265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 19)

Fatoor E Man By Isra Rao

“رفعت بی مجھے بہت خوشی ہوئی تھی جب میں اپنی بیٹی کو وش دیکھا تھا۔۔” لاؤنج میں جہان صاحب نے کہا۔۔

رفعت بی ہلکا سامسکرائی۔۔

“پتا ہے وہ جس نے خود پانی کا گلاس بھی نہیں پیا خود لے کر۔۔آج وہ پورے سسرال کا کام کر رہی تھی۔۔

میری بیٹی نے سب کا وہاں دل جیت لیا۔۔”جہان صاحب نے کہا۔۔

“ہماری طلعت ہے ہی ایسی ماشاءاللہ” رفعت بی نے چائے انہیں تھماتے ہوئے کہا

“یہ آپ کی وجہ سے ہوا ہے رفعت بی۔۔آپ نے اس کی ماں کے جانے کے بعد اسے لاڈ پیار سے پالا بڑا کیا۔۔اور آج اس قابل بنایا کہ وہ اپنا گھر بسائے بیٹھی۔۔” جہاں صاحب نے کہا۔۔

“یہ آپ کی پرورش ہے۔۔”

“نہیں رفعت بی میری پرورش کی تو اس نے لاج نہیں رکھی تھی۔میری پرورش اچھی ہوتی تو غلط راستے پر نہیں جاتی۔۔۔۔اسے ایسا آپ نے بنایا۔۔آپ نے اسے سب کا دل جیتنا سکھایا “جہان صاحب نے مسکرا کر کہا

“وہ اس کی نادانی تھی اسے بھول جائیں وہ اپنے گھر میں اب خوش ہے۔۔” رفعت بی نے کہا

“ہاں اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھے بس۔۔” جہاں صاحب نے دعا دی۔۔

“بابا جانی” طلعت کی بھرائی ہوئی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔۔

انہوں یک دم پلٹ کر دیکھا۔۔

لاؤنج کے دروازے پر وہ سر پر دوپٹہ لیے۔۔بکھرے بال چہرے پر آئے، سرخ روئی آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھی۔۔

وہ اسے دیکھ چونکے۔۔

“طلعت” جہاں صاحب کھڑے ہوئے۔

“باباجانی” وہ بھاگتی ہوئی آئی اور جہان صاحب کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی

وہ اسے دیکھ ٹھٹکے۔۔

“کیا ہوا ہے میرا بچہ رو کیوں رہی ہو؟” جہان صاحب گھبرائے۔۔

“کیا ہوا ہے طلعت بیٹا۔۔۔اور رامس کہاں ہے؟” رفعت بی نے پوچھا

وہ بنا کوئی جواب دیے بس روئے جا رہی تھی۔۔

“ہوا کیا ہے میرا بچہ تم پریشان کر رہی ہو بتاؤ کیا ہوا؟” جہان صاحب نے اسے صوفے پر بٹھایا۔۔

“چپ ہوکر بتاؤ۔۔” وہ اس کے آنسوں صاف کرنے لگے۔۔

“باباجانی کاش آپ نے مجھے اسی دن مار دیا ہوتا” وہ کہ کر پھر سے رونے لگی۔۔

“ہوا کیا ہے؟” رفعت بی نے پوچھا۔۔

“بتاؤ کیا ہوا؟” جہاں صاحب نے اس چہرہ ہاتھوں میں لیا

“اس نے۔۔۔ مجھے۔۔۔ گھر سے۔۔۔نکال دیا باباجانی” اس کی ہچکیاں بند گئی تھی۔۔

جہان صاحب کو جھٹکا لگا۔۔

“کیا؟” رفعت بی چونکی

“کیوں؟ کیوں نکالا ہے؟ بتاؤ” جہان صاحب نے پوچھا

اور اس نے ساری تفصیل بتادی۔۔

جسے سن کر جہان صاحب اور رفعت کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔۔

“باباجانی کاش آپ نے مجھے اس دن موبائل نا دیا ہوتا۔۔کاش آپ نے مجھے پابندیوں میں ہی رکھا ہوتا۔۔کاش باباجانی۔۔۔ کاش آپ نے مجھے اتنے لاڈ پیار سے نہیں پالا ہوتا” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔

جہان صاحب کو جیسے سکتا لگ گیا تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ دروازہ بند کرکے بیڈ پر لیٹ گیا۔۔اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں گر رہے تھے۔۔

کتنی ہی رات گزر گئی تھی مگر وہ اسی

طلعت سے اس نے ہمیشہ سے محبت کی۔۔

جس کے علاوہ اس نے کبھی خیال میں کسی لڑکی کو نہیں سوچا۔۔

اس لڑکی نے اس کی ذات کو اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی تھی۔۔

” جسے میں نے سب کچھ مانا تھا اس نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔” وہ سوچنے لگا

“میری بیوی۔۔میری عزت وہ۔۔وہ ایک دکردار۔۔۔” اس نے خود کلامی کی

“طلعت۔۔۔تم نے کیوں میرے ساتھ ایسا کیا؟ کیوں؟” اس نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑا۔۔

