265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 1)

Fatoor E Man By Isra Rao

جہان صاحب کرسی پر بیٹھے تھے ہاتھ میں تسبیح تھی۔۔

جب طلعت کمرے میں آئی۔۔

“بابا جانی” طلعت نے پیچھے سے پکارا اور ان کے گلے میں باہیں ڈال دی۔۔

“جی بابا کی جان” جہان صاحب نے اسی ٹون میں کہا

“مجھے شاپنگ کرنی ہے بابا جانی” طلعت نے کہا

“اچھا اسی لیے تو آج بابا جانی کو اتنا مسکا لگایا جا رہا ہے۔” جہان صاحب نے ہنس کر کہا

“اب ایسی بھی بات نہیں بابا جانی” طلعت نے منہ بنایا

“”میں تو مزاق کر رہا تھا میرا بچہ” انہوں نے اسے خود سے لگاتے ہوئے کہا۔۔

“بابا جانی پرسوں سب کالج کی طرف سے گھومنے جا رہے ہیں پکنک پر۔۔۔زیادہ دور نہیں بس اسلام آباد۔۔” طلعت نے کہا

جہاں صاحب خاموشی سے سن رہے تھے۔۔تسبیح کے دانے گر رہے تھے۔۔ ان کے لب بھی ہل رہے تھے۔۔

“تو میں بھی چلی جاؤں؟” طلعت نے ان کے چہرے کے تعصرات دیکھنے کی کوشش کی۔۔

یک دم جہان صاحب کا ہاتھ رک گیا۔۔

اور انہوں نے طلعت کی طرف دیکھا۔۔

“وہ۔۔میں۔۔بابا جانی۔۔وہ سب دوستیں جا رہی تھیں تو۔۔” وہ نظریں جھکا گئی۔۔

“طلعت میرا بچہ یہاں دیکھو” جہان صاحب نے مسکرا کر کہا

طلعت نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا

“آپ کو اسلام آباد گھومنا ہے نا ہم گھوما دیں گے آپ کو مگر کالج کے ساتھ جانے کی اجازت ہم نہیں دیں گے یہ آپ جانتی ہیں” جہاں صاحب نے فیصلہ سنایا۔۔

وہ خاموش ہوگئی۔۔

“سمجھ رہی ہو نا آپ؟” جہان صاحب نے پوچھا

“جی بابا جانی” اس نے بس اتنا کہا۔۔

“میرا بچہ۔۔” انہوں نے اسے گلے سے لگایا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کلاس کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھی تھی کہ آئمہ پاس آکربیٹھ گئی۔۔

“طلعت کہاں گم ہو؟” اس نے پوچھا

“کہیں نہیں” اس نے اداسی سے کہا۔۔

“کیا بات ہے؟ اداس ہو۔۔پرمیشن نہیں ملی جانے کی؟”

“نہیں” اس نی اداسی سے کہا

“مجھے پتا تھا۔۔تمہیں نہیں ملے گی پرمیشن۔۔یار تمہارے گھر میں سانس لینے پر بھی پابندی لگنے والی ہے کچھ دنوں میں” آئمہ نے کہا

طلعت اسے گھورا۔۔

“اب ایسی بھی بات نہیں میرے بابا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں” اس نے معصومیت سے کہا

“اچھا تو کیوں پابندی عائد کی ہوئی ہیں تم پر۔۔کیا اعتبار نہیں ہے؟”

“نہیں ایسا نہیں ہے” طلعت نے نفی میں سر ہلایا

“ایسی ہی بات ہے مجھے دیکھو اپنی مرضی سے جیتی ہوں، کھاتی ہوں، پیتی ہو، جہاں دل کرتا ہے جاتی ہوں۔۔ابھی تو میرے پاپا نے مجھے نیا موبائل لے کر دیا ہے ” آئمہ نے جتایا

وہ خاموشی سے اس کی بات سنتی رہی اور سوچ میں پڑ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

دھوپ بہت تیز تھی۔ رامس بائیک پر بیٹھا ٹریفک میں پھنسا تھا۔۔

پسینے میں شرا بور اس نے جیب سے رومال نکال پر ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔۔

اس نے داہنی طرف گردن گھمائی تو اس کی نظر وہیں ٹھہرگئی۔۔۔

ساتھ ہی تھوڑے فاصلے پر ایک چمچماتی گاڑی کھڑی تھی۔۔

جس کی کھڑکی پر کوئی چہرہ اسے کسی حور سے کم نہیں لگا۔۔

سفید دوپٹے کا حجاب بنائے وہ لڑکی بہت سادہ سی تھی۔۔

مگر اس کی سادگی بھی رامس کے دل میں اترتی گئی۔۔

وہ لڑکی اپنی ہی دھن میں بیٹھی تھی۔۔یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔۔

تبھی اس کی نظر رامس سے ایک پل کے لیے ملی۔۔

پھر اس نےگاڑی کا شیشہ اوپر کردیا۔۔

اور رامس یک دم شرمندہ ہوا۔۔

تبھی ٹریفک کھلا اور وہ گاڑی آگے بڑھ گئی۔۔

اور رامس بھی سر جھٹکتا آگے بڑھ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ گاڑی سے اترتے ہی سیدھی اندر تیزی سےبڑھ گئی۔۔

“ارے آگیا میرا بچہ؟” اس کالج سے آتا دیکھ جہان صاحب نے کہا۔۔

“اسلام علیکم بابا جانی” اس نے قریب آتے ہی کہا۔۔

“وعلیکم السلام میرابچہ” انہوں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا

“آپ میرا انتظار کر رہے تھے بابا جانی؟” اس نے معصومیت سے پوچھا۔۔

“ہاں بلکل ہم آپ کاانتظار کر رہے تھے” انہوں نے اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

“کیوں؟”

“آپ کوپتا ہے آپ پانچ منٹ بھی لیٹ ہوجاتی ہیں تو مجھے فکر ہوجاتی ہے” انہوں نے کہا

“آپ اتنا پیار کرتے ہیں مجھ سے بابا جانی؟”

“اس سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں آپ کے بابا آپ سے” انہوں نے پیار سے کہا

“”بابا جانی میری سالگرہ ہے دو دن بعد آپ مجھے کیا گفٹ دیں گے؟” اس نے سوال کیا۔۔

“جو میرا بچہ مانگے گا” انہوں نے ہنس کر کہا

“پکہ؟” اس نے سوال کیا

“بلکل پکہ” انہوں نے مسکرا کر کہا

“I love you بابا جانی”

وہ کہ کر ان سے لپٹ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ماں باپ کے انتقال کے بعد رامس اور رائنہ اپنے دادا دادی کے پاس رہتے تھے۔۔

رائنہ چھوٹی تھی رامس سے اور زیر تعلیم تھی۔۔

دادا سرکاری ٹیچر تھا۔۔اور رامس نے ابھی حال ہی میں تعلیم مکمل کی تھی اور نوکری کی تلاش میں تھا۔۔

وہ صبح نوکری کی تلاش میں نکلتا مگر قسمت کے ہاتھوں مجبور ہوکر پھر واپس گھر آجاتا۔۔

آج بھی وہ بہت تھک گیا تھا۔۔کھانا وغیرہ کھا کر کمرے میں لیٹ گیا۔۔

تو اسے وہی لڑکا کا عکس دکھائی دیا اس کے خیالات وہیں آ ٹھہرے۔۔

وہ ایک شریف لڑکا تھا۔۔مگر وہ انجانی شکل شاید نا چاہتے ہوئے بھی اس کی سوچ سے نہیں نکل رہی تھی۔۔

اسے سوچ رامس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

پھر کچھ سوچ کر۔۔وہ خیالات کو جھٹکتے سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

طلعت ماں کے گزرنے کے بعد اپنے باپ کے ساتھ ہی رہی تھی۔۔ ماں کا پیار اس کو یاد ہی نہیں تھا۔۔اس نے ماں اور باپ کا پیار دونوں اپنے بابا جانی میں ہی ڈھونڈا تھا۔۔

جہان صاحب ایک نیک اور رحم دل شخص تھے۔۔

وہ اکثر غریبوں کی مدد کردیا کرتے تھے۔۔

وہ نماز کے عادی تھے اور اپنی بیٹی کو بھی یہی سکھاتے

طلعت جہان صاحب کی اکلوتی اولاد تھی۔۔

جسے وہ خود سے زیادہ محبت کرتے تھے۔۔

مگر وہ اپنی بیٹی کے بارے میں بہت حساس تھے۔۔

اس کی کوئی تکلیف وہ برداشت نہیں کرتے تھے۔۔

مگر اس سب میں بھی انہوں نے طلعت کو زیادہ آزادی نہیں دی تھی۔۔ٹی وی، موبائل وہ ان سب سے دور تھی۔۔

اس نے جب سے حوش سمبھالا تھا اپنے بابا جانی کو دیکھا تھا۔۔جو نماز، قرآن پاک غرض ہر عبادت کرتے تھے۔۔