Fatoor E Man By Isra Rao NovelR50469 Fatoor E Man (Episode - 16)
No Download Link
Rate this Novel
Fatoor E Man (Episode - 16)
Fatoor E Man By Isra Rao
رامس جب کمرے میں آیا تو وہ لوٹ پوٹ ہورہی تھی ہنس ہنس کر۔۔
“کیا پاگل ہوگئی ہو اکیلی ہنس رہی ہو” رامس نے کہا۔۔
“اماں کی باتوں پر ہنسی آرہی ہے۔۔شوہر سے پردہ۔۔ہاہاہا” وہ پھر ہنسنے لگی۔۔
رامس بھی ہنسنے لگا۔۔
“کہتی تمہارا ابو گود میں تھا اس ٹائم۔۔گود میں آیا کیسے جب پردہ تھا تو” وہ پھر سے لوٹ پوٹ ہونے لگی۔۔
“میں بتاؤں کیسے؟” وہ قریب آتے ہوئے کہنے لگا۔۔
وہ دبک کر پیچھے ہٹی۔۔
“بھاگ کہاں رہی ہو؟” وہ کہتا اسے پکڑنے لگا کہ وہ بیڈ پر چڑھ گئی۔۔
وہ تیزی سے اسے پکڑنے بیڈ کے قریب گیا۔۔
تبھی اماں نے دروازہ کھولا۔۔
۔۔
۔۔
وہ دونوں یک دم گھبرائے۔۔
“یہ کر کیا رہی ہے تو اوپر چڑھی؟” اماں نے غصہ سے پوچھا۔۔
“وہ اماں۔۔” اس کی آواز حلق میں ہی رہ گئی۔۔
“وہ وہ کیا کر کیا رہی ہے ” اماں غرائی۔۔
“اماں یہ وہ۔۔۔جالے۔۔جالے لگے ہوئے تھے نا وہ دیکھ رہی تھی” رامس نے بہانا بنایا
“تو دیکھنے سے کیا ہوگا صاف کرے۔۔صفائی ڈھنگ سے نہیں کرتی تبھی جالے لگنے کی نوبت آئی ہے نا” اماں نے تقریر شروع کی
“آپ کو کچھ چاہیےتھا اماں؟” رامس نے کہا
“ہاں وہ میرے سر میں درد ہے۔۔گولی دے دے مجھے” اماں نے کہا۔۔
“جی اماں ” رامس نے گولی لاکر انہیں دی۔۔۔اور وہ لے کر باہر نکل گئی۔۔
ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
اور یک دم ہی وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیے ۔
سب شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔
دن ایسے ہی گزرتے جارہے تھے۔۔
رائنہ کی شادی قریب تھی۔۔
انہوں نے بہت سی تیاریا مکمل کرلی تھی۔۔
ہاں البتہ طلعت کی اور رائنہ کی کچھ شاپنگ رہتی تھی۔۔
وہ لوگ آج رامس کے ساتھ شاپنگ پر نکلے تھے۔۔
ساتھ اماں بھی تھی۔۔
وہ لوگ لہنگے خریدنے شاپ پر گئے۔۔
“وہ والا لہنگا دکھائیں” رائنہ نے اشارہ کیا۔۔
“اچھا ہے نا؟” رائنہ نے پوچھا
“ہاں۔۔قیمت کیا ہے؟” طلعت نے پوچھا
“70,000 only”
شاپ والے نے کہا۔۔
“کتنے؟” اماں نے پوچھا
“ستر ہزار ۔۔” طلعت نے بتایا۔۔
“اتنا مہنگا۔۔؟” اماں کو جھٹکا لگا
“یہ کپڑے کی دکان ہے یا سونار کی؟” اماں نے پوچھا۔۔
“کیا ہوا؟” رامس قریب آیا۔۔
“یہ لہنگا لے رہے ہیں موئے نے قیمت ہی اتنی بتا دی۔۔نا کیا کیا لگایا ہے تم لوگوں نے ایسا اس میں۔۔” اماں نے ناگواری سے کہا
“دیکھیے ہمارے فکس ریٹ ہیں؟” شاپ والے نے کہا۔۔
“فکس۔۔فکس کرو گے تو کون آئے گا تمہاری دکان پر۔۔غریبوں کا خون چوستے ہیو تم لوگ” اماں کی تقریر پھر شروع ہوئی
“اماں آپ اب بدتمیزی کر رہی ہیں” شاپ والے نے کہا
وہ کچھ اور بولتی اس سے پہلے ہی رامس اماں کو تھامتا شاپ سے نکلا۔۔
وہ لوگ بھی باہر آگئے۔۔
“اماں بحث کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟” رامس نے کہا
“تنے مہنگےہیں تو کیا بولوں میں” اماں نے کہا۔۔
رامس نے اپنے سر پر ہاتھ لگایا۔۔
اور آگے بڑھ گیا۔۔
انہوں نے کئی دکانوں پر گھوم پھر کر لہنگا خرید لیا تھا
وہ لوگ گھر آگئے تھے مگر اماں کا پارا ہائی ہی رہا۔۔
ہر طرف گہماگہمی تھی۔۔سب بارات کا انتظار کر رہے تھے
رائنہ کو بیوٹیشن تیار کر رہی تھی۔۔
اور طلعت ہیوی کامدار جوڑا پہنے ساری زمہ داریوں کو نبھا رہی تھی۔۔
اسے اس طرح کام کرتے دیکھ جہان صاحب بہت خوش ہوئے۔۔
تبھی ہر طرف شور مچ گیا ‘بارات آگئی’
طلعت اور کچھ لڑکیوں نے پھول پھینکتے ہوئے ویلکم کیا۔۔
پھر لڑکے کو اسٹیج پر بٹھا دیا گیا۔۔
اور طلعت رائنہ کے کمرے میں آئی۔۔
وہ بھی تیار ہوچکی تھی۔۔
“ماشاءاللہ کتنی حسین لگ رہی ہے۔۔سب کی نظریں ٹک جائیں گی” طلعت نے کہا۔۔
“رائنہ ویسے تیرا دولہا تو خوبصورت ہے” طلعت نے چھیڑتے ہوئے کہا۔۔
“آپ کو کیسے پتا؟” رائنہ نے کہا
“ابھی دیکھ کر آئی ہوں اسے ” طلعت نے کہا۔۔
تبھی ایک لڑکی وہاں آئی۔۔
“بھابھی آپ کو اماں بلا رہی ہیں”
“اچھا میں آتی ہوں رائنہ” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔
“جی اماں” طلعت نے پوچھا۔۔
یہ لے اندر رکھ دے اسے۔۔ ” انہوں نے ٹوکرا تھمایا
“جی” وہ کہتی اندر بڑھ گئی۔۔
اس نے کچن میں ٹوکرا رکھا۔۔اور جانے کے لیے پلٹی ہی تھی۔۔کہ سامنے کھڑے شخص کو اس کے حواس اڑے۔
۔۔
اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس کا دوبارہ کبھی اس سے سامنا ہوگا۔۔
وہ سامنے ہی کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔
طلعت گھبرائی۔۔اس کے پسینے چھوٹنے لگے۔۔
“ررر۔۔۔رافع” اس نے بمشکل کہا
“ہیلو سویٹ ہارٹ” اس نے قریب آکر کہنے لگا۔۔
“تم۔۔تم یہاں؟”
“ہاں۔۔شادی میں آیا ہوں۔۔وسیم میرا بھائی ہے” رافع نے کہا
وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“مگر تم یہاں؟ دیکھا اس دن تو تم بھاگ گئی تھی۔۔لیکن دیکھو میں پھر آگیا۔۔سرپرائز دینے” اس نے خونخوار مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔۔
وہ اسے پیچھے دھکیلتی کچن سے بھاگ گئی۔۔
بھاگتی ہوئی۔۔وہ یک دم رامس سے ٹکرائی۔۔
“کیا ہوا اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟” رامس نے پوچھا
“نن۔۔۔نہیں کچھ۔۔کچھ۔۔بھی تو نہیں۔۔۔” اس نے نظریں پھیرتے ہوئے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
“کچھ تو ہے گھبرا کیوں رہی ہو اتنی پھر؟” رامس نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔۔
وہ کہتی آگے بڑھ گئی۔۔
کچھ ہی دیر میں نکاح ہوگیا تھا۔۔
