No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
اشمل کے قریب جیسے ہی بلیک پراڈو نے آ کر بریک لگائی تو بریک کی آواز پر اس نے حیرت سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص کی طرف دیکھا.
آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں …… ؟؟ عمران نے ونڈو گلاس نیچے کرتے ہوئے شائستگی سے پوچھا
سر میری دادو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو _ اشمل نے اپنے قریب فٹ پاتھ پر بیٹھی دادو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا تو سے کیا مراد ہے. تم ایک نمبر کی بےوقوف ہو. یوں آدھی رات کو یہاں کھڑی ہو. تمہیں چاہیے تھا کہ گھر پر رہتیں اور وہیں سے 1122 کو کال کر کے بلاتی. حالات کتنے خراب ہیں کچھ اندازہ بھی ہے. عمران نے گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے فکرمندی سے کہا سر اتنی عقل مجھ میں تو ہے مگر میری گلی بنانے والوں میں نہیں تھی. دراصل ہماری گلی گلیوں کا بچہ ہے وہ بھی سب سے چھوٹا اور کمزور سا وہاں بڑی گاڑی تو بہت دور کی بات ہے چھوٹی بھی نہیں آ سکتی. اس لیے مجبوراً مجھے دادو کو باہر ہی لانا پڑتا ہے. اشمل کے جواب پر عمران نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے سوالیہ نظروں سے دادو کی طرف دیکھا.
سر زیادہ فکرمندی کی ضرورت نہیں ہے. انھیں تقریباً ہر مہینے ہی ایک یا دو بار ہسپتال جانے کا دورہ پڑتا ہے. بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہو گا کہ جب گھر میں فاقے ہونے لگتے ہیں تو یہ ہسپتال جانے کی ضد کرتیں ہیں کیونکہ وہاں کھانا وقت پر ملتا ہے. اشمل کی اس قدر صاف گوئی پر عمران تھوڑی دیر کے لیے بلکل خاموش ہو گیا.
آئیے میں آپ کو ہسپتال چھوڑ دیتا ہوں. عمران کہتا ہوا گاڑی کی طرف پلٹ گیا جبکہ اشمل کی تو دلی مراد پوری ہوئی.
دادو جلدی کریں آج ہم پراڈو میں بیٹھیں گے مگر افسوس ڈرائیور میرا باس ہے ہم چوری نہیں کر پائیں گے اشمل نے دادو کے کان میں سرگوشی کی جس پر دادو نے برا سا منہ بنایا.
دادو آج ایکٹنگ کمال کی کرنا. باس بہت ذہین بھی ہیں اور کمینے بھی _ اشمل آسرا دیتی پچھلی سیٹ پر بیٹھاتے ہوئے کہنے لگی. جبکہ عمران اشمل کو بہت ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا. مس اشمل آپ کی فیملی میں کتنے لوگ ہیں …… ؟؟ عمران نے گاڑی چلاتے ہوئے سرسری سے انداز میں پوچھا سر بس یہی دادو ہیں اشمل کا جواب عمران کے چہرے پر اطمینان پھیلا گیا. مطلب یہ ہمارے لیے ایک آسان شکار ثابت ہو گی. نہ اس کے آگے کوئی ہے اور نہ پیچھے عمران ڈرائیونگ کرتے ہوئے مسلسل اشمل کے بارے میں سوچ رہا تھا.
کس ہسپتال جانا ہے میرا مطلب ہے کہاں گاڑی روکوں …….. ؟؟ عمران نے بیک مرر میں دیکھتے ہوئے پوچھا
سر یہ جو روڈ پر ہی پرائیویٹ ہسپتال ہے وہاں روک دیں. اشمل کے جواب پر عمران نے حیرت سے اسے مڑ کر دیکھا
مگر وہ ہسپتال تو بہت مہنگا ہے. میں ایک بار اپنے دوست کی والدہ کو لایا تھا ہسپتال والوں نے ایک گھنٹے کے 30000 تیس ہزار چارج کیے تھے. آپ ان کا بل کیسے دیں گی ……… ؟؟ عمران نے ہسپتال پارکنگ میں گاڑی روکتے ہوئے پوچھا
سر میری کیا اوقات کہ میں بل دوں. بل تو اللہ دیتے ہیں. اشمل سکون سے جواب دیتی گاڑی سے باہر نکل گی.
