Fatoor E Man By Isra Rao NovelR50469 Fatoor E Man (Episode - 13)
No Download Link
Rate this Novel
Fatoor E Man (Episode - 13)
Fatoor E Man By Isra Rao
دو دن ہو گئے تھے مگر رامس لینے نہیں آیا تھا۔۔اور یہ حقیقت تھی کہ واقع وہ اب واپس جانا چاہتی تھی۔۔
اس نے دو دن میں رفعت بی سے کچھ کھانا بنانا بھی سیکھ لیا تھا۔۔
وہ چلتی ہوئی جہان صاحب کے کمرے میں گئی۔۔
“بابا جانی” اس نے کمرے میں آتے ہی کہا
وہ بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے۔۔
“جی بیٹا” انہوں نے کہا
“بابا مجھے گھر جانا ہے اپنے” طلعت نے کہا
“کیوں؟”
“بابا جانی آپ نے کہا تھا نا وہی میرا گھر ہے۔۔تو مجھے واپس جانا ہے رامس نے دو دن کا ہی کہا تھا”
“رامس نہیں آیا لینے؟”
“نہیں شاید وہ بزی ہوں گے پتا نہیں مجھے بس واپس جانا ہے” طلعت نے کہا
“میں چھوڑ آؤں گا جب جانا ہو بتا دینا” جہان صاحب نے کہا
“پھر میں تیار ہوجاؤں؟” طلعت نے پوچھا
“ابھی جاؤ گی۔۔؟”
“جی بابا جانی ابھی “
“اچھا چلو آپ تیار ہوجاؤ” انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
انہیں آج کہیں تیار پر جانا تھا۔۔
رامس گھر آیا تو اماں ،رائنہ اور طارق صاحب تیار تھے۔۔
“ہوگئے آپ لوگ تیار؟” اس نے انہیں دیکھ پوچھا۔۔
“ہاں تم نہیں جارہے؟” اماں نے پوچھا
“نہیں اماں میرے سر میں درد ہے اور میرا بلکل بھی موڈ نہیں شادی اٹینڈ کرنے کا۔۔” رامس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا
“اچھا چل تو آرام کرلے تھکاوٹ سے ہورہا ہے سوئے گا تو ٹھیک ہوجائے گا” اماں نے کہا
“بھائی اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو میں رک جاتی ہوں” رائنہ نے کہا
“نہیں تم جاؤ۔۔بس تھوڑا سر میں درد ہے آرام کروں گا تو ٹھیک ہوجاؤں گا” رامس نے کہا۔۔
“اچھا رات کا فنکشن ہے ہوسکتا ہے صبح ہی آئیں۔۔” طارق صاحب نے کہا
اور وہ لوگ باہر نکل گئے۔۔
رامس نے دروازہ بند کیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
فریش ہوکر اس نے سر درد کی میڈیسن لی۔۔اور لیٹ گیا۔۔
لیٹا ہی تھا کہ دروازہ بجا۔۔
وہ اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا۔۔
دروازہ کھولا تو سامنے طلعت کھڑی تھی۔۔
“اسلام علیکم” طلعت نے کہا
“وعلیکم السلام۔۔کس کے ساتھ آئی ہو؟” رامس نے حیرت سے پوچھا
“بابا جانی کے ساتھ” طلعت نے پیچھے کھڑے جہان صاحب کے طرف اشارہ کیا۔۔
“اسلام علیکم سر۔۔۔”رامس نے آگے بڑھ کر ملا
“وعلیکم السلام کیسے ہو بیٹا؟” جہان صاحب بھی خوش دلی سے ملے
“بلکل ٹھیک اندر آئیں نا۔۔” رامس نے کہا
“نہیں بیٹا پھر کبھی۔۔میں بس طلعت کو چھوڑنے آیا تھا
آپلینے نہیں آئے تو اس نے کہا مجھے چھوڑ آئیں ” جہان صاحب نے کہا
“بس تھوڑا سر میں درد تھا آج۔۔اور گھر والے بھی گئے ہیں شادی پر۔۔” رامس مسکرا کر کہنے لگا۔۔
“اچھا۔۔چلو آپ آرام کرو پھر ملاقات ہوگی” جہان صاحب نے کہا۔۔
“اندر تو آتے سر۔۔” رامس نے کہا
“پھر کبھی انشاءاللہ” وہ کہتے گاڑی میں بیٹھے اور چلے گئے۔۔
اور رامس دروازہ بند کر کے اندر آیا۔۔
“تم اتنی جلدی آگئی۔۔دل نہیں لگ رہا تھا؟” رامس نے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی طلعت سے پوچھا
“نہیں” طلعت نے مختصر کہا
“کیوں؟” رامس قریب آیا
“آپ کے بغیر دل ہی نہیں لگا” طلعت نے کہا
“کیا؟۔۔۔کیا کہا؟۔۔مطلب پھر سے کہو” رامس کو جیسے اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔۔
“کچھ نہیں” طلعت نے اپنے کان سے ایئرنگ اتارت ہوئے کہا۔۔
