265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 4)

Fatoor E Man By Isra Rao

آئمہ کے سکھانے کے بعد اس کی دلچسپی فون میں بڑھ گئی تھی۔۔وہ سارا سارا دن موبائل میں لگی رہتی۔۔۔

لیکن وہ احتیاط کرتی تھی ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے اس کے بابا ناراض ہوں۔۔

رزلٹ کے بعد اس نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا۔۔

پڑھائی کے معاملے میں جہان صاحب اسے کبھی منع نہیں کرتے تھے۔۔

وہ آئمہ کے ساتھ کینٹین میں بیٹھی تھی کہ آئمہ کا سیل فون بجا۔۔

اس نے سیل فون نکا اور میسج کرنے لگی۔۔

وہ تجسس سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“کس کا میسج ہے؟” طلعت نے پوچھا

“پتا نہیں کسی انجانی آئی ڈی سے ہے کوئی لڑکا ہے” آئمہ نے لاپرواہی سے کہا

“تو تم نے ریپلائے کردیا۔۔؟”

“اوہ کم آن یار۔۔وہ مجھے کھا تو نہیں فون سے نکل کر۔۔اور جو بار بار میسج کرے اسے ریپلائے کر کے بول دینے میں کیا حرج ہے کہ میسج نا کرے” آئمہ نے کہا

“پھر بھی ہمیں۔۔کسی لڑکے سے بات نہیں کرنی چاہیے” طلعت نے کہا

“طلعت۔۔کسی سے بات کرنے کا مطلب یہ تو نہیں ہم نے غلط کیا۔۔کسی سے ملنے تو نہیں گئے، کوئی ایسا کام بھی نہیں کیا۔۔ریپلائے نہیں کرو گی تو بار بار میسج کرے گا اس سے بہتر ہے ہم اسے ریپلائے کر کے منع کردیں سمپل” اس نے پرسکونی سے کہا۔۔

اور طلعت نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ دور کھڑا ان تین ورکرز کو دیکھ رہا تھا جو گروپ بنائے فیکٹری کے پچھلی سائیڈ بیٹھ کر جوا کھیلنے میں مصروف تھے۔۔پاس ہی شراب کی کچھ بوتلیں پڑی تھی۔۔

وہ چل کر ان کے قریب آیا۔۔

“یہ کیا ہورہا ہے؟” رامس نے پوچھا

وہ لوگ آواز سن کر بری طرح سے چونکے۔۔

پھر اسے دیکھ پرسکون ہوگئے۔۔

“تجھے اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔جا اپنا کام کر” ایک آدمی نے قریب آکر کہا

“ہاں یہ سب کرنے کی اجازت نہیں” رامس نے نرمی سے کہا

“اچھا تو اب تجھ سے اجازت لیں گے ہم؟ تو ہے کون؟ لیڈر ہے، سوپروائزر ہے، یا مالک ہے؟” اس نے چبا کر کہا

“میں ایک ورکر ہوں مگر اپنے مالک کو دھوکہ نہیں دیتا تم لوگوں کی طرح۔۔اپنا کام ایمانداری سے سر انجام دیتا ہوں” رامس نے سنجیدگی سے کہا

“ہاہاہا ایمانداری۔یہاں ایمانداری سے چلر ہی ملے گا۔۔اور اگر اتنا ہی ایماندار ہے تو اپنے کام سے کام رکھ نا ہمارے کام میں کیوں ٹانگ اڑا رہا ہے؟” اس نے غصہ سے کہا۔

“یہی میرا کام ہے” رامس نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا مطلب تو یہاں سے پٹ کر ہی جائے گا” دوسرے نے کہا

“اگر یہی چاہتے ہو تم لوگ تو چلو یہی ٹھیک ہے” رامس نے شرٹ کی بازوں موڑتے ہوئے کہا۔۔

