Hadd Hi Kardi Humne Yaaran By Amna Mehmood Readelle50151

Hadd Hi Kardi Humne Yaaran By Amna Mehmood Readelle50151 Last updated: 17 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hadd Hi Kardi Humne Yaaran

By Amna Mehmood

سر یہ والی فائل ______؟؟؟ صائمہ نے ایک اور فائل عمران کے آگے رکھتے ہوئے پوچھا نہیں یہ نہیں ہے ____ عمران نے تقریباً چیختے ہوئے انکار کیا جس پر صائمہ ڈرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹی. کیا ہو گیا ہے ...... ؟؟ وہ ریٹ لسٹ والی فائل کہاں ہے. جس میں ہم پیکجز اور سروسس وغیرہ کے ڈاکومنٹس رکھتے ہیں اور وہ انکم ٹیکس والی بھی نظر نہیں آ رہی _____ عمران اس وقت بلکل آپے سے باہر ہو رہا تھا. اس کی سرخ آنکھیں اور سخت لہجہ صائمہ کو دکھ دے رہا تھا. سر وہ تو میں نے آپ کو پہلے ہی دے دی ہے مگر آپ _____ صائمہ کے منہ سے ابھی یہ الفاط نکلے ہی تھے کہ عمران نے انتہائی غصے سے صائمہ کا بازو دبوچتے ہوئے اسے اپنے سامنے کیا. کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ میرے سامنے زبان کم چلایا کرو. اگر میں کہہ رہا ہوں کہ فائل دو تو مطلب یہ ہے کہ ان فائلوں میں وہ فائل نہیں ہے. میں اندھا ہوں یا بکواس کر رہا ہوں. جب یہاں وہ فائل ہے ہی نہیں تو ______ عمران نے میز پر بڑی فائلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا جبکہ صائمہ کی آنکھیں چھلکنے کو تیار تھیں کیونکہ عمران کا لہجہ اور پکڑ کافی سخت تھی. سر وہ یہ فائل ______ صائمہ نے ہمت کرتے ہوئے فائلوں کے بیچ میں سے ایک فائل کھینچتے ہوئے باہر نکالی جسے دیکھتے ہی عمران نے فوراً صائمہ کا بازو چھوڑتے ہوئے اسے پکڑا. اس کے ساتھ ایک نیلے کور والی فائل بھی آپ کو دی تھی وہ کہاں ہے ....... ؟؟ اب کی بار عمران کا لہجہ نرم تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو. سر وہ آپ نے لاکر میں رکھی تھی. صائمہ نے نم آواز میں جواب دیا طبیعت تو اس کی رات سے ہی خراب تھی اس پر عمران کا رویہ مزید دکھ دے گیا تھا. آپ ایسا کریں دو فائلز بنائیں ان فائلوں کی جگہ پر، اس ڈیٹا کے مطابق جو میں آپ کو دینے لگا ہوں. یہاں بیٹھیں _____ عمران نے اپنی چئیر سے اٹھتے ہوئے صائمہ کے لیے جگہ خالی کی. جی سر _____ صائمہ ہچکچاتے ہوئے چئیر پر بیٹھ گئی جب کہ عمران چئیر ساتھ ہی ٹیک لگائے اسے بتانے لگا صائمہ کے لیے عمران کی قربت ایک امتحان تھی. اس کے وجود سے اٹھتی خوشبو صائمہ کے سر میں درد کی وجہ بن رہی تھی. اسے خوشبو سے الرجی تھی. پر وہ یہ بات عمران سے کہہ نہیں سکتی تھی. لہٰذا چپ چاپ کمپیوٹر پر فائل بنانے لگی. فائل یوں بنائیے گا کہ کوئی پکڑ نہ سکے. مجھے آپ پر اعتماد ہے. بس غلطی کی گنجائش نہیں چھوڑیے گا. ڈاکومنٹس بلکل اصلی لگنے چاہیے _____ عمران ڈیٹا بتانے کے ساتھ ساتھ ہدایات بھی دے رہا تھا. جبکہ صائمہ کی انگلیاں تیز تیز keypad پر حرکت کر رہیں تھیں. تقریباً ایک گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد عمران نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے سکھ کا سانس لیا اور انٹر کام پر کافی لانے کا کہا اب ان تمام ڈاکومنٹس کے پرنٹ آؤٹ لے کر فائلز رینک میں رکھ دیں. اصلی فائلز نظر نہیں آنی چاہیے. عمران کے کہنے پر صائمہ پرنٹ لینے کے لیے ٹرے لوڈ کرنے لگی. ڈرائیور کو کیوں بھیجا تھا .....؟؟ عمران کے سوال پر صائمہ کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکا پھر وہ دوبارہ پرنٹ لیتی فائلیں سمیٹنے لگی. میں نے کچھ پوچھا ہے ....؟؟ اپنے سوال کا جواب نہ پاتے ہوئے عمران نے اپنا سوال دہرایا جبکہ نظریں صائمہ کے چہرے پر جمیں تھیں. سر مجھے اب اس کی ضرورت نہیں رہی ______ صائمہ کے سرگوشی نما جواب کو عمران نے باخوبی سنا. سوری مجھے سمجھ نہیں آئی دوبارہ دہرا دیں. عمران نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا تبھی نوکر کافی کی ٹرے لیے اندر داخل ہوا. صائمہ نے فائلیں سمیٹتے ہوئے چئیر سے اٹھنا چاہا مگر عمران نے چئیر کے آگے کھڑے ہوتے ہوئے میز ساتھ ٹیک لگائی اور صائمہ کے جانے کا راستہ روکا. سر مجھے اب ڈرائیور کی ضرورت نہیں رہی. صائمہ نے اپنے جزبات پر قابو پاتے ہوئے مضبوط لہجہ میں کہا آپ کو پہلے بھی ڈرائیو کی ضرورت نہیں تھی. یہ گاڑی اور ڈرائیور میں نے آپ کو اپنی ضرورت کے لیے دیا ہے. آپ کی ضرورت کے لیے نہیں. لہٰذا اسے آئندہ کچھ بھی مت کہنا وہ آپ کے حکم کا پابند نہیں. عمران کی باتیں صائمہ نے سر جھکا کر سنی اس کے علاوہ چارا بھی نہیں تھا. طبیعت کو کیا ہوا ہے ...... ؟؟ عمران نے میز پر پڑے دو کافی کپ میں سے ایک کو اٹھاتے ہوئے پوچھا کچھ نہیں ______ جبکہ دشمن جان کی اتنی سی بات پر وہ اپنا حال دل سنانے کو بےتاب تھی. اچھااااااااااااا جی تو فون پر کیوں کہا تھا کہ طبیعت خراب ہے ...... ؟؟ عمران نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا سر پلیزززز ______ صائمہ نے عمران کے پاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو چئیر کو روکے ہوئے تھا. مجھے آپ کے رویے کی سمجھ نہیں آ رہی مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ آپ ایک اچھی لڑکی ہیں اپنا خیال رکھا کریں. آپ کی سوجھی ہوئیں آنکھیں، افسردہ سی شکل اور بھاری نم آواز ______ مجھے اچھی نہیں لگ رہی. آپ خیال رکھا کریں صرف اور صرف اپنے لیے ____ عمران نے خالی کپ میز پر رکھتے ہوئے اپنا پاؤں چئیر کے عیل سے ہٹا کر صائمہ کو راستہ دیا. اچھی لڑکی اور میں _____ سر مذاق کر رہے ہیں یا طنز ...... ؟؟ صائمہ نے عمران کے مد مقابل کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا دونوں کے درمیان فاصلہ بھی بہت کم تھا. میرے خیال سے اچھی لڑکی آپ جیسی ہی ہوتی ہے. عمران نے کہتے ہوئے کندھے اچکائے تو صائمہ مسکرا دی. میں جاؤں ____ صائمہ کے سوال پر عمران اسے راستہ دیتا سائیڈ پر ہو گیا. اگر میں اچھی لڑکی ہوتی تو یہاں نہ ہوتی یا پھر کم از کم اس حال میں نہ ہوتی ____ عمران جو صائمہ کے جاتے ہی کرسی پر بیٹھنے لگا تھا اس کی آواز پر چونکا کیا کہنا چاہتی ہیں ..... ؟؟ اگر آپ سوچ رہی ہیں کہ میں اپنے سخت رویے کی آپ سے معافی مانگو گا تو سوری مجھے اس چیز کی عادت نہیں ہے. یہاں آپ غلط ہیں یا غلط بندے سے ٹکرا گئیں ہیں. عمران نے اپنی دونوں کہنیاں میز پر رکھتے ہوئے صائمہ کی طرف دیکھا کاش آپ واقعی ہی سمجھتے کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں مگر _____ صائمہ سر نفی میں ہلاتے باہر نکل گئی جبکہ عنران پر سوچ انداز میں بند دروازے کو دیکھنے لگا ♣️♣️♣️♣️♣️