80.4K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

تم نے مجھے اپنے آفس سے نکال کر اچھا نہیں کیا. اب تمہیں اس کا جواب مجھے نہیں بلکہ اپنی باجی کو دینا ہو گا …….. ؟؟ عدیل نے عمران کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا
میں فلحال کسی بحث کے موڈ میں نہیں اور نہ ہی کسی سے ڈرتا ہوں. میرے ہی گھر میں رہ کر، میرا ہی دیا کھا کر، مجھے دھمکی دے رہے. انٹرسٹنگ عمران نے چھری کانٹے ساتھ کباب کاٹتے ہوئے کہا
اور رہی بات ڈرنے کی تو میں کسی سے نہیں ڈرتا. میں اپنی باجی کو آپ سے زیادہ بہتر جانتا ہوں. آپ انہیں بے وقوف بنا سکتے ہیں مگر مجھے نہیں _ عمران نے چاولوں بھرا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے جواب دیا میں تمہاری باجی کو بیوقوف نہیں بناتا بلکہ وہ مجھ پر اعتماد کرتی ہیں. عدیل نے فخر سے اپنی گردن اکڑ آتے ہوئے کہا اگر آپ کے کالے کرتوت اور شوق انہیں پتہ چل جاۓ تو وہ ایک لمحے میں آپ کو سڑک پر پھینک دیں. مجھے بلیک میل کرنے کی بجائے اپنی فکر کریں اور یہ حرکتیں چھوڑ دیں. عمران نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے جواب دیا جس پر عدیل کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے. دیکھو عمران تم میرے چھوٹے بھائی ہو اور میں تمہارا بڑا بہنوئی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا کزن بھی ہوں. میری عزت کا خیال رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے. تم ان دو ٹکے کی لڑکیوں کو مجھ پہ فوقیت دیتے ہو تو مجھے بہت برا لگتا ہے ورنہ میں تمہیں بہت پیار کرتا ہوں. عدیل اس بار دوستانہ لہجے میں مخاطب ہوا. جبکہ عمران نے نپکن سے اپنا منہ صاف کرتے ہوئے سر ہلایا. میں چھوٹا ہوں مگر آپ میں کوئی بڑے بھائی والی بات ہے ہی نہیں _ دوسرا آپ کو بہنوئی اور کزن سمجھ کر ہی آپ کا ساتھ دیتا ہوں اور آپ کے کالے کرتوت چھپاتا ہوں اور آخری بات وہ دو ٹکے کی لڑکیاں میرے سٹاف کا حصہ ہیں اور میں اپنے سٹاف ساتھ بدتمیزی برداشت نہیں کر سکتا.
آگے آپ کی وجہ سے ہی صائمہ نامی ڈھول مجھے اپنے گلے میں لٹکانا پڑا ہے. آپ کو تو یاد ہی ہو گا کہ میں نے اس ساتھ نکاح کیوں کیا تھا اگر یاد نہیں تو میں دہرا دیتا ہوں ………. ؟؟عمران نے قدر بلند آواز میں کہا تو عدیل نے گبھرا کر ادھر ادھر دیکھا.
عمران یار آہستہ بات کر کہیں تیری باجی نہ سن لیں. ہم تو دوست ہیں اور دوستوں میں سب چلتا ہے. عدیل نے گھبراتے ہوئے لجاجت سے کہا
آپ کو میرے ساتھ کوئی ذاتی کام ہو تو کال کر لیا کریں. مگر آفس میں نہ آیا کریں. بات سمجھنے کی کوشش کریں. آجکل میں ایف بی آر والوں کی نظروں میں ہوں. میں نہیں چاہتا کہ کوئی غلطی کروں. عمران نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اپنا کوٹ پہنا.
تم صائمہ کو کب تک طلاق دے رہے ہو ……. ؟؟ عدیل نے نظریں چراتے ہوئے پوچھا
آپ کو اس سے مطلب ………… ؟؟ عمران نے کوٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا
دیکھو اب تو کیس بھی ختم ہوگیا ہے. خوامخواہ تم نے اس کچرے کے ڈھیر کو اپنے گلے کا ہار بنایا ہوا ہے. مجھے تمہارے لیے اچھا نہیں لگتا. عدیل کے کہنے پر عمران اپنا وائلٹ اور موبائل میز سے اٹھنے لگا
یہ کچرہ آپ کا ہی ڈالا ہوا ہے جسے میں صاف کر رہا ہوں اور مہربانی فرما کر آپ مزید گند مت ڈالیے گا. عمران نے موبائل پر کسی کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے وارن کیا.
اچھا اب میں کچھ نہیں کرتا مگر …….. ؟؟ عدیل نے اپنے کانوں کی لو پر خارش کی
مگر کیا ………. ؟؟ عمران نے چونک کر موبائل کان سے ہٹاتے ہوئے پوچھا
مگر یہ کہ مجھے بھی مال چاہیے عدیل کے چہرے پر بھرپور خباثت تھی.
آپ چندا بائی کے کوٹھے پر چلے جائیں بہت ملے گا اور بل میرے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیجیے گا. اب خوش
میرے لئے پریشانیاں پیدا نہ کریں. آج کل میں ویسے بھی بہت پریشان ہوں. بزنس بالکل رک گیا ہے اس ایف بی آر کے چکر میں عمران نے عدیل کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا جس پر عدیل منہ بنانے لگا
اب کیا ہے ……….. ؟؟ عمران نے عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے اکتاہٹ سے پوچھا
مجھے صائمہ چاہیے میں نے اپنا بدلہ لینا ہے
جیسے ہی عدیل کے منہ سے صائمہ کا لفظ نکلا عمران کے تاثرات یک دم تبدیل ہوئے
ابھی وہ میرے نکاح میں ہے اس لیے بات ذرا سوچ سمجھ کر کریں عمران کا لہجہ شدت بھرا تھا.
تم تو خوامخواہ ناراض ہو رہے ہو. میرا مطلب تھا کہ
عدیل نے عمران کی ناراضگی بھانپتے ہوئے بات بدلی.
میں آپ کا مطلب بخوبی سمجھتا ہوں مگر آپ اس وقت میری بات کو سمجھیں. میں اپنی جرابیں تک کسی کو نہیں دیتا وہ تو پھر میری منکوحہ ہے. عمران کی وارننگ دیتی آنکھیں عدیل کو بہت کچھ باور کروا گئیں.
آج کل ہمارا گیسٹ ہاؤسس کی ایکٹیویٹیز بالکل ختم ہیں. آپ ایسا کریں کچھ دنوں کے لیے وہاں چلے جائیں. جیسے ہی یہاں ماحول ساز گار ہو گا میں آپ کو اطلاع کر دوں گا. عمران نے آپ کی بات دوبارہ موبائل پر کسی کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے کہا
لڑکیوں کا کیا کرنا ہے ………. ؟؟ عدیل نے سر ہلاتے ہوئے پوچھا
پرانی لڑکیاں تو میں نے چندہ بائی کے کوٹھے پر بھیج دی ہیں اور نیا مال ابھی تک سٹور میں ہی ہے. جب تک حالات سازگار نہیں ہو جاتے تب تک وہیں رہیں گی. عمران کی بات پر عدیل نے سر ہلایا
تم اس افسر کا کیا نام ہے اس کا ہاں یاد آیا اسفند اس کا تبادلہ کیوں نہیں کروا دیتے. کچھ لے کر کام ختم کرو. عدیل کی بات پر عمران طنزیہ مسکرایا
آپ کروا دیں اگر کروا سکتے ہیں تو
میرے سے تو نہیں ہورہا. عمران نے سوالیہ نظروں سے عدیل کی طرف دیکھا تو وہ کھسیانا سا مسکرانے لگا
عدیل بھائی میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں امید ہے کہ یہ افسر ادھر ادھر ہو جائے گا کیونکہ اس کمینے کی وجہ سے میرا آگے ہی بہت نقصان ہو گیا ہے.
دسمبر کا مہینہ ہمارے بزنس کے لیے بہت اہم ہوتا ہے. اوپر سے نیا سال بھی شروع ہو رہا ہے تو نیو ایئر نائٹس اور پروگرامز ہم سارا سال اتنا نہیں کماتے جتنا ان دو مہینوں میں کماتے ہیں مگر اس افسر نے سب کچھ خراب کر دیا ہے.
اگر وہ آرام سے نہ سمجھا اور اس کے سینیئرز بھی ہمارے کام نہ آئے تو
عمران نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے دونوں انگلیوں سے گن کا اشارہ کیا جس پر دونوں ہنس پڑے
چلو ٹھیک ہے. یہ بھی ٹھیک ہے میں پھر اپنے گیسٹ ہاؤسس کی طرف جاتا ہوں. عدیل کہتا ہوا جانے لگا
جی بلکل آپ ادھر توجہ دیں میرے آفس کی طرف نہیں عمران نے فون کان ساتھ لگاتے ہوئے کہا اور خود گیراج کی طرف چل پڑا.
♣️♣️♣️♣️♣️
تم آج آفس نہیں جاؤ گی ………. ؟؟ سدرہ نے یونی کے لئے تیار ہوتے ہوئے کمبل میں جاگتی لیٹی صائمہ سے پوچھا
نہیں آج میرا دل نہیں چاہ رہا
صائمہ نے ہلکا سا جواب دیتے کروٹ بدلی.
تمہیں بخار ہے. تمہاری آواز کیوں تبدیل ہو رہی ہے …….. ؟؟ سدرہ کو اس کی فکر ہوئی.
کچھ بھی نہیں ہے بس رات دیر تک جاگتی رہی ہوں تو سر بھاری ہو رہا ہے. صائمہ نے جمائی روکتے ہوئے جواب دیا
میں تمہاری آواز کی بات کر رہی ہوں سر کی نہیں سدرہ نے غصہ کیا تو صائمہ ہنس دی.
اگر جانا ہے تو میں تمہارا انتظار کر سکتی ہوں ……. ؟؟ سدرہ نے بال بناتے ہوئے پوچھا
نہیں تم جاؤ میرا فی الحال دل نہیں کر رہا اگر کیا تو میں کیپ لے کر چلی جاؤں گی
صائمہ کے جواب پر سدرہ نے حیرانگی سے مڑتے ہوئے صائمہ کی طرف دیکھا
کیپ پر کیوں جاؤ گی تمہاری پراڈو کہاں ہے. رات تو پارکنگ میں ہی موجود تھی ……….. ؟؟ سدرہ کا انداز سوالیہ تھا.
میں نے ڈرائیور کو جانے کا کہہ دیا تھا وہ یقینا چلا گیا ہوگا صائمہ کہتی ہوئی اٹھ کر بیٹھ گئی.
عمران کو اس بات کا پتہ ہے ………. ؟؟ سدرہ ابھی تک بے یقینی تھی.
ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ بے خبر ہو.ڈرائیور اسے میرے پل پل کی خبر دیتا ہے مگر اب وہ بے خبر بن جائے گا جیسے اسے میرے بارے میں کچھ معلوم ہی نہ ہو
صائمہ نے پاؤں میں سلیپر پہنتے ہوئے دکھ سے کہا
صائمہ اداس مت ہو. اللہ اچھا کرے گا. مایوسی گناہ ہے. سدرہ نے صائمہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تسلی دی. جو رت جگے سے لال ہو رہی تھیں.
پھر اس کی نظر گھڑی کی طرف گئی صائمہ کو گلے لگایا اور جلدی سے خداحافظ کہتی کمرے سے باہر چلی گئی. اس سے پہلے کے صائمہ بھی باتھ روم کا رخ کرتی اس کا موبائل بجنھ لگا مرے قدموں سے اس نے اپنا فون اٹھایا اور اوپر چمکتے نام کو دیکھ کر ایک سرد آہ بھری.
جی سر صائمہ چاہ کر بھی کال کاٹ نہ سکی.
آپ ابھی تک آفس نہیں آئیں. فوراً پہنچیں. عمران جلد بازی میں تھا.
سر آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے. میں نہیں آ سکوں گی. صائمہ نے بمشکل اپنے آنسو کا گلا گھونٹتے ہوئے معذرت کی جبکہ دل اسے دیکھنے کو تڑپ رہا تھا.
مس صائمہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے ہاں البتہ نیت کا میں کچھ کہہ نہیں سکتا. مجھے اس وقت بہت ضروری ڈیٹا چاہیے جو صرف آپ نکال کر دے سکتی ہیں.
اگر اس وقت آپ نے مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو سوچ لیں کہ میں آپ کو کتنا تنگ کر سکتا ہوں ……… ؟؟
آپ کی بہت سی حساس ویڈیوز میرے پاس ہیں. لہذا چپ چاپ آفس آئیں. باہر پراڈو کھڑی ہے اور آئندہ میری اجازت کے بغیر اسے جانے کا مت کہئے گا. عمران نے دھمکی آمیز لہجے میں کہتے ہوئے کال بند کر دی جبکہ صائمہ اپنی جگہ سن سی کھڑی تھی.
