265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 20)

Fatoor E Man By Isra Rao

رامس اتنا کٹھور مت بن کہ تجھے اپنے کیے پر پچھتاوا ہو” اماں نے کہا

رامس اسی پوزیشن میں بیٹھا زمین پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔۔

“وہ بچی بہت سیدھی ہے نادان ہے اسے دنیا کی چالاکیوں کا نہیں پتا۔۔میں اسے کتنا برا بھلا کہتی تھی مگر اس نے ایک لفظ کبھی نہیں کہا۔۔۔اس نے مجھے ہمیشہ مان دیا ہے۔۔میں تو اسے چھوڑ سکتی میں جا رہی ہوں۔۔۔” اماں نے کہا

“چل رائنہ۔۔ہم طلعت سے ملنے جا رہے ہیں۔۔۔اور ہاں اسے کچھ بھی ہوا تو زمہ دار تو ہوگا” اماں کپ کر رائنہ کے ساتھ باہر نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

کیا ہوا؟ طلعت” جہان صاحب بھاگتے ہوئے آئے۔۔

“طلعت میرا بچہ” وہ اس کا گال تھپتھپا رہے تھے۔۔

“رفعت بی۔۔۔” انہوں نے پنارا۔۔

“ہمیں ابھی ڈاکٹر کے پاس جانا ہوگا۔۔” وہ رفعت بی سے کہنے لگے۔۔

اور وہ لوگ اسے ہسپتال لے کر بھاگے۔۔

“کیا ہوا ڈاکٹر “رفعت بی نےپوچھا

“انہوں نے کھانا پینا ٹھیک سے نہیں کھایا۔۔۔ایسی حالت میں آپ کو ان کی ڈائٹ کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔۔” ڈاکٹر نے کہا

“ایسی حالت۔۔۔” وہ حیران ہوئی۔۔

“یس شی از پریگنینٹ” ڈاکٹر نے کہا

“میں نے انہیں ڈرپ لگا دی ہے تھوڑی دیر میں پوری ہوجائے تو لے جا سکتے ہیں گھر۔۔بٹ آپ کو ان کی ڈائٹ کا پورا خیال رکھنا ہے۔۔کوئی بھی لاپرواہی ان کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔۔۔” وہ کہتی آگے بڑھ گئی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں اسے گھر لے آئے تھے۔۔

وہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی۔۔

اماں اور رائنہ بھی اس کے پاس ہی بیٹھی تھی۔۔

وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔

“طلعت۔۔اٹھو بیٹا۔۔کھانا کھاؤ” رفعت بی نے اسے اٹھایا۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔

“کھانا کھاؤ” رفعت بی ٹرے رکھتے ہوئے کہا

“مجھے بھوک نہیں رفعت بی۔۔” طلعت نے کہا

“دیکھا یہ آپ کی بہو ایسے ضد کرتی ہے” رفعت بی نے اماں کی طرف دیکھا۔۔

“اے لڑکی کھانا کھا لے۔۔۔اپنا نہیں تو میرے پوتے کا تو خیال کرلے” اماں نے نوالہ بنا کر اس کے منہ میں ڈالا جسے اس نے بنا چوں چرا کے کھا لیا۔۔

وہ اماں کے سامنے کہاں بول پاتی تھی۔۔

ہاں البتہ ان کا اپنے لیے پیار اور خیال دیکھ تیزی سے نمی اس کی آنکھوں میں اتری۔۔

رفعت بی مسکراتی ہوئی باہر چلی گئی۔۔

“رامس نہیں آئے؟” طلعت نے معصومیت سے نظر اٹھائے اماں اور رائنہ کو دیکھا۔۔

“وہ بھی آجائے گا۔۔۔” اماں نے کہا اور اسے پھر کھانا کھلانے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات ہونے کو تھی۔۔ہر طرف سناٹا چھایا تھا۔۔وہ اکیلہ بیڈ پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔۔

(رامس اتنا کٹھور مت بن کہ تجھے اپنے کیے پر پچھتاوا ہو)

اماں کاجملہ اس کے کانوں سے ٹکرایا۔۔

(میں نے آپ کی شادی ایک باکردار لڑکی سے کروائی دھوکہ تب ہوتا جب میں ایک بد کردار لڑکی سے آپ کا نکاح کرواتا)

(میں باپ ہوکر اس کے کردار کی گواہی دے رہا ہوں آپ شوہر ہوکر اسے نہیں سمجھ سکے؟)

بہت سی باتیں اس کی سماعتوں سے بار بار ٹکرا رہی تھی

آنسوں مسلسل بہ رہے تھے۔۔

وہ اپنے سارے طلعت کے ساتھ گزارے لمحوں کویاد کر رہا تھا۔۔

(آپ مجھے کبھی چھوڑیں گے تو نہیں نا؟)

وہ لمحہ یاد آیا جب کتنی محبت سے طلعت نے اس سے یہ سوال کیا تھا۔۔

وہ جھٹکے سے اٹھا اور کار کی چابی اٹھاتے ہوئے باہر نکلا۔۔

وہ گاڑی کو تیزی سے سڑک پر دوڑا رہا تھا۔۔

اس کا رخ جہان صاحب کے گھر کی طرف تھا۔۔

وہ اپنے دل کے آگے ہار گیا تھا۔۔

اور اسے معاف کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔۔

اس نے گاڑی گیٹ کے سامنے روکی اور تیز قدم بڑھاتا اندر گیا۔۔

وہ جب اندر داخل ہوا تو سامنے ہی رفعت بی کھڑی تھی۔۔

اسے حیرانی سے دیکھنے لگی۔۔

اس نے ان کے پاس رکھ کر گہرا سانس خارج کیا۔۔

“طلعت کہاں ہے رفعت بی؟” اس نے جلدی سے پوچھا۔۔

رفعت بی نے بغور اسے دیکھا۔۔ سرخ آنکھیں آنسوں کی چغلی کھا رہی تھی۔۔

“اپنے کمرے میں” رفعت بی نے کہتے ساتھ کمرے کی طرف اشارہ کیا۔۔

وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھا۔۔

دروازہ کھولا تو سامنے ہی بیڈ پر وہ آنکھیں موندے سورہی تھی۔۔

وہ چل کر اس کے قریب آیا۔۔

وہ اس کےقریب زمین پر بیٹھ گیا۔۔

اور اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔

صاف شفاف آنسوؤں سے دھلا زرد چہرہ۔۔

بکھرے بالوں کی کچھ آوارہ لٹیں جو چہرے کو چھیڑ رہی تھی۔۔

اسے دیکھ رامس کی آنکھ سو آنسوں گرے۔۔

وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا۔۔

پھر ہاتھ بڑھا کر اس کا سامنے بے سدھ پڑا ہاتھ تھامنا ہی چاہتا تھا۔۔

اس کے ہاتھ پر نشان اور سوجن دیکھ پچھتاوے کی لہر اس کے وجود میں سرائیت کر گئی۔۔

“یہ۔۔یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے” اس نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوں صاف کیے۔۔

“مجھے معاف کردو یار۔۔” اس نے بھری آواز سے کہا اور بیڈ پر سر ٹکائے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔

اس کی موجودگی کے احساس اور سسکیوں سے طلعت نے جھٹ سے آنکھ کھولی۔۔

” طلعت تم ٹھیک ہو؟” اس نے پریشانی سے پوچھا

“میں ٹھیک ہوں رامس” وہ اٹھ بیٹھی۔۔

“میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہوگئی۔۔۔مجھے معاف کردو۔۔” رامس نے کہا

اور اٹھ کر اس کے قریب بیڈ پر بیٹھا۔۔

“آپ نے مجھے معاف کردیا رامس” طلعت نے کہا

“ہاں۔۔۔” رامس نے کہا اور طلعت کو اپنے حصار میں لیا۔۔

وہ اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔

“مجھے تمہاری بات سننی چاہیے تھی۔۔غلطی جتنی تمہاری تھی اتنی میری بھی تھی۔۔مجھے معاف کردو” رامس نے کہا

“میں بد کردار نہیں ہوں رامس۔۔” اس نے روتے ہوئے کہا۔۔

“میں جانتا ہوں۔۔۔” رامس نے اسے چپ کرواتے ہوئے کہا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اماں رامس بھائی آگئے” رائنہ نے کہا۔۔

لاونج میں بیٹھے جہان صاحب اور اماں خوش ہوئے بات سن کر۔۔

“سچ میں؟” جہان صاحب نے کہا

“جی۔۔رفعت بی نے اسے بھابھی کے پاس بھیجا ہے۔۔”

رائنہ نے کہا۔۔

“اب سب ٹھیک ہوجائے گا ” رائنہ خوش ہوئی۔۔

“ہاں۔۔۔ کچھ چیزیں قسمت میں لکھی ہوتی ہیں۔۔” جہان صاحب نے کہا

“شاید ان دونوں کا ساتھ قسمت میں ہی تھا۔۔میری بیٹی کی ایک غلطی اسے بہت بھاری پڑی” جہان صاحب نے افسردگی سے کہا۔۔

“تبی کہتے ہیں لڑکیوں کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چایے” اماں نے کہا۔۔

“بلکل۔۔” جہان صاحب نے ہامی بھری

تبھی رائنہ کا فون بجنے لگا۔۔

اسکرین پر وسیم کالنگ لکھا تھا۔۔

وہ ایکسکیوز کرتی لاؤنج سے باہر نکلی۔۔

“ہیلو رائنہ” وسیم کی آواز ابھری

“جی” رائنہ نے مختصر کہا

“کیسی ہو؟”

“ٹھیک ہوں۔۔”

