265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 11)

Fatoor E Man By Isra Rao

یہ الفاظ سنتے ہی طلعت کی آنکھ سے جانےکیوں آنسوں گرا۔۔

مگر اس نے کہا کچھ نہیں۔۔

“کیا ہوا؟” رامس کی بیگھی آنکھوں کو دیکھا تو پوچھنے لگا۔

“کچھ نہیں” طلعت نے کہا

اور خاموشی سے بیڈ پر ایک سائیڈ بیٹھ گئی۔۔

“شاید زیادہ بول دیا تو نے رامس” راس نے دل میں سوچا۔۔

“سوری” رامس نے کہا۔۔

مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔

“بات سنو” رامس نے اس کے کاندھے پر ہاتھ لگایا

“ڈونٹ ٹچ می۔۔۔جب میں اتنی ہی بری ہوں تو کیوں بات کر رہے ہو؟” اس نے غصہ سے کہا

“میں نے ایسا تو نہیں کہا” رامس نے فوراً کہا

“خود کیا ہو جو مجھ پر انگلی اٹھا رہے ہو؟” طلعت نے تلخ لہجے میں کہا

“سوری نا یار۔۔” رامس نے کہا

“مجھے آپ کی معافی نہیں چاہیے۔۔” وہ کہتی اٹھنے لگی۔۔

کہ رامس نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔

“چھوڑو” اس نے غصہ سے کہا

“کہاں جا رہی ہو؟” رامس نے پوچھا

“سونے” طلعت نے ہاتھ چھوڑوانے کی کوشش کی

“یہیں سوؤ گی ” اس نے کہا

“نہیں سوؤں گی کیا کرلو گے؟” طلعت نے کہا

رامس نے اس کا ہاتھ کھینچا۔۔۔

وہ یک دم بیڈ پر گری۔۔

“کرنے کو تو بہت کچھ کر سکتا ہوں” رامس نے اس پر جھکتے ہوئے کہا۔۔

طلعت اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔

اس کی گھبراہٹ اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔

رامس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

پھر یک دم پیچھے ہٹا۔۔

“چپ چاپ سو جاؤ کچھ کرنے پر مجبور مت کرو مجھے” رامس نے کہا اور لیمپ آف کر کے لیٹ گیا۔۔

“جنگلی، جاہل۔۔” اس نے غصہ سے کہا۔۔

“گالیاں صبح دینا ابھی سو جاؤ” رامس نے کہا

اور وہ منہ بناتی لٹ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ نماز پڑھ کر سوئی نہیں رفعت بی کی کہی بات پر اس نے عمل کیا۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اماں ناراض ہو۔۔

وہ جب نماز پڑھ کر آیا تو اسے بیڈ پر بیٹھی۔۔دیکھا

“سوئ نہیں” وہ قریب آتے کہنے لگا۔۔

“نہیں۔۔میں نہیں چاہتی اماں ناراض ہوں۔” اس نے کہا

اس کی بات پر رامس مسکرایا۔۔

“طلعت۔۔سوری یار” رامس نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا

“کس لیے؟” اس نے پوچھا

“اماں کی کہی باتوں کے لیے۔۔وہ ہماری شادی سے خوش نہیں تھی۔۔اس لیے وہ کڑوی باتیں کرتی ہیں۔۔اگنور کیا کرو پلیز” رامس نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

“کوئی بات نہیں” اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔۔

“اچھا اب جاگ ہی رہی ہو تو پلیز میرے کپڑے پریس کردینا۔۔۔آفس جانا ہے اور 8 بجے اٹھا دینا ۔۔” وہ کہتا بیڈ پر لیٹ گیا۔۔

اور وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ارے بھابھی آپ اٹھ گئی۔۔؟” اس نے طلعت کو کچن میں آتے دیکھ پوچھا

“ہاں۔۔اماں ڈانٹیں اس سے پہلے میں خود ہی اٹھ گئی” طلعت نے مسکرا کر کہا

“اچھا” رائنہ اس کی بات پر ہنسنے لگی۔۔

“کیا بنا رہی ہو؟”

“پراٹھے بنا رہی ہوں۔۔پتا ہے بھائی کا ناشتہ پراٹھوں کے بنا پورا نہیں ہوتا” رائنہ نے کہا

