Fatoor E Man By Isra Rao NovelR50469 Fatoor E Man (Episode - 21)
No Download Link
Rate this Novel
Fatoor E Man (Episode - 21)
Fatoor E Man By Isra Rao
رائنہ نے اندر آکر چائے رکھی۔۔
“بیٹھو” طلعت نے مسکرا کر کہا۔۔
“بھائی وسیم کی کال آئی تھی۔۔آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں۔۔” رائنہ نے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“ہاں میرے پاس بھی آئی تھی کال معذرت کر رہا تھا۔۔” رامس نے کہا
“پھر آپ نے کیا سوچا۔۔۔؟” طلعت نے پوچھا
“ہاں۔۔صحیح کہ رہا ہے اس کا قصور تو نہیں ہے۔۔مگر رافع کو بھی سبق سکھانا پڑے گا۔۔” رامس نے سوچتے ہوئے کہا۔۔
“ہم کیا کرسکتے ہیں بھائی اس کے خلاف۔۔وسیم بتا رہے تھے اس کی ایسی ہی شکایتیں آتی رہتی ہیں پتا نہیں کتنی لڑکیوں کی زندگی خراب کی ہوگی” رائنہ نے کہا
“ہاں۔۔۔” رامس سوچ میں پڑگیا۔۔
“ہمیں کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ اسے احساس ہو” رامس نے کہا
“میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیاہے۔۔” رائنہ نے یک دم کہا
“کیا؟” رامس نے پوچھا اور اس فٹافٹ سے بتادیا۔۔
طلعت بھی سن رہی تھی۔۔
“ہاں۔۔ایسا کرنے سے اسے احساس تو ہوگا” رامس نے کہا
“لیکن اس کے لیے ہمیں سدرہ(رائنہ کی نند) کی ہیلپ لینی پڑے گی”طلعت نے کہا۔۔
“ہاں۔۔” رامس نے بھی رائنہ کو دیکھا
“وہ ہیلپ کرے گی؟” طلعت نے پوچھا۔۔
“ویسے تو نہیں کرے گی سب کی چہیتی ہے۔۔۔ہاں مگر بھائی بولیں گے تو کردے گی۔۔سارا دن بھائی کی تعریف کرتی ہے” رائنہ نے ہنس کر کہا۔۔
“نہیں پلین چینج کرو۔۔۔میں اسے قریب بھی نہیں بھٹکنے دے سکتی رامس کے” طلعت نے جل کر کہا
“ارے بھابھی اور کوئی پلین نہیں ہے۔۔” رائنہ نے کہا۔۔
“ہاں صرف وہی ہماری ہیلپ کرسکتی ہے” رامس نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔۔
اور طلعت نے اسے گھوری سے نوازا۔۔
دو دن سے سدرہ کا کوئی پتا نہیں چل رہا تھا
وہ اکیڈمی گئی تھی۔۔اور واپس ہی نہیں آئی۔۔
دو دن سے رافع اور وسیم اسے ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے۔۔
“کیا ہوا کچھ پتا چلا؟” رائنہ کی ساس نے انہیں باہر سے آتا دیکھ پوچھا۔۔
“نہیں۔۔۔” رافع کی آواز میں تھکاوٹ تھی۔۔
“پتا نہیں میری بچی کیسی ہوگی؟” وہ رونے لگی۔۔
“امی ہمت سے کام لیں” وسیم نے کہا
تبھی فون بجنے لگا۔۔
“ہیلو” وسیم نے فون اٹھایا۔۔
“کیا؟ کہاں؟” وسیم چونکا۔۔
“کیا ہوا بھائی۔۔۔بھائی؟” رافع نے اسے ساکت ہوئےدیکھ پوچھا۔۔
“تیری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔بھائی مت بول مجھے” وسیم برس پڑا۔۔ اور اٹھ کھڑا ہوا
“کیا ہوا بیٹا؟” وہ گھبرائی
“مما اس کے گناہوں کی سزا ہماری بہن کو بھگتنی پڑی۔۔” وسیم دھاڑا
“پولیس کا فون تھا۔۔۔ایک لاش ملی ہے۔۔انہیں شک ہے سدرہ کی ہے” وسیم کہ کر باہر لپکا۔۔
رافع بھی اس کے پیچھے بھاگا۔۔۔
“آپ کیا کر رہے ہیں؟” اس نے کمرے میں آکر لیپ ٹاپپر انگلیاں چلاتے رامس کودیکھا۔۔
“جی۔۔نہیں وہ بس تھوڑا کام تھا۔۔۔” رامس سیدھا ہوا۔۔
واؤ۔۔ کیا میں آپ کا لیپ ٹاپ دیکھ سکتی ہوں؟” اس نے قریب آکر پوچھا
“شور۔۔۔” رامس مسکرایا۔۔
وہ لیپ ٹاپ تھام کر اس کے قریب بیٹھ گئی۔۔
اور بنا تکلف کے اس کے ساتھ فری ہونے لگی۔۔
تبھی طلعت اندر داخل ہوئی۔۔
