265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 12)

Fatoor E Man By Isra Rao

اس نے دروازہ کھولا تو سامنے رامس کھڑا تھا۔۔

“یہ کیا حال بنایا ہوا ہے؟” وہ اسے دیکھ چونکا

اس کے بال سفید ہوگئے تھے آٹے سے۔۔

وہ کوجھاڑنے لگی۔۔

“کیا کر رہی تھی تم..آپ” رامس نے بوکھلا کر کہا۔۔

اور اندر آ کر بیٹھا۔۔

“آپ پہلے decide کرلیں آپ بولنا ہے یا تم” اس نے بالوں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

ہاہاہا اچھا یہ تو بتاؤ یہ حال کیا بنایا ہوا ہے؟” رامس نے ہنس کر پوچھا

“اماں کہیں گئیں ہوئی ہیں اور کہ کر گئی ہیں کہ رات کا کھانا بنا لینا۔۔اب مجھے کچھ بنانا ہی نہیں آتا۔۔” اس نے معصومیت سے کہا۔۔

اور بدلے میں رامس کا زور دار قہقہہ گونجا۔۔

“آپ ہنس رہے ہیں؟” طلعت نے پوچھا

“اوہ میں نے تو چہے پر دال رکھی تھی۔۔” وہ کچن کی طرف بھاگی۔۔

دال چولہے پر گر رہی تھی ابل کر۔۔

اس نے بھاگ کر۔۔آنچ کم کی۔۔پھر ہاتھ سے ڈھکن پکڑ کر کھولنے لگی۔۔

ڈھکن گرم تھا۔۔۔ایک کراہ کے ساتھ پیچھے ہٹی اور انگلی کو دیکھنے لگی۔۔

تبھی رامس اس کی طرف بڑھا۔۔

“کیا ہوا دکھاؤ؟” اس نے انگلی تھامتے ہوئے کہا

“وہ میں ڈھکن۔۔” اس نے نم آنکھوں سے کہا

“تمہارے اندر دماغ نہیں ہے۔۔ایسے کھولتے ہیں ڈھکن” اس نے طلعت کی لال ہوتی انگلی دیکھ غصہ سے کہا

طلعت کو اس کا غصہ برا نہیں لگا۔۔

وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“ایک منٹ” وہ کہتا باہر نکلا اور تھوڑی دیر میں ٹیوب لایا اور اس کی انگلی پر لگانے لگا۔۔

“جب تمہیں کھانا بنانا نہیں آتا تو اماں کو بتا دیتی” رامس نے کہا

“اچھا وہ پھر سے غصہ ہوجاتی ” طلعت نے کہا

“اچھا اور یہ جو حال کچن کا بنایا ہے تم نے اسے دیکھ کر تو جیسے خوش ہوں گی نا” رامس نے مسکرا کر کہا

“تو میں کیا کروں مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا۔۔” طلعت نے افسردگی سے کہا۔۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔

اور دونوں کی ہوائیاں اڑی۔۔

“در۔۔وازے۔۔پر۔۔۔اماں آگئی ہے رامس۔۔” طلعت نے گھبرا کر کہا

“ہاں” رامس نے کہا

“مجھے بچا لو۔۔رامس وہ تو مجھے کچا ہی کھا جائیں گی آج۔۔” طلعت نے ڈرتے ہوئے رامس کو کہا

“کھولنا تو پڑے گا نا۔۔تم ایسا کرو یہ سب صاف کرو تب تک میں اماں کو باہر ہی روکتا ہوں” رامس نے کہا اور اس نے اثبات میں سر ہلایا

رامس نے باہر جا کر دروازہ کھولا۔۔

سامنے اماں اور رائنہ کھڑے تھے۔۔

“ارے اماں آپ جلدی آگئیں” رامس نے کہا

“یہ جلدی ہے نو بجنے والے ہیں۔۔” اماں نے اندر آتے ہوئے کہا۔۔

“ہاں پانی۔۔۔وہ کہاں ہے تیری بیوی۔۔۔اے لڑکی”اماں نے پکارا

“میں لاتا ہوں” رامس نے کہا اور پانی لینے چلا گیا۔۔

“یہ لیںاماں” را

س نے پانی تھماتے ہوئے کہا

“اور یہ تو نے کپڑے بھی نہیں بدلے” اماں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا

“ہاں بس ابھی آیا ہوں دیر ہوگئی تھی آج۔۔” رامس نے کہا

“مجھے تو بھوک لگ رہی ہے” رائنہ نے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“کک۔۔کہاں جا رہی ہو؟” رامس نے یک دم گھبرا کر کہا

“کچن میں۔۔۔بھابھی کو دیکھوں کیا بنایا ہے کھانا وغیرہ” رائنہ نے کہا

“نہیں تو تھک گئی ہوگی نا وہ۔۔وہ کر لے گی چھوڑ تو۔۔” رامس نے کہا

“پھر بھی دیکھوں تو سہی۔۔” رائنہ جانے لگی۔۔

“نہیں نا” رامس نے اسے روکا

“تو کیوں نہیں جانے دے رہا اسے؟” اماں نے اس کی گھبراہٹ نوٹ کرتے ہوئے پوچھا

“ارے کچھ نہیں اماں۔۔اسے خود کچھ کرنے دو گے تو وہ کرے گی نا” رامس نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔

رامس دروازہ کھولنے آگے بڑھا۔۔

دروازہ کھولا تو سامنے طارق صاحب کھڑے تھے۔۔

“اسلام علیکم” رامس نے کہا۔۔

“وعلیکم السلام۔۔” انہوں نے کہا

“یا اللہ یہ کیا کردیا لڑکی تو نے؟” اماں کی آواز رامس کے کانوں میں پڑی اور اس نے چونک کر دیکھا

“پھنس گئے” وہ کہتاتیزی سے کچن کی طرف بڑھا۔۔

وہاں گیا تو اماں کچن کے حلیے کو دیکھ پارے پر تھی۔۔

“وہ آپ نے کہا تھا کھانا بنانے کو۔۔” طلعت نے سر جھکائے گھبراتے ہوئے کہا

“تو کھانا بنانے کو کہا تھا۔۔گرانے کا نہیں” اماں نے غصہ سے کہا

“اماں اسے کھانا بنانا نہیں آتا” رامس نے کہا

“تو پھونک دیتی نہیں آتا۔۔میرا ایک مہینے کا راشن خراب کردیا اس منحوس نے” اماں چیخی۔۔

“اماں۔۔وہ۔۔” طلعت نے کچھ کہنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی اماں آگے بڑھی اور اسے بازوں سے پکڑے باہر دھکیلا

“نکل یہاں سے۔۔نکمی۔۔تیرا باپ نہیں ڈلواتا یہ راشن۔۔دفع ہوجا میری نظروں سے” اماں دھاڑی۔۔

وہ چپ چاپ آنسوں بہانے لگی۔۔

“کیا ہوگیا۔۔غلطی تو تمہاری ہے نا تم نے کیوں اسے کہا” طارق صاحب نے کہا

“مجھے کیا پتا تھا۔۔یہ منحوس میرا راشن ہی ضائع کردے گی۔۔اسے کیا پتا کس طرح دن رات کمانے کے بعد یہ ملتا ہے رزق۔۔اس کو کیوں قدر ہوگی۔۔۔اس کا باپ پیسے والا ہے نا” اماں بولتی جارہی تھی۔۔

“اماں۔۔بس کریں میں صاف کردیتی ہوں” رائنہ نے کہا

“جب نہیں آتا تھا تو کیو گھسی یہ۔۔۔اور پہلے ہی بتا دیتی منہ میں دہی جمائے بیٹھی رہی۔۔ہمارا نقصان کرنے آئی ہے منحوس۔۔۔” اماں نے غصہ سے تقریر جاری رکھی۔۔

“اماں چھوڑیں۔۔آپ۔۔” رامس نے کچھ کہنا چاہا

“دفع کردے اسے یہاں سے ابھی کے ابھی ورنہ اس کلموہی کو ابھی ہی سدھار دوں گی میں۔۔” اماں نے کہا

اور رامس اسے کمرے میں لے جانے لگا۔۔

“پتا نہیں ہمارے گلے کیوں ماری ہے اس کے گھر والوں نے۔۔

خود تو تنگ ہوں گے ہماری جان عذاب میں ڈال دی” اماں کی آواز جاتے جاتے بھی ان کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔۔

“تم بیٹھو میں آتا ہوں ” رامس نے کہا۔۔

وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔

“رونا تو بند کرو یار” اس نے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا جاؤ منہ دھو کر آؤ” رامس نے اسے کہا

اور خود باہر چلا گیا۔۔

وہ کتنی ہی دیر روتی رہی۔۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ کمرے میں آیا تو وہ اسی طرح بیٹھی رو رہی تھی۔۔

اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی۔۔جسے اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور اس کے پاس بیٹھا۔۔

“چپ ہوجاؤ یار۔۔کھانا کھاؤ۔۔” رامس نے کہا۔۔

مگر وہ اسی طرح بیٹھی رہی۔۔

“اچھا نا میں سوری کر رہا ہوں۔۔اب تو چپ ہوجاؤ” رامس نے پھر کہا۔۔

مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔

“یار۔۔۔” رامس نے اسے بازوں سے پکڑتے قریب کیا اور اس کے گرد بازو حمائل کیے۔۔

وہ ابھی بھی اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی۔۔

“رونا تو بند کرو یار” رامس نے کہا

“مجھے۔۔۔ نہیں رہنا۔۔۔ یہاں۔۔ مجھے گھر جانا ہے” اس نے ہچکیوں سے کہا

“اچھا کل چلی جانا۔۔میں خود چھوڑ کر آؤں گا ابھی تو چپ کرو۔۔اور یہ کھانا کھاؤ” رامس نے کھانے کی ٹرے آگے کی۔۔

“مجھے نہیں کھانا” اس نے روتے ہوئے کہا ۔

“پھر میں نہیں چھوڑ کر آؤں گا کھاؤ پہلے۔۔” رامس نے نوالا بنا کر اس کی طرف بڑھایا۔۔

وہ رونا بند کر کے اسے دیکھنے لگی۔۔

“کھاؤ۔۔” رامس نے کہا

اور نے چپ چاپ منہ میں لے لیا۔۔

وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟” رامس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اس نے فوراً نظر جھکا لی۔۔

“کہیں پیار تو نہیں آرہا مجھ پر؟” رامس نے شرارت سے کہا۔۔

اس کی بات پر وہ بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔

“یہ ہوئی بات۔۔۔” رامس نے ہنس کر کہا

اور اس کی طرف پھر سے نوالہ بڑھایا۔۔

“کھالو۔۔تمہاری بنائی ہوئی دال نہیں ہے” رامس نے ہنس کر کہا۔۔

بدلے میں اس نے اسے گھورا۔۔

اور رامس کا پھر سے قہقہہ گونجا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

صبح میں وہ جب اٹھا تو ڈریسنگ کے سا منے کھڑی تھی۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرایا۔۔

“واہ بھئی میری بیگم تو آج میرے لیے تیار ہو رہی ہے” رامس نے شرارت سے کہا

“نہیں جی۔۔مجھے گھر لے کر جائیں گے آپ” اس نے کہا

“کس نے کہا؟” رامس نے مکرتے ہوئے کہا

“آپ نے رات کو کہا تھا۔۔” طلعت نے یک کہا

“وہ تو تمہیں چپ کروانے کے لیے بول دیا تھا” رامس نے سنجیدگی ظاہر کی

“کیا۔؟….مجھے جانا ہے۔۔” اس نے ضد کی۔۔

“اماں سے پوچھ کر آؤ پہلے” رامس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔

“میں۔۔نہیں۔۔” اس نے منہ بنایا

اور رامس اپنا قہقہہ ضبط نا کرسکا۔۔

“لے جاؤں گا بس ایک شرط ہے” رامس نے قریب آتے ہوئے کہا۔

“کیا؟” اس نے چونک کر پوچھا

رامس نے اسے کمر سے پکڑتے خود کے قریب کیا۔۔

“پوری کرو گی؟” رامس نے شرارت بھری آنکھوں سے کہا۔۔

“نہیں” طلعت نے اس کی نظروں کو سمجھتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلا۔۔

“پھر ٹھیک ہے میں بھی نہیں لے جا رہا۔۔” رامس نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔۔

“رامس تمہیں دیر ہو رہی ہے۔۔” طلعت نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔۔

“ارے۔۔۔اتنا ٹائم اوپر ہوگیا۔۔تم مجھے باتوں میں لگا دیتی ہو۔۔دیر کروا دی نا” رامس نے جلدی سے کپڑے اٹھائے

“میں نے دیر کروائی؟” وہ چونکی۔۔

“اور نہیں تو کیا؟” وہ کہتا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اماں میں اسے اس کے گھر لے جاؤں ملوانے کافی دن ہوگئے” رامس نے ناشتہ کرنے کے بعد اماں کو دیکھتے ہوئے کہا

“ہاں۔۔ہاں لے جا دو چار دن چھوڑ کر ہی آجا۔۔ہماری تو جان چھوٹے گی کم سے کم۔۔” اماں نے ناگواری سے کہا

“جی اماں” رامس نے کہا

“اور اس کے گھر والوں کو بتانا کہ کیا گل کھلائے ہیں اس نے ” اماں نے کہا۔۔

اور رامس چپ چاپ اسے ساتھ لیے باہر نکل گیا۔۔

“جلدی بیٹھو مجھے دیر ہو رہی ہے” رامس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا

“تو میں نے دیر کروائی ہے کیا؟” اس نے کہا

“ہاں اور کیا تو۔۔” رامس نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا

“بس بس۔۔” طلعت نے اکتاہٹ سے کہا

“اچھا شام کو تیار رہنا واپسی پر پک کرلوں گا” رامس نے کہا

“نہیں شام کو کیوں اماں نے کہا ہے دو چار دن بعد۔۔” طلعت نے خوش ہوکر کہا

“اماں کے پوتے نے تو نہیں کہا نا؟” رامس نے مسکراہٹ سجائے کہا

“میں نہیں آؤں گی۔۔مجھے رہنا ہے”