مس اشمل میں ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں. مجھے تقریباً آدھا گھنٹہ لگے گا واپسی پر آپ کو پک کر لوں گا. عمران کی آفر پر اشمل نے مسکراتے ہوئے دادو کو گاڑی سے باہر نکلنے میں مدد دی.
سر اس کی ضرورت نہیں ہے. میں خود ہی چلی جاؤں گی . اشمل نے جواب دیتے ہوئے انٹرس کی طرف قدم بڑھائے
مگر کیسے …….. ؟؟ عمران نے ونڈو پر کہنی ٹکاتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا
جیسے آئی ہوں _ اشمل کہتی ہوئی دادو ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئی یہ لڑکی ہمارے بہت کام آئے گی اگر اسے سہی طرح استعمال کیا جائے تو _ کیوں نااااا اسے fBR کے آفسر کو قابو کرنے کی ڈیوٹی دی جائے. مرد جیسا بھی ہو عورت اس کی کمزوری ہوتی ہے. عمران اشمل کی پشت کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا.
♣️♣️♣️♣️♣️
اشمل کی بچی تیرے اس باس کی وجہ سے آج ہمیں نقصان ہوا ہے. تجھے کس نے کہا تھا اپنے کنجوس باس کی گاڑی میں بیٹھنے کو دادو نے ہسپتال کے اندر داخل ہوتے ہوئے ناراضگی سے اشمل کی طرف دیکھا
دادو اب مجھے الہام تو نہیں ہوا تھا کہ سر آدھی رات کو یوں باہر گھوم رہے ہوں گے. خیر آپ پریشان نہ ہوں. یہ ہسپتال بہت مہنگا ہے. کوئی نہ کوئی بکرا مل ہی جائے گا اپنی پوتی پر یقین رکھیں. اشمل نے تسلی دیتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھا
پچھلی بار بڑا منافع ہوا تھا. لفٹ بھی کافی ٹھیک ٹھاک بندے نے دی تھی اور یہاں بھی کھل کر ملا تھا. مگر آج مجھے نہیں لگتا دادو کے لہجے میں مایوسی تھی.
اوہو دادو! آپ تو خوامخواہ پریشان ہو رہیں ہیں. آپ آرام سے یہاں بیٹھیں میں ریسپشن سے آپ کی پوچی بنوا کر اور کوئی موٹا تازہ بکرا گھیر کر لاتی ہوں. اشمل انھیں ویٹنگ ایریے میں بیٹھا کر ریسپشن کی طرف چل دی.
ارحم تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے. مجھے کچھ نہیں ہوا. معمولی چوٹ ہے میں خود ہی گھر جا کر پٹی کر لوں گا. اشمل اپنی پرچی بنوا رہی تھی جب اس کے کانوں میں یہ آواز پڑی.
ارے یہ تو وہی پیاری آواز ہے جو اس دن میں نے فون اور آفس میں سنی تھی. اشمل نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تو مردوں والی سائیڈ پر ارحم ساتھ ایک اور شخص تھا جس کی اشمل کی طرف پشت تھی.
یہ تو وہی نمونہ ہے جو اس دن سر سے ملنے آیا تھا. مگر ساتھ کون ہے اور اس کے ہاتھ سے خون کیوں نکل رہا ہے …… ؟؟ اشمل نے عادت کے مطابق اونچی خود کلامی کی.
چل اشمل آج زرا سرکار کے خاص افسروں کو چونا لگا یہ سب کو لگاتے ہیں. ویسے بھی اُس دن اس افسر نے میرا مذاق اڑایا تھا بدلہ تو بنتا ہے ……. ؟؟ اشمل واپسی کے لیے مڑتے ہوئے زور سے ارحم ساتھ ٹکرائی.
کیا بی بی اندھی ہو. جو اتنی روشنی میں بھی چھ فٹ کا بندہ دکھائی نہیں دے رہا ……؟ ؟ ارحم نے مڑتے ہوئے غصہ سے پوچھا وہ آگے ہی اسفند کی وجہ سے پریشان اور چڑچڑا ہو رہا تھا. مگر جیسے ہی اس کی نظر اشمل پر پڑی غصہ حیرت میں بدل گیا.
آپ یہاں ……. ؟؟ دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا
جی وہ میری دادو بہت بیمار ہیں تو اشمل نے آنسو بھری آنکھوں سے ارحم کی طرف دیکھتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑا. اشمل کی نم دار آواز پر اسفند جو اپنے ہاتھ کا جائزہ لے رہا تھا چونک کر اسے دیکھنے لگا.
ہمیشہ ہنسنے مسکرانے والی باتوں کی انسائیکلوپیڈیا اسے روتے ہوئے بہت بری لگ رہی تھی.
آپ عمران صاحب کی سیکرٹری ہیں نااااا …….. ؟؟ ارحم نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا
جی مگر میں اُس سے پہلے اپنی دادو کی پوتی بھی ہوں. اشمل کہتی ہوئی ویٹنگ ایریے کی طرف چل دی جبکہ وہ دونوں اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے دوبارہ ریسپشنلسٹ کی آواز پر پلٹے.
چلیں سر OPD سے بینڈج کروا لیتے ہیں. ارحم نے کمپیوٹرائزڈ پرچی پر کمرہ نمبر دیکھتے ہوئے اسفند سے کہا جبکہ وہ خاصا بیزار لگ رہا تھا.
تُو اس لڑکی کو جانتا ہے ……. ؟؟ اسفند نے بظاہر بڑے لاپرواہ انداز میں ارحم سے پوچھا
کونسی لڑکی یہ جو ہمارے سامنے سے ابھی گزری ہے اگر آپ اس کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو معزرت مگر پھر آپ کو OPD کی نہیں بلکہ eye especialist کی ضرورت ہے. ارحم نے سامنے سے گزرتی موٹی تازی عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
ارحممممممم اسفند نے تنبیہی والے انداز میں پکارا.
وہ جو تمہارے ساتھ ٹکرائی تھی میں اس کی بات کر رہا ہوں. دونوں اس وقت سنسان کوریڈور میں چل رہے تھے.
وہ لڑکی عمران جیسے گھٹیا بندے کی PA ہے تو سوچ لو کیسی ہو گی ……. ؟؟ ارحم نے معنی خیز مسکراہٹ ساتھ اسفند کو دیکھا
بری بات یوں کسی کے بارے میں اندازہ نہیں لگاتے. دیکھنے میں تو تم بھی مجھے لنگور ہی لگے تھے حالانکہ اچھے خاصے ہو اسفند کی بات پر ارحم نے مصنوعی کھانسی کی.
دادو کام ہو گیا ہے وہ سیانے کیا کہتے ہیں “چوروں کو پڑ گئے مور” اشمل نے خوشی سے لہکتے ہوئے دادو کے سامنے ارحم کا وائلٹ لہرایا.
چل شکر ہے کچھ تو ہاتھ آیا. ورنہ میں تو مایوس ہو گئی تھی کہ آج کا ٹرپ بیکار ہی جائے گا خامخواہ اتنی سردی میں آئے. دادو نے وائلٹ سے نکلتے نوٹوں کو دیکھ کر سکھ کا سانس لیا.
چل دادو اب تیرا BP چک کروا دوں. آخر کو واپسی پر سر عمران سے تیرا بل بھی تو وصول کرنا ہے نااااا اشمل نے آنکھ مارتے ہوئے دادو کو ساتھ چلنے کا اشارہ کیا.
کیا وہ واپس آئے گا …… ؟؟ دادو نے اٹھتے ہوئے پوچھا
ضرور آئیں گے. مجھے ان کی آنکھوں میں تجسس نظر آیا تھا. ویسے وہ رحم دل بھی ہیں مگر صرف صنف نازک پر اشمل دادو کو سہارا دیتی مسکرا کر کہہ رہی تھی.
یار پتہ نہیں میں نے اپنا وائلٹ کہاں رکھا ہے. شاید گاڑی میں رہ گیا ہے یا میں آفس سے لایا ہی نہیں ارحم نے اپنی جیبیں ٹٹولتے ہوئے پریشانی سے کہا
بس تُو اور تیرے ڈرامے اسفند نے سر ہلاتے ہوئے الٹے یاتھ سے اپنا وائلٹ نکالا
قسم سے میری پاکٹ میں تھا مگر اب نہیں ہے. شاید تیری ٹینشن میں کہیں رکھ دیا ہے. ارحم شرمندہ سا تھا.
ٹنشن اور میری وہ بھی تجھے اسفند کے طنز پر ارحم نے ناراضگی سے منہ موڑ لیا تبھی ایک نرس ہاتھ میں ٹرے لیے ان کج جانب آئی.
سر آپ اپنا بازو اوپر کریں میں آپ کو پین کلر انجکشن لگا دیتی ہوں. جس پر اسفند نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتے ہوئے بازو اوپر کیا.
آپ اپنا بل کاؤنٹر پر جمع کرا دیں اور دو چار دن باقاعدگی سے بینڈج کروائیں. نرس ٹرے اٹھاتی ہوئے پیشہ ورانہ انداز میں کہنے لگی.
اگر میں اپنا وائلٹ ساتھ نہ لایا ہوتا تو تُو نے آج پکا ذلیل کروا دینا تھا. اسفند نے اپنا وائلٹ ارحم کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے ناگواری سے کہا
نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے. ایک تو میں آپ کو مرہم پٹی کے لیے اپنی ذاتی گاڑی میں لایا ہوں اوپر سے آپ مجھ پر ہی طنز کر رہے ہیں. پتہ پٹرول کتنا مہنگا ہو گیا ہے …… ؟؟ ارحم چلتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہا تھا.
دادو اس طرف جانا ہے اشمل کی آواز پر اسفند نے پلٹ کر اپنی دائیں طرف دیکھا
یہ لڑکی کچھ پراسرار سی ہے اس پر نظر رکھنی پڑے گی. اسفند نے اشمل کو دیکھتے ہوئے ارحم سے کہا
پراسرار _ چلو یہ تو زبردست ہو گیا. اب آپ نے خود نظر رکھنے کی اجازت دی ہے. ارحم نے کاؤنٹر کے قریب پہنچتے ہوئے شرارت سے پوچھا جس پر اسفند نے اسے ایک گھوری سے نوازا.
شکر ہے تیری چوٹ زیادہ گہری نہیں ہے. ارحم نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے اسفند کی طرف دیکھا جو اپنے ہاتھ کو پکڑے ہوئے تھا.
گہری چوٹ صرف اپنے دیتے ہیں اور وہ غیر تھے. اسفند نے آنکھیں موندتے ہوئے ٹیک لگائی. جس پر ارحم نے اسے دکھ سے دیکھا اور گاڑی سٹارٹ کی.
گاڑی سٹارٹ مت کرو ہم ابھی رکیں گے اسفند نے بند آنکھوں ساتھ حکم دیا تو ارحم کی پوری آنکھیں کھل گئیں.
کیا مطلب ……. ؟؟ ارحم پورا اسفند کی طرف گھوم گیا.
مطلب یہ کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ لڑکی کس ساتھ جائے گی. تب تک انتظار اسفند کی وضاحت پر ارحم منہ بناتے سیٹ ساتھ ٹیک لگا گیا.
حاضرین میں آپ کو بتاتا چلو کہ پہلی دفعہ اسفند یار ولی کو کسی لڑکی میں دلچسپی لیتے دیکھا گیا مگر افسوس کہ وہ عمران جیسے شخص کی ارحم نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ اسفند نے زور سے اس کے بازو پر مکا مارا.
♣️♣️♣️♣️♣️
شدید سردی کے باوجود بھی صائمہ مسلسل ہاسٹل پارکنگ میں چکر کاٹ رہی تھی.
پتہ نہیں آئیں گے بھی کہ نہیں …..؟ ؟ صائمہ دل میں سوچتی بار بار گیٹ کی طرف دیکھ رہی تھی.
آنا تو چاہیے. جتنا بھی غصہ کریں آخر آ ہی جاتے ہیں. کبھی ایسا ہوا نہیں کہ میرے میسج کو اگنور کریں. صائمہ بار بار اپنے موبائل اور گیٹ کو دیکھ رہی تھی.
انتظار کا تو ایک ایک منٹ بھاری ہوتا ہے اور یہاں تو گھنٹہ گزر گیا ہے. لگتا ہے اب انھوں نے نہیں آنا. آخر میرا مان توڑ ہی دیا. سخت مایوسی سے سوچتے ہوئے اس نے ایک نظر گیٹ کو دیکھا اور اندر کی طرف جانے لگی تبھی بلیک پراڈو اپنے مخصوص ہارن ساتھ گیٹ میں داخل ہوئی جس کی آواز پر صائمہ کے اٹھتے قدم رک گئے.
صائمہ بےعزتی تو پکی ہے. پلٹنے کی غلطی مت کرنا. صائمہ نے دل میں سوچا مگر کانوں میں مسلسل ہارن کی آواز آ رہی تھی جو بجانے والے کے غصے کی علامت تھا.
ہمت جمع کرتی وہ پراڈو کی طرف چل دی. جتنی بے چینی نہ آنے پر تھی اس سے زیادہ اب بےعزتی کے ڈر سے تھی. چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی، جھکی نظروں ساتھ وہ پراڈو پاس آ رکی.
بیٹھو عمران کی نہایت سرد آواز ساتھ فرنٹ ڈور کھلا.
اب بتاؤ کیا تکلیف تھی. کءوں مجھے بار بار کال اور میسج کر رہی تھی. میں تو سمجھا تم اب تک خودکشی کر چکی ہو گی. مگر میری جان اتنی جلدی چھوٹ جائے. ناممکن عمران نے سرخ ہوتی آنکھوں ساتھ صائمہ کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے.
اب رونا دھونا شروع کر دو. اسی لیے میرا دل نہیں کرتا تم سے بات کرنے کو دن بدن بور کرنے لگی ہو. عمران نے کہتے ہوئے اپنا رخ موڑ لیا.
وہ آپ نے بزنس کے بارے میں کسی بھی قسم کی بات موبائل پر کرنے سے منع کیا ہے تو چند لمحوں کی محنت بعد وہ اپنے آنسوؤں کو پینے میں کامیاب ہو گئی تھی.
بزنس کے بارے میں کیا بات کرنی تھی ……؟ ؟ صائمہ کے منہ سے بزبس کا لفظ سنتے ہی عمران کا لہجہ فوراً بدل گیا.
سر وہ ہمارے سوات والے ریسٹ ہاؤس پر بھی چھاپہ پڑا ہے. میرے خیال سے یہ کام بھی اسی آفسر کا ہے. اس طرح ہماری ریپو خراب ہو گی. صائمہ نے ڈرے ڈرے سے لہجہ میں کہا تو عمران نے غصہ سے سٹیرنگ پر مکا مارا.
میں کسی صورت بھی اس آفسر کو نہیں چھوڑو گا. کتے کا بچہ میرے پیچھے ہی پڑ گیا ہے. حالانکہ اس کے بڑے مجھ سے اپنا حصہ لیتے رہے ہیں.
اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے. نہ فیملی اور نہ کوئی محبوبہ اگر کوئی کمزوری ہاتھ آ جائے تو میں اس کا وہ حشر کروں گا کہ یہ یاد رکھے گا. عمران آپے سے باہر ہو رہا تھا.
سر میں جاؤں …..؟؟ عمران کو غصے میں دیکھ کر صائمہ نے پوچھا
کیوں وجہ ……. ؟؟ بس اتنی سی بات کے لیے میرا دماغ خراب کیا ہوا تھا.
جی، صائمہ کے منہ سے بےساختہ نکلا تو عمران کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے.
یہ جو لڑکی اشمل ہے تمہارا کیا خیال ہے وہ ہمارے کسی کام آ سکتی ہے ……. ؟؟ اب کی بار عمران نے نرمی سے پوچھا جس پر صائمہ کو شدید حیرت ہوئی.
سر مگر وہ صائمہ نے ہچکچاتے ہوئے کہنا چاہا.
اگر وہ افسر اس کے قابو آ جائے تو بہت مزہ آئے گا. ہم اسے اپنی انگلیوں پر نچا سکتے ہیں اور اس کی کمزوری بھی ہمارے پاس ہو گی. کیا خیال ہے …..؟ ؟ اپنی رائے پر عمران نے داد طلب نظروں سے صائمہ کی طرف دیکھا
دیکھ لیں سر جیسا آپ کو ٹھیک لگے. صائمہ نے فرمانبرداری سے کہتے ہوئے ڈور کے ہنڈل پر ہاتھ رکھا.
چلو اس بارے میں صبح بات کرتے ہیں. عمران کے نرم پڑتے ہء صائمہ کی جان میں جان آئی.
اب جاؤں سر صائمہ کے دوبارہ پوچھنے پر عمران نے گاڑی سٹارٹ کی.
اتنی سردی میں انتظار کیا ہے ایک کپ کافی تو تمہارا حق بنتا ہے. عمران نے مسکراتے ہوئے گاڑی گیٹ سے باہر نکالی.
عجیب شخص ہے دھوپ چھاؤں جیسا صائمہ اسے دیکھتی سوچنے لگی جو اب گنگنا رہا تھا.
♣️♣️♣️♣️♣️
تقریباً آدھا گھنٹہ گزرنے کو تھا مگر ابھی تک دادو اور اشمل کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آ رہا تھا.
سرکار دست بادست عرض ہے کہ اگر رات گاڑی میں گزارنے کا ارادہ تھا تو پہلے بتا دیتے. کم از کم میں کمبل اور تکیہ کا بندوبست کر لیتا وہ کیا ہے نااااا مجھے ان دو چیزوں کے بغیر نیند نہیں آتی. ارحم نے مسکین سی شکل بنا کر ارحم کی طرف دیکھا جو کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا EXIT کی طرف دیکھ رہا تھا جو سرخ لائٹ سے روشن تھا.
کیا ہسپتال والوں نے EXIT کے سپیلنگ غلط لکھے ہیں …… ؟؟ ارحم نے اسفند کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے پوچھا مگر اسفند کی طرف اب بھی خاموشی کا راج تھا.
اتنی سردی میں بندہ کافی، شوارما، برگر یا گاجر کا حلوہ ہی کھلا دیتا ہے. مجھے تو نیند کے ساتھ ساتھ بھوک بھی ستا رہی ہے. ارحم نے بڑبڑاتے ہوئے سیٹ ساتھ ٹیک لگائی.
میرے پاس تمہیں کھلانے کے لیے پسٹل کی گولی ہے. اس گولی سے بندہ لمبی اور پرسکون نیند سوتا ہے اگر کرتوت ٹھیک ہوں تو _ اسفند نے کہتے ساتھ ہی پسٹل نکال کر ڈیش بورڈ پر رکھی. جس پر ارحم پہلو بدل گیا. بوریت چہرہ سے عیاں تھی.
اتنی دیر میں تو عید کا چاند بھی نکل آتا ہے ارحم نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
مجھے قسم سے بہت نیند آ رہی ہے. اگر تُو نے مجھے مزید رکنے کا کہا تو ارحم ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
تو …… ؟؟ اسفند نے بل دار ماتھے ساتھ آبرو اچکا کر پوچھا
تو میں رک جاؤں گا. میری کونسی سی بیوی انتظار کر رہی ہے. ارحم منہ بناتے دوبارہ سیٹ ساتھ نیم دراز ہوا. تبھی اشمل بیک مرر میں دادو ساتھ آتی دکھائی دی.
ان کو فالو کرو اسفند کی سنجیدہ آواز پر ارحم سیدھا ہو کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا
اشمل نے ایک سفید کرولا کو ہاتھ دے کر روکا. دونوں نے تھوڑی دیر پتہ نہیں کیا گفتگو کی. پھر وہ دادو ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئی.
مجھے تو یہ لڑکی گڑ بڑ لگ رہی ہے ارحم نے سفید کرولا کے پیچھے اپنی گاڑی لگاتے ہوئے تبصرہ کیا مگر اسفند مکمل سنجیدہ تھا.
عمران کی PA کوئی شریف لڑکی ہو ہی نہیں سکتی. ارحم نے ایک اور کومنٹ پاس کیا.
اپنی بکواس بند کرو اور چپ چاپ پیچھا کرو. میرا سر ویسے ہی درد سے پھٹا جا رہا ہے. اسفند کا لہجہ ایک دم تلخ ہوا تو ارحم بھی خاموش ہو گیا.
یہ دیکھنے میں اور اپنی باتوں سے تو بہت ہی بےوقوف اور معصوم لگتی ہے. مگر حرکتوں سے آخر یہ اس وقت کیا کرتی پھر رہی ہے. دادو اس کی بیمار نہیں ہے. یہ جھوٹ بول رہی ہے مگر کیوں ……؟ ؟ اسفند مسلسل سفید کرولا پر نظریں جمائے سوچ رہا تھا جب وہ گاڑی ایک سٹاپ پر رکی.
تُو گاڑی سائیڈ پر لگا میں ابھی آتا ہوں. اسفند نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا
آپ اپنی حالت پر رحم کریں. ویسے یہ لفظ آپ کے لیے بنا تو نہیں ہے. پھر بھی ارحم اس کے بازو کی طرف اشارہ کرتا خود گاڑی سے نیچے اترا. آگے اسے معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے ……. ؟؟
یہ لڑکی ایسی ہے تو نہیں، میرا دل نہیں مان رہا کہ وہ جسم فروشی کا دھندہ کرتی ہو گی. ضرور کوئی گڑ بڑ ہے. صبح اس سے ملوں گا. وہ مجھ سے سب شئیر کرتی ہے.
اس پہیلی کو سلجھانے کے لیے ایک بار پھر فقیر کا روپ دھارنا پڑے گا. اسفند ونڈو کے باہر دیکھتا سوچ رہا تھا کہ ارحم آتا دکھائی دیا.
وہ تو سیدھا اپنے گھر گئے ہیں. گھر بند تھا انھوں نے چابی سے کھولا. چھوٹی تنگ سی گلی ہے. چند مکان ہیں. گلی بھی شاید بند ہے. باقی معلومات کل دوپہر تک مل جائے گی. ارحم نے بولتے ہوئے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی جبکہ اسفند بلکل خاموش تھا اور ایسا تب ہی ہوتا جب اسفند شدید ٹنشن میں ہوتا تھا.
مجھے ڈسٹرب نہیں کرنا. میں گولی لے کر سونے لگا ہوں. اسفند نے اپنے روم کے آگے رکتے ہوئے کہا اور زور سے دروازہ ارحم پر بند کیا.
آخر وہ لڑکی کون ہے …… ؟؟ مجھے جاننا ہے ابھی کے ابھی __ اسفند نے میٹرس پر ہاتھ مارتے خود کلامی کی.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.