“تم مان کیوں نہیں لیتی تم میرے بغیر اب نہیں رہ سکتی۔۔جیسے میں نہیں رہ سکتا” وہ اس کے بلکل پیچھے کھڑا تھا۔۔
آئینے میں اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“مان لیا” طلعت نے سادگی سے کہا۔۔
سچ میں؟” اسے پھر حیرت ہوئی۔۔
طلعت نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
اس نے اسے اپنے حصار میں لیا اور آئینے میں اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔وہ نظر جھکائے کھڑی تھی۔۔
رامس کی نظر اس پر سے ہٹ نہیں رہی تھی۔۔
وہ اسے دیکھ مسکرایا۔۔
اماں اور رائنہ بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ۔۔سامنے سے ایک عورت چلتی ہوئی ان کی طرف آئی۔۔
“کیسی ہیں اماں؟” اس عورت نے قریب آکر کہا۔۔
رائنہ نے انہیں دیکھ سلام کیااور وہ عورت وہیں بیٹھ گئی۔۔
“پہنچانا مجھے اماں؟” اس عورت نے کہا
“تم تو سمینہ کی بہن ہو نا؟” اماں نے پوچھا
“ہاں جی اماں۔۔کتنے وقت کے بعد ملاقات ہوئی ہے”اس عورت نے کہا
“ہاں بس شادیوں میں ملاقات ہوتی ہے ورنہ آج کل کہاں کسی کے پاس ٹائم ہے”
“صحیح کہا اماں۔۔” اس عورت نے کہا
“یہ بچی کون ہے؟” اس نے رائنہ کو دیکھ کر پوچھا
“پوتی ہے میری۔۔” اماں نے کہا
“اچھا۔۔ماشاءاللہ بہت پیاری ہے۔۔کہیں رشتہ کیا ہے اس کا؟” اس عورت نے پوچھا۔
“نہیں ابھی تو نہیں ” اماں نے کہا
“اگر آپ برا نا مانہیں تو میرا بیٹا ہے اسے دیکھ لیں” اس عورت نے کہا
“اچھا۔۔کیا کرتا ہے؟” اماں نے پوچھا۔۔
“پولیس کی نوکری لگی ہے ابھی اس کی اماں” اس نے کہا۔۔
اور کافی دیر باتیں کرتے رہے۔۔
رائنہ چپ چاپ بیٹھی تھی۔۔
“اماں گھر چلیں؟” رائنہ نے کہا
“ہاں بس چلتے ہیں؟” اماں نے کہا
“کیوں اتنی جلدی کیوں جا رہے ہو؟” اس عورت نے پوچھا
“وہ میرا پوتا گھر پر اکیلہ ہے اس کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔۔” اماں نے کہا
اور پھر سے وہ لوگ یہاں وہاں کی باتوں میں مصروف ہوگئے اور رائنہ انہیں دیکھ کر رہ گئی۔۔
رامس نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لٹایا۔۔
“آپ کے تو سر میں درد تھا؟” طلعت نے شرارت سے پوچھا۔۔
“اب غائب ہوگیا” رامس نے کہا اور اس پر جھکا ہی تھا کہ دروازہ بجا۔۔
اور طلعت یک دم ہنسنے لگی۔۔
رامس کے چہرے پر ناگواری اتری۔۔
“اب کون آگیا؟” رامس اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“کبھی اماں آئی ہو؟” طلعت نے کہا۔۔
دروازہ مسلسل بج رہا تھا۔۔اس نے جلدی سے بیڈ پر سے اپنی شرٹ اٹھائی اور پہنتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔۔
دروازہ کھولا تو سامنے اماں کھڑی تھی۔۔
“ارے اماں آپ۔۔آپ لوگ تو صبح آنے والے تھے” رامس نے حیرانی سے پوچھا۔۔
“ہاں تیری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو ہم جلدی ہی آگئے بس” اماں نے کہا۔۔
طلعت نے باہر آکر سلام کیا۔۔
“یہ کب آئی؟” اماں نے پوچھا
“تھوڑی دیر ہوئی بس۔۔۔” وہ کہتا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔
“نا اتنی جلدی آنے کی کیا ضرورت تھی تھوڑے دن رہ لیتی ویسے اس نے کون سا کام سنوارنے ہیں ہمارے” اماں نے ناگواری سے کہا
“اچھا۔۔سر درد ٹھیک ہوا؟” اماں نے پوچھا
“ہاں۔۔۔ جی جی ٹھیک ہوگیا” رامس نے بوکھلا کر کہا۔۔
“اچھا چل جا کر آرام کرلے۔۔” وہ کہنے لگی۔۔
“جی۔۔” رامس نے کہا
“اور ہاں شرٹ سیدھی کر کے پہن لے۔۔” اماں نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
یک دم سب کی توجہ رامس پر گئی۔۔
رامس نے بھی فوراً خود کو دیکھا۔۔
اس نے واقع ہی جلدی میں الٹی شرٹ پہن لی تھی۔۔
