Fatoor E Man By Isra Rao NovelR50469 Fatoor E Man (Episode - 3)
No Download Link
Rate this Novel
Fatoor E Man (Episode - 3)
Fatoor E Man By Isra Rao
وہ بہت خوش ہوئی موبائل۔لے کر مگر ساتھ ہی اسے اپنے بابا کی بات بھی یاد تھی۔۔اس نے اس موبائل کو دراز میں رکھ دیا تھا۔۔کیوں کہ اس کے امتحان قریب تھے۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھی پڑھ رہی تھی۔۔کہ ملازمہ نے دستک دی۔۔
“کم ان” اس نے سر اٹھا کر کہا
“بی بی جی آپ کی دوست آئمہ آئی ہے” ملازمہ نے بتا
“اچھا اسے یہیں بھیج دو” اس نے کہا اور ملازمہ چلی گئی۔۔
تھوڑی ہی دیر میں آئمہ اندر آئی۔۔
“طلعت۔۔” اس نے پکارا
“آؤ بیٹھو۔۔آئمہ” طلعت مسکرائی۔۔
“تمہارا کمرہ بہت خوبصورت ہے” اس نے یہاں وہاں کا جائزہ لیا۔۔
طلعت ہلکا سا مسکرائی۔۔
“خیر میں نوٹس لینے آئی تھی۔۔” آئمہ نے کہا۔۔
“اچھا۔۔ویسے تمہیں ایک چیز بھی دکھانی ہے مجھے” طلعت نے خوش ہوکر کہا
“کیا؟” وہ چونکی
طلعت اٹھ کر گئی اور موبائل۔نکل کر اسے دکھایا۔۔
“میں نے کہا تھا نا میرے بابا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔ایسا ہوسکتا ہے میں کچھ مانگوں اور وہ نا دیں” وہ خوش ہوکر کہنے لگی۔۔
“واہ یار۔۔یہ تو بہت اچھا ہے۔۔” وہ موبائل دیکھ کہنے لگی۔۔
“ہاں نا” وہ مسکرائی۔۔
“اب تم واٹس ایپ اور فیس بک اکاؤنٹ بنا لینا۔۔” آئمہ نے کہا
“وہ کیسے بنتا ہے؟” وہ الجھی
بدلے میں آئمہ کا زور دار قہقہہ گونجا۔۔
“تم ہنس کیوں رہی ہو؟”
“تمہارا قصور نہیں ہے تمہارے ہاتھ میں کبھی موبائل آیا ہو تو تمہیں معلوم ہو نا” اس نے مزاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔
“ہاں تو اس میں ہنسنے کی کوئی بات نہیں” اس نے منہ بنایا
“اچھا بابا میں بنا دوں گی۔۔” آئمہ نے کہا
“ہاں لیکن ابھی نہیں پیپرز کے بعد۔۔بابا نے منع کیا ہے ابھی امتحان میں توجہ دینی ہے بس” اس نے معصومیت سے کہا۔۔
“اچھا جیسی تمہاری مرضی۔۔مجھے نوٹس دے دو میں جاؤں۔۔” آئمہ نے کہا۔۔
اور اس نے اسے نوٹس تھما دیے۔۔
“بھائی جلدی آئیں نا پیپر شروع ہونے والا ہے” رائنہ چیخی
“کیوں گلہ پھاڑ رہی ہے؟” اماں نے کہا
“مپیپر شروع ہونے والا ہے اور بھائی کمرے سے ہی نہیں نکل رہے۔۔” وہ اکتا کر کہنے لگی۔
” تو کیا ہوجائے گا دیر ہوگئی تو استانی تجھے کھا تو نہیں جسئے گی۔۔” اماں نے کہا
“ارے اماں پیپر نہیں لیں گے پھر وہ ” رائنہ نے کہا
“تو نہیں لینے دے ایک پیپر نہیں دے گی تو کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا۔۔”
“ہا۔۔اماں فیل ہوجاؤں گی”
“تو پاس ہوکر تو نے کون تیر مارنے ہیں ہانڈی روٹی ہی کرنی ہے” اماں نے ناگواری سے کہا
“ہانڈی روٹی اتنی بھی ضروری نہیں۔۔” رائنہ نے منہ بنایا
“بہت ضروری ہےاگلے گھر جا کر یہی کرنا یہ کتابیں کام نہیں آئیں گی” اماں نے کہا
تبھی رامس وہاں آیا۔۔
“چلو” رامس نے کہا
“اللہ حافظ اماں” وہ کہ کر باہر کی جانب بڑھ گئے۔۔
اس نے کالج کے دروازے پر بائیک روکی۔۔
رائنہ اتر کر کالج کے گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔۔
اور وہ واپس جانے کے لیے مڑا ہی تھا کہ سامنے گاڑی سے اترتی لڑکی پر اس کی نظر پڑی۔۔
وہی حجاب میں سادہ سی لڑکی۔۔۔
جسے پہلی دفعہ دیکھتے ہی اسے خوبصورتی کا چلتا پھرتا روپ نظر آیا۔۔
وہ ٹھہر گیا۔۔
اس کی نظریں اس پر سے ہٹ نہیں رہی تھی۔۔
وہ گاڑی اترتی سیدھی گیٹ کی طرف جا رہی تھی۔۔
سفید لباس اس کی رنگت اور بھی چمک رہی تھی۔۔
وہ اس کے سامنے سے ہوتی گیٹ کے اندر چلی گئی۔۔
اور اسے حوش تب آیا جب وہ اس کی نظروں سے بوجھل ہوئی۔۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔اس نے سر جھٹک کر بائک اسٹارٹ کی۔۔۔
“وہ جو نیا لڑکا رکھا تھا وہ کیسا کام کر رہا ہے؟” جہان صاحب نے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
“سر وہ اچھا کام کر رہا ہے زیادہ کام اس کو آتا تو نہیں مگر جو سکھا رہے ہیں وہ واقع دل سے کام کر رہا ہے۔۔” کمال صاحب نے کہا۔۔
“ہممم۔۔صحیح” انہوں نے مصروفیت سے کہا۔۔
“سر وہ چیرٹی والے بھی آئے تھے۔۔” کمال صاحب نے بتایا۔۔
“ہاں۔۔میرے دماغ سے ہی نکل گیا تھا۔۔ڈونیشن کے لیے آئے ہونگے” جہان صاحب نے کہا
“جی سر آپ کہیں تو میں ٹال دیتا ہوں انہیں” کمال نے پوچھا
“نہیں کمال انہیں میں منع نہیں کرتا یہ یتیم بچوں کے لیے لیتے ہیں۔۔” جہان صاحب نے چیک پر سائن کر کے کمال کو تھماتے ہوئے کہا۔۔
“سر اتنی بڑی رقم دیں گے تو میڈیا والے آجائیں گے یہاں” کمال نے ہنس کر کہا۔۔
“نہیں یہ رقم دیتے ہوئے انہیں کہ دینا کہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں” جہان صاحب کہ کر پھر سے کام میں مصروف ہوگئے۔۔
“سر اپنی لائف میں آپ کے جیسا انسان نہیں دیکھا۔۔
جسے پیسے کا بلکل گھمنڈ نہیں۔۔” کمال صاحب نے کہا
“کمال۔۔اللہ نے مجھے سب کچھ دیا ہے۔پیسہ، عزت، شہرت۔۔
اگر اس میں سے میں غریبوں اور یتیموں کو دے بھی دوں تو کیا حرج ہے۔۔یہی کام آئے گا کمال۔۔۔” جہان صاحب نے مسکرا کر کہا۔۔
اور کمال صاحب بھی ان کی بات پر مسکرا دیے۔۔
وہ جہان صاحب کو بہت اچھے طریقے سے جانتے تھے۔۔
وہ اکثر رائنہ کو چھوڑنے جاتا تو اسے وہی لڑکی نظر آتی۔۔
اسے دیکھ وہ یہ تو سمجھ گیا تھا کہ وہ لڑکی کوئی بہت امیر گھرانے سے ہے۔۔
اس کی گاڑی دیکھ کر ہی اس نے اندازہ لگا لیا تھا۔۔
مگر دل کے ہاتھوں مجبور وہ اس کے خیالوں کو رد نا کرسکا۔۔
رات گہری تھی مگر نیند اس سے کوسوں دور تھی۔۔
وہ لیٹا اس لڑکی کو سوچ رہا تھا۔۔
“وہ ڑکی کس قدر خوبصورت تھی۔۔جیسے رب نے اسے ہر چیز سے نواز دیا۔۔۔اور حجاب۔۔۔اس کی پارسائی کا ثبوت۔۔
ہاں۔۔ایسی ہی لڑکی تو چاہیے مجھے۔۔” وہ خوش ہوا۔۔
“لیکن میں تو۔۔میں تو ایک غریب اور وہ عالیشان گاڑیوں میں بیٹھنے والی لڑکی۔۔ میں اور اس کا کیا جوڑ۔۔میں بھی نا پتا نہیں کیا کیا سوچتا ہوں” وہ سر جھکٹکتا سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔
آج پہلی بار اسے اپنی غریبی پر افسوس ہو رہا تھا۔۔
آج آخری پیپر تھا وہ پیپر دے کر نکلی تو آئمہ ملی۔۔
“کیسا ہوا پیپر؟” آئمہ نے پوچھا۔۔
“بہت اچھا” طلعت نے خوش ہوکر کہا۔۔
“میرا بھی اچھا ہوا۔۔” آئمہ نے کہا۔۔
وہ چلتے چلتے باتیں کر رہے تھے۔۔
“نادیہ کی شادی ہے” رائنہ نے کہا
“اچھا کب؟” طلعت نے پوچھا
“ابھی ایک ہفتے بعد۔۔”
“تجھے کیسے پتا؟ اس سے بات ہوئی تمہاری” طلعت نے پوچھا
“نہیں فون کیا تھا اس نے تمہارا بھی نمبر مانگ رہی تھی۔۔”
“اچھا۔۔میں نے ابھی یوز نہیں کیا فون” وہ کہتے گیٹ سے نکلے
“میں شام کو آؤں گی تمہارے پاس پھر تمہیں فیس بک اور واٹس ایپ پر اکاؤنٹ بنا کر دوں گی اور سکھاؤں گی بھی کیسے یوز کرتے ہیں” آئمہ نے کہا
“ہاں ٹھیک ہے” وہ کہتی انجانے میں کسی شخص سے ٹکرائی۔۔
سامنے کھڑا ایک نوجوان لڑکا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“سوری” اس لڑکے نے کہا۔۔
وہ ہکی بکی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“اے مسٹر دیکھ کر نہیں چل سکتے؟” آئمہ نے کہا
“رہنے دو آئمہ چلو یہاں سے” وہ کہتی اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھ گئی۔۔
اور وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
وہ تھوڑے فاصلے پر کھڑی ایک چمچماتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے رامس کی نظروں سے غائب ہوگئی۔۔۔
شام کو رائنہ اس کے گھر آگئی تھی۔۔
اور اس نے اس کے موبائل میں فیس بک۔ واٹس ایپ سب کا اکاؤنٹ بنا دیا۔۔
اور اسے یوز کرنا بھی سکھا دیا۔۔
“آگئی نا سمجھ کیسے یوز کرنا ہے؟” آئمہ نے پوچھا
“ہاں” طلعت نے کہا
“اچھا۔۔ہاں کسی کا میسج آئے یا ریکویسٹ آئے تو ایکسپٹ مت کرنا۔۔” آئمہ نے کہا
“کس کا؟” اس نے پوچھا
“کسی کا بھی آسکتا ہے۔۔سوشل اکاؤنٹ ہے۔۔ لڑکے کا بھی لڑکی کابھی” آئمہ نے کہا
“لڑکے کا؟” وہ چونکی۔۔
“ہاں اگر تم بات کرنا چاہو تو ریپلائے بھی کر سکتی ہو” آئمہ نے شرارت سے کہا۔۔
“نہیں مجھے یہ یوز نہیں کرنا پھر میرے بابا ناراض ہوں گے” طلعت نے گھبرا کر کہا۔۔
“ارے کچھ نہیں ہوتا۔۔تم تو ڈرتی رہا کرو بس۔۔ڈیٹا آف رکھنا بس سمپل” آئمہ نے پر سکونی سے کہا۔۔
اور وہ خاموش ہوگئی۔۔