اور انہیں یوں ہنستے مسکراتے دیکھ اس کے چہرے پر ناگواری اتری۔۔
“سدرہ۔۔آپ کو باہر رائنہ بلا رہی ہے” طلعت نے کہا۔۔
” اچھا۔۔ایکسکیوز می” وہ لیپ ٹاپ رامس کو تھما کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔اور کمرے سے نکل گئی۔۔
” چل کیا رہا تھا یہ؟” طلعت نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔
“کیا؟” رامس حیران ہوا۔۔
“کیوں اتنا فری ہو رہے تھے اس چڑیل کے ساتھ”
“فری کہاں ہوا۔۔وہ خود ہی آکر بیٹھ گئی۔۔” رامس اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
“اچھا اور آپ تو دودھ پیتے بچے ہو۔۔و چپک چپک کر باتیں کر رہے تھے اس سے” وہ ٹھیک ٹھاک غصہ میں تھی۔۔
“یار تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔۔” وہ اس کے قریب آیا۔۔
“جس کے پاس اتنی پیاری بیوی ہو وہ کسی اور کے بارے میں سوچ سکتا ہے کیا۔۔” اس نے طلعت کے گرد بازو حمائل کیے
“بس میں نے کہ دیا اس سے دور رہو گے” طلعت نے کہا
“نو حکم میری بیگم کا۔۔” رامس نے سر جھکا کر کہا۔۔
اور وہ مسکرا دی۔۔
“آپ پہنچان لیں یہ فراک ہے۔۔” پولیس والے نے ان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
وہ ان دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔وہ فراک
سدرہ کی ہی تھی جو اس وقت خون میں لت پت تھی۔۔
“بھائی یہ تو ہماری سدرہ کی فراک ہے۔۔۔” رافع نے کہا اس کی آنکھوں میں نمی اتری۔۔
“یہ ریپ اور مرڈر کیس ہے چھان بین سے پتا لگا ہے کسی نے اسے اغواہ کرلیا تھا۔۔ جیسے ہی کوئی انفارمیشن ملتی ہے ہم آپ کو اطلاع کرتے ہیں” پولیس والا کہ کر چلا گیا۔۔
وہ دونوں وہیں ساکت بیٹھے تھے۔۔
“یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے تیرے گناہوں کی سزا میری بہن کوملی ہے۔۔” وسیم نے غصہ سے کہا۔۔
“تونے کتنی لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کی۔۔ان کا خمیازہ میری بہن کو بھگتنا پڑے ہے” وہ اس کا گریبان پکڑ کرسرخ آنکھوں سے کہنے لگا۔
رافع بے بسی سے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔۔
اس کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے تھے۔۔
“ارے کسی لڑکی کی بددعا لینے سے پہلے اپنی بہن کا تو سوچ لیتا۔۔۔اب تڑپتا رہے گا نا تب بھی وہ واپس نہیں آئے گی” وسیم نے جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑا۔۔
“جن لڑکیوں کی تو زندگی خراب کرتا ہے وہ بھی کسی کی بہنیں ہیں۔۔کسی کی عزت سے کھیلتے وقت تو ایک بار اپنی بہن کے بارے میں سوچ لیتا۔۔۔تیرے کردہ گناہوں کی سزا۔۔۔ہماری سدہ کو ملی ہے۔۔۔وہ مر گئی چلی گئی ہمیں چھوڑ کر” وسیم چیخا
“بھائی مجھے معاف کردیں۔۔۔۔” رافع نے سرجھکائے کہا۔۔
“کس کس سے معافی مانگے گا؟ سدرہ سے، ہم سے، ان لڑکیوں سے جن کی تونے زندگی خراب کی یا پھر طلعت سے جس کا تو نے گھر خراب کیا۔۔؟” وسیم نے سوال کیا۔۔
وسیم کی ہر بات رافع کے دل پر لگ رہی تھی
زخم تازہ تھا اس نے اپنی لاڈلی بہن کو کھویا تھا۔۔
جس سے وہ دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتا تھا۔۔
آج اس کا خون سے لت پت فراک وہ ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔۔
وہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔
وہ وہیں زمین پر بیٹھا بچوں کی طرح رو رہا تھا۔۔
وہ کچن میں کام کرنے میں مصروف تھی۔۔کہ پیچھے سے اماں آئی۔۔
“اے لڑکی کچن میں سر پر دوپٹہ لے کر کام کیا کر” اماں نے اسے بغیر دوپٹے کے دیکھا تو ٹوکتے ہوئے کہا
“جی۔۔” وہ ہڑبڑائی اور جلدی سے سر پر دوپٹہ لیا۔۔
“تو کیا کر رہی ہے یہاں۔۔۔جا رائنہ خود بنا لے گی کھانا”
اماں نے کہا
“نہیں اماں میں بنا لوں گی وہ سارا دن کام کرتی ہے ” طلعت نے کہا
“آئے میں کرلوں گی ابھی مری نہیں ہوں۔۔” اماں نے اسے پرے ہٹایا۔۔
وہ چپ چاپ باہر آگئی۔۔
وہ کچن سے نکلی تو باہر صوفے پر بیٹھے سدرہ اور رامس بات کر رہے تھے۔۔وہ بلکل اس کے پاس بیٹھی تھی۔۔اور موبائل میں کچھ دکھا رہی تھی۔۔
طلعت کے تن بدن میں آگ لگ گئی جیسے۔۔
وہ واپس کچن میں گئی۔۔
“اماں” طلعت نے کہا۔۔
“تو گئی نہیں۔۔لڑکی” اماں نے کہا
“اماں میرے ساتھ باہر آئیں ایک بار” طلعت نے ہمت کر کے کہا۔۔
“آئے کیوں؟ کیا ہوا؟” اماں حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“اماں باہر دیکھیں تو سہی” اس نے کہا اور اماں اس کے ساتھ کچن سے باہر نکلی۔۔
اور سامنے کا منظر دیکھ اماں ٹھٹکی۔۔
“یہ کیا ہورہا ہے؟” اماں نے کہا۔۔
یک دم رامس اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“گرینی وہ۔۔” سدرہ نے بولنا چاہا
“پہلے تو تو سپاری تھوک کر آ” اماں نے چڑ کر کہا
“سپاری؟” وہ چونکی۔۔
“ہاں یہ گینی کیا ہوتا ہے؟ اماں بول” اماں نے جھاڑا
“اور دوسری بات تو ایک نامحرم سے چپک کر بات کر رہی ہے گناہ ہے یہ۔۔۔سخت گناہ” اماں نے کہا
“اماں آپ غلط” رامس نے کہا۔۔
“تو چپ کر اور کیا تو لڑکیوں کی طرح گھر میں بیٹھا رہتا ہے چھٹی ہے تو باہر جا۔۔دہی لا کر دے مجھے” اماں رامس کی ٹھیک ٹھاک بے عزتی کی۔۔
“پتا نہیں دہی کس نے ایجاد کی تھی۔۔گھر والوں کی دہی پوری نہیں ہوگی کبھی” اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا
“کیا کہ رہا ہے؟” اماں نے کہا
“کچھ نہیں جا رہا ہوں” وہ منہ بناتا باہر نکل گیا۔۔
اور سدرہ پیر پٹختی کمرے میں چلی گئی۔۔
رات کے کھانے سے فارغ ہوئے تو طلعت برتن سمیٹنے لگی۔۔
اور سدرہ اور رائنہ کمرے میں چلی گئی تھی۔۔
طلعتبرتن سمیٹ کر کچن میں چلی گئی۔۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔
رامس نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی رافع کھڑا تھا۔۔
رامس اسے دیکھ حیران ہوا۔۔
رامس نے پیچھے اماں کو دیکھ کر اشارہ کیا اور اما اٹھ کر سدرہ کو باہر آنے سے روکنے چلی گئی۔۔
“تم یہاں؟” رامس نے پوچھا۔۔
“میں۔۔۔میں معافی مانگنے آیا ہوں رامس۔۔۔تم سے طلعت سے سب سے بس ایک بار مجھے معاف کردو” رافع نے کہا
“کس بات کی معافی؟ ہمارا گھر خراب کرنے کی۔۔۔لڑکیوں کی جو زندگیاں خراب کی اس کی معافی” رامس نے چبا کر کہا
“رامس پلیز۔۔۔ طلعت کو میں نے بہکایا تھا۔۔اس کا قصور نہیں تھا۔۔وہ ایک پاک دامن لڑکی ہے۔۔میں نے جان بوجھ کر طلعت کی زندگی خراب کی۔۔۔” رافع نے رامس نے کہا۔۔
“میری۔ میری بہن نے میرے گناہوں کا قرض چکایا ہے۔۔۔میری گڑیا۔۔میری سدرہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔” اس کی آواز بھر آئی۔۔
“بھائیوں کے گناہوں کی سزا بہنوں کو کیوں ملتی ہے۔۔۔مجھے ہی ملتی اس کے بدلے مجھے ہی سزا کیوں نہیں ملی؟” اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے۔۔