“اوہ۔۔یاد آیا رامس نے کہا تھا 8 بجے اٹھا دینا۔۔میں اٹھا کر آتی ہوں” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔

کمرے میں گئی تو وہ گہری نیند سو رہا تھا۔۔

وہ چل کر اس کے قریب گئی۔۔

“رامس۔۔اٹھ جاؤ” اس نے کہا

“اٹھ جاؤ آٹھ بج گئے۔۔” اس نے پھر کہا

مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔

“نہیں اٹھو مجھے کیا” وہ کہتی پلٹی ہی تھی کہرامس نے اس کا پکڑ کر کھینچا۔۔

اور یک دم اس کے اوپر گری۔۔

“کوئی نہیں اٹھے تو ہاتھ لگا کر اٹھاتے ہیں” رامس نے شرارت سے کہا

“چھوڑیں مجھے۔۔اور آپ اٹھے ہوئے تھے۔۔” وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی

مگر رامس نے اس کے گرد بازو حمائل کیے ہوئے تھے

“چھوڑیں مجھے۔۔۔” وہ کہنے لگی۔۔

“ایک بات پوچھوں؟” رامس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا

“کیا؟” طلعت نے پوچھا

“مجھ سے اتنا دور کیوں بھاگتی ہو۔۔؟” رامس نے پوچھا

“کیوں کہ تم سب مرد ایک جیسے ہوتے ہو” طلعت نے خود کو چھڑواتے ہوئے کہا

اس کی بات پر رامس یک دم اسے چھوڑ اٹھ بیٹھا۔۔

“کیا مطلب۔۔؟” اس نے حیرت سے پوچھا

“کچھ نہیں۔۔” طلعت نے کہا

“آپ پہلے کسی کو پسند کرتی تھی؟” رامس نے پوچھا

“ضروری تو نہیں” طلعت نے کہا

“اچھا۔۔۔اور” وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی طللعت نے اس کی بات کاٹی

“تمہیں دیر ہو رہی ہے” طلعت نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔۔

“اوہ ہاں۔۔۔مہرے کپڑے پریس کردیے؟” اس نے جلدی سے کھڑےہوتے ہوئے کہا۔۔

“ہاں۔۔” طلعت نے اس کےکپڑے اٹھا کر اس کی طرف بڑھائے

“تھینک ییی۔۔۔۔۔۔وو” شرٹ کو دیکھتے ہی اس کی آواز حلق میں ہی اٹک گئی۔۔

“یہ کیاہے؟” رامس نے اسے شرٹ دکھاتے ہوئے کہا۔۔

جو کونے سے تھوڑی سی جلی ہوئی تھی۔۔

“ہاں وہ تھوڑی سی جل گئی تھی۔۔” اس نے معصومیت سے کہا۔۔

“تو دوسریشرٹ کردیتی پریس” رامس نے غصہ سے کہا

“ارے اتنی سی تو جلی ہوئی ہے۔۔ اتنا توچل جاتا ہے” اس نے لاپرواہی سے کہا۔۔

اس کی بات سن رامس کا دل کیا۔۔ دیوار میں سر دے مارے۔۔

“کیسی پھوہڑبیوی ملی ہے” وہ دل میں سوچنےلگا

“جلی ہوئی شرٹ پہن کر جاؤں؟” رامس نے چبا کرکہا

“تو کیا ہوا؟ اتنی زیادہ بھی نہیں جلی۔۔بلکل کونے سے توجلی ہوئی ہے۔۔اور۔۔” وہ کہتی جا رہی تھی۔۔

“شٹ اپ” رامس کا میٹر ہائی ہوا

وہ یک سہم کر چپ ہوئی۔۔

اور وہ پیر پٹختا باہر نکل گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“بھابھی آپ زرا چائے کو دیکھیے گا میں بھائی کی شرٹ پریس کر آؤں انہیں دیر ہو رہی ہے” رائنہ نے کہا۔۔

اور اس نے اثبات میں سر ہلایا

رائنہ کچن سے باہر چلی گئی۔۔

سامنے ہی چولہے پر چائے چڑھی تھی۔۔

رائنہ کے باہر جاتے ہی اس کے کب سے ضبط کیے آنسوں گرنے لگے۔۔

چائے میں ابال آتا دیکھ اس نے آنسوں صاف کیے۔۔

اور اوپر آتی چائے کو پھونک مارنے لگی۔۔

تبھی اماں کچن میں آئی۔۔

یہ کیا کر رہی ہے لڑکی؟” اماں نے اسے پھونک مارت دیکھ ٹوکا

“جی۔۔وہ چائے” طلعت نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔۔

“تو یہ۔۔۔فو فو۔۔۔۔کیا ہوتا ہے ایسے ابال کو روکتے ہیں۔۔۔چولہا کم کرو۔۔” اماں نے کہا