“دیکھو جو بھی ہوا میں اسےبدل نہیں سکتا مگر میں اپنے بھائی کی سائیڈ بھی نہیں لے رہا۔۔اس کی حرکتیں ہم سب جانتے ہیں مگر وہ کبھی بدلا نہیں آج تک اسے ہم سب نے بہت سمجھایا” وسیم نے کہا

“مگر۔۔۔اس کی وجہ سے میرا بھائی بھابھی کا گھر خراب ہوا ہے۔۔”

“میں جانتا ہوں اس کا قصور ہے۔۔مگر وہ کبھی نہیں سدھرے گا وہ ایسے ہی لڑکیوں کی زندگی خراب کرتا ہے” وسیم نے کہا

“یہ اچھی بات تو نہیں۔۔” رائنہ نے کہا

“تم یہ بتاؤ۔۔تم کب آؤ گی؟”

“پتا نہیں اماں اور بھائی سخت ناراض ہیں آپ لوگوں سے” رائنہ نے کہا

“میں بات کروں گا رامس بھائی سے۔۔۔” وسیم نے کہا۔۔

اور فون بند کردیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اب آپ مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہوں گے نا؟” طلعت نے اس کے گلے لگے ہوئے سادگی سے پوچھا۔۔

“نہیں کبھی نہیں۔۔” رامس نے کہا۔

“میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں رامس” طلعت نے کہا

“اور میں تم سے بھی۔۔۔ زیادی پیار کرتا ہوں ” رامس نے مسکرا کر کہا۔۔

“سچی” طلعت مسکرائی۔۔

“مچی” رامس نے اس کے ماتھے پر محبت کا نشان چھوڑا۔۔اور اسے اپنے حصار میں لیا۔۔

تبھی بے دھڑک اماں نے دروازہ کھولا۔۔اور اندر داخل ہوئی۔۔

وہ لوگ اماں کو دیکھ فوراً الگ ہوئے۔۔

“توبہ توبہ ۔۔۔۔۔۔او میاں یہ تمہارا گھر نہیں ہے۔۔۔اپنے گھر چلو۔۔” اماں نے کانوں کو ہاتھ لگایا

وہ دونوں شرمندہ ہوئے۔۔

“بری تو تم لوگوں کو میں لگتی ہوں گی۔۔مگر میں بڑی ہوں روکوں ٹوکوں گی نہیں تو ادب و آداب کیسے سیکھو گے۔۔” اماں نے کہا۔۔

انہیں اماں کی بات سن پچھلے دن پھر سے ہاد آگئے۔

“اور اب تو میرا پوتا آنے والا ہے تو میں تو بلکل بھی کوتاہی نہیں برتوں گی۔۔تمہیں اس کے آگے پیچھے منڈلانے کی ضرورت نہیں” اماں پاس آکر بیٹھی۔۔

“پوتا؟” رامس چونکا

“ہاں۔۔۔تو تو اسے بھولے بیٹھا تھا۔۔تجھے کیسا پتا ہوتا خوشخبری کا” اماں نے رامس کو چھاڑا۔۔

رامس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

کل صبح سویرے ہی وہ لوگ گھر کے لیے نکل گئے تھے۔۔

گھر پہنچ کر رائنہ نے کچن سمبھالا اور طلعت اپنے کمرے میں آرام کرنے لگی۔۔

اماں بھی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔

رامس فریش ہوکر نکلا تو۔۔طلعت کے اس کا سیل فون تھا۔۔

“وہ اسے دیکھ چونکا۔۔

“کیا کر رہی ہو” رامس نے پوچھا۔۔

“چیک کر رہی ہوں” طلعت نے کہا۔۔

کیا چیک کر رہی ہو؟” رامس نے دلچسپی سے پوچھا۔۔

“آپ کا فون” اس نے سادگی سے کہا

“فون میں کیا چیک کر رہی ہو؟” رامس مسکرایا۔۔

“کس کس لڑکی سے بات کرتے ہو۔۔” طلعت کی نظریں فون میں گڑی تھی۔۔

“ایک مصیبت جھیل رہا ہوں مزید جھیلنے کی ہمت نہیں اب” رامس کہتا آئنے کے سانے کھڑا بال خشک کرنے لگا۔۔

“آپ مجھے مصیبت کہ رہے ہیں؟” اس نے منہ بنایا۔۔

“نہیں تو۔۔۔تم کیسے مصیبت ہو سکتی ہو۔۔۔تم نے تومیری زندگی کو خوشیوں سے بھر دیا۔۔۔” رامس نے اسے پیار سے دیکھا۔۔

وہ مسکرانے لگی۔۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔

“دروازہ کیوں بند کیا۔۔رائنہ آئی ہوگی۔۔

“اماں کا کوئی بھروسہ نہیں بے دھڑک دروازہ کھول دیتی ہیں۔۔۔” رامس ہنستے ہوئے کہنے لگا اور آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔۔

سامنے ہی رائنا چائے تھامے کھڑی تھی۔۔

۔۔