265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 2)

Fatoor E Man By Isra Rao

وہ جب اٹھا تو فجر کی اذان اس کے کانوں میں پڑی۔۔

وہ اٹھا اور مسجد کی راہ لی۔۔

جب نماز پڑھ کر جانے لگا تو ایک بزرگ مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا۔۔۔ہاتھ میں لاٹھی لیے۔۔وہ یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔۔

وہ آگے بڑھا۔۔

“کیا ہوا بابا؟” رامس نے پوچھا۔۔

“بیٹا۔۔میری چپل۔۔نہیں مل رہی” اس بزرگ نے زمیں پر دیکھتے ہوئے کہا۔۔

ایک پاؤں میں چپل پہنے ہوئے وہ دوسری ڈھونڈنے کی کوشش میں تھے۔۔

رامس ان کی بات سن کر مسکرا دیا۔۔

پھر ان کی چپل ڈھونڈ کر انہیں پہنائی۔۔

“میں چھوڑ آؤں آپ کو؟” رامس نے پوچھا

“نہیں بیٹا میں چلا جاؤں گا اللہ خوش رکھے تمہیں۔۔” وہ لاٹھی تھامے دعائیں دیتا آگے بڑھ گیا اور رامس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ نماز پڑھ کر جب باہر آئی تو جہان صاحب مسجد سے آرہے تھے۔۔

“اسلام علیکم بابا جانی” اس نے سلام کیا

“وعلیکم السلام۔۔سالگرہ مبارک ہو میرا بچہ” انہوں نے اسے پیار کیا

“آپ کو یاد تھا بابا جانی؟” اس نے خوش ہو کر پوچھا

“بلکل یاد تھا۔۔نا بھی یاد ہو تو آپ روز دن بتا بتا کر یاد کروادیتی ہو؟ انہوں نے ہنس کر کہا

“بابا جانی” اس مےخفگی سے کہا

“اچھا یہ بتاؤ میری طلعت کو کیا چاہیے تحفہ؟”

“آپ مجھے دیں گے۔۔جو مانگوں گی؟” اس نے پوچھا

“بلکل دیں گے”

“”پرومس؟” اس نے ہاتھ آگے کیا

“ایسا کیا چاہیے؟” انہوں نے حیرانی سے پوچھا

“آپ وعدہ کریں پہلے” اس نے ضد کی

“اچھا چلیں وعدہ بس اب بتاؤ کیا چاہیے؟”

“موبائل فون” اس نے آہستگی سےکہا

“کیا؟” وہ یک دم چونکے

“بابا جانی ہمیں پتہ تھا آپ نہیں دیں گے ہمیں یہ گفٹ” اس نے منہ بناتے ہوئے کہا

“موبائل فون کا کیا کرو گی آپ؟ ” انہوں نے پوچھا

“بابا جانی یہ تو ایک ضرورت کی چیز ہے سب کے پاس ہوتا ہے بس میرے پاس ہی نہیں ہے” اس نے کہا

“مگر آپ کو کیا ضرورت ہے اس کی؟”

“میری بھی دوستیں ہیں مجھے ان سے بات کرنی ہوتی ہے۔۔

مجھے پڑھائی میں بھی مدد ملے گی اس سے۔۔بس مجھے چاہیے بابا جانی” اس نے ضد کی۔۔

“مجھے فیکٹری کے لیے لیٹ ہو رہا ہے بیٹا میں بعد میں بات کروں گا رفعت بی کو کہو ناشتہ لگائیں” وہ کہتا کھڑا ہوگیا۔۔

اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔

اور وہیں بیٹھی انہیں جاتا دیکھنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اماں ناشتہ دے دیں مجھے دیر ہو رہی ہے” رامس نے کہا

“کہاں جانا ہے؟” سکینہ بیگم نے ناشتہ رکھتے ہوئے کہا

“بتایا تو تھا اماں انٹرویو کے لیے جانا ہے” اس نے کہا

“روز ہی جاتے ہو واپس آجاتے ہو” اماں نے منہ بناتے ہوئے کہا

“ہاں بس آپ بھی اب طعنہ دے دیں اماں” اس نے خفگی سے کہا

“طعنہ کہاں مار رہی ہوں میں۔۔نہ آگ لگے ایسے ملک کو جہاں میرے پوتے کے لیے ایک نوکری تک نہیں” ان کی بات سنتے ہی رامس ہنسنے لگا۔۔

“آپ کو پتا تو ہے بیروز گاری ہے ملک میں اچھی نوکری کہاں ملتی ہے؟”

“نیت اچھی ہو تو ضرور مل جائے گی۔۔امید اچھی رکھو” طارق صاحب نے کہا

“نہ۔۔آپ کو کیا لگتا ہے میرے پوتے کی نیت اچھی نہیں؟” انہوں نے خفگی سے پوچھا

” مجھے دیر ہو رہی ہے دفتر کے لیے” وہ اٹھ کھڑے ہوئے

اور انہیں دیکھ رامس کی ہنسی نکل گئی۔۔

“ویسے اماں ابھی بھی ابا جی ڈرتے ہیں آپ سے ” رامس نے کہا

“ابھی میں نے ڈرایا ہی کہاں ہے؟” انہوں نے کہا

اور رامس پھر سے اپنا قہقہہ ضبط نا کر سکا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کب سے بیٹھا انٹرویو کے لیے انتظار کر رہا تھا۔۔

جب اس کے سامنے سے جہان صاحب گزر رہے تھے ان کی نظر سامنے بیٹھے رامس پر پڑی۔۔۔وہ لمحہ بھر رکے۔۔

رامس انہیں دیکھ کھڑا ہوا۔۔

وہ پھر چپ چاپ اندر بڑھ گئے۔۔

اور رامس سر جھٹکتے پھر سے بیٹھ گیا۔۔

وہ اپنے ہی خیالوں میں بیٹھا پھر سے انتظار کرنے لگا۔۔

تبھی اسے اندر بلایا گیا۔۔

اور وہ حیران ہوا۔۔

وہ اندر گیا تو سامنے ہی جہان صاحب بیٹھے فون پر بات کر رہے تھے۔۔

“اسلام علیکم سر” وہ سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔۔

انہوں نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔پھر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔

وہ چپ چاپ بیٹھ گیا۔۔

“جی۔۔” انہوں نے فوں نے فون بند کرتے ہی اسے دیکھا۔۔

“سر یہ میری سی وی اور۔۔۔” اس نے فائل بڑھاتے ہوئے کہا۔۔

“آپ کا نام۔۔؟” انہوں نے فائل۔پکڑتے ہوئے کہا۔۔

“رامس شیخ” اس نے یک دم کہا

“جی مسٹر رامس آپ سلیکٹ ہیں کل سے آپ جوئن کر سکتے ہیں کام آپکو کمال صاحب سمجھا دیں گے” انہوں نے فائل کو ایک نظر دیکھ کر بند کرتے ہوئے کہا۔۔

“جی۔۔؟” وہ حیران ہوا۔۔

“یہ جاب آپ کو پتا میں نے کیوں دی آپ کو؟” جہان صاحب نے پوچھا

وہ حیرانی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔

“میں نے ایک بار آپ کو مسجد میں کسی بزرگ کی مدد کرتے دیکھا تھا۔۔میں امپریس ہوا آپ سے۔۔” انہوں نے مسکرا کرکہا

“شکریہ سر” اس نے خوش ہوکر کہا۔۔

اور وہاں سے آگیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اماں۔۔اماں” اس نے گھر آتے ہی پکارا۔۔

“ہاں۔۔کیا ہوا رامس” انہوں نے آتے ہی کہا۔۔

“مجھے نوکری مل گئی ہے اماں۔۔” رامس نے خوش ہو کر کہا

“اچھا۔۔ماشاءاللہ میں نا کہتی تھی۔۔میرا پوتا کتنا ہوشیار ہے” انہوں نے خوش ہوکر کہا

“بہت بڑی فیکٹری ہے ابا جی۔۔اور وہ اونر بھی جہان زرگل ایک نیک انسان ہے” اس نے بتایا

“جہان زرگل؟ انہوں نے کیسے جاب پر رکھ لیا تمہیں؟” طارق صاحب حیران ہوئے

“کیوں میرے پوتےکو جاب نہیں مل سکتی؟” وہ چڑ کر کہنے لگی۔۔

“تم تو گلے ہی پڑ جایا کرو۔۔میں نے پوچھا ہے۔۔پتا بھی ہے وہ کون ہے؟ بہت نام ہے اس شخص کا” طارق صاحب نے بتایا۔۔

“جی ابا۔۔س اللہ کا کرم ہے” رامس نے کہا۔۔

“اماں ایک گلاس پانی پلا دیں” رامس نے کہا۔۔

“رائنہ بھائی کو پانی دو” انہوں نے پاس کھڑی رائنہ کو کہا۔۔

“مجھے تو آئس کریم کھانی ہے اب” رائنہ نے پانی تھماتے ہی کہا۔۔ اور اس کے پاس بیٹھ گئی

“مل جائے گی اور کچھ” رامس نے مسکرا کر کہا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ہر سال کی طرح آج اس کی پسند کا ہر کھانا بنا تھا۔۔

غریبوں میں چیزیں تقسیم ہوئی۔۔

مگر وہ اداس تھی۔۔اس نے جو گفٹ مانگا تھا اسے نہیں ملا تھا۔۔

وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔۔جب جہان صاحب وہاں آئے۔۔

“طلعت بیٹا” انہوں نے پکارا

“جی بابا جانی” وہ کھڑی ہوئی

“آپ مجھ سے ملنے نہیں آئی کمرے میں آج؟” انہوں نے پوچھا

“کیوں کہ میں آپ سے ناراض ہوں ” اس نے خفگی سے کہا۔۔۔

“کیوں؟” انہوں نے حیرانی سے پوچھا۔۔

“بابا جانی میں آپ کی ساری باتیں مانتی ہوں۔۔مگر آپ میری اتنی سی ضد پوری نہیں کر سکتے؟۔۔پھر میں بھی آپ سے بات نہیں کروں گی” اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔

“ارے میرا بچہ تو ناراض ہوگیا۔۔” انہوں نے ہنس کر کہا

“جی میں آپ سے ناراض ہوں” اس نے منہ پھیرتے ہوئے کہا

“اب بھی ناراض ہو؟” انہوں نے اس کے سامنے بوکس لاتے ہوئے کہا۔۔

“یہ؟” اس نے جہان صاحب کی طرف دیکھا۔۔

“کھول کر دیکھو” انہوں نے کہا

طلعت نے فٹ سے بوکس تھام کر کھولا۔۔

اس میں ایک نیا موبائل سیٹ تھا۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرائی۔۔

“موبائل” وہ خوشی سے جہان صاحب کو دیکھنے لگی۔۔

“جیہاں۔۔مگر یاد رکھنا بیٹا اس کا غلط اور صحیح استعمال آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔ایسا کوئی کام مت کرنا کہ آپ کے بابا کا سر نیچا ہو” جہان صاحب نے اسے تاکید کی۔۔

“تھینک یو بابا جانی” وہ خوش ہوتی ان کے گلے لگی۔۔

“آپ دنیا کے سب سے اچھے بابا ہیں” اس نے خوش ہوکر کہا

“اور آپ سب سے اچھی بیٹی” انہوں نے مسکرا کر کہا۔۔