“میں تمہیں کبھی نہیں کروں گا معاف۔۔۔” اس نے کرب سے کہا۔۔

اس کے سر میں شدید درد تھا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ناشتہ کرلو بیٹا” فعت بی نے اداس بیٹھی طلعت کو کہا۔۔

“مجھے بھوک نہیں۔۔” طلعت نے کہا

“سب ٹھیک ہوجائے گامیری بچی۔۔” رفعت نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا

“کیا میری ایک غلطی کوئی معاف نہیں کرے گا؟” اس کی آنکھوں میں پھر سے نمی امڈ آئی۔۔

“کیوں نہیں کریں گے۔۔تمہارے بابا نے بھی معاف کردی نا تو رامس بھی کردے گا” رفعت بی نے کہا

وہ رفعت بی کی گود میں سر رکھے لیٹ گئی۔۔

“وہ مجھے معاف نہیں کرے گا رفعت بی” اس نے لاچاری سے کہا۔۔

“کردے گا تم ہمت سے کام لو۔۔ایسے ہمت نہیں ہارتے بیٹا”

“رفعت بی میں اس کے بنا نہیں رہ سکتی۔۔میں مر جاؤں گی” طلعت نے روتے ہوئے کہا۔۔

“کیوں اسے میری محبت نہیں نظر آئی۔۔اسے بس میری غلطی نظر آئی۔۔کیوں میری ایک غلطی میری زندگی بھر کا روگ بن گئی۔۔۔” ۔۔

“کاش رفعت بی اس دن میں نا بھاگی ہوتی۔۔کاش میں اس دن رامس سے نا ٹکرائی ہوتی۔۔” وہ پچھتاوے کی انتہا پر تھی۔۔

کتنی ہی دیر وہ روتی رہی۔۔ساری رات سے وہ بس روتی رہی تھی۔۔رفعت بی گود میں سر رکھے جانے کب روتی روتی سوگئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ناشتہ نہیں کیا طلعت نے؟” جہان صاحب نے پوچھا

“نہیں۔۔رات سے رو رہی ہے بس ابھی مشکل سے سوئی ہے” رفعت بی نے بتایا

“میں رامس سے بات کرتا ہوں”جہان صاحب نے کہا

“صاحب جو بھی بات کریں مگر طلعت کو دماغ میں رکھ کر۔۔ہم بیٹی والے ہیں۔۔” رفعت بی نے سمجھایا۔۔

“ہممم” جہان صاحب گہری سوچ میں تھے۔۔

“آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا اسے سب۔۔۔آپ نے اس سے چھپا کر ٹھیک نہیں کیا تھا” رفعت بی نے کہا

“میں نے اس لیے نہیں بتایا کہ وہ نادانی میں ایسا کرگئی۔۔اور اگر میں اسے یہ بات بتا دیتا تو کیا وہ طلعت سے شادی کرتا؟ اس وقت میرے پاس عزت بچانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔۔” جہان صاحب نے کہا

“جو بھی تھا۔۔مگر رشتے جھوٹ پر بنائے نہیں جاتے”

“میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا رفعت بی۔۔بس سچ نہیں بتایا۔۔کیوں کہ یہ بس نادانی تھی اس کی۔۔۔اور اس نے کوئی غلطی نہیں کی تھی۔۔وہ اپنے کردار اور عزت کے ساتھ واپس آگئی تھی گھر۔۔” جہان صاحب نے کہا

“پھر بھی ہماری غلطی ہے ہم نے اس سے چھپائی بات۔۔آپ اسے نرمی سے سمجھانا” رفعت بی نے کہا

اور وہ اثبات میں سر ہلاتے اٹھ کھڑے ہوئے

اور فیکٹری کے لیے نکل گئے۔۔

فیکٹری پہنچ کر انہوں نے کمال صاحب کو اندر بلایا۔۔

“رامس شیخ کو اندر بھیجو” جہان صاحب نے کمال صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

“مگر سر وہ تو فیکٹری نہیں آئے آج۔”کمال صاحب نے کہا

“کیا؟ مگر کیوں؟” جہان صاحب نے پوچھا

۔”تین دن سے وہ چھٹی پر ہیں سر۔۔ اپنی بہن کی شادی کی چھٹی لی تھی اس کے بعد جوئن ہی نہیں کیا” کمال صاحب نے کہا

“ہممم۔۔۔” جہان صاحب گہری سوچ میں ڈوب گئے۔۔

اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گئے۔۔

گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کی۔۔

ان کا رخ رامس کے گھر کی طرف تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

انہوں نے دروازے پر پہنچ کر دستک دی۔۔

اماں نے دروازہ کھولا۔۔

“اسلام علیکم” جہان صاحب نے کہا

“وعلیکم السلام اندر آئیں” اماں نے راستہ دیا۔۔

وہ اندر داخل ہوگئے۔۔

“مجھے پتا ہے آپ کیا بات کرنے آئے ہیں” اماں نے کہا۔۔

“رامس کو سمجھانے آیا ہوں وہ آج فیکٹری بھی نہیں آیا۔۔” جہان صاحب نے کہا

“رائنہ رامس کو بلا۔۔” اماں نے رائنہ کی طرف اشارہ کیا۔۔

“دیکھیں جہان صاحب قصور میرے میرے پوتے کا ہے میں جانتی ہوں۔۔اسے اس طرح طلعت کو گھر سے نہیں نکالنا چاہیے تھا۔۔۔۔مگر معاف کریے گا قصور آپ کا بھی ہے۔۔۔” اماں نے سنجیدگی سے کہا

“جی میں جانتا ہوں۔۔” جہان صاحب نے شرمندگی سے کہا

تبھی وہاں رامس آیا۔۔

سلام کر کے وہ وہیں بیٹھ گیا۔۔

“رامس میں جانتا ہوں آپ ناراض ہو ہم سے ہونا بھی چاہیے ہم نے غلطی کی ہے” جہان صاحب نے کہا

“غلطی یہ غلطی نہیں تھی جہان صاحب یہ دھوکہ تھا سراسر دھوکہ تھا۔۔جھوٹ کی بنیاد پر رشتہ جوڑا تھا آپ نے” رامس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا

“وہ صرف میری بیٹی کی نادانی تھی۔۔ ” جہان صاحب نے کہا

“نادانی کہ کر آپ اپنی بیٹی کے گناہوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے” رامس نے کہا

“نہیں میں پردہ نہیں ڈال رہا۔۔اور میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا۔۔میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا۔۔میری بیٹی بے داغ تھی۔۔میں نے ایک باکردار لڑکی سے آپ کی شادی کروائی۔۔

دھوکہ تب ہوتا جب میں جھوٹ بولتا ایک بدکردار لڑکی سے نکاح کرواتا۔۔” جہان صاحب نے کہا

رامس خاموشی سے ان کی بات سن رہا تھا۔۔

“میں باپ ہوکر اس کے کردار کی گواہی دے رہا ہوں آپ شوہر ہوکر اسے نہیں سمجھ سکے؟” جہان صاحب نے کہا

“میں پورے یقین سے کہ رہا ہوں کہ میری بیٹی کے دل میں آپ کے لیے آپ کے گھر والوں کے لیے اتنی ہی عزت اور محبت ہے جتنی میری ہے۔۔” جہان صاحب کی نظریں رامس پر ٹکی تھی۔۔

“شوہر ہونے کے ناتے اس کی پاک دامنی کی گواہی آپ کو دینی چاہیے نا کہ مجھے” جہان صاحب نے تلخی سے کہا۔۔

“آپ کے چھوٹے گھر میں اس نے ایڈجسٹ کیا۔۔۔ہالانکہ وہ عادی نہیں تھی۔۔مگر اس نے آپ کی محبت میں خود کو بدل لیا” جہان صاحب نے احساس دلانا چاہا

“میں آپ لوگوں کو چھوٹے گھر کا طعنہ نہیں دے رہا بس میں یہ دکھانا چاہ رہا ہوں کہ جہاں محبت ملے وہ گھر گھر ہوتا ہے چاہے چھوٹا ہو چاہے بڑا ہو۔۔۔وہ جو اپنے عیش و آرام لوٹا دے صرف محبت کے لیے۔۔اسے آپ کیا سمجھیں گے؟” جہان صاحب کی باتیں رامس خاموشی سے سن رہا تھا

“میں جانتا ہوں آپ نے فیکٹری چھوڑ دی آپ نہیں آؤ گے اب۔۔اور آپ کو دوسری جگہ بھی جاب مل جائے گی باآسانی۔۔مگر میری بیٹی کو مت چھوڑیے محبت بار بار نہیں ملتی۔۔۔آپ نے اسے گھر سے دھکے مار کر نکال دیا۔۔مگر وہ اپنا ہی قصور سمجھتی ہے۔کچھ نہیں کھاتی۔بس خود کو کوستی رہتی ہے۔۔روتی رہتی ہے۔۔اس کی ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا مت دو۔۔ایک غلطی تو خدا بھی معاف کردیتا ہے ہم تو پھر انسان ہیں” جہان صاحب نے کہا

لمحہ بھر خاموشی چھاگئی۔۔

جہان صاحب اس کے جواب کے منتظر تھے۔۔

مگر رامس زمین پر نظرگڑائے خاموش تھا۔۔

تبھی جہان صاحب کے فون کی آواز نے خاموشی کو توڑا۔۔

انہوں نے فون دیکھا اسکرین پر گھر کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔

“ہیلو” جہان صاحب نے کال رسیو کی۔۔

کیا۔۔۔میں آتا ہو ابھی۔۔۔” وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔

“کیا ہوا جہان صاحب خیریت؟” اماں نے پوچھا

“طلعت بےحوش ہوگئی ہے۔۔۔” وہ کہ کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھے۔۔

اماں سن کر گھبرا گئی تھی۔۔

وہ دروازے پر رکے۔۔۔

“مسٹر رامس۔۔۔معاف کرنے والا بڑا ہوتا ہے۔۔ہو سکے تو سوچیے گا ضرور” وہ کہتے ساتھ باہر نکل گئے۔۔