Fatoor E Man By Isra Rao NovelR50469 Fatoor E Man (Episode - 5)
No Download Link
Rate this Novel
Fatoor E Man (Episode - 5)
Fatoor E Man By Isra Rao
وہ نماز پڑھ کر بیٹھی ہی تھی کہ ایک خیال کے آتے ہی اس نے سیل فون اٹھایا۔۔
اور وہی حسب معمول اس لڑکے کامیسج تھا۔۔
“پلیز یار ایک بار کال پر بات کرلو پھر نہیں کہوں گا “
ایک میسج کے ساتھ اس نے اپنی تصویر بھی بھیج دی تھی۔۔
۔وہ شخص واقع قابلِ قبول تھا۔۔
اس نے کچھ سوچ کر اسے ریپلائے میں “اوکے” سینڈ کردیا
سینڈ کرتے ہی اس کی کال آگئی۔۔
۔طلعت نے کال رسیو کی۔۔
“ہیلو” طلعت نے نرمی سے کہا
“ہیلو اسلام علیکم” آگے سے مردانی آواز میں کہا گیا۔۔
آواز سن اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔۔
وہ کچھ بول نہیں سکی۔۔
“Hello can you hear me”
اس نے پھر کہا
“جج۔۔جی” اس نے بوکھلا کر کہا
“میرا نام رافع ہے۔۔اور آپ کا؟” اس نے پھر سوال کیا
“طلعت” مختصر کہا
“کیا ہم دوست بن سکتے ہیں آپ مجھ پر اعتبار کر سکتی ہیں۔۔میں ایسا ویسا لڑکا نہیں۔۔”
“اچھا “طلعت نے بس اتنا کہا۔۔
کیا آپ مجھے اپنی تصویر بھیج سکتی ہیں؟”
“نہیں”
“چلیں کوئی بات نہیں جب آپ کو اعتبار ہوجائے تب بھیج دینا۔۔” اس نے کہا
اور پھر تھوڑی دیر یہاں وہاں کی بات کر کے فون بند کردیا۔۔
مگر یہ صرف ایک دن کی بات نہیں تھی۔۔
آہستہ اہستہ وہ دونوں روز بات کرنے لگے۔۔
طلعت اب اس سے بات کرتے گھبراتی نہیں تھی۔۔
اسے رافع سے بات کرنا بہت اچھا لگتا تھا۔۔
“بابا جانی آج اتنے اہتمام کیوں ہو رہے ہیں؟” وہ گھر میں سب تیاریوں کو دیکھ پوچھنے لگی۔۔
“بیٹا احمد ماموں آرہے ہیں آپ کے” جہان صاحب نے کہا
“کیا؟ سچی۔۔” وہ خوش ہوئی
“ہاں آج وہ لوگ یہیں رہیں گے”
“بابا جانی وہ کتنے ٹائم کے بعد آرہے ہیں نا؟”
“ہاں بیٹا ہم لوگ بھی تو کم جاتے ہیں۔۔وہ بہت ناراض ہو رہے تھے۔۔”
“اب چھٹیوں میں ہم بھی چلیں گے” وہ خوشی سے کہنے لگی۔۔
“ٹھیک ہے۔۔ اب آپ جا کر تیار ہونائیں” انہوں نے کہا۔۔
“جی بابا جانی۔۔میں تیار ہو کر آتی ہوں” وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
رامس نے جہان صاحب کے دل میں جگہ بنا لی تھی۔۔
وہ رامس پر بہت اعتبار کرتے تھے۔۔
رامس بھی ایمانداری سے کام کر رہا تھا۔۔
وہ بہت محنت کر رہا تھا۔۔
سارا دن کام سمبھالتا پھر دن گزرے گھر آتا اور آتے ہی کھانا کھا کر سوجاتا۔۔
وہ لڑکی اسےپھر دوبارا دکھائی نہیں دی۔۔
مگر وہ پھر بھی اس کے زہن میں محفوظ تھی۔۔
ایک اچھی یاد کی طرح۔۔
وہ اسے حاصل تو نہیں کر سکتا تھا۔۔مگر بھولا بھی نہیں سکا تھا۔۔
وہ انجانی شخصیت سے محبت کر بیٹا تھا۔۔
مگر وہ جانتا تھا کہ یہ صرف ایک تصور ہے حقیقت بہت الگ ہے۔
دعا مانگتے وقت وہ اکثر اسے یاد آتی مگر اس کی زبان سے وہ الفاظ ادا نہیں ہوئے جن میں رامس نے اسے مانگا ہو۔۔
