265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 7)

Fatoor E Man By Isra Rao

اس کا دماغ بند ہونے لگا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔اسے بس اس وقت اپنی عزت بچانی تھی۔۔

اس نے یہاں وہاں ہاتھ مارا۔۔ساتھ ہی ڈریسنگ پر روم اسپرے پڑا تھا اس نے جلدی سے اٹھا کر اس کے سر پر مارا۔۔

وہ یک دم پیچھے ہٹا۔۔

“یو۔۔۔” وہ کہتا قریب آنے لگا کہ اس نے اس کی آنکھوں میں سپرے کردیا۔۔

وہ یک دم آنکھوں کو مسلنے لگا۔۔

اور طلعت جلدی سے دروازے کی طرف بھاگی۔۔

اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑتا وہ دروازہ کھول بھاگ چکی تھی۔۔

وہ تیزی بھاگتی گیٹ سے باہر نکلی۔۔

گلے میں دوپٹا ڈالے وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔۔

پیچھے دیکھے بنا وہ بس بھاگتی چلی جا رہی تھی۔۔

وہ بھاگتی بھاگتی تھک گئی تھی۔۔

اس کے پاؤں تلے پتھر آیا وہ گرتی اس سے پہلے ہی کسی نے اسے تھام لیا۔۔

بال کھلے ہوا میں اڑ رہے تھے۔

گلے میں دوپٹہ شفاف رنگت اس شخص کولمحہ لگا اسے پہنچاننے میں۔۔

“چھوڑیں مجھے…گن ہے مجھے تم مردوں سے” وہ یک دم چیخی

“میں نے تو آپ کو گرنے سے بچایا ہے” اس نے حیرانی سے کہا

“میں نے کہا چھوڑیں مجھے” وہ پھر چیخی۔۔

“اوکے” اس نے کہتے ساتھ ہی جھٹکے سے اسے چھوڑا اور وہ نیچے جا گری۔۔

“آہ۔۔بدتمیز” وہ درد سے کراہی

اس کے پاؤں میں پتھر لگنے سے چوٹ لگ گئی تھی۔۔

“آپ نے خود ہی کہا تھا چھوڑ دو” اس نے شانے اچکائے۔۔

بدلے میں اس نے گھورا۔۔

اور کھڑی ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔

مگر پاؤں میں چوٹ لگنے سے اس سے چلا نہیں جا رہا تھا۔۔

“کہاں جانا ہے آپ کو میں چھوڑ دیتا ہوں” رامس نے کہا

“کوئی مہربانی نہیں چاہیے مجھے تم مردوں کی۔۔چھوڑنے کے بہانے پتا نہیں کیا کیا ارادے ہوں گے” وہ بولتی چلی گئی اور رامس منہ پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

“او ہیلو میں ایسا ویسا لڑکا نہیں۔۔” وہ یک دم بولا

“سب یہی کہتے ہیں۔۔” اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔۔

“آپ کیا؟۔۔۔کچھ بھی۔۔میں تو صرف مدد کر رہا تھا باقی آپ کی مرضی” اس نے کہا اور پلٹ کر جانے لگا۔۔

۔۔

“Excuse me”

اس نے کچھ سوچ کر اسے پکارا۔۔

“جی” اس نے رک کر پلٹتے ہوئے کہا

“مجھے۔۔” وہ اٹکی

“جی بولیں۔۔کیا ہیلپ چاہیے؟” رامس نے مسکرا کر پوچھا

“کیا آپ مجھے کچھ پیسے دے سکتے ہیں؟ میں لاہور جا کر آپ کو لوٹا دوں گی۔۔ڈبل دے دوں گی” اس نے کہا

“اٹس اوکے۔۔۔ بٹ آپ رات کے اس پہر جائیں گی کیسے لاہور؟” اس نے سینے پر بازوں باندھتےہوئے کہا۔۔

“وہ میرا مسئلہ ہے آپ مجھے دے دیں۔۔ میں لوٹا دوں گی۔۔” اس نے پھر کہا۔۔

“پتا ہے بہت بڑے باپ کی بیٹی ہو۔۔” اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔اور والٹ نکالنے لگا۔۔

“کیا کہا آپ نے؟” طلعت نے پوچھا۔۔

“کچھ نہیں ” اس نے کہا اور اس کی طرف کچھ پیسے بڑھائے۔۔

جسے بنا سوچے طلعت نے پکڑ لیے۔۔

“تھینکس” اس نے کہا

رامس بنا کوئی بنا جواب دیے وہاں سے چلا گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ہوٹل جا کر سیدھا اپنے روم میں گیا۔۔

اور نمبر ڈائل کیا۔۔

“اسلام علیکم سر” رامس نے کہا

“وعلیکم السلام” کمال صاحب نے کہا

“سر کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ ہوگئی وہ راضی ہیں۔۔۔

سامان بھی ڈلیور ہوگیا۔ اب جیسا کہیں” رامس نے کہا

“ہاں بس آجاؤ کام پورا ہوگیا تو۔۔۔اصل میں یہ کام سر جہان خود کرتے ہیں لیکن ان کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے تمہیں بھیجا ہے۔۔” کمال صاحب نے کہا

“کوئی مسئلہ نہیں ہے سر ۔۔۔جہان صاحب کے بہت احسان ہیں مجھ پر۔۔” رامس نے کہا

“چلو ٹھیک ہے پھر تم کل آجاؤ جہان صاحب کی بیٹی کی شادی بھی ہے کل” کمال صاحب نے کہا

“جی جی سر میں پہنچ جاؤں گا” اس نے کہ کر کال کاٹ دی۔

اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔

اسے پھر سے ایک خیال آیا اور بے ساختہ مسکرا دیا۔۔

“کیوں یہ لڑکی بار بار میرے سامنے آجاتی ہے؟ ” اس نے خود کلامی کی

“مگر یہ ہے کون؟ کبھی تو اتنی پارسا کہ کالج بھی حجاب میں جاتی ہے اور کبھی اتنی بے حیا کہ سر پر دوپٹہ تک نہیں اور بے دھڑک روڈ پر دوڑ رہی ہے” وہ سوچنے لگا۔۔

“یہ امیر ماں باپ کی بگڑی اولادوں کا بھی کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔پتا نہیں یہاں کیا کر رہی تھی؟” وہ دل میں الجھنے لگا۔۔

پھر سر جھٹکتے سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“صاحب ناشتہ لگاؤں؟” رفعت بی نے پوچھا۔۔

“نہیں۔۔۔” جہان صاحب نے کہا۔۔

“صاحب جی آپ نے کال کر کے برا دیا احمد صاحب کو؟” رفعت بی نے پوچھا۔۔

“نہیں۔۔میں کیا کہ کر منع کروں وہ بھی شادی کے دن ہی شادی سے انکار” جہان صاحب نے دکھ سے کہا

“جو بھی ہے صاحب بتانا تو پڑے گا۔۔”

“ہممم” جہان صاحب نے فون نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگا ہی تھا کہ آواز پر رکا۔۔

“بابا جانی” طلعت کی آواز آئی۔۔

انہوں نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔۔

“طلعت میری بچی” رفعت بی آگے بڑھی۔۔

جہان صاحب اسے دیکھ کھڑے ہوئے۔۔

“بابا جانی” وہ لپک کر ان کی طرف بڑھی۔۔

“بابا جانی مجھے معاف کردیں ” وہ ان کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔

جہان صاحب نے اسے خود سے دور کیا اور باہر نکل گئے۔۔

“بابا جانی” اس نے پکارا

“بابا جانی مجھے معاف کردیں مجھ سے غلطی ہوگئی” وہ رو رہی تھی مگر جہان صاحب اس کی بات سنے بنا باہر نکل گئے تھے۔۔