“جی۔۔” وہ شرمندگی سے سر جھکائے کہنے لگی۔۔

تبھی چائے میں ابال آیا اور چولہے پر گرتی چلی گئی۔۔

اس نے جلدی سے چولہا بند کیا۔۔

“یہ کیا ہے لڑکی۔۔تمہیں چائے بھی نہیں بنانی آتی۔۔اتنی پھوہڑ ہو تم۔۔۔؟” وہ غصہ سے پوچھنے لگی۔۔

طلعت خاموش تھی۔۔

“لوٹھا سی ہوگئی۔۔ مگر چائے تک ڈھنگ کی نہیں بناتی۔۔کسی کام کی نہیں ہو۔۔پتا نہیں تمہارے باپ نے ہمارے متھے کیوں مارا ہے تمہیں” اماں نے کھری کھری سنا دی۔۔

تبھی رائنہ کچن میں آئی۔۔

“کیا ہوا اماں؟” رائنہ نے اماں نے غصہ کرتےدیکھ پوچھا

“چائے تک بنانی نہیں آتی اس منحوس کو۔۔ا میں پوچھتی ہوں یہ نکمی ہمارے بھاگ میں لکھی تھی۔” اماں کی تقریر جاری تھی۔۔

“آپ باہر بلیں میں لاتی ہوں چائے۔۔چلیں ” رائنہ انہیں تھامتی باہر لے گئی۔۔

اور وہ جو پہلے ہی رامس کی ڈانٹ سے ہرٹ ہوئی تھی۔۔اماں کی کڑوی باتوں سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔

اور تیزی سے اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔۔

رامس کمرے میں نہیں تھا۔۔

اس نے کمرے میں جاکر پھر سے رونے شروع کردیا

“مجھے نہیں رہنا یہاں۔۔” وہ روتے روتے خود کلامی کرنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رامس چلا گیا تھا۔۔مگر وہ کمرے نہیں نکلی۔۔

رائنہ نے کئی بار کہا۔۔

مگر اس نے ناشتہ نہیں کیا۔۔

آخر کو وہ باہر آکر بیٹھ گئی۔۔

“اماں وہ ناشتہ نہیں کر رہی۔۔آپ کو اسے ڈانٹنا نہیں چاہیے تھا۔۔” رائنہ نے کہا

“نا وہ کیا چاہتی ہے ہم منت کر کے کھانا کھلائیں؟ اس کے باپ نے ہمیں اس کی بیٹی کی جی حضوری کرنے والی نوکرانی بنایا ہے کیا؟ ” اماں نے کہا

“اماں اسے برا لگا ہوگا” رائنہ نے کہا

“برا لگا ہے تو اپنے گھر دفع ہوجائے کیوں ہمارا خون جلانے کو پڑی ہے یہاں؟” اماں نے غصہ سے کہا

“چھوڑیں نا اماں ہوجائے گی ٹھیک آہستہ آہستہ۔۔” رائنہ نے اماں کے غصہ کو دیکھتے ہوئے کہا

کلموہی نا ہو تو” اماں بڑبڑائی

“اماں آپ یہ بتائیں۔۔آپ کے کون سے کپڑے پریس کروں شام کو جانا ہے نا خالد انکل کے گھر؟” رائنہ نے بات بدلی

“ہاں جانا تو ہے۔۔تین بیٹیوں پر ہوا ہے بیٹا خوشی تو کریں گے وہ” اماں کہنے لگی

رائنہ اماں کا دھیان بٹانے میں کامیاب ہوئی تھی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