وہ جانتا تھا وہ اسے نہیں مل سکتی۔۔
“ماموں” سامنے سے آتے احمد صاحب پر اس کی نظر پڑی
وہ بھاگتی ہوئی گئی۔۔
“کیسی ہے میری بیٹی؟” انہوں نےاسے خود سے لگاتے ہوئے کہا
“میں ٹھیک ہوں آپ اکیلے آئے؟” وہپوچھنے لگی۔۔
“نہیں شیش ہے میرے ساتھ۔۔۔آتا ہوگا” انہوں نے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
تبھی پیچھے سے آواز آئی۔۔
“اسلام علیکم”
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔
ایک اس کا ہم عمر لڑکا بلیک جینس پر ریڈ ٹی شرٹ پہنے کھڑا تھا۔۔
“وعلیکم السلام” اس نے آہستگی سے کہا
“کیسی ہو طلعت؟” اس نے قریب آکر پوچھا
“ٹھیک ہوں آپ بتائیں۔۔اور ممانی کیسی ہیں؟ اور شیزہ وہ کیسی ہے؟ اسے ساتھ کیوں نہیں لائے؟” اس نے یک بولنا شروع کردیا۔۔
“ایک ایک کر کے پوچھا بیچارہ کنفیوز ہوگیا” جہان صاحب نے کہا۔۔
وہ بات سن کر شرمندہ ہوئی۔۔
“اسلام علیکم انکل” اس نے آگے بڑھ کر ہان صاحب سے ملتے ہوئے کہا
“وعلیکم السلام..بیٹھو بیٹا” جہان صاحب نے کہا
اور وہ کچن میں آگئی۔۔
رفعت بی کے ساتھ کھانا وغیرہ لگوایا۔۔
کھانے کے بعد سب اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
اور وہ فون اٹھا کر چھت پر چلی گئی جہاں ٹھندی ہوا چل رہی تھی۔۔
اس نے رافع کو کال کی۔۔
“یار یہ کیا طریقہ ہے تم نے صبح سے بات نہیں کی” رافع نے خفگی سے کہا
“میرے ماموں آگئے تھے سمجھا کرو نا۔۔مصروف تھی” اس نے کہا
“اچھا تو پھر مصروف ہی رہو بات مت کرو مجھ سے” رافع ناراض ہوا
“اب آپ ایسے کریں گے؟” طلعت نے معصومیت سے کہا
“ہاں تو تمہیں پتا ہے میرا دل نہیں لگتا تم سے بات کیے بنا”
“اچھا نا بابا آئندہ ایسا نہیں کروں گی۔۔” طلعت نے کہا
“تبھی اسے پیچھے سے قدموں کی آواز آئی۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا شیش کھڑا تھا۔۔
اس نے جھٹ کال کٹ کردی۔۔
“ارے شیش آپ یہاں کچھ چاہیے تھا؟” طلعت نے پوچھا
“نہیں۔۔میں تو بس آپ سے بات کرنے آیا تھا۔۔” اس نے کہا
“کیا بات؟”
“ایسے ہی نیند نہیں آرہی تھی نئی جگہ ہے نا ” اس نے مسکرا کر کہا
“اچھا۔۔” اس نے زبردستی مسکرا کر کہا۔۔
اور دونوں وہیں بیٹھ کر یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے۔۔
“بھئی جہان ایک بات کرنی تھی مجھے” احمد صاحب نے صوفے پر براجمان ہوتے ہوئے کہا
“کیا بات” انہوں نے پوچھا
“میں اپنے بیٹے شیش کے لیے طلعت کا ہاتھ مانگنا چاہتا ہوں”
اس کی بات سن جہان صاحب مسکرائے۔
“وہ تو ٹھیک ہے شیش اچھا بچہ ہے دیکھا بھالا ہے مگر طلعت میں کوئی خاص سمجھ نہیں چھوٹی ہے ابھی۔۔” جہان صاحب نے کہا
“میں جانتا ہوں۔۔مگر میں چاہتا ہوں میری بہن کی نشانی میرے ہی گھر آئے۔۔ہم اسے اتنا ہی پیار دیں گے۔۔اس لیے آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں” احمد صاحب نے کہا
“ایسی کیا بات احمد طلعت آپ کی بھی بچی ہے جب چاہے لے جانا۔۔میری طرف سے کوئی اعتراض نہیں” جہان صاحب نے کہا۔۔
“شکریہ جہان آپ نے رشتوں کا پاس رکھا” احمد صاحب نے کہا
“ایسی کوئی بات نہیں طلعت پر جتنا میرا حق اتنا آپ کا بھی ہے۔۔اور شیش ایک اچھا لڑکا ہے انکار کا تو سوال ہی نہیں بنتا” جہان صاحب نے سکون سے کہا
اور تھوڑے فاصلے پر کھڑی طلعت ان کی بات سن چکی تھی۔۔
اور تیزی سے بھاگتی اپنے کمرے میں گئی۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ روتی رہی پھر رافع کو کال ملائی۔۔
اور اسے ساری صورتحال بتائی۔۔
“یار تم رونا تو بند کرو۔۔نکل آئے گا کوئی نا کوئی حل” رافع نے کہا
“آپ میرے بابا سے آکر ملیں” اس نے کہا
“میں ملوں گا نا تمہارے بابا مجھے دھکے دے کر نکال دیں گے۔۔وہ اس شادی کے لیے کبھی نہیں مانیں گے” رافع نے کہا
“کیوں؟”
“کیوں کہ میں تمہاری پسند ہوں ان کی نہیں۔۔”
“مگر پھر کیا کریں گے؟” اس نے پوچھا۔۔
“کچھ سوچتے ہیں” رافع نے کہ کر کال کاٹ دی۔۔
وہ اب رافع کے علاوہ کسی کے بارے میں نہیں سوچ سکتی تھی ۔وہ رافع پر نا صرف بے حد اعتبار کرنے لگی تھی۔۔
بلکہ اس سے بے انتہا محبت کرنے لگی تھی۔۔
احمد صاحب کے جانے کے کچھ دن بعد شادی کی تاریخ بھی رکھ دی گئی تھی۔۔
جہان صاحب بہت خوش تھے۔۔
وہشادی کی تیاریاں بھی کر رہے تھے باقی کی زمہ داری انہوں نے رفعت بی کو دے دی تھی۔۔
وہ ان کی پرانی ملازمہ تھی۔۔
مگر طلعت اداس تھی وہ اس شادی سے خوش نہیں تھی۔۔
وہ صوفے پر ٹنگ جمائے بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی جب جہان صاحب نے اسے پکارا۔۔
اور اس کی سوچ کا مہور ٹوٹا۔۔
“جی بابا جانی” اس نے پوچھا
“کیا سوچ رہی ہے میری بیٹی؟” انہوں نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
“کچھ بھی تو نہیں بابا جانی” اس نے خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا۔۔
“اچھا۔۔میری بیٹی خوش تو ہے نا؟” انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
“جی” اس نے مختصر کہا
وہ اپنے بابا کو سب بتانا باہتی تھی۔۔مگر اس میں ہمت نہیں تھی۔۔
“تو شاپنگ کرنے جاؤ شادی کی۔۔جو خریدنا ہے خرید لو۔۔دن کم رہ گئے ہیں ” جہان صاحب نے کہا
“جی” اس نے اتنا کہا۔۔
اور وہ اٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔۔
“آئمہ میں کیا کروں؟” طلعت نے فون کان سے لگائے کہا
“تم اپنے بابا کو سب بتا دو” آئمہ نے کہا
“نہیں مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے آئمہ” طلعت نے کہا
“تو پھر رافع کو بھول جا اور شادی کرلے شیش سے”آئمہ نے یک دم کہا
“نہیں میں رافع کو دھوکہ نہیں دے سکتی”
اس نے بے بسی سے کہا۔۔
“تو پھر رافع کوبول رشتہ بھیجے “