رائنہ ہنسی دباتی اپنے کمرے کی طرف چل دی۔۔
رامس نے طلعت کی طرف دیکھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔۔
“اماں نے تو میری بے عزتی ہی کردی” رامس نے کمرے میں آتے ہی کہا
“ہاں تو آپ کو دیکھ کر پہننی چاہیے تھی۔۔انہیں شک ہوجاتا تو؟” طلعت نے کہا۔۔
“کیسا شک؟” رامس نے شرارت سے پوچھا۔۔
“آپ کو پتا ہے میں کیا کہ رہی ہوں” طلعت نے مسکرا کر کہا۔۔
“ہاہاہا تو تم کیا سمجھ رہی ہو انہیں کچھ پتا نہیں چلا؟ اماں ہیں وہ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہیں” امس نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
“کیا؟ رامس۔۔کتنی شرم کی بات ہے”طلعت نے کہا
“تو شرما لو” رامس نے ڈھٹائی سے کہا
۔۔آپ۔۔آپ کی وجہ سے ہوا ہے سب” اس نے خفگی سے کہا۔۔
“تو کیا ہوا اتنا شرما کیوں رہی ہو؟” رامس نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا۔۔
“پتا نہیں وہ کیا سوچ رہے ہوں گے” طلعت نے کہا۔۔
“تو سوچنے دو۔۔” رامس نے شرارت سے کہا۔۔
طلعت کی نظریں جھکی ہوئی تھی۔۔وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔
وہ رفعت بی سے کافی کچھ سیکھ چکی تھی۔۔
وہ نماز پڑھ کر کچن میں آگئی تھی۔۔اس نے آٹا گوندھا پھر پراٹھے بنائے۔۔
چائے بنانے ہی والی تھی کہ رائنہ کچن میں داخل ہوئی۔۔
“ارے بھابھی آپ کیا کر رہی ہیں؟” رائنہ نے اسے کام کرتا دیکھ پوچھا
“ناشتہ بنا رہی ہوں” طلعت نے کہا
“آپ کو تو نہیں آتا کھانا بنانا؟”
“ہاں رفعت بی نے تھوڑا بہت سکھایا ہے”
“اچھا واہ۔۔” رائنہ نے کہااور پراٹھے اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔
پراٹھے دیکھ اس کی ہنسی نکل گئی۔۔
طلعت نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
“بھابھی ویسے بھابھی کوشش اچھی کی ہے۔۔آہستہ آہستہ اچھی بنیں گی” رائنہ نے کہا۔۔
“ہاں۔۔”
“اماں کے تو میں بنا دوں گی وہ نہیں کھائیں گی ایسے ہاں بھائی ضرور کھائیں گے” رائنہ نے شرارت سے کہا۔۔
اور دونوں ہی ہنس دی۔۔
” میں انہیں اٹھا کر آتی ہوں” طلعت کہ کر کچن سے باہر نکل گئی۔۔
“اماں ناشتہ” طلعت نے ان کے سامنے ناشتہ رکھا۔۔
اماں نے ناگواری سے اسے دیکھا پھر کھانا شروع ہوگئی۔۔
تبھی رامس نے پراٹھا اٹھا کر دیکھا۔۔
“یہ کیا ہے رائنہ۔۔؟” رامس نے کہا
“پراٹھا” رائنہ نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔۔
رامس نے طلعت کی طرف دیکھا جو انگلیاں مسل رہی تھی۔۔
“بھابھی نے بنائے ہیں ” رائنہ نے کہا
“اچھا۔۔” رامس نے کہا اور چپ چاپ کھانا شروع ہوگیا۔۔
“تو تو خود بنا دیتی۔۔اس منحوس سے تو کچھ بنے گا نہیں۔۔سارا دن کا کرتا ہے میرا پوتا اسے اس کلموہی کے ہاتھ کا بے سواد کھانا کھلائے گی” اماں نے فوراً کہا
“کوئی بات نہیں۔۔۔ اماں میں۔۔۔۔ کھا لوں گا” رامس نے کہا
“بیوی کے سامنے برائی کرتے کھانے کی تو تیری آواز کو لقوہ لگ جانا ہے۔۔یہ لے یہ کھا” اماں نے اپنا پراٹھا اس کو دیا۔۔
اس نے طلعت کو بیچارگی سے دیکھا پھر کھانے لگا۔۔
“نا دو دن رہ کر آئی کچھ سیکھ کر ہی آجاتی” اماں کی تقریر پھر سے شروع ہوگئی تھی
طلعت سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔
رامس نے ناشتہ کیا اور فیکٹری کے لیے نکل گیا۔۔
رامس کے جانے کے بعد ہر کام میں اس نے رائنہ کی مدد کی۔۔
صاف صفائی میں، کھانا بنانے میں۔۔۔
اماں نے اسے پورا دن نوٹس کیا۔۔
ہاں البتہ ان کی تقریر پورا دن جاری رہی۔۔۔
بات بات پر طلعت کو باتیں سناتی۔۔
مگر اس نے نظر انداز کرنا سیکھ لیا تھا۔۔
