No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
گاڑی میں مکمل خاموشی کا راج تھا. عمران کبھی اچانک سپیڈ بڑھا دیتا کبھی گھٹا دیتا جو اُس کے ذہنی انتشار کا منہ بولتا ثبوت تھا ورنہ عمران ڈرائیونگ کمال کرتا تھا.
گاڑی کے اتار چڑھاؤ ساتھ ہی عمران کے چہرے پر بھی عجیب تاثرات نمودار ہوتے. کبھی ہلکی مسکراہٹ، کبھی غصہ اور کبھی ناراضگی _ سارا راستہ ہی عجیب طرح گزرا. صائمہ سب بہت غور سے دیکھ رہی تھی مگر پھر بھی چپ تھی کیونکہ اس وقت عمران کو چھیڑنا درست نہیں تھا. گاڑی ایک جھٹکے سے پورچ میں رکی تو صائمہ نے سکھ کا سانس لیا ورنہ اسے آج اپنا آپ سلامت گھر پہنچنا ناممکن دکھائی دے رہا تھا. گاڑی روکتے ہی عمران نے اپنی جلتی آنکھیں موند کر سر سٹیرنگ پر رکھا. سر اندر چلیں صائمہ نے اپنی طرف کا دروازہ کھولتے دھیمی آواز میں کہا جس پر عمران نے لال سرخ آنکھوں ساتھ اسے گھورا. جس پر وہ نظریں جھکاتی گاڑی ساتھ کھڑی ہو گئی.
اندر جاؤ یہاں کیوں کھڑی ہو ……. ؟؟ کچھ دیر بعد عمران نے سر اٹھایا تو نظر صائمہ پر پڑی.
سر آپ بھی چلیں نااااا صائمہ نے اندر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میرا نہیں خیال کہ یہاں کچھ ایسا ہے جس سے تم ڈر رہی ہو. (کیا ہو تم _ عمران نے آخری لفظ منہ میں ہی دبا لیے) جس پر صائمہ نے اسے شکایتی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو آپ کو نہیں پتہ ……؟ ؟
چلو عمران گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتا باہر نکلا تو دونوں آگے پیچھے لاؤنچ میں داخل ہوئے. صائمہ کی خوش نصیبی تھی کہ لاؤنچ بلکل خالی تھا. عمران نے خلاف معمول عذرا کے کمرے کی بجائے سیڑھیوں پر قدم رکھا تو صائمہ نے اس کی پشت کو تشکر بھری نظروں سے دیکھا
کمرے میں داخل ہوتے ہی عمران کا ضبط جواب دے گیا. انتہائی بے ردی سے کوٹ اتار کر بیڈ پر پھینکا. ٹائی ڈھیلی کرتا وہ لمبے لمبے سانس لینے لگا جیسے اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہو.
سر آپ ٹھیک ہیں …..؟ ؟ صائمہ کو اس کی حالت کچھ عجیب سی لگی. بغیر بولے چپ چاپ وہ اپنے شوز اتارتا ننگے پاؤں ٹیرس کی طرف چل دیا.
سر میں ابھی صائمہ نے اتنا ہی کہا تھا کہ عمران نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا.