ویڈیوز تو ڈیلیٹ کر دی تھیں. پھر یہ کس ویڈیو کی بات کر رہے تھے کہیں …….. ؟؟ صائمہ اپنا سر تھام لیتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی
میں کیسے بھول گئی کہ یہ شخص اپنے سینے میں دل نہیں رکھتا. ہمدردی اور محبت جیسے جذبے تو دل میں ہوتے ہیں _
کچھ موتی آنکھوں سے ٹوٹ کر دامن میں گرے.
محبت اپنی جگہ مگر میں کبھی تمہیں معاف نہیں کروں گی کبھی بھی نہیں صائمہ نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیے اور تیار ہونے کے لئے الماری سے کپڑے نکالنے لگی تبھی اسے اشمل کا خیال آیا
ابھی تک اشمم بھی نہیں آئی مگر کیوں ……… ؟؟ گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے صائمہ نے پریشانی سے سوچا
♣️♣️♣️♣️♣️
سر اگر میں آپ کی کوئی مدد کر سکوں تو بتائیں ……… ؟؟ اشمل نے عمران کو بری طرح فائلوں میں گھسا دیکھ کر پوچھا
نہیں آپ جائیں اور جب مس صائمہ آ جائیں تو انہیں فوراً اندر بھیج دیں عمران کا ہاتھ تیزی سے فائلوں کے ورق الٹ رہا تھا.
سر آپ نے یہ فائلیں خود بنائی تھیں ……؟ ؟ اشمل نے عمران کے سامنے پڑی فائلوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ہمممممم عمران نے بس سر ہلایا.
تو پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں کیا ہے اور کہاں ہے. مس صائمہ کا کیوں انتظار کر رہے ہیں ……. ؟؟ اشمل کے اگلے سوال پر عمران نے ایک لمحے کے لیے رک کر اس کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی.
مس اشمل ابھی آپ نئی ہیں اور میری ذاتی خواہش ہے کہ آپ نئی ہی رہیں. عمران کے جملے اور نظروں میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ اشمل کو اپنے اردگرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہوئی سنائی دیں.
سر آپ قانونی کام ہی کرتے ہیں ناااااااا اشمل نے اب کی بار آہستہ آواز میں پوچھا ساتھ ہی اسے اپنی رونگ کال بھی یاد آ گئی تھی.
مس اشمل آپ نے کبھی تھانہ اور کچہری دیکھی ہے ……. ؟؟ عمران نے اب کی بار ریلیکس انداز میں کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے سوال پوچھا
نہیں سر اشمل نے کندھے اچکائے
وہاں پر بھی قانون نہیں ہوتا تو پھر یہاں کیسے ہوگا سوچیں ………. ؟؟ عمران اب پن کو اپنے ہاتھوں میں گھماتے ہوئے اشمل کو دیکھ رہا تھا جس پر اشمل تھوڑی سی کنفیوز ہوئی.
تو پھر یہ ایف بی آر کا افسران کیوں ہیں ……. ؟؟ اشمل کے سوال پر عمران نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا
ایف بی آر کے افسران تو کوٹھے پر بھی جاتے ہیں اب آپ پوچھیں گی کہ وہاں کیوں جاتے ہیں …….. ؟؟ عمران اب اش کو زچ کر رہا تھا
مگر یہ آفس ہے کوٹھا نہیں …….. ؟؟ اشمل کا تجسس ہنوز قائم تھا
مس اشمل آفس بھی ایک کوٹھا ہی ہوتا ہے اورم یرے خیال سے ہر ورکنگ وومن ایک طوائف جیسی ہوتی ہے. وہ اپنا آپ بیچتی ہے اپنے کام کے نام پر عمران کی نظریں اشمل کے چہرے پر جمی تھی
سوری سر مگر میرا یہ خیال نہیں اگر ہر عورت طوائف ہوتی تو یہ معاشرہ بگڑ گیا ہوتا. اشمل کی بات پر عمران ہنستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
ہر عورت اپنے من پسند شخص کے لیے طوائف بن جاتی ہے اگر کہیں تو مثال دوں …….. ؟؟ عمران چلتا ہوا اشمل کے قریب کھڑا ہو گیا جس پر اس نے سر اٹھا کے حیرانگی سے دیکھا
سر اگر آپ مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں تو میں آپ کو ایک بات بتا دوں میں مس صائمہ یا اس آفس میں کام کرنے والی دوسری لڑکیوں جیسی نہیں ہوں میرے ساتھ آپ کا تجربہ خاصہ دلچسپ رہے گا کیونکہ مجھے طوائف بننے پر کبھی بھی اعتراض نہیں رہا اشمل نے کھڑے ہوتے ہوئے عمران کی طرف دیکھا
مطلب ……… ؟؟ عمران کے تاثرات یک دم تبدیل ہوئے وہ تو اشمل سے رونے دھونے کی امید کر رہا تھا.