“ابے تو ایسے نہیں مانے گا” ایک نے اس کا کالر پکڑتے ہوئے کہا۔۔

اسے دیکھ رامس کا خون خولنے لگا۔۔

اور ضبط کیے بنا اس نے لاتوں اور گھوسوں کی بوچھاڑ کردی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ مارا ماری کرنے لگے۔۔

ورکرز کا بھی رش لگ گیا۔۔

کمال صاحب نے ان چاروں کی لڑائی بند کرواتے ہی انہیں جہان صاحب کے پاس لے گئے۔۔

وہ چاروں سامنے کھڑے تھے۔۔

جہان صاحب کھڑے ہوئے ۔۔۔

“کیوں جھگڑا ہوا خود بتانا پسند کریں گے آپ لوگ؟” جہان صاحب نے کہا

“سر یہ لوگ شراب پی رہے تھے۔۔جوا کھیل رہے تھے۔۔میں مانتا ہوں انہیں منع کرنے کا میرا حق نہیں تھا۔۔مگر

یہ سب غلط ہے اگر میں انہیں چپ رہتا تو آپ کے ساتھ دھوکہ ہوتا۔۔” رامس نے کہا

جہان صاحب نے اس کی بات سن کر کمال صاحب کو دیکھا

“سر یہ صحیح کہ رہا ہے وہاں شراب کی بوتلیں پڑی ہیں۔۔اور ورکرز بھی یہی کہ رہے ہیں” کمال صاحب نے کہا

“کمال ان تینوں کا حساب کر کے نکالوں انہیں ” وہ کہتے اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔۔

وہ سب باہر جانے لگے۔۔

“مسٹر رامس آپ یہیں رکیں ” جہاں صاحب نے کہا

“جی سر” وہ چپ چاپ وہاں آکر بیٹھ گیا۔۔

“مسٹر رامس قصور تو آپ کا بھی ہے” جہان صاحب نے کہا

“مجھے پتا ہے سر ” اس نے سر جھکائے کپا

“مسٹر رامس کل سے آپ سپروائز کریں گے ورکرز کو۔۔باقی کا کام آپ کو کمال صاحب سمجھائیں گے۔۔” جہان صاحب نے کہا

اور وہ یک دم حیرانی سے انہیں دیکھنے لگا۔۔

“سر۔۔میں۔۔سپروائزر۔۔” وہ خوشی سے پوچھنے لگا۔۔

“جی ہاں۔۔لیکن آئندہ مار پیٹ نہیں کرنی بس ایسے لوگوں کو نکال دیتے ہیں۔۔مسٹر رامس ایسے لوگوں کو سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔آئندہ دھیان رکھیے گا۔۔” جہان صاحب کہ کر اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔۔

“تھینک یو سر” وہ کہتا وہاں سے آگیا۔۔

مگر اس کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ارے اماں۔۔یہ لیں مٹھائی” رامس ان کے سامنے مٹھائی رکھتے ہوئےکہا

“کس خوشی میں لائے ہو۔۔؟” اماں نے پوچھا

“ارے اماں میرے سر نے مجھے سپر وائزر بنا دیا۔۔” رامس نے خوش ہو کر بتایا

“ہیں وہ کیا ہوتا ہے؟” وہ حیرانی سے پوچھنے لگی۔۔

“اماں بڑا آدمی بن گیا یہ اب تنخواہ بھی زیادہ ملے گی ” رائنہ نے ہنس کر کہا

“اچھا ماشاءاللہ میرا بچہ” انہوں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا

“اب کوئی رشتہ دیکھ کر اپنی بہن کے فرض سے بھی آزاد ہوجا بیٹا” انہوں نے کہا

“اماں آپ تو میرے پیچھے پڑی رہا کریں۔۔” رائنہ نے چڑ کر کہا

“ہاں تو تجھے جانا نہیں ایک دن بیاہ کر۔۔”

“پہلےبھائی کی کریں گے اماں”

“اپنے پوتے کی تو میں ایسی گوری چٹی۔۔دلہن بیاہ کر لاؤں گی۔۔اور شاہ سے بیاہوں گی سب دیکھے گے” اماں نے خوش ہوکر کہا

“سن رہے ہیں ابا جی آپ۔۔پوتا اتنا پیارا۔۔اور پوتی کو ٹالنے کے چکر میں ہیں یہ” رائنہ نے خفگی سے کہا

“ہاں تو خوشی تو لڑکوں کی ہوتی ہے لڑکیوں کے تو فرض سے آزاد ہوتے ہیں بس” اماں نے ناگواری سے کہا۔۔

“ہم تو خوامخواہ آگئے” رائنہ نے کہا اور سب ہی ہنس دیے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ یونیورسٹی سے آتے ہی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

بیگ پھینکتے ہی بیڈ پر ڈھیر ہوئی۔۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔

“کم ان” اس نے اسی انداز میں کہا۔۔

“بی بی جی کھانا لگا دوں؟” ملازمہ نے کہا

“نہیں مجھے ابھی بھوک نہیں” اس نے کہا

اور ملازمہ جواب سن کر وہاں سے چلی گئی۔۔

اس نے حسبِ معمول اپنا سیل فون اٹھایا اور ڈیٹا آن کیا۔۔

آن ہوتے ہی ایک ٹون کے ساتھ اسے ایک انجانی آئی ڈی سے مسیج ملا۔۔

جس میں صرف سلام کیا گیا تھا۔۔

س نے میسج دیکھ ابرو اچکائی۔۔

پھر سین کر کے اگنور کردیا۔۔۔۔

پھر کچھ سوچتے ہوئے۔۔فون سائیڈ پر رکھا۔۔

اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

وارڈ روب کی طرف گئی۔۔

کپڑے لیے اور واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ نکلی تو اسے پھر سے میسج ٹون سنائی دی۔۔

اس نے آگے بڑھ کر سیل فون اٹھایا۔۔

تو دوبارا اسی آئی ڈی سے میسج تھا۔۔۔۔

“How are you?”

اس نے میسج پڑھا

(ریپلائے کرنے سے کوئی ہمیں کھا تو نہیں جائے گا فون سے نکل کر)

اسے آئمہ کی بات یاد آئی۔

پھر کچھ سوچ کر میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔

“I don’t wanna talk with strangers”

اس نے میسج سینڈ کیا۔۔

اور سر جھٹک کر فون بیڈ پر اچھال دیا۔۔

اور تھوڑی دیر بعد کمرے سے باہر چلی گئی۔۔

وہ رات میں جب کمرے میں آئی تو پھر سے اسے میسج ملا۔۔

“میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں صرف ایک بار پلیز۔۔”

اس نے میسیج دیکھ اگنور کیا

اسی ٹائم پھر سے میسج دو تین میسج آئے۔۔

“آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں میں ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں۔۔۔”

ایک شریف لڑکا ہوں کسی کی بہن بیٹیوں کی عزت کا پاس رکھنا جانتا ہوں۔۔ “

کیا ہم دوست بن سکتے ہیں؟”

وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔

“نہیں میں دوستی نہیں کرتی لڑکوں سے” اس نے ریپلائے کیا۔۔

“کیوں کیا لڑکے انسان نہیں؟ میں ان لڑکوں میں سے نہیں جیسے آپ سوچ رہی ہیں”

“میں کچھ بھی نہیں سوچ رہی” اس نے ٹائپ کر کے سینڈ کیا

“ایک بار کال پر بات کر سکتی ہیں پلیز بس ایک بار”

وہ میسج پڑھ کر سوچ میں پڑ گئی۔۔

پھر ڈیٹا آف کر کے فون سائیڈ پر رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔

اس لڑکے کی باتیں اس کے زہن میں گھوم رہی تھی۔۔