دوپیہر تک وہ خود کو نارمل کرتی باہر آگئی تھی۔۔

اس نے رائنہ کی کھانا لگانے میں اور برتن وغیرہ سمیٹنے میں مدد کی۔۔

رامس فیکٹری سے نہیں آیا تھا۔۔

شام کا وقت ہورہا تھا جب رائنہ تیار ہوکر آئی۔۔

“بھابھی ہم کسی رشتے دار کے گھر جا رہے ہیں۔۔رات تک آجائیں گے۔۔” رائنہ نے کہا

“اچھا۔۔” طلعت نے اسے دیکھا

“بھائی آجائیں گے تھوڑی دیر میں۔۔” رائنہ نے پھر کہا

تبھی اماں وہاں آئی۔۔

“اے لڑکی ہم جا رہے ہیں اور ہاں رات کا کھانا ہمارے آنے سے پہلے تیار کرلینا۔۔اور ڈھنگ کا بنانا ہے۔۔” اماں نے حکم صادر کیا۔۔

“جی” اس نے مختصر کہا

اور وہ دونوں باہر نکل گئے۔۔

وہ مرے قدموں سے کچن میں آئی۔۔

“رات کا کھانا کیسے بناؤں میں مجھے تو کچھ بنانا بھی نہیں آتا” اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

“رفعت بی نے کہا تھا ہر کام کرنا ہے” اس نے سوچا اور آگے بڑھی۔۔

“پہلے آٹا گوندھ لیتی ہوں” اس نے خود کلامی کی۔۔

کیبنیٹ کھول کر آٹے کا ڈبہ ڈھونڈنے لگی۔۔

سامنے ہی اوپر ڈبا رکھا تھا۔۔

اس نے اٹھانا چاہا۔۔مگر وہ تھوڑا وزنہ تھا۔۔

مگر وہ شاید اتنی نازک تھی کہ اس سے ڈبی تک اٹھایا نہیں گیا۔۔

اور الٹ کر ہاتھ سے چھوٹا اور آٹا گر گیا۔۔

کچھ اس کے اوپر اور کچھ فرش پر۔۔

اس نے پریشانی سے یہاں وہاں دیکھا۔۔

“یا اللہ یہ کیا ہوگیا؟” اس نے آٹے کو دیکھا

پھر ڈبے میں جھانک کر دیکھا ڈبہ میں کچھ آٹا گرنے سے بچ گیا تھا۔۔ اس نے سائیڈ سے تھالی اٹھائی اور آٹا چھاننے لگی۔۔

پھر پانی کا جگ لے آئی۔۔

جگ ہاتھ میں اٹھایا اور پانی آٹے میں ڈالنے لگی۔۔

اور کافی دیر جدوجہد کرنے کے بعد آٹے کی حالت بھی دیکھنے لائق تھی۔۔ پانی کی مقدار زیادہ ہوگئی۔۔

“یہ چپک کیوں رہا ہے رفعت بی کے ہاتھوں پر تو نہیں چپکتا تھا” اس نے ہاتھوں پر چپکا آٹا دیکھا۔۔

“شاید بیلنے سے ٹھیک ہوجائے” اس نے خود کلامی کی۔۔

اور آٹھا اٹھا کر رکھ اسے بیلنے لگی۔۔مگر وہ سارا بیلن پر بھی چپک گیا۔۔

وہ نا سمجھی سے دیکھنے لگی۔۔

پھر تنگ آکر چھوڑ دیا اور سائیڈ پر کھڑی ہوگئی۔۔

یہ مجھ سے نہیں ہوگا” وہ رونی صورت بنائے کھڑی تھی۔۔

” دال بنا لیتی ہوں” سوچ کر پھر آگے بڑھی۔۔

اور دال کا ڈبہ نکالا

“دال کیسے بناؤں؟” کھڑی سوچنے لگی۔۔

پھر دال میں پانی ڈالا اور چولہے پر رکھ دی۔۔

“اور کیا ڈلتا ہے۔۔؟ ہاں پیاز ٹماٹر” اس نے کہا اور فریج سے نکالے۔۔

افسوس کے اسے ڈھنگ سے سبزی کاٹنی بھی نہیں آتی تھی۔۔

دو دو حصے کاٹ کر ہانڈی میں ڈال دیا۔۔

اور مرچ۔۔مصالحے سب اونڈیل دیے۔۔

کچھ گرے کچھ ڈلے۔۔

“یہ بڑھا کو بھی مجھ سے کھانا بنوانا تھا۔۔” اس نے ناگواری سے کہا

اور دال کو ڈھک کر باہر نکلی۔۔

رات ہو چکی تھی۔۔

دروازے پر دستک ہوئی۔۔

اور وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔۔