Fatoor E Man By Isra Rao NovelR50469

Fatoor E Man By Isra Rao NovelR50469 Fatoor E Man (Episode - 22) Last Episode

265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 22) Last Episode

Fatoor E Man By Isra Rao

“میں۔۔۔میں طلعت سے بھی معافی مانگنا چاہتا ہوں میں اس کا گنہگار ہوں” رافع نے کہا۔۔

“طلعت دور کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔۔

تبھی رامس کی نظر اس پر پڑی۔۔

اور اس کی نظروں تعاقب جان رافع نے بھی اس سمت دیکھا۔۔

اور فوراً اس کی طرف گیا۔۔

“طلعت مجھے معاف کردو۔۔۔میں اپنے کیے ہر گناہ کی معافی مانگ رہا ہوں” رافع ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔۔

“میرے گناہوں کا بہت قرض چکایا ہے میری بہن نے۔۔۔کاش اس کی جگہ مجھے ہی سزا ملتی۔۔۔” رافع کہتا گھٹنوں کے بل بل بیٹھا سر جھکائے رو رو رہا تھا۔۔

آج اپنی بہن کو کھونے کے بعد اسے ہر بات کا احساس ہوگیا تھا۔۔

“اب رونے سے کیا ہوگا؟” طلعت نے کہا۔۔

“تم نے بہت دیر کردی۔۔وقت رہتے اگر تم اپنی غلطیوں کو سدھار لیتے تو تمہارے گناہوں کی سزا تمہاری معصوم بہن کونا ملتی۔۔۔” طلعت نے چباہ کر کہا۔۔

“کاش میں کسی کے ساتھ ایسا نا کرتا تو آج میری۔۔۔۔اللہ۔۔۔” وہ کہتا کہتا بے بسی سے رونے لگ گیا۔۔

طلعت نے رامس کی طرف دیکھا۔۔

اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔۔

“سدرہ۔۔” طلعت نے آواز لگائی۔۔

“بھائی۔۔۔” سدرہ کی آواز پر رافع نے گردن اٹھائی۔۔

وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔

“سدرہ۔۔۔” وہ چونک کر کھڑا ہوا۔۔

“کچھ نہیں ہوا تمہاری بہن کو۔۔۔بلکل ٹھیک ہے” رامس نے کہا۔۔

“سدرہ۔۔” وہ سدرہ کو سینے سے لگائے آنسوں بہانے لگا۔۔

“سدرہ تم ٹھیک ہو؟” وہ وچھنے لگا۔۔

جیسے اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ زندہ ہے۔۔

” یہ ہم نے صرف اس لیے کیا تاکہ تمہیں احساس ہو کہ جس کی تم زندگی برباد کرتے ہو وہ بھی کسی کی بہن ہے۔۔ان کے بھائیوں کو بھی ان سے اتنی ہی محبت ہوتی ہے جتنی تمہیں اپنی بہن سے ہے” رامس نے کہا۔

“میں جانتا ہوں میری غلطی ہے۔۔۔اور شاید اگر بات اگر میری بہن پر نا آتی میں سدھرتا بھی نہیں۔۔مگر اب میں وعدہ کرتا میں آئندہ ایسا کچھ نہیں کروں گا۔۔” رافع نے کہا۔۔۔

اور رامس آگے بڑھ کر اس سے گلے ملا۔۔

“طلعت معاف کردینا پلیز میں اپنی شرمندہ ہوں۔۔میں ہاتھ جوڑ کر تم سےمعافی مانگ رہا ہوں” رافع نے ہاتھ جوڑے۔۔

“تمہیں احساس ہوگیا میرے لیے کافی ہے۔۔” طلعت نے کہا۔۔

“بھابھی میں آپ کا بھی گنہگار ہوں۔۔۔میری وجہ سے آپ دونوں کے بیچ بھی پرابلمز کرئیٹ ہوئی۔۔۔” رافع نے رائنہ کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔

رائنہ ہلکا سا مسکرائی۔۔

تبھی وسیم بھی وہاں آن پہنچا۔۔

“کیا ہو رہا ہے یہاں بھئی۔۔” وسیم نے اندر آکر کہا۔۔

“بھائی سدرہ ٹھیک ہے۔۔۔” رافع نے وسیم کی طرف دیکھا۔۔

“جانتا ہوں۔۔۔” وسیم نےمسکرا کر کہا۔۔

“مطلب آپ بھی ملے ہوئے تھے۔۔۔؟” رافع نے حیرانگی سے کہا۔۔

بدلے میں وسیم ہنسا۔۔۔

“شکریہ یار ہماری مدد کے لیے” رامس نے وسیم سے گلے ملتے ہوئے کہا۔۔

“چلو اب کھانا وغیرہ کھانا ہے یا ادھر ہی ٹولہ جمائے رکھنا ہے” اماں نے ٹوکا۔۔

اور سب ہنسنے لگے۔۔

کھانے سے فارغ ہوکر وہ جانے کے تیار تھے۔۔

“ارےکل جانا نا۔۔” رامس نے کہا

“نہیں گھر پر امی پریشان ہوں گی۔۔۔انہیں میں نے فون کر سب بتا تو دیا تھا۔۔ مگر تین دن سے سدرہ کو نہیں دیکھا۔۔یہ لاڈلی بہت ہے ہماری۔۔۔تو ہمیں نکلنا ہوگا۔۔” وسیم نے کہا۔۔

“میری بیوی کو تو بھیج دیں اب” وسیم نے اماں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“ہاں ہاں بیٹا لے جاؤ ہم نے کب روکا۔۔” اماں نے کہا۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ گھر کے لیے نکل گئے۔۔

ائنہ بھی ان کے ساتھ چلی گئی تھی۔۔

اور طلعت کو گھر پھر سے خالی خالی لگنے لگا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“گھر پھر سے خالی ہوگیا نا؟” طلعت نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔۔

“ہاں یار۔۔تبھی میرا خیال ہے ہمیں جڑوا بچے ہونے چاہیے” رامس نے شرارت سے کہا۔۔

“مجھے دیکھ کر ایسے خیال دماغ میں لایا کرو۔۔۔” طلعت نے مسکرا کر کہا

“کیوں جڑوا میں کیا پرابلم ہے؟”

“میں نہیں سمبھال سکتی “

“ایک کو تم سمبھالنا ایک کو میں” رامس نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

“اچھا۔۔۔جاب پر کون جائے گا؟”

“چھوڑ دوں گا تم کہ کر تو دیکھو” رامس نے مسکراہٹ لیے کہا۔۔

“اماں کی قوالیاں بھی سننا پھر۔۔۔” طلعت نے ہنس کر کہا

“وہ کسی میں بھید بھاؤ نہیں کرتی ماشاءاللہ سے قوالیوں سے سب کو برابر نوازتی ہیں۔۔۔اور میرا دعوہ ہے وہ آگے فیوچر میں ہمارے بچوں کے ساتھ بھی انصاف کریں گی” رامس نے کہ کر گہرا سانس خارج کیا۔۔

اور طلعت کا زور دار قہقہہ گونجا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

(چھ ماہ بعد)

وہ ہوسپیٹل کے کوریڈور میں چکر لگا رہا تھا۔۔

اماں بھی پاس ہی بیٹھی تھی۔۔

تبھی نرس باہر نکلی۔۔۔

“مبارک ہو۔۔۔بیٹا ہوا” نرس کے الفاظ سن رامس کو بہت خوشی ہوئی مگر اس سے بھی زیادہ خوشی اماں کو ہوئی اپنے پوتے کا سن کر۔۔۔

“سسٹر میری وائف وہ کیسی ہے” رامس نے پوچھا

“وہ ٹھیک ہے ابھی دوسرے روم میں شفٹ کردیں گے تو آپ ان سے مل سکتے ہیں” نرس نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں رفعت بی اور جہان صاحب بھی پہنچ گئے تھے۔۔

رامس شکرانے کے نوافل ادا کرنے گیا۔۔

سب بہت خوش تھے۔۔

رامس نے فون کر کے رائنہ کو بتایا۔۔

اماں تو خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی ان کا پہل کا پوتا جو تھا۔۔اور ان کی خواہش بھی۔۔سوچی بنتی نہیں۔۔۔ مگر اماں کے معاملے میں یہ بھی ہوگیا۔۔

وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی جب اپنے ماتھے پر اسے کسی لا لمس محسوس ہوا۔۔

اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی۔۔

سامنے ہی جہان صاحب کا چہرہ نظر آیا۔۔

“بابا جانی” اس کی آنکھ سے آنسوں گرا۔۔

جانے کیوں اس خوشی کے لمحے میں بھی اس کی آنکھ نم تھی۔۔اسے ذرا بھی تکلیف ہوتی تو وہ اپنے بابا کو پکارتی۔۔

اور آج بھی وہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھے اور اس کی آنکھیں بس انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔۔

“اس خوشی کے موقع پر بھی آپ رو رہی ہیں ؟” وہ اس کے آنسوں صاف کرنے لگے۔۔

“میری ہر خوشی آپ سے منسلک ہے بابا جانی۔۔۔آپ نے میری زندگی میں خوشیاں بھر دی۔۔میری ہر غلطی کو بھلا کر۔۔۔آپ نے میری زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ کیا۔۔” طلعت نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔

“کیوں کہ اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتا ہوں” انہوں نے اس کے ماتھے پر شفقت سے ہاتھ پھرتے ہوئے کہا

“بابا جانی میرا بس چلے نا تو میں سارے زمانے کی لڑکیوں کو چیخ چیخ کر بتا دوں کہ باپ سب سے بڑا سائیبان ہوتا ہے۔۔ماں باپ سے زیادی اچھا فیصلہ ہماری زندگی کا کوئی نہیں کر سکتا۔۔” طلعت کی آنکھوں میں خوشی اور اپنے بابا کے لیے محبت صاف چھلک رہی تھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

دو دن بعد طلعت گھر آئی۔۔

اپنے چھوٹے سے گھر کو دیکھ ایک خوشی کی لہر اس کے اندر اتی۔۔

وہی گھر جہاں اسے رہنا پسند نہیں تھا۔۔

جس کی وہ عادی نہیں تھی۔۔مگر اس گھر نے ہی اسے بہت کچھ سکھایا۔۔

وہ مسکرائی۔۔

اماں نے سارے خاندان میں مٹھائیاں بانٹی۔۔

رائنہ بھی کچھ دن کے لیے رہنے آگئی تھی۔۔

جو طلعت کا ہر کام بہت اچھے سے کر رہی تھی۔۔

اور اماں تو بس اپنے پوتے کے ہی خیال میں لگی رہتی۔۔

رات کے اس پہر وہ بیٹھی اپنی زندگی پر نظر ثانی کر رہی تھی۔۔

اور دل ہی دل میں اس رب کا شکر ادا کر رہی تھی۔۔جس نے اس کا دامن خوشیوں سے بھر دیا تھا۔۔

اتنا اچھا سسرال، ایک نیک اور محبت کرنے والا شوہر اور ایک چھوٹا سا ننھا سا بیٹا۔۔اس کی جیسے ہر خواہش پوری ہوگئی۔۔

وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب رامس کمرے میں آیا۔۔

“ابھی تک جاگ رہی ہو؟” وہ ڈریسنگ کے سامنےگھڑی اتارتے ہوئے کہنے لگا۔۔

“آپ کا انتظار کر رہی تھی” طلعت نے مسکرا کہا۔۔

“اچھا کیوں۔۔کچھ چاہیے؟” رامس نے بیڈ کے قریب آکر کہا۔۔

“نہیں تھینک یو بولنے کے لیے” طلعت نے کہا

“تھیک یو؟ کیوں؟” رامس چونکا

“میری زندگی میں آنے کے لیے” طلعت نےنظر بھر اسے دیکھا۔۔

“تھیک یو تو مجھے بولنا چاہیے اس پیارے سے گفٹ کے لیے” رامس نے جھک کر اپنے ننھے سے بچے کو چوما۔۔جو گہری نیند سو رہا تھا

طلعت بھی مسکرا دی۔۔

“پتا ہے۔۔میں نے ہمیشہ تمہیں دور سے دیکھا تھا کبھی سوچا بھی نہیں تھا تم میری لائف میں قدم رکھو گی۔۔” رامس نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا

“کیا مطلب؟” اس نے نظر اٹھا کر رامس کے چہرے پر ڈالی۔۔

“میں نے شادی سے پہلے تمہیں بہت بار دیکھا تھا۔۔اور ہمیشہ تم میرے دل میں اترتی گئی۔۔” رامس نے شانوں پر بازو پھیلاتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا تو آپ لڑکیوں کو دیکھتے تھے۔۔” طلعت نے شرارت سے کہا

“نہیں صرف تمہیں۔۔ہمیشہ میرے خیالوں میں ایک بہت اچھے خواب کی طرح تم رہی۔۔مگر خواب ایسے بھی پورے ہوجاتے ہیں مجھے معلوم نہیں تھا۔۔میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا تم میری شریکِ حیات بن کر میری زندگی میں آجاؤ گی” رامس نےپیار سےکہا۔۔

“آج تک آپ نے مجھے یہ بات کیوں نہیں بتائی؟” طلعت نے خفگی سے کہا

“مجھے لگا خوامخواہ اترا جاؤ گی۔۔” رامس نے شرارت سے کہا۔۔

اور طلعت نے اسے گھورا۔۔

“تم۔۔۔۔۔” طلعت نے صہ سے سے اسے انگلی دکھائی۔۔

رامس نے لمحہ بھر اس کی انگلی کو دیکھا۔۔

اور جھپٹ کر اس کی انگلی منہ میں لینی چاہی مگر اس نے فوراً پیچھے ہٹائی۔۔

“میں نے کہا تھا تھا انگلی نہیں دکھایا کرو کاٹ لیتا ہوں” رامس نے شرارت سے کہا۔۔

اور طلعت نے زوردار پنچ اس کے پیٹ پر رسید کیا

“آہ۔۔۔کلموہی۔۔شرم نہیں آتی شوہر پر ہاتھ اٹھاتی ہو۔۔؟” رامس نے اماں کی نقل اتاری اور طلعت ہنسی ضبط نا کرسکی اور کھلکھلا کر ہنس دی۔۔

تبھی بچے کیی رونے آواز دونوں کی ہنسی کو کنٹرول کرنے پر مجبور ہوگئی۔۔

رامس نے اپنے ننھے فرشتے کو گود میں اٹھایا۔۔

اور دونوں نے بیک وقت اس کے دونوں گالوں پر اپنی خوشی کی مہر ثبت کی۔۔۔

❤️⁦⁦ختم شد⁩