کچھ بھی تیرے لیے نہیں کیا اور زیادہ اداس بھی مت ہو. چل شاباش!!! برتن دھو اور سوچ کہ دادو کو ان کی لاپرواہی پر کیا سزا دی جائے _ اشمل نے خود ہی اپنے آپ کو تسلی دی اور برتن دھونے کے لیے اپرل باندھنے لگی. ابھی وہ برتن دھونے کے لیے نل کھول ہی رہی تھی کہ دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی .
اللہ خیر کرے کہیں دادو بھی تو دادا پاس نہیں چلی گئی ہائے میں تو ان کا ایکسیڈنٹ سے خراب چہرہ نہیں دیکھ سکوں گی. کیا پتہ کیسے فوت ہوئیں ہوں گی …… ؟؟اشمل نے کچن سے باہر نکلتے ہوئے اپنے آپ سے کہا ارے اشمل!!! رک زیادہ والا پریشان سا منہ بنا تاکہ آنے والوں کو پتہ چلے کہ تُو اپنی دادو کے گُم ہونے پر بہت پریشان تھی. اشمل نے دروازے کی طرف جاتے ہوئے خود کو روکا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دکھی سی شکل بنائی. کتنی بار کہا ہے کہ اماں جی کو اکیلے باہر نہ جانے دیا کرو مگر تمہیں تو اپنی دادو کی کوئی فکر ہے ہی نہیں
دروازہ کھولتے ہی آنٹی نسیم نے اشمل جو دیکھتے ہوئے غصہ سے کہا اور دادو کو پکڑ کر اندر لے آئی.
میں اس لیے ان کی فکر نہیں کرتی کہ سارا محلہ ہی ان کی فکر میں لگا رہتا ہے. ویسے بھی جب آپ جیسے ہمسائے ہوں تو فکر کس بات کی ہے ……… ؟؟؟ اشمل کے جواب پر دادو نے اسے گھور کر دیکھا اور نسیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے جانے کا کہا
آپ یہ بتانا پسند کریں گی کہ گھر سارا کھلا چھوڑ کر آپ کہاں گئیں تھیں. یہ عمر ہے آپ کی آوارہ گردیاں کرنے کی ……… ؟؟
لفنڈے لونڈوں کی طرح سارا دن لور لور پھرتی رہتیں ہیں. گھر میں جوان، خوبصورت پوتی ہے اس کا خیال نہیں اشمل دادو کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی.
میں گھر میں اکیلی بیٹھی بور ہو جاتی ہوں. اس لیے چوک کا چکر لگانے چلی جاتی ہوں. وہاں خوب رونق لگی ہوتی ہے. وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا.
مگر آج شومئی قسمت ایک رکشہ سے ٹکرا گئی. وہ تو شکر ہے کہ نسیم وہاں اپنے بیٹے ساتھ سبزی لینے آئی ہوئی تھی تو مجھے گھر لے آئی ورنہ وہیں چوک میں رات گزارنا پڑتی. کیونکہ تمہیں تو توفیق ہونی نہیں تھی کہ اپنی دادو کو تلاش کرتی دادو نے شکوہ کرتے ہوئے اپنی ٹانگیں چارپائی پر رکھیں. جبکہ اشمل انھیں بہت گھور گھور کر دیکھ رہی تھی.
ویسے اگر آپ اس حالت میں چوک پہ بیٹھ جاتیں تو دیہاڑی خوب لگتی مگر ہماری ایسی قسمت کہاں …….. ؟؟
جب بھی کوئی کمائی کا زریعہ بننے لگتا ہے. تو لوگ اس پر پانی پھر دیتے ہیں. اب اس منحوس نسیم کو ہی دیکھ لو اشمل کہتی ہوئی ان کے پاؤں کی طرف بیٹھ گئی.
