265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 9)

Fatoor E Man By Isra Rao

“بھائی یہ” ہ سوالیہ نظروں سے رامس کو دیکھ رہی تھی۔۔

“اسے اندر لے کر چلو پھر بتاتا ہوں” رامس نے آگے سے ہٹتے ہوئے کہا

وہ اسے تھامتے اندر لے جانے لگی۔۔

اور رامس کا گھبراہٹ سے برا حال تھا۔۔

“یہ کون ہے؟” اماں نے اندر آتے انہیں دیکھا تو پوچھا۔۔

“رامس یہ کون ہے؟” اس نے اسے دیکھا

“اماں میں نے اس سے شادی کرلی ہے” رامس نے ہمت مجمع کرتے ہوئے کہا

“کیا؟ ” وہ حیران ہوئی۔۔

“رائنہ اسے اندر لے کر جاؤ یار” اس نے اکتاہٹ سے کہا

وہ اسے اندر لے کر چلی گئی۔۔

“کیا کہ رہا ہے تو کون ہے یہ؟” اماں نے غصہ سے پوچھا۔۔

“اماں میں نے شادی کرلی۔۔” اس نے کہا

“ہاں بس یہی دن دیکھنے باقی رہ گئے تھے۔۔نا پوچھا نا بتایا۔۔دلہن لا کر بٹھا دی۔۔” وہ غصہ سے کہنے لگی۔۔

“اماں میری بات تو سنیں” رامس قریب آیا

“نہیں ہماری کوئی عزت اور اہمیت نہیں ۔۔ سارے فیصلے خود ہی کرلیے۔۔شادی میں شامل تک نہیں کیا اس نے” وہ تلخی سے بولی۔۔

“ارے اماں آپ میری بات سنیں۔۔بیٹھیں میں سب بتاتا ہوں” رامس نے انہیں شانوں سے تھامتے ہوئے بٹھایا۔۔

اور انہیں ساری صورتحال بتانے لگا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“آپ یہاں بیٹھ جائیں” رائنہ نے اسے بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا

“کچھ چاہیے آپ کو؟” رائنہ نے پوچھا۔۔

اس نے فوراً چادر اتاری اور ہوا میں گہرا سانس خارج کیا۔۔

رائنہ اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔

“میں نے کہیں دیکھا ہے اسے” وہ سوچنے لگی۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں آپ۔۔؟” وہ اس نے نظروں کی تپش محسوس کرتے ہوئے بولی۔۔

اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔

“ایک گلاس پانی لا دیں پلیز” اس نے نارمل ہوتے ہوئے کہا۔۔

“جی” وہ کہتی باہر چلی گئی۔۔

اور وہ کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔

کمرا کوئی سجا ہوا نہیں تھا البتہ صاف ستھرا تھا۔۔

نا ہی بہت بڑا تھا۔۔اس کے کمرے کی طرح۔۔

“اتنا چھوٹا کمرہ” اس نے منہ بنایا۔۔

“یہ بابا جانی نے کس سے شادی کردی میری؟” وہ بڑبڑائی۔۔

پھر کچھ سوچ کر مسکرائی۔۔

“میرے بابا تو خوش ہیں نا میرے لیے کافی ہے” وہ خود کلامی کرنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

جب وہ کمرے میں آیا تو وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔

وہ یک دم سیدھی ہوکر بیٹھی۔۔

“آپ؟” وہ اسے دیکھ کر چونکی

“آپ؟” وہ بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگا

“آپ سے شادی ہوئی ہے میری؟” وہ لہنگا سمبھالتی کھڑی ہوئی۔۔

“ظاہر ہے آپ میرے روم میں بیٹھی ہیں” وہ مسکرا کر کہا

“آپ تو اسلام آباد میں تھے” وہ پوچھنے لگی۔۔

“وہ تو میں کام سے گیا تھا۔۔” اس نے بیڈ پر بیٹھ کر جوتے اتارتے ہوئے کہا۔۔

“میرے بابا آپ کو کیسے جانتے ہیں؟” اس نے پھر سوال کیا

“ان کی فیکٹری میں جاب کرتا ہوں میں” اس نے کھڑے ہوکر کہا

“تو آپ میں میرے بابا جانی کو کیا نظر آگیا ایسا؟” اس نے فوراً کہا

“یہ تو انہیں سے پوچھیں آپ” اس نے وارڈ روب کے طرف جاتے ہوئے کہا

اور وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔

وہ کپڑے نکال کر واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔

اور وہ ماتھے پر بل ڈالے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں جب وہ نکلا تو۔۔وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔

“ایسے کیوں بیٹھی ہو؟” اس نے سوال کیا

طلعت نے فوراً نظر اٹھا کر اسے دیکھا

وہ چل کر قریب آیا۔۔

“ویسے مجھے پتا نہیں تھا میری شادی آپ سے ہو رہی ہے” رامس نے مسکرا کر کہا

“کیامطلب؟” اس نے حیرت سے پوچھا

“کچھ نہیں۔۔۔” وہ نظریں چراتے کہنے لگا

“ابھی تو میں سو رہا ہوں رات کافی ہوگئی۔۔صبح آپ کو ڈیٹیل میں بتاؤں گا مطلب” اس نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا

طلعت اسے دیکھ سمٹی۔۔

“اور میں کہاں جاؤں؟” اس نے پوچھا

“کیا مطلب” اس نے لیٹتے ہوئے کہا

“مطلب میں۔۔۔ کسی مرد پر بھروسہ نہیں کرتی” اس نے کہا

“میں شوہر ہوں آپ کا اب۔۔چاہو یا نا چاہو بھروسہ تو کرنا پڑے گا۔۔” اس نے آنکھیں موندی

وہ ناگواری سے اسے گھورتی۔۔ اٹھی اور چینج کرنے چلی گئی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

فجر کے وقت جب وہ سو کر اٹھا تو اس نے دیکھا۔۔

وہ صوفے پر سو رہی تھی۔۔

اسے دیکھ وہ مسکرایا۔۔

اور نماز کی غرض سے مسجد کی جانب چل نکلا۔۔

نماز ادا کی۔۔

“یا پروردگار تو نے مجھے بنا مانگے سب دے دیا۔۔۔

میں جسے مانگتے ہوئے بھی ہچکچا رہا تھا تو نے بنا مانگے میری جھولی میں ڈال دیا۔۔ہاں میں اسی لڑکی کے ہمیشہ سے سپنے دیکھتا رہا مگر میں تو کبھی سوچا نہیں تھا یہ مجھے یوں مل جائے گی۔۔بے شک تو دلوں کے حال جانتا ہے۔۔۔

تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے یارب اس تحفہ کے لیے۔۔بس مجھے اس قابل بنا دے کہ میں اس کو ہر خوشی دے سکوں۔۔” اس نے دعا کی۔۔

وہ آج بہت خوش تھا۔۔

وہ جب واپس آیا تو وہ نماز پڑھ رہی تھی۔۔

اسے دیکھ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رائنہ وہ لڑکی نہیں اٹھی ابھی تک” اماں نے کہا

“کیا پتا دیر سے اٹھنے کی عادت ہو۔۔امیر گھر سے ہے اماں” رائنہ نے ٹی وی آن کرتے ہوئے کہا

“اپنی یہ عادت اپنے گھر چھوڑ کر آتی پھر یہاں یہ سب نہیں چلنے دوں گی میں۔۔” اماں نے ناگواری سے کہا

“ارے اماں چھوڑیں نا اٹھ جائے گی” رائنہ نے ٹی وی پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا

“رانی بنا کر رکھوں گی کیا؟ جب دل کرے گا اٹھ جائے گی

جا اٹھا کر آ۔۔۔11 بج رہے ہیں۔۔۔اور یہ ٹی وی بند کر” اناں نے غصہ سے کہا

ور وہ منہ بناتی کھڑی ہوگئی۔۔

دروازے پر دستک دی۔۔

امس نے بالوں نیں ہاتھ پھیرتے دروازہ کھولا۔۔

“بھائی اٹھ جائیں اماں غصہ ہو رہی ہے” رائنہ نے بتایا۔

“کیوں میں تو چھٹی کے دن اسی ٹائم اٹھتا ہوں؟” رامس نے حیرت سے پوچھا۔۔

“آپ پر نہیں اس بیچاری کو سننی پڑے گی” رائنہ نے کہا

“کیوں؟”