“وہ کہتا ہے بابا جانی نہیں مانیں گے۔۔جو کہ صحیح ہے وہ نہیں مانیں گے۔۔”
“تو پھر تو ایسا کر رافع سے کوٹ میرج کرلے۔۔”
آئمہ نے مشورہ دیا
“کیا۔۔تو پاگل ہے بابا ناراض ہوجائیں گے”
“وہ تو ویسے بھی ہونگے مگر تو ان کی اکلوتی اولاد ہے کب تک ناراض رہیں گے شادی کرنے کے بعد آکر معافی مانگ لینا وہ تجھے معاف کردیں گے ” آئمہ نے کہا
اور وہ اس بات سے دنگ رہ گئی۔۔
وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“میری شادی میں دو دن رہ گئے مگر آپ نے کچھ نہیں کیا ابھی تک” وہ غصہ سے بولی
“یار میں کیا کروں بتاؤ۔۔۔میں نے اپنے گھر بات کی تھی۔۔وہ بھی نہیں مان رہے” رافع نے کہا
“تو کیا کریں پھر میں آپ کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کرسکتی میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں رافع” طلعت نے نم آنکھوں سے کہا
“میں بھی کرتا ہوں یار مگر۔۔۔اب صرف ایک حل ہے تم گھر سے بھاگ کر آجاؤ۔۔ہم شادی کرلیتے ہیں پھر ہمارے گھر والکچھ نہیں کرسکتے ” رافع نے کہا۔۔
“مگر رافع۔۔۔” وہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر رافعنے بات کاٹی
“اگر مگر کچھ نہیں بس تم آجاؤ۔۔۔مجھ پر اعتبار ہے نا تمہیں؟”
“ہاں بہت”
“تو بس پھر تم آجاؤ ہم نکاح کر کے گھر والوں سے معافی مانگ لیں گے۔”
“مگر میں اپنے بابا کو چھوڑ کر کیسے آؤ گی؟”
“ہرلڑکی کو ایک نا ایک گھر چھوڑنا ہی ہوتا ہے۔۔میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا طلعت۔۔دیکھنا تم تمہیں کسی کی یاد تک نہیں آئے گی۔۔” رافع نے کہا
“مگر۔۔۔”
“تم میرے لیے اتنا نہیں کر سکتی۔۔یہ محبت تھی تمہاری۔۔” اس نے کہا۔۔
اور وہ سوچنے پر مجبور ہوئی۔۔
شادی میں دو دن رہ گئے تھے
وہ رات کتنی ہی دیر تک سوچتی رہی۔۔
آخر کار وہ فیصلہ پر پہنچی
وہ وارڈ روب کی طرف گئی۔۔بیگ لیا اور اس میں ضروری چیزیں ڈالی ور کچھ کپڑے بھی۔۔بیگ بند کرنے لگی تو سائیڈ ٹیبل پر رکھی تصویر پر نظر پڑی۔۔
جس میں وہ اپنے بابا جانی کے ساتھ مسکرا رہی تھی۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کرتصویر اٹھائی۔۔
لمحہ بھر اسے دیکھاپھر بیگ میں رکھ لی۔۔
بیگ بند کر کے وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
اسکا رخ جہان صاحب کے کمرے کی طرف تھا۔۔
اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔۔
جہان صاحب گہری نیند سو رہے تھے۔۔
“مجھے معاف کردینا بابا جانی”اس نے دل میں کہا
اور آنسوں اس کی آنکھوں سے گرنے لگے۔۔
“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔میں آپ کو منا لوں گی۔۔
میں واپس آؤگی بابا جانی۔۔” وہ ان کا چہرہ دیکھ سوچنے لگی۔۔
اس کا چہرہ بھیگ چکا تھا آنسوؤں سے۔۔
اس نے ہتھیلی سے آنسوں صاف کیے اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔
