Fatoor E Man By Isra Rao NovelR50469 Fatoor E Man (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Fatoor E Man (Episode - 15)
Fatoor E Man By Isra Rao
اسنے دیکھا سامنے اماں کھڑی تھی۔۔
“سس۔۔سوری اماں۔۔وہ” وہ ہکلائی۔۔
“اندھی ہوگئی دیکھ کر نہیں چل سکتی اور یہ بھاگ کیوں رہی تھی۔۔” اماں نے غصہ سے کہا
“وہ۔۔” طلعت گھبرائی
“لوٹھا سی ہوگئی۔۔مگر بچوں کی طرح دوڑ رہی ہے۔۔جیسے کتا پڑا ہو پیچھے۔۔” اماں غرائی
اماں کی بات پر اس کی زور سے ہنسی نکلی۔۔
“ہنس رہی ہے۔۔؟” اماں نے کہا
“نہیں۔۔نہیں اماں وہ۔۔” طلعت کی نسی یک دم غائب ہوئی۔۔
“چل دفع ہو یہاں سے۔۔ بٹیر جیسی آنکھیں لیے گھوم رہی ہے پھر بھی اندھوں کی طرح گھوم رہی ہے منحوس” اماں نے کہا۔
اور وہ خاموشی سے کچن میں چلی گئی۔۔۔
“رامس” طلعت نے پاس بیٹھے فون میں لگے رامس کو دیکھا۔۔
“ہممم” وہ ابھی بھی موبائل میں لگا تھا۔۔
“رائنہ کے سسرال والے کیسے لوگ ہیں اور لڑکا کیسا ہے؟” طلعت نے پوچھا
“اچھےوگ ہیں۔۔۔۔” رامس نے کہا۔۔
“شادی کا کب کا ارادہ ہے؟”
“آئیں گے وہ لوگ پھر کرتے ہیں فکس” رامس نے کہا
“اچھا۔۔” طلعت نے کہا
“ویسے وہ چلی گئی تو میرا دل نہیں لگے گا” طلعت نے افسردگی سے کہا۔۔
“ہاں”
“پتا ہے میرا شروع شروع میں یہاں دل نہیں لگتا تھا یہاں کا ماحول یہ گھر سب عجیب لگتا تھا۔۔اب دل لگ گیا۔۔
بس کبھی کبھی بابا جانی یاد آجاتے ہیں” طلعت نے کہا
“تو چلی جاتی ملنے۔۔” رامس نے کہا
“نہیں بابا جانی اور رفعت بی نے کہا تھا کہ وہاں دل لگانا سیکھو۔۔” طلعت نے معصومیت سے کہا
“اچھا اور کیا کہا انہوں نے؟” رامس نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“کہ رامس بہت اچھا لڑکا ہے۔۔اس کے گھر والوں کا دل جیتنا..” طلعت نے کہا۔۔
“اچھا۔۔طلعت ایک بات تو بتاؤ؟” رامس نے کہا
“جی۔۔پوچھیں”
“تمہاری شادی کیوں ٹوٹی تھی وہ بھی دن کے دن۔۔اور تم اس دن شادی سے ایک دن پہلے وہاں اسلام آباد میں کیا کر رہی تھی؟” رامس کی ساری توجہ اس پر تھی۔۔
“پہلے آپ یہ بتائیں آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی؟”
“جہان صاحب نے منت کی کہ ان کی عزت کا سوال ہے اور ان کے بہت احسان ہیں مجھ پر تو میں انہیں منا نہیں کرسکا۔۔وہ وقت ہی ایسا تھا بہت زیادہ سوال جواب میں نے کیے ہی نہیں” رامس نے کہا
“اچھا۔۔” طلعت نے مختصر کہا
“بتاؤ اب” رامس نے کہا۔۔
“اے لڑکی۔۔” طلعت کچھ کہتی اس سے پہلے ہی اماں کی آواز آئی۔۔
وہ تیزی سے اٹھ کر باہر گئی۔۔
“جی اماں” اس نے باہر آتے ہی کہا۔۔
“4 بج رہے ہیں۔۔چائے کب ملے گی۔۔اور تجھے شرم نہیں آتی دن دہاڑے کمرے میں گھسے۔۔” اماں نے اسے جھاڑا
“اماں میں سونے۔۔”
“سونے یا چونچ لڑانے۔۔پتا نہیں کیسا دور آگیا ہے کوئی شرم و حیا ہی نہیں۔۔چل جا چائے بنا” اماں نے اسے لتھاڑا
وہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔
طلعت کے کھانے میں تو اب نقص اماں چاہ کر بھی نہیں نکال پاتی۔۔
کیوں کہ وہ کافی حد تک اچھا کھانا بنانے لگی تھی۔۔
ہاں مگر اماں سنانے کا بہانا ڈھونڈ ہی لیتی۔۔
رات کے کھانے کے بعد طلعت نے روٹین بنا لی تھی کہ اماں کو دودھ دینے جاتی اور ان کے پاؤں دباتی۔۔
اتنی خدمتوں کے بعد بھی اماں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔۔
ہاں مگر اب اماں اس سے نفرت نہیں کرتی تھی۔۔
وہ اب اسے گھر کا فرد سمجھنے لگی تھی۔۔ہاں مگر عادت سے مجبور تھی ٹوکنا اور ڈانٹنا ان کی عادت تھی۔۔
وہ کام سے فارغ ہوکر کمرے میں گئی تو رامس لیبپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔۔
“رامس۔۔سارا دن کام میں لگے رہتے ہو۔۔بند کردو اسے” اس نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“یار میل کرنی ہے بس زیادہ کام نہیں ہے” رامس نے کہا۔۔
“مجھے نہیں پتا بند کرو۔۔” اس نے اس کے کاندھے سے سر ٹکاتے ہوئے کہا۔۔
“کیوں۔۔کیا موڈ ہے؟” رامس نے شرارت سے اسے دیکھا۔۔
“بلی کے خواب میں چھیچھڑے۔۔” طلعت نے ہنس کر کہا۔۔
“تم خود کو خود ہی بول رہی ہو۔۔میں نے تو کچھ نہیں کہا” رامس اس کی بات پر ہنسا
“نہیں میں تو بلی ہوں۔۔۔” طلعت نے کہا۔۔
“اور میں بلا۔۔” رامس نے شرارت سے کہا۔۔
“آپ کو بند تو کرنا نہیں یہ میں تو سو رہی ہوں” طلعت کہ کر برابر میں لیٹ گئی۔۔
“بس پانچ منٹ یار۔۔کرتا ہوں بند” رامس نے پھر سے نظریں لیپ ٹاپ پر گاڑتے ہوئے کہا۔۔
“اوکے” وہ چپ چاپ لیٹی اسے دیکھنے لگی۔۔
وہ چپ چاپ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا
اس کے دماغ میں فوراً قرآن مجید کی آیات لہرائی۔۔
“تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے”
وہ بے ساختہ مسکرائی۔۔
“میں تو اتنی گنہگار اور بری لڑکی تھی میرے گناہ معافی کے لائق تو نہیں تھے۔۔مگر میرے اللہ نے مجھے معاف کردیا۔۔اتنا اچھا تحفہ دیا۔۔ تمہیں پانے کے بعد میری پوری زندگی شکر میں گزرے گی۔۔میرے بابا کا فیصلہ واقع بہت بہتر تھا بس میں ہی نہیں سمجھ پائی تھی۔۔” وہ دل میں سوچنے لگی۔۔
سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھیں بند ہوئی اور نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔
رامس کے پانچ منٹ پورے بیس منٹ بعد ختم ہوئے اس نے
ایک نظر پاس سوئی ہوئی طلعت پر ڈالی۔۔
پھر مسکرانے لگا۔۔
لیپ ٹاپ بند کر لیٹ گیا۔۔
آج گھر پر مہمان آئے تھے رائنہ کے سسرال والے۔۔
طلعت صبح سے کام میں لگی ہوئی تھی۔۔
رائنہ کی ساس اور سسر۔۔اور ایک سترہ سالا نند آئی ہوئی تھی۔۔
۔۔
سب نے مل کر اگلے مہینے کی تاریخ فکس کی شادی کی۔۔
اس لڑکی کی نظر وقفے وقفے رامس کی طرف اٹھ رہی تھی۔۔جسے طلعت بخوبی نوٹس کر رہی تھی۔۔
“آپ مجھے لاہور گھما دیں گے” اس لڑکی نے اترا کر کہا۔۔
“ہا۔۔ہاں ” رامس نے مسکرا کر کہا۔۔
“تو پھر چلیں۔۔” وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“بس دس منٹ ” وہ کہتا روم کی جانب بڑھ گیا
طلعت بھی اس کے پیچھے گئی۔۔
“کہاں جا رہے ہیں؟” طلعت نے کہا
“وہ رائنہ کی نند ہے نا کہ رہی ہے گھمانے کا۔۔” رامس نے آئینے میں کھڑے بال بناتے ہوئے کہا
“آپ نہیں جاؤ گے” طلعت نے کہا
“کیوں؟” وہ حیران ہوا۔۔
“ایسی لڑکیوں کو خوب جانتی ہوں میں فری ہومے کی کوشش کر رہی ہے” طلعت نے جل کر کہا
“بچی ہے وہ یار” رامس نے تنک کر کہا
“بچی نہیں ہے وہ۔۔تاڑنے والی بچی ہے” طلعت نے فوراً کہا
اور رامس اپنا قہقہہ ضبط نا کر سکا۔۔
“آپ ہنس رہے ہیں۔۔میں نے کہ دیا بس آپ نہیں جائیں گے”
“ارے میں کیا کہ کر انکار کروں؟”
“مجھے نہیں پتا”
“تم بھی چلو ساتھ”
“نہیں کام ہے بہت..بس آپ نہیں جاؤ گے” طلعت نے کہا
“تم پاگل ہوگئی۔۔” وہ کہتا روم سے نکل گیا۔۔
“پھر کبھی گھومنے جانا ابھی ہمیں واپسی کے لیے نکلنا ہے” رائنہ کی ساس نے کہا
“مگر مما مجھے گھومنا تھا” اس لڑکی نے کہا
“اب رو یہاں آتے ہی رہنا ہے۔۔پھر کبھی گھوم لینا”
“گھوم آنے دو بچی ہے” اماں نے کہا
رامس اور طلعت بھی وہیں کھڑے تھے۔۔
“اماں ابھی واپسی کے لیے نکلنا ہے پھر کبھی گھوم لے گی۔۔انہوں نے کہا
اور تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ واپسی کے لیے نکل گئے۔۔
اور طلعت نے سکون کا سانس لیا۔۔
اور سب یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے۔۔
رائنہ کچن میں جا ہی رہی تھی کہ اماں نے اسے ٹوکا
“تیری شادی ہونے والی ہے اب کچھ ڈھنگ سیکھ لے” اماں نے رائنہ کوٹوکا
“میں نے کیا کردیا اب” رائنہ نے کہا
“سر پر دوپٹہ لیا کر سسرال جائے گی یہی لکچن رہیں گے ورنہ” اماں نے ناگواری سے کہا
“ارے اماں وہ لوگ اوپن مائنڈ بندے ہیں” رامس نے کہا
“ائے۔۔دوپٹہ تو لینا ہی پڑتاہے۔۔۔ایمان سے ہمارے دور میں یہ بے حیائی نہ تھی۔۔ہم تو گھونگھٹ کر کے رکھتے تھے” اماں نے جتایا
“کس سے” رائنہ نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
“جیٹھ سے، سسر سے، شوہر سے۔۔سب سے کرتے تھے” اماں نے کہا۔۔یک دم ان کی بات پر طلعت کی ہنسی نکلی جسے مہارت سے اس نے منہ پر ہاتھ رکھے ضبط کی۔۔
رامس نے بھی حیرانی سے اماں کو دیکھا۔۔
“اماں شوہر سے کون پردہ کرتا ہے؟” رائنہ نے پوچھا
“ہائے۔۔کرتے تھے ہمارے دور میں۔۔پھر اللہ جنت نصیب کرے میرے ساس سسر کے مرنے کے بعد گھونگھٹ کھولا تھا میں نے تیرے دادا سے۔۔۔” اماں نے سنجیدگی سے کہا
“سچی اماں” رائنہ کو دلچسپی ہوئی۔۔
“اور نہیں تو کیا۔۔یہ گج بھر کا تھا تیرا ابا۔۔تک میری گود میں۔۔” اماں نے بتایا۔۔
طلعت سے اب ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔
وہ تیز قدم بڑھا کر کمرے میں چلی گئی۔۔
کمرے میں جاتے ہی کب سے روکی ہوئی ہنسی مزید نا رک سکی۔۔اور قہقہ لگا کر ہنسنے لگی۔۔