رخصتی میں ابھی وقت تھا۔۔
مگر طلعت کا دھیان کہیں لگ نہیں رہا تھا۔۔
وہ مسلسل گھبرا رہی تھی۔۔
وہ اس دوراہے پر تھی کہ اپنی گھبراہٹ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی۔۔
رامس اسے بہت دیر سے نوٹس کر رہا تھا۔۔
وہ جہاں جاتی اسے خود پر رافع کی نظروں کی تپش محسوس ہوتی۔۔
“جاؤ قرآن پاک لے کر آؤ۔۔رخصتی کا وقت ہوگیا” اماں نے اسے کہا
وہ اندر بھاگی اور کمرے میں آئی۔۔
شیشے میں خود کو دیکھا۔۔
اس کی حالت خراب ہوگئی۔۔
پسینا ماتھے جگمگا رہا تھا۔۔
اس نے ٹشو نکالے اور پسینہ صاف کرنے لگی۔۔
تبھی اسے اپنے پیچھے کسی کا عکس دکھا۔۔وہ یک دم چونکی۔۔
اور پلٹ کر اسے دیکھا۔۔
اس کا گلہ خشک ہونے لگا۔۔
“تم مجھ سے دور کیوں بھاگ رہی ہو۔۔محبت کرتی ہو نا مجھ سے” اس نے کہا
“نن۔۔نہیں۔۔کیوں میرے پیچھے پڑے ہو۔۔میں ایک شادی شدہ ۔۔” وہ کہنے لگی کہ رافع نے بات کاٹی
“یار تم تو بڑی بے وفا نکلی کسی اور سے شادی کرلی۔۔
پیار مجھ سے شادی کسی اور سے؟” اس نے عجیب سے لہجے میں کہا
“میں۔۔تم سے پیار نہیں کرتی۔۔میں اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں بس” طلعت نے نفرت سے کہا
“کل تک تو کرتی تھی۔۔میرے لیے تم گھر سے بھی بھاگ آئی تھی۔۔اور اب اتنی جلدی محبت بدل گئی۔۔۔کتنے دن بعد یہ محبت بدلے گی تمہاری؟” اس نے پوچھا
“بکواس بند کرو۔۔وہ میرے شوہر ہیں۔۔اور مجھے اس سے وہی محبت ہے جو نکاح کے بعد اللہ تعالٰی دلوں میں ڈال دیتا ہے۔۔لیکن تم کیا جانو تمہارے جیسے لوگ تو۔” وہ یک دم رکی۔۔
کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔۔
وہ گھبرا گئی۔۔
اور اسے پیچھے کیا۔۔
تبھی رامس دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔
اور انہیں دیکھ چونکا۔۔
“آپ یہاں۔۔” رامس نے رافع کو دیکھ کر کہا۔۔
“ہاں وہ۔۔یہ واش روم آیا تھا۔۔۔۔اسے پتا نہیں تھا کہاں ہے”
طلعت نے فوراً کہا
“اچھا۔۔ویسے واش روم باہر بھی ہے” رامس نے مسکرا کر کہا۔۔
رافع مسکرایا اور چپ چاپ باہر نکل گیا۔۔
طلعت نے بھی قرآن مجید اٹھایا اور رامس کے ساتھ باہر نکل گئی۔۔
رائنہ کی رخصتی ہوگئی تھی۔۔
طلعت نے سارے کام نبٹائے۔۔
رات کے تین بجے کے قریب وہ کمرے میں آئی۔۔
رامس سو چکا تھا۔۔
وہ اس کے قریب بیٹھی۔۔
اس کی نظر رامس کے چہرے پر ٹکی تھی۔۔
“رامس کو سچائی کا پتا چلا تو۔۔تو یہ مجھے چھوڑ دیں گے۔۔نہیں۔۔نہیں ایسا نہیں ہوگا۔۔” اس کی آنکھ سے آنسوں گرا
“میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی۔۔ تم میرے لیے سب کچھ ہو۔۔
میرے ماضی کے کے چھینٹے میرے آج پر نا لگیں۔۔
رامس ہر بات برداشت کرلے گا مگر یہ بات۔۔نہیں میں اسے پتا نہیں لگنے دوں گی۔۔” اس نے خود کلامی کی
“اگر رافع نے بتا دیا تو۔۔؟… رامس کا اعتبار ٹوٹ جائے گا۔۔
میں سے خود ہی بتا دوں گی سب۔۔لیکن کیا یہ مجھے معاف کردے گا؟” وہ لیٹ کر سوچنے لگی۔۔
وہ پوری رات ٹھیک سے سو نہیں سکی تھی۔۔
فجر کی نماز پڑھی۔۔
کتنی ہی دیر رو رو کر دعائیں کی۔۔
وہ رامس کو کسی صورت بھی کھونانہیں چاہتی تھی۔۔
رامس نماز پڑھ کر آیا تو وہ نماز پڑھ کر جائے نماز رکھ رہی تھی۔۔
رامس نے اسے ایک نظر دیکھا۔۔
“طلعت” اس نے پکارا۔۔
“جی ” وہ قریب آئی۔۔
“یہاں بیٹھو” اس نے طلعت کا ہاتھ پکڑ کر اسے قریب بٹھایا۔۔
“کیا بات ہے؟” رامس نے پوچھا
“کیا؟”
“تم کسی بات سے پریشان ہو؟”
“نہیں۔۔نہیں تو”
“میں کل سے نوٹس کر رہا ہوں تم گھبرائی گھبرائی سی لگ رہی ہو۔۔پرابلم کیا ہے؟” رامس نے پوچھا۔۔
“نہیں کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔بس تھوڑی تھک گئی تھی۔۔” طلعت نے کہا۔۔
“اچھا مان لیتا ہوں” رامس نے کہا
“رامس ایک بات پوچھوں؟” طلعت نے اس کے کاندھے پر سر رکھا
“ہاں پوچھو؟”
“آپ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں؟” طلعت نے پوچھا
“بہت بہت بہت سے بھی زیادہ” رامس نے مسکرا کر کہا
“آپ مجھے کبھی چھوڑ تو نہیں دو گے؟” اس نے پھر سوال کیا
“کیسی باتیں کر رہی ہو؟ کیوں چھوڑوں گا۔۔طلعت کے بغیر رامس ادھورا ہے” رامس نے پیار سے کہا۔۔
“اگر میں کوئی غلطی کردوں تو؟”
“وہ تو تم نے بہت کی ہیں میں نے کبھی چھوڑا کیا۔؟”
“وہ نہیں کوئی بڑی غلطی کردوں یا پھر آپ کا دل دکھا دوں”
“ظاہر اب دل دکھاؤ گی تو ناراضگی بھی ہوگی۔۔مگر ہاں چھوڑوں گا نہیں وعدہ” رامس نے کہا
“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔مجھے کبھی چھوڑنا مت ۔۔میں نہیں رہ سکتی” طلعت کی آنکھ سے آنسوں گرا۔۔
“تم رو رہی ہو؟” رامس چونکا۔۔
“کوئی بات تو ہوئی ہے تم مجھ سے چھپا رہی ہو؟”
“نہیں بس ایسے ہی۔۔” طلعت نے کہا
رامس اسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔
“میں ناشتہ بناتی ہوں اماں غصہ ہوجائیں گی۔۔” وہ کہتی کمرے سے نکل گئی۔۔
گھر بلکل خالی لگ رہا تھا رائنہ کے بغیر۔۔
طلعت نے سارا ناشتہ اکیلے بنایا۔۔
اماں بھی باہر بیٹھی تھی۔۔اس نے سب کو ناشتہ دیا۔۔
“آج رائنہ کے بنا گھر میں رونق ہی نہیں” طارق صاحب نے کہا۔۔
“ہاں لڑکیاں تو پرایا دھن ہے۔۔” اماں نے کہا۔۔
“ہاں بس اللہ نصیب اچھے کرے” طارق صاحب نے کہا۔۔
“آج تو کیوں چپ ہے لڑکی؟” اماں نے طلعت کو ٹوکا
“وہ بولتی ہی کب ہے؟” طارق صاحب نے کہا۔۔
“ہاں میرے سامنے بس۔۔ویسے بڑی زبان چلتی ہے اور دانت تو ہر وقت نکتے ہیں” اماں نے کہا۔۔
“اب بس بھی کرو۔۔تم تو سارا دن اس بیچاری کی پیچھے پڑی رہتی ہو” طارق صاحب نے کہا۔۔
“ناشتہ کرو۔۔” اماں نے انہیں گھورا اور وہ چپ چاپ ناشتہ کرنے لگے۔۔