میں کچھ دیر اکیلے بیٹھنا چاہتا ہوں. مجھے ڈسٹرب مت کرنا ورنہ تم اچھے سے جانتی ہو کہ مجھے ڈسٹرب کرنے والے خود کتنے ڈسٹرب ہوتے ہیں. عمران کے اتنے سخت الفاظ پر صائمہ نے سر جھکا لیا
میرے خیال سے سر کو اُس فائل کے بارے میں شک ہو گیا ہے. شوکت کے بارے میں بھی سر نے پتہ لگا لیا ہو گا. تبھی اتنا موڈ آف ہے ورنہ سر یوں نہیں کرتے. میں نے تو کبھی غصے میں بھی سر جو یوں behave کرتے نہیں دیکھا یا شاید صائمہ نے بیڈ پر لیٹتے کمبل اپنے اوپر کیا. میرے خیال سے اشمل کے گھر جو تصویر دیکھی ہے اس میں بھی کچھ گڑ بڑ یے. وہ شاید سر کی جاننے والی خاتون ہیں. ویسے تھیں پیاری، اب پتہ نہیں اس کا سر سے کیا رشتہ ہے …… ؟؟ اُسے دیکھ کر بھی سر کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے مگر اتنی سی بات سر منہ نہیں بنا سکتے. میں نہیں مانتی ….؟؟ اپنی بات کی خود ہی نفی کرتی وہ لیٹ گئی. عجیب سا سکون تھا اس کمرے میں شاید تحفظ کا احساس تھا. بہت دنوں بعد وہ سکون سے سونے لگی تھی. اس وجہ شاید نہیں بلکہ یقیناً عمران کی موجودگی تھی.
♣️♣️♣️♣️♣️
آ گیا تمہارا بھائی! اب زرا جا کر پوچھو تو سہی کہ کیوں لایا یے اسے واپس اور وہ اتنے دنوں سے کہاں تھی …..؟؟
کیونکہ میں اس کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہوں. وہ اپنے ماں باپ سے ملنا پسند نہیں کرتی. سوچو جو ماں باپ کی نہیں وہ اور کسی کی کیا ہو گی …… ؟؟ عدیل جان بجھ کر عذرا کو غصہ دلا رہا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ غصہ کرتے اُس کی طبیعت بگڑنے لگتی ہے. عدیل اب عذرا سے جان چھڑانا چاہتا تھا.
دیکھتی ہوں اگر وہ اُسے ساتھ لایا ہوا تو میں آج یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی. میں اس ساتھ نہیں رہ سکتی. عذرا کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ اس کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا.
اللہ کرے ان دونوں بہن بھائی کی لڑائی میں عذرا کو ہارٹ اٹیک ہو جائے اور عمران کو چند دن بعد پھانسی _ بس پھر میرے دن پھریں گے اور راوی چین لکھے گا. عدیل نے قہقہ لگاتے کراؤن چئیر ساتھ ٹیک لگائی اور سیٹی بجانے لگا. عذرا نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو پورا کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا. عذرا نے سوئچ بورڈ کی طرف ہاتھ بڑھایا. آپا لائٹ مت آن کیجیے گا مجھے فلحال اندھیرے میں بیٹھنا ہے. عمران کی آواز پر عذرا پلٹی. کہاں ہو اور یوں اندھیرا کیوں کر رکھا ہے …..؟ ؟ لہجہ میں فکر مندی تھی. صوفے پر ہوں. عمران نے کہتے آگے جھک کر عزرا کا ہاتھ پکڑا تو وہ اس کے برابر آ بیٹھی. کیا ہوا ہے. اتنے ڈپرس کیوں ہو ……. ؟؟ عذرا نے جھٹ سے پوچھا جبکہ اب کچھ کچھ چیزیں نظر آنے لگیں تھیں. آج اتنے عرصے بعد وہ پھر میرے سامنے آ گئیں اور میں چاہ کر بھی انھیں اگنور نہیں کر سکا. آپا اُن کی آنکھوں میں زرا بھی افسوس نہیں تھا اپنے کیے کا عمران نے انتہائی دکھی لہجے میں شکوہ کیا.
کون پھپھو …..؟ ؟ عذرا نے چونکتے ہوئے پوچھا
وہ کہاں ملیں تمہیں میرا پوچھا تھا تم سے _ انھیں گھر آنے کا بولتے بلکہ ساتھ لے آتے ……. ؟؟ عذرا نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے. آپا انھوں نے ایسا کیوں کیا تھا مجھے آج تک اپنے اس “کیوں” کا جواب نہیں ملا ……. ؟؟ غیروں سے اتنی ہمدردی اور اپنے سگے بھتیجے ساتھ اتنی زیادتی. آخر کیوں ……؟ ؟ عمران نے چلاتے ہوئے پاؤں بیڈ کی سائیڈ پر مارا تو سوئی ہوئی صائمہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھ گئی. اندھیرے کی وجہ سے سمجھ نہیں پائی کہ وہ اس وقت کہاں ہے …… ؟؟ عمران میں سمجھا سمجھا کر تھک گئی ہوں. وہ سب کرنا اُن کی مجبوری تھی. وہ ان کے شوہر کی اولاد تھا. اُن کا اپنا کچھ نہیں تھا. وہ خود بھی اُس گھر میں ایک “آیا” کی حیثیت سے رہ رہیں تھیں. وہ تم سے بہت پیار کرتیں تھیں مگر سوتیلے بیٹے کو سب کچھ دینا اُن کی مجبوری تھی. ان کا یہی بہت بڑا احسان ہے انھوں نے ہمیں پالا ورنہ ماں باپ کے بغیر ہمارا کیا بنتا …….. ؟ ؟ عذرا کے لہجے میں ان کے لیے محبت بول رہی تھی. پالا عمران نے حقارت سے سر جھٹکا
ہم دونوں سرونٹ کواٹر میں رہتے تھے اور وہ اُس کے ساتھ کوٹھی میں عمران نے نفرت سے کہا
عمران تم اُن کی محنت اور محبت کو یوں برباد مت کرو. عذرا کو افسوس ہوا.
اچھا اگر بالفرض میں آپ کی تمام باتیں سچ مان بھی لوں جن پر مجھے یقین نہیں. تو کیا وہ اتنی مجبور تھیں کہ میرے میڈیکل کالج کی فیس بھی نہیں دے سکتیں تھیں.
میں کتنا لائق تھا کم از کم اُن کے سوتیلے بیٹے سے تو بہت زیادہ تھا مگر میں رہ گیا اور وہ امیر باپ کی اولاد باہر سے ڈاکٹر بن آیا. اگر وہ مجھے اس وقت فیس دے دیتیں تو میں بھی ڈاکٹر ہوتا.
میں نے کتنی بار کہا تھا کہ لوٹا دوں گا مگر نہیں اُنہیں مجھ پر اعتبار ہی نہیں تھا. اُن کی وجہ سے میں آج اس راہ پر ہوں جہاں کانٹے ہی کانٹے ہیں. آج میں بھی اُن کے شوہر جتنا امیر ہوں مگر عمران نے افسوس بھری نظر عذرا پر ڈالی.
وہ مجبور تھیں یاد نہیں جب رانا صاحب گھر نہیں ہوتے تھے تو وہ کیسے ہمارے ساتھ کھیلتی تھیں. ہم سے پوچھ پوچھ کر ہماری پسند کے کھانے بناتیں تھیں. عذرا نے عمران کے کندھے پر ہاتھ رکھا جیسے تسلی دینا چاہ رہی ہوں.
چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ وہ ہم سے محبت کرتیں تھیں. مگر جب ان کے ظالم شوہر نہ رہے تو وہ کیوں ہماری بجائے اپنے اس سوتیلے بیٹے پاس رہیں جبکہ میں نے کتنی منتیں کی تھیں کہ ہمارے ساتھ رہیں. ہمیں آپ کی ضرورت ہے.
یہ بھی چھوڑو. جب مجھے فیس جمع کرانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی تب میں نے دن رات کس کس کی منت نہیں کی تھی کہاں کہاں مانگنے نہیں گیا تھا. وہ سب دیکھ رہیں تھیں مگر یہی کہتی رہیں کہ “میرے پاس کچھ نہیں ہے اگر ہوتا تو تمہیں دے دیتی” عمران لمحے بھر کو رکا اور اپنی آنکھیں ملنے لگا
پھر اُس بیٹے کے لیے سب نکل آیا. یاد کریں عمران کی آواز میں ایک کرب تھا.
وہ سب اُس کی امانت تھی جو اُسکا باپ اس کے لیے چھوڑ گیا تھا وہ کیسے یتیم کا حق کھاتیں …..؟ ؟ عذرا نے آہستگی سے جواب دیا.
نہیں پیاری آپا ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سمجھتیں ہیں. دراصل وہ اُن آسائشوں کی عادی ہو گئیں تھیں جسے وہ چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں.
ہمارے ساتھ انھیں صبر کرنا پڑتا. فاقے کاٹنے پڑتے. جیسے ہم دونوں نے کاٹے. جبکہ اُس ساتھ وہ ایک آرام دہ زندگی گزار رہیں تھیں. مجھے اسی لیے عورت ذات سے نفرت ہے. مطلبی، خود غرض، پیسوں کی لالچی عمران نے حقارت سے کہتے اپنا چہرہ صاف کیا. جب اتنی نفرت کرتے ہو تو اُن کے لیے رو کیوں رہے ہو …… ؟؟ عذرا نے محبت سے بال سنوارے اُن کی بےوفائی پر روتا ہوں. ایک ہی رشتہ ہمارے حصے میں آیا تھا وہ بھی بے وفائی کی نظر ہو گیا. عمران کہتا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ صائمہ کمبل کے اندر دم بخود سب سن رہی تھی. اسے کیوں اور کہاں سے لائے ہو …..؟؟ عذرا نے نفرت سے بستر پر نظر مارتے ہوئے پوچھا میں اس وقت کسی بحث کی پوزیشن میں نہیں ہوں. یہ میرا ذاتی معاملہ ہے. عمران نے جان چھڑائی یہ بھی ایک بے وفا، لالچی اور خود غرض لڑکی ہے. میں تو مان ہی نہیں سکتی کہ اس کا ریپ ہوا ہو گا. یہ خود ہی چسکے لینے گئی ہو گی. عذرا کے الفاظ گویا پکھلا سیسہ تھے جو صائمہ کے کانوں میں پڑے.
بس کریں آپا کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے منہ سے سب سچ سچ نکل جائے اور سب سے زیادہ افسوس آپ کو ہو. عمران نے اپنی کنپٹی ملتے ہوئے خود کو نارمل کیا
یہ جو تم بار بار بات ادھوری چھوڑ جاتے ہو. آج مکمل کر ہی دو. عذرا کو شدید دکھ ہوا وہ اس سے ایک بازاری عورت کے لیے لڑ رہا تھا.
آپا اس کا ریپ کسی اور نے نہیں بلکہ آپ کے اس فرشتہ صفت شوہر نے کیا ہے اور ایسا ایک بار نہیں ہوا. انھیں اس چیز کا شوق ہے وہ ایسا کئی لڑکیوں ساتھ کر چکے ہیں. اسی لیے میں نے ان کا داخلہ آفس میں بند کر رکھا تھا.
ایک نمبر کا نشئی اور ریپسٹ ہے. اتنا گھٹیا انسان میں نے زندگی میں نہیں دیکھا. آپ سے شادی اس نے آپ کی محبت میں نہیں بلکہ میرے ساتھ کیے ایگریمنٹ کی وجہ سے کی ہے.
ہر مہینے وہ مجھ سے اچھی خاصی رقم لیتا ہے اور آپ نے پوچھا تھا ناااا کہ میں نے اس سے نکاح کیوں کیا …..؟؟ عمران نے بستر کی طرف اشارہ کرتے کہا
اس کی وجہ بھی آپ کا شوہر ہی تھا. اگر میں ایسے نہ کرتا تو وہ ریپ کے الزام میں جیل چلا جاتا. جو میں چاہتا نہیں تھا. میں آپ کا گھر بسانے کے چکر میں اس شخص سے تنگ آ گیا ہوں. کبھی کبھی تو سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے.
وہ ایک سفید ہاتھی ہے جو میں نے آپ کی وجہ سے پال رکھا ہے. پھر بھی آپ کو لگتا ہے کہ میں اس لڑکی کو جو زندگی میں پہلی بار مجھے اچھی لگنے لگی ہے آپ پر ترجیح دے رہا ہوں. عمران نے گلہ کیا جس پر عذرا اور صائمہ سکتہ میں آ گئیں دونوں کے لیے یہ انکشاف نئے تھے. اندھیرے نے سب کی لاج رکھ لی تھی.
عدیل ایسے نہیں ہو سکتے ….. ؟؟ کافی دیر بعد عذرا کی کمزور آواز سنائی دی جبکہ شدت غم سے وہ کانپنے لگیں تھی.
وہ ایسا ہی ہے. بلکہ اس سے بھی زیادہ زہریلا _ خیر آپ پریشان نہ ہوں اگر وہ آپ کو خوش رکھتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں. میں سوچ رہا تھا کیوں نااااا میں خود ہی گرفتاری دے دوں. تنہائی میسر ہوگی تو کچھ مجھے بھی سوچنے سمجھنے کا موقع ملے گا. دوسرا آپ سب کو بھی احساس ہو گا کہ میں کیا ہوں …..؟ ؟ عمران نے کہتے ہوئے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو سارا کمرہ روشنی میں نہا گیا. مگر عذرا پر نظر پڑتے اس کے ہوش اڑ گئے. وہ بلکل لٹھے کی طرح سفید پڑ رہیں تھیں. آپا، آپا عمران کے اس قدر زور سے پکارنے پر صائمہ نے فوراً کمبل سائیڈ پر کیا جبکہ عذرا، عمران کی بانہوں میں جھول گئی.
♣️♣️♣️♣️♣️
رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا جب ہلکی پھلکی کھٹ پھٹ سے اشمل کی آنکھ کھلی . آنکھوں کو مسلتے وہ اٹھ بیٹھی اور اردگرد کا جائزہ لینے لگی.
دادو آپ کو بھی آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ صرف میرے ہی کان بج رہے ہیں. اشمل نے نیند بھری آواز میں پوچھا
اسفند آیا ہوا ہے. وہی کچھ کر رہا ہو گا کیونکہ تیرے ہوتے ہوئے میں نہیں مانتی کہ کوئی ہوائی چیز ہو گی …..؟ ؟ دادو جو نیند نہ آنے کی وجہ سے تنگ تھیں چڑ کر بولیں. دادو کے جواب پر اشمل کی نیند بھنک سے اڑ گئی.
آپ کو کیسے پتہ …..؟؟ اشمل نے بستر سے نیچے اترتے ہوئے پوچھا
وہ آیا تھا. مجھے سلام کر کے گیا ہے. بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے. دادو کے جواب پر اشمل کو غصہ آنے لگا
میرا نہیں پوچھا (کمینہ، ذلیل دل میں کوستی باہر چل دی). آہستہ سا دروازہ اندر دھکیلا تو وہ سامنے ہی کھڑا اپنی الماری میں کچھ تلاش کر رہا تھا. اشمل دروازے ساتھ ہی ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی.
عجلت سے پلٹتے نظر اشمل پر پڑی جو خاصے رف حلیے میں تھی. بال بھی بےترتیب بکھرے تھے.
وہ اُس کی سرخ ہوتی آنکھوں سے نظریں ہٹاتا دوبادہ اپنے کام میں مگن ہو گیا. فائلیں، یو ایس بی اور نہ جانے کیا کیا تھا جو وہ ایک خاص ترتیب سے الماری میں سیٹ کر رہا تھا. تقریباً پندرہ منٹ کمرے میں دو نفوس ہونے کے باوجود بھی خاموشی چھائی رہی. دونوں ہی ایک دوسرے کی موجودگی کو بھرپور محسوس کرتے ہوئے انجان بن رہے تھے.
میرے میسج کا جواب کیوں نہیں دیا ……؟ ؟ بلآخر اشمل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا وہ اس سے زیادہ خاموش نہیں رہ سکتی تھی.
میں مصروف تھا اسفند نے بغیر دیکھے جواب دیا.
تو اب دے دیں کہ یہ تصویر کس کی ہے …….. ؟؟ اشمل کے سوال پر اسفند نے ایک نظر تصویر کی طرف دیکھا اشمل کو اُس کی آنکھوں میں اُن کے لیے محبت اور احترام دکھائی دیا جبکہ عمران کی آنکھوں میں محبت، احترام کے علاوہ ناراضگی اور غصہ بھی تھا.
تمہیں اچانک اس تصویر سے اتنی دلچسپی کیوں ہو گئی ہے ……. ؟؟
وہ اصل میں کل میرے اشمل عمران کا ذکر کرتے کرتے خاموش ہو گئی جبکہ اسفند نے اس کے اچانک خاموش ہونے پر اسے مڑ کر دیکھا
میری دوست پوچھ رہی تھی. اشمل نے اسفند کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
تمہاری دوست میرے کمرے میں کیا کر رہی تھی ……؟ ؟ اسفند کو کھٹکا ہوا.
تو اور کہاں بیٹھتی دوسرے کمرے میں دادو سو رہی تھیں. اشمل نے منہ بگاڑتے جواب دیا. پھر دوبارہ خاموشی چھا گئی.
پھر بتایا نہیں کس کی تصویر ہے …… ؟؟ اشمل کی سوئی وہاں ہی اٹکی ہوئی تھی.
جیسے دادو نے تمہیں پالا ہے بلکل ویسے ہی انھوں نے مجھے پالا تھا. اسفند نے محبت بھری نظروں سے تصویر کی طرف دیکھا
اب کہاں ہیں …..؟ ؟ اشمل کے دوسرے سوال پر اسفند اپنا کام چھوڑتا اشمل کی طرف چل دیا.
بڑی تحقیق ہو رہی ہے جو یقیناً تم اپنے لیے نہیں کر رہی ہو کس نے پوچھا ہے …….. ؟؟ اسفند نے اُس کے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
ویسے ہی پوچھا ہے. اِس کمرے میں اس تصویر کے سوا کچھ ایسا نہیں جس کے بارے میں بات کی جا سکے. نہیں بتانا چاہتے تو نہ سہی اشمل کندھے اچکاتی پلٹنے لگی تمہاری نظر کمزور ہے یا تم دیکھنا ہی نہیں چاہتی ورنہ یہ کمرہ جس کا ہے تم اُس کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتی مگر کبھی پوچھا نہیں. اسفند کہتے پلٹا چلیں پہلے اپنے بارے میں ہی بتا دیں. کیسے پیدا ہوئے …..؟؟ اشمل کا چہرہ بلکل سیریس جبکہ لہجہ شرارتی تھی اسفند افسوس بھری نظر مارتا دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گی. آپ ساتھ کیوں نہیں رہتیں …..؟ ؟ اشمل کو تجسس ہوا. تم جو میرے ساتھ ہو. اتنا کافی ہے. اسفند نے آہستہ سا جواب دیا. کیا کہا …..؟؟ اشمل چند قدم چلتی قریب آ گئی. اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں. اسفند کے لہجے میں دکھ تھا. اوووو ہو سیڈ اشمل نے افسوس کا اظہار کیا.
تمہارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو پہلے زخم کریدتے ہیں پھر مرہم لگاتے ہیں. اسفند کے جواب پر اشمل غصے سے پلٹ گی.
اگر تفتیش مکمل ہو گئی ہو تو کچھ کھانے کو لا دو. اشمل کو جاتا دیکھ کر اسفند نے پکارا.