“طلعت میری بچی۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔” رفعت بی نے اسے گلے سے لگایا

“رفعت بی میرے بابا جانی مجھ سے بات نہیں کر رہے۔۔” وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔۔

“انہیں تھوڑا وقت دو بیٹا معاف کردیں گے”

“مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔۔میں بہت بری ہوں۔۔میں بہت بری بیٹی ہوں رفعت بی۔۔۔” اس نے روتے ہوئے کہا

“بس بیٹا۔۔۔چپ کر جاؤ” وہ اسے چپ کروانے لگی۔۔

“بیٹا آج آپ کی شادی تھی۔اور۔۔۔اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے بابا آپ کو معاف کردیں تو یہ شادی کرلو” رفعت بی نے سمجھایا۔۔

اور وہ روتی چلی گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اماں” اس نے گھر آتے ہی پکارا۔۔

“ارے آگیا میرا بچہ۔۔بیٹھ جا میں پانی لاتی ہوں” اماں نے کہا۔۔

اور پانی لا کر اسے تھمایا۔۔

“بہت تھک گیا ہوں اماں” رامس نے تھکاوٹ سے کہا

“سارا کام تو یہ فیکٹری تم سے لیتے ہیں نا مووے خود کیوں نہیں کرتے وہ؟” اماں نے ناگواری سے کہا

“ارے اماں فری کے کوئی پیسے نہیں دیتا کام کروں گا تو پیسے ملیں گے نا” رامس نے صوفے پر لیٹتے ہوئے کہا

“اشتہ لا دوں؟”

“بس ایک کپ چائے دے دیں پھر تھوڑی دیر آرام کرلوں گا۔۔شام میں شادی ہے سر کی بیٹی کی وہاں بھی جانا ہے” رامس نے کہا

“اچھا۔۔چل تو کپڑے بدل لے میں چائے لاتی ہوں” وہ کہتی کچن میں چلی گئی۔۔

اور رامس اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

سب مہمان آہستہ آہستہ آرہے تھے۔۔

طلعت کو اس کے کمرے میں بیوٹیشن تیار کر رہی تھی۔۔

جہان صاحب نے طلعت نے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔

ساری تیاریاں ہوگئی تھی۔۔

بس بارات کے آنے کا انتظار تھا۔۔

کتنی ہی دیر گزرتی گئی مگر بارات نہیں آئی۔۔

جہان صاحب کو پریشانی ہونے لگی۔۔

“صاحب جی بارات نہیں آئی ابھی تک؟” رفعت بی نے پوچھا

“پتا نہیں کہاں رہ گئے؟” جہان صاحب نے کہا

“فون کر کے پوچھیں” رفعت بی نے مشورہ دیا

“ہاں ٹھیک کہ رہی ہیں” جہان صاحب نے فون نکالا اور احمد صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔۔

دو رنگ جانے پر انہوں نے اٹھا لیا۔۔

“ہیلو اسلام علیکم احمد صاحب” جہان صاحب نے کہا

“وعلیکم السلام” اگے سے جواب دیا گیا

“آپ لوگ کب تک پہنچے گے؟” جہان صاحب نے تجسس سے پوچھا

“ہم بارات لے کر نہیں آرہے جہان صاحب” احمد صاحب نے کہا

“کیا؟ مگر کیوں؟” انہوں نے حیرانی سے پوچھا

“آپ یہ بتائیں کہ دو دن طلعت کہاں رہ کر آئی ہے؟” آگے سے سوال کیا گیا۔۔جس نے جہان صاحب کے حوش اڑا دیے۔۔

انہوں نے فون بند کردیا۔۔

ان کے پاس جواب نہیں تھا۔۔

انہیں اپنا آپ زمین میں دھنستا محسوس ہوا۔۔

ایک لمحہ لگا تھا طلعت کو ان کی آج تک کی کمائی گئی عزت کو چکنا چور کرنے میں۔۔