“اب ان چاہی بہو لائے ہیں تو قوالیاں تو سننی پڑیں گی نا” رائنہ نے ہنس کر کہا۔۔

“اچھا چلو آتا ہوں” اس نے کہا اور رائنہ چلی گئی۔۔

وہ سامنے ہی صوفے پر سو رہی تھی۔۔

وہ چل کر اس کے قریب آیا۔۔

وہ گہری نیند سو رہی تھی۔۔

وہی سادگی سے بھرا چہرہ۔۔

کھلے سلکی بال جو تکیے پر گرے ہوئے تھے

اسی سادگی پر تو وہ دل ہار بیٹھا۔۔

وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔

آج بھی اس کی سادگی اسے بے ایمان کر رہی تھی۔۔

اس مہارت سے نظریں چرائی۔۔

“طلعت۔۔۔” اس نے پکارا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔

“”اٹھو۔۔طلعت” اس نے اس کا بازو ہلایا۔۔

وہ یک ہڑبڑا کر اٹھی۔۔

“اٹھ جائیں۔۔ہمارے گھر میں دیر تک سونے کا کوئی رول نہیں” اس نے وارڈ روب کی طرف جاتے ہوئے کہا۔۔

وہ چپ چاپ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ دونوں چپ چاپ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔

رائنہ پاس ہی کھڑی تھی۔۔

تبھی اماں وہاں آئی۔۔

اس نے اماں کو سلام کیا۔۔

اماں کی نظریں اسی پر تھی۔۔

شکل و صورت میں تو اماں کو کوئی کمی لگی نہیں ہاں البتہ مرضی کی نہیں تھی۔۔ناگواری تو ظاہر کرنی ہی تھی۔۔

“سنو بی بی ٹائم سے اٹھا کرو۔۔یہاں سب جلدی اٹھتے ہیں دیر سے اٹھنے والے مجھے پسند نہیں۔۔” اماں اسے ٹوکا۔۔

“جی۔۔” اس نے مختصر کہا۔۔

” ابھی ایک ہی دن تو ہوا ہے سیکھ جائے گی سب” طارق صاحب نے کہا

“سیکھنے کی کوشش کرے گی تو سیکھے گی بھی۔۔سارے دن سونے سے کوئی نہیں سیکھتا۔۔” اماں نے ناگواری سے کہا۔۔

وہ چپ چاپ سن رہی تھی۔۔

ناشتہ کر کے وہ کمرے میں آگئی۔۔

کتنی دیر وہ وہیں بیٹھی اماں کی باتیں سوچتی رہی۔۔

“مجھے اپنے گھر میں تو کسی نے اتنی باتیں نہیں سنائی” وہ دل میں سوچنے لگی۔۔

تبھی رامس کمرے میں داخل ہوا۔۔

“چلو۔۔مارکیٹ چلتے ہیں جو چاہیے ہوں لے لینا” رامس نے کہا

“مجھے گھر جانا ہے” طلعت نے معصومیت سے کہا

“ٹھیک ہے” رامس نے مختصر کہا

وہ چپ چاپ کھڑی ہوگئی۔۔

“اگر اماں کچھ کہ دیتی ہیں تو پلیز دل پر مت لینا وہ بڑی ہیں۔۔اور جیسے حالات میں ہماری شادی ہوئی ہے۔۔

آپ سمجھ رہی ہیں نا؟” رامس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“جی۔” اس نے کہا۔۔

“چلیں؟” رامس نے کہا

جی۔۔” وہ اٹھی۔۔

“چادر پہن لیں۔۔پلیز ” رامس التجا کی۔۔

“مگر ہم گاڑی میں تو جارہے ہیں۔۔مجھے چادر میں گرمی لگتی ہے” اس نے منہ بنا کر کہا۔۔

“جواب پھر خود ہی دینا اماں کو باہر” رامس نے ہنسی دباتے ہوئے کہا

اس نے بنا کوئی جواب دیے چادر پہن لی۔۔

اور اس کے پیچھے چل دی۔۔۔