“نہیں۔۔تم زیادہ فائدہ مت اٹھاؤ اگلی بار لاؤں گا بھی نہیں” رامس نے سنجیدگی سے کہا

“کیا ہے بھئی۔کتنے ٹائم بعد جارہی ہوں رہنے۔۔”

“نہیں بولا نہیں” رامس نے اسی انداز میں کہا

“کیوں نہیں چھوڑ رہے؟” اس نے تنگ آکر پوچھا

“اب صحیح سوال کیا ہے۔۔کیوں کہ میرا دل نہیں لگے گا۔۔”

“سارا دن تو آپ فیکٹری ہوتے ہیں؟”

” رات کو بھی نیند نہیں آئے گی” رامس نے شرارت سے کہا

“ہاں میں تمہیں لوری سناتی ہوں نا” طلعت نے کہا

“بیوی ہونے کے ناطے فرض تو بنتا ہے۔۔مگر تمہارے نزدیک میری اہمیت نہیں” رامس نے منہ بنایا

“اچھا” طلعت نے اسے دیکھا

“گھر آگیا جاؤ” اس نے گاڑی روکی۔۔

“اللہ حافظ” وہ کہتی باہر نکلی اور رامس کی گاڑی کو دور جاتا دیکھنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رفعت بی مجھے کھانا بنانا سکھادیں” اس نے معصومیت سے کہا

“کیا؟” انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا

“مجھے کھانا بنانا سیکھنا ہے رفعت بی۔۔ اماں کو اچھا لگے گا اگر میں کھانا بناؤں گی تو ” طلعت نے کہا

“اچھا۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے میں سکھا دوں گی۔۔” رفعت بی نے خوش ہو کر کہا

“جی۔۔پھر چلیں سکھائیں ” طلعت نے کہا

“اچھا کیا سیکھو گی سب سے پہلے؟” رفعت بی نے کچن میں آتے ہی کہا

“پراٹھے” طلعت نے فوراً کہا

“کیوں۔۔رامس کو پسند ہیں پراٹھے” رفعت بی نے ہنس کر کہا

بدلے میں طلعت کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“بابا جانی آج میں نے کھانا بنانا سیکھا ہے” طلعت نے کہا

“اچھا واہ۔۔” جہان صاحب نے کہا

“اب اماں مجھ سے ناراض بھی نہیں ہوں گی” طلعت نے کہا

“اچھی بات ہے۔۔طلعت وہاں سب کا دل جیتنا ہے آپ نے” جہان صاحب نے کہا

“بابا جانی آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں نا ؟” طلعت نے پوچھا

“نہیں۔۔اگر چاہتی ہو میں آپ سے کبھی ناراض نا ہوں تو رامس اور اس کی فیملی کو خوش رکھنا۔۔ان کا ہر کہا ماننا۔وہ اب جیسے بھی ہیں آپ کے اپنے ہیں انہیں وہی عزت دینا جو آپ مجھے دیتی ہو” جہان صاحب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

“میں آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی بابا جانی” طلعت نے کہا۔

جہان صاحب نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شام سے وہ تیار ہوکر بیٹھی رامس کا انتظار کر رہی تھی۔۔مگر رات ہوگئی تھی وہ اسے لینے نہیں آیا۔۔

“رامس نے تو کہا تھا وہ لینے آئیں گے” اس نے دل میں سوچا

پھر گیٹ کی طرف دیکھا۔۔

کوئی نہیں دکھا تو اٹھ کر فون کی طرف گئی۔۔

رامس کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔

“ہیلو” رامس نے کال رسیو کی

“ہیلو رامس” طلعت نے کہا

“ہاں بو۔۔کیسی ہو؟” رامس نے کہا

“آپ مجھے لینے نہیں آئے؟”

“نہیں”

“کیوں؟”

“تم نے خود ہی تو کہا تھا تمہیں دو تین دن رہنا ہے”

“ہاں مگر آپ نے میری بات مانی تو نہیں تھی”

“اب مان لی”

“ناراض ہو؟”

“نہیں”

“پھر لے کر جائیں مجھے”

کیوں میرے بغیر دل نہیں لگ رہا؟”

“ب ایسا تو میں نے نہیں کہا”

“تو پھر رہ لو۔۔” رامس نے یک دم کہا

طلعت کی طرف سے خاموشی تھی۔۔

“کیا ہوا؟” رامس نے پوچھا

“کچھ نہیں” طلعت نے کہا

“میری یاد آرہی ہے؟” رامس نے پوچھا

طلعت کی آنکھ سے جانے کیوں آنسوں گرا۔۔

اس نے بے ساختہ اپنے گال کو چھوا۔۔

وہ خود نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا محسوس کر رہی ہے۔۔