مجھے میسج کریں پھر لا کر دوں گی ..؟؟ اشمل کہتی باہر جانے لگی تبھی آگے بڑھ کر اسفند نے اُس کا راستہ روکا.
تم بہت بتمیززز ہوتی جا رہی ہو. میں سمجھتا تھا کہ تم دکھوں کی ماری ایک مظلوم لڑکی ہو مگر میں غلط تھا. ہر بات کا بدلہ لینا کونسی انسانیت ہے وہ بھی تب جب سامنے والا شوہر ہو. اسفند کی بات پر اشمل سینے پر بازو لپیٹتے ہنسنے لگی.
میرے میسج کا جواب کیوں نہیں دیا تھا اور یہ نیلے ٹک چھپانے والی بےغیرتی مجھے زہر لگتی ہے. اگر اتنی ہی پریویسی عزیز ہے تو سوشل میڈیا استعمال نہ کریں. اشمل کے جواب پر اسفند نے سر نفی میں ہلایا.
پتہ نہیں دادو تمہارے ساتھ کیسے گزارا کرتیں ہیں. تم تو چند منٹوں میں میرا دماغ خراب کر دیتی ہو. محبت سے بات کرنا تو تمہیں ڈاکٹرز نے منع کر رکھا ہے. جاؤ میں خود ہی کچھ بنا لوں گا. ہاتھ سلامت ہیں. اسفند نے کہتے ہوئے ہلکا سا دھکا دیا تو وہ دیوار ساتھ جا لگی.
دادو ساتھ چند گھنٹے بیٹھ کر دیکھیں اگر آپ کا دماغ کام کر گیا تو کہنا. اشمل بڑبڑائی.
میری فائل کہاں رکھی ہے …..؟ ؟ اسفند کے سوال پر اشمل مسکرا دی.
آپ کی فائل تھی آپ کو پتہ ہو گی …… ؟؟ اشمل نے کندھے اچکائے
میں اُس دن شلف پر بھول گیا تھا. اسفند نے یاد دلایا
اچھااااااااااااا وہ وہ تو میں نے ردی میں دے دی ہے. کیااااااا …..؟ ؟ نا چاہتے ہوئے بھی اسفند کے منہ سے چیخ نکلی مجھے تھوڑا کہا تھا کہ سنبھال کر رکھنا. افسوس اب آپ سر عمران پر کیس کیسے کریں گے ….؟؟ اشمل نے ہمدردی کی. غدار ہمیشہ آپ کے اپنے ہوتے ہیں ورنہ بندہ ہار نہیں سکتا آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس فائل کی سوفٹ کاپی میرے کمپیوٹر میں بھی ہے.
ہاں ویسے بھی اُس فائل میں کچھ ایسا نہیں تھا جو سر عمران کو نقصان پہنچا سکے. اشمل کا سکون قابل دید تھا.
تم اُس کے بارے میں اتنا کیسے جانتی ہو. مجھے تو کبھی کبھی شک ہونے لگتا ہے. کیا رشتہ ہے تم دونوں میں …… ؟؟ اسفند جذبات میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا.
رشتے کا تو پتہ نہیں مگر قتل سر نے نہیں کیا اور جس نے کیا ہے اُسے میں سزا ہونے نہیں دوں گی. اشمل کی دھمکی پر اسفند طنزاً ہنسا
اشمل بی بی دیکھتی جاؤ میں کیسے تمہارے پیارے عمران کو پھانسی کے تختے پر پہنچاتا ہوں.
جب قتل ثابت ہو گا تب پھانسی ہو گی نااااا _ اتنی سی بات سمجھ نہیں آ رہی. خیر مجھے نیند آ رہی ہے. چلتی ہوں. شب بخیر
اشمل کہتی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ اسفند نے بے بسی سے دیوار پر ہاتھ مارا.
♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.