ہائے کمبخت اب میں اس عمر میں بھیک مانگتی اچھی لگوں گی …..؟ ؟ ایک وقت تھا میرے گھر والا دوسروں کو بھیک دیتا تھا اور اب لوگ اس کی بیوہ کو دیں گے …… ؟؟ دادو نے غصہ سے اشمل کی طرف دیکھا لو جی اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے. آپ کو یا آپ کے شوہر نامدار کو جانتا ہی کون ہے …… ؟؟ یہاں تو ہمارے ملک کا وزیراعظم سر عام بھیک مانگ رہا ہوتا ہے اور آپ کو نخرہ چڑھا ہے میں بھیک مانگتی اچھی لگوں گی …… ؟؟ اشمل نے نقل اتاری. ہمارے ملک میں جو جتنے دھڑلے سے بھیک مانگتا ہے لوگ اسے اتنی ہی زیادہ بھیک دیتے ہیں. ہمارے ملک کی اہم شخصیات بھیک مانگ مانگ کر ہسپتال اور ڈیم بنا رہے اور آپ
؟؟؟ اشمل کے چپ ہوتے ہی دادو نے اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا
ہائے میں تو بھول ہی گئی. میں نے تو آپ کو ایک خوشخبری سنانی تھی. بس اب آپ شادی کی تیاری شروع کریں. مجھے ایک بہت ہی اچھی نوکری مل گئی ہے _ اشمل کو کچن کی طرف جاتے ہوئے اپنی نوکری کا خیال آیا تو وہ پلٹی. دادو جو تھکی سے آنکھیں موند رہیں تھیں اشمل کی بات سنتے ہی اٹھ بیٹھیں. بات تو تیری بلکل ٹھیک ہے اور مجھے کوئی اعتراض بھی نہیں. شکر ہے کہ تُو تنگ ذہنیت کی نہیں. آج کل کی نسل میں یہ بات بہت اچھی ہے کہ وہ روشن دماغ ہے. مگر زمانے والے کیا کہیں گے کہ میں اس عمر میں شادی کر رہی ہوں. حالانکہ میری اتنی عمر نہیں
دادو نے شرماتے ہوئے کہا تو اشمل کا حیرت کے مارے پورا منہ کھل گیا.
چلو جی اب پوتی کیا کرے جب دادی کے ہی ارمان ابھی باقی ہیں ؟؟
دادو آپ نے اس دنیا میں کچھ تو دیکھا ہے نااااااا میرا مطلب دادا اور اپنے بچے پھر پوتی وغیرہ مگر میں نے ابھی کچھ نہیں دیکھا.
پلیزززز دادو پہلے میری شادی کر دیں. پھر پکا وعدہ میں اپنے سسرال میں کوئی امیر سا بزرگ دیکھ کر اس ساتھ آپ کی شادی کروا دوں گی. اشمل نے مسکا لگاتے ہوئے منت بھرے لہجے میں دادو کا ہاتھ پکڑ کر کہا
چل پرے ہٹ
میں نے تیری شادی نہیں کرنی. اس طرح تو میں اس گھر میں اکیلی رہ جاؤں گی اور تو اپنے سسرال میں مزے کرے گی. دادو ہمیشہ کی طرح اشمل کی شادی والی بات سے اداس ہو گئی.
دادو ہم کوئی گھر داماد ڈھونڈ لیتے ہیں یا پھر میں جہیز میں آپ کو اپنے ساتھ لے جاؤں گی. مگر مجھے شادی کرنی ہے _ اشمل نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کیا. اچھااااااااااااا پھر پکا وعدہ کر کہ مجھے اپنے ساتھ لے کر جائے گی. میں یہ گھر کرائے پر دے دوں گی اس طرح مجھے ہر مہینے کچھ نہ کچھ رقم بھی ملتی رہے گی دادو کی آنکھوں میں چمک ابھری.