مطلب یہ کہ میرا اصول ہے کہ اگر کوئی عزت دے تو اسے اور عزت دو اور اگر کوئی عزت نہ دے تو اس کی عزت بھی چھین لو یعنی جب کوئی مجھے طوائف بننے پر مجبور کرے گا تو میں اس کا وہ حشر کروں گی جو کوٹھے پر آنے والے تماش بینوں کا ہوتا ہے. وہ لٹ جائے گا ایک طوائف کی اپنی تو عزت ہوتی نہیں وہ ساتھ والے کو بھی ننگا کر دیتی ہے.
سر یاد رکھیں عورت صرف تب تک ڈرتی ہے جب تک اس کی عزت محفوظ ہوتی ہے اور جیسے ہی اس کی عزت ختم ہو وہ سب ختم کر دیتی ہے یعنی وہ اپنی گندگی میں شریف لوگوں کو بھی لپیٹ لیتی ہے
اشمل کے اعتماد پر پہلی بار عمران کھل کر مسکرایا.
ارے واہ تم تو کمال کی لڑکی ہو. میں تو تمہیں چھوٹا سا سمجھ رہا تھا مگر عمران داد دینے والے انداز میں دوبارہ اپنی کرسی پر آ بیٹھا.
آج مجھے ایک بہت ضروری کام ہے پھر کسی دن تمہارے ساتھ میٹنگ کروں گا تفصیل سے اور مجھے یقین ہے کہ بقول تمہارے میرا تجربہ بہت دلچسپ رہے گا عمران کہتا ہوا دوبارہ فائلوں پر جھک گیا
مجھے انتظار رہے گا اشمل کہتی ہوئی روم سے باہر چلی گئی
♣️♣️♣️♣️♣️
سر میرے خیال سے ایک ہلکا پھلکا سا چھاپہ تو ان لوگوں کے آفس میں پڑنا چاہیے. اس طرح وہ ڈر جائیں گے اور ڈرنے کی وجہ سے وہ ضرور غلطی کریں گے اور ہمیں ان کی غلطی کا ہی انتظار ہے. اسفند کی رائے پر سلمان صاحب نے سر ہلایا اور ارحم کی طرف دیکھا
سر مجھے کیا دیکھ رہے ہیں اگر یہ جناب مطمئن ہے تو ٹھیک ہے ارحم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا.
چھاپے کی وجہ کیا بتاؤ گے ……. ؟؟ سلیمان صاحب نے ارحم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
فراڈ
لوگوں کے ساتھ جگہ کا فراڈ _ ارحم کی بجائے اسفند نے فورا جواب دیا شاباش مجھے تم سے یہی امید تھی. میں ایس پی قاسم کو فون کر دیتا ہوں. وہ تم لوگوں کی مکمل مدد کریں گے. سلمان صاحب کی بات پر اسفند نے چونک کر انہیں دیکھا سر آپ بس ایک پولیس وین کا بندوبست کردیں مگر چھاپہ کہاں مارنا ہے یہ انہیں مت بتائے گا کیونکہ کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں کوئی بھی انہیں خبردار کر سکتا ہے. اسفند نے وضاحت کردی لیڈ کون کرے گا ……. ؟؟ سلمان صاحب نے اسفند کی طرف دیکھا جو ارحم کو دیکھ رہا تھا. سوری سر یہ شخص ہر بات مجھے ہی قربانی کا بکرا بناتا ہے اس بار میں نہیں بنوں گا. اارحم نے ہاتھ کھڑے کیے. ارحممممممممم اسفند کی آواز پر ارحم نے زور سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کانوں میں انگلیاں لے لیں.
مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا قسم سے __
ارحم کی ایکٹنگ پر سلمان صاحب مسکرا دیئے جبکہ اسفند نفی میں سر ہلاتا باہر نکل گیا.
مت تنگ کیا کرو. اس کی بات مان لیا کرو. اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے. سلمان صاحب کے کہنے پر ارحم نے کندھے اچکائے.
اس شخص کو میں نے ہی تنگ کرنا ہے بیوی تو یہ لانے سے رہا. زرا شغل لگا رہتا ہے. ارحم سلام کرتا اسفند کے پیچھے چل دیا.
♣️♣️♣️♣️♣️♣️
جاری ہے.