آدھا کرایہ میرا ہو گا آخر میں آپ کو اپنے گھر رکھوں گی اشمل نے انگلی اٹھاتے ہوئے کہا ہاں ٹھیک ہے. اب میرے کھانے کے لیے کچھ لا، کم از کم چائے ہی پلا دے. دادو نے ہائے ہائے کرتے اپنا سر تکیہ پر رکھا. دادو کہیں بھی جانے سے پہلے گھر کا دروازہ ضرور بند کر جایا کریں حالات اچھے نہیں ہیں. اشمل کہتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی. ♣️♣️♣️♣️♣️ سنا ہے تم نے نئی پی اے رکھ لی ہے _
عمران بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب اس کے قریب اپنی خبیث مسکراہٹ ساتھ عدیل نے بیٹھتے ہوئے کہا
عدیل بھائی آپ میرے آفس سٹاف اور آفس معاملات سے دور ہی رہا کریں تو یہ آپ کے حق میں بہتر ہے. آگے ہی آپ کی حرکتوں نے بہت مسائل کھڑے کر رکھے ہیں عمران نے سرد لہجے میں تنبیہہ کی. میرے تو ویسے ہی سب پیچھے پڑے رہتے ہیں. بد سے بدنام ہونے والی بات ہے. حالانکہ میں تو کچھ بھی نہیں کرتا اور ویسے بھی باقی لوگ کونسے پارسا ہیں. اب تم اپنی ہی مثال لے لو …… ؟؟ عدیل نے مسکین سی شکل بناتے ہوئے آخر میں بیہودہ قہقہ لگایا. عدیل بھائی ہم لوگوں اور آپ میں بہت فرق ہے. ہم لوگ کم از کم اپنے قریبی حلقے اور رشتے داروں میں بےغیرتیاں نہیں کرتے. خاص طور پر اپنے جاننے والوں اور آفس سٹاف ساتھ
مگر آپ تو کسی کو بھی نہیں چھوڑتے.
اتنی بار اپنی انھی حرکتوں کی وجہ سے جیل کی ہوا بھی کھائی ہے مگر پھر بھی جان کو سکون نہیں _ عمران نے بیزاری سے ٹی وی بند کرتے ہوئے جواب دیا. میں کیا کرتا ہوں اب اگر کوئی خود ہی اپنا حسن لے کر میرے پاس آتا ہے تو اسے خراج پیش کرنا بنتا ہے. اس میں میری نہیں آنے والے کی غلطی ہوتی ہے. عدیل نے بےغیرتی سے ہنستے ہوئے کہا میں آپ کو آخری بار بتا رہا ہوں میرے آفس کے سٹاف اور خاص طور پر فیمیل سٹاف سےدور رہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے مجبوراً اپنے گاڈز کو یہ آڈر دینا پڑے کہ عدیل صاحب مجھے آفس میں نظر نہ آئیں. عمران نے آخری الفاظ چبا چبا کر ادا کیے. عمران تم اپنے چچازاد اور بڑے بہنوئی سے یوں بات نہیں کر سکتے. میں عزرہ سے تمہاری شکایت کروں گا. عدیل نے غصے سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا بس کریں میرے ہی گھر میں رہ کر، میرا ہی دیا پہن کر، کھا کر، مجھے ہی دھمکی لگا رہے. کچھ شرم کریں آپ کا تو بلکل ہی خون سفید ہو گیا ہے. احسان فراموش کہیں کے عمران نے سارا لحاظ ایک طرف رکھتے ہوا کہا
عمران خون میرا نہیں تیرا سفید ہو گیا ہے. خود تو تُو لڑکیوں ساتھ بزنس کرتا ہے اور مجھے عدیل نے گلہ کیا.
لڑکیوں ساتھ بزنس کرنے اور ریپ کرنے میں فرق ہوتا ہے. ہوتا ہے ناااااا ؟؟؟؟
اور ہاں ایک بات اور یاد رکھیں اگر اب آپ کسی کے ریپ میں ملوث ہوئے تو میں آپ کی ضمانت نہیں کراؤں گا. سمجھے …….. ؟؟ عمران کہتا ہوا پورج کی طرف بڑھ گیا.
عمران کے آخری جملے پر عدیل نے ماتھے پر آئے پسینے کو اپنی آستین سے صاف کیا اور اردگرد دیکھا کہ کہیں کوئی نوکر سن تو نہیں رہا.
عمران میاں کچھ بھی کرو یا کہو
ہم اپنی عادت سے مجبور ہیں. یہ جو نئی بلبل تم نے رکھی ہے مجھے اسے پکڑنا ہے اور بس عدیل نے ہنستے ہوئے اپنی گندگی ذہنیت کے مطابق منصوبہ بندی شروع کی.
♣️♣️♣️♣️♣️
اچھااااااااااااا تو یہ معاملہ ہے. تمہیں یقین ہے کہ اس سب میں وہ ملوث ہیں. اُ لوگوں کا بہت نام ہے. سلمان صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے اسفند سے پوچھا
سر مجھے پورا یقین ہے اور آپ جانتے ہیں کہ میں بغیر ثبوت کے کچھ نہیں کہتا. اسفند نے کہتے ہوئے ایک لفافہ ان کے آگے رکھا جس میں کچھ تصویریں تھیں.
یہ کیا ہے ….؟؟ سلمان صاحب نے حیرت سے پکڑتے ہوئے پوچھا
آپ خود دیکھ لیں اور امید ہے کہ یہ سب دیکھنے کے بعد آپ کو مجھ سے کوئی سوال نہیں کرنا پڑے گا. اسفند نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بناتے ہوئے اپنے لبوں پر رکھی.
دیکھ لو برخردار سیانے کہتے ہیں “بھنسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتیں ہیں.” یہ سب وقت آنے پر مل جاتے ہیں کیونکہ ان کے مفادات ایک جیسے ہیں. سلمان صاحب کی بات پر اسفند نے خاموشی سے سر ہلایا جبکہ کب سے خاموش بیٹھا ارحم بول پڑا.
سر صرف بھینسیں ہی بھینسوں کی بہنیں ہوتیں ہیں یا یہ رشتہ کتوں میں بھی پایا جاتا ہے ……. ؟؟ ارحم کے سوال پر خشگمین نظروں سے اسفند نے اسے گھورا جبکہ سلمان صاحب مسکرا دیے.
ارحم کیا کہنا چاہ رہے ہو کھل کر بات کرو سلمان صاحب نے فائل بند کرتے ہوئے کہا
سر یہ سب لوگ بہت خطرناک ہیں کیونکہ ان کا بزنس بہت گندہ اور خطرناک ہے. بعض دفعہ ہمیں جو دکھائی دیتا ہے میرا مطلب ہے کہ وہ جو ہمیں دکھا رہے ہوتے ہیں صورتحال اس سے کئی گناہ زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہوتی ہے.
اور مجھے اس دفعہ صورتحال زیادہ خراب لگ رہی ہے لہٰذا جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور بھینسوں کی بجائے کتوں پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ بھنیس بھولی مخلوق ہے اور کتے
ارحم نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی
کاش ارحم کے گھر والے اسے جانوروں کا ڈاکٹر بنا دیتے تو حیوانیات پر ان کا یہ احسان سنہری حروف سے لکھا جاتا. اسفند کے جواب پر سلمان صاحب نے بھرپور قہقہ لگایا
یار کبھی تو ہنس لیا کر _ آپ ہنستے کیوں نہیں ہیں …..؟ ؟ ارحم نے اسفند کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا کیونکہ میں پاگل نہیں ہوں
اسفند کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ سلمان صاحب کے قہقہ کو بریک لگی اور ارحم مسکرانے لگا
سر مانیں یا نہ مانیں مگر یہ آج آپ کی بھی کر گیا ہے __ ارحم سیٹی بجاتے ہوئے اسفند اور سلمان صاحب کو آفس میں اکیلے چھوڑ